17/04/2021
روزے کا اصل مقصد تقوی پیدا کرنا ہے۔
تقوی کسے کہتے ہیں ؟؟
علامہ ابن جزی تقوی کو پانچ درجات میں تقسیم کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں۔
1۔تقوی کا پہلا درجہ یہ ہے کہ بندہ کفر کی تمام تر اشکال و اقسام سے بچے، اس درجے یا مقام کو "اسلام " کہتے ہیں۔
2۔اور یہ کہ ہر طرح کے گناہوں اور حرام کاموں،چیزوں سے بچا جائے،تقوی کا یہ مقام "توبہ" ہے۔
3۔اور یہ کہ آدمی ہر مشتبہ چیز ،فعل سے بچے (یعنی ایسی چیزیں یا کام جن کے حلال یا حرام ہونے میں کنفیوژن ہو), یہ مقام "ورع"(پرہیزگاری) ہے۔
4۔اور ایک مقام ،درجہ یہ بھی ہے کہ بندہ کچھ حلال چیزوں کو عبادت میں خشوع و خضوع اور اطاعت میں یکسوئی کے لیے چھوڑ دے، یہ "زہد " ہے۔
5۔اور ایک درجہ یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے دل میں غیر اللہ کا خیال لانے سے بھی بچنے لگے، یہ مقام "مشاہدہ" ہے۔(التسهيل لعلوم التنزيل لإبن الجزي)
عمر بن عبد العزیز رح کہتے ہیں کہ " تقوی رات کو زیادہ کھڑا ہونے یا دن کو زیادہ روزے رکھنے کا نام نہیں بلکہ تقوی تو اللہ کی حرام کردہ اشیاء سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کے فرض کردہ احکام کو بجا لانے کا نام ہے".
(رواه البيهقي في الزهد الكبير).
"کسی نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے تقوی کے بارے دریافت کیا تو ارشاد فرمایا:تم ایک ایسے راستے پر چلتے ہو،جو کانٹوں سے بھرا ہے، تو تم کیا کروگے ؟، پھر فرمایا :جب تم راستے میں کانٹے دیکھو گے تو راستہ بدل لو گے یا پھر کانٹوں کے اوپر سے پھلانگتے ہوئے جاؤ گے،یا پھر واپس مڑ جاؤ گے(یعنی کانٹوں سے بچنا ہے،یہاں مراد اللہ کی معصیت و نافرمانی ہے ،اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنا)، فرمایا : یہی تقوی ہے۔
(.(رواه البيهقي في الزهد الكبير (973) ).
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ " تقوی صاحب جلالت سے ڈرنے (اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نام' جلیل 'بھی ہے) ، اور شریعت کے مطابق عمل کرنے اور تھوڑے سے مال یا مادی اسباب پر قناعت کرجانے ،اور آخرت کے لیے تیاری کو کہتے ہیں۔"
(إفادات من مقالة الشيخ عبد العزيز رجب).
نشر مکرر۔