14/01/2026
کسان بھائی اس وقت گندم پاکستان کی طرح نازک موڑ پہ پہنچ چکی ہے۔ جب سٹہ نکلنے کا مرحلہ آتا ہے تو ہ ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ اب کیا کیا جائے کہ پیداوار بھرپور آئے اور فصل گرے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اکثر زمیدار بھائی اس اہم وقت پر وہ غذائیت نہیں دے پاتے جو فصل کو درکار ہوتی ہے۔ جسکی وجہ سے سٹے تو نکل آتے ہیں مگر دانے ادھورے رہ جاتے ہیں، وزن نہیں آتا، اور محنت کا پورا فائدہ نہیں ملتا۔
حقیقت یہ ہے کہ گندم کے پودے میں دانوں کی تعداد اور ان کا وزن اسی وقت طے ہوتا ہے جب سٹی پہلی بار نظر آتی ہے۔ یہ 50 سے 65 دن کا دور ہے جب سٹی کے اندر چھوٹی چھوٹی گھونڈیاں بن رہی ہوتی ہیں۔ ہر گھونڈی ایک دانے کا گھر ہے۔ اگر اس وقت فاسفورس کی کمی ہو تو گھونڈیاں کم بنیں گی اور دانے بھی کم آئیں گے۔ اگر جڑوں کا جال مضبوط نہ ہو تو بہت سے شگوفے سٹے میں تبدیل ہی نہیں ہوتے۔
اب جو کام کرنا ہے وہ بالکل صاف ہے۔ سب سے پہلے پوٹاش کا استعمال لازمی کریں۔ اگر بوائی کے وقت نہیں ڈالی تو ابھی آخری موقع ہے۔ 10 سے 12 کلو سلفیٹ آف پوٹاش فی ایکڑ زمین میں ڈالیں یا پھر 2 کلو پوٹاشیم نائٹریٹ کو 100 لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کر دیں۔ یہ دانوں کو موٹا، بھاری اور چمکدار بنائے گی۔
دوسرا اہم کام بوران کا سپرے ہے۔ یہ چھوٹا سا عمل دانوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ کرتا ہے کیونکہ یہ پولینیشن کو مکمل کرتا ہے۔ 100 گرام بوران فی ایکڑ کافی ہے اور اسے پوٹاش کے ساتھ بھی ملایا جا سکتا ہے۔
اس کے ساتھ یہ یاد رکھیں کہ اس مرحلے پر پانی کی کمی بالکل برداشت نہیں کی جا سکتی۔ نمی کی کمی سے سارا کام ادھورا رہ جاتا ہے۔ البتہ یوریا کے معاملے میں احتیاط لازم ہے کیونکہ زیادہ نائٹروجن فصل کو کمزور کر کے گرا سکتی ہے اور بیماریوں کو دعوت دے سکتی ہے۔
جو کسان بھائی ان آسان اقدامات پر عمل کرتے ہیں ان کی فصل میں فرق صاف نظر آتا ہے۔ دانے بھرے ہوئے، تنا مضبوط، اور پیداوار منوں میں اضافہ۔ مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے فالو رکھیں
#کھاد #فصل #دانہ
#گندم