G S Traders جی ایس ٹریڈرز

G S Traders  جی ایس ٹریڈرز ھر قسم کی کینفکشنری کا ھول سیل مرکز

عید مبارک
22/04/2023

عید مبارک

30/12/2021
28/09/2021

اصحاب ستارے ہن آ قا چن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

★★( آیت الکرسی ) ★★
24/09/2021

★★( آیت الکرسی ) ★★

صل اللہ علیہ وسلم
07/06/2020

صل اللہ علیہ وسلم

24/03/2020

24th Mar 2020

12/12/2019

ایک عرب نوجوان کا کہنا ہے کہ : اُن دنوں جب میں ھالینڈ میں رہ رہا تھا تو ایک دن جلدی میں ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کر بیٹھا۔ بتی لال تھی اور سگنل کے آس پاس کوئی نہیں تھا، میں نے بھی بریک لگانے کی ضرورت محسوس نہ کی اور سیدھا نکل گیا۔ چند دن کے بعد میرے گھر پر ڈاک کے ذریعے سے اس خلاف ورزی "وائلیشن" کا ٹکٹ پہنچ گیا۔ جو اُس زمانے میں بھی 150 یورو کے برابر تھا۔

ٹکٹ کے ساتھ لف خط میں خلاف ورزی کی تاریخ اور جگہ کا نام دیا گیا تھا، اس خلاف ورزی کے بارے میں چند سوالات پوچھے گئے تھے، ساتھ یہ بھی کہا گیا تھا کہ آپ کو اس پر کوئی اعتراض تو نہیں؟

میں نے بلا توقف جواب لکھ بھیجا: جی ہاں، مجھے اعتراض ہے۔ کیونکہ میں اس سڑک سے گزرا ہی نہیں اور نہ ہی میں نے اس خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔

میں نے یہ جان بوجھ کر لکھا تھا اور یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ لوگ اس سے آگے میرے ساتھ کیا کرتے ہیں؟

میرے خط کے جواب میں لگ بھگ ایک ہفتے کے بعد محکمے کی طرف سے ایک جواب ملا۔ ان کے خط میں میری کار کی تین تصاویر بھی ساتھ ڈالی گئی تھیں۔ پہلی سگنل توڑنے سے پہلے کی تھی، دوسری میں میں گزر رہا تھا اور بتی لال تھی، تیسری میں میں چوک سے گزر چکا تھا اور بتی ابھی تک بھی لال تھی۔

یعنی سیدھا سادا معاملہ تھا، میں جرم کا مرتکب تھا تو اس کا مطلب یہی تھا کہ میں مرتکب ہوا تھا اور بس۔ نہ بھاگنے کی گنجائش اور نہ مکر جانے کا سوال۔ چپکے سے اقرار نامہ لکھ بھیجا، جرمانہ ادا کیا اور چُپ ہو گیا۔

کچھ دنوں کے بعد تلاوت کرتے ہوئے، جب میں نے سورت جاثیہ کی یہ آیت پڑھی "یہ رہا ہمارا تیار کرایا ہوا اعمال نامہ، جو تمہارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہیاں دے رہا ہے، جو کچھ بھی تم کرتے تھے، ہم اُسے لکھواتے جا رہے تھے"

هَـٰذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿سورة الجاثية - ٢٩﴾

آیت میں "كُنَّا نَسْتَنسِخُ - ہم فوٹو بنا لیا کرتے تھے"، یعنی اللہ تعالٰی کے پاس بھی فوٹو مشین ہے؟ خوف سے میرے جسم کے بال کھڑے ہو گئے تھے: یعنی بندے کی بنی ہوئی مشین سے تو میں بھاگ نہیں سکا، اللہ کی بنائی ہوئی مشین!!!! ساتھ ساتھ فوٹو بھی بناتی ہے؟ کدھر ہوگا بھاگنے کا راستہ؟ کونسا بنے گا بہانہ مُکر جانے کا؟

یعنی کہ ہمارے اعمال نسخ کیئے جارہے ہیں، کچھ بھی نہیں بھلایا جا رہا، ہارڈ ڈسک کے خراب ہونے، میموری کے فارمیٹ ہو جانے، آندھی بارش طوفان کی وجہ سے کچھ خرابی پیدا ہونے کا کہیں بھی کوئی اندیشہ نہیں۔ کوئی ھیکر پہنچ نہ پائے کوئی وائرس خراب نہ کر پائے، ہائے یہ کیسا کمپیوٹر ریکارڈ ہوگا؟

یا الٰھی: سارے گناہ لکھوائے جارہے ہیں کیا؟
تاریخ کے ساتھ؟
مقام اور جگہ کے ساتھ؟
بیک گراؤنڈ کے ساتھ؟
رنگین پرنٹ میں؟
نشانی والے کپڑوں میں؟
اسباب، متاب اور مال کی نشانیوں کے ساتھ؟
مقاصد اور مطالب کے ساتھ؟
آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ؟

ہائے ہم تو لُٹ گئے "اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چھپا رکھے ہیں (سورة غافر-19)

ہائے: یہ سب کچھ ہم پر پیش کر دیا جائیگا؟

"اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتاب زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہو گئی ہو جو جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا (سورة الكهف - 49)

*** ایک نصیحت جو سب سے پہلے میرے اپنے لیئے ہے...
Copy

24/11/2019

🌺"تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟

جواب۔۔۔۔۔۔
میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔

۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بولتے ہیں۔۔

ہم نے تو غربت کے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ اسکول میں تختی پر (گاچی) کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو (سواگہ) لگایا کرتے تھے۔۔

(سلیٹ) پر سیاہی کے پیسے نہیں ہوتے تھے (سیل کا سکہ) استمعال کرتے تھے۔

اسکول کے کپڑے جو لیتے تھے وہ صرف عید پر لیتے تھے۔

اگر کسی شادی بیاہ کے لیے کپڑے لیتے تھے تو اسکول کلر کے ہی لیتے تھے۔۔

کپڑے اگر پھٹ جاتے تو سلائی کر کے بار بار پہنتے تھے۔۔

جوتا بھی اگر پھٹ جاتا بار بار سلائی کرواتے تھے۔۔

اور جوتا سروس یا باٹا کا نہیں پلاسٹک کا ہوتا تھا۔۔

گھر میں اگر مہمان آجاتا تو پڑوس کے ہر گھر سے کسی سے گھی کسی سے مرچ کسی سے نمک مانگ کر لاتے تھے

آج تو ماشاء اللہ ہر گھر میں ایک ایک ماہ کا سامان پڑا ہوتا ھے

مہمان تو کیا پوری بارات کا سامان موجود ہوتا ھے

آج تو اسکول کے بچوں کے ہفتے کے سات دنوں کے سات جوڑے استری کر کے گھر رکھے ہوتے ہیں

روزانہ نیا جوڑا پہن کر جاتے ہیں

آج اگر کسی کی شادی پہ جانا ہو تو مہندی بارات اور ولیمے کے لیے الگ الگ کپڑے اور جوتے خریدے جاتے ہیں

ہمارے دور میں ایک چلتا پھرتا انسان جس کا لباس تین سو تک اور بوٹ دوسو تک ہوتا تھا اور جیب خالی ہوتی تھی

آج کا چلتا پھرتا نوجوان جو غربت کا رونا رو رہا ہوتا ھے اُسکی جیب میں تیس ہزار کا موبائل کپڑے کم سے کم دو ہزار کے، جوتا کم سے کم تین ہزار کا،گلے میں سونے کی زنجیر ہاتھ پہ گھڑی

غربت کے دن تو وہ تھے جب گھر میں بتّی جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا روئی کو سرسوں کے تیل میں ڈبو کر جلا لیتے.

آج کے دور میں خواہشوں کی غربت ھے.

اگر کسی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے تین جوڑے کپڑے یا عید کے لیے تین جوڑے کپڑے نہ سلا سکے وہ سمجھتا ھے میں
غریب ہوں۔

آج خواہشات کا پورا نہ ہونے کا نام غربت ھے.

ہم ناشکرے ہوگئے ہیں اسی لئے برکتیں اٹھ گئی ہیں.

Address

BALOCH CHOWK
Dera Ismail Khan
29500

Telephone

+923139277374

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when G S Traders جی ایس ٹریڈرز posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share