13/09/2026
سر پر بوجھ اور 700 کی دہاڑی... جبکہ حاکموں کے لیے چارٹرڈ جیٹ اور شاہانہ عیاشیاں! 💔
یہ تمام وی آئی پی اور اسٹیٹ چارٹرڈ جہاز جن میں یہ حکمران اترتے اور اڑتے ہیں، ان کا خرچہ کون اٹھاتا ہے؟ یہی 700 روپے کمانے والا مزدور، جو آٹے کے ایک تھیلے اور چائے کی پتی پر بھی ٹیکس دیتا ہے…
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا مقروض اور پسماندہ ملک ہو جہاں عوام زمین پر رولے جا رہے ہوں اور ان کے حاکم فضائی سفر اور شاہانہ پروٹوکول کے بغیر ایک قدم نہ چلتے ہوں
تپتی سڑک پر سر پر سنگین بوجھ اٹھائے اس بزرگ کی مسکراہٹ کوئی خوشحالی نہیں، بلکہ اپنے بچوں کی روٹی کے لیے ہر روز مرنے کی ایک خاموش داستان ہے۔
یہ شخص دن بھر اپنا جسم نچوڑ کر، ہڈیاں پگھلا کر بمشکل 600 سے 700 روپے کماتا ہے۔
ذرا اس 700 روپے کی دہاڑی کا سچ دیکھیے:
ماہانہ کمائی: تقریباً 21,000 روپے (اگر ایک دن بھی بیمار نہ پڑے)
صرف آٹا اور بجلی کا بل: 18,000 سے 20,000 روپے
باقی بچا: صفر روپیہ!
اس محنت کش کے پاس نہ تو بچوں کے علاج کے لیے پیسے ہیں، نہ چھت کی مرمت کے لیے، اور نہ ہی کسی اچھے مستقبل کی امید۔ اس کا پورا وجود صرف آج رات کا کھانا پورا کرنے میں ختم ہو جاتا ہے۔
اور دوسری طرف ہمارے شاہانہ حکمران؟
ایک طرف یہ غریب 700 روپے کے لیے اپنا آپ بیچ رہا ہے...
دوسری طرف ہمارے اشرافیہ اور حکمران ہیں جن کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں….
خصوصی چارٹرڈ فلائٹس، نجی طیاروں کے شاہانہ سفر، اور 30, 30 گاڑیوں کا لشکر لے کر سڑکوں پر عوام کو دھکے دینے والا وی آئی پی پروٹوکول!