The Realm Between Worlds

The Realm Between Worlds ✨ Stories Beyond Imagination ✨
📖 Fantasy • Mystery • Emotions
🎬 Short Stories & Videos
🌙 Enter a world where every word tells a story.

🌙 آئرا — قسط پنجم 🌙آخری تارہ بجھ چکا تھا۔روشنی کا ہاتھ آئرا کی انگلیوں سے لپٹا، اور اگلے ہی پل دنیا سفید ہو گئی — نہ درد...
08/09/2026

🌙 آئرا — قسط پنجم 🌙
آخری تارہ بجھ چکا تھا۔
روشنی کا ہاتھ آئرا کی انگلیوں سے لپٹا، اور اگلے ہی پل دنیا سفید ہو گئی — نہ درد، نہ آواز، بس ایک خاموش، بے وزن سفر جیسے وہ خود روشنی بن گئی ہو۔
جب اس کی آنکھ کھلی، وہ ایک ایسے میدان میں کھڑی تھی جو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔ آسمان سنہری اور جامنی رنگوں کی لہروں میں گھلا ہوا تھا، جیسے کسی نے رنگین روشنائی سے پورے افق کو رنگ دیا ہو۔ دو چاند — ایک بڑا، ایک چھوٹا — ایک ساتھ چمک رہے تھے، اور ان کی روشنی زمین پر پڑتے ہی دو مختلف سائے بناتی تھی۔
ہوا میں وہی خوشبو تھی جو اس کے لاکٹ سے آتی تھی، مگر یہاں یہ ہر سانس میں بسی ہوئی تھی، جیسے خود فضا زندہ ہو۔
درخت شیشے کی طرح چمکتے تھے، ان کی جڑیں زمین کے بجائے ہوا میں معلق تھیں، اور جب ہوا ان کے پتوں سے گزرتی تو ہلکی سی جھنکار سنائی دیتی، جیسے ہزاروں چھوٹی گھنٹیاں بیک وقت بج رہی ہوں۔
دور کہیں، رنگ بدلتے پرندے جھنڈ کی صورت میں فضا میں یوں تیر رہے تھے جیسے پانی میں مچھلیاں، اور زمین پر اگے پھول ہر سانس کے ساتھ آہستہ آہستہ کھلتے اور بند ہوتے تھے، جیسے وہ بھی سانس لے رہے ہوں۔
یہ زمین نہیں، ایک زندہ، سانس لیتا خواب تھا۔
"یہ... یہ نیمورا ہے؟" آئرا نے سرگوشی کی۔
"ہاں، بیٹی۔"
وہی آواز۔ وہی عورت جس نے اسے دروازے کے پار سے پکارا تھا۔ آئرا نے مڑ کر دیکھا — اور اس کے قدم رک گئے۔
عورت کی عمر کا کوئی حساب نہیں تھا۔ اس کے بال سنہرے تھے، جیسے دھوپ کی کرنیں بُنی گئی ہوں، مگر چہرہ جوان تھا، اور آنکھیں بالکل ویسی ہی جیسی آئرا نے آئینے میں ہزاروں بار دیکھی تھیں۔ وہی رنگ، وہی کاٹ۔
"تم مجھے جانتی ہو؟" آئرا کی آواز کانپ رہی تھی۔
عورت آہستہ سے مسکرائی، مگر اس مسکراہٹ میں سالوں کا انتظار اور درد چھپا تھا۔
"میں تمہیں اس دن سے جانتی ہوں جس دن تم میری کوکھ سے اس دنیا میں آئی تھیں۔ اور جس دن میں نے تمہیں اپنے ہاتھوں سے اس دروازے کے پار بھیجا، تاکہ تم زندہ رہ سکو۔"
آئرا کے پیروں تلے زمین ہل گئی۔
"تو زینب... زینب میری ماں نہیں؟"
"زینب نے تمہیں پالا، تمہیں محبت دی، تمہاری حفاظت کی۔ یہ سب سچ ہے۔ مگر جو خون تمہاری رگوں میں دوڑتا ہے، جو روشنی تمہارے لاکٹ میں دھڑکتی ہے — وہ نیمورا کی ہے۔ وہ میری ہے۔"
عورت نے ہاتھ بڑھایا۔
"میرا نام روشنی کی زبان میں نہیں کہا جا سکتا، اس لیے یہاں کے لوگ مجھے صرف 'گارڈین' کہتے ہیں۔ مگر تمہارے لیے... میں تمہاری اصل ماں ہوں۔"
آئرا کے ذہن میں سوالوں کا طوفان اٹھا۔ کیوں چھوڑا؟ کیوں الگ کیا؟ مگر اس کی زبان سے صرف اتنا نکلا:
"پھر مجھے کیوں بھیجا؟ اگر تم میری ماں ہو، تو مجھے اپنے پاس کیوں نہ رکھا؟"
گارڈین کی آنکھوں میں پہلی بار نمی چمکی۔
"کیونکہ جس دن تم پیدا ہوئیں، اسی رات نیمورا پر سایہ منڈلانے لگا تھا۔ ایک ایسی طاقت جو ہر اس بچے کو نگل جاتی ہے جو دو دنیاؤں کے خون سے جنمے۔ میں نے تمہیں اس دنیا میں چھپایا تاکہ سایہ تم تک نہ پہنچ سکے۔"
وہ رکی، پھر آہستہ سے بولی:
"مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ پھر بھی تمہیں ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔"
عین اسی لمحے، دور کہیں زمین کانپی۔
نیمورا کے میدانوں پر جو دوسرا چاند چمک رہا تھا، وہ اچانک مدھم پڑنے لگا۔
✨ دوسری طرف...
جبکہ آئرا نیمورا کے میدان میں کھڑی اپنی اصل ماں کے سامنے تھی، گاؤں میں دروازہ اب بھی پوری طرح بند نہیں ہوا تھا۔
سنگی دروازے کی دراڑ سے سنہری روشنی اب بھی رِس رہی تھی، جیسے کوئی زخم جو مندمل ہونے سے انکار کرے۔
زینب زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھی، دونوں ہاتھوں سے دروازے کو دھکیلنے کی کوشش کر رہی تھی۔
"بند ہو جاؤ! بند ہو جاؤ، خدا کے لیے!"
نمو اس کے سر کے اوپر بے چینی سے چکر کاٹ رہا تھا، اس کی روشنی ماند پڑ چکی تھی۔
"زینب، یہ دروازہ خود بند نہیں ہوگا۔ کچھ ہے جو اسے کھلا رکھنا چاہتا ہے۔"
اور تبھی، جھاڑیوں کے پیچھے سے وہی لمبا، ہڈیوں جیسا سایہ دھیرے دھیرے آگے بڑھا۔
وہی سایہ جو کئی راتوں سے آئرا کا پیچھا کرتا رہا تھا، اب سیدھا دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا۔
زینب پیچھے ہٹی۔
"نہیں... نہیں، تم واپس چلے جاؤ!"
سایہ رکا نہیں۔
وہ دروازے کی دراڑ کے عین سامنے آ کھڑا ہوا، اور جیسے ہی سنہری روشنی اس کے وجود سے ٹکرائی، سایہ آہستہ آہستہ روشنی میں گھلنے لگا — اس کی دھندلی ہیئت پگھل کر ایک حقیقی جسم میں ڈھلنے لگی۔
پہلے دو ہاتھ نمودار ہوئے۔
پھر ایک چوڑا کندھا۔
پھر ایک چہرہ — تھکا ہوا، بوڑھا سا لگتا تھا مگر کسی حد تک جانا پہچانا۔
زینب کی سانس رک گئی۔
اس کی چیخ گلے میں ہی اٹک کر رہ گئی، اور جب آواز نکلی تو وہ صرف ایک نام تھا — ایک ایسا نام جو اس نے برسوں سے کسی کے سامنے نہیں لیا تھا:
"...ریحان؟"
مرد کی آنکھیں کھلیں — انسانی آنکھیں، مگر ان میں نیمورا کی سنہری چمک ابھی تک باقی تھی۔
اس نے زینب کی طرف دیکھا، ہونٹ ہلے، اور بمشکل سرگوشی کی طرح الفاظ نکلے:
"زینب... میں واپس آ گیا ہوں۔ اُس بچی کے لیے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے اِس دہلیز تک پہنچایا تھا۔"
زینب کے پیر لڑکھڑا گئے۔
"تم... تم کیا کہہ رہے ہو؟ تم کس بچی کی بات کر رہے ہو؟"
ریحان نے کچھ نہ کہا۔
اس کی خاموشی، اس کی نظریں — سب کچھ ایسے راز کی طرف اشارہ کر رہے تھے جو ابھی کھلنا باقی تھا۔..جاری ہے 🌙✨

08/09/2026
آئرہ — قسط چہارمآسمان میں صرف تین ستارے باقی تھے، اور آج رات چاند اپنے پورے حسن کے ساتھ چمک رہا تھا — بالکل ویسا ہی جیسا...
07/09/2026

آئرہ — قسط چہارم
آسمان میں صرف تین ستارے باقی تھے، اور آج رات چاند اپنے پورے حسن کے ساتھ چمک رہا تھا — بالکل ویسا ہی جیسا نیمو نے وعدہ کیا تھا: "میں دوبارہ آؤں گی، جب چاند دوبارہ پورا ہوگا۔"
آئرہ اپنے کمرے کی کھڑکی پر ماتھا ٹکائے بیٹھی تھی، ہاتھ میں وہی پرانا لاکٹ سختی سے دبائے، جیسے وہ اسے کسی سے چھپا رہی ہو — یا شاید خود اپنے آپ سے۔ آیا کے الفاظ ابھی تک اس کے سینے میں کسی چھری کی طرح گڑے ہوئے تھے: "یہ بچی زینب کا خون نہیں ہے۔"
اس جملے نے اس کی پوری زندگی کو ایک لمحے میں توڑ دیا تھا۔ وہ ماں، جس کی گود میں اس نے ہر ڈراؤنا خواب بھلایا تھا، جس کے ہاتھ کی روٹی پر اس کا بچپن گزرا تھا — کیا وہ سب ایک جھوٹ تھا؟
اچانک کھڑکی کے شیشے پر ایک مدھم، لرزتی ہوئی روشنی نمودار ہوئی۔ نیمو۔ بالکل جیسے اس نے وعدہ کیا تھا، مگر آج اس کی چمک میں وہ معصوم گرمجوشی نہیں تھی — آج وہ بےچین تھا، جیسے کسی آفت کو محسوس کر رہا ہو۔
"تم بھاگ نہیں سکتیں، آئرہ،" نیمو کی آواز میں آج خوف صاف جھلک رہا تھا۔ "نیمورا خود تمہیں بلا رہی ہے۔ اور کوئی دروازہ ہمیشہ کے لیے بند نہیں رہتا۔"
آئرہ نے لاکٹ کھولا۔ اندر وہی نشان — دو مڑے ہوئے دائرے، ایک دوسرے میں پیوست — چاندنی میں دھڑک رہا تھا، جیسے کسی زندہ دل کی دھڑکن ہو۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ خوف تھا، مگر اس سے کہیں بڑی ایک پیاس بھی تھی — سچائی جاننے کی پیاس۔
اس نے دروازے کی طرف دیکھا۔ زینب سو رہی تھی۔ ایک لمحے کے لیے آئرہ کا دل چاہا وہ اندر جا کر اسے جگا دے، پوچھ لے، رو لے اس کے کندھے پر۔ مگر پھر اسے وہ لفظ یاد آئے — "یہ بچی زینب کا خون نہیں ہے" — اور اس کے قدم رک گئے۔ اگر یہ سچ ہے، تو جواب اس گھر میں نہیں، اس دروازے کے پار ہے۔
وہ چپکے سے کھڑکی سے نکلی، ننگے پاؤں، دل زور سے دھڑکتا ہوا۔ نیمو کندھے پر بیٹھا، اپنی مدھم روشنی سے راستہ دکھاتا رہا۔
جنگل میں داخل ہوتے ہی دھند اس کے گرد لپٹنے لگی، جیسے جنگل خود اسے نگل رہا ہو۔ درختوں کے سائے چاندنی میں عجیب سی شکلیں بنا رہے تھے۔ اور پھر — اسے احساس ہوا۔ پیچھے، دور نہیں، بہت قریب، ایک سایہ اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ لمبا، دبلا، ہڈیوں جیسا وجود، جس کی کوئی صاف شکل نہ تھی، صرف ایک بھاری، دبا ہوا احساسِ خطرہ۔ جب آئرہ رکتی، وہ سایہ بھی رک جاتا۔ جب وہ مڑ کر دیکھتی، دھند کے سوا کچھ نہ ہوتا۔
"نیمو," اس نے سرگوشی کی، "کیا تم بھی اسے دیکھ رہے ہو؟"
نیمو کی روشنی مزید مدھم ہو گئی۔ "وہ ہمیشہ سے یہیں تھا، آئرہ۔ بس آج تک وہ چھپا ہوا تھا۔"
آخرکار وہ قدیم سنگی دروازے تک پہنچی — وہی جگہ جہاں سب کچھ شروع ہوا تھا۔ چاندنی میں دروازہ کسی زندہ چیز کی طرح چمک رہا تھا۔
وہی بھاری، سرد آواز جنگل کی گہرائیوں سے گونجی: "تمہیں واپس چلا جانا چاہیے تھا، آئرہ۔ ابھی بھی وقت ہے۔"
آئرہ کے اندر خوف اور غصہ ایک ساتھ ابلے۔ اس نے اپنی آواز میں لرزش کو دبا کر کہا: "میں جانتی ہوں میں کون نہیں ہوں۔ اب مجھے کوئی بتائے یا نہ بتائے — میں خود پتا لگاؤں گی میں کون ہوں۔"
اس کے پیچھے کھڑا سایہ کچھ اور قریب سرکا، جیسے اس کے اس عزم نے اسے مزید طاقت دے دی ہو۔ نیمو خوفزدہ ہو کر چیخا: "وہ آ رہا ہے! آئرہ، جلدی!"
دروازے میں اچانک ایک باریک دراڑ پڑی۔ اس دراڑ سے سنہری روشنی کی ایک لکیر پھوٹی، پھر پھیلتی چلی گئی، اور پتھر ایک ایک کر کے چٹخنے لگے، جیسے صدیوں کی قید ٹوٹ رہی ہو۔ اور پھر — ایک ہاتھ نکلا۔ کالے سائے کا نہیں، بلکہ خالص، گرم روشنی سے بنا ہوا ہاتھ، جیسے چاندنی کو زندگی مل گئی ہو۔
ایک عورت کی آواز، دور سے مگر عجیب طور پر صاف اور محبت بھری، دروازے کے پار سے آئی: "بیٹی..."
اس لفظ نے آئرہ کے پورے وجود کو ہلا دیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر وہ نہیں جانتی تھی خوشی کے یا خوف کے۔
بالکل اسی لمحے، پیچھے سے زینب دوڑتی ہوئی آئی، بال بکھرے، سانس پھولی ہوئی، آواز میں خالص دہشت: "آئرہ، رک جاؤ! خدا کے لیے رک جاؤ! وہ دروازہ تمہارے لیے موت ہے!"
آئرہ نے ایک لمحے کے لیے مڑ کر زینب کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں سوال تھے، درد تھا، اور ایک عجیب سی الوداعی محبت بھی — اس عورت کے لیے جو شاید اس کی ماں نہ ہو، مگر جس نے اسے ماں کی طرح پالا تھا۔
"مجھے معاف کر دینا," آئرہ نے آہستہ سے کہا، اور اپنا ہاتھ روشنی کی طرف بڑھا دیا۔
آخری ستارہ آسمان سے بجھ گیا۔
روشنی کے ہاتھ نے آئرہ کا ہاتھ چھو لیا — اور ایک زوردار جھماکے کے ساتھ پوری دنیا سفید ہو گئی۔
پیچھے، دھند میں کھڑا وہ پراسرار سایہ آہستہ سے مسکرایا — ایک ایسی مسکراہٹ جس میں فتح تھی — اور دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔
(جاری ہے...)

07/09/2026

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

 # آئرہ — قسط سوملاکٹ ابھی آئرہ کے ہاتھ میں آیا ہی تھا کہ اس نے محسوس کیا — یہ عام دھات سے کہیں زیادہ ٹھنڈا تھا، جیسے بر...
06/09/2026

# آئرہ — قسط سوم

لاکٹ ابھی آئرہ کے ہاتھ میں آیا ہی تھا کہ اس نے محسوس کیا — یہ عام دھات سے کہیں زیادہ ٹھنڈا تھا، جیسے برف کا کوئی ٹکڑا۔

رات گزر چکی تھی، مگر آئرہ کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہ تھا۔ وہ اپنے کمرے میں، دیے کی مدھم روشنی میں، اس پرانے، زنگ آلود لاکٹ کو گھما پھرا کر دیکھ رہی تھی۔ اس پر جمی میل اتنی گہری تھی کہ ڈیزائن صاف نظر نہیں آتا تھا۔

اس نے اپنے دوپٹے کے کونے کو گیلا کیا اور آہستہ آہستہ لاکٹ کی سطح رگڑنے لگی۔ ایک، دو، تین رگڑ — اور اچانک، میل کی ایک تہہ اتر گئی، جیسے کسی نے پردہ ہٹایا ہو۔ نیچے سے ایک نقش ابھرا — دو مڑے ہوئے دائرے، ایک دوسرے کے اندر پیوست، بالکل ویسے جیسے وہ نقش جو اس نے جنگل کے سنگی دروازے پر دیکھا تھا۔

آئرہ کا سانس رک گیا۔ اس کی انگلیاں لاکٹ پر جم گئیں، اور عین اسی لمحے، لاکٹ ہلکا سا گرم ہونے لگا — دھڑکن کی طرح، بالکل اس کی ہتھیلی کے نشان کی طرح۔

تبھی، نیچے صحن سے دروازہ بجنے کی آواز آئی۔ رات کے اس پہر۔

آئرہ دبے قدموں سیڑھیوں تک آئی اور نیچے جھانکا۔ ماں دروازے پر کھڑی تھیں، اور ان کے سامنے ایک عورت — عمر کا صحیح اندازہ لگانا مشکل تھا، مگر کھڑی بالکل سیدھی اور مضبوط، سر پر گہرے رنگ کی چادر، اور آنکھیں... آنکھیں ایسی جیسے کسی نے ان میں دیا جلا رکھا ہو۔

"ماما،" زینب کی آواز میں خوشی نہیں، خوف تھا۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے جیسے وہ کسی پرانے، تکلیف دہ خواب کا سامنا کر رہی ہوں۔ "آپ... اتنے سالوں بعد؟ اس وقت؟"

عورت نے دہلیز کے اندر قدم نہیں رکھا۔ بس آہستہ سے مسکرائی، ایک ایسی مسکراہٹ جو آنکھوں تک نہیں پہنچی۔ "میں محسوس کر سکتی ہوں، زینب۔ نشان جاگ چکا ہے۔ اور جب نشان جاگتا ہے، تو مجھے آنا ہی پڑتا ہے — چاہے تم چاہو یا نہ چاہو۔"

آئرہ سیڑھیوں پر ساکت کھڑی رہی، لاکٹ اب بھی اس کی مٹھی میں دھڑک رہا تھا۔

عورت کی نظر اچانک اوپر اٹھی — سیدھی آئرہ کی طرف، جیسے اسے پہلے سے معلوم ہو کہ وہ وہاں کھڑی ہے۔ "آ جاؤ، بچی۔ جو چیز تمہارے ہاتھ میں ہے، وہ مجھے دکھاؤ۔"

زینب نے فوراً بازو پھیلا کر راستہ روکا۔ "ماما، نہیں۔ ابھی نہیں۔ میں نے وعدہ کیا تھا —"

"تم نے وعدہ کیا تھا، ہاں،" عورت کی آواز میں پہلی بار سختی آئی، "مگر تم یہ وعدہ نہیں کر سکتیں کہ سچ ہمیشہ چھپا رہے گا۔ خون اپنی بات خود کہتا ہے، زینب — اور یہ بچی تمہارا خون نہیں ہے۔"

وقت جیسے تھم گیا۔ آئرہ کے کان میں سائیں سائیں ہونے لگی۔ زینب کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، مگر وہ کچھ نہ بول سکیں — کیونکہ جھوٹ اب مزید نہیں چل سکتا تھا۔

عورت نے ایک قدم آگے بڑھایا، اپنی چادر کو کندھے پر درست کرتے ہوئے۔ "وقت کم ہے، آئرہ۔ جب آسمان کا سب سے آخری تارہ بجھے گا، اس رات نیمورا کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا — یا ہمیشہ کے لیے کھل جائے گا۔ اور یہ فیصلہ... اب صرف تم کر سکتی ہو۔"

(جاری ہے...)

آئرہ — قسط دومدروازہ بند ہو رہا تھا۔ آئرہ کا دل چیخ اٹھا — "نہیں!" — اور بغیر سوچے، بغیر خوف کی پرواہ کیے، وہ دوڑ پڑی۔مگ...
05/09/2026

آئرہ — قسط دوم
دروازہ بند ہو رہا تھا۔ آئرہ کا دل چیخ اٹھا — "نہیں!" — اور بغیر سوچے، بغیر خوف کی پرواہ کیے، وہ دوڑ پڑی۔
مگر جیسے ہی اس کا ہاتھ دوبارہ بڑھا، ایک تیز، ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اسے پیچھے دھکیل گیا۔ وہ زمین پر گر پڑی، اور جب سر اٹھایا تو دروازہ مکمل طور پر غائب ہو چکا تھا — جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ صرف پرانے، خاموش درخت رہ گئے تھے، اور ان کے بیچ رات کی گہری، بے آواز تاریکی۔
آئرہ وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھی رہی، سانسیں اکھڑی ہوئیں۔ "یہ... یہ سب سچ تھا؟" اس نے خود سے سرگوشی کی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اور جب اس نے اپنی ہتھیلی کی طرف دیکھا — وہاں ایک ننھی، سنہری چمک تھی، بالکل اسی طرح جیسے وہ روشنیاں جو اس نے دیکھی تھیں۔ چمک آہستہ آہستہ مدھم ہونے لگی، جیسے کوئی نشان مٹایا جا رہا ہو۔
تبھی، درختوں کے پیچھے سے ایک نہایت دھیمی، جانی پہچانی آواز ابھری — نہ وہ بھاری، سرد آواز جو پہلے گونجی تھی، بلکہ کچھ اور۔ نرم، تقریباً معصوم۔
"آئرہ... ڈرو مت۔"
وہ فوراً پلٹی۔ سامنے، ایک کم اونچی جھاڑی کے پیچھے سے، وہی چھوٹی سی مخلوق دوبارہ نمودار ہوئی — روشنی کی لڑیوں میں لپٹی ہوئی، اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اسے تک رہی تھی۔
"تم... تم بول سکتی ہو؟" آئرہ کی آواز میں حیرت اور خوف دونوں تھے۔
مخلوق نے سر ہلایا۔ "میرا نام نیمو ہے۔ اور تم — تم وہی ہو جس کا انتظار برسوں سے ہو رہا تھا۔"
"انتظار؟ کس چیز کا؟" آئرہ کھڑی ہوئی، مگر اس کے پاؤں اب بھی کانپ رہے تھے۔
نیمو کی روشنی ایک لمحے کے لیے مدھم ہوئی، جیسے وہ کچھ چھپا رہی ہو۔ "اس دروازے کے پار ایک دنیا ہے — نیمورا۔ وہ دنیا جہاں سے تم... جہاں سے تمہاری اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔"
آئرہ کے قدم پیچھے ہٹ گئے۔ "میری اصل کہانی؟ میرے ماں باپ گاؤں میں ہیں، میں یہیں پیدا ہوئی —"
"کیا واقعی؟" نیمو کی آواز میں پہلی بار ایک تلخی سی جھلکی۔ "تو پھر بتاؤ، آئرہ — جب تم چھوٹی تھیں، کیا کبھی تمہارے خواب ایسی جگہوں کے آتے تھے جو تم نے کبھی دیکھی نہ ہوں؟ کیا کبھی ایسا لگا کہ تمہارے اندر کوئی چیز... جاگنے کی کوشش کر رہی ہے؟"
آئرہ کا سانس رک گیا۔ یہ سب سچ تھا۔ ہر لفظ۔
اچانک، جنگل کی خاموشی ٹوٹی — دور سے قدموں کی آہٹ، تیز اور بھاری۔ نیمو کی روشنی ایک دم بجھ گئی۔
"وہ آ رہے ہیں،" نیمو نے سرگوشی کی، اس کی آواز میں اب خالص خوف تھا۔ "تمہیں ابھی جانا ہوگا، آئرہ۔ گاؤں واپس بھاگو، اور جو کچھ آج رات دیکھا، کسی کو مت بتانا — کسی کو بھی نہیں۔"
"لیکن نیمورا؟ وہ دروازہ؟ تم —"
"میں دوبارہ آؤں گی۔ جب چاند دوبارہ پورا ہوگا۔" نیمو کی آواز اب بمشکل سنائی دے رہی تھی۔ "مگر آئرہ — اس بھاری آواز سے ہوشیار رہنا۔ وہ نہیں چاہتی کہ تم نیمورا تک پہنچو۔ اور اگر وہ تمہیں دوبارہ جنگل میں تنہا پائے تو —"
قدموں کی آہٹ اب بہت قریب تھی۔ نیمو مکمل طور پر غائب ہو گئی، جیسے ہوا میں تحلیل ہو گئی ہو۔
آئرہ نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر دوڑ لگا دی۔ درختوں کے بیچ سے، کانٹوں کی پرواہ کیے بغیر، دل زور سے دھڑکتا ہوا۔ پیچھے، جنگل کی گہرائی سے، وہی بھاری، سرد آواز ایک بار پھر گونجی — اتنی قریب کہ ایسا لگا جیسے کوئی اس کے کان میں سرگوشی کر رہا ہو:
"تم بھاگ نہیں سکتیں، آئرہ۔ نیمورا تمہیں خود بلا رہی ہے، اور کوئی دروازہ ہمیشہ کے لیے بند نہیں رہتا۔"
آئرہ گاؤں کی پہلی گلی میں پہنچ کر ہی رکی، سانسیں پھولی ہوئیں، پورا جسم پسینے میں شرابور۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا — جنگل خاموش تھا، معصوم، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
مگر جب وہ گھر میں داخل ہوئی، تو دروازے کے پاس ماں کھڑی تھیں، آنکھوں میں نیند نہیں بلکہ ایک عجیب سی سنجیدگی تھی — جیسے وہ جانتی ہوں کہ آئرہ کہاں گئی تھی۔
"بیٹی،" ماں نے دھیرے سے کہا، اس کی آواز کانپ رہی تھی، "مجھے ڈر تھا کہ یہ رات آخرکار آ ہی گئی۔"
آئرہ کے قدم رک گئے۔ "ماں... آپ کو کیسے پتا؟"
ماں نے کچھ نہیں کہا۔ بس آہستہ سے اپنی گردن سے ایک پرانا، زنگ آلود لاکٹ اتارا — بالکل ویسی ہی سنہری چمک اس میں دفن تھی جیسی آئرہ کی ہتھیلی پر تھی۔
(جاری ہے...)

قسط اول: آئرہ سترہ سال کی ایک خوبصورت لڑکی تھی جو ایک گاؤں میں پیدا ہوئی۔ وہ ہمیشہ خیالوں کی دنیا میں رہتی تھی۔ اسے کبھی...
04/09/2026

قسط اول:
آئرہ سترہ سال کی ایک خوبصورت لڑکی تھی جو ایک گاؤں میں پیدا ہوئی۔ وہ ہمیشہ خیالوں کی دنیا میں رہتی تھی۔ اسے کبھی یہ لگتا کہ اس کے ماں باپ اصل میں اس کے نہیں ہیں، اور کبھی اسے یہ لگتا کہ وہ اس دنیا کی ہی نہیں ہے۔
گاؤں کے لوگ اسے عجیب سمجھتے تھے۔ وہ اکثر گھنٹوں کھڑکی کے پاس بیٹھی رہتی، دور جنگل کی طرف دیکھتی رہتی، جیسے کوئی چیز اسے وہاں بلا رہی ہو۔ اس کی ماں، زینب، اکثر کہا کرتی: "بیٹی، تمہاری آنکھوں میں کوئی اور ہی دنیا بستی ہے۔" آئرہ مسکرا دیتی، مگر جواب کبھی نہ دیتی — کیونکہ اسے خود بھی نہیں معلوم تھا کہ یہ احساس کہاں سے آتا ہے۔
اس رات چاند پورا تھا، اور ہوا میں کچھ عجیب سی خاموشی تھی۔ آئرہ کی آنکھ اچانک کھلی۔ اسے لگا جیسے کسی نے اس کا نام پکارا ہو — ایک آواز، نہایت دھیمی، جیسے ہوا کے جھونکے میں گھلی ہو۔
"آئرہ..."
وہ اٹھ بیٹھی۔ دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ کھڑکی سے باہر جھانکا تو جنگل کی طرف روشنیاں ٹمٹما رہی تھیں — ننھی، سنہری روشنیاں، جیسے جگنو ناچ رہے ہوں۔ مگر یہ جگنو نہیں تھے۔ یہ کچھ اور تھا۔
بغیر سوچے سمجھے، جیسے کسی نادیدہ ڈور نے اسے کھینچا ہو، آئرہ نے اپنی چادر اوڑھی اور دبے پاؤں گھر سے نکل گئی۔ گاؤں کی گلیاں سنسان تھیں، صرف اس کے قدموں کی آہٹ اور دور کہیں کسی الّو کی آواز۔
جنگل کے دہانے پر پہنچ کر وہ رک گئی۔ درخت اتنے گھنے تھے کہ چاند کی روشنی بھی مشکل سے اندر جھانک پاتی تھی۔ مگر وہ سنہری روشنیاں اب اور قریب، اور زیادہ واضح دکھائی دے رہی تھیں۔ ایک لمحے کے لیے اس کا دل کہا واپس لوٹ جاؤ، مگر پاؤں خود بخود آگے بڑھتے گئے۔
جیسے ہی وہ جنگل میں داخل ہوئی، ہوا بدل گئی — ٹھنڈی، مگر عجیب طور پر مہربان۔ راستے کے دونوں طرف کائی سے ڈھکے درخت، اور زمین پر بکھری چمکتی ہوئی کونپلیں، جیسے کسی نے ستارے بو دیے ہوں۔
پھر اس نے دیکھا۔
درختوں کے بیچ، ایک چھوٹی سی مخلوق ہوا میں معلق تھی — سیاہ، مگر روشنی کی لڑیوں میں لپٹی ہوئی، جیسے کوئی زندہ ستارہ ہو۔ اس کی بڑی بڑی، معصوم آنکھیں سیدھی آئرہ پر جمی تھیں۔ آئرہ کے قدم رک گئے۔ نہ خوف تھا، نہ حیرت — صرف ایک عجیب سا احساسِ شناسائی، جیسے وہ اس مخلوق کو صدیوں سے جانتی ہو۔
مخلوق نے آہستہ سے سر ہلایا، جیسے کہہ رہی ہو "آ جاؤ"، اور مڑ کر جنگل کے اندر اڑنے لگی۔ آئرہ نے بھی، بغیر کچھ سوچے، اس کا پیچھا کیا۔
کچھ دیر چلنے کے بعد، درخت اچانک ختم ہو گئے، اور آئرہ کے سامنے ایک منظر تھا جسے دیکھ کر اس کی سانس رک گئی — ایک قدیم، سنگی دروازہ، بیلوں اور جگنوؤں سے ڈھکا ہوا، جنگل کے عین بیچ کھڑا تھا۔ دروازہ آدھا کھلا تھا، اور اس کے پار... رات نہیں تھی۔ اس کے پار دن کی روشنی تھی، ایک الگ ہی آسمان، ایک الگ ہی دنیا۔
آئرہ کے قدم دروازے کی طرف بڑھنے لگے، دل زور سے دھڑکتا ہوا۔ اس نے ہاتھ بڑھایا، لکڑی کو چھونے ہی والی تھی کہ —
پیچھے سے ایک آواز گونجی، بھاری اور سرد:
"وہ دروازہ تمہارے لیے نہیں کھلا، آئرہ۔"
وہ پلٹی۔ کوئی نہیں تھا۔ صرف جنگل کی خاموشی، اور اس کا اپنا دل جو اب خوف اور تجسس کے بیچ کہیں پھنسا ہوا تھا۔
اور جب اس نے دوبارہ دروازے کی طرف دیکھا — وہ مخلوق غائب ہو چکی تھی۔ دروازہ آہستہ آہستہ بند ہونے لگا۔
(جاری ہے...)

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Realm Between Worlds posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share