دار ابي الطيب Dar Abi Tayyab

Call Directions Website Contact the business

دار ابي الطيب Dar Abi Tayyab دار ابی الطیب گوجرانوالہ

📚 الفصل الربيع في حياة الشيخ بديعسوانح شيخ العرب والعجم علامہ سيد ابو محمد بديع الدين شاہ راشدي رحمه الله2️⃣ جلدیں ۔۔۔ ا...
20/08/2026

📚 الفصل الربيع في حياة الشيخ بديع
سوانح شيخ العرب والعجم علامہ سيد ابو محمد بديع الدين شاہ راشدي رحمه الله

2️⃣ جلدیں ۔۔۔ امپورٹڈ پیپر

عام قیمت: 6000 روپے
رعایتی قیمت: 3300 روپے

خریدنے کے لیے واٹس ایپ پر میسج کریں 👇
https://wa.me/923406671335

ایک مرتبہ شیخ عبد اللہ غزنوی رحمہ اللہ عصر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ یکا یک سخت بارش ہو گئی، ایسی سخت کہ مقتدی سب نمازہ چھ...
13/08/2026

ایک مرتبہ شیخ عبد اللہ غزنوی رحمہ اللہ عصر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ یکا یک سخت بارش ہو گئی، ایسی سخت کہ مقتدی سب نمازہ چھوڑ کر بھاگ گئے، صرف دو چار آپ کے پیچھے باقی کھڑے رہ گئے۔
نماز سے فارغ ہو کر جب شیخ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو ہاتھ سب کیچڑ سے بھرے ہوئے تھے۔ فرمانے لگے: "باراں شد، والله عبد الله را خبر نہ شد"۔
یعنی بارش ہوئی، مگر بخدا عبد اللہ کو پتا بھی نہیں چلا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیخ غزنوی کی نماز میں اسی محویت کے باعث شیخ الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ ان کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ " مولوی عبداللہ حدیث مجھ سے پڑھ گیا اور نماز پڑھنی مجھے سکھا گیا"۔

(سوانح شیخ عبد اللہ غزنوی رحمہ اللہ۔ ص: 78.79)
۔۔۔۔۔۔۔
ذوق نماز میں امام ابن قیم رحمہ اللہ نے نماز کی ایسی حکمتوں اور لطافتوں کا تذکرہ کیا ہے جنھیں پڑھ کر نماز میں خشوع پیدا ہوتا اور طمانیت حاصل ہوتی ہے۔
صفحات: 126..... رعایتی قیمت: 220 روپے
برائے رابطہ: https://wa.me/923406671335

"لذیذ بود حکایت" کے بعد پیش خدمت ہے دوسرا مجموعہ: "چمن زار آگہی"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(صفحات: 528..... رعایتی قیمت: 1000...
12/08/2026

"لذیذ بود حکایت" کے بعد پیش خدمت ہے دوسرا مجموعہ: "چمن زار آگہی"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(صفحات: 528..... رعایتی قیمت: 1000 روپے)

دونوں کتابیں : 2000 روپے

برائے رابطہ: https://wa.me/923406671335

گذشتہ کچھ عرصے سے مختلف موضوعات پر خامہ فرسائی کا موقع بنتا رہا جن میں اقتضائے حال کے مطابق متنوع فقہی، علمی وفکری اور تاریخی وسوانحی پہلوؤں سے متعلق کچھ تحریریں معرضِ وجود میں آئیں۔
پہلے اس سلسلے کا ایک مجموعہ "لذیذ بود حکایت" کے نام سے شائع ہو چکا ہے جسے بعض حلقوں میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا، اور اسی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے کہ اب قارئین کی خدمت میں ایسا ہی دوسرا گلدستہ تحاریر "چمن زارِ آگہی" کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے جو حسبِ سابق متعدد عناوین پر مشتمل نگارشات کا انتخاب ہے، اس مجموعے میں شامل مضامین کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:
1۔ سب سے پہلے'فقہیات' کے عنوان سے چند فقہی مسائل پر بعض سوالات کا جواب ہے جو بعض احباب کی طرف سے پوچھے گئے تھے، اس باب میں مندرجہ ذیل 8 استفسارات: علم کس سے سیکھیں؟، غسلِ جنابت کے دو طریقے، ایک مردہ سنت کا احیا، تشہدِِ اول میں درود، شبِ قدر کب؟، صدقے کی رقم سے سحری وافطاری کا حکم، شادی کے بعد خاتونِ خانہ کی ذمے دارے اور بھینس کی قربانی کے اجوبہ شاملِ کتاب ہیں۔
فقہی مباحث ہوں یا دیگر علمی موضوعات، ان میں کوشش یہی رہنی چاہیے کہ نصوصِ کتاب وسنت کی اس تعبیر کی اتباع کی جائے جو صحابہ کرام اور تابعین عظام سے منقول ہے۔ بالخصوص جہاں ان کا اتفاق ہو اس کی مخالفت جائز نہیں۔
یہی مسلکِ اہل حدیث ہے جس کی صراحت علمائے سلف وخلف ہمیشہ کرتے رہے اور اکابر علمائے اہل حدیث کا منہجِ افتا بھی یہی رہا ہے۔ لہذا کسی مسئلے میں ایسی رائے سے اجتناب ضروری ہے جو اسلافِ امت کے منافی ہو۔ اسی طریق سے ہم شذوذ وانحرافات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

2۔ 'مقالات': اس حصے میں تقریباً 12 مقالات ہیں جن میں حجیتِ حدیث، صحیح بخاری کی عظمت، دفاعِ صحابہ، دورِ حاضر میں فتنوں کی معرفت اور ان کا تدارک، شوقِ مطالعہ اور دیگر تاریخی موضوعات شامل ہیں۔
یہاں تحدیثِ نعمت کے طور پر صحیح بخاری کے دفاع سے متعلق ہمارے مذکورہ بالا مضمون کے متعلق اس مسرت انگیز حقیقت کا اظہار مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جب شیخ الحدیث مولانا عبد العزیز علوی رحمہ اللہ سے پہلی دفعہ ملنے کی سعادت حاصل ہوئی اور تعارف ہوا تو انھوں نے بڑی گرم جوشی سے معانقہ کیا اور فرمایا کہ میں نے صحیح بخاری سے متعلق آپ کا مقالہ پڑھا ہے، وہ بے حد مفید ہے اور اس میں بخاری شریف سے متعلق جدید ذہن کے اشکالات کا ازالہ بڑی عمدگی سے کیا گیا ہے۔ غفر اللہ لہ ورحمہ۔

3۔ 'منہجیات': گذشتہ کچھ عرصے سے ہمارے ہاں بعض فکری ومنہجی موضوعات پر ایسے مضامین نشر ہوئے جو مسلکِ سلف سے ہم آہنگ نہ تھے، بلکہ متبعینِ سنت کی طرف منسبوب بعض حضرات کے ایسے رویے سامنے آئے جو عملاً منہجِ سلف سے متصادم تھے۔ اور یہ بڑا افسوس ناک امر ہے کہ مسلکِ محدثین جیسے کھرے اور ستھرے منہج میں بعض لوگوں نے لا علمی یا مرعوبیت کی بنا پر ایسے تحریکی افکار کی پیوند کاری کرنے کی کوشش کی جو نہ صرف کتاب وسنت کے مخالف تھے، بلکہ ائمہ سلف سے صراحتاً ان کی مذمت وارد ہے۔
تعجب ہوتا ہے کہ خالص سلفی ماحول میں پرورش پانے والے کچھ نوجوان آخر کیوں کر اس قدر بہک جاتے ہیں کہ انھیں اپنی اساس اور شناخت برقرار رکھنے کا بھی ہوش نہیں رہتا۔ اس صورت حال کے پیشِ نظر راقم نے وقتاً فوقتاً مسلک ومنہج سے متعلق متعدد تحریریں لکھیں جن میں اعتقادی ومنہجی اور دعوتی وتعلیمی پہلوؤں سے متعلق راہِ سلف کی نشان دہی کی اور نوجوانوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے اشکالات کا ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایسی تحریروں کا ایک انتخاب اس باب میں شامل کیا گیا ہے جو تقریباً چھوٹے بڑے 50 عناوین پر مشتمل ہے۔
آج ہمارے ہاں بعض لوگوں میں مسلکِ اہل حدیث سے متعلق جو انحراف یا لا تعلقی نظر آتی ہے اس کی ایک بڑی وجہ عقیدہ سلف سے لا علمی اور تاریخِ اہل حدیث سے نا آشنائی ہے۔ کیوں کہ جو شخص مسلک اہل حدیث کی اساسیات سے آگاہ ہو اور اپنا تاریخی مقام پہچانتا ہو وہ کسی طور طائفہ منصورہ سے کٹ کر وقتی تحریکات کے پیچھے نہیں جا سکتا جن کا راستہ ہی قرآن وسنت سے متصادم ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ کوئی لڑکا چوہدریوں کا بیٹا ہو کر مصلیوں کی طرف انتساب میں فرحت محسوس کرے۔ اور ظاہر ہے کسی بھی با شعور شخص سے اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
اس لیے ضرورت ہے کہ ہر سطح پر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ نوجوانوں میں عقیدہ سلف اور تاریخ اہل حدیث کی ترویج واشاعت کی جائے اور انھیں ان کی اساس ومقام کی معرفت بہم پہنچائی جائے۔
4۔ 'درسیات': یہ باب ہمارے ہاں مدارس ومراکز میں رائج نصابِ تعلیم اور اسلوبِ تدریس کے حوالے سے ضروری گزارشات پر مشتمل ہے جن میں علمائے امت اور ماہرینِ تعلیم کی آرا وافکار سے استفادہ کرتے ہوئے علوم وفنون میں رسوخ، عربی زبان وادب میں مہارت، مطالعہ ومذاکرہ کی اہمیت اور کچھ درسی کتب کی طبعات اور طریقہ تدریس جیسے موضوعات کو ہدفِ بحث بنایا گیا ہے۔ ان مضامین کی تعداد 25 ہے۔ امید کہ طلبہ واساتذہ اور منتظمینِ مدارس کے لیے یہ معروضات مفید ثابت ہوں گی۔
بلا شبہہ آج کے دورِ زوال میں یہ مدارس ہی اسلام کا قلعہ اور مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ ہیں جہاں سے ان کو خالص دینی تعلیم وتربیت میسر آ سکتی ہے۔ اسی لیے اعدائے دین شب وروز ان مراکز علمیہ کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف رہتے ہیں، تاکہ ان قلعوں میں دراڑ ڈالی جا سکے۔ لیکن بحمد اللہ یہ مدافعینِ اسلام کے وہ مورچے ہیں جن میں علمائے امت مسلسل پہرہ دے رہے اور مخالفین کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے مستعد ہیں۔
تاہم اس قدر بھاری ذمے داری کے لیے چونکہ علمائے راسخین کی مسلسل تیاری ضروری ہے اس لیے ہمیں اپنی استعدادِ کار مسلسل بڑھانے کی طرف متوجہ رہنا چاہیے اور اس کے لیے اسلوبِ تدریس اور نظامِ تعلیم میں بہتری کی پوری کوشش بھی کرتے رہنا چاہیے، تاکہ ہمارے طلبہ میں رسوخِ علمی پیدا ہو اور وہ اکابر کی جگہ لے کر کما حقہ امت کی دینی وعلمی ضروریات پوری کر سکیں۔
5۔ 'شذرات': اس آخری اور طویل باب میں دورانِ مطالعہ حاصل ہونے والے اہم علمی نکات اور سبق آموز واقعات کو شامل کیا گیا ہے جن کا تعلق زیادہ تر اخلاقی وتربیتی پہلوؤں سے ہے۔
یہ دلچسپ حکایات اور ایمان افروز شذرات ایمان وعمل کی تازگی کا سبب بھی بنتے ہیں اور متلاشیانِ حق کے لیے استقامت کا ذریعہ ثابت ہوتے ہیں جو آج کے پر فتن دور میں بے حد ضروری ہے۔ ضرورت ہے کہ شائقینِ علم اپنے اسلاف اور اکابر کے ایسے ایمان افروز واقعات ہمیشہ اپنے مطالعے میں رکھا کریں جو ایمان وعمل کو جلا بخشتے ہیں۔ واللہ الموفق
اللہ تعالیٰ ان اصلاحی مضامین کو ہمارے لیے ذریعہ نجات بنائے، اور بالخصوص ہمارے اساتذہ اور والدین کریمین کے لیے بھی رفع درجات کا باعث بنائے جن کی دعاؤں اور محنتوں سے علم وقلم سے کچھ تعلق پیدا ہوا اور خدمتِ علمی کے ایسے مواقع میسر آ رہے ہیں۔ شکر اللہ سعیھم وجعلہ فی میزان حسناتھم۔ اللھم آمین

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ📢📢 آزادی آفر 📢📢یوم آزادی کے پُرمسرت موقع پر دار ابي الطیب، دار الآثار، ام القریٰ اور مکتب...
11/08/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

📢📢 آزادی آفر 📢📢

یوم آزادی کے پُرمسرت موقع پر دار ابي الطیب، دار الآثار، ام القریٰ اور مکتبہ کتاب وسنت کی جملہ مطبوعات خصوصی رعایتی قیمت کا اعلان کیا جارہا ہے

تمام عام قیمت والی کتابوں پر 50% رعایت جبکہ تمام تمام نیٹ قیمت والی کتابوں پر 5% رعایت

یہ آفر 15 اگست 2026 رات 12 بجے تک ہوگی

آرڈر کے لیے واٹس ایپ پر میسج کریں 👇
https://wa.me/923406671335

"لذیذ بود حکایت" کے بعد پیش خدمت ہے دوسرا مجموعہ: "چمن زار آگہی"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(صفحات: 528..... رعایتی قیمت: 1000...
10/08/2026

"لذیذ بود حکایت" کے بعد پیش خدمت ہے دوسرا مجموعہ: "چمن زار آگہی"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(صفحات: 528..... رعایتی قیمت: 1000 روپے)
برائے رابطہ: https://wa.me/923406671335

گذشتہ کچھ عرصے سے مختلف موضوعات پر خامہ فرسائی کا موقع بنتا رہا جن میں اقتضائے حال کے مطابق متنوع فقہی، علمی وفکری اور تاریخی وسوانحی پہلوؤں سے متعلق کچھ تحریریں معرضِ وجود میں آئیں۔
پہلے اس سلسلے کا ایک مجموعہ "لذیذ بود حکایت" کے نام سے شائع ہو چکا ہے جسے بعض حلقوں میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا، اور اسی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے کہ اب قارئین کی خدمت میں ایسا ہی دوسرا گلدستہ تحاریر "چمن زارِ آگہی" کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے جو حسبِ سابق متعدد عناوین پر مشتمل نگارشات کا انتخاب ہے، اس مجموعے میں شامل مضامین کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:
1۔ سب سے پہلے'فقہیات' کے عنوان سے چند فقہی مسائل پر بعض سوالات کا جواب ہے جو بعض احباب کی طرف سے پوچھے گئے تھے، اس باب میں مندرجہ ذیل 8 استفسارات: علم کس سے سیکھیں؟، غسلِ جنابت کے دو طریقے، ایک مردہ سنت کا احیا، تشہدِِ اول میں درود، شبِ قدر کب؟، صدقے کی رقم سے سحری وافطاری کا حکم، شادی کے بعد خاتونِ خانہ کی ذمے دارے اور بھینس کی قربانی کے اجوبہ شاملِ کتاب ہیں۔
فقہی مباحث ہوں یا دیگر علمی موضوعات، ان میں کوشش یہی رہنی چاہیے کہ نصوصِ کتاب وسنت کی اس تعبیر کی اتباع کی جائے جو صحابہ کرام اور تابعین عظام سے منقول ہے۔ بالخصوص جہاں ان کا اتفاق ہو اس کی مخالفت جائز نہیں۔
یہی مسلکِ اہل حدیث ہے جس کی صراحت علمائے سلف وخلف ہمیشہ کرتے رہے اور اکابر علمائے اہل حدیث کا منہجِ افتا بھی یہی رہا ہے۔ لہذا کسی مسئلے میں ایسی رائے سے اجتناب ضروری ہے جو اسلافِ امت کے منافی ہو۔ اسی طریق سے ہم شذوذ وانحرافات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

2۔ 'مقالات': اس حصے میں تقریباً 12 مقالات ہیں جن میں حجیتِ حدیث، صحیح بخاری کی عظمت، دفاعِ صحابہ، دورِ حاضر میں فتنوں کی معرفت اور ان کا تدارک، شوقِ مطالعہ اور دیگر تاریخی موضوعات شامل ہیں۔
یہاں تحدیثِ نعمت کے طور پر صحیح بخاری کے دفاع سے متعلق ہمارے مذکورہ بالا مضمون کے متعلق اس مسرت انگیز حقیقت کا اظہار مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جب شیخ الحدیث مولانا عبد العزیز علوی رحمہ اللہ سے پہلی دفعہ ملنے کی سعادت حاصل ہوئی اور تعارف ہوا تو انھوں نے بڑی گرم جوشی سے معانقہ کیا اور فرمایا کہ میں نے صحیح بخاری سے متعلق آپ کا مقالہ پڑھا ہے، وہ بے حد مفید ہے اور اس میں بخاری شریف سے متعلق جدید ذہن کے اشکالات کا ازالہ بڑی عمدگی سے کیا گیا ہے۔ غفر اللہ لہ ورحمہ۔

3۔ 'منہجیات': گذشتہ کچھ عرصے سے ہمارے ہاں بعض فکری ومنہجی موضوعات پر ایسے مضامین نشر ہوئے جو مسلکِ سلف سے ہم آہنگ نہ تھے، بلکہ متبعینِ سنت کی طرف منسبوب بعض حضرات کے ایسے رویے سامنے آئے جو عملاً منہجِ سلف سے متصادم تھے۔ اور یہ بڑا افسوس ناک امر ہے کہ مسلکِ محدثین جیسے کھرے اور ستھرے منہج میں بعض لوگوں نے لا علمی یا مرعوبیت کی بنا پر ایسے تحریکی افکار کی پیوند کاری کرنے کی کوشش کی جو نہ صرف کتاب وسنت کے مخالف تھے، بلکہ ائمہ سلف سے صراحتاً ان کی مذمت وارد ہے۔
تعجب ہوتا ہے کہ خالص سلفی ماحول میں پرورش پانے والے کچھ نوجوان آخر کیوں کر اس قدر بہک جاتے ہیں کہ انھیں اپنی اساس اور شناخت برقرار رکھنے کا بھی ہوش نہیں رہتا۔ اس صورت حال کے پیشِ نظر راقم نے وقتاً فوقتاً مسلک ومنہج سے متعلق متعدد تحریریں لکھیں جن میں اعتقادی ومنہجی اور دعوتی وتعلیمی پہلوؤں سے متعلق راہِ سلف کی نشان دہی کی اور نوجوانوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے اشکالات کا ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایسی تحریروں کا ایک انتخاب اس باب میں شامل کیا گیا ہے جو تقریباً چھوٹے بڑے 50 عناوین پر مشتمل ہے۔
آج ہمارے ہاں بعض لوگوں میں مسلکِ اہل حدیث سے متعلق جو انحراف یا لا تعلقی نظر آتی ہے اس کی ایک بڑی وجہ عقیدہ سلف سے لا علمی اور تاریخِ اہل حدیث سے نا آشنائی ہے۔ کیوں کہ جو شخص مسلک اہل حدیث کی اساسیات سے آگاہ ہو اور اپنا تاریخی مقام پہچانتا ہو وہ کسی طور طائفہ منصورہ سے کٹ کر وقتی تحریکات کے پیچھے نہیں جا سکتا جن کا راستہ ہی قرآن وسنت سے متصادم ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ کوئی لڑکا چوہدریوں کا بیٹا ہو کر مصلیوں کی طرف انتساب میں فرحت محسوس کرے۔ اور ظاہر ہے کسی بھی با شعور شخص سے اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
اس لیے ضرورت ہے کہ ہر سطح پر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ نوجوانوں میں عقیدہ سلف اور تاریخ اہل حدیث کی ترویج واشاعت کی جائے اور انھیں ان کی اساس ومقام کی معرفت بہم پہنچائی جائے۔
4۔ 'درسیات': یہ باب ہمارے ہاں مدارس ومراکز میں رائج نصابِ تعلیم اور اسلوبِ تدریس کے حوالے سے ضروری گزارشات پر مشتمل ہے جن میں علمائے امت اور ماہرینِ تعلیم کی آرا وافکار سے استفادہ کرتے ہوئے علوم وفنون میں رسوخ، عربی زبان وادب میں مہارت، مطالعہ ومذاکرہ کی اہمیت اور کچھ درسی کتب کی طبعات اور طریقہ تدریس جیسے موضوعات کو ہدفِ بحث بنایا گیا ہے۔ ان مضامین کی تعداد 25 ہے۔ امید کہ طلبہ واساتذہ اور منتظمینِ مدارس کے لیے یہ معروضات مفید ثابت ہوں گی۔
بلا شبہہ آج کے دورِ زوال میں یہ مدارس ہی اسلام کا قلعہ اور مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ ہیں جہاں سے ان کو خالص دینی تعلیم وتربیت میسر آ سکتی ہے۔ اسی لیے اعدائے دین شب وروز ان مراکز علمیہ کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف رہتے ہیں، تاکہ ان قلعوں میں دراڑ ڈالی جا سکے۔ لیکن بحمد اللہ یہ مدافعینِ اسلام کے وہ مورچے ہیں جن میں علمائے امت مسلسل پہرہ دے رہے اور مخالفین کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے مستعد ہیں۔
تاہم اس قدر بھاری ذمے داری کے لیے چونکہ علمائے راسخین کی مسلسل تیاری ضروری ہے اس لیے ہمیں اپنی استعدادِ کار مسلسل بڑھانے کی طرف متوجہ رہنا چاہیے اور اس کے لیے اسلوبِ تدریس اور نظامِ تعلیم میں بہتری کی پوری کوشش بھی کرتے رہنا چاہیے، تاکہ ہمارے طلبہ میں رسوخِ علمی پیدا ہو اور وہ اکابر کی جگہ لے کر کما حقہ امت کی دینی وعلمی ضروریات پوری کر سکیں۔
5۔ 'شذرات': اس آخری اور طویل باب میں دورانِ مطالعہ حاصل ہونے والے اہم علمی نکات اور سبق آموز واقعات کو شامل کیا گیا ہے جن کا تعلق زیادہ تر اخلاقی وتربیتی پہلوؤں سے ہے۔
یہ دلچسپ حکایات اور ایمان افروز شذرات ایمان وعمل کی تازگی کا سبب بھی بنتے ہیں اور متلاشیانِ حق کے لیے استقامت کا ذریعہ ثابت ہوتے ہیں جو آج کے پر فتن دور میں بے حد ضروری ہے۔ ضرورت ہے کہ شائقینِ علم اپنے اسلاف اور اکابر کے ایسے ایمان افروز واقعات ہمیشہ اپنے مطالعے میں رکھا کریں جو ایمان وعمل کو جلا بخشتے ہیں۔ واللہ الموفق
اللہ تعالیٰ ان اصلاحی مضامین کو ہمارے لیے ذریعہ نجات بنائے، اور بالخصوص ہمارے اساتذہ اور والدین کریمین کے لیے بھی رفع درجات کا باعث بنائے جن کی دعاؤں اور محنتوں سے علم وقلم سے کچھ تعلق پیدا ہوا اور خدمتِ علمی کے ایسے مواقع میسر آ رہے ہیں۔ شکر اللہ سعیھم وجعلہ فی میزان حسناتھم۔ اللھم آمین

اگر آپ اہل حدیث اور مقلدین کے ما بین اختلافی مسائل کی حقیقت، طرفین کے دلائل، تمام متنازع مسائل کا احاطہ، ہر قسم کے شبہے ...
05/08/2026

اگر آپ اہل حدیث اور مقلدین کے ما بین اختلافی مسائل کی حقیقت، طرفین کے دلائل، تمام متنازع مسائل کا احاطہ، ہر قسم کے شبہے کا جواب اور راہ حق کی پہچان حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے صرف یہ کتاب پڑھ لینا ہی ان شاءاللہ کافی ہو گا۔
صفحات: 618..... رعایتی قیمت: 880 روپے
منگوانے کے لیے رابطہ کیجیے: https://wa.me/923406671335

طلاق کے موضوع پر ایسی جامع، مفصل، مستند اور مرتب کتاب جو اس موضوع کی ساری گتھیاں سلجھا دیتی ہے اور اس مشکل مسئلے کو ہر ش...
04/08/2026

طلاق کے موضوع پر ایسی جامع، مفصل، مستند اور مرتب کتاب جو اس موضوع کی ساری گتھیاں سلجھا دیتی ہے اور اس مشکل مسئلے کو ہر شخص کے لیے آسان فہم بنا دیتی ہے کہ طلاق کے مسائل کسی طور پیچیدہ معلوم نہیں ہوتے بالخصوص طلبہ وطالبات کے لیے یہ کتاب اس لائق ہے کہ اسے اپنے مطالعے میں رکھیں تاکہ اس موضوع پر عوام کی صحیح راہنمائی کر سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کتاب کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
● اس کتاب میں”طلاق حیض“ اور ”تین طلاق“ پر جس ترتیب اور جس تفصیل کے ساتھ گفتگو ہے ، اس کی نظیر شاید کسی اور کتاب میں نہ ملے ۔
● ”طلاق حسن“ جسے احناف طلاق سنت میں شمار کرتے ہیں اس پر مستقل باب کے تحت بحث کرتے ہوئے ثابت کیا گیا ہے کہ یہ طلاق بدعت ہی کی ایک قسم ہے۔
● ”حلالہ“ کے موضوع پر مستقل باب میں قرآنی آیات ، صحیح احادیث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے صحیح وثابت اثار کی روشنی میں مفصل بحث کی گئی ہے۔
● کتاب کااکثر حصہ خالص علمی اور تحقیقی ہے جس سے عوام کا مستفید ہونا مشکل ہے ، اس لئے کتاب کے ابتدائی ابواب میں عام فہم زبان میں اسلامی نکاح کی خصوصیات ،میاں بیوی کے حقوق ، ، طلاق کے اسباب ،نافرمان بیوی کی اصلاح کے مراحل اور اسلام میں طریقہ طلاق وغیرہ پر مفید معلومات و ہدایات درج کردی گئی ہیں تاکہ اس کتاب سے اہل علم و طلباء کے ساتھ ساتھ عوام الناس بھی استفادہ کرسکیں۔
● ”طلاق حیض“ اور ”تین طلاق“ کے مسئلہ میں فریقین کی مستدل تمام مرفوع و موقوف روایات کو مع سند ومتن مکمل نقل کیا گیاہے اور صحت و ضعف کے لحاظ سے ہر سند کا حکم بھی مع سبب بیان کردیا گیا ہے۔
● اسانید کی تحقیق اور روایات پر حکم لگانے میں محدثین کے منہج پر چلتے ہوئے وہی طریقہ اپنا یا گیاہے جس کی وضاحت ہم نے اپنی کتاب ’’أنوار البدر في وضع الیدین علی الصدر‘‘ (ص: 43 تا 61) میں کی ہے۔
●اس کتاب میں صرف برصغیرکے حنفی دلائل پر گفتگو نہیں ہے ، بلکہ تقلیدی مذاہب کے وجود سے لے کراب تک ان کے چاروں حلقوں نے طلاق کے مسئلہ میں جو کچھ بھی رقم فرمایا ہے ،حتی الامکان ان سب کو سامنے رکھتے ہوئے ہر ایک کے اعتراض اور ہرایک کے شبہہ کو رفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
● صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث پر تقلیدی مذاہب نے بہت بے دردی سے جرح کی ہے ، اور اس پر انتہائی فضول، لایعنی اور غیراصولی اعتراضات کرکے اپنے اپنے حلقوں کوتسلی دینے کی کوشش کی ہے، اس کتاب میں ایک بڑا حصہ اس حدیث کے دفاع پر مشتمل ہے جس میں اس حدیث کی سند یا اس کے متن پروارد جملہ اعتراضات کے جوابات محدثین اور فقہائے اہل حدیث کے منہج پردئے گئے ہیں، بالخصوص غیر مدخولہ والے اعتراض کی مفصل ومدلل تردید کی گئی ہے۔
● شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر بعض لوگوں نے یہ الزام لگایا ہے کہ ان سے پہلے کسی نے بھی تین طلاق کے ایک ہونے کا فتوی نہیں دیا ہے ، اس الزام کی تردید کرتے ہوئے ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے پہلے ہر ہر صدی سے ایسے ائمہ وعلماء کے نام مع حوالہ پیش کئے گئے ہیں جو تین طلاق کے ایک ہونے کا فتوی دیتے تھے ۔اس ضمن میں صرف انہیں اہل علم کے نام درج کئے گئے ہیں جن سے ان کے اقوال ثابت شدہ ہیں۔
●دکتور سلیمان بن عبداللہ العمیر نے ”تسمية المفتين بأن الطلاق ثلاث بلفظ واحد طلقة واحدة“ کے نام سے ایک کتاب لکھ کر عہد صحابہ سے لیکر عصر حاضر تک کے ان تمام ائمہ واہل علم کا ذکر کیاہے جنہوں نے تین طلاق کے ایک ہونے کا فتوی دیا ہے ، ہم نے اپنی اس کتاب میں ان تمام ناموں کی صرف فہرست پیش کی ہے ، اور اس پر استدراک کرتے ہوئے بعض مزید ائمہ کے ناموں کا اضافہ کیا ہے جن میں دو نام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے پہلے دور کے ہیں ۔نیز اس ضمن میں مذاہب اربعہ میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے بعض ایسے علماء کے نام پیش کئے گئے ہیں جو تین طلاق کو ایک مانتے تھے۔
● عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بسند صحیح دس ایسی روایات پیش کی گئی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بیک وقت دی گئی تین طلاق کو شرعا ایک ہی مانتے تھے ۔
● دس ایسے مسائل پیش کئے گئے ہیں ، جن میں ائمہ اربعہ یا مذاہب اربعہ کا اتفاق ہے ، مگردیگر اہل علم کا فتوی اس کے خلاف ہے ، ان دسوں مسائل میں ائمہ اربعہ یا مذاہب اربعہ سے اختلاف کرنے والے اہل علم کا موقف ہی راجح ہے۔
آٹھ ابواب پر مشتمل یہ کتاب طبع ہوکر آچکی ہے ، اور اسلامک انفارمیشن سینٹر کرلا مبئی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
(کفایت اللہ سنابلی، ممبئی)

رعایتی قیمت 1410 روپے ڈلیوری خرچ سمیت۔۔۔۔صفحات 648 (بڑا سائز)
برائے رابطہ: https://wa.me/923406671335

امام ابو بکر حمیدی رحمہ اللہ (وفات 219ھ) کبار ائمہ حدیث میں عظیم القدر محدث اور امام بخاری، مسلم وغیرہ جیسے کئی جلیل الق...
27/07/2026

امام ابو بکر حمیدی رحمہ اللہ (وفات 219ھ) کبار ائمہ حدیث میں عظیم القدر محدث اور امام بخاری، مسلم وغیرہ جیسے کئی جلیل القدر محدثین کے استاد ہیں۔
زیر نظر مختصر کتابچے میں اسلام کے بنیادی عقائد اور اہم اصول بیان کیے گئے ہیں جو اہل سنت کے اتفاقی نظریات ہیں۔ ان کے مطالعے سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اہل سنت کے افکار کیا ہیں اور کون سے گمراہ کن عقائد ہیں جو اہل بدعت کی علامت ہیں اور ان سے اجتناب ضروری ہے۔
∆ اس ایڈیشن میں دائیں صفحے میں عربی متن اور بائیں صفحہ پر اس کا مکمل ترجمہ با محاورہ اردو میں پیش کیا گیا ہے۔
∆ عربی متن جلی حروف میں اعراب کے ساتھ لکھا گیا ہے، تاکہ ہر کوئی بہ آسانی پڑھ سکے۔
∆ عربی متن کو اس کتاب کے مختلف نسخے مد نظر رکھ کر مکمل صحت کے ساتھ درج کیا گیا ہے تاکہ کتاب کے معنی ومفہوم سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
∆ یہ چند ورقی رسالہ جو اہل سنت کے اجماعی عقائد پر مشتمل ہے، ضرورت ہے کہ اسے اپنی مجالس میں عام رواج دیا جائے اور اس کے درس وتدریس کا خصوصی اہتمام کریں، تاکہ عقائدِ حقّہ کی ترویج ہو اور انحرافات کا سدّ باب ہو۔
∆ رعایتی قیمت: 80 روپے (بڑا کتابی سائز)
برائے رابطہ:
https://wa.me/923406671335

ایک دن علامہ بشیر الدین قنوجی رحمہ اللہ (م 1879ء) کی خدمت میں آپ کے بعض احباب نے ایک کتاب پیش کی کہ ان صاحب نے اپنی کتاب...
07/07/2026

ایک دن علامہ بشیر الدین قنوجی رحمہ اللہ (م 1879ء) کی خدمت میں آپ کے بعض احباب نے ایک کتاب پیش کی کہ ان صاحب نے اپنی کتاب میں شاہ محمد اسحاق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی دو کتابوں "مائة مسائل" اور "اربعين مسائل" کا جواب دیا ہے۔
علامہ قنوجی رحمہ اللہ نے جب وہ کتاب اپنے ہاتھ میں لی تو اس کے مولف کا نام جناب فضل رسول بدایونی تھا اور کتاب کا نام تھا: تصحیح المسائل۔۔۔!
یعنی شاہ محمد اسحاق دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی مذکورہ بالا دونوں کتابوں میں ہندوستانی معاشرے میں منتشر جن شرکیات وخرافات اور بدعات ورسومات کی تردید کی تھی اور ان کا خلافِ شریعت ہونا قرآن وحدیث کے دلائل اور فقہ حنفی واکابرین احناف کی مسلمہ تصریحات کی روشنی میں ثابت کیا تھا، جناب بدایونی نے اپنی کتاب میں ان سب خرافات کا دفاع کیا ہے اور انھیں شرعی جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے اور باور کروایا ہے کہ یہ سب کچھ بھی دین اسلام کا حصہ ہے!
علامہ قنوجی رحمہ اللہ نے جوں ہی کتاب کی ورق گردانی شروع کی تو کتاب میں ایک جگہ ان کی نظر بدایونی صاحب کی اس عبارت پر پڑھی جس میں انھوں نے شاہ صاحب دہلوی رحمہ اللہ کے پیش کردہ ایک حوالے کو غلط ٹھہرایا ہے۔
شاہ محمد اسحاق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں فتاوی عالمگیری کے حوالے سے نقل کیا تھا کہ قبروں کے پاس نماز پڑھنا مکروہ ہے، جس پر نقد کرتے ہوئے بدایونی نے لکھا ہوا تھا کہ فتاوی عالمگیری میں یہ عبارت ہے ہی نہیں اور نہ یہ ممانعت اس میں لکھی ہے۔۔۔۔علامہ قنوجی رحمہ اللہ چونکہ جامع المنقول والمعقول شخصیت اور بلا کی قوتِ استحضار رکھتے تھے، انھوں نے قریب پڑی فتاوی عالمگیری اٹھائی اور حاضرین کے سامنے کتاب کھول کر انھیں فوراً وہ عبارت فتاوی عالمگیری سے دکھا دی جس پر سب حیران وششدر کہ صاحبِ کتاب نے کس قدر ناروا دعوی لکھ مارا ہے۔
چنانچہ اس کے بعد شرکائے مجلس نے علامہ قنوجی کی خدمت میں بہ اصرار یہ مطالبہ کیا کہ اب آپ اس مکمل کتاب ہی کا ناقدانہ جائزہ لیجیے اور جواب لکھیں۔۔۔جس پر علامہ بشیر الدین قنوجی رحمہ اللہ نے یہ کتاب "تفہیم المسائل بجواب تصحیح المسائل" لکھی۔
یہ کتاب فارسی زبان میں تھی جو پھر کبھی دوبارہ چھپی اور کبھی نہ اس کا اردو ترجمہ ہی ہوا۔ بحمد اللہ اب تقریباً 150 سال بعد استاد گرامی استاذ العلماء حضرت مولانا عبد اللہ سلیم حفظہ اللہ نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے اور اردو دان طبقے کے لیے اس بے نظیر کتاب سے استفادہ کی راہ آسان بنائی ہے۔ جزاہ اللہ خیرا وبارک فیہ
ان شاءاللہ یہ کتاب جو 550 صفحات پر مشتمل ہے، دار ابی الطیب ریسرچ سنٹر گوجرانوالہ کی طرف سے ماہ جولائی ہی میں چھپ کر قارئین کے ہاتھوں میں ہو گی۔ وللہ الحمد
برائے رابطہ: https://wa.me/923406671335

Address

Gujranwala
52250

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دار ابي الطيب Dar Abi Tayyab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to دار ابي الطيب Dar Abi Tayyab:

Shortcuts

Share

Category