26/10/2024
اِنتخاب اَز : ڈاکٹر شفیق الرحمٰن۔
پھُول
پھُول بے جان نہیں ہوتے، یہ ہماری طرح سانس لیتے ہیں، ہنستے ہیں، مُسکراتے ہیں، بعض اَوقات غَمگین بھی ہو جاتے ہیں۔
سَب سے زیادہ شریر گُلاب کے پھُول ہیں جِن کا کام ہَر وقت مَسرور رہنا ہَے۔
گُلِ اَشرفی وہاں ہوتا ہَے جہاں زمین میں سونا ہی سونا ہو۔
رات کی رانی کے پھولوں کی کبھی سُورج سے لڑائی ہوگئی تھی، چُنانچہ اِسی ضِدّ میں دہ کبھی دِن میں نہیں کھِلتے۔
سُورج مُکّھی کا پھول البتّہ سُورج پَر عاشق ہَے، لیکن سُنا ہَے، کہ سُورج کو اُس کی ذرا پَرواہ نہیں۔ ویسے وہ کسی نہ کسی پر عاشق ضرور ہَے، تبھی تو ہَر وقت جلتا رہتا ہَے۔
چنبیلی کے پھول بے حَد غَمگین رہتے ہیں۔ لیکن اُداسی کی وجہ معلوم نہیں، جَب ہَوا کے جھونکے چلتے ہیں تو یہ دبی دبی آہیں بھرتے ہیں۔
نَرگس کے پھُول ہمیشہ کے منتظر رہتے ہیں۔
جہاں شَبّو کی کلیاں ہوں، وہاں رات کو پَریاں اُترتی ہیں۔ آسمان سے پَریاں کسی کسی جگہ اُترتی ہیں، یہی وجہ ہَے کہ شَبّو کی کلیاں ہَر جگہ نہیں مِلتیں۔ شَبّو کے بھُول تو قسمت سے ہی نظر آتے ہیں۔
صُبح جو ہَوا چلتی ہَے،وہ موتیے کی کلیاں کا مُنہ چُومی ہَے اَور کلیاں چٹک چٹک کر پھُول بَن جاتی ہیں۔ جو نِکھار اَور رُوپ صُبح صُبح موتیے کے پھُولوں پَر ہوتا ہَے، چمن کے کسی پھول پَر نہیں ہوتا۔
اَفسانہ: شریر پھُول اَز کِتاب: مَدّ و جزر۔
اِنتخاب اَز : ڈاکٹر شفیق الرحمٰن۔
پھُول
پھُول بے جان نہیں ہوتے، یہ ہماری طرح سانس لیتے ہیں، ہنستے ہیں، مُسکراتے ہیں، بعض اَوقات غَمگین بھی ہو جاتے ہیں۔
سَب سے زیادہ شریر گُلاب کے پھُول ہیں جِن کا کام ہَر وقت مَسرور رہنا ہَے۔
گُلِ اَشرفی وہاں ہوتا ہَے جہاں زمین میں سونا ہی سونا ہو۔
رات کی رانی کے پھولوں کی کبھی سُورج سے لڑائی ہوگئی تھی، چُنانچہ اِسی ضِدّ میں دہ کبھی دِن میں نہیں کھِلتے۔
سُورج مُکّھی کا پھول البتّہ سُورج پَر عاشق ہَے، لیکن سُنا ہَے، کہ سُورج کو اُس کی ذرا پَرواہ نہیں۔ ویسے وہ کسی نہ کسی پر عاشق ضرور ہَے، تبھی تو ہَر وقت جلتا رہتا ہَے۔
چنبیلی کے پھول بے حَد غَمگین رہتے ہیں۔ لیکن اُداسی کی وجہ معلوم نہیں، جَب ہَوا کے جھونکے چلتے ہیں تو یہ دبی دبی آہیں بھرتے ہیں۔
نَرگس کے پھُول ہمیشہ کے منتظر رہتے ہیں۔
جہاں شَبّو کی کلیاں ہوں، وہاں رات کو پَریاں اُترتی ہیں۔ آسمان سے پَریاں کسی کسی جگہ اُترتی ہیں، یہی وجہ ہَے کہ شَبّو کی کلیاں ہَر جگہ نہیں مِلتیں۔ شَبّو کے بھُول تو قسمت سے ہی نظر آتے ہیں۔
صُبح جو ہَوا چلتی ہَے،وہ موتیے کی کلیاں کا مُنہ چُومی ہَے اَور کلیاں چٹک چٹک کر پھُول بَن جاتی ہیں۔ جو نِکھار اَور رُوپ صُبح صُبح موتیے کے پھُولوں پَر ہوتا ہَے، چمن کے کسی پھول پَر نہیں ہوتا۔
اَفسانہ: شریر پھُول اَز کِتاب: مَدّ و جزر۔
Send a message to learn more