Tariq and Zohaib goat farm bhakkar

Call Directions Contact the business

Tariq and Zohaib goat farm bhakkar goat Sall and purchase and meet product

08/02/2026

۔ ۔
آئندہ نسل کا انحصار حاملہ جانوروں کی صحت پر ہے۔ بہترین نتائج کے لیے دو باتوں کا خاص خیال رکھیں:
1) بیماریوں سےحفاظت #
2) متوازن خوراک کی فراہمی
متوازن خوراک کیوں ضروری ہے؟
خوراک کی کمی سے مراد صرف مقدار نہیں، بلکہ غذائیت کی کمی ہے۔ اگر خوراک متوازن نہ ہو تو درج ذیل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
اسقاطِ حمل (بچہ گرنا)
پیدائشی وزن میں کمی اور کمزور بچوں کی پیدائش
بچوں کی شرحِ اموات میں اضافہ
پیداوار (دودھ) میں کمی
:
حمل کے آخری 20 ایام میں پیٹ میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے جانور اپنی غذائی ضروریات چارے سے پوری نہیں کر پاتا۔ لہٰذا، آخری مہینے میں فی جانور 500 گرام ونڈہ لازمی دیں۔ یہ معمولی خرچ آپ کو جانور کی بہتر صحت، زیادہ دودھ اور صحت مند بچوں کی صورت میں منافع بن کر واپس ملے گا۔
#احتیاطی
#تدبیر
آرام: آخری ایام میں جانور کو چرائی کے لیے لمبا سفر نہ کرائیں۔ تھکان اسقاطِ حمل کا سبب بن سکتی ہے۔
پانی: تازہ اور صاف پانی ہر وقت دستیاب ہو۔ 41 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زائد درجہ حرارت میں جانور کو زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔
پانی کی اہمیت: ایک بچے کے جسم کا 70% حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ پانی خوراک کو جسم کے تمام حصوں تک پہنچانے، زہریلے مادوں کے اخراج اور جسمانی درجہ حرارت برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
#دورانِ_حمل_غذائی_ضروریات:
بھیڑ اور بکری میں حمل کے چار ماہ بعد غذائی ضروریات بڑھ جاتی ہیں، جبکہ پانچویں ماہ میں یہ ضرورت عروج پر ہوتی ہے۔ جانور کو چراگاہ سے ونڈے پر لانے کے لیے 2 سے 3 ہفتے کا تدریجی وقت دیں تاکہ اس کا ہاضمہ خراب نہ ہو۔
:
(1).ریوڑ میں مست بکرے کی موجودگی۔
(2).طویل مسافت یا چرائی کے دوران تھکان۔
(3).ہوا کی کمی (حبس) والی جگہ پر رکھنا۔
(4).شدید موسمی اثرات (سخت سردی یا گرمی)۔
(5)جسم میں کیلشیم کی کمی۔
(6).حاملہ بکریوں کا آپس میں لڑنا۔
(7).ہائی اینٹی بائیوٹک ادویات کا بے جا استعمال۔
(8).ضرورت سے زیادہ گرم تاثیر والا ونڈہ۔
مزید رہنمائی کے لیے آپ مجھ سے بکریوں کے بارے سوال پوچھ سکتے ہیں:؟؟؟
مدرسہ بکرا منڈی
#مکھی
#چینی

30/06/2025

یہ سوات والا خاندان تمہارا اور میرا تھا
اور سہولتیں ان لوگوں کے پاس ہیں جو ہمارے ہی پیسوں پہ پلتے ہیں ہمارا ہی کھاتے ہیں اور ہم انہیں خان چوہدری ملک سیٹھ قریشی میاں سردار کہتے ہیں
دراصل وہ زکوٰۃ صدقات کے مستحق ہیں ہمارے ہی پیسوں پہ پلتے ہیں
اور ہم ان ہی کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑتے بھی ہیں ان کو بڑا ثابت کرنے کیلئے۔حالانکہ دراصل یہ کمی کمین ہیں
پتہ نہیں ہم کب بڑے ہونگے اور کب عقل آئے گی

29/06/2025

تاریخِ فتح مکہ میں ایک واقعہ درج ہے کہ حضرت رسولِ اکرم ﷺ نے عمومی معافی کا اعلان فرمایا، لیکن چند مخصوص افراد کے قتل کا حکم بھی دیا، جن میں عکرمہ بن ابوجہل شامل تھا۔ تاہم، عکرمہ کی بیوی نے رسول اللہ ﷺ سے شوہر کے لیے امان حاصل کی اور اُسے واپس لے کر آئیں۔ جب رسولِ خدا ﷺ کو خبر ہوئی کہ عکرمہ واپس آ رہا ہے تو آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا:

"عکرمہ تمہارے پاس آ رہا ہے۔ جب اسے دیکھو تو اس کے باپ کو برا بھلا نہ کہنا، کیونکہ مردوں کو گالیاں دینا زندہ لوگوں کو تکلیف دیتا ہے۔"

پھر جب عکرمہ مسلمان ہو گیا تو اس نے شکایت کی کہ لوگ اسے "عکرمہ بن ابوجہل" کہہ کر پکارتے ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے صحابہ کو اس سے باز رہنے کا حکم دیا اور فرمایا:

"مردوں کو برا بھلا کہہ کر زندوں کو اذیت نہ دو۔"

(ماخذ: الاستیعاب، ابن عبدالبر، جلد 3، صفحہ 108)

یہ وہ نبی ﷺ ہیں جو اس بات سے بھی رنجیدہ ہو جاتے ہیں کہ کوئی کسی کے باپ کو بُرا کہے، یہاں تک کہ اگر وہ ابوجہل ہی کیوں نہ ہو، جسے قرآن "فرعونِ امت" کہہ چکا ہے۔

اگر رسولِ اکرم ﷺ اس قدر حساس تھے کہ وہ دشمنِ اسلام ابوجہل کے ذکر پر بھی اپنے نومسلم صحابی کے دل کا خیال رکھتے تھے، تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے قریبی اصحاب یا ازواج مطہرات کی اہانت سے رنجیدہ نہ ہوں؟ آج جب ہم بعض تاریخی روایات کی بنیاد پر بزرگ صحابہ، امہات المؤمنین یا دیگر شخصیات کی توہین کرتے ہیں، تو ہم دراصل وہی کام کر رہے ہوتے ہیں جس سے رسولِ خدا ﷺ نے سختی سے منع فرمایا تھا۔

ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کہیں ہم تاریخ کے فتنہ انگیز عناصر کے ہاتھوں نادانستہ طور پر استعمال تو نہیں ہو رہے؟ ہم بعض روایتوں کو، جن کی صحت مشتبہ ہو، اس اعتماد سے دہراتے ہیں گویا وہ وحی ہوں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اپنے ہی دین کی جڑیں کاٹتے ہیں، اپنے ہی عقیدے کو مشکوک بناتے ہیں، اور دشمنوں کے ہاتھوں مضبوطی سے کھیلتے ہیں۔

ان حالات میں جب کہ روایات میں جعل سازی، تحریف، مبالغہ آرائی اور فرقہ واریت کی بو صاف محسوس کی جا سکتی ہے، اہلِ علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی روایتوں کو تنقیدی نظر سے دیکھیں۔ ان کی تصدیق اور ترویج سے پہلے خوب تحقیق کریں۔ خصوصاً منبر پر بیٹھنے والے خطبا، ذاکرین اور مداحین کو چاہیے کہ وہ فتنہ انگیز، اختلاف پر مبنی اور اشتعال انگیز روایتوں سے احتراز کریں۔ ورنہ یہ جذباتی تقریریں اور نوحے قوم کو شعور نہیں، انتشار دے

21/06/2025

فلسطین،غزہ کے مسلمانوں پر جو ظلم ہوا،ہو رہا ہے اس کو بند کروانے کے لیے کتنے ممالک نے کوشش کی جب ایران نے اسرائیل کی منجی ٹھوکی تو سب کفار امن کےلئے کھڑے ہو گئے کاش یہ خیال انکو فلسطین و مقبوضہ کشمیر کے لیے بھی آتا

26/11/2020

میرا " تایا " کاف سٹارٹر (نوزائیدہ بچوں کا ونڈا) استعمال نہیں کرنے دیتا، ہم تو لائے تھے کہ بچوں کو دینا چاہیے

جب کچھ لوگوں نے اس پوسٹ پر کمنٹ کئے کہ بچوں کو سبز چارہ نہ ڈالیں تو جواب آیا
"تایا"
بچوں کی عمر 41 دن ہے

نامناسب دیکھ بھال، غیر متوازن خوراک کے ساتھ ساتھ ہمارے نام سے منسوب کھونٹے پر بندھے جانور اور ان کے چھوٹے بچے ہماری پرانی سوچ سے بھی لڑ رہے ہیں

کٹڑوں بچھڑوں کو پہلے تین ماہ چارہ کیوں نہیں دینا؟؟؟

بچوں کو پہلے ہفتے سے ہی کاف سٹارٹر کیوں دیں؟؟؟

تو بات کچھ یوں ہے کہ

جگالی کرنے والے جانوروں کے معدے کے 4 حصے ہوتے ہیں،
1 Rumen ( ریومن)
2 Reticulum (ریٹی کیولم)
3 Omasum ( اومیزم)
4 Abomasum (ایبومیزم)

جبکہ انسان کا ایک معدہ ہوتا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ جگالی کرنے والے جانوروں کا نظام انہضام ہم انسانوں جیسا نہیں ہے۔
پیدائش کے وقت صرف ایبومیزم ہی کام کرتا ہے جو دودھ کو ہضم کرتا بلکل انسانوں کے بچوں کی طرح۔
ابومیزم ہمارے معدہ جیسا ہوتا ہے جو ابتدائی دنوں میں دودھ کو ہضم کرتا ہے۔ چارے کو ہضم کرنے والے پہلے تین حصے ہوتے ہیں، خاص طور پر ریومن Rumem جس میں تولیہ کی طرح کے ابھار papillae ہوتے ہیں۔
ریومن یا اوجھڑی میں جب تک یہ تولیہ کی طرح کے ابھار نہیں بنیں گے اس وقت جانور چارہ سے اپنے لیے توانائی حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ ابھار papillae جلدی بن سکتے یعنی معدہ جلدی تیار Rumem Development ہو سکتا ہے، اگر ہم بچوں کو اناج والی خوراک دینا شروع کر دیں۔ مکئی، گندم، جو وغیرہ کی معدہ میں توڑ پھوڑ سے پروپیونیٹ propionate اور بیوٹائیریٹ butyrate بنتے ہیں جو کہ ان تولیہ جیسے ابھار بننے اور ان کی نشوونما کا باعث بنتے ہیں۔ چارہ کی توڑ پھوڑ سے ایسی ٹیٹ acetate بنتے ہیں جو اس عمل میں مددگار نہیں ہیں۔ یہی پروپیونیٹ اور بیوٹائیریٹ ریومن سے جذب ہو کر جگر میں جاتے ہیں اور جانور کے لیے توانائی کا ذریعہ ہیں۔ یعنی دونوں کام معدے کی نشوونما اور بچے کے لیے توانائی بھی۔
اس لیے بچوں کو اناج سے بنا کاف سٹارٹر دینا چاہیے۔ کاف سٹارٹر دینے سے بچے کی بڑھتی ہوئی جسامت کو طاقت بھی ملتی ہے اور اس کا معدہ 6 ماہ کے بجائے صرف دو، تین ماہ میں چارے کو ہضم کرنے کے قابل بھی ہوجاتا ہے۔

ابتدائی عمر میں بڑھوتری تیزی سے ہو رہی ہوتی ہے اس لئے بچھڑوں کو اپنی نشونما کیلئے توانائی، پروٹین، نمكیات، وٹامنز اور دیگر غذائی اجزاء کی اضافی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر دو، تین ماہ میں ہم اس کا معدہ تیار کر دیں تو بچھڑا اچھی طرح سے نشونما کرسکتا ہے۔

اگر جانور کا معدہ چارہ ہضم کرنے کے قابل نہیں ہے اور ہم اسے دودھ چھڑوا دیتے ہیں یہ کم کر دیتے ہیں اور نا ہضم ہونے والا چارہ ڈال دیتے ہیں تو بحرحال اس کا اثر جانور کی صحت پر پڑے گا اور وہ بیمار ہوسکتا ہے۔
چھوٹے بچوں کو بڑے جانوروں والا بازاری ونڈہ نہیں دینا چاہئے، اس میں یوریا ہو سکتا ہے جو بچوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ بڑے جانوروں میں % 2-3 فیصد یوریا خوراک میں بغیر نقصان کے کھلایا جا سکتا ہے۔

- - - * * * - - -* * * - - -* * * - - - * * * - - -* * * - - -* * *

- - - * * * - - -* * * - - -* * * - - - * * * - - -* * * - - -* * *

کٹڑوں بچھڑوں کو کم از کم تین ماہ تک کسی بھی قسم کا چارہ بلکل نہ دیں۔ اکثر لوگ اس بات سے اتفاق نہیں کریں گے لیکن تین ماہ سے پہلے سبز چارہ ہرگز نہیں دینا۔ تین ماہ کے بعد خشک چارہ شروع کریں جیسا کہ خشک لوسرن، خشک جئی کا چارہ یا رھوڈز گراس۔ تقریباً چار ماہ کے بعد سبز چارہ دینا شروع کریں۔
بچوں میں پیٹ بڑھ جانے اور لٹک جانے کی وجہ یہی ہے کہ ہم سبز چارہ دینا شروع کر دیتے ہیں جو کہ جانور کا معدہ ہضم نہیں کر سکتا، کیونکہ معدہ اس قابل نہیں ہوتا اس لیے پہلے معدہ تیار کریں تاکہ چارہ ہضم ہوسکے۔

ہمارے شریکے یعنی یورپ اور امریکہ والے تیسرے دن سے ہی کاف سٹارٹر دینا شروع کر دیتے ہیں، جی ہاں ! تیسرے دن سے ہی۔ اگر ہمیں یہ لفظ کاف سٹارٹر اچھا نہیں لگتا تو ہم یہ کہہ لیتے ہیں کہ تیسرے دن سے ہی نوزائیدہ بچوں کا ونڈا شروع کر دیتے ہیں۔
جگالی کرنے والے تمام جانوروں کا معدہ تین چار ماہ تک ایسا نہیں ہوتا کہ وہ چارے کو توڑ پھوڑ اور ہضم کر سکے۔ ان کا معدہ تیار کرنا پڑتا ہے جو کہ دانوں اناج والی خوراک سے تیار ہوتا ہے نہ کہ سبز چارے سے۔ اگر آپ پہلے 4 ماہ تک صرف دودھ ہی پلائیں گے تو 4 ماہ تک بھی معدہ ٹھیک طرح سے تیار نہیں ہوگا۔
10 کلو مکئی ، 5 کلو گندم کا چوکر، 5 کلو صاف ستھری بدبو اور پھپھوندی سے پاک کھل بنولہ۔ ان تمام کو پیس لیں، پاؤڈر نہیں بنانا لیکن مکئی کا دانہ موٹا نہ ہو۔ اگر شیرہ آپ کو آسانی سے مل جاتا ہے تو ایک کلو وہ ڈال لیں یا گڑ ڈال لیں اور 200-300 گرام اچھی کمپنی کا منرل مکسچر۔
اگر آپ کو کسی کمپنی کے ونڈے پر اعتماد ہے تو ہر کمپنی کا کاف سٹارٹر ونڈا ہوتا ہے، آپ ان سے خرید لیں۔
جب آپ کا جانور روزانہ ایک کلو 1 kilogram کاف سٹارٹر کھانا شروع ہو جائے تو اس کا دودھ چڑوا دیں۔
بچوں کو خشک لوسرن، خشک جئی یا روڈز گراس کھلانا شروع کر دیں- اگر آپ کے پاس اچھا خشک چارہ ہے تو جلدی شروع کروا سکتے ہیں، پہلے مہینے سے ہی۔ اگر خشک چارہ نہیں ہے تو صرف ونڈا ہی ڈالیں۔ سبز چارہ بلکل بھی نہیں۔ صرف خشک اور اچھی کوالٹی کا۔ توڑی، جوار، باجرہ، مکئی کا ساہیلج یا خشک چارہ نہیں ڈالنا۔

دوبارہ انہی چاروں کا ذکر اس لیا کیا کیونکہ چارہ وہ کھلانا ہے جس میں پروٹین 16 CP سے کم نہ ہو۔ مکئی، جوار، باجرے کے چارے میں اتنی پروٹین نہیں ہوتی۔ اس لیے انہی چاروں کا بندوبست رکھیں گرمیوں میں بھی۔
کاف سٹارٹر چاہئے سردیوں میں کھلائیں یا گرمیوں میں لیکن پانی ہر وقت بچوں کے سامنے موجود رہے، پانی کا تعلق دودھ پینے سے نہیں ہے۔ پہلے ہفتے سے ہی پانی اور ونڈہ جانور کے سامنے ہو۔ ایسا نہیں کہ آپ ونڈہ بچے کے سامنے رکھیں گے اور وہ کھانا شروع کر دے گا، پہلے کچھ دن آپ کو محنت کرنا پڑے گی، آپ بچوں کے منہ یعنی تھوتھنی پر تھوڑا تھوڑا ونڈا لگا دیں، انشاللہ تین چار دن میں وہ خود کھانا شروع کر دے گا۔ کم گہرے برتن میں ایک مٌٹھی جتنی مقدار روزانہ سے شروع کریں اور آہستہ آہستہ مقدار بڑھاتے جائیں۔ پھر گہرے برتن یعنی بالٹی وغیرہ میں دینا شروع کر دیں تاکہ ونڈا ضائع نہ ہو۔ گرمی اور حبس کے موسم میں ونڈا بنائیں ہی کم مقدار میں کیونکہ ایسے موسم میں پھپھوندی اور بدبو پیدا ہو سکتی ہے ونڈے میں۔ پھپھوندی یا فنگس انتہائی خطرناک ہے اور مہک یا بدبو سے جانور اس خوراک سے بدظن ہو سکتا ہے۔
بچوں کا ونڈا روزانہ نیا ڈالیں، بچا ہوا ونڈا اگلے دن کسی اور بڑے جانور کو دیں۔ دوبارہ عرض ہے کہ ونڈے کے ساتھ پانی کا موجود ہونا نہایت ضروری ہے، جتنا پانی پیئے گا اتنا ہی زیادہ ونڈا کھائے گا جانور۔
یہ بات بھی پوری زمہ داری سے لکھی جا رہی ہے کہ کاف سٹارٹر سے بچوں کو پیچس نہیں لگتے۔ اگر کھانے پینے کے برتن صاف نہیں، دودھ پلاتے وقت صفائی نہیں ہے، یا دودھ بچے کی ضرورت سے زیادہ پلا دیا ہے، بچے کی ماں کو ساڑو، میسٹائٹس، کی مسئلہ ہے اور آپ وہی دودھ بچے کو پلا رہے ہیں، بچوں کی خدمت کرنے والے کی اپنی صفائی نہیں، یا بچے گوبر اور اپنی ہی گندگی میں بندھے ہوئے ہیں یا بچے مٹی، کھرلیوں یا فرش پر منہ مارتے ہیں یا آپ نے بچے کو بوہلی مقدار، معیار اور وقت پر نہیں پلائی تو اپنی کوتاہیوں کا ملبہ کاف سٹارٹر پر نہیں ڈالنا۔
تحریر: Ayesha Zahoor
AyeshaZahoorAgri

پوسٹ کو شیئر کر دیا کریں، حوصلہ افزائی ہوجاتی ہے کہ واقعی لکھی گئی تحریروں سے آپ کے علم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

21/11/2020

آج کل زیادہ تر بکریوں کے اندر لیور فلیوک کی بیماری یعنی جبڑے کے نیچے پانی بھر جاتا ہے، اور جانور دن بدن کمرزو ہوجاتا ہے اس کی وجہ جن جانوروں کی بہت عرصے سے ڈیورمنگ نہیں ہوئ ہو
تو پیٹ کےکیڑے جگر تک پہنچ جاتے ہیں اور جگر کا خون چوستے رہتے ہیں اس کی بیماری کو لیور فلیوک کہتے ہیں
اگر بروقت مکمل طور پر علاج، نہ کیا جائے تو جانوروں کو موت تک لے جاتا ہے، اکثر اوقات جانور کی موت ہو جاتی ہے
_علاج_
Injection_Nitroxsil
Dose 1ml / 25kg
S/C
آپ کی دعاؤں کا طالب
قمرعباس (لایئوسٹاک اسسٹنٹ ڈپلومہ)

20/11/2020

سردیوں میں چھوٹے جانوروں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ نمونیا ہے !

اپنے جانوروں کو نمونیا سے کیسے بچائیں؟

سردیوں کے تمام چاروں میں پروٹین گرمیوں کے چاروں سے زیادہ ہوتی ہے، سردیوں میں کھل ونڈا وغیرہ بھی زیادہ دیا جاتا ہے تاکہ جانور کمزور نہ ہو اور دودھ پر بھی فرق نہ پڑے! جو کہ بہت اچھی بات ہے ! !

جانوروں کے جسم میں بھی پروٹین کے ہضم ہونے سے امونیا بنتی رہتی ہے۔ امونیا زہریلی ہوتی ہے اس لیے اس کا جسم سے جلد از جلد خارج ہونا ضروری ہوتا ہے۔ دودھ دینے والے تمام جانداروں کا جگر امونیا کو یوریا میں تبدیل کر دیتا ہے جو کہ گردے پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج کردیتے ہیں۔ پیشاب میں موجود اس یوریا کا کچھ حصہ پھر سے امونیا گیس میں بدل جاتا ہے۔
امونیا گیس کی ایک مخصوص تیز چبھتی ہوئی بو ہوتی ہے۔ یہ آنکھوں، ناک اور سانس کی نالی میں سخت چبھن کرتی ہے اور دم گھٹنے کا احساس پیدا کرتی ہے۔ جانوروں کے پیشاب کی بہت تیز بو اصل میں امونیا گیس کے اخراج کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔
امونیا گیس انکھوں اور سانس کی نالی میں نہ نظر انے والے چھوٹے چھوٹے زخم پیدا کرتی ہے اس وجہ سے سانس کی نالی میں خارش اور کھانسی ہوتی ہے
ان نظر نہ آنے والے زخموں سے دوسرے بیماری والے جراثیم جو عام طور پر جانور میں موجود رہتے ہیں ایسا موقعہ ملتے ہی جسم پر حملہ کر دیتے ہیں۔
نمونیا سردیوں میں جانوروں کی سب سے مہلک بیماری ہے اور امونیا گیسیں جانوروں میں نمونیا کی بیماری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ نمونیا کی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں۔

جانوروں کے باڑے یا شیڈ میں فاسد گیسوں سے سانس کی بیماریاں، آنکھوں کی سوجن، آنکھوں سے پانی آنا، دوائیوں اور ویکسین کا بے اثر ہو جانا، قوت مدافعت میں کمی، دودھ اور وزن میں کمی وغیرہ شامل ہیں

احتیاطی تدابیر / تو کریں کیا ؟؟

شیڈ میں صفائی کے حوالے سے ضروری ہے کہ جانورں کے باڑے میں پیشاب کی بدبو پیدا نہ ہو. دن کو باڑے کے پردے کھول دیں تاکہ شیڈ خشک ہوسکے۔ باڑے کو خشک کرنے کے لیے صفائی کریں یا ریت ڈالیں

اگر جانور کسی ایسے کمرے میں بندھے ہوئے ہیں جو مکمل طور پر بند ہے تو یاد رکھیں بند کمرے میں پیشاب کی وجہ سے امونیا گیس پیدا ہو کر جانوروں کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ھیں. لہذا ضروری ہے کہ جانورں کے شیڈ یا باڑے کے اوپر چھوٹے چھوٹے سوراخ رکھے یا بنائے جائیں تاکہ بد بو دار پیشاب سے پیدا ہونے والی گیسوں کا اخراج ممکن ھو سکے. اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم جانوروں کے کمرے کے چھوٹے سے چھوٹے سوراخ کو بھی بند کر دیتے ہیں۔ گیس کے اخراج کے لیے کمرے میں سوراخ چھت کے قریب کئے جائیں۔

جانور کو ڈائریکٹ ٹھنڈی ہوا نہ لگے، باڑے کے پردے نیچے زمین تک ہوں اور ہوا سے اڑ نا پائیں۔ امونیا گیس ہلکی ہوتی اور ہمیشہ چھت کی طرف جاتی ہے اس لیے چھت کے پاس روشن دان یا سوراخ کرنے سے جانور کو ٹھنڈی ہوا بھی نہیں لگی گی اور گیسیں بھی باہر نکل جائیں گی۔

کوشش کریں کہ شام کے وقت یا رات کو جانوروں کو خشک راشن دیا جائے اور سبز چارہ کم دیا جائے، اس طرح جانور پیشاب زیادہ نہیں کریں گے۔ سردیوں کے چاروں میں ویسے ہی %80-85 پانی ہوتا ہے

بھوکے جانور کو سردی زیادہ لگتی ہے، چھوٹے بچوں کو خاص طور پر رات کو خشک راشن ونڈا وغیرہ ضرور دیں تاکہ وہ اپنی توانائی بحال رکھ سکیں۔ ٹھنڈا پانی ہرگز ہرگز جانوروں کو نہ پلائیں۔
جانوروں کو باڑے میں باندھنے کے کچھ گھنٹوں بعد اور رات کے آخری پہر، صبح سے پہلے چکر ضرور لگایا کریں اور آپ کو گٹھن اور آنکھوں میں چبھن زیادہ محسوس ہو تو فوراً اس کا بندوبست کریں۔
یاد رکھیں گائے بھینس کے پھپھڑے ان کے کی جسامت کے لحاظ سے چھوٹے ہوتے ہیں اگر انسانوں اور گائے بھینس کے وزن اور پھپھڑوں کا موازنہ کیا جائے، اس لیے ان جانوروں میں سانس کی بیماریاں زیادہ شدید ہوتی ہے۔
چھوٹی چھوٹی لاپرواہیاں جانور کو کمزور اور بیماری سے لڑنے کی صلاحیت کم کر دیتی ہیں۔

پوسٹ کو شئیر ضرور کردیا کریں

Address

Chah Hansawala
Bhakkar

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923443710400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tariq and Zohaib goat farm bhakkar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tariq and Zohaib goat farm bhakkar:

Shortcuts

Share