AK Soft Wax

AK Soft Wax Welcome to AK Soft Wax. join us in embracing natural beauty with confidence.

Repeat 🔁 on high demand  traditional special 👌*Fabric* Cotton lawn 3pc*Shirt* Cotton embroidery 🧵 *Trouser* Cotton embro...
19/03/2022

Repeat 🔁 on high demand
traditional special 👌
*Fabric* Cotton lawn 3pc
*Shirt* Cotton embroidery 🧵
*Trouser* Cotton embroidery 🧵
*Dupatta* Chiffon embroidery 🧵
*price 2300*including delivery charges 👈 👈👈
*Buy with confidence* ✅

Midnight thoughts ✨
23/10/2021

Midnight thoughts ✨

22/10/2021
Happy meeeeeeeeemers day 😁
01/08/2021

Happy meeeeeeeeemers day 😁

15/07/2021

پاکستانی لڑکیوں کی تعلیم کے مسائل اور ان کا حل۔

موجودہ دور میں بھی لڑکیوں کو تعلیم کے حصول کے لیے بہت سارے مسائل کا سامنا کر پڑ رہا ہے ۔ 2015 میں تعلیم اور ترقی پر سیمینار(Oslo Summit) میں پاکستان کو دنیا میں سب سے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ممالک میں شمار کیا گیا۔
پاکستان میں تعلیم کے سلسلے میں پہلا مسئلہ غربت کا آتا ہے بہت سارے والدین اپنی بچیوں کی تعلیم پہ پیسہ لگانے کی بجائے اپنے بیٹوں کو فوقیت دیتے ہیں۔ اور کچھ والدین اگر اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوانا چاہتے ہیں تو وہ میٹرک تک ان کی تعلیم کے خرچے برداشت کرتے ہیں۔ بلوچستان اور اندرون سندھ میں غربت کی وجہ سے 59٪ لڑکیاں چھٹی جماعت کے بعد تعلیم کو چھوڑ دیتی ہیں۔ پنجاب میں 29٪ لڑکیاں میٹرک تک تعلیم حاصل کرتی ہیں۔

پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ کی دوسری بڑی وجہ سوچ کی ناپختگی ہے ۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں کو اس لیے بھی تعلیم حاصل نہیں کرنے دیتے کہ بیٹیاں تو پرائے گھر کا مال ہیں ایک نہ ایک دن تو اپنے گھر کی ہو جائیں گی۔ تو آنے والی زندگی کے لیے سیکھیں گھر کے کام کریں، سلائی سیکھیں، کیونکہ شادی کے بعد یہی سب کرنا پڑنا۔ تو کیا والدین کا بیٹیوں پہ حق نہیں ہے؟ بیٹیوں کو اچھی تعلیم دلوانا ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پورا کرنا؟

تیسری وجہ یہ ہے کہ اس صدی میں بھی کچھ مرد یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے اپنی بیٹیوں سے کون سا نوکری کروانی ہے جو یہ تعلیم کے لیے سارا دن گاڑیوں میں دھکے کھائے ہم پہ ہماری بیٹیاں بوجھ نہیں ہیں ہم خود ان کا خرچہ اٹھا سکتے ہیں ان کی خواہشات کو پورا کرسکتے ہیں۔ گھر میں باپ اور بھائیوں کے ہوتے ہوئے کیوں ہماری بیٹی باہر جا کر نوکری کے لیے ذلیل ہو۔

چوتھی وجہ آج کی معاشرتی برائیاں ہیں جس میں راہ چلتی لڑکی پہ جملے کسنا، بازار میں چلتی ہوئی لڑکی سے جان بوجھ کے ٹکرا جانا، بس میں سفر کرتی ہوئی لڑکی کو ٹچ کرنا، رکشے میں بیٹھی ہوئی لڑکی کے پیچھے بائیک لگا لینا۔ لڑکی بےشک نقاب میں ہو یا شلوار قمیض میں یا جینز میں ہمارے مردوں کی کمزوری بن گئی ہے۔ اس ڈر سے والدین اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ ریپ کیسز دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ والدین کے ذہنوں میں ایک ڈر سا بیٹھ گیا ہے کہ لڑکی ہے عزت ہے اگر کچھ ہوگیا تو دنیا والے جینے نہیں دیں گے۔

پانچویں بڑی وجہ جلد شادی ہے ۔ پاکستان کے بہت سارے علاقوں میں آج بھی تعلیم کی بجائے جلد شادی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ دیہاتی علاقوں میں لوگ تعلیم پہ پیسہ لگانے کی بجائے جہیز کی فکر میں رہتے ہیں اور اپنی بیٹیوں کے گھر بسانے کی سوچ میں رہتے ہیں۔ اکثر علاقوں میں آج بھی وٹہ سٹہ کی رسم ہے اور بچپن میں ہی لڑکی کی زندگی کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں لڑکی تعلیم تو کیا اپنی زندگی بھی اپنی مرضی سے نہیں بسر کر سکتی۔ اور لڑکیاں ماں باپ کی عزت کی خاطر چپ ہو جاتی ہیں۔

سب سے بڑی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان میں گورنمنٹ تعلیمی ادارے کم ہیں اور دیہات کے لوگوں کی پہنچ سے دور ہوتے ہیں اور والدین اپنی بیٹیوں کو اکیلے بھیجنے سے پہلے سو دفعہ سوچتے ہیں۔ اور پھر رشتہ داروں کے طعنے بھی سر فہرست ہوتے ہیں کہ اکیلی بچی کو کیسے شہر بھیج دیا؟ آجکل کے حالات کا نہیں علم کیا بچی سے زیادہ تعلیم ضروری ہوگئی ہے ؟ اتنا پڑھ لکھ کے بھی بیاہ ہی کرنا ہے تو کیا فائدہ بچی کو گھر سے باہر بھیجنے کا۔

آخر میں آتا ہے ڈر، والدین کے ذہنوں میں دنیا کا، لوگوں کا، خاندان کا، محلے والوں کا، برادری کا، اور معاشرے کا ڈر بیٹھ گیا ہے۔ جو کہ لڑکیوں کی تعلیم میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔ اگر گھر کے مرد اپنی بیٹیوں اور بہنوں پہ اعتماد کر کے ان کو تعلیم دلوائیں ان کی زندگی اور تعلیم کے حصول میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کریں تو کوئی بھی لڑکی نہیں ڈرے گی۔ وہ یہ سوچ کے چلے گی کہ میرا سہارا ہے کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑسکتا ۔ دنیا ، رشتہ دار، محلے دار، برادری والے سب کو ایک سائیڈ پہ رکھ کے صرف اور صرف اپنی بیٹیوں کے بارے میں سوچیں۔

حل:
گورنمنٹ کو چاہیے کہ کم از کم انٹر تک تعلیم کو ہر لحاظ سے مفت کیا جائے۔ تاکہ ہر بچہ اور بچی کی تعلیم تک رسائی ہو۔
گورنمنٹ اداروں کی کارکردگی کو بہتر کیا جائے کیونکہ لوگوں کی ایک سوچ بن چکی ہے کہ گورنمنٹ اساتذہ کرام بچوں کی رہنمائی نہیں کرتے۔
والدین کو اپنی بیٹیوں پہ اعتماد کرنا چاہیے اور ان کو آگے بڑھ کے سپورٹ کرنا چاہیے۔
معاشرے کو اپنی سوچ بدلنی چاہئے اگر کوئی لڑکی تعلیم کے لیے دوسرے شہر میں آئی ہے تو ہر اجنبی کو لڑکیوں کی عزت کرنی چاہیے۔ اگر لڑکی جینز میں ہے یا اکیلی باہر جارہی ہے اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ اس پہ جملے کسے جائیں ، کیونکہ لوگ ایسا سوچنے لگ گئے ہیں اگر لڑکی جینز میں ہے وہ بدکردار ہے وہ خود دوسروں کو موقع دیتی ہے۔ بہت سارے مسلم ممالک میں لڑکیاں جینز پہنتی ہیں لیکن وہاں ان کی عزت کی جاتی ہے ۔ یہاں پہناوے سے اندازہ لگا لیا جاتا ہے کہ اس لڑکی کا کردار کیسا ہے۔
"کسی بھی قوم کو بدلنے کے لیے پہلے اس کی سوچ کا بدلنا ضروری ہے"

از عائشہ چوہدری

سننے میں آیا ہے کہ اس باولر کا تعلق انتہائی غریب گرانے سے ہے یہاں تک کہ فرسٹ ٹائم کرکٹ ٹرائل دیتے وقت ان کے پاس اپنے شوز...
25/02/2021

سننے میں آیا ہے کہ اس باولر کا تعلق انتہائی غریب گرانے سے ہے یہاں تک کہ فرسٹ ٹائم کرکٹ ٹرائل دیتے وقت ان کے پاس اپنے شوز بھی نہی تھے اپنے ایک دوست سے اس ٹرائل کیلئے انہوں نے شوز لئے تھے جو ٹرائل ختم ہونے کے بعد واپس کر دئے تھے
جب سے یہ باؤلر پی ایس ایل میں ایکشن میں نظر آیا ہے لوگ مسلسل اسے مذاق کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔
لیکن ایک بات یاد رکھیں یہ اصل میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا مذاق بنایا جا رہا ہے
ایسے لوگ اپنی مستقبل سے ڈر جائے کہیں آپ کے گھر میں بندر پیدا نہ ہو جائے۔۔۔
⁦❤️⁩⁦❤️⁩لقد خلقناالانسان فی احسن تقویم⁦❤️⁩⁦❤️
Copied...

Relateable bro 🙄
20/02/2021

Relateable bro 🙄

Jumma mubarik
19/02/2021

Jumma mubarik

Address

Faisalabad

Telephone

+923376220301

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AK Soft Wax posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to AK Soft Wax:

Shortcuts

Share