Idara: M. A. Soofi

Idara: M. A. Soofi Leverer aviser, blader og alle typer bøker i engelsk, urdu, hindi og arabisk.

26/10/2024

اِنتخاب اَز : ڈاکٹر شفیق الرحمٰن۔
پھُول
پھُول بے جان نہیں ہوتے، یہ ہماری طرح سانس لیتے ہیں، ہنستے ہیں، مُسکراتے ہیں، بعض اَوقات غَمگین بھی ہو جاتے ہیں۔
سَب سے زیادہ شریر گُلاب کے پھُول ہیں جِن کا کام ہَر وقت مَسرور رہنا ہَے۔
گُلِ اَشرفی وہاں ہوتا ہَے جہاں زمین میں سونا ہی سونا ہو۔
رات کی رانی کے پھولوں کی کبھی سُورج سے لڑائی ہوگئی تھی، چُنانچہ اِسی ضِدّ میں دہ کبھی دِن میں نہیں کھِلتے۔
سُورج مُکّھی کا پھول البتّہ سُورج پَر عاشق ہَے، لیکن سُنا ہَے، کہ سُورج کو اُس کی ذرا پَرواہ نہیں۔ ویسے وہ کسی نہ کسی پر عاشق ضرور ہَے، تبھی تو ہَر وقت جلتا رہتا ہَے۔
چنبیلی کے پھول بے حَد غَمگین رہتے ہیں۔ لیکن اُداسی کی وجہ معلوم نہیں، جَب ہَوا کے جھونکے چلتے ہیں تو یہ دبی دبی آہیں بھرتے ہیں۔
نَرگس کے پھُول ہمیشہ کے منتظر رہتے ہیں۔
جہاں شَبّو کی کلیاں ہوں، وہاں رات کو پَریاں اُترتی ہیں۔ آسمان سے پَریاں کسی کسی جگہ اُترتی ہیں، یہی وجہ ہَے کہ شَبّو کی کلیاں ہَر جگہ نہیں مِلتیں۔ شَبّو کے بھُول تو قسمت سے ہی نظر آتے ہیں۔
صُبح جو ہَوا چلتی ہَے،وہ موتیے کی کلیاں کا مُنہ چُومی ہَے اَور کلیاں چٹک چٹک کر پھُول بَن جاتی ہیں۔ جو نِکھار اَور رُوپ صُبح صُبح موتیے کے پھُولوں پَر ہوتا ہَے، چمن کے کسی پھول پَر نہیں ہوتا۔
اَفسانہ: شریر پھُول اَز کِتاب: مَدّ و جزر۔
اِنتخاب اَز : ڈاکٹر شفیق الرحمٰن۔
پھُول
پھُول بے جان نہیں ہوتے، یہ ہماری طرح سانس لیتے ہیں، ہنستے ہیں، مُسکراتے ہیں، بعض اَوقات غَمگین بھی ہو جاتے ہیں۔
سَب سے زیادہ شریر گُلاب کے پھُول ہیں جِن کا کام ہَر وقت مَسرور رہنا ہَے۔
گُلِ اَشرفی وہاں ہوتا ہَے جہاں زمین میں سونا ہی سونا ہو۔
رات کی رانی کے پھولوں کی کبھی سُورج سے لڑائی ہوگئی تھی، چُنانچہ اِسی ضِدّ میں دہ کبھی دِن میں نہیں کھِلتے۔
سُورج مُکّھی کا پھول البتّہ سُورج پَر عاشق ہَے، لیکن سُنا ہَے، کہ سُورج کو اُس کی ذرا پَرواہ نہیں۔ ویسے وہ کسی نہ کسی پر عاشق ضرور ہَے، تبھی تو ہَر وقت جلتا رہتا ہَے۔
چنبیلی کے پھول بے حَد غَمگین رہتے ہیں۔ لیکن اُداسی کی وجہ معلوم نہیں، جَب ہَوا کے جھونکے چلتے ہیں تو یہ دبی دبی آہیں بھرتے ہیں۔
نَرگس کے پھُول ہمیشہ کے منتظر رہتے ہیں۔
جہاں شَبّو کی کلیاں ہوں، وہاں رات کو پَریاں اُترتی ہیں۔ آسمان سے پَریاں کسی کسی جگہ اُترتی ہیں، یہی وجہ ہَے کہ شَبّو کی کلیاں ہَر جگہ نہیں مِلتیں۔ شَبّو کے بھُول تو قسمت سے ہی نظر آتے ہیں۔
صُبح جو ہَوا چلتی ہَے،وہ موتیے کی کلیاں کا مُنہ چُومی ہَے اَور کلیاں چٹک چٹک کر پھُول بَن جاتی ہیں۔ جو نِکھار اَور رُوپ صُبح صُبح موتیے کے پھُولوں پَر ہوتا ہَے، چمن کے کسی پھول پَر نہیں ہوتا۔
اَفسانہ: شریر پھُول اَز کِتاب: مَدّ و جزر۔

Send a message to learn more

17/10/2024

Send a message to learn more

17/10/2024

دانِشِ جناب مُختار مسعود صاحب۔
اَحرار کا لفظ، پہلی بار سُنا اَور اُسے بَدی کا اِستعارہ سمجھ لیا۔
چند دِنوں بعد جَب میں نے سُنا کہ مولانا محمد علی کو رئیس الاحرار کہتے ہیں اَور اِقبال کے کلام میں مَردِ مومِن کے ساتھ مردانِ حُر کا ذِکر بھی ہَے تو اِس لفظ کے معنی شُبہ پیدا ہو گیا۔
اِس شُبہے کو پیر جوگوٹھ کی گَدّی سے بڑی تقویّت مِلی کہ وہاں سَبھی حُر کہلاتے ہیں۔
کُچھ مُدّت اَور گُذری تو یہ عُقدہ کھُلا کہ تشبیہ اَور اِستعارے کا درُست ہونا ضروری نہیں، صِرف نادر اَور پُر اَثر ہونا لازمی ہَے۔ یہی وجہ ہَے کہ تشبیہات اَور اِستعارے کا اِستعمال ہماری شاعری اَور دُشنام طرازی میں بڑی کژت سے سے مِلتا ہَے۔
اِس نتیجہ پَر پہنچا تو میں نے اِشتبہا کو دُور کرنے کی کوشش، بے سُود سمجھ کر، تَرک کر دی، مگر اِس کوشش کا ایک فائیدہ ضرور ہُوا، میں نے اَلفاظ کی درجہ بندی کَر لی ہَے اَور اِس طرح بہت سی مُشکلات آسان ہو گئی ہیں ۔
اَلفاظ کی تین قِسمیں ہوتی ہیںِ۔
ایک تو وہ لفظ جو اِبن الوقت اَور مرزا ظاہر بیگ ہوتے ہیں۔ اں کے معنی وقت اَور موسَم کے ساتھ بدلتے رہتے ہیِں ۔ (مثال کے طور پر): ظالم و مظلوم ۔
دوسرے وہ معنی خیز لفظ جِن کا مطلب علم اَور تجربے کے ساتھ واضح اَور وسیع ہوتا جاتا ہَے۔ (مثال کے طور پَر): حُسن و عشق۔
تیسرے وہ تہ دار لفظ ہیں جِن کا سادہ اَور قطعی مَفہوم کبھی گرفت میں نہیں آتا۔ (مثال کے طور پر): عوام اَور اِستحصال۔
اِس درجہ بندی کے بعدمیں نے احرار کو دُشنام کے اِستعارے خارج کیا اَور تیسری قسم کے اَلفاظ میں شامل کر لیا۔
اَب مُجھے اِس سے کوئی غرض نہیں کہ جماعت اَحرار ( مجلسِ احرارِ اِسلام) نے ۱۹۲۹ سے ۱۹۵۳ تک کیا کھویا کیا پایا اَور لوگ اِس کے بارہ میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ کَم اَز کم میں کوئی رائے نہیں رکھتا۔
(اَز کتاب: آوازِ دوست، مضمون: قحط الرجال۔)

Send a message to learn more

06/10/2024

سَردار محمد اَمیر خان:۔ حَق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھا۔
اَز: محمد اَنور صُوفی ۔ (بَزمِ اَحبابِ پاکستان، ناروے)
سَردار محمد اَمیر خان میرے دیرینہ ساتھیوں میں سے تھے۔ اُنہوں نے، میرا ساتھ، اُس وقت دیا، جَب، پاکستان نارویجن ویلفئیر آرگنائزیشن، ناروے میں وہ لوگ بھی میرا ساتھ چھوڑ گئے، جِن کی میں نے، اَپنا سمجھ کر، سال ہا سال خدمت کی تھی۔
سردار محمد اَمیر خان کا شُمار اُن لوگوں میں ہوتا ہَے، جنہوں نے، اَپنے بچپن میں، ریاست جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سِنگھ کے خلاف، عوامی بغاوت میں حصّہ لیا اَور ڈانگ سوٹے سے لَڑ کر، دَس ہزار مربع میل کا علاقہ آزاد کرایا۔
اُنہوں نے پاک فوج کی نوکری کی۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ کوئٹہ سے راولپندی تک پیدل سفر اُن کی مشق میں شامل تھا۔
گھریلو ملازمت نے اُن کو پاکستان کی اشرافیہ اَور اُس کے طور اطوار کو قریب سے دیکھنے اَور سمجھنے کا موقعہ دیا۔
وہ اِنتہائی، دُنیا دار، تجربہ کار اَور زیرک اِنسان تھے۔ عہد پر قائم رہنا، حَق پر ڈَٹ جانا اَور
عہد پر قائم رہنا، حق پر ڈَٹ جانا اَور محنتِ شاقّہ اُن کی فظرت میں شامل ہو چُکا تھا۔
دُعا ہَے کہ اللہ تعٰالی آپ کی لغرشوں، اَور غلطیوں سے صرف نظر کرتے ہُوئے آپ کی مغفرت فرمائے۔ اِنّا للہِ و اِنّا اَلیہ راجعون۔
سَردار محمد اَمیر خان:۔ حَق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھا۔
اَز: محمد اَنور صُوفی ۔ (بَزمِ اَحبابِ پاکستان، ناروے)
سَردار محمد اَمیر خان میرے دیرینہ ساتھیوں میں سے تھے۔ اُنہوں نے، میرا ساتھ، اُس وقت دیا، جَب، پاکستان نارویجن ویلفئیر آرگنائزیشن، ناروے میں وہ لوگ بھی میرا ساتھ چھوڑ گئے، جِن کی میں نے، اَپنا سمجھ کر، سال ہا سال خدمت کی تھی۔
سردار محمد اَمیر خان کا شُمار اُن لوگوں میں ہوتا ہَے، جنہوں نے، اَپنے بچپن میں، ریاست جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سِنگھ کے خلاف، عوامی بغاوت میں حصّہ لیا اَور ڈانگ سوٹے سے لَڑ کر، دَس ہزار مربع میل کا علاقہ آزاد کرایا۔
اُنہوں نے پاک فوج کی نوکری کی۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ کوئٹہ سے راولپندی تک پیدل سفر اُن کی مشق میں شامل تھا۔
گھریلو ملازمت نے اُن کو پاکستان کی اشرافیہ اَور اُس کے طور اطوار کو قریب سے دیکھنے اَور سمجھنے کا موقعہ دیا۔
وہ اِنتہائی، دُنیا دار، تجربہ کار اَور زیرک اِنسان تھے۔ عہد پر قائم رہنا، حَق پر ڈَٹ جانا اَور
عہد پر قائم رہنا، حق پر ڈَٹ جانا اَور محنتِ شاقّہ اُن کی فظرت میں شامل ہو چُکا تھا۔
دُعا ہَے کہ اللہ تعٰالی آپ کی لغرشوں، اَور غلطیوں سے صرف نظر کرتے ہُوئے آپ کی مغفرت فرمائے۔ اِنّا للہِ و اِنّا اَلیہ راجعون۔

Send a message to learn more

03/10/2024

ڈاکٹر جاوید اِقبالؒ ولد ڈاکٹر، علّامہ محمد اِقبالؒ
ڈاکٹرمحمد اِقبالؒ بہت بڑے اِنسان تھے۔ اَتنے بڑے کہ آپ کے القابات میں سے آپ کا اَصل نام تلاش کرنا پڑتا ہَے۔

اِس وقت تذکرہ ہوگا آپ کے فرزندِ اَرجمند
ڈاکٹر جاوید اِقبالؒ (۵ اَکتُوبر ۱۹۲۴ تا ۳ اَکتُوبر ۲۰۱۵ ) کا۔
ڈاکٹر جاوید اِقبالؒ اَپنی جگہ اَور اَپنے مقام پر، ایک بڑے آدمی، اِنتہائی نفیس اَور اعلیٰ اِنسان تھے۔
سَب سے بڑی خُوبی یہ تھی کہ اُن کو علم اَور احساس تھا کہ وہ ایک ایسے باپ کی اولاد ہیں، جِن کے ہندوستانی مُسلمان احسان مند ہیں۔ جِن کی علمی و ادبی خدمات کی ایک دُنیا معترف ہَے۔ اِس لیئے آپ نے زندگی بھر کوشش کی کہ اُن کی زندگی میں آپ کے معمولات سے آپ کے والد کی عِزّت و احترام اَور آپ کی علمی و اَدَبی کاوشوں میں اَگر کوئی اَضافہ نہ ہو سکے تو کوئی حرف بھی نہ آئے۔
یہ درست ہَے ہَے کہ ڈاکڑ جاوید اقبالؒ ایک نابغِ روزگار کی اولاد تھے لیکن اُن کا اَپنا بھی علمی اَور ادَبی کام اِتنا بڑا ہَےکہ تاریخِ عالم میں اُن کا نام بھی تابندہ رَہے گا۔ اِنشائ اللہ۔
جسٹس، ڈاکٹر جاوید اِقبال لِکھتے ہیں:
جَب تک پاکستان کو صالح سیاسی قیادت نصیب نہیں ہوتی اَور
جَب تک اِسلامی اَصولوں پَر مبنی جمہوریتِ کاملہ کو وجود میں نہیں لایا جاتا،
مِلّت کی، اِنفرادی اَور اِجتماعی ،تخلیقی قوّتوں کو اِظہار کا موقع ملنا محال ہَے۔
اَور ہماری، معاشرتی، اَور اِقتصادی، ارتقائ کی رفتار میں اَضافہ ہونا ناممکن ہَے۔
اِسی بنا پَر علّامہ اَفکار و نظریات کا اِطّلاق، ہماری آج کی کَش مکَش اَور تگ و دَو پَر،
اُسی طرح ہو رہا ہَے، جِس طرح آج سے پیشتر ہمارے غُلامی اَور محکومی کے عہد میں ہوتا چلا آرہا ہَے۔
اِس اعتبار سے بھی فِکر اِقبالؒ تَرو تازہ اَور زندہ و جاوید ہَے۔
میرا مطمعِ نطر یہی ہَے کہ کسی نہ کسی طرح [زندہ اِقبالؒ] کو ، مُستقل طور پر، پاکستانیوں کی نِگاہوں کے سامنے رکھّا جائے۔
زِندہ اِقبالؒ کی اِصطلاع سے میری مُراد یہ ہَے کہ فِکرِ اِقبالؒ کا مُطالعہ محض فِکر براےٗ فِکر نہ کیا جائے بلکہ اِس طور سے کیا جائے کہ اِس کا اِطّلاق ہماری آج کی زندگی پَر ایک فعّال اَور موژر قوّت کی صُورت میں ممکن ہو سکے۔ [مئے لالہ فام]
جسٹس، ڈاکڑ جاوید اِقبالؒ نے عُمر بھر یہی کام کیا کہ پاکستان کی قوم، کو اَپنے
والدِ مکرّم کےکام اَور پیام کو، بھول جانے نہیں دیا۔
اِسی میں جسٹس، ڈاکٹر جاوید اِقبالؒ کی عظمت پوشیدہ ہَے۔
جَسٹس، داکٹر جاوید اِقبالؒ اَپنے ناموَر والد کے، واحد، تَرجمان اَور پاسبان ہیں۔

Send a message to learn more

03/10/2024

ڈاکٹر جاوید اِقبالؒ ولد ڈاکٹر، علّامہ محمد اِقبالؒ
ڈاکٹرمحمد اِقبالؒ بہت بڑے اِنسان تھے۔ اَتنے بڑے کہ آپ کے القابات میں سے آپ کا اَصل نام تلاش کرنا پڑتا ہَے۔
اِس وقت تذکرہ ہوگا آپ کے فرزندِ اَرجمند
ڈاکٹر جاوید اِقبالؒ (۵ اَکتُوبر ۱۹۲۴ تا ۳ اَکتُوبر ۲۰۱۵ ) کا۔
ڈاکٹر جاوید اِقبالؒ اَپنی جگہ اَور اَپنے مقام پر، ایک بڑے آدمی، اِنتہائی نفیس اَور اعلیٰ اِنسان تھے۔
سَب سے بڑی خُوبی یہ تھی کہ اُن کو علم اَور احساس تھا کہ وہ ایک ایسے باپ کی اولاد ہیں، جِن کے ہندوستانی مُسلمان احسان مند ہیں۔ جِن کی علمی و ادبی خدمات کی ایک دُنیا معترف ہَے۔ اِس لیئے آپ نے زندگی بھر کوشش کی کہ اُن کی زندگی میں آپ کے معمولات سے آپ کے والد کی عِزّت و احترام اَور آپ کی علمی و اَدَبی کاوشوں میں اَگر کوئی اَضافہ نہ ہو سکے تو کوئی حرف بھی نہ آئے۔
یہ درست ہَے ہَے کہ ڈاکڑ جاوید اقبالؒ ایک نابغِ روزگار کی اولاد تھے لیکن اُن کا اَپنا بھی علمی اَور ادَبی کام اِتنا بڑا ہَےکہ تاریخِ عالم میں اُن کا نام بھی تابندہ رَہے گا۔ اِنشائ اللہ۔
جسٹس، ڈاکٹر جاوید اِقبال لِکھتے ہیں:
جَب تک پاکستان کو صالح سیاسی قیادت نصیب نہیں ہوتی اَور
جَب تک اِسلامی اَصولوں پَر مبنی جمہوریتِ کاملہ کو وجود میں نہیں لایا جاتا،
مِلّت کی، اِنفرادی اَور اِجتماعی ،تخلیقی قوّتوں کو اِظہار کا موقع ملنا محال ہَے۔
اَور ہماری، معاشرتی، اَور اِقتصادی، ارتقائ کی رفتار میں اَضافہ ہونا ناممکن ہَے۔
اِسی بنا پَر علّامہ اَفکار و نظریات کا اِطّلاق، ہماری آج کی کَش مکَش اَور تگ و دَو پَر،
اُسی طرح ہو رہا ہَے، جِس طرح آج سے پیشتر ہمارے غُلامی اَور محکومی کے عہد میں ہوتا چلا آرہا ہَے۔
اِس اعتبار سے بھی فِکر اِقبالؒ تَرو تازہ اَور زندہ و جاوید ہَے۔
میرا مطمعِ نطر یہی ہَے کہ کسی نہ کسی طرح [زندہ اِقبالؒ] کو ، مُستقل طور پر، پاکستانیوں کی نِگاہوں کے سامنے رکھّا جائے۔
زِندہ اِقبالؒ کی اِصطلاع سے میری مُراد یہ ہَے کہ فِکرِ اِقبالؒ کا مُطالعہ محض فِکر براےٗ فِکر نہ کیا جائے بلکہ اِس طور سے کیا جائے کہ اِس کا اِطّلاق ہماری آج کی زندگی پَر ایک فعّال اَور موژر قوّت کی صُورت میں ممکن ہو سکے۔ [مئے لالہ فام]
جسٹس، ڈاکڑ جاوید اِقبالؒ نے عُمر بھر یہی کام کیا کہ پاکستان کی قوم، کو اَپنے
والدِ مکرّم کےکام اَور پیام کو، بھول جانے نہیں دیا۔
اِسی میں جسٹس، ڈاکٹر جاوید اِقبالؒ کی عظمت پوشیدہ ہَے۔
جَسٹس، داکٹر جاوید اِقبالؒ اَپنے ناموَر والد کے، واحد، تَرجمان اَور پاسبان ہیں۔

Send a message to learn more

Adresse

Urtegata 36
Oslo
0179

Åpningstider

Mandag 14:30 - 19:00
Tirsdag 14:30 - 19:00
Onsdag 14:30 - 19:00
Torsdag 14:30 - 19:00
Fredag 14:30 - 19:00
Lørdag 14:30 - 19:00

Telefon

98 48 85 81

Nettsted

Varslinger

Vær den første som vet og la oss sende deg en e-post når Idara: M. A. Soofi legger inn nyheter og kampanjer. Din e-postadresse vil ikke bli brukt til noe annet formål, og du kan når som helst melde deg av.

Snarveier

Del