14/05/2026
اسمِ الٰہی "یا وَدُودُ" اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی صفت ہے جو محبت، الفت اور تعلقات میں مٹھاس پیدا کرنے کے لیے جانی جاتی ہے:
وردِ الٰہی: "یا وَدُودُ" کی فضیلت و طریقہ
اللہ کا نام "الودود" اس ذات کو ظاہر کرتا ہے جو خود بھی اپنے بندوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور بندوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت ڈالنے والا بھی وہی ہے۔
عمل کا طریقہ کار
جمعہ کے دن کی برکات کو سمیٹنے کے لیے اس ورد کو درج ذیل آداب کے ساتھ کریں:
وقت کا انتخاب: جمعہ کے دن کسی بھی وقت یہ عمل کیا جا سکتا ہے، لیکن نمازِ فجر کے بعد (اشراق کے وقت) یا عصر کی نماز کے بعد کا وقت سب سے زیادہ پرتاثیر اور قبولیت کا مانا جاتا ہے۔
تعداد: 1001 مرتبہ نہایت یکسوئی اور توجہ کے ساتھ "یا ودود" پڑھیں۔
اول و آخر درود شریف: عمل شروع کرنے سے پہلے اور آخر میں 11 مرتبہ درودِ ابراہیمی ضرور پڑھیں، کیونکہ یہ دعا کی قبولیت کا بہترین ذریعہ ہے۔
تصور اور یکسوئی: ورد کے دوران اپنا رخ قبلہ کی طرف رکھیں اور اپنے ذہن میں اس جائز مقصد یا اس رشتے کا تصور رکھیں جس میں آپ الفت اور بہتری چاہتے ہیں۔
عمل کے ثمرات اور تاثیر
دلوں کی نرمی: اس ورد کی برکت سے سخت دلوں میں نرمی پیدا ہوتی ہے۔
گھریلو سکون: میاں بیوی کے تعلقات میں دراڑیں ختم کرنے اور گھر میں پیار و محبت کی فضا قائم کرنے کے لیے یہ نہایت مجرب ہے۔
باہمی ہم آہنگی: خاندان کے افراد کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
خاص نوٹ (آدابِ دعا)
نیت کی پاکیزگی: یاد رہے کہ یہ عمل صرف جائز رشتوں اور نیک مقاصد کے لیے ہونا چاہیے۔ کسی کو نقصان پہنچانے یا ناجائز تعلق کے لیے روحانی اعمال کی تاثیر ختم ہو جاتی ہے۔
خلوصِ دل: تسبیح پڑھتے وقت آپ کا دل اللہ کی قدرت پر کامل یقین رکھتا ہو کہ دلوں کو بدلنا صرف اسی کے ہاتھ میں ہے۔
دعا: "اے اللہ، اس بابرکت نام کے طفیل ہمارے جائز رشتوں میں الفت پیدا فرما اور ہمارے گھروں کو سکون و محبت کا گہوارہ بنا دے۔ آمین"