Moazzam Garments and cosmetics Danda Shah Bilawal

Moazzam Garments and cosmetics Danda Shah Bilawal best quality garments and cosmetics at cheap price

10/11/2025

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
سردیوں کی تمام ورائٹی خاص کر بچوں اور بچیوں کی گرم سوٹنگ، اپر، کوٹ، جرسی، لیڈیز سویٹزر، اور دیگر تمام اشیاء معظم گارمنٹس اینڈ جنرل اسٹور پر دستیاب ہیں۔

100% original Imported perfumes available for sale at very good price for information contact 03233439301
04/09/2025

100% original Imported perfumes available for sale at very good price for information contact
03233439301

دور جہالت کی ایک علامت جو بدقسمتی سے آج بھی موجود ہے۔
24/10/2024

دور جہالت کی ایک علامت جو بدقسمتی سے آج بھی موجود ہے۔

 اگر آپ طالب علم ہیں اور آپ کا تعلق پاکستان کے کسی بھی اسکول کالج یونیورسٹی یا پھر دینی مدرسہ سے ہے اور آپ کو مختلف عنوا...
07/10/2024



اگر آپ طالب علم ہیں اور آپ کا تعلق پاکستان کے کسی بھی اسکول کالج یونیورسٹی یا پھر دینی مدرسہ سے ہے اور آپ کو مختلف عنوانات پر قلم آرائی کا شوق بھی ہے تو آپ کے اس خوبصورت شوق کو جلا بخشنے اور سراہنے کے لیے مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے مندرجہ ذیل مبارک عنوانات پر ایک "آل پاکستان تحریری مقابلہ" کا اہتمام کیا ہے۔
1. عقیدہ ختم نبوت اور امت مسلمہ کی ذمہ داریاں
2. تیرے غلاموں میں بھی نمایاں جو تیرا عکس کرم نہ ہوتا
3. کردار سازی سیرت طیبہ کی روشنی میں۔
تحریر سے متعلق شرائط اور قواعد و ضوابط کو نیچے دیے گئے اشتہار میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
اگر آپ تحریر سے متعلقہ شرائط اور قواعد و ضوابط سے متفق ہیں تو کوئی وقت ضائع کیے بغیر دیے گئے عنوانات سے متعلق اپنی معروضات کو قلم بند کیجیے اور 15 اکتوبر 2024 تک نیچے دیے گئے پتے پر ارسال کر دیجیے۔
یاد رکھیے ! ہر عنوان کے تحت اول آنے والے طالب علم کو مبلغ دس ہزار (10,000) روپے، دوئم آنے والے کو مبلغ سات ہزار (7000) روپے جب کہ سوئم آنے والے طالب علم کو مبلغ پانچ ہزار (5000) روپے بطور انعام دیے جائیں گے۔ جب کہ دیگر شرکاء کو ایم ایس او کی طرف سے اعزازی شیلڈ سے نوازا جائے گا۔

✍️ زاہد محمود - 07 اکتوبر 2024

 چند سال قبل کا واقعہ ہے کہ میرے بیٹے کی طبیعت ناساز ہوئی تو ہمیں چائلڈ اسپیشلسٹ کو ریفر کر دیا گیا۔ باری آنے پر جب ہم ڈ...
23/06/2024



چند سال قبل کا واقعہ ہے کہ میرے بیٹے کی طبیعت ناساز ہوئی تو ہمیں چائلڈ اسپیشلسٹ کو ریفر کر دیا گیا۔ باری آنے پر جب ہم ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں داخل ہوئے تو ہمیں ڈاکٹر صاحب ایک ایسی ماں سے تکرار کرتے ہوئے نظر آئے جس کی گود میں ایک معصوم بیٹا تھا جو جسمانی طور پر انتہائی کمزور تھا جب کہ گزشتہ دو تین دن سے اسے پیچس کا عارضہ بھی لاحق تھا۔
ڈاکٹر صاحب نے اس ماں کے ہاتھ میں فیڈر پکڑا دیکھا تو اس سے پوچھ لیا کہ بچے کو دودھ کون سا پلا رہی ہو ؟
ڈبے کا۔۔۔۔ماں کا جواب سن کر ڈاکٹر صاحب کا پارہ چڑھ گیا اور بچے کی ماں کو اچھی خاصی سنا دیں اور ہمارے سامنے بچے کی ماں سے فیڈر لے کر زور سے دیوار پر دے مارا۔ اسی عالم میں ڈاکٹر صاحب نے تاکید کی کہ اگر بچے کی زندگی چاہتی ہو تو بچے کو ماں کا دودھ پلاؤ۔
بچے کی ماں کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کا رویہ قابل ستائش تھا یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے تاھم یہ سب کچھ دیکھ کر ہم دونوں میاں بیوی کے دل و دماغ میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ گئی کہ صورتحال جو بھی ہو بچے کو بہر صورت اپنی ماں کا دودھ ضرور پینا چاہیے۔ البتہ بچہ جب تھوڑا بڑا ہو جائے تو اس کی خوراک میں ماں کے دودھ کے ساتھ اضافی طور پر کچھ مزید نرم غذاؤں کو مستقل خوراک کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاھم دو سال تک ماں کا دودھ بچے کو بہر صورت ہلایا جانا چاہیے۔
اب وہ مائیں جن کا دودھ بالکل ہے ہی نہیں یا وہ دودھ کی کمی کا شکار ہیں تو ان کی خوراک کو بہتر کر کے اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ میڈیکلی اس مسئلے کا الگ سے علاج موجود ہے جس سے اس صورت حال پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ بالفرض ایسا کوئی علاج اگر کارگر نہ بھی ہو تو بچے کو خاندان یا علاقے کی کسی دوسری عورت سے بھی دودھ پلوایا جا سکتا ہے۔
بجائے اس کے کہ حاملہ عورتوں کی صحت اور ان کی خوراک کا خیال رکھنے کی ترغیب دی جاتی یا دور فاروقی کی طرح نومولود بچوں کی خوراک کے لیے سرکاری سطح پر رقم مختص کر کے ان کو بھوک سے مرنے سے بچانے کی کوشش کی جاتی، بلڈ بنک کی طرز پر انسانی دودھ کو اکٹھا کرنے کی ایک بھونڈی کوشش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ کام شرعی لحاظ سے کس قدر جائز ہے یا رضاعت کے مسئلوں میں کیا پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں، اس پر مفتی تقی عثمانی صاحب اور دیگر اہل علم کی رائے یا ان کے فتاویٰ جات سامنے آ چکے ہیں۔
تاھم اس بے ہودگی کا آغاز کرنے والے افراد کی اکثریت ممکنہ طور پر ان مرد و زن سے متعلق ہو سکتی ہے جن کے گھروں میں موجود مائیں اپنے ہی بچوں کو اس لیے دودھ نہیں پلاتیں کہ کہیں ان کی چھاتیاں لٹک نہ جائیں اور ان کے نسوانی حسن میں کمی نہ آ جائے۔ پھر پاکستان جیسے معاشرے میں کون ایسا بے غیرت مرد ہوگا جو اپنی بیوی یا بہو کا دودھ دوہ کر بازار میں فروخت کرے گا، ملک بنک کے حوالے کرے گا یا ان ماؤں کے بچوں کو پالنے میں مدد دے گا جو اپنے ہی بچوں کو اپنا ہی دودھ پلانے سے اس لیے قاصر ہیں کہ کہیں وہ وقت سے پہلے ہی بوڑھی بوڑھی نظر نہ آنے لگ جائیں۔
مجموعی طور پر پاکستان جیسے منتشر معاشرے میں یہ مزید انتشار کی ایک بھونڈی کوشش ہے جس پر حکومت اور قانون نافذ کرنے اداروں کو بروقت قابو پانا چاہیے۔ بصورت دیگر یہ کوشش پہلے سے درہم برہم خاندانی روایات کو مزید خرابی کی طرف دھکیل سکتی ہے جس کا بعد میں ازالہ نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہوگا۔

✍️ زاہد محمود - 23 جون 2024

  (سفر مدینہ منورہ)امید ہے احباب میری گزشتہ ایک تحریر میں بیت اللہ شریف میں بنائی جانے والی وڈیوز، سیلفیوں اور تصویروں س...
19/06/2024

(سفر مدینہ منورہ)

امید ہے احباب میری گزشتہ ایک تحریر میں بیت اللہ شریف میں بنائی جانے والی وڈیوز، سیلفیوں اور تصویروں سے متعلق پڑھ چکے ہوں گے۔ آج اسی موضوع پر کچھ احوال مسجد نبوی شریف سے متعلق قلم بند کرنے کا ارادہ ہے۔
بیت اللہ دربار خداوندی ہے جہاں بندے اور رب کے درمیان حجاب کے سارے پردے ہٹا دیے جاتے ہیں۔ بندہ، بھلے وہ جس بھی حیثیت کا ہو، اپنے رب سے جیسے چاہے، جس طرح چاہے اپنی حاجات سے متعلق مانگ سکتا ہے۔ جب کہ دربار رسالت دربار خداوندی سے قدرے مختلف ہے۔ یہاں آداب و احترام کے بہت سارے لوازمات ساتھ لے کر حاضر ہونا پڑتا ہے۔ حرکات و سکنات کو قابو میں کرتے ہوئے انتہائی عاجزی و درماندگی سے یوں حاضر ہونا ہوتا ہے کہ کوئی حرکت خلاف ادب نہ ہو اور کسی بھی شخص کی آواز کسی بھی لحاظ سے بلند نہ ہونے پائے۔ بصورت دیگر غالب گمان یہ ہے کہ زندگی بھر کی ساری نیکیاں غارت ہو جائیں اور انسان اپنا دامن حاجت نیکیوں یا اچھائیوں سے بھرنے کی بجائے بے ادبی سے بھرے گناہوں سے آلودہ کر کے یہاں سے واپس ہو۔
میں نے اپنے عمرہ و حج کے دونوں اسفار میں بنظر غائر یہ مشاہدہ کیا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت روضہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم کے عین سامنے پہنچ کر ادب کے اکثر تقاضوں کو بھول جاتی ہے۔ آواز کو تو اگرچہ کئی لوگ مدھم رکھ کر کچھ نہ کچھ ادب کو ملحوظ رکھ رہے ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے بے توجہی اور بے مروتی زوروں پر ہوتی ہے۔ چاہیے تو یہ کہ یہاں پہنچ کر ایک صاحب ایمان ہر طرف سے اپنی توجہ کو ہٹا کر کے صرف اور صرف مواجہہ شریف کی طرف متوجہ ہو جائے۔ جہاں آواز پست ہو، اور نظریں ادب سے جھکی جا رہی ہوں اور زبان سے درود و سلام کا ورد جاری ہو۔
مگر بدقسمتی سے حالات یہ ہیں کہ باب السلام سے مواجہہ شریف کی طرف قدم اٹھاتے ہی لوگوں کے موبائل فون کھل جاتے ہیں۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں موجود افراد کو لائیو وڈیو کوریج کے ذریعے روضہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم کی "زیارت کے شرف" سے مستفید کرنے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ مگر قابل صد افسوس امر یہ ہے کہ اکثریت اس دوران یہ بھول ہی جاتی ہے کہ یہاں پہنچ کر ان کو اپنی تمام تر توجہات کو ادھر ادھر سے کاٹ کر محض رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف مرکوز کرنا تھا اور انتہائی ادب و احترام کے ساتھ درو و سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنی تھی۔
بے خیالی، بے توجہی اور بے ادبی سے بھرپور یہ "حاضری" معلوم نہیں ان "عشاق" کے لیے کیوں کر مفید ہو سکتی ہے اور کس حد تک نقصان دہ اور ان کے سابقہ اعمال صالحہ کو کس سرعت کے ساتھ غارت کر دینے والی ہو سکتی ہے، شاید اس طرف کبھی کسی نے سوچا بھی نہ ہو۔۔۔۔۔۔!!!

✍️ زاہد محمود - 19 جون 2024

*احتجاج احتجاج*چوتھی جماعت کی اردو کی کتاب میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق کئیے گئے سوال کے جواب ک...
07/06/2024

*احتجاج احتجاج*

چوتھی جماعت کی اردو کی کتاب میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق کئیے گئے سوال کے جواب کے آپشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ جو صحیح آپشن تھا "مسلمان" اسے ذکر ہی نہی کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر ذکر ہوتا بھی تب بھی ایک جلیل القدر صحابی کے متعلق اسطرح کا سوال کرنا ہی گست+اخی ہے حکومت فی الفور تحقیقات کرے اور مجرموں کو سزا دے کر نوکریوں سے فارغ کرے۔۔۔۔۔۔۔

 تمام ہی والدین کو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے۔ تاھم میری والدہ کہتی ہیں کہ اولاد سے محبت کس کو نہیں ہوتی مگر جو خوشی اول...
06/05/2024



تمام ہی والدین کو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے۔ تاھم میری والدہ کہتی ہیں کہ اولاد سے محبت کس کو نہیں ہوتی مگر جو خوشی اولاد کی اولاد کو دیکھ کر ہوتی ہے اس کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں ہوتا۔
اول اول جب ماؤں کی گود اولاد کی نعمت سے ہری ہوتی ہے تو آہستہ آہستہ ان کی ذاتی خواہشات دم توڑنے لگتی ہیں اور ہر وقت بچوں کے مستقبل سے متعلق خیالات ان کے دل و دماغ پر حاوی ہوتے جاتے ہیں۔ اولاد پڑھ لکھ کر بڑی ہو جائے، با روزگار ہو کر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے اور اب اس کے بعد بیٹا ہے تو سر پر سہرا سجا لے اور اگر بیٹی ہے تو اس کے ہاتھ رنگ حنا سے سج جائیں۔
اگلے مرحلے میں انہی ماؤں کو دادی یا نانی بننے کی بے حد جلدی ہوتی ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے جلد ایسا نہ ہو پائے تو ان کی بے قراری دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ یہ بے قراری انہیں رب تعالٰی کے حضور مناجات پر مجبور کرتی یا وہ مستند ڈاکٹروں سے رجوع کرتے نظر آتے مگر مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ کئی ایسی ماوں کی بے قراری انہیں بعض اوقات بدکردار عاملوں یا جعلی تعویذ فروشوں کے پاس لے جاتی ہے۔ جس سے مسائل کم ہونے کی بجائے الجھتے نظر آتے ہیں یا پھر گھروں میں بے سکونی پروان چڑھنے لگتی ہے۔
خود مجھے بھی شادی کے آٹھ سال کے بعد جا کر پہلی اولاد کی دولت نصیب ہوئی مگر الحمد للّٰہ، اللّٰہ تعالٰی نے ادھر ادھر بھٹکنے سے ہمیں بے حد محفوظ رکھا۔ نہ تو مال خور عاملوں کے در پر چکر لگانے کی نوبت آئی اور نہ ہی جعلی تعویز فروشوں کے ہاتھوں ذلت اٹھانی پڑی۔
تاھم جب اللّٰہ تعالٰی نے ہمیں اولاد کی نعمت سے مالامال کیا تو اس وقت تک میرے والد صاحب (بچوں کے دادا ابو) اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ البتہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں جس بے تابی سے اپنے پوتوں اور پوتیوں کا انتظار کیا تھا آج میرے بچے بھی اسی بے تابی سے اپنے دادا کو ملنے کی باتیں کرتے ہیں۔
گزشتہ کل جب چھوٹے بیٹے کے ہمراہ قبرستان کے قریب سے گزر ہوا تو اس نے فرمائش کی کہ دادا ابو کہ قبر پر ہر صورت جانا ہے۔ میرا خود بھی کبھی کبھار قبرستان کا چکر لگتا رہتا ہے مگر بچوں کی طرف سے قبرستان جانے اور دادا ابو کی قبر پر حاضری کی معصوم اور مبارک خواہش میرے دل کے نہاں خانوں میں خوشی کے چراغ روشن کر دیتی ہے۔
اس بار جب محمد عتبان حیدر اپنے دادا جی کی قبر پر حاضر ہوا تو بڑا ہی خوش تھا۔ اتنا خوش کہ جیسے اس نے دادا جان سے ملاقات ہی کر لی ہو۔ جتنی دیر تک قبرستان میں ہم موجود رہے محمد عتبان حیدر اپنے دادا جان اور ان کی قبر کے دائیں بائیں موجود دیگر قبروں سے متعلق تفصیلات جاننے کے لیے بڑا پرجوش رہا۔
قبرستان سے واپس ہونے سے قبل میں نے بیٹے سے کہا کہ بیٹا جی دادا ابو کے لیے دعا نہیں کرو گے۔ محمد عتبان حیدر نے میری بات سنتے ہی اپنے ننھے اور معصوم ہاتھ اٹھا کر اپنے لبوں کو ہلانا شروع کر دیا۔ اس نے اپنے دادا کے لیے یقیناً کوئی خیر ہی مانگی ہوگی اور خیر بھی اس رب سے جس کے پاس دنیا و آخرت کی خیروں کے خزانے بھرے پڑے ہیں۔ بدلے میں اس کریم رب نے ان ننھے ہاتھوں کے اٹھنے اور معصوم لبوں کے ہلنے پر کیا کچھ عنائت کیا ہوگا، یہ ہمارے خیال و گمان سے بھی بہت زیادہ ہے۔
اللّٰہ تعالٰی تمام اہل ایمان کی مغفرت فرمائے اور ہم زندوں کو مرنے سے قبل مرنے کی توفیق عنایت کیے رکھے 🤲🤲🤲۔

✍️ زاہد محمود - 06 مئی 2024

27/04/2024

چکڑالہ میں شدید بارش

یا اللّٰہ رحم 🤲🤲🤲

03/10/2023

Address

Danda Shah Bilawal
48230

Opening Hours

Monday 08:00 - 18:00
Tuesday 08:00 - 18:00
Wednesday 08:00 - 18:00
Thursday 08:00 - 18:00
Friday 08:00 - 18:00
Saturday 08:00 - 18:00
Sunday 08:00 - 17:00

Telephone

+923233439305

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Moazzam Garments and cosmetics Danda Shah Bilawal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Moazzam Garments and cosmetics Danda Shah Bilawal:

Shortcuts

Share