U-HUB Amusement

U-HUB Amusement Hi U-Hub entertainment page will provide movie clip, attractive, beautiful, nature photos as well as songs

22/07/2021

Qasim Ali Shah🔥♥️

😂😂😂کالج میں ایک اسٹوڈنٹ نے انگریزی کےپروفیسر سے پوچھا ۔ سر " نٹورے " کا کیا مطلب ہے؟ " نٹورے " ؟؟؟پروفیسر نے حیران ہوتے ...
20/06/2021

😂😂😂
کالج میں ایک اسٹوڈنٹ نے انگریزی کےپروفیسر سے پوچھا ۔ سر " نٹورے " کا کیا مطلب ہے؟
" نٹورے " ؟؟؟
پروفیسر نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
پھر کہا:
" ٹھیک ہے میں تجھے بعد میں بتاتا ہوں ، میرے آفس میں آ جانا۔ " پروفیسر نے اسے ٹالنے کے لیئے کہا۔
یہ وہاں بھی پہنچ گیا، بتائیے سر،
" نٹورے " کا مطلب ؟؟؟
پروفیسر نے کہا میں تجھے کل بتاتا ہوں ۔ پروفیسر صاحب رات بھر پریشان رہے، ڈکشنری میں ڈھونڈا، انٹرنیٹ پر ڈھونڈا ۔
دوسرے دن پھر وہی سر، " نٹورے" کا مطلب ؟؟؟
اب پروفیسر صاحب اس سے دوری بنانے لگے اور اسے دیکھتے ہی اس سے کترا کے نکلنے لگے ۔ لیکن یہ اسٹوڈنٹ ان کا پیچھا چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھا ۔
ایک دن پروفیسر صاحب نے اس سے پوچھا جس "نٹورے" لفظ کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو، یہ کونسی زبان کا لفظ ہے؟ اس نے جواب دیا - انگلش۔ پروفیسر صاحب نے کہا اسسپیلنگ بولو ۔ اس نے کہا :
😂😂N-A-T-U-R-E. 😂😂
یہ سنتے ہی پروفیسر صاحب کے غصے کی آگ 🔥 ان کے دماغ تک پہنچ گئی
کہنے لگے " حرامخور! ہفتے بھر سے میرے جی کو جنجال میں ڈال رکھا ہے ۔ اس ٹینشن میں میں بھوکا پیاسا رہا، رات رات بھر جاگا اور تو نے " نیچر " کو " نٹورے، نٹورے " بول بول کر مجھے پریشان کر رکھا ہے ۔ ٹھہر تجھے کالج سے ہی ابھی نکلواتا ہوں ۔
کہنے لگا، نہیں سر، میں آپ کے پاؤں پڑتا ہوں، اب میں دوبارہ ایسا کچھ نہیں پوچھوں گا۔ پلیز مجھے کالج سے نہ نکالیں
، میرا "فٹورے"برباد ہو جائے گا...😂
F-U-T-U-R-E 😂

امام شامل علیہ الرحمہ  ❤️یہ وہ صوفی شخصیت ہیں جنہوں نے زوال کے دور میں داغستان اور شیشان کے مسلمانوں کو شرعی نظام کے جھن...
19/06/2021

امام شامل علیہ الرحمہ ❤️

یہ وہ صوفی شخصیت ہیں جنہوں نے زوال کے دور میں داغستان اور شیشان کے مسلمانوں کو شرعی نظام کے جھنڈتے تلے جمع ہونے کی دعوت دی اور 1829 سے لے کر 1859 تک روسی فوج سے برسرپیکار رہے.

جب ہزاروں مسلمان عورتوں اور بچوں سمیت وہ مکمل طور پر روسی گھیرے میں آگئے تو انہوں نے ہتھیار اس شرط پر ڈالے کہ مسلمانوں کو تحفظ دیا جائے گا اور کسی کی جان و مال پر دست درازی نہیں کی جائے گی.

شیشان اور داغستان کے پہاڑوں میں ایک شخص نے جس طرح روسی فوج کو ایک کے بعد ایک شکست دی اس سے روسی خود حیران تھے، جب امام شامل نے ہتھیار ڈالے تو ان سے جہاں کئی شخصیات ملنے کو بےتاب تھی وہی روسی بادشاہ بھی ان میں ایک تھا، جس نے ان کی مہمان نواز کی اور ایک روسی افسر تعینات کیا تاکہ ان کی زندگی اور جنگی حکمت عملی کو دستاویزی صورت میں جمع کیا جائے.

امام شامل نے روس چھوڑنے کی اجازت چاہی لیکن ان کو اس کی اجازت نہ ملی، پھر 1870 میں انہوں نے حج کی اجازت چاہی جو ان کو دی گئی جس کے بعد وہ مدینہ میں مقیم ہوئے اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے شہر میں 4 اپریل 1871 کے دن وفات پاکر مدفون وئے. اللہ سے دعا ہے کہ امام شامل اور ان کے ساتھیوں کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے.

ایک شخص "Gree Ac" کی ٹھنڈک سے سو کرصبح "Seiko-5" کے الارم سے اٹھتا ھے "Colgate" سے برش کرتا ہے "Gellet" سے شیو کرکے "Lux...
16/06/2021

ایک شخص "Gree Ac" کی ٹھنڈک سے سو کرصبح "Seiko-5" کے الارم سے اٹھتا ھے "Colgate" سے برش کرتا ہے "Gellet" سے شیو کرکے "Lux" صابن اور "Dove" شیمپو سے نہاتا ہے اور نہانے کے بعد "Levis" کی پینٹ "POLO" شرٹ اور "GUCCI" کے شوز "Jocky" کے socks پہن لیتا ہے چہرے پر "Nevia" کریم لگا کر "Nestlé food" سے ناشتہ کرنے کے بعد "Rayban" کا چشمہ لگا کر "HONDA" کی گاڑی میں بیٹھ کر کام پر چلا جاتا ہے۔

راستے میں ایک جگہ سگنل بند ھوتا ہے وہ جییب سے
"آئی فون 10x" نکالتا ہے اور "زونگ" پر 4G چلانا شروع کر دیتا ہے اتنے میں سبز بتی جلتی ہے آفس پہنچ کر "APPLE" کے کمپیوٹر میں کام میں مشغول ھو جاتا ہے کافی دیر کام کرنے کے بعد اسے بھوک محسوس ھوتی ہے تو "McDonald's " سے کھانا اور ساتھ میں "Nestlé " کا پانی بھی منگواتا ہے۔

کھانے کے بعد "Nescaffe" کی کافی پیتا ہے اور پھر تھوڑا آرام کرنے چلا جاتا ہے کچھ آرام کے بعد "Red Bull" پیتا ھے اور دوبارہ کام میں مشغول ھو جاتا ہے تھوڑا بوریت محسوس ھونے پہ جیب سے Apple کے "I-pods"نکال کے انڈین گانے سنتا ھے ساتھ ھی "TCS" سے ایک پارسل بیرون ملک بھیجواتا ھے اور "PANASONIC" کے لینڈ لائن سے اطلاع کرتا ھے۔ اور "PARKER" کے Pen سے ایک نوٹ لکھتا ھے۔کچھ دیر بعد "ROLEX" کی گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ واپسی کا وقت ہو گیا ہے تو وہ دوبارہ "HONDA" کی گاڑی اسٹارٹ کرتا ہے اور گھر کے لئے روانہ ہو جاتا ہے۔

کچھ ہی لمحے بعد "Shell" کا پیٹرول پمپ آ جاتا ہے وہاں سے ٹنکی فل کرواتا ہے اور "HYPER STAR" کا رخ کر لیتا ہے سٹور سے بچوں کے لئے "میگی" اور "کنور" کے نوڈلز "CADBARY" KIT KAT" اور "SNIKERS" اور "Nestle" کے مہنگے جوس وغیرہ خرید لیتا ہے سپر سٹور کے ساتھ ہی "PIZZA HUTT" سے وہ بیوی بچوں کے لئے پیزا اور "KFC" سے برگرز کی ڈیل بھی خرید لیتا ہے۔

گھر جا کر کھانا کھانے کے بعد سب گھر والے "SONY" کے Led پر مشہور زمانہ "Geo News" پر مایوسی والی خبریں سن رہے ھوتے ہیں اور ہاتھ میں "Coke" کے گلاس پکڑے ھوتے ہیں کہ خبر آتی ہے کہ پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید گر گیا یہ سن کر وہ آگ بگولہ ھو جاتا ہے اور اونچی آواز میں بولتا ہے آخر کیوں پاکستانی کرنسی دن بدن گرتی جا رہی ہے۔

آخر کیوں پاکستانی معیشت ٹھیک ھونے کی بجائے بدتر ہوتی جارہی ہے آخر کیوں۔۔؟؟؟
یہ صرف ایک پاکستانی کی کہانی تھی ایسے کتنے لوگ ھونگے؟
۔
آخر کیوں ہم پورا دن امپورٹڈ اشیاء استعمال کرکے پاکستانی کرنسی گرنے اور معیشت خراب ھونے پر حیران ہوتے ہیں۔۔؟؟؟

آخر کیوں ہم پاکستانی اشیاء کی بجائے امپورٹ اشیا کو ترجیح دیتے ہیں۔۔؟؟؟

مانا کے پاکستانی اشیاء کی کوالٹی زیادہ اچھی نہیں لیکن ہم کوشش تو کر سکتے ہیں آخر کیوں ہم کوشش نہیں کرتے۔۔؟؟؟
پاکستانی بنیے اور پاکستانی اشیاء استعمال کیجیئے۔۔۔۔۔۔۔۔؛
منقول

مشہور بات ہے کہ ایران میں جاڑے کے موسم میں جب بھیڑیوں کو شکار نہیں ملتا اور برف کی وجہ سے خوراک کی قِلّت پیدا ہو جاتی ہے...
16/06/2021

مشہور بات ہے کہ ایران میں جاڑے کے موسم میں جب بھیڑیوں کو شکار نہیں ملتا اور برف کی وجہ سے خوراک کی قِلّت پیدا ہو جاتی ہے تو بھیڑیے ایک دائرے میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو گُھورنا شروع کردیتے ہیں۔۔
جیسے ہی کوئی بھیڑیا بُھوک سے نِڈھال ہو کر گِرتا ہے تو باقی سب مِل کر اُس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور اُس کو کھا جاتے ہیں، اِس عمل کو فارسی میں ’’گُرگِ آشتی‘‘ کہتے ہیں۔۔۔۔
اِس عمل کا گہرائی سے تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ رُجحان بھیڑیوں کے ساتھ ساتھ کافی حد تک ہو بہو انسانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔۔۔۔
ہم انسان بھی ان بھیڑیوں کی طرح ہیں، جو کمزور نظر آۓ اسی پر اپنی دھاگ بٹھاتے ہیں۔۔۔ جو جتنا حالات کا ستایا ہوتا ہے اتنا ہی مزید اس کے ساتھ شدت پسندانہ رویہ اپناتے ہیں۔۔۔
جو مالی طور پر کمزور ہوتا ہے اسی کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ دہی کرکے اس کی رہی سہی زندگی کو بھی جہنم بنا دیتے ہیں۔۔۔
ہم کمزور کا سہارا بننے کے بجاۓ، الٹا مزید اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔۔۔ جو جتنا کمزور ہوتا ہے اتنا ہی اس کے لئے زندگی دشوار بنا دیتے ہیں۔۔۔۔

ارب پتی صنعت کار، ایک مچھیرے کو دیکھ کر بہت حیران ہوا جو مچھلیاں پکڑنے کی بجائے اپنی کشتی کنارے سگریٹ سُلگائے بیٹھا تھا۔...
16/06/2021

ارب پتی صنعت کار، ایک مچھیرے کو دیکھ کر بہت حیران ہوا جو مچھلیاں پکڑنے کی بجائے اپنی کشتی کنارے سگریٹ سُلگائے بیٹھا تھا۔
صنعت کار: تم مچھلیاں کیوں نہیں پکڑ رہے؟
مچھیرا: کیونکہ آج کے دن میں کافی مچھلیاں پکڑ چکا ہوں۔
صنعت کار: تو تم مزید کیوں نہیں پکڑ رہے؟
مچھیرا: میں مزید مچھلیاں پکڑ کر کیا کروں گا؟
صنعت کار: تم زیادہ پیسے کما سکتے ہو، پھر تمہارے پاس موٹر والی کشتی ہوگی جس سے تم گہرے پانیوں میں جاکر مچھلیاں پکڑ سکو گے, تمہارے پاس نائیلون کے جال خریدنے کے لئے کافی پیسے ہوں گے, اس سے تم زیادہ مچھلیاں پکڑو گے اور زیادہ پیسے کماؤ گے۔ جلد ہی تم ان پیسوں کی بدولت دو کشتیوں کے مالک بن جاؤ گے۔ ہوسکتا ہے تمہارا ذاتی جہازوں کا بیڑا ہو۔ پھر تم بھی میری طرح امیر ہو جاؤ گے۔
مچھیرا: اس کے بعد میں کیا کروں گا؟
صنعت کار: پھر تم آرام سے بیٹھ کر زندگی کا لُطف اُٹھانا۔
مچھیرا: تمہیں کیا لگتا ہے، میں اس وقت کیا کر رہا ہوں؟

16/06/2021

ایک آدمی گھر لوٹ رہا تھا کہ راستے میں اس کی گاڑی خراب ہو گئی
رات کافی ہو چکی تھی
ایک دم اندھیرا تھا
موبائل کا نیٹ ورک بھی نہیں تھا ۔۔۔
دور دور تک کوئی آگے نہ پیچھے
اب گاڑی سائڈ کر کے لفٹ کا انتظار کرنے لگا
کافی دیر بعد ایک گاڑی بہت ہی دھرے دھیرے اندھیرے میں اس کی طرف آتی ہوئی دیکھی
اب اس کی جان میں جان آئی
اس نے گاڑی روکنے کے لئے ہاتھ دیا
گاڑی دھیرے دھیرے رکتے رکتے اس کے پاس آئی
اس نے جھٹ سے گیٹ کھولا اور اس میں بیٹھ گیا
لیکن اندر بیٹھتے ہی اس کے ہوش اڑ گئے
گلا سوکھنے لگا
آنکھیں کھلی رہ گئیں
دل زور زور سے دھڑکنے لگا
اس نے دیکھا کہ ڈرائیونگ سیٹ پہ کوئی تھا ہی نہیں
گاڑی اپنے آپ چل رہی تھی
ایک تو رات کا اندھیرا
اوپر سے اتنا خطرناک منظر
اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں
باہر جاؤں یا اندر ہی رہوں
وہ کوئی فیصلہ کرتا کہ راستے میں ایکـــــــــ موڑ آگیا
تبھی دو ہاتھ اس کے بغل والے کانچ پہ پڑے اور گاڑی مڑ گئی
پھر ہاتھ غائب
اب تو اس کی سٹی پٹی اور گم ہو گئی
من ہی من آیت الکرسی شروع اور اندر ہی رہنے میں بھلائی سمجھی
گاڑی اندھیرے میں رک رک کر دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی تھی
تبھی سامنے پیٹرول پمپ نظر آیا
اب گاڑی وہاں جا کر رک گئی
اس نے راحت کی سانس لی اور گاڑی سے اتر کر بھاگا
پیٹرول پمپ پہ لگے کولر سے پانی پیا
اتنے میں اس نے دیکھا کہ ایک آدمی ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھنے جا رہا ہے
وہ دوڑتے ہوئے اس کے پاس گیا اور بولا
اس گاڑی میں مت بیٹھو
میں اسی گاڑی میں بیٹھ کر آیا ہوں اس گاڑی میں بھوت ہے
اس آدمی نے اس کے گال پر ایکــــــــ زوردار طمانچہ مارا
اور کہا ابے کمینے تو کب بیٹھا اس میں
تبھی میں سوچوں گاڑی اچانک سے اتنی بھاری کیسے ہو گئی تھی
یہ میری گاڑی ہے پیٹرول ختم تھا تو پانچ کلومیٹر سے دھکا مارتے ہوئے لا رہا ہوں۔۔۔۔
😜😜

16/06/2021

🕋 *سفرِ عشق روداد سفرِ حج* 🤍

🪶 طارق محمود مرزا
🕊️ قسط نمبر ◉❍ ≼ 63 ≽ ❍◉

🛫 سفرنامے صرف ذاتی واقعات اور تجربات کی رپورٹنگ نہیں ہوتے یہ جب ضابطۂ تحریر میں آتے ہیں تو زندگی کے مختلف پہلوؤں، خاص طور پر انسانی تعلقات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
احساسات ، خیالات ، جذبات ، مشاہدات اور تجربات پر مشتمل ایک ایسا خوبصورت سفر نامہ جس کے ہر ہر لفظ میں جذبات و احساسات کا بہتا دریا موجزن ہے.

۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄*

*مفت مشورے*

بچپن میں میں نے نماز پڑھنی سیکھی تو فرض، سنت اور نفل کا فرق معلوم نہیں تھا۔ کیونکہ ہمارے گاؤں میں لوگ نفل بھی اسی اہتمام سے پڑھتے تھے جس اہتمام سے فرض پڑھتے تھے۔ میں نے جب مطالعہ شروع کیے تو معلوم ہوا کہ نفل فرض کی طرح ضروری نہیں ہیں۔ اگر نہ بھی پڑھیں تو نماز ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد میں کبھی تو نفل پڑھتا تھا اور کبھی جلدی میں ہوتا تھا تو نہیں پڑھتا تھا۔ اسی بات پر کئی نمازی میرے خلاف ہو گئے۔ ایک دن ظہر کی نماز میں فرض اور سنت پڑھ کر گھر جانے کے لیے اٹھا تو کسی نے میری قمیض کا دامن پکڑ لیا۔ میں نے گھوم کر دیکھا تو وہ میرے محلے کے ایک بزرگ تھے۔ وہ باقاعدہ نمازی تھے۔ لیکن بچوں کو زیادہ پسند نہیں کرتے تھے۔ نماز کی غرض سے مسجد میں آنے والے بچوں کو خواہ مخواہ ڈانٹتے رہتے تھے۔ میں بھی اس وقت دس گیارہ سال سے زیادہ کا نہیں تھا۔ لہٰذا ان کی ڈانٹ کا شکار بنتا رہتا تھا۔ آج وہ خود نماز میں تشہد پڑھ رہے تھے۔ لیکن ایک ہاتھ سے انہوں نے میری قمیض پکڑ رکھی تھی تاکہ میں جانے نہ پاؤں۔

جونہی انہوں نے سلام پھیرا تو لال سرخ آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور گویا ہوئے ’’اوئے تم نماز پوری کیوں نہیں پڑھتے ہو۔ یہاں حاضری لگوانے آتے ہو کیا؟‘‘

میں نے ادب سے جواب دیا ’’میں نے پوری نماز پڑھی ہے‘‘

بولے ’’میں تمہیں دیکھ رہا تھا۔ تم نے نفل نہیں پڑھے۔ جب تک نفل نہیں پڑھو گے تمہاری نماز نہیں ہو گی‘‘

یہ بزرگ نماز اپنی پڑھ رہے تھے اور رکعتیں میری گن رہے تھے۔ اس وقت مسجد میں چار پانچ نمازی موجود تھے۔ زیادہ تر اسی بزرگ کی عمر کے تھے۔ صرف ایک جوان اور پڑھا لکھا سرکاری ملازم تھا۔ اس نے مداخلت کی ’’چاچا یہ لڑکا صحیح کہہ رہا ہے۔ نفل پڑھے بغیر بھی نماز ہو جاتی ہے‘‘

چاچا پھر بھی نہیں مانے۔ الٹا اس نوجوان پر چڑھ دوڑے۔ ’’تم نے بھی اس لڑکے کی طرح چار کتابیں پڑھ لی ہیں اور باپ دادا سے جو چیزیں چلتی آ رہی ہیں اس کو غلط کہہ رہے ہو۔ پتہ نہیں ان اسکولوں میں کیا پڑھایا جاتا ہے آج کل‘‘

یہ کہہ کر وہ پیر پٹختے ہوئے چلے گئے۔ اس باریش نوجوان نے مجھے شاباش دی اور کہا ’’گھبراؤ نہیں تم بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے۔ ان کے کہنے پر تم نماز پڑھنا یا مسجد آنا نہیں چھوڑ دینا۔ ایسی باتیں چلتی رہتی ہیں ان کا اثر نہیں لینا چاہیے‘‘

عمر بھر مسجد میں روک ٹوک، نماز پر فتوے، روزے کے مسائل پر بحث اور اب حج کے دنوں میں بہت سے مشورے فتوے اور مسئلے سننے کو ملتے رہے۔ اب اس عمر میں یہ سب کچھ سننے اور برداشت کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔ لیکن بچپن اور نوجوانی میں اس طرح کی روک ٹوک نہ جانے کتنے ہی لوگوں کو دین سے ہی دور لے جاتی ہو گی۔ انسان خطا کا پتلا ہے۔ غلطیاں اور گناہ انسان سے ہی ہوتی ہیں۔ ان کا حساب لینے کے لیے اللہ کا پورا نظام موجود ہے۔ پھر ہم انسان ایک دوسرے کو جنت اور دوزخ کیوں بانٹتے پھرتے ہیں۔ ہمیں اس کا اختیار کس نے دیا ہے۔ کہیں ہم اپنے اختیار سے تجاوز تو نہیں کر رہے۔ سوچنے کی باتیں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر ایسے لوگ اپنی خو نہیں بدلتے تو ان کا تدارک کیا ہے۔ ان سے کس طرح نبٹنا چاہیے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایسے لوگ جب مشورہ یا فتویٰ دے رہے ہوتے ہیں تو کبھی یہ نہیں کہتے کہ میرا خیال یہ ہے یا میری رائے یہ ہے۔ بلکہ وہ شروع ہی اس طرح کرتے ہیں کہ مخاطب کے پاس جواب دینے کی گنجائش ہی نہیں چھوڑتے۔ ان کی رائے اتنی بے لچک اور فتویٰ اتنا حتمی ہوتا ہے کہ بحث مباحثے کی گنجائش بالکل نہیں ہوتی۔ ویسے بھی کسی کو جھٹلانا مناسب نہیں ہوتا۔ تاہم بہت ادب اور طریقے سے انہیں باور کرایا جا سکتا ہے کہ آپ کی رائے سر آنکھوں پر، لیکن مختلف لوگوں کی مختلف رائے ہو سکتی ہے۔ لہٰذا آپ اپنی رائے پر قائم رہیں اور ہمیں اپنی زندگی جینے دیں۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مشورہ دینے والا آپ کے سر پر کھڑا ہو کر اپنے مشورے پر عمل کروانا چاہتا ہے۔ اگر آپ بیمار پڑ جائیں تو تیمار داری کے لیے آنے والے ہر شخص کے پاس کوئی نہ کوئی مشورہ ضرور ہوتا ہے۔ پہلے تو وہ یہ پوچھتے ہیں کہ آپ نے اب تک یہ چیز استعمال کیوں نہیں کی۔ پھر ایسی نظر سے دیکھتے ہیں جیسے اہلِ خانہ، مریض حتیٰ کہ ڈاکٹر تک سبھی نادان ہیں۔

جب کہ مریض سوچ رہا ہوتا ہے کہ

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا

ہم میں سے ہر کوئی کبھی نہ کبھی بیمار ہوا ہو گا۔ اسے اس کے دوست احباب اور عزیز و اقارب نے مختلف مشوروں سے بھی ضرور نوازا ہو گا۔

وہ مشورے کیسے ہوتے ہیں۔ ان میں کچھ مشورے ملاحظہ فرمائیں۔

۱۔ اسے گلی کی نکڑ والے حکیم صاحب کے پاس لے جائیں ان کی دوائی سے ضرور تندرست ہو جائیں گے۔ حکیم صاحب ایسی بیماریوں کا چٹکی بجاتے علاج کر دیتے ہیں۔

۲۔ میرے گھر میں گلے کی بیماری کی دوا موجود ہے۔ کسی بچے کو بھیج کر منگوا لیں۔ فوراً آرام آ جائے گا۔ میری آزمائی ہوئی ہے۔

۳۔ اس بیماری کا علاج صرف ڈاکٹر امان اللہ ہی کر سکتا ہے۔ کسی اور ڈاکٹر کے پاس اس بیماری کا علاج نہیں ہے۔ انہیں اس کے کلینک میں لے جائیں۔ (کتنی پکی اور بے لچک رائے ہے۔ اس سے اختلاف کرنے کی کوئی جراٗت کر سکتا ہے)

۴۔ انہیں جڑی بوٹیوں والا کڑوا جوشاندہ پلائیں۔ دوا کے بغیر ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔

۵۔ پیر کرم صاحب سے تعویذ لے آئیں۔ کسی دوا کی کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ ہمارا آزمودہ نسخہ ہے۔ ہم تو ہمیشہ اسی پر عمل کرتے ہیں۔

۶۔ بھئی ہمارے گھر میں تو دادی کے زمانے سے ایک پھکی (چورن) استعمال ہوتی ہے۔ جب بھی کسی کی طبیعت خراب ہو تو ڈاکٹروں سے لٹنے کے بجائے اس پھکی کا استعمال کرتے ہیں۔ آپ چاہیں تو میں بھجوا سکتا ہوں۔

۷۔ میں تو کہتی ہوں گاؤں کا چکر لگائیں اور بابا علی شاہ کے مزار پر حاضری دیں۔ ایسی بیماریاں پل بھر میں ہوا ہو جاتی ہیں۔ لیکن آج کل کے پڑھے لکھے بچے ہماری باتوں پر کب توجہ دیتے ہیں۔

اس طرح کے کئی مشورے ہر مریض کو سننے پڑتے ہیں۔ سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب تیمار دار اپنی جیب سے دوا نکالتا ہے اور گھر والوں سے کہتا ہے لو بھئی دوا تو میں لے آیا ہوں۔ پانی لے کر آئیں اِسے ابھی یہ دوا پلاتے ہیں، تم لوگ دیکھنا! آرام آتا ہے یا نہیں۔ یہ وہی بیماری ہے جو پچھلے سال مجھے ہوئی تھی اس لئے آتے ہوئے میں دوا ساتھ لیتا آیا ہوں۔

بعض تیمار دار زود رنج ہوتے ہیں۔ جس طرح ان سے بچنا آسان نہیں ہوتا اس طرح انہیں جھٹلانا بھی آسان نہیں ہوتا۔۔ اس مسئلے کو بہت سمجھ داری سے نمٹانا پڑتا ہے۔ انہیں یقین دلانا پڑتا ہے کہ ان کا نسخہ سب سے اچھا ہے۔ ورنہ ان کی دوستی اس طرح دشمنی میں بدل سکتی ہے جس طرح ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالات بدلتے رہتے ہیں۔

♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸

✈️ حج کا سفرنامہ دراصل قلم کی عبادت ہے، مجھے یقین ہے کہ عقیدتوں کے سفر کا یہ بیانیہ قارئین نہایت دِل چسپی کے ساتھ پڑھیں گے۔ 🕊️🕊️🕊️

Address

Burewala , Punjab
Burewala
61010

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when U-HUB Amusement posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to U-HUB Amusement:

Share