RAZA GROUP

RAZA GROUP online shop

اسمِ الٰہی "یا وَدُودُ" اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی صفت ہے جو محبت، الفت اور تعلقات میں مٹھاس پیدا کرنے کے لیے جانی جاتی ہے:...
14/05/2026

اسمِ الٰہی "یا وَدُودُ" اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی صفت ہے جو محبت، الفت اور تعلقات میں مٹھاس پیدا کرنے کے لیے جانی جاتی ہے:

​وردِ الٰہی: "یا وَدُودُ" کی فضیلت و طریقہ
​اللہ کا نام "الودود" اس ذات کو ظاہر کرتا ہے جو خود بھی اپنے بندوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور بندوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت ڈالنے والا بھی وہی ہے۔
​عمل کا طریقہ کار
​جمعہ کے دن کی برکات کو سمیٹنے کے لیے اس ورد کو درج ذیل آداب کے ساتھ کریں:
​وقت کا انتخاب: جمعہ کے دن کسی بھی وقت یہ عمل کیا جا سکتا ہے، لیکن نمازِ فجر کے بعد (اشراق کے وقت) یا عصر کی نماز کے بعد کا وقت سب سے زیادہ پرتاثیر اور قبولیت کا مانا جاتا ہے۔
​تعداد: 1001 مرتبہ نہایت یکسوئی اور توجہ کے ساتھ "یا ودود" پڑھیں۔
​اول و آخر درود شریف: عمل شروع کرنے سے پہلے اور آخر میں 11 مرتبہ درودِ ابراہیمی ضرور پڑھیں، کیونکہ یہ دعا کی قبولیت کا بہترین ذریعہ ہے۔
​تصور اور یکسوئی: ورد کے دوران اپنا رخ قبلہ کی طرف رکھیں اور اپنے ذہن میں اس جائز مقصد یا اس رشتے کا تصور رکھیں جس میں آپ الفت اور بہتری چاہتے ہیں۔
​عمل کے ثمرات اور تاثیر
​دلوں کی نرمی: اس ورد کی برکت سے سخت دلوں میں نرمی پیدا ہوتی ہے۔
​گھریلو سکون: میاں بیوی کے تعلقات میں دراڑیں ختم کرنے اور گھر میں پیار و محبت کی فضا قائم کرنے کے لیے یہ نہایت مجرب ہے۔
​باہمی ہم آہنگی: خاندان کے افراد کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
​خاص نوٹ (آدابِ دعا)
​نیت کی پاکیزگی: یاد رہے کہ یہ عمل صرف جائز رشتوں اور نیک مقاصد کے لیے ہونا چاہیے۔ کسی کو نقصان پہنچانے یا ناجائز تعلق کے لیے روحانی اعمال کی تاثیر ختم ہو جاتی ہے۔
​خلوصِ دل: تسبیح پڑھتے وقت آپ کا دل اللہ کی قدرت پر کامل یقین رکھتا ہو کہ دلوں کو بدلنا صرف اسی کے ہاتھ میں ہے۔
​دعا: "اے اللہ، اس بابرکت نام کے طفیل ہمارے جائز رشتوں میں الفت پیدا فرما اور ہمارے گھروں کو سکون و محبت کا گہوارہ بنا دے۔ آمین"

22/03/2026

عاتکہ بنت زید

عبد اللہ بن ابی بکر سے نکاح کیا وہ شہید ہو گئے
پھر زید بن خطاب سے نکاح کیا وہ شہید ہو گئے
پھر عمر بن خطاب سے نکاح کیا وہ شہید ہو گئے
پھر زبیر بن عوام سے نکاح کیا وہ شہید ہو گئے
پھر حسین بن علی سے نکاح کیا وہ شہید ہو گئے
حتی کہ اہل مدینہ نے کہا " جو شخص شہادت کا خواہاں ہو وہ عاتکہ بنت زید سے نکاح کرلے

(طبقات ابن سعد ١٠٤/٣)

اور ہمارے ہاں ایک شوہر فوت ہو جائے تو

وہ عورت منحوس قرار دے دی جاتی

کسی عرب ملک میں روڈ کنارے نصب اس بورڈ نےدل کوجھنجھوڑ کر رکھ دیاہے،لکھاہواہےکہ:روزِ قیامت کتنی ہی ایسی خواتین ہونگی جنکےن...
29/12/2025

کسی عرب ملک میں روڈ کنارے نصب اس بورڈ نےدل کوجھنجھوڑ کر رکھ دیاہے،
لکھاہواہےکہ:

روزِ قیامت کتنی ہی ایسی خواتین ہونگی جنکےنامۂ اعمال میں انکا"بدکار" ہونا لکھاہوگا،
جبکہ وہ حقیقت میں زانیہ ہونگی نہیں،
البتہ بےپردگی اور عطرلگا کر غیر محرم *مردوں کےسامنے بن سنور کرآنےکی وجہ سے انکی پہچان*
*"زانیہ" کےلقب سےہوگی ....*

😢

03/12/2025

حضرت سلیمان ع کے دربار میں ایک فاختہ فریاد لیکر آئی کے ایک شکاری نے ناحق اسکے شریک حیات کو شکار کیا ہے میں چاہتی ہوں کہ اسے سزا دی جاے.حضرت سلیمان نے حکم دیا کہ میری سلطنت کے تمام شکاری دربار میں حاضر ہوں.جب شکاری آگئے توحضرت سلیمان نے فاختہ سے کہا کی شکاری کو ہہچانو.فاختہ نے بتایا کہ فلاں شکاری نے میرے ہمسفر کو شکار کیا ہے. حضرت سلیمان نے شکاری سے پوچها کہ کیا فاختہ سچی ہے. شکاری نے کہا کہ جی ہاں لیکن اے نبی خدا آپکی سلطنت میں شکار اور فاختہ دونوں حلال ہیں پهر میں مجرم کیسے؟
حضرت سلیمان نے فاختہ سے پوچھا کہ شکاری اپنے دلائل کی بنا پہ بے قصور ہے.تم کیسے مجرم سمجھتی ہو. فاختہ نے کہا کہ اے نبی خدا شکاری کی بات ٹھیک ہے کی میری جنس اور شکارآپکی سلطنت میں دونوں حلال ہیں.
لیکن جس وقت یہ شکار کے لیے آیا تو میرے ہمسفر نے کہا کہ ا
اڑ چلیں یہ ہمیں شکار کرنے آیا ہے. میں نے کہا نہیں یہ شکاری نہیں لگتا دیکھو اسکا حلیہ.اس نے عبا اوڑھ رکهی ہے،امامہ پہنا ہوا ہے اور پهر اسکے پاس کوئی ہتهیار بهی نہیں ہے.میرے ساتهی نے اتفاق کیا اور ہم اپنے کام میں مصروف ہو گئے.
آچانک ایک تیر آیا جو اسے شکار کر گیا.
اگر اسنے اپنے حلیے کی وجہ سے ہمیں دھوکا نہ دیا ہوتا تو میرا ہمسفر نہ مارا جاتا.
اسے اسکی منافقت کی سزا دی جاے.
اگر شکاری یے تو دیندار والا روپ مت دهارے.

01/12/2025

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﻧﺎﻣﯽ ﺷﺨﺺ ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﺗﺎ تھا

ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ، ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯﺍﻧﮭﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﺗﮑﺮﯾﻢ ﺳﮯﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ، ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎﮨﮯ؟

ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﯾﮟ ! ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﮨﻨﺪﺳﮧ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻭﻟﯽ ﮔﺰﺭﮮ ، ﻧﻮﺭﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯﺑﮭﯽ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮐﺮﮐﮩﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﻧﻮﺭﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﻼﯾﺎ ، ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﺧﺪﺍ ﺍﯾﮏ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﮈﺍﻝ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ، ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺻﻔﺮ ﻟﮕﺎﺩﻭﮞ ؛ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺻﻔﺮ ﻟﮕﺎﺩﯼ ﺍﺏ ﻧﻮﺭﺣﯿﺎﺕ ﮐﻮﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺩﺱ ﺭﻭﭘﮯ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﻣﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻭﻟﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮮ ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﮧ ﺍﯾﮏ ﺻﻔﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯼ ، ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺳﻮﺭﻭﭘﯿﮧ ﻧﻔﻊ ﻣﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﻋﺮﺻﮯﺑﻌﺪﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻗﻄﺐ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﺎﻧﮕﻮ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﻮ ؟ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﻼﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺻﻔﺮ ﮐﺎ ﻣﺰﯾﺪ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﺯﻧﮧ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮨﻮﺗﺎ ، ﺩﻥ ﺑﮧ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﮔﺌﮯ ، ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﺎﻟﺪﺍﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎ ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﻮ ﺧﯿﺮ ﺑﺎﺩ ﮐﮧ ﺩﯾﺎ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﻣﺎﮦ ﮔﺰﺭﮮ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭨﮯ ، ﺟﻮ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﺗﺎ ﺗﮭﺎ ؟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﺣﻀﺮﺕ ! ﻭﮦ ﯾﮧ ﮐﺎﺭﺧﯿﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﭼﻠﻮ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﻝ ﻭﻣﻨﺎﻝ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮐﮭﺎﺅ ! ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﮔﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﭩﺎ ﺩﯾﺎ ؛ ﺍﯾﮏ ﻣﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﻔﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻗﻌﺖ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ، ﺍﺳﮯ ﺟﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻣﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﯿﺎ ؛ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺻﻞ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺻﻔﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻭﺟﻮﺩ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ !! ﺑﻼﺗﻤﺜﯿﻞ ﻭﺗﺸﺒﯿﮧ ، ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧﷺ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ همارا ﺍﯾﮏ هے۔۔۔۔!!!

اور ﻧﻤﺎﺯ ﺭﻭﺯﮦ ، ﺣﺞ ، ﺯﮐﻮﺓ ، ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﺻﻔﺮﯾﮟ ؛ ﯾﮧ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺳﻮ ، ﮨﺰﺍﺭ ، ﻻﮐﮫ ، ﮐﺮﻭﮌ ﮨﮯ ؛ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﮯ ﻗﯿﻤﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ ، ﭼﺎﮨﯿﮟ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ اللَّهَ ﮨﻤﺎﺭﺍ "ﺍﯾﮏ " ﺳﻼﻣﺖ ﺭﮐﮭﮯ !!

ﺁﻣﯿــﻦ ﺛﻢ ﺁﻣﯿــﻦ ﻳﺎ ﺭﺏ ﺍﻟﻌ

29/11/2025

*خشک دمہ کیلئے*
جس مین مریض کو بلغم وغیرہ خارج نہین ھوتی بس صرف سیٹی کی سی آواز ھی آتی ہے

*ھوالشافی*
آک یعنی مدار کے پتے سبز ایک پاؤ لے کر صاف کر لین ، اور تین پاؤ پانی ڈال کر ابالنا شروع کر دین جب پانی سبز رنگ اختیار کر جاۓ اور پانی آدھا رہ جاۓ اتار کر مل پن صاف کرکے تین پاؤ چینی مین قوام کرکے شربت تیار کر لین دو

*طریقہ استعمال*
دو چمچ صبح دوپہر شام دین
صرف اس کے استعمال سے خشک دمہ ھمیشہ کےلۓ نابود ھوگا ، ان شاءاللہ

16/11/2025

دماغی کمزوری — اسباب، علامات اور علاج

دماغی کمزوری کے اسباب:
دنیاوی مصروفیات، نیند کی کمی، غیر متوازن خوراک، ذہنی دباؤ اور ضرورت سے زیادہ سوچنا۔
انسان کے آرام اور ذہنی سکون کی کمی دماغی کمزوری کو جنم دیتی ہے، جس سے شخصیت، جسم اور اعصاب سب متاثر ہوتے ہیں۔

علامات:
• جسمانی کمزوری، سستی و کاہلی
• چہرے کی بے رونقی اور افسردگی
• کندھوں، کمر اور ٹانگوں میں درد
• بھوک کی کمی اور ہاضمے کی خرابی
• مایوسی، ناامیدی، خودکشی کے خیالات
• دل گھبرانا، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہنا
• خوف اور ٹھنڈے پسینے کا آنا

علاج — دماغی و اعصابی طاقت کا مجرب نسخہ
ھوالشافی
بادام 200 گرام
مغز کدو 200 گرام
سونف 100 گرام
خشخاش 100 گرام
دانہ الائچی خورد 50 گرام
کوزہ مصری 100 گرام

سب کو پیس کر سفوف بنالیں۔

طریقہ استعمال:
بڑے افراد: رات کھانے کے بعد ایک چمچ نیم گرم دودھ کے ساتھ۔
بچے: عمر کے مطابق نصف یا چوتھائی مقدار۔

فوائد:
یہ نسخہ دماغ کو تازگی دیتا ہے، یادداشت بڑھاتا ہے، اعصاب کو مضبوط کرتا ہے، نیند بہتر بناتا ہے اور مایوسی و گھبراہٹ کو ختم کرتا ہے۔

27/10/2025

موت کی چھ علامتیں جو اس کے قریب ہونے کی نشانی ہیں

موت کے چھ مراحل ہوتے ہیں۔
پہلا مرحلہ "یوم الموت" کہلاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب انسان کی زندگی کا اختتام ہو جاتا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ زمین پر جائیں اور انسان کی روح قبض کریں تاکہ اسے اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار کیا جا سکے۔
بدقسمتی سے، کوئی بھی اس دن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، اور جب وہ دن آتا ہے، انسان کو یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ یہ اس کی موت کا دن ہے۔
تاہم، انسان اپنے جسم میں تبدیلیاں محسوس کرتا ہے۔ مثلاً مؤمن کے دل کو اس دن خوشی اور سکون ملتا ہے، جبکہ برے اعمال کرنے والے کو سینے اور دل میں دباؤ محسوس ہوتا ہے۔
اس مرحلے پر شیاطین اور جنات فرشتوں کے نزول کو دیکھتے ہیں، لیکن انسان انہیں نہیں دیکھ سکتا۔
قرآن کریم میں اس مرحلے کا ذکر یوں کیا گیا ہے:
"اور اس دن سے ڈرو جس دن تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر جان کو اس کے کیے کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔"
(سورة البقرة: 281)

دوسرا مرحلہ: روح کا تدریجی طور پر نکلنا

یہ مرحلہ پاؤں کے تلووں سے شروع ہوتا ہے۔ روح آہستہ آہستہ اوپر کی طرف بڑھتی ہے، ٹانگوں، گھٹنوں، پیٹ، ناف اور سینے سے گزرتی ہے، یہاں تک کہ وہ ایک مقام پر پہنچتی ہے جسے "ترقی" کہا جاتا ہے۔
اس مقام پر انسان تھکن اور چکر محسوس کرتا ہے اور کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہتا۔ اس کی جسمانی طاقت ختم ہو جاتی ہے، لیکن وہ اب بھی نہیں سمجھ پاتا کہ اس کی روح جسم سے نکل رہی ہے۔

تیسرا مرحلہ: "ترقی" کا مرحلہ

قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں آیا ہے:
"ہرگز نہیں، جب روح حلق تک پہنچ جائے گی۔ اور کہا جائے گا، کون جھاڑ پھونک کرے گا؟ اور وہ سمجھے گا کہ یہ جدائی کا وقت ہے۔ اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔"
(سورة القیامة: 26-29)

ترقی حلق کے نیچے کے دو ہڈیوں کو کہا جاتا ہے جو کندھوں تک پھیلتی ہیں۔
"وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ" کا مطلب ہے کہ کون روح کو لے کر جائے گا؟
یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ ڈاکٹر یا ایمبولینس بلانے یا قرآن پڑھنے کی بات کرتے ہیں، لیکن انسان ابھی بھی زندگی کی امید رکھتا ہے۔
"وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ" کا مطلب ہے کہ انسان کو موت کے قریب ہونے کا احساس ہوتا ہے، لیکن وہ اب بھی بقا کی کوشش کرتا ہے۔
"وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ" یعنی روح کے نکلنے کا عمل مکمل ہو چکا ہے، اور جسم کے نچلے حصے بے جان ہو چکے ہیں

Address

Rajgarh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when RAZA GROUP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to RAZA GROUP:

Shortcuts

Share