قطرة QATRA

قطرة QATRA improve Reading Power

•  Fabric: Shamoz Silk•  Pattern: Embroidered•  Available Sizes: Medium•  Number Of Pieces: 3 Pcs•  Color: Blue•  Packag...
07/04/2026

• Fabric: Shamoz Silk
• Pattern: Embroidered
• Available Sizes: Medium
• Number Of Pieces: 3 Pcs
• Color: Blue
• Package Includes: 1 x Maxi, 1 x Trouser, 1 x Dupatta
• Flare Length: 100 Inches
• Shirt Length: 53 Inches
• Shirt Chest: 21 Inches
• Trouser Length: 37 Inches
• Dupatta Dimensions: 2.5 Yards
• Stuff: Organza
• Note: There might be an error of 1-3 cm due to manual measurement, and slight color differences may occur as a result of varying lighting and monitor effects.
• Product Code: MZ77420073NRNACN

•  Fabric: Shamoz Silk•  Pattern: Embroidered•  Neck Type: U-Neck•  Shirt Pattern: Embroidered•  Available Sizes: Standa...
07/04/2026

• Fabric: Shamoz Silk
• Pattern: Embroidered
• Neck Type: U-Neck
• Shirt Pattern: Embroidered
• Available Sizes: Standard Size
• Number Of Pieces: 2 Pcs
• Package Includes: 1 x Maxi, 1 x Jacket
• Shirt Length: 52 Inches
• Shirt Chest: 20 Inches
• Shirt Shoulder: 15 Inches
• Arm Length: 11 Inches
• Color: Blue
• HeavyEmbroidery???
• Size Mesurement
• Chest Size 20
• Koti Length 19
• Maxi Length 52
• Shamos Silk
• Note: There might be an error of 1-3 cm due to manual measurement, and slight color differences may occur as a result of varying lighting and monitor effects.
• Product Code: MZ2186200037MBCN

نفسیاتی اعتبار سے بات کی جائے تو انسان کے لیے ذندہ رہنے کی سب سے بڑی موٹیویشن اسلام ہے۔ ہم جب اپنے ذہنی امراض میں مبتلا ...
03/11/2025

نفسیاتی اعتبار سے بات کی جائے تو انسان کے لیے ذندہ رہنے کی سب سے بڑی موٹیویشن اسلام ہے۔ ہم جب اپنے ذہنی امراض میں مبتلا مریضوں سے خودکشی نہ کرنے کی وجہ پوچھتے ہیں تو ٪99 لوگ کہتے ہیں کہ مذہب اجازت نہیں دیتا یا اللّہ پر بھروسا ہے اللّہ سے امید ہے۔ مزہب نا صرف انہیں یہ حوصلہ دیتا ہے کہ آنے والا وقت موجودہ وقت سے بہتر ہوگا بلکہ موجودہ وقت کو بھی انگنت نعمتوں کا احساس دلا کر باعث شکر بنا دیتا ہے۔ جتنا مزہب سے رشتہ مضبوط ہوگا اتنا ہی انسان اپنے آپکو اس حرام موت سے بچا سکتا ہے۔

ڈاکٹر ارتضاء رحمان ✍🏼

نوٹ: خودکشی کی طرف جانے سے روکنے کے لیے مذہب سے تعلق کے ساتھ ساتھ ذہنی علاج کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ ذہنی بیماریاں مذہبی لوگوں میں بھی ہو سکتی ہیں جن کا ماہر نفسیات سے علاج کروانا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ ڈیپریشن کے علاؤہ بھی کئی ذہنی بیماریاں ہیں جس میں انسان اپنی جان لے سکتا ہے

https://www.facebook.com/share/1J4ceiuEx5/

13/09/2024

بیٹا یا بیٹی؟؟
ایک حاملہ خاتون نے اپنے شوہر سے پوچھا ! ہم اگلے دو مہینوں میں ماں باپ بننے والے ہیں،
بولی اگر بیٹا ہوا، تو کیا منصوبہ ہوگا؟

شوہر نے جواب دیا ! میں اس کو تمام روزمرہ زندگی کی روایات سکھاؤں گا، کھیل، ریاضی، لوگوں کی عزت اور وغیرہ وغیرہ۔

خاتون نے پھر پوچھا:-
اگر بیٹی ہوئی تو؟

شوہر نے جواب دیا:-
میں اسے کچھ نہیں سکھاؤں گا، بلکہ میں اس سے خود سیکھوں گا۔

میں غیرمشروط محبت سیکھوں گا، میری بیٹی یہ کوشش کرے گی کہ وہ میری پرورش اپنے ایک مخصوص زاویہ نگاہ سے کرے۔

بالوں کی کنگھی کرنے سے لیکر ڈریسنگ تک،

ابتداءِ گفتگو سے لیکر انتہاءِ گفتگو تک،

نیز کہ وہ میرے ہر کام کو اپنی زاویہ نظر سے تربیت کرے گی۔

وہ میرے لیے دوسروں سے لڑے گی، مباحثہ کرے گی، اس کی خوشی اور غم میری طبیعت پہ منحصر ہوں گے۔

خاتون نے پھر پوچھا !
کیا بیٹا یہ سب کچھ نہیں سکھائے گا آپ کو؟

شوہر نے جواب دیا !
بیٹے میں یہ ساری خصوصیات ڈالی جاتی ہے، لیکن بیٹی ان خصوصیات کیساتھ پیدا ہوتی ہے۔

خاتون نے پوچھا !
لیکن بیٹی تو ہمارے ساتھ ہمیشہ نہیں رہے گی؟

شوہر نے جواب دیا !
بیٹی ہمارے ساتھ جسمانی طور پر نہیں رہے گی، لیکن روحانی طور پروہ ہر لمحہ ہمارے ساتھ ہوگی۔

یہ بات کہہ کر شوہر نے اپنے مکالمے کو ختم کیا کہ بیٹی کے ساتھ بندھن ختم نہیں ہوتا، لیکن بیٹا زندگی کے کسی بھی موڑ پہ ہمیں چھوڑ سکتا ہے۔

🥺✨

13/09/2024

پڑھنے کے بعد مزہ نہ آیاپھر کہنا!!!
ایک ائیرلائن میں *ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﻓﻼﺋﯿﭧ میں سوﺍﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺎ،*
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﺑﻨﺪ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺮﻡ ﺟﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻼﯾﺎ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺑﺰﺭﮒ ﺗﮭﯿﮟ، جبکہ
ﻋﻤﺮ ﺳﺎﭨﮫ ﺍﻭﺭ ﺳﺘﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮨﻮﮔﯽ ﻭﮦ ﺷﮑﻞ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﯽ ﻟﮑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮫ ﺩﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ،
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ
ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟
”ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻋﺮﺑﯽ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ“
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺍُﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ،
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎ،
ﻣﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺟﮭﻼ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ۔
*” ﺗﻢ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮨﻮ“*
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺮﻡ ﺟﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ”ﺟﯽ جی ﺑﺎﻟﮑﻞ“
ﻭﮦ ﺣﻘﯿﻘﺘﺎً ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ،
ﻓﻼﺋﯿﭧ ﻟﻤﺒﯽ ﺗﮭﯽ،
ﭼﻨﺎنچہ ﮨﻢ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﮔﻔﺘﮕﻮﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ،
ﭘﺘﮧﭼﻼ کہ *ﺟﯿﻨﺎ* ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮨﯿﮟ،
ﻭﮦ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﮐﻮ *” ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺗﻨﺎﺯﻋﮯ“* ﭘﮍﮬﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ،
ﭼﻨﺎنچہ ﻭﮦ *ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﺸﻤﯿﺮ* ﺳﮯ بھی ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﯿﮟ،
ﻭﮦ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺗﻤﺎ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﺗﮭﯿﮟ،
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟
”ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﮯ“
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔
”ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﯽ ﺍٓﭨﻮﺑﺎﺋﯿﻮ ﮔﺮﺍﻓﯽ(سوانعمری) ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ“
*ﺟﯿﻨﺎ* ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ،
ﭘﻮﭖ ﮔﺮﯾﮕﻮﺭﯼ ﺍﻭﻝ ﻧﮯ،
950ﺀ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ،
ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮦ؟
ﮨﻮﺱ، ﺑﺴﯿﺎﺭ ﺧﻮﺭﯼ، ﻻﻟﭻ، ﮐﺎﮨﻠﯽ، ﺷﺪﯾﺪ ﻏﺼﮧ، ﺣﺴﺪ ﺍﻭﺭﺗﮑﺒﺮ ﮨﻼﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎ ﻟﮯ،
ﺗﻮ ﯾﮧ ﺷﺎندﺍﺭ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﮨﮯ،
ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺟﯽ ﻧﮯ ﭘﻮﭖ ﮔﺮﯾﮕﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ 1925ﺀ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ،
ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ؟
ﺟﺐ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺍﻥ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ،
ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ،
ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺟﯽ ﮐﮯ ﺑﻘﻮﻝ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻭﻟﺖ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﺿﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻋﻠﻢ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﺍﺧﻼﻗﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ،
ﯾﮧ ﺳﺎﺕ ﺍﺻﻮﻝ ﺑﮭﺎﺭﺕ
ﮐﮯﻟﯿﮯﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﺎ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺍﯾﺠﻨﮉﺍ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮭﭙﮑﯽ ﺩﯼ۔
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟
”ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺍﺻﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ“
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔
”ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﭘﺮﯾﮑﭩﯿﮑل ﺑﺎﺍﺻﻮﻝ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ"
ﻭﮦ ﻓﺮﻣﻮﺩﺍﺕ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ،
ﭼﻨﺎنچہ
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮﯼ ﺍﯾﺠﻨﮉﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ،
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ؟
ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ ﺗﮭﺎ،
ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﻓﻼﺳﻔﺮﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﭘﺮﯾﮑﭩﯿﮑﻞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ،
ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮯ بجاۓ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ،
ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ،
ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﺳﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ؟
ﻣﺜﻼً ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ،
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌﺍ،
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻗﺮﺑﺎﺀ ﭘﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ،
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺭﺷﻮﺕ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻟﯽ،
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺭﺟﺤﺎﻧﺎﺕ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺋﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ،
( ﻭﮦ ﺳﻨﯽ ﺗﮭﮯ، ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺗﮭﮯ، ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ، ﻗﺎﺋﺪ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎﻥ ﺧﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯼ)
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻭﻋﺪﮮ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ،
ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌﺍ،
ﭘﺮﻭﭨﻮﮐﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ،
ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺭﻗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺋﯽ،
ﭨﯿﮑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﺎﯾﺎ،
ﺍٓﻣﺪﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﯽ،
ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ،
ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺣﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ،
ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯿﮟ ﻭﯾﻞ ﮈﻥ ﺍٓﭖ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﮩﺖ ﺷﺎندﺍﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ،
ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﻧﺴﭙﺎﺋﺮ ﮨﻮﮞ۔
ﻭﮦ ﺭﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟
”ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍٓﭖ ﺳﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﻣﺎﺋﯿﻨﮉ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ“
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔
”ﻧﮩﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮞ“
ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟
”ﮐﯿﺎ ﺍٓﭖ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ“
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ؟
” ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ“
وﮦ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟
”ﺍٓﭖ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﺍٓﭖ ﻣﯿﮟ
ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ“
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﻏﯿﺮ ﻣﺘﻮﻗﻊ ﺗﮭﺎ،
ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ،
ﻭﮦ بھانپ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯿﮟ۔
”ﺍٓﭖ ﯾﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮟ ﺍٓﭖ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ۔
ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻗﻮﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺎﺋﺪ ﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ“
ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ،
ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﭘﺴﯿﻨﮧ ﺍٓ ﮔﯿﺎ،
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟
ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ ﮨﻮﮞ،
ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﭙﺎﺋﺮ ﮨﻮﮞ،
ﻣﯿﮟ ﺍٓﺩﮬﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ،
ﺍٓﭖ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺩﻭ ﻋﻤﻠﯽ ‏(ﻣﻨﺎﻓﻘﺖ) ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ،
ﺍٓﭖ ﻟﻮﮒ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﯿﺮﻭ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻠﻔﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺎﺑﮧؓ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ،
ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﯽ ﺑﮭﯽ ”ﺍﮈﺍﭘﭧ“ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ،
ﺍٓﭖ ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ۔
ﺍٓﭖ ﻟﻮﮒ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺟﯿﺴﯽ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺯ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ،
ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﻮ ﻧﻮﭦ ﭘﺮ ﭼﮭﺎﭖ ﺩﯾﺎ،
ﺍٓﭖ ﮨﺮ ﻓﻮﺭﻡ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﻟﮍﻧﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﻥ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ،
ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﭼﻨﺎنچہ
ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮨﮯ؟
ﺍٓﭖ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﻼﻡ ﭘﮭﯿﻼﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ؐ ﺟﯿﺴﯽ ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﮟ،
ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺍﮔﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺗﻮ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ،
ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻣﻠﮏ ﯾﻮﺭﭖ ﺳﮯ ﺍٓﮔﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﻭﮦ ﺭﮐﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺮﻡ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺮ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ،
ﯾﮧ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺍٓﭖ ﻭﮦ ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﮔﻨﻮﺍﺋﯿﮟ،
ﺟﻮ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯿﮟ،
ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﺍٓﭖ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ،
ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﮐﻮ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﻮﮞ ﮔﯽ،
ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﮭﻠﮏ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ،
ﺍٓﭖ ﺍﮔﺮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍٓﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ،
ﻭﺭﻧﮧ ﺍٓﭖ (ﻣﻨﺎﻓﻖ) ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﭼﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔*

11/09/2024

" زلزلے آنے کے اسباب "

احادیث کی روشنی میں بلائیں اُترنے اور زلزلے آنے کے اسباب ذکر کیے جاتے ہیں:

1. خیانت : "إِذَا اتُّخِذَ الْفَیْئُ دِوَلًا" جب مالِ غنیمت کو اپنی ذاتی دولت سمجھا جانے لگے۔
2. " وَالْأمَانَة مَغْنَمًا" امانت کو مالِ غنیمت سمجھا جانے لگے، یعنی: امانت کو ادا کرنے کی بجائے خود استعمال کر لیا جائے۔
3. عبادت میں حیلے بہانے: "وَالزَّکَاۃُ مَغْرَمًا" زکات کو تاوان سمجھا جانے لگے، یعنی: خوشی سے دینے کی بجائے ناگواری سے دی جائے۔
4. "وَتُعُلِّمَ لِغَیْرِ الدِّینِ"علم‘ دین کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے لیے حاصل کیا جانے لگے۔
5. قطع رحمی وقطع تعلقی: " وَاَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأتَه"آدمی اپنی بیوی کی فرماں برداری کرنے لگے۔

6."وَعَقَّ اُمَّه"اور اپنی ماں کی نافرمانی کرنے لگے۔

7."وَاَدْنٰی صَدِیْقَه"،دوست کو قریب کرنے لگے۔

8."وَاَقْصٰی اَبَاہُ"اور باپ کو دور کرنے لگے۔
9. شعائر اللہ کی توہین:" وَظَهرَتِ الْاَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ" مسجدوں میں کھلم کھلا شور ہونے لگے۔
10. عہدوں اور مناصب میں بے دینی : "وَسَادَ الْقَبِیْلَة فَاسِقُهم"قوم کی سرداری فاسق کرنے لگے۔
11. " وَکَانَ زَعِیمُ الْقَوْمِ اَرْذَلَهم" قوم کا سربراہ‘ قوم کا سب سے ذلیل آدمی بن جائے۔
12. "وَاُکْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَة شَرِّه" آدمی کا اکرام اس کے شر سے بچنے کے لیے کیا جانے لگے۔
13. بے حیائی، فحاشی وعریانی: "وَظَهرَتِ الْقَیْنَاتُ وَالْمَـعَازِفُ"گانے والی عورتوں اور ساز وباجے کا رواج ہونے لگے۔
14. "وَشُرِبَتِ الْخَمْرُ"شراب کھلے عام پی جانے لگے۔
15. عجب وعدمِ اعتماد :" وَلَعَنَ آخِرُ هذِه الْأمَّة أوَّلَها" اُمت کے بعد والے لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کو برا بھلا کہنے لگیں۔

"فَارْتَقِبُوا عِنْدَ ذٰلِك"(یعنی: جب یہ پندرہ کام ہونے لگ جائیں تو) اُس وقت انتظار کرو، "رِیحًا حَمْرَاءَ" سرخ آندھی کا، "وَزَلْزَلَة" زلزلے کا، "وَخَسْفًا" زمین میں دھنس جانے کا، "وَمَسْخًا" آدمیوں کی صورت بگڑ جانے کا، "وَقَذْفًا"اور آسمان سے پتھروں کے برسنے کا،"وَآیَاتٍ تَتَابَعُ کَنِظَامٍ قُطِعَ سِلْکُه فَتَتَابَعَ"، اور ایسے ہی مسلسل آفات اور بلاؤں کے آنے کا انتظار کرو جس طرح کسی ہار کا دھاگا ٹوٹ جائے اور اس کے موتی پے در پے جلدی جلدی گرنے لگیں۔

10/09/2024

🥀 _*ہمبستری کے مسائل قرآن و حدیث کی روشنی میں*_ 🥀

* بیوی سے ہمبستری کرنا بھی صدقہ/ثواب ہے
(مسلم:2329)
* میاں بیوی کسی بھی طریقے سے ہمبستری کر سکتے ہیں یعنی کوئ بھی s*x style/s*x position اپنا سکتے ہیں
(البقرہ:223/بخاری:4528/ترمذی:2980)
* حیض کے دوران ہمبستری کرنا حرام ہے
(البقرہ:222)
* حیض کے دوران غلطی سے ہمبستری کر لینے سے اگر حیض کا خون سرخ ہو تو ایک دینار اور خون زرد ہو تو نصف دینار صدقہ کر دینا چاہیۓ
(ترمذی:137)
ایک دینار ساڑھے چار ماشے یعنی تقریبا چار گرام کا ہوتا ہے
* حیض کے دوران بیوی سے بوس و کنار ساتھ لیٹنا اور ساتھ کھانا پینا وغیرہ جائز ہے
(مسلم:694)
* نبیﷺ نے بیوی کی دبر (پچھلے سوراخ) میں ج**ع کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے
(ترمذی:1165 اور 2162)
* دخول سے دونوں پر غسل واجب ہوجاتا ہے چاہے انزال ہو یا نہ ہو
(بخاری:291/مسلم:783/ترمذی:111)
* ہمبستری کے فورأ بعد غسل کرنا واجب نہیں اگر سونے کا ارادہ ہو تو استنجا اور وضو کر کے سو سکتے ہیں
(مسلم:705/ترمذی:2924)
* دوسری یا تیسری بار ہمبستری کرنی ہو تو ہر بار درمیان میں غسل کرنا واجب نہیں استنجا اور وضو کافی ہے
(ترمذی:140,141)
* اگر کسی غیر عورت پر نظر پڑنے سے شہوت پیدا ہوجاۓ تو گھر جا کر اپنی بیوی سے ہمبستری کر لینی چاہیۓ
(مسلم:3407)
* بیوی سے عزل کرنا جائز ہے
(بخاری:2229)
عزل یہ ہے کہ جب آدمی کو انزال قریب ہو تو منی باہر گرا دے تاکہ بچہ پیدا نہ ہو. علماء نے عزل سے استدلال کر کے temporary family planning کے لیۓ condom کو جائز قرار دیا ہے
* حضرت ام سلیمؓ کا شیرخوار بچہ فوت ہو گیا ان کے شوہر گھر آے تو انہوں نے ان کو کھانا دیا رات کو ہمبستری کے بعد شوہر کو بتایا کہ اپنا بچہ فوت ہو گیا ہے نبیﷺ کو بتایا گیا تو آپﷺ نے برکت کی دعا دی
(مسلم:6322)
* جب آدمی بیوی کو اپنی خواہش پوری کرنے کے لیۓ بیوی کو بستر پر بلاۓ تو اسے فورأ آجانا چاہیۓ اگرچہ وہ تنور پر (روٹی بنا رہی) ہو یا
کسی سواری پر بیٹھی ہو
(ترمذی:1169/ابن ماجہ:1853)
* اگر شوہر کے بلانے سے بیوی بغیر کسی عذر کے نہ آے تو فرشتے ساری رات اس عورت پر لعنت بھیجتے ہیں
(مسلم:3541)
* خلوت یعنی ہمبستری کی باتیں دوستوں/سہیلیوں کو بتانا حرام ہے
(السلسلہ الصحیحہ البانی:46)
نوٹ:
یہ مسائل تحریر کرنے کی وجہ یہ کہ اکثر لوگ ان سے لا علم ہیں اور بے جاشرم کی وجہ سے علماء سے دریافت بھی نہیں کرتے
انصاری عورتیں نبیﷺ سے خود آ کر یہ مسائل دریافت کیا کرتی تھیں. اسی لیۓ اصول یے کہ
شرع میں کوئ شرم نہیں.

Copied....

07/09/2024

ایک روز کا ذکر ہے شہزادی گل صنوبر محل کے باغ میں جھولاجھول رہی تھی۔ اس کی دیکھ بھال کرنے والی کنیزیں بھی اس کے ساتھ ساتھ تھیں۔ ملکہ اوربادشاہ بھی وہیں تھے اور ایک تخت پربیٹھے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔

شہزادی کو باغ میں جھولا جھولنا بہت اچھا لگتا تھا وہ اپنی کنیزوں کے ساتھ روز شام کو یہاں آتی تھی۔ آج اس کے ساتھ ملکہ اور بادشاہ بھی آگئے تھے۔ شہزادی حسب معمول جھولا جھول رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر ایک نہایت خوب صورت پرندے پر پڑی۔ اس کا رنگ سنہری تھا اور سر پر ایک چھوٹا سا تاج بھی تھا۔ وہ درخت پر بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

اس کی خوب صورتی دیکھ کرشہزادی گل صنوبر دنگ رہ گئی اور جھولے سے اتر کر اس درخت کے نزدیک آگئی جس پر وہ خوب صورت پرندہ بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے پرندے سے کہا۔ ’’تم کتنے خوب صورت پرندے ہو۔ آؤ میرے پاس آؤ۔میں تمہیں کھٹی میٹھی رس بھری کھلاؤں گی۔‘‘

اس کی بات سن کر پرندے نے کہا۔ ’’میرا دل تو چاہ رہا ہے کہ تم جیسی اچھی اور خوش اخلاق لڑکی کے ساتھ کچھ دیر بیٹھ کر باتیں کروں اور کھٹی میٹھی رس بھریاں کھاؤں۔ مگر میں تو نگر نگر کی سیر کرنے کے لیے نکلا ہوں اس لیے چلتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنے پر پھڑپھڑآئے اور اڑ گیا۔

شہزادی صنوبر کو بہت حیرت ہوئی کہ وہ خوب صورت پرندہ انسانوں کی طرح باتیں کرتا تھا۔ وہ بھاگ کر بادشاہ کے پاس آئی اوربولی۔ ’’ابّا حضور۔ مجھے وہ بولنے والا پرندہ چاہیے۔ ابھی۔ اسی وقت۔‘‘

پہلے تو بادشاہ کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ شہزادی صنوبر کیا کہہ رہی ہے مگر جب کنیزوں نے بتایا کہ درخت پر ایک سنہری پرندہ آکر بیٹھا تھا اور انسانی زبان میں کچھ کہہ رہا تھا تو بادشاہ نے کہا۔ ’’بیٹی۔ میں نے کہانیوں میں تو سنا ہے کہ پرستان میں کچھ ایسے پرندے بھی ہوتے ہیں جو انسانوں کی طرح باتیں کرتے ہیں۔ وہ پرندہ پرستان سے ہی آیا ہوگا۔ ہوسکتا ہے وہ کل پھر آئے۔‘‘

اگلے روز شہزادی صنوبر انتظار ہی کرتی رہی مگر وہ پرندہ دوبارہ وہاں نہیں آیا۔ اس کی فکر میں شہزادی نے پورے دن نہ کچھ کھایااور نہ کچھ پیا۔ جب رات ہوئی تو وہ بالکل ہی نا امید ہوگئی اور ملکہ کے گلے لگ کر رونے لگی۔ ملکہ نے اسے مختلف طریقوں سے بہلانے کی کوشش کی مگر اس عجیب و غریب پرندے کے خیال کوشہزادی صنوبر کے دل سے نہ نکال سکی۔

اپنی چہیتی بیٹی کی اداسی دیکھ کر بادشاہ بھی پریشان ہوگیا تھا۔ اس نے بہت سارے کھلونے منگوا کر شہزادی گل صنوبر کو دیے مگراس نے ان کھلونوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ جب دوتین روز اسی طرح گزر گئے تو ملکہ اور بادشاہ کی تشویس میں اضافہ ہوگیا۔ شہزادی گل صنوبر ان چند دنوں میں نہایت کمزورہوگئی تھی۔ انھیں یہ ڈر تھا کہ وہ کہیں بیمار نہ پڑ جائے۔ بادشاہ کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اس نے سوچا کہ وہ شہزادی کے ساتھ پرستان جا کر اس پرندے کو تلاش کرکے اپنے ساتھ لائے تاکہ اسے پا کر وہ خوش ہوجائے۔

یہ بات اس نے جب ملکہ کو بتائی تووہ بولی۔ ’’اگر آپ اس سفر پر روانہ ہوئے تو حکومت کون چلائے گا۔اس پرندے کو تلاش کرتے کرتے نہ جانے کتنے دن لگ جائیں۔ اس دوران رعایا کی خبر گیری کون کرے گا۔ آپ ایسا کریں کہ یہ اعلان کروا دیں کہ جو بھی پرستان سے اس عجیب و غریب پرندے کو لے کر آئے گا اسے بہت سی اشرفیاں انعام میں دی جائیں گی۔‘‘

بادشاہ کو ملکہ کی یہ تجویز پسند آئی اور اس نے یہ اعلان کروادیا۔انعام کا سن کر بہت سے لوگ قسمت آزمانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ پرستان بہت دور تھا اور اس کا راستہ بھی پر خطر تھا۔ راستے میں بہت سے پہاڑ تھے، دریا تھے، جنگل تھے اور جنگلوں میں خونخوار درندے تھے۔

بہت سے لوگ اونچے اونچے پہاڑوں پر نہ چڑھ سکے، بعض دریا کو عبور نہ کر سکے۔ کچھ لوگ جنگل میں درندوں کو دیکھ کر ہمت ہار بیٹھے۔ غرض یہ کہ کوئی بھی پرستان سے اس پرندے کو نہ لے کر آ سکا۔

ایک روز دو نوجوان بادشاہ سے ملنے محل آئے اور بادشاہ سے پرستان جانے کی اجازت طلب کی تاکہ وہاں سے اس پرندے کو ڈھونڈکر لا سکیں۔ بادشاہ نے انھیں اجازت دے دی اور تاکید کی کہ وہ اس پرندے کو لے کر جلد سے جلد آنے کی کوشش کریں کیوں کہ شہزادی گل صنوبر کی حالت دن بہ دن بگڑتی جا رہی تھی۔

دونوں نوجوان اپنے اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر اس پر خطر سفرپر روانہ ہوگئے۔ ان میں سے ایک کا نام شہر یار تھا اور وہ ایک لکڑہارے کا بیٹا تھا۔ دوسرے نوجوان کا نام سلیم تھا اوراس کا باپ ریشمی کپڑوں کا تاجر تھا۔ سلیم چونکہ ایک دولت مند تاجر کا بیٹا تھااس لیے اس میں بہت غرور تھا۔ اس نے شہر یار سے کہا۔ ’’تم جا کر اپنے باپ کے ساتھ جنگل سے لکڑیاں کاٹو اور انھیں گدھے پر لادکر شہر میں بیچو۔ تم ان چکروں میں کہاں پڑ گئے ہو؟۔‘‘

شہر یار نے اس کی بات کا برا نہیں منایا۔ مسکرا کر بولا۔ ’’لکڑیاں تومیرے ابّا کاٹ لیں گے تم اس کی فکر چھوڑو۔ ہمارے بادشاہ سلامت اور ان کی ملکہ بہت اچھی ہیں۔ وہ دونوں اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کے اچھے سلوک کی وجہ سے ہمارے ملک میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں۔ اپنے بادشاہ سلامت کی وجہ سے ہم لوگ بہت خوش حال ہیں۔ اب ان پر وقت پڑا ہے تو ہمارابھی فرض ہے کہ ہم ان کی مدد کریں۔ مجھے انعام کا لالچ نہیں، میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ وہ پرندہ جلد سے جلد لا کر بادشاہ سلامت کے حوالے کردوں تاکہ ان کی بیٹی خوش ہوجائے اور ہمارے بادشاہ اورملکہ کی فکر دور ہو۔‘‘

وہ باتیں کرتے کرتے کافی دور نکل آئے تھے۔ اس وقت وہ ایک میدان میں تھے جس میں کہیں کہیں بڑے درخت بھی نظر آ رہے تھے۔ ایک درخت کے نیچے انہوں نے ایک بوڑھی عورت اور اس کے شوہر کو دیکھا۔ شہر یار اور سلیم کو آتا دیکھ کر بوڑھا شخص کھڑا ہوگیا اورانھیں رکنے کا اشارہ کیا۔

’’او بوڑھے شخص۔ تیرا دماغ خراب ہے جو ہمارا راستہ روک رہاہے؟۔‘‘ سلیم نے نہایت نہایت غصے سے کہا اور گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے جھک کر ایک ہاتھ سے دھکّا دے کر بوڑھے کو ایک طرف ہٹا دیااور گھوڑا بھگاتا ہوا آگے نکل گیا۔

بے چارہ بوڑھا زمین پر گر پڑا۔ اسے گرتا دیکھ کر اس کی بیوی چیخ چیخ کر دہائیاں دینے لگی اور اسے زمین سے اٹھانے کی کوشش کرنے لگی۔ یہ دیکھ کر شہر یار جلدی سے گھوڑے سے نیچے اترا،بوڑھے کو زمین پر سے اٹھایا اور بولا۔ ’’محترم بزرگ۔ آپ کو چوٹ تو نہیں آئ؟۔‘‘

بوڑھا کراہتا ہوا کھڑا ہوگیا اور بولا۔ ’’برا ہو اس بد بخت کا۔ مجھے پہلے سے پتہ ہوتا کہ وہ ایسا ہے تو میں کبھی اسے اپنی مدد کے لیے نہیں روکتا‘‘۔

’’اسے چھوڑئیے۔ مجھے بتایے میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں۔‘‘ شہریار نے نہایت نرمی سے کہا۔

’’بیٹا ہم صبح سے گھر جانے کے لیے نکلے ہوئے ہیں۔ میں اپنی بیوی کے ساتھ اپنی بہن کے گھر سے آ رہا ہوں۔ ہمارا گاؤں یہاں سے چندکوس کے فاصلے پر ہے۔ ہم بوڑھے ہیں۔ چل چل کر بری طرح تھک گئے ہیں۔ بھوک سے برا حال ہے۔ گھر پہنچیں تو کھانا کھائیں اورآرام کریں۔ تمھارے پاس گھوڑا موجود ہے۔ تمہاری مہربانی ہوگی اگرہمیں گاؤں تک پہنچا دو۔‘‘

بوڑھے کی بات سن کر شہر یار نے اپنا کھانا نکال کر ان دونوں کودیا۔ یہ کھانا اس کی ماں نے اس کے ساتھ کردیا تھا تاکہ سفر کے دوران اسے بھوک لگے تو وہ اسے کھا لے۔ جب وہ دونوں کھاناکھا چکے تو شہر یار نے دونوں کو گھوڑے پر سوار کرایا اور خودگھوڑے کی باگ پکڑ کر تیز تیز قدموں سے ان کے گاؤں کی سمت روانہ ہوگیا۔ دونوں میاں بیوی اسے دعائیں دے رہے تھے۔

شام ہوتے ہوتے وہ ایک گاؤں میں پہنچ گئے۔ اسی گاؤں میں ان بوڑھے میاں بیوی کا گھر تھا۔ گھر پہنچ کر بوڑھے اور اس کی بیوی نے بڑے اصرار سے شہر یار کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ اگلے روز تک ان کے گھر میں ہی ٹہرے کیوں کہ رات سر پر تھی اور رات کوسفر یوں بھی مناسب نہیں ہوتا۔شہر یار نے ان کی بات مان لی۔

رات کھانے کے بعد بوڑھے نے کہا۔ ’’اب نوجوان تم بتاؤ۔ کہاں سے آرہے ہو اور کہاں جارہے ہو۔‘‘

جواب میں شہر یار نے اسے پوری کہانی سنا دی اور بتایا کہ وہ بولنے والے پرندے کی تلاش میں پرستان جا رہا ہے تاکہ اُسے لے جا کر شہزادی گل صنوبر کے حوالے کر سکے۔

اس کی بات سن کر بوڑھا سوچ میں پڑ گیا۔ کچھ دیر بعد اس نے کہا۔ ’’پرستان میں کچھ ایسے نایاب پرندے بھی ہوتے ہیں جو انسانوں کی طرح باتیں کرتے ہیں مگر انھیں وہاں جا کر تلاش کرنا پڑے گا۔پرستان جانے کے دو راستے ہیں۔ ایک راستے پر خطرات بہت ہیں اور اس کا راستہ بھی بہت طویل ہے۔ دوسرا راستہ قریب کا راستہ ہے۔ اگر گھوڑا تیز رفتار ہو تو ایک گھنٹہ میں وہاں پہنچا جا سکتاہے۔ اس راستے پر کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔‘‘

اگلے روز شہر یار صبح سویرے بیدار ہو گیا۔ بوڑھے نے اُسے پرستان کا راستہ اچھی طرح سمجھا دیا تھا۔وہ روانہ ہونے لگا تو بوڑھے نے اپنے گھر کے پچھلے حصے میں لگے درختوں سے بہت سارے امرود توڑ کر ایک تھیلے میں رکھ کر اسے دئیے اور بولا۔ ’’پرستان کے پرندے امرود بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ یہ پھل پرستان میں نہیں ہوتا ہے اسی لیے ان کی تلاش میں وہ انسانوں کی دنیا میں آ جاتے ہیں۔ تم یہ امرود اپنے پاس رکھو۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی خوشبو وہاں کے پرندوں کو تمہاری طرف متوجہ کردے گی۔ ہوسکتاہے ان میں کوئی ایسا پرندہ بھی ہو جو انسانوں کی طرح باتیں کرتا ہو۔‘‘

شہر یار نے امرود لے کر اس کا شکریہ ادا کیا اور گھوڑے پر سوارہو کر وہاں سے روانہ ہوگیا۔جس راستے پر اس کا گھوڑا دوڑ رہا تھا وہ بہت صاف ستھرا اورہموار تھا۔ ایک لمبی پگڈنڈی تھی جس کے دونوں ا طراف میں ہری ہری گھاس تھی۔ کہیں کہیں پھولوں کے پودے بھی نظر آجاتے تھے۔اس راستے پر سفر کرتے ہوئے وہ بہت جلد پرستان پہنچ گیا۔

وہ پرستان میں داخل ہوا تو چاروں طرف بہت چہل پہل نظر آرہی تھی۔ حسین و جمیل پریاں خوب صورت اور رنگ برنگی لباس پہنے ادھرسے ادھر اڑتی پھر رہی تھیں۔ پریزاد بازاروں میں گھوم پھر رہے تھے اور مختلف اشیا کی خریداری میں مصروف تھے۔

شہر یار نے ایک میدان کے چاروں طرف بہت سارے پری زادوں کا جھمگٹادیکھا۔ وہ قریب گیا تو پتہ چلا کہ وہاں دو دیووں کی کشتی ہو رہی ہے اور یہ سب ان دیووں کی کشتی دیکھنے کے لیے جمع تھے۔ اس کابھی دل چاہا کہ دیووں کی کشتی دیکھے مگر اس نے وقت ضائع کرنامناسب نہ سمجھا اور بولتے پرندے کی تلاش میں چل پڑا۔ اس کی نظریں درختوں پر لگی ہوئی تھیں تاکہ اسے پرندے نظرآجائیں۔

چلتے چلتے وہ ایک باغ میں پہنچا۔ وہاں پر بہت سارے چھوٹے بڑے نہایت خوب صورت پرندے فضا میں اڑتے پھر رہے تھے۔ وہ سب اپنی سریلی آوازوں میں چہچہا رہے تھے مگر ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو انسانی زبان میں باتیں کر رہا ہو۔ شہریار کو مایوسی تو ہوئی مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے گھاس پربیٹھ کر کچھ امرود کی قاشیں اپنے سامنے ایک کپڑا بچھا کر رکھ دیں۔ امرودوں کی خوشبو سے جتنے بھی پرندے تھے وہ وہاں آگئے اوراپنی ننھی ننھی چونچوں سے انھیں کھانے لگے۔

’’اور بھئی پرندوں کیا حال ہے؟‘‘ اس نے کہا۔ مگر کسی نے بھی اس کی بات کا جواب نہیں دیا۔ شہر یار سمجھ گیا کہ ان پرندوں میں کوئی ایسا نہیں ہے جو انسانوں کی طرح بولتا ہو۔ امرود کی قاشیں ختم ہوگئیں تو وہ سب خوشی سے چہچہاتے ہوئے اڑ گئے۔

اچانک ایک سنہرے پروں والا پرندہ فضا سے اڑتا ہوا آیا اور شہر یارکے سامنے بیٹھ کر بولا۔ ’’افسوس مجھے آنے میں دیر ہوگئی ہے۔سارے امرود تو ختم ہوگئے ہیں۔‘‘

شہر یار اس سنہری پرندے کو انسانی زبان میں بولتا دیکھ کر خوشی سے باغ باغ ہوگیا۔ اس نے ایک بڑا سے پیلا پیلا، نرم گدریلا امرودنکال کر اس پرندے کے سامنے رکھا اور بڑے پیار سے بولا۔ ’’پیارے پرندے۔ فکر نہ کرو۔ میرے پاس اور بھی امرود موجود ہیں۔‘‘ یہ سن کر پرندہ پھدکتا ہوئے اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور مزے سے اس کا دیا ہوا امرود کھانے لگا۔

’’کیا تم میرے ساتھ انسانوں کی دنیا میں چلنا پسند کرو گے؟۔‘‘ آخر شہریار نے اپنے مطلب کی بات کہہ ہی دی۔

’’کیوں نہیں۔‘‘ پرندے نے جلدی سے کہا۔ ’’مجھے وہاں رہنا بہت اچھالگتا ہے۔ وہاں امروددوں کے بھی بہت سے باغ ہیں۔ مجھے امرودکھانا بہت پسند ہے۔ اگر میں تمھارے ساتھ چلوں تو تم مجھے پنجرے میں تو نہیں رکھو گے۔ مجھے پنجرے میں بند ہو کر رہنا بالکل اچھا نہیں لگتا۔‘‘

’’میں تمہاری تلاش میں بہت دور کا سفر طے کرکے آرہا ہوں۔ ہمارے بادشاہ کی بیٹی تمہیں یاد کرکر کے ہلکان ہوگئی ہے۔ اس نے کھانا پینا بھی چھوڑ دیا ہے۔ میں تمہیں لے جا کر اسی شہزادی کے حوالے کردوں گا۔ وہاں محل میں تم بہت آرام سے رہو گے۔ میں اسے بتا دوں گا کہ وہ تمہیں پنجرے میں بند نہ کرے۔‘‘ شہر یار نے کہا۔

’’میں کچھ روز پہلے شہزادی سے مل چکا ہوں۔ میں شہر شہرگھومنے پھرنے نکلا تھا اور اتفاق سے محل کے باغ میں میری شہزادی سے ملاقات ہوگئی تھی۔ وہ ایک بہت اچھی اور خوش اخلاق لڑکی ہے۔ میں بخوشی اس کے پاس رہنے کو تیار ہوں۔‘‘ پرندے نے کہا اور اڑ کر شہر یار کے ہاتھ پر بیٹھ گیا۔

شہر یار کا مقصد پورا ہوگیا تھا لہٰذا وہ واپسی کے سفر پر روانہ ہوگیا۔ پرندہ کافی اونچائی پر اس کے گھوڑے کے ساتھ ساتھ اڑ رہا تھا۔ابھی وہ اپنے ملک کی حدود میں داخل ہوا ہی تھا کہ اس نے سلیم کودور سے آتے ہوئے دیکھا۔ اس کی حالت انتہائی خراب تھی۔ اس کاجسم دھول مٹی سے اٹا ہوا تھا اور کپڑے بھی بہت بوسیدہ ہوگئے تھے۔ اس کا گھوڑا بھی نہایت کمزور ہوگیا تھا۔ شہر یار سمجھ گیاکہ پرستان جانے کے لیے سلیم اس پر خطر راستے پر نکل گیا ہوگاجس کے بارے میں بوڑھے نے اسے بتایا تھا۔

سلیم نے بھی اسے دیکھ لیا تھا۔ وہ اس کے قریب آیا۔ دونوں ایک دوسرے سے ملے۔ شہر یار کے پوچھنے پر سلیم نے بتایا۔ ’’مجھ سے بڑی غلطی ہوئی جو میں انعام کے لالچ میں اس سفر پر نکل کھڑا ہوا۔پرستان کے راستے میں بڑے خطرات تھے۔ میں بڑی مشکل سے اپنی جان بچا کر بھاگا ہوں۔‘‘

شہر یار نے اسے اپنی کہانی سنائی اور بتایا ’’کہ اس نے ان بوڑھے میاں بیوی کو اپنے گھوڑے پر بٹھا کر ان کے گاؤں پہنچایا تھا۔بوڑھے نے خوش ہو کر اس کی مدد کی جس کی وجہ سے وہ بولنے والا پرندہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔‘‘

’’وہ پرندہ تو تمھارے پاس نظر نہیں آرہا۔ کہاں ہے وہ؟‘‘ سلیم نے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔

شہر یار نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اوپر اشارہ کیا۔ سلیم نے دیکھا کہ ایک خوب صورت سنہری پرندہ ان کے سروں پر منڈلا رہاہے۔ انھیں باتیں کرتا دیکھ کر پرندے نے چلا کر کہا۔ ’’شہر یار۔جلدی کرو۔ ایسا نہ ہو کہ رات ہوجائے۔‘‘ شہر یار نے سلیم کو خدا حافظ کہا اور اپنے گھوڑے کو چلنے کااشارہ کیا۔

سلیم نے اسے جاتا دیکھا تو بولا۔ ’’اگر میں ان بوڑھے میاں بیوی کے ساتھ برا سلوک نہیں کرتا تو مجھے بھی بولتا پرندہ مل جاتا۔ شہزادی کے پاس ایسے دو پرندے ہوجاتے۔ میں نے اپنی بداخلاقی کی وجہ سے انعام حاصل کرنے کا موقع ضائع کردیا ہے۔مجھے اپنے برے سلوک اور غرور کی سزا مل گئی ہے۔‘‘ یہ کہہ کروہ بھی اپنی راہ ہولیا۔

شہر یار محل پہنچا تو سنہری پرندے کو دیکھ کر شہزادی گل صنوبرخوش ہوگئی۔ پرندہ بھی بہت جلد اس سے مانوس ہوگیا تھا۔ شہزادی جہاں بھی جاتی وہ اس کے پیچھے پیچھے ہوتا۔ شہر یار کے کہنے پرشہزادی گل صنوبر نے وعدہ کر لیا تھا کہ وہ پرندے کو پنجرے میں نہیں رکھے گی۔

شہزادی گل صنوبر کو خوش دیکھ کر بادشاہ اور ملکہ نے بھی سکھ کا سانس لیا۔ بادشاہ نے شہر یار کی ہمت اور بہادری کی بہت تعریف کی۔ رات ہو گئی تھی اس لیے بادشاہ نے شہر یار کو گھر نہیں جانے دیا اور اسے شاہی مہمان خانے میں ٹھہرانے کا حکم دیا۔

اگلے روز حسب وعدہ بادشاہ نے شہر یار کو بہت ساری اشرفیاں انعام میں دیں۔ شہر یار نے اس کا بہت شکریہ ادا کیا اور اشرفیوں کاتھیلا اپنے گھوڑے پر رکھ کر محل سے رخصت ہونے لگا۔ شہزادی گل صنوبر اپنے سنہری پرندے کے ساتھ اسے خدا حافظ کہنے آئی۔

شہر یار محل سے نکلا تو اس کا رخ اپنے گھر کی جانب نہیں تھا۔ وہ بڑی تیزی سے اپنا گھوڑا دوڑاتا ہوا اس بوڑھے کے گاؤں کی جانب جا رہا تھا جس کی مدد کی وجہ سے وہ بولنے والا پرندہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔ وہ ان کے گاؤں میں پہنچا تو بے چارہ بوڑھا بیمار پڑا تھا اور اس کی بیوی اس کی دیکھ بھال میں لگی ہوئی تھی۔ بیماری کی وجہ سے بوڑھا اپنے کام پر بھی نہیں جا سکا تھا۔ایسے میں شہر یار کی اس روز کی دی ہوئی رقم ان کے بہت کام آئی تھی۔

شہر یار کو دیکھ کر دونوں میاں بیوی خوش ہوگئے۔ شہر یار نے اپنی کامیابی کی خبر انھیں سنائی۔ پھر اس نے بادشاہ کے دیے ہوئے انعام میں سے آدھی اشرفیاں بوڑھے کے حوالے کیں اور بولا۔ ’’آدھے انعام کے آپ بھی حق دار ہیں۔ اگر آپ میری مدد نہ کرتے تو مجھے وہ پرندہ کبھی بھی نہ ملتا۔‘‘

اتنی بہت سی اشرفیاں پا کر وہ دونوں خوش ہوگئے اور شہر یار کودعائیں دینے لگے۔

اس کے بعد شہر یار اپنے گھر آیا۔ اس نے پوری کہانی اپنے ماں باپ کو سنائی اور بادشاہ سے ملا ہوا آدھا انعام ان کے حوالے کیا۔ اس کے ماں باپ تو خوشی سے پھولا نہیں سما رہے تھے۔ وہ اس بات پر بھی بہت خوش تھے کہ ان کے بیٹے نے اپنے محسن کو فراموش نہیں کیا تھا اور انعام کا آدھا حصہ اسے بھی دیا تھا۔

انعام میں ملی ہوئی اشرفیوں سے شہر یار نے اپنا کاروبار کر لیا۔ اس کے باپ نے بھی جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر فروخت کرنا چھوڑ دیں اور کاروبار میں اپنے بیٹے کا ہاتھ بٹانے لگا۔ تھوڑے ہی دنوں میں ان کا کاروبار خوب چمک اٹھا۔ یوں ایک لکڑ ہارے کا بیٹا کمزورانسانوں سے محبت اور ان کی مدد کرنے کے صلے میں اپنے ماں باپ کے ساتھ ایک خوش حال زندگی گزارنے لگا۔
میں جانتا ہوں یہ کہانی آپ کو بہت پسند آئ ہوگی پلیز ایک اچھا سا کمنٹ ضرور چھوڑ دیا کریں اِس سے ہمیں کوئ پیسے وغیرہ نہیں ملتے بسس ایک خوشی کا سا احساس ہوتا ہے اللہ آپ سب کو ہنستا بستا رکھے

(ختم شد)

07/09/2024

ایک ترک مسلمان مسجد نبوی شریف کے احاطے میں کھڑے ہوکر اپنا آنکھوں دیکھا واقعہ یوں بیان کرتا ہے
میں مسجد نبوی میں کھڑا دیکھ رھا تھا کہ چار پولیس والی کسی کا انتظار کر رہے ہیں
پھر ایک شخص نمودار ھوا تو پولیس والوں نے بھاگ کر اسے قابو کر لیا
اور اس کے ہاتھ جکڑ لئے
نوجوان نے کہا
مجھے دعا اور توسل کی اجازت دے دو
میری بات سن لو میں کوئی بھکاری نہیں ھوں اور نہ ہی کوئی چور ہوں پھر وہ جوان چیخنے لگا
میں نے اسے دیکھا تو ایسے لگا جیسے میں اسے جانتا ہوں
میں بتاتا ہوں کہ میں نے اسے کیسے پہچانا
دراصل میں نے اسے کتنی ہی مرتبہ بارگاہ رسالت میں روتے ہوئے دیکھا تھا
یہ ایک البانوی نوجوان تھا
اس کی عمر 35 یا 36 سال کے درمیان تھی اس کے سنہری بال اور ہلکی سی داڑھی تھی
میں نے پولیس والوں سے کہا
اسکا کوئی جرم نہیں ہے تو تم اس کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو
آخر کیا الزام ہے اس پر؟
انہوں نے کہا
تو پیچھے ہٹ اِس معاملے میں بولنے کا تجھے کوئی حق نہیں
لیکن میں نے پھر سے کہا
آخر اس کا تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟
کیا اس نے کوئی چوری کی ہے؟
انہوں نے کہا
یہ بندہ 6 سال سے اِدھر مدینے شریف میں رہ رہا ہے ، لیکن اس
کا یه قیام غیر قانونی ھے ھم اسے پکڑ کر واپس اس کے ملک وہ اسے بھیجنا چاہتے ہیں، لیکن وہ ہر بار ایک ہی چال سے بھاگ جاتا ھے
اور جا کر روضه رسول میں پناہ لے لیتا ھے
هم اسے اندر جا کر گرفتار نہیں کرنا چاھتے تھے
میں نے پوچھا
تو اب اس کیساتھ کیا کرو گے؟
کہنے لگے: ھم اسے پکڑ کر جہاز پر بٹھائیں گے اور واپس البانیابھیج دیں گے
نوجوان مسلسل روئے جا رھا تھا
اور کہہ رھا تھا
کیا ھو جائے گا اگر تم مجھے چھوڑ دو گے تو؟
دیکھو میں کوئی چور نہیں ھوں
میں کسی سے بھیک نہیں مانگتا
میں تو ادھر بس محبتِ رسول میں رہ رھا ھوں
پولیس والوں نے کہا
نہیں، ایسا جائز نہیں ھے
نوجوان نے کہا
اچھا مجھے ذرا آرام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
ایک عرض کر لینے دو
پھر نوجوان نے اپنا منه گنبد خضراء کی طرف کر لیا.
پولیس والوں نے کہا
چل کہہ جو کہنا ھے
تو نوجوان نے گنبد خضراء کیطرف دیکھا اور جو کچھ عربی
میں کہا ، میں نے سمجھ لیا
وہ نوجوان کہہ رہا تھا
یا رسول اللہ
کیا همارے درمیان اتفاق نہیں ھوا تھا
کیا میں نے اپنے ماں باپ کو نہیں چھوڑا۔۔
کیا اپنی دکان بند کر کے اپنا گھر بار نہیں چھوڑا
اور یہ عہد کر کے یہاں نہیں آیا تھا کہ آپ کے جواررحمت میں
رھا کروں گا ؟
حضور! اب دیکھ لیجیئے
یہ مجھے ایسا کرنے سے منع کر رھے ھیں
یا رسول اللہﷺ

آپ مداخلت کیوں نہیں فرماتے يارسول اللہ ﷺآپ

مداخلت کیوں نہیں فرماتے
اتنے میں نوجوان بے حال ھونے لگا تو پولیس والوں نے ذرا ڈھیل دی اور نوجوان نیچے گر گیا ایک پولیس والے نے اسے ٹھڈا مارتے ہوئے کہا او دھوکے باز اٹھ
لیکن نوجوان نے کوئی رَدِ عمل ظاہر نہ کیا۔
میں نے پولیس والوں سے کہا
یه نہیں بھاگے گا ، تم حمامات سے پانی لاؤ
اور اس کے چہرے پر ڈالو
لیکن نوجوان کوئی حرکت نہیں کر رھا تھا
ایک پولیس والے نے کہا
اسے دیکھو تو سہی
کہیں یہ سچ مچ مر هی نا گیا ھو۔
دوسرا پولیس والا کہنے لگا
اسے ھم نے کون سی ایسی ضرب لگائی هے ، جس سے یه مرجائے
، پھر انہوں نے ایمبولینس کو بلایا
وه ادھر سامنے والے سات نمبر گیٹ سے ایک ایمبولینس لے آئے
انہوں نے نوجوان کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ کر حرکت نوٹ کی
اور نبض چیک کی تو کہنے لگے
اسے تو مرے ھوئے 15 منٹ گزر چکے ھیں
اب پولیس والے جیسے مجرم ہوں
نیچے بیٹھ گئے اور رونے لگے وہ منظر بھی دیکھنے والا تھا ان میں سے ایک تو اپنے دونوں زانوؤں پر ہاتھ مارتےھوئے کہتاتھا
ھائے ھمارے ھاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے
کاش ھمیں معلوم هوتا که
اسے رسول اللہ سے اتنی شدید محبت ھے
ھائے ھمارے ھاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے۔
اسکے بعد ایمبولینس والوں نے اسے وہاں سے اٹھا لیا، اور جنت
البقیع کی طرف تجہیز و تکفین والے حصے میں لے گئےغسل کے وقت میں بھی وہیں موجود تھا
میں انہیں کہتا تھا ، مجھے بھی ھاتھ لگانے دو، مجھے بھی اسکی چارپائی کو اٹھانے دو
جب جنازہ تیار ھو کر نماز کے لئے جانے لگا تو پولیس والوں نے
مجھے کہاھم نے جتنا گناہ اٹھایا ھے
بس اتنا کافی ھے
اسے ھمارے سوا اور کوئی نہیں اٹھائے گا
شاید اسی طرح ہمیں آخرت میں کچھ رعایت مل جائے
میرے سامنے ھی وہ نوجوان بار بار که رها تها که یا رسول اللہ آپ مداخلت کیوں نہیں فرما رھے؟ دیکھا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مداخلت فرما دی اور ملک الموت نے اپنا فریضه ادا کر کے اسے آپ تک همیشه کیلئے پہنچا دیا
اللہ ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی ویسی ہی محبت عطا فرمائے جيسى أس البانی نوجوان کو عطا فرمائی تھی. آمین

Address

Dera Ghazi Khan

Telephone

+923346362474

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when قطرة QATRA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category