09/02/2026
کہانی: میچ تو جیت گئے… مگر دل کیوں ہارا ہوا تھا؟
کل رات احمد میچ دیکھ رہا تھا۔
اس کی فیورٹ ٹیم جیت گئی۔
تالیاں، خوشی، شور… سب کچھ تھا۔
مگر احمد خاموش تھا۔
اس کی بیگم نے حیرانی سے پوچھا:
“میچ جیت گئے ہیں، پھر یہ چہرے پر اداسی کیوں؟”
احمد نے ریموٹ ایک طرف رکھا اور کہا:
“میچ سے زیادہ میں ایک اور چیز نوٹ کر رہا تھا…”
“یاد ہے،” احمد بولا،
“کبھی میچ کے درمیان
کوک، پیپسی، آئس کریم، فریج اور موٹر سائیکل کے اشتہار آیا کرتے تھے۔”
وہ لمحہ بھر رکا…
پھر آہستہ سے بولا:
“کل جو اشتہارات آ رہے تھے،
وہ گوگل کے تھے،
ChatGPT کے تھے،
Gemini اور AI کے تھے…”
“میں سوچ میں پڑ گیا،
کہ اگر اشتہار بدل گئے ہیں،
تو دنیا کہاں پہنچ گئی ہے؟”
احمد کی آواز میں وزن آ گیا۔
“پہلے ہم بل ہاتھ سے لکھتے تھے،
پھر کمپیوٹر آیا،
اب سافٹ ویئر کے بغیر کاروبار رک جاتا ہے۔”
“کل میں شاپنگ کے لیے گیا،
تو کیش کا نام نہیں،
بل موبائل پر آیا۔”
“پہلے بینر بنوانے کے لیے پینٹر کے پاس جاتے تھے،
اب ایک تصویر واٹس ایپ پر بھیجی
اور کام مکمل۔”
احمد نے گہری سانس لی۔
“اکیڈمیز بھی بدلی ہیں،
پہلے آرٹس،
پھر سائنس،
اور اب AI، IT اور ٹیکنالوجی۔”
پھر اس نے وہ بات کہی
جس نے ماحول خاموش کر دیا:
“بس ایک جگہ ہے جو نہیں بدلی…
ہمارے سکول۔”
“وہی پرانی کتابیں،
وہی رٹا،
وہی طریقہ
جو ہم نے 1995 اور 2000 میں پڑھا تھا۔”
احمد کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔
“میرا بچہ بھی وہیں پڑھ رہا ہے،
اور میں سوچتا ہوں
کہ جب دنیا AI سے بات کر رہی ہے
تو میرا بچہ صرف جواب یاد کر رہا ہے۔”
وہ آہستہ سے بولا:
“یہ بچہ کل اس دنیا کا مقابلہ کیسے کرے گا؟”
خاموشی چھا گئی۔
احمد نے آخری جملہ کہا:
“مسئلہ یہ نہیں کہ جدید تعلیم مہنگی ہے،
مسئلہ یہ ہے کہ
اگر ہم نے آج نہیں بدلا
تو کل ہمارے بچے پیچھے رہ جائیں گے۔”
سوال صرف یہ ہے:
کیا ہم وقت کے ساتھ چلیں گے
یا وقت ہمیں روند کر آگے نکل جائے گا؟
فیصلہ آج کرنا ہے،
کیونکہ کل بہت دیر ہو جائے گی۔
—
محمد کاشف عالم 03027259324