08/09/2026
🌙 آئرا — قسط پنجم 🌙
آخری تارہ بجھ چکا تھا۔
روشنی کا ہاتھ آئرا کی انگلیوں سے لپٹا، اور اگلے ہی پل دنیا سفید ہو گئی — نہ درد، نہ آواز، بس ایک خاموش، بے وزن سفر جیسے وہ خود روشنی بن گئی ہو۔
جب اس کی آنکھ کھلی، وہ ایک ایسے میدان میں کھڑی تھی جو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔ آسمان سنہری اور جامنی رنگوں کی لہروں میں گھلا ہوا تھا، جیسے کسی نے رنگین روشنائی سے پورے افق کو رنگ دیا ہو۔ دو چاند — ایک بڑا، ایک چھوٹا — ایک ساتھ چمک رہے تھے، اور ان کی روشنی زمین پر پڑتے ہی دو مختلف سائے بناتی تھی۔
ہوا میں وہی خوشبو تھی جو اس کے لاکٹ سے آتی تھی، مگر یہاں یہ ہر سانس میں بسی ہوئی تھی، جیسے خود فضا زندہ ہو۔
درخت شیشے کی طرح چمکتے تھے، ان کی جڑیں زمین کے بجائے ہوا میں معلق تھیں، اور جب ہوا ان کے پتوں سے گزرتی تو ہلکی سی جھنکار سنائی دیتی، جیسے ہزاروں چھوٹی گھنٹیاں بیک وقت بج رہی ہوں۔
دور کہیں، رنگ بدلتے پرندے جھنڈ کی صورت میں فضا میں یوں تیر رہے تھے جیسے پانی میں مچھلیاں، اور زمین پر اگے پھول ہر سانس کے ساتھ آہستہ آہستہ کھلتے اور بند ہوتے تھے، جیسے وہ بھی سانس لے رہے ہوں۔
یہ زمین نہیں، ایک زندہ، سانس لیتا خواب تھا۔
"یہ... یہ نیمورا ہے؟" آئرا نے سرگوشی کی۔
"ہاں، بیٹی۔"
وہی آواز۔ وہی عورت جس نے اسے دروازے کے پار سے پکارا تھا۔ آئرا نے مڑ کر دیکھا — اور اس کے قدم رک گئے۔
عورت کی عمر کا کوئی حساب نہیں تھا۔ اس کے بال سنہرے تھے، جیسے دھوپ کی کرنیں بُنی گئی ہوں، مگر چہرہ جوان تھا، اور آنکھیں بالکل ویسی ہی جیسی آئرا نے آئینے میں ہزاروں بار دیکھی تھیں۔ وہی رنگ، وہی کاٹ۔
"تم مجھے جانتی ہو؟" آئرا کی آواز کانپ رہی تھی۔
عورت آہستہ سے مسکرائی، مگر اس مسکراہٹ میں سالوں کا انتظار اور درد چھپا تھا۔
"میں تمہیں اس دن سے جانتی ہوں جس دن تم میری کوکھ سے اس دنیا میں آئی تھیں۔ اور جس دن میں نے تمہیں اپنے ہاتھوں سے اس دروازے کے پار بھیجا، تاکہ تم زندہ رہ سکو۔"
آئرا کے پیروں تلے زمین ہل گئی۔
"تو زینب... زینب میری ماں نہیں؟"
"زینب نے تمہیں پالا، تمہیں محبت دی، تمہاری حفاظت کی۔ یہ سب سچ ہے۔ مگر جو خون تمہاری رگوں میں دوڑتا ہے، جو روشنی تمہارے لاکٹ میں دھڑکتی ہے — وہ نیمورا کی ہے۔ وہ میری ہے۔"
عورت نے ہاتھ بڑھایا۔
"میرا نام روشنی کی زبان میں نہیں کہا جا سکتا، اس لیے یہاں کے لوگ مجھے صرف 'گارڈین' کہتے ہیں۔ مگر تمہارے لیے... میں تمہاری اصل ماں ہوں۔"
آئرا کے ذہن میں سوالوں کا طوفان اٹھا۔ کیوں چھوڑا؟ کیوں الگ کیا؟ مگر اس کی زبان سے صرف اتنا نکلا:
"پھر مجھے کیوں بھیجا؟ اگر تم میری ماں ہو، تو مجھے اپنے پاس کیوں نہ رکھا؟"
گارڈین کی آنکھوں میں پہلی بار نمی چمکی۔
"کیونکہ جس دن تم پیدا ہوئیں، اسی رات نیمورا پر سایہ منڈلانے لگا تھا۔ ایک ایسی طاقت جو ہر اس بچے کو نگل جاتی ہے جو دو دنیاؤں کے خون سے جنمے۔ میں نے تمہیں اس دنیا میں چھپایا تاکہ سایہ تم تک نہ پہنچ سکے۔"
وہ رکی، پھر آہستہ سے بولی:
"مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ پھر بھی تمہیں ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔"
عین اسی لمحے، دور کہیں زمین کانپی۔
نیمورا کے میدانوں پر جو دوسرا چاند چمک رہا تھا، وہ اچانک مدھم پڑنے لگا۔
✨ دوسری طرف...
جبکہ آئرا نیمورا کے میدان میں کھڑی اپنی اصل ماں کے سامنے تھی، گاؤں میں دروازہ اب بھی پوری طرح بند نہیں ہوا تھا۔
سنگی دروازے کی دراڑ سے سنہری روشنی اب بھی رِس رہی تھی، جیسے کوئی زخم جو مندمل ہونے سے انکار کرے۔
زینب زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھی، دونوں ہاتھوں سے دروازے کو دھکیلنے کی کوشش کر رہی تھی۔
"بند ہو جاؤ! بند ہو جاؤ، خدا کے لیے!"
نمو اس کے سر کے اوپر بے چینی سے چکر کاٹ رہا تھا، اس کی روشنی ماند پڑ چکی تھی۔
"زینب، یہ دروازہ خود بند نہیں ہوگا۔ کچھ ہے جو اسے کھلا رکھنا چاہتا ہے۔"
اور تبھی، جھاڑیوں کے پیچھے سے وہی لمبا، ہڈیوں جیسا سایہ دھیرے دھیرے آگے بڑھا۔
وہی سایہ جو کئی راتوں سے آئرا کا پیچھا کرتا رہا تھا، اب سیدھا دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا۔
زینب پیچھے ہٹی۔
"نہیں... نہیں، تم واپس چلے جاؤ!"
سایہ رکا نہیں۔
وہ دروازے کی دراڑ کے عین سامنے آ کھڑا ہوا، اور جیسے ہی سنہری روشنی اس کے وجود سے ٹکرائی، سایہ آہستہ آہستہ روشنی میں گھلنے لگا — اس کی دھندلی ہیئت پگھل کر ایک حقیقی جسم میں ڈھلنے لگی۔
پہلے دو ہاتھ نمودار ہوئے۔
پھر ایک چوڑا کندھا۔
پھر ایک چہرہ — تھکا ہوا، بوڑھا سا لگتا تھا مگر کسی حد تک جانا پہچانا۔
زینب کی سانس رک گئی۔
اس کی چیخ گلے میں ہی اٹک کر رہ گئی، اور جب آواز نکلی تو وہ صرف ایک نام تھا — ایک ایسا نام جو اس نے برسوں سے کسی کے سامنے نہیں لیا تھا:
"...ریحان؟"
مرد کی آنکھیں کھلیں — انسانی آنکھیں، مگر ان میں نیمورا کی سنہری چمک ابھی تک باقی تھی۔
اس نے زینب کی طرف دیکھا، ہونٹ ہلے، اور بمشکل سرگوشی کی طرح الفاظ نکلے:
"زینب... میں واپس آ گیا ہوں۔ اُس بچی کے لیے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے اِس دہلیز تک پہنچایا تھا۔"
زینب کے پیر لڑکھڑا گئے۔
"تم... تم کیا کہہ رہے ہو؟ تم کس بچی کی بات کر رہے ہو؟"
ریحان نے کچھ نہ کہا۔
اس کی خاموشی، اس کی نظریں — سب کچھ ایسے راز کی طرف اشارہ کر رہے تھے جو ابھی کھلنا باقی تھا۔..جاری ہے 🌙✨