11/07/2026
معصوم مرادآبادی کی دو کتابیں
تعارف و تبصرہ : شکیل رشید
معصوم مرادآبادی اردو دنیا کے ایک معروف صحافی تو ہیں ہی، اُن کی ایک شناخت، ادیب کی حیثیت سے بھی ہے ۔ اُن کی ایک درجن سے زائد کتابوں کے موضوعات اِس قدر متنوع ہیں، کہ اُنہیں ادب کی کسی ایک صنف سے وابستہ نہیں کیا جا سکتا، وہ محقق بھی ہیں، انٹرویور بھی، خاکہ نگار بھی، مترجم بھی اور حالاتِ حاضرہ کے مبصّر بھی ۔ اُن کی جِن دو کتابوں کا اِن سطروں میں تذکرہ کیا جا رہا ہے، اُن میں سے ایک ’ نگینے لوگ ‘ شخصی خاکوں پر مشتمل ہے، اور دوسری کتاب ’ منشی عبدالقیوم خاں خطاط ‘ ایک ایسی نابغہ شخصیت کے ذکر پر، جِسے مولانا ابوالکلام آزاد جیسی عبقری شخصیت کا خاص قُرب حاصل تھا ۔ پہلے شخصی خاکوں کی کتاب ’ نگینے لوگ ‘ پر نظر ڈالتے ہیں ۔ یہ کتاب گزشتہ سال، یعنی 2025 میں ’ انجمن ترقی اردو (ہند) ‘ جیسے موقر ادارے سے چھپی تھی، اور ہاتھوں ہاتھ لی گئی تھی ۔ کتاب کی مقبولیت کے اسباب میں سے ایک، معصوم مرادآبادی کا طرزِ ِ تحریر ہے ۔ پروفیسر غضنفر علی کتاب پر اپنے مضمون ’ مرصع سازی نگینوں کی ‘، جو کتاب میں شامل ہے، لکھتے ہیں : ’’ معصوم مرادآبادی کے خاکے نہایت آسان، دلچسپ اور رواں دواں ہیں ۔ اُن کا اختصار اِن کے مطالعے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ بہت کم لفظوں میں معصوم مرادآبادی زندگی کے بہت سارے پہلوؤں کو سمیٹ لیتے ہیں ۔ اِن خاکوں کی پیش کش کے پیشِ نظر یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ سہل، رواں دواں زبان میں پیش کیے گیے معلوماتی، چشم کشا، عبرتناک اور ادبی چاشنی سے بھرپور یہ خاکے معصوم صحافی کو ایک طاقت ور اور قابلِ قدر ادیب بناتے ہیں اور اُنہیں مستند ادیبوں کی صف میں بھی لا کھڑا کرتے ہیں ۔‘‘ غضنفر علی کی تمام باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے مَیں اِس میں یہ اضافہ کرنا چاہوں گا، کہ یہ خاکے، جِن افراد پر ہیں، اُنہیں معصوم مرادآبادی نے جس طرح سے دیکھا، پرکھا اور سمجھا ہے، اُنہیں من و عن اُسی طرح پیش کر دیا ہے ۔ کسی شخص کو من و عن جیسا وہ ہے، اُسی طرح پیش کردینا، آسان کام نہیں ہے ۔ کِسی کے حلیے، اطوار، انداز اور رویے کو اِس طرح اُجاگر کرنا کہ قاری کے ذہن میں اس کی ایک تصویر نقش ہوجائے، اِس کے لیے زبردست قوتِ مشاہدہ کی ضرورت ہوتی ہے، اور ایک اچھے صحافی کے طور پر یہ وصف معصوم مرادآبادی کے خمیر کا حصہ ہے ۔ اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے کتاب کے ایک خاکہ سے چن