04/04/2026
امریکہ اور یورپ کی فضائی قوتیں ایشیا کے ائیر ڈیفنس کو نہیں سمجھ سکتیں۔
جیسے کل امریکہ کا جہاز ایران میں گر گیا۔
یا بھارت کے چھ جہاز پاکستان نے گرا دیے۔
ایسا کیوں ہے کہ بھارت کی یورپی ٹیکنالوجی اور امریکا کی ٹیکنالوجی ایشیا میں گر رہی ہے۔
بغیر جھڑپ کے امریکہ کے ڈبل فیگر میں جہاز گرے اور اب ایک عدد امریکی ابھینندن ایران کے رستموں نے باندھ رکھا ہے۔
اب ایرانی اسے ہر اس میٹنگ میں لیے پھریں گے جہاں اسرائیل کے میزائل حملوں کا امکان ہو۔
جہاز گرانے کا تمام کام ائیر ڈیفنس سسٹم کے زیر آتا ہے۔
فضائیہ میں دو ہی میں قوتیں ہیں۔ ایک فلائنگ سٹ اپ اور دوسرا ائیر ڈیفنس سسٹم۔
پاکستانی ائیر ڈیفنس سسٹم دنیا کا پیچیدہ اور مشکل ترین کوڈنگ پر مشتمل نظام ہے۔ اس نے اپنی جہات کو بہت عجیب رکھا ہے کسی جانب یہ بے حد جدید ٹولز استعمال کر رہا ہے اور دوسری جانب نہایت قدیم ٹیکنالوجی ۔ قدیم ترین ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا فایدہ یہ ہوا کہ اس ٹیکنالوجی کا زمانہ چلا گیا اور دنیا اس کو ڈی کوڈ کرنے یا اس کی جاسوسی کرنے کی بھی اہل نہ رہی۔
یہی وجہ ہے کہ لائلپور کے ایک گراؤنڈ سگنیلر ائیر مین نے جی تھری سے ایک مگ 21 مار گرایا تھا۔
اسی طرح پاک فضائیہ کے ایک پائلٹ نے اسرائیلی دو دو جہازوں کی چار سارٹیز اکیلے گرا رکھی ہیں۔
ائیر فورس اگر درخت ہے تو اس کی دونوں شاخیں ہوائی جہاز اور ائر ڈیفنس ایک جیسی برابر پروان چڑھتی ہیں۔
ایرانی فضائیہ اس خطے کی کمزور فضائیہ ہے ۔ اس کے آپریشنل جہاز شاید چین یا روس کی جانب کوچ کروا دیے گئے ہوں گے۔ اور یہی حال اس کی ائیر ڈیفنس کا تھا۔
پھر یہ کیسے ممکن ہوا کہ ایران نے اپنی کمزور شاخ سے امریکی جہاز مار گرایا ۔
سوال تو یہ بھی ہے کہ جب اسرائیلی اور امریکی جہازوں کے جتھے ا رہے تھے ۔ اس وقت اتنے رش میں اسرائیلی یا امریکی پرندہ کیوں نہ گرایا جا سکا۔
اور اب یہ کیوںکر ممکن ہوا۔
دراصل روس یہ تیس چالیس سالوں سے چاہ رہا ہے کہ امریکہ کسی نہ کسی طرح اس جنگ کو بڑھائے۔ اور روس کا افغان زخم کا چٹاؤ ختم ہو سکے۔ اس لیے جب بھی جنگ ٹھنڈی ہونی پر آتی ہے ، وہ ایران کو کچھ دے دلا کر ٹیسٹنگ رینج بڑھا دیتا ہے۔
اگلے چند دنوں میں امریکی فضائیہ کے حملے تقریبا ٹھہر جائیں گے ۔ لیکن اصل ڈھکن اسرائیل کو لگا ہے۔
اسرائیلی فوج کی ٹاپ کمانڈ میں نیتن وغیرہ یاھو کے خلاف شدید غم و غصہ ہے۔ اور ایک آدھ استعفے بھی آیا ہے جسے یاھو ابھی تک قبول نہیں کر رہا۔
میڈیا پر شدید کنٹرول ہونے کے باعث اسرائیل کے اندر عملی اور مورالی ڈیمجز کی اطلاعات باہر نہیں آ رہیں۔
لیکن ایرانی ائیر ڈیفنس سسٹم جس میں میزائل بھی شامل ہیں ۔ کسی بیرونی کمک کو بہت انجوائے کر رہا ہے۔ لازمی بات ہے پاکستان اس ضمن میں کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ افغانستان کے راستے روس یا چین سامان بھیج رہے ہوں گے۔ پاکستان اپنی غیر جانبداری کی پالیسی پر قائم ہے۔
دوسری جانب ننھی سی خبریں یہ بھی ہیں کہ بلوچستان میں مختلف ملٹری انسٹالیشن پر دہشت گردانہ حملوں کو مکمل طور پر ڈیل کیا جا رہا ہے۔ اور بھارتی تربیت یافتہ دہشت گرد صبح و مسا کھڑکائے جا رہے ہیں۔ اور وہاں ہونے والے کسی بھی معرکے کو ڈیوٹی سمجھ کر سر انجام دیا جا رہا ہے۔ کوئی میڈیا پر پروجیکشن کی پرواہ نہیں کی جا رہی۔ چاہ بہار کو دیکھ کر اسرائیل دانت پیس رہا ہے تو گوادر میں ہر دوسرے تیسرے دن دو تین اسرائیلی مفادات ٹھونکے جا رہے ہیں ۔
ہاں نئی دلی ، لودھی روڈ پر موجود سی۔جی۔او کمپلیکس میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔