ESajawat

ESajawat Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ESajawat, Shopping Service, Islamabad.

An Online abode of allure, décor and more...
eSajawat is an online shop for ornamental elements in your life from little sparkles on your fingers to bangles and bracelets... In addition, we will be sharing the Lifestyle tips and much more Hi, Welcome to the eSajawat
To Order, take a screenshot of the item of choice and WhatsApp along with your address.
* Shipping charges Rs 200/- and free shipping with orders worth 1500 or more

25/12/2023

دھند یا سموگ
تحریر محمد اظہر حفیظ

پڑھے لکھے لوگوں کے خیال میں یہ دو مختلف چیزیں ہیں ۔ مجھ جیسے جاہل کو تو یہ ایک جیسی ہی نظر آتی ہیں۔
مجھے کسی کا غرور سے بولنا یا کسی کے غرور میں کسی کو نہ دیکھ پانا بھی دھند ہی نظر آتا ہے۔
کل 25 دسمبر تھا میں لاہور والے گھر سے پاکستان کڈنی لیور انسٹیٹیوٹ چیک اپ کرانے کیلئے نکلا۔ کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ میں اللہ سے معافی مانگ رہا تھا ۔ میری نظر کو کیا ہوگیا مجھ سے غلطی ہوگئی معاف کردیں۔ ڈی ایچ اے چوک میں لگا مینار پاکستان اپنی جگہ سے غائب تھا۔ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے باہر لکھا آئی لو یو پاکستان بھی غائب تھا۔ آگے گیا تو پاکستان کڈنی لیور انسٹیٹیوٹ کا گیٹ نمبر 1 بھی غائب تھا اب سمجھ نہیں آرہا تھا ہسپتال کے اندر کہاں سے جائیں۔ پھر دیکھا تو پورا ہسپتال بھی غائب تھا۔
میں خاموش تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ سب معاملہ کیا ہے۔ بول نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ 18 دسمبر 2023 سے آواز تقریبا سائلنٹ پر ہے میں بولتا ہوں پر میری آواز کسی کو نہیں جاتی۔ کافی دفعہ اللہ باری تعالیٰ سے معافی بھی مانگی کیونکہ کچھ دفعہ میرے منہ سے جاہلانہ الفاظ ادا ہوئے کہ میری آواز اسلام آباد میں سب سے بلند ہے اور پچھلے آٹھ دن سے رب باری تعالیٰ نے مجھے احساس دلایا کہ تمھاری آواز دنیا میں سب سے کم ہے۔
ایک نئے خوشگوار احساس نے جنم لیا جو آواز کا آہستہ پن ہے نا یہ تو محبت کی آواز ہے۔ جس سے بھی بات کرو وہ یہی سمجھتا ہے کہ بات شفقت اور محبت سے کی جارہی ہے۔ میں نے آواز اور نگاہ کے اندر پیسٹل کلرز اور واٹر کلر دیکھے۔ دھند میں رھنا اور دیکھنا مجھے وہ وقت یاد دلاتا ہے جب ہم نے سوفٹ فلٹر یا گلو فلٹر خریدے تھے اور جو رزلٹ آتا تھا اب ویسی دنیا نظر آتی ہے۔ سنا ہے آجکل حالات بہت دشوار ہیں تو رب باری تعالیٰ نے دھند اور سموگ کے ذریعے انکو سوفٹ کردیا ہے تاکہ لوگوں کی مجبوریاں اور دشواریاں کسی دنیادار کمینے کو نظر نہ ائیں۔
ذہنوں پر چھائی سموگ نکل کر بار آگئی ہے اب کسی کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ صبح سوچاایک ویلاگ ریکارڈ کروں اور دکھاؤں دنیا کو کہ دھند اور سموگ کیا ہے تو میں بے بس ہوکر رہ گیا نہ آواز تھی نہ کوئی ویژیول تھا۔ اس لیے ویلاگ کٹ نہیں کھولی۔
مجھے اس غزل کے اشعار سنائی دینے لگے
خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے
میں سجدے میں پڑ کر معافی کا طلب گار ہوگیا۔ مجھے احساس ہوا کہ کہ نعوذباللہ کتنے لوگ اس دھند میں جب کچھ دکھائی نہیں دیتا تو اپنے آپ کو نعوذباللہ خدا سمجھنا شروع کر دیتے ہوں گے۔ کہ اب صرف میں ہی ہوں۔
لاہور بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے پر بدقسمتی سے سموگ نے اس ساری ترقی کو چھپا لیا ہے۔ نہ تو غریب کی غربت نظر آرہی ہے اور نہ ہی انڈر پاسز ۔
نگران حکومت بہت تیزی سے ترقیاتی کام کروارہی ہے۔ پر شاید انکو اندازہ نہیں کہ انڈر پاسز بنوانے کے علاؤہ جو باقی کے کام ہوتے ہیں انکو بھی ترقیاتی کام ہی کہتے ہیں۔ سستے داموں اناج کی فراہمی ، علاج معالجے کی سہولیات ، اچھے روزگار اور جینے کی بنیادی سہولیات ۔
انڈر پاس کے اندر سے ہوا بہت تیزی سے گزرتی ہے ورنہ حکومت کو مشورے دیتا وہاں آرام گاہیں بنادیں کہ جو سردی سے ویسے بچ گئے ہیں ایسے ہلاک ہوجائیں۔
سب صاحب اختیار سے درخواست ہے پہلے غربت اور بے بسی کا کوئی علاج کرلیں ورنہ سب اس کا شکار ہوجائیں گے اور آپکو تو نظر کچھ نہیں آئے گا کیونکہ لاہور سموگ کا شکار ہیں۔ دعاؤں کی درخواست ہے میرے جیسے ذہنی اور جسمانی بیماروں کیلئے ۔ جو پاکستان اور انسان سے پیار کرتے ہیں۔ بلوچستان سے پیار کرتے ہیں ۔ معاف کردئیو ہن تے دھیاں پہناں تے ماواں وی سڑکاں تے اگیاں نے۔
یا باری تعالیٰ کوئی ایسی بارش ہو جائے۔ جس سے ذہنوں کی سموگ چھٹ جائے ۔ پاکستان امن کا گہوارہ بن جائے۔

23/12/2023

بازیگر
تحریر محمد اظہر حفیظ

بچپن کی بات ہے میرے گاؤں میں ایک بازیگر آتا تھا نام تھا اسکا مجید بازیگر۔
مجید بازیگر سارے گاؤں کی سالانہ انٹرٹینمنٹ ہوتا تھا۔ جب فصلوں کی کٹائی کا سیزن ہوتا وہ گاؤں گاؤں پھر کر اپنے کرتب دکھاتا تھا ۔ کبھی چارپائیاں رکھ کر انکو پھلانگتا اور کبھی ہاتھ میں حقہ پکڑ کر چھلانگ لگاتا۔
اسکی بازیگری پر سارا گاؤں داد دیتا اور پیسوں کی ویلیں کرواتے۔ میرے ابا جی بھی اسکو ویلوں کی شکل میں پیسے دیتے۔
میں ابا جی سے پوچھتا ابا جی یہ بازیگر کیا ہوتا ہے کہتے یار صاحب بازیگری جان جوکھوں کا کام ہے ۔ جسمیں بازیگر جان خطرے میں ڈال کر کرتب دکھاتا ہے اپنی محنت ، مشق اور اللہ کے فضل سے محفوظ رہتا ہے ۔
مجھے بہت شوق تھا کہ میں بھی بازیگر بن جاؤں ۔ پچاس سال ہر شعبے میں قسمت آزمائی کی پر کسی نے مجھے بازیگر نہیں مانا۔
باسکٹ بال کھیلی، پینٹنگ بنائیں ، نمائشیں کی، سکاوٹنگ کی، سفر کئے، سفر نامے لکھے، فوٹوگرافی کی، فلمیں بنائیں ، درجنوں یونیورسٹیوں میں پڑھایا ، ویلاگنگ کی۔ ایکٹنگ کی، سٹریٹ تھیٹر کیا، بائکنگ کی،جو ذھن میں آیا کہ مثبت کام ہے اس کی کوشش کی ۔ پر مجید بازیگر نہ بن پایا۔ 50 سال گزارنے کے بعد پتہ چلا کہ جگر کا ٹرانسپلانٹ ایک جان لیوا ٹریٹمنٹ ہے پر مجھے بازیگری کا شوق تھا وہ بھی کروالیا۔ اپنے ساتھ اپنی بیٹی کو بھی بازیگری پر لگا لیا وہ بائیس سال کی عمر میں بازیگر بن گئی اور میں 52 سال کی عمر میں۔
پر مجھے ہمیشہ سے نمبر ون بننے کا شوق ہے اس سے اگلے مقام تک جانے کا شوق ہے ۔ اسی جستجو میں سارا جگر ٹرانسپلانٹ اندر سے ہرنیا میں تبدیل ہوگیا۔ سرجن کا کہنا تھا کہ اسکی زندگی کا سب سے بڑا ہرنیے کا آپریشن تھا۔ جگر ٹرانسپلانٹ والے ٹانکوں کو دوبارہ کھولا گیا اند سلائی کرنے کے بعد اس پر میش رکھی گئی دوبارہ ساری سلائی ہوئی۔ 18 دسمبر 2023 کویہ سرجری پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ لاہور میں مکمل ہوئی ۔ اور میں ایک دن آئی سی یو اور پانچ دن ہسپتال رہنے کے بعد گھر لاہور آگیا۔ باقی سب بہتر ہے پر بولنے میں دقت ہے ۔ آج ہسپتال سے باہر نکلنے لگےتو بھائی طارق حفیظ سے کہا یار وہیل چئیر پر نہیں جانا چل کر جاؤں گا وہ مسکرایا یار تو باز نئیں آنا اور الحمدللہ ہاکنگ تک چل کر آئے بھائی سے کہا آپ باہر گاڑی لیکر آؤ میں بیگم صاحبہ ساتھ واک کرتا ہوں باہر تک۔ اور ایسا ہی کیا۔
باہر گاڑی آئی ہم دونوں اس میں بیٹھے اور گھر کو چل دئیے۔
میرے پیٹ میں دو عدد ویکیوم بوتلیں لگی ہوئیں ہیں ان کو شاپر میں ڈال کر چلتا ہوں۔ کہ کوئی بیمار نہ سمجھ لے ۔
مجھے آج پہلی دفعہ لگا کہ 53 سال زندگی گزارنے کے بعد میں بازیگر بن گیا ہوں۔ بار بار جان خطرے میں ڈالتا ہوں اور اللہ کے فضل وکرم سے اور آپ سب کی دعاؤں سے باحفاظت باہر نکل آتا ہوں۔
میرے گھر والے دوست احباب بھی ویسے ہی میرے لیے پریشان ہوتے ہیں جیسے سب بازیگروں کے ہوتے ہیں ۔ بتانا یہ تھا کہ بازیگر اس دفعہ پھر اللہ کے فضل سے صحتیاب ہوکر واپس گھر آگیا ہے۔ اب سوچتا ہوں بازیگری سے ریٹائرمنٹ لے لوں باقی زندگی اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں پر گزاروں ۔ اپنی صحت کا خیال رکھوں ، واک کروں ، مناسب خوراک کھاوں، شوگر بلڈ پریشر کنٹرول رکھوں۔ وزن کم کروں ، نماز باقاعدگی سے ادا کروں دین کو سمجھوں اور صحت والی زندگی اپنے پیاروں کے ساتھ گزاروں ۔ آپ سب سے ساتھ دینے کی گزارش ۔
انشاء اللہ جلد آپ سب سے ملاقاتیں ہوتیں ہیں رب دے حوالے۔

19/12/2023

الحمدللہ اظہر حفیظ بھائی سرجری کے بعد آج کمرے میں شفٹ ہوگئے ابھی فون نہیں سن سکتے۔ طارق حفیظ

17/12/2023

ایک اور
تحریر محمد اظہر حفیظ

ایک اور کا جملہ میری زندگی کا ہمیشہ سے خاصہ ہے۔
امی جی میرے لیے پراٹھہ انڈا بناتیں تو میری آواز انکو مسکرانے پر مجبور کر دیتی امی جی ایک اور ۔
پھر امی جی ہمیشہ میرے لیے دو پراٹھے یا روٹیاں ہی بناتیں تھیں۔ ساتھ انڈے بھی دو ہی۔
میرے کپڑے لینے جاتا اپنے لیے یا کسی اور کیلئے ہمیشہ دو ہی لے کر آتا ۔
امی جی اور ابا جی اس کو فضول خرچی کہتے تھے پر مجھے جب کوئی چیز پسند آجائے تو ایک اور کی آواز منہ سے نکل ہی جاتی ہے۔ ساری زندگی ایک اور کی عادت میں لاکھوں تصاویر بنا ڈالیں ۔
اگر سردرد ہے کسی نے دوائی دی تو بھی کوشش کی اس سے ایک اور کی فرمائش کردوں۔
دوسرے شہروں سے اکثر چیزیں لاتا ہوں ہوتیں ہمیشہ سب کیلئے دو دو ہی ہیں۔
اپنے لیے ہمیشہ دو جوتے ایک ہی ڈیزائن کے لیئے ایک بلیک اور ایک براؤن ،
فوٹوگرافی کی بارہ نمائشیں ہوچکی ہیں ایک اور کی خواہش میں ۔
کیمرے بھی دو ہی استعمال کرتا ہوں ایک فل فریم اور ایک کراپڈ فریم ۔
کیمرے کے بیگ بھی ایک اور کے چکر میں کئی ہوگئے یہ ایک نا مکمل ہونے والی ایک اور کی کہانی ہے۔
کیمرہ لینز ، لائٹس، کیمرہ سٹینڈ ، لائٹ سٹینڈ ایک اور کی عادت کی وجہ سے بہت سے ہوچکے ہیں۔
ویڈیو ویلاگ شروع کئے تو ایک اور کی عادت کی وجہ سے کئی دفعہ بیس اور تیس ویلاگ ایک دفعہ ہی ریکارڈ کرلیے۔ اب ان کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ چکی ہے۔
ابھی سوچا ہسپتال میں فارغ لیٹنے کے ساتھ ویلاگ بھی ریکارڈ کروں گا سامان پیک کروایا دو لائٹ، دو مائک ، دو سٹینڈ اور آج میری اپنی ہنسی نکل گئی اس ایک اور کے چکر میں ۔
زندگی میں کبھی کچھ جمع نہ کرسکا ماسوائے دوستوں کے۔ بقول احمرازہر رحمن کے سب یہ ہی سمجھتے ہیں کہ محمد اظہر حفیظ ہمارا بہت قریبی دوست ہے کاش یہ بات سچ ہو۔
دو ابلے انڈے ، دو فرائی انڈے، دو پراٹھے، دوروٹیاں، دوپلیٹ چاول، دو برگر اب تو یاد بھی نہیں ہیں کیا کیا دو دو۔
پچھلے سال جگر کا ٹرانسپلانٹ ہوا سوچا اب اس میں ایک اور کی گنجائش نہیں ہے اور اس سرجری نے خود ہی آواز لگا دی ایک اور سرجری کی بائیں طرف ہرنیا بن گیا۔ ہرنیا بھی بڑا مزےدار کریکٹر ہے کچھ سیاسی سا ۔ جس کی ہر شکل نیا پر مشتمل ہوتی ہے جیسے نیا پاکستان۔ جسم پہلے جیسا نہیں رہتا نیا بن جاتا ہے۔
اب اس ایک کی عادت کی تکمیل کیلئے آج پاکستان کڈنی لیور انسٹیٹیوٹ میں داخل ہو رہا ہوں ۔ انشاء اللہ کل صبح 18 دسمبر 2023 ایک میجر سرجری ہے ۔ ایک اور کی یہ خواہش بھی پوری ہو جائے گی۔ آپ سب نے میرے لیے بہت سی دعائیں کی جس پر اللہ کے فضل سے صحت میسر ہوئی آپ سب کا بہت شکریہ ۔ اب آپ سے پھر ایک درخواست ہمیشہ دعاؤں میں یاد رکھیں جزاک اللہِ خیر۔ ایک اور دعا کامیاب سرجری اور صحت مند زندگی کی۔
آپ سب سلامت رہیں خوش رہیں آمین ۔
انور مقصود صاحب کی آجکل منیر نیازی صاحب پر گفتگو بہت وائرل ہے سوچا میں بھی کچھ کوشش کرلوں
ایک اور بڑی سرجری کا سامنا تھا منیر
جب پہلی سے اٹھ کے میں نے دیکھا تو

10/12/2023

احمد سلیم
تحریر محمد اظہر حفیظ

احمد سلیم سے دوستی فرنٹیئر پوسٹ میں ہوئی۔ تیس سال پرانی دوستی تھی ۔ جو آج احمد سلیم کے اگلے جہاں کے سفر پر اختتام پزیر ہوئی۔ اللہ باری تعالیٰ کو شاید فرنٹیئر پوسٹ کے لوگ چاہیں شاید اگلے جہاں سے کوئی اخبار نکالنا ہے کل رحمت شاہ آفریدی صاحب انتقال فرما گئے اور آج احمد سلیم صاحب بھی اسی راستے پر چل دئیے, اسد جعفر کارٹونسٹ پہلے ہی وہاں موجود ہے اخبار کی تیاریاں لگتی ہیں، اگر فوٹوگرافر چاہیے ہوگا تو ہمیں بھی آواز آجائے گی۔
فرنٹیئر پوسٹ بلاشبہ اپنے وقت کا بہترین اخبار تھا اور اسکی ٹیم بھی انتہائی شاندار تھی۔ مجھے سب یاد ہے خالد احمد صاحب، جلیس حاضر ، راحت ڈار، انیتا، آمنہ شریف، عمران، خالد حسین، دلدار پرویز بھٹی مرحوم، سلمان شاھد، سلمان رشید، محسن، اکمل بھٹی ، مائد علی، بینا سرور، خالد بٹ، اور بہت سے لوگ ۔ ہم سب ساتھ تھے۔ بہت محنت سے کام کرتے تھے۔
میں جب نیشنل کالج آف آرٹس لاہور سے پاس ہوا تو واپس اسلام آباد آگیا اور پوسٹنگ بھی یھی کروالی۔
1993 تک احمد سلیم صاحب کی تقریباً 57 کتابیں پبلش ہوچکی تھیں۔
کچھ عرصہ رابطہ نہ رہا کیونکہ میں مارچ 1994 کو اسلام آباد۔ ٹرانسفر ہوکر واپس گھر آگیا تھا ۔ کچھ عرصہ نوکری کرنے کے بعد میں نے ایڈورٹائزنگ ایجنسی بنا لی۔ اور پھر سے احمد سلیم صاحب سے ملاقاتیں لشروع ہوگئیں۔
میں فیشن انڈسٹری اور اس کی خرافات میں کھویا ہوا تھا زندگی میں کوئی آجاتا اور کوئی چلا جاتا عجیب و غریب زندگی تھی۔
ایک شخص1996 میں میری زندگی میں آیا اور چھ ماہ بعد زندگی سے چلا گیا۔
میں کافی ڈسٹرب تھا ۔ انہیں دنوں احمد سلیم میرے دفتر آئے اور مجھ سے اپنی کتابوں کے ٹائٹل بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
میں نے حامی بھر لی اور وہ ریفرنس کیلئے مجھ اپنی چند پرانی کتب دے گئے کہ ایسے ٹائٹل ہوتے ہیں میری کتب کے۔
ایک کتاب تھی "گھڑی دی ٹک ٹک" اور دوسری تھی "عمر دی چھت ھیٹاں"۔
میں ذھنی اذیت میں تھا اور عمر دی چھت ھیٹاں پڑھنی شروع کردی۔
پہلی نظم ہی میرے درد میری تکلیف سے مجھے نکال کر زندگی میں واپس لے ائی۔
پنجابی نظم مجھے آج بھی یاد ہے
عمر دی چھت ھیٹاں

بڑا دکھ ہوندا اے
مل کے وچھڑ جان دا
تے او وی اننی چھیتی
کہ مگروں یاداں وی
نہ جھوڑیاں جاسکن
پر ہور دکھ ہوندا اے
عمر دی چھت ھیٹاں
روز ملنا پر کدی نہ ملنا
اک دوجے نوں

یہ وہ نظم تھی جو میری تکلیف کا تریاق بنی اور میں زندگی میں لوٹ ایا۔
میں نے احمد سلیم صاحب کو فون کیا کہ میں آپ کی کتاب کا ٹائٹل بلامعاوضہ بناؤں گا۔
ہنستے ہوئے یار او کیوں
تو میں نے کہا میں ایک اذیت میں تھا پر آپکی ایک نظم مجھے اس اذیت سے نکال گئی۔ ہنستے ہوئے کہنے لگے یار تو حکم کر میں کاغذ پر ہاتھ سے لکھ کر دستخطوں سے پیش کروں۔
میرا مسئلہ حل ہوگیا اس کی ضرورت نہیں۔
احمد سلیم صاحب کی بیشتر زندگی تنگدستی میں گزری لیکن بڑھاپے میں آکر وہ کافی بہتر حالات میں تھے۔جب انھوں نے ایس ڈی پی آئی کو جوائن کیا۔ پھر وہ کینسر جیسی موذی بیماری کا شکار ہوئے اللہ نے اس میں بھی صحت عطا کی۔
مجھے انکی کی نظم

میرے کول نظماں ہی نئیں
ایک گڈی وی ہونی چاہیدی اے

اکثر رولا دیتی ہے۔
1993 میں وہ اکثر ویگن پر سفر کیا کرتے تھے۔
کل انکا انتقال ہوگیا اللہ تعالیٰ ان کیلئے اگلے مراحل آسان فرمائے آمین

03/12/2023

سزائے موت کے قیدی
تحریر محمد اظہر حفیظ

ہم سب سزائے موت کے قیدی ہیں اور ان کی طرح ہی دنیا بند ہیں اور انتظار کررہے ہیں کہ کب یہ سزا پوری ہو اور ہم دنیا چھوڑ جائیں۔
کچھ لوگوں کو اس قید میں اے کلاس ملی ہوئی ہے ائرکنڈیشنڈ کمرے ،کیبل ٹی وی، فریج اور خدمت کیلئے خدمت گار مرضی کا کھانا پینا، بستر اور واک کیلئے جگہ بھی مہیا کی گئی ہے۔
پھر آجاتے ہیں بی کلاس دنیا بند قیدی کیبل ٹی وی تو ہے پر ائرکنڈیشن کی سہولت نہیں ہے اور نہ ہی خدمت گزار۔ پھر آجاتی ہے سی کلاس جس میں پنکھے کی ہی سہولت ہے باقی کچھ نہیں۔ان سب کو اٹیچ باتھ بغیر دروازے کی سہولت مہیا ہوتی ہے۔
پھر آجاتے ہیں موت کی کوٹھری کے قیدی، کوئی سہولت نہیں اور سارا دن مزدوری ہی مزدوری اور مل بھی کسی سے نہیں سکتے۔ یہ سب دین کی طرف واپس آجاتے ہیں نماز ادا کرتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے بس میں نہیں ہوتا کہ صدقہ خیرات کرسکیں۔ اس فارمولے کو جیل کے اندر اور عام دنیا پر لاگو کرلیں آپ کو ساری کہانی قید کی سمجھ آجائے گی۔ کچھ سیانے لوگ کہتے ہیں کہ دنیا مقافات عمل ہے ، مجھے تو لگتا ہے کہ عمل کسی اور نے کئے ہیں اور سزا ہمارے لیے ہے۔ کچھ قیدی بیماری کی بہانہ بنا کر قید کا مقام دنیا سے ہسپتال تک تبدیل کروالیتے ہیں اور باقی زندگی ہسپتال میں گزار دیتے ہیں پر بات قابل توجہ ہے کہ انکو موت وہاں بھی آجاتی ہے۔
کچھ قیدیوں کی ڈیوٹی پڑھانے پر لگی ہے جو باقی زندگی کے قیدیوں کو پڑھانے پر مامور ہیں۔ کچھ پڑھاپڑھا کر مرے جارہے ہیں اور کچھ پڑھ کر۔ جو نہیں پڑھے ہیں وہ انتہائی موج میں ہیں۔ کچھ دینی تعلیم پر مامور ہیں عجیب قیدی ہیں دین اسلام کی بجائے جس فرقے کی تعلیم دینے پر قید ہیں اسی کی تعلیم دیئے جارہے ہیں ،
کچھ سیاسی قیدی ہیں جو سیاست کرتے ہیں بڑے بڑے گھر بناتے ہیں بڑی بڑی گاڑیاں چلاتے ہیں اور غریب سے غربت دور کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ غریب قیدی بھی عجیب قیدی ہوتے ہیں۔ سیاسی قیدیوں کی باتوں کو سچ سمجھتے ہیں اور ہمیشہ غریب، غریب ہی رہتے ہیں اور غریب ہی مر جاتے ہیں۔
کوئی ان غریب قیدیوں کو بتائے کہ ہنر سیکھیں اپنی مدد آپ کریں اور غربت سے نکل جائیں اور سیاسی قیدیوں کی باتوں سے ہمیشہ گریز اور پرہیز کریں۔
کچھ محبت ،پیار اور عشق کے قیدی ہیں جنکی قید جھوٹے وعدوں ، ارادوں تک محدود ہوتی ہے۔ یہ سیاسی قیدیوں سے بھی زیادہ چالاک ہوتے ہیں ۔ یہ پیار بھری باتوں سے لوگوں کی زندگیاں تباہ و برباد کر جاتے ہیں۔ اور ایک پروجیکٹ کی ناکامی کے بعد دوسرا شروع کرنے کیلے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔
جب ہم سب سزائے موت کے قیدی ہی ہیں تو پھر ہم اپنی زندگی کے طور طریقے رب کے بتائے ہوئے نظام کے مطابق کیوں نہیں گزارتے۔ دھوکہ، فراڈ، جھوٹ فریب چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔
سنا ہے ایک دن قیامت کا ہوگا حالانکہ یہاں ہر روز قیامت کا ہوتا ہے۔ اس روز سارے دنیا والے رب کے حضور پیش ہونگے اور یہ واحد حساب ہوگا جس میں گڑبڑ کی چالاکیوں کی اجازت نہ ہوگی اس کو یوم حساب کہا جائے گا ۔ ہر قیدی کا اعمال نامی اس کے ھاتھ میں ہوگا جن کو حساب دینا ہوگا وہ خود سب جانتے ہونگے تو پھر کیا منظر ہوگا کیا خوف ہو کیا کرو گے کیا بتاؤ گے۔ احتیاط کیجئے دنیا احتیاط سے گزارئیے ۔ یا پھر انتظار کیجئے کہ کب ہماری اور آپکی دنیا ختم ہوگی۔

17/11/2023

اچھے وقت

تحریر محمد اظہر حفیظ
میرے والدین اچھے وقت پر اگلے جہاں کے سفر پر چلے گئے۔ ورنہ جو زندگی میں نے گزاری شاید وہ برداشت نہ کرسکتے۔ سنا ہے لوگوں کے والدین ان کے خوابوں میں آتے ہیں۔ شکر ہے میرے والدین میرے خواب میں نہیں آتے ورنہ ان کے گلے لگ کر شاید میں رو پڑتا اور وہ اگلے جہان میں بھی دکھی ہوجاتے۔ مجھے ہر دکھ اور سکھ میں اپنے والدین یاد آتے ہیں۔ اور میں ان کو یاد کرکے رنجیدہ اور آبدیدہ ہوجاتا ہوں۔ ابا جی ہوتے تو کہتے نہ میرا صاحب پتر انج نہیں کردے چل شاباش میرا پتر اٹھ منہ ہتھ دھو تے فر عثمانیہ ریسٹورنٹ چلیے میں اپنے صاحب نوں بکرے دی روسٹ. ران کھلا کے لیانا واں۔ تے امی جی حیات ہوندے تے کہندے نہ میرا لعل جوان بندے روندے چنگے نہیں لگدے۔ ہن کینوں کی دساں نہ جوانی رہی تے نہ ہی عثمانیہ دی ران روسٹ رہی۔ تے سچی گل اے ہن او رونے وی نہیں رہے۔ پہلے کدی کدھار روئی دا سی ماں باپ دا ساتھ ہی بڑا ہوندا اے پر ہن گل گل تے رونا نکل جاندا اے۔ سنیا اے پہلے وقت اچھا سی ہن پہلے ورگا نہیں رھیا۔
پہلے ہر شے چنگی لگدی سی ہن تے سواد وی او والے نہیں رہے۔
پہلے ہلکا جیا سر یا پیٹ دکھدا تے ہائے امی جی ، ہائے امی جی کی ہویا میرے لعل نوں امی جی صدقے واری جاندے سن۔ پچھلے سال جگر ٹرانسپلانٹ ہوا کافی بڑی سرجری تھی۔ کئی گھنٹے آپریشن چلتا رہا ۔ شکر الحمدللہ سب اچھا ہوگیا۔ جب ہوش آیا سب اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے تہانوں پتہ وی اے اسی سارے کننے پریشان ساں۔ کسطرح مشکل سے وقت گزرا۔ میں نے مسکرا کر کہا مجھے کیسے پتہ چلتا میں تو بے ہوش تھا اور پھر میں رونے لگ گیا۔ کہ مجھے زندگی میں کبھی کسی کی پریشانی سمجھ ہی نہیں آئی۔ آپریشن کے کچھ ماہ بعد میرے آپریشن والی جگہ پر ہرنیا بن گئیں اور اب ایک اور آپریشن کی تیاری ہے غالباً چار سے پانچ گھنٹے کی سرجری ہے۔ مجھے سرجری کی کوئی فکر نہیں ہے بس تکلیف اس بات کی ہے کہ میرے سے وابستہ لوگوں کو بہت تکلیف ہوگی پریشانی ہوگی۔ میں ایک بہادر شخص تھا شاید دنیا یہی سمجھتی ہے، مجھے احساس ہوتا ہے کہ شاید اب بھی ہوں ۔ میرے اللہ نے مجھے ہمیشہ ہمت دی۔ ٹیم ساری وہی پرانی ہے جو پچھلی سرجری میں ساتھ تھی پر اس دفعہ ایک ہی سرجری ہے وہ میری ہے پہلے میری بیٹی بھی ساتھ تھی ۔ شکر الحمدللہ وہ اب صحت مند ہے۔ میرا جگر بھی الحمدللہ بہترین ہے پر ہرنیا کی وجہ سے مجھے اٹھنے ، بیٹھنے، لیٹنے اور چلنے میں مشکل ہوتی ہے۔ دل مطمئن ہے کہ میرے والدین مناسب وقت پر پردہ فرما گئے ورنہ بہت پریشان ہوتے۔ اور میں بھی انکو دیکھ کر کمزور پڑ جاتا۔ میں نے ان دردوں کے سفر میں یہ دیکھا ہے کہ والدین کی موجودگی میں انجیکشن لگنے کا احساس بھی زیادہ ہوتا ہے اور ان کے بغیر بڑی سے بڑی سرجری بھی عام محسوس ہوتی ہے۔ پہلے تو کئی کئی دن انجیکشن کی درد نہیں جاتی تھی اور اب توجگر ٹرانسپلانٹ کے کچھ دن بعد میں چلنا پھرنا شروع ہوگیا تھا۔میری بیٹی کچھ عرصے بعد چلنا پھرنا شروع ہوئی کیونکہ اس کی کمزوری اس کے والدین ساتھ تھے۔ مجھے نہیں سمجھ آتی کہ جب والدین ساتھ ہوں تو آپ کمزور ہوتے ہیں یا مضبوط۔
اچھے وقت کونسے ہیں جب آپ بادشاہ کی اولاد ہوتے ہیں یا پھر خود بادشاہ ہوتے ہیں ۔ بادشاہ کی اولاد ہونا خوش نصیبی ہے جو والد کی زندگی میں ہر انسان سمجھتا ہے۔ پر جب خود بادشاہ بنتا ہے تو بادشاہت اور اس کی مجبوریوں کی سمجھ آتی ہے۔ میرے ایک دوست نے ایک دفعہ کہا تھا سر جی قبر کا حال مردہ ہی جانتا ہے،باہر والے تو قیاس آرائیاں ہی کرتے ہیں ۔ مجھے یہ بات زندگی میں بار ہا سمجھ آئی۔
دوسری سرجری کا پروسیس شروع ہوگیا ہے۔ ٹیسٹ آج مکمل ہوگئے ہیں اب اگلے ہفتے لاہور پاکستان کڈنی لیور انسٹیٹیوٹ میں چیک اپ ہوگا اور سرجری کی تاریخ مل جائے گی انشاءاللہ۔ دعاوں کی درخواست ہے۔ امید ہے اچھے وقت لوٹ آئیں گے۔ اور میں بھی انشاء الله

اسلام علیکم دوستوں کی محبت کی نظر میری دوسری کتاب ، جو کہ جلد آپ حاصل کر سکیں گے پرنٹ کی شکل میں انشاءاللہ تفصیلات جلد ش...
12/11/2023

اسلام علیکم دوستوں کی محبت کی نظر میری دوسری کتاب ، جو کہ جلد آپ حاصل کر سکیں گے پرنٹ کی شکل میں انشاءاللہ تفصیلات جلد شئیر کروں گا۔ انتظار کیجئے گا شکریہ۔

27/10/2023

تیرےفارغ وقت دا شغل جو ہاں
جیویں دل آکھے اووین رولی رکھ

27/10/2023

Address

Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ESajawat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ESajawat:

Share