01/04/2026
علَم اٹھائے گی اور لشکروں میں اترے گی
وہ لڑکی دیکھنا سب کے دلوں میں اترے گی
تمہارے بعد مرے دوست مجھ کو دیکھیں گے
تو اک اداسی مرے دوستوں میں اترے گی
اکیلے مجھ پہ اذیت اتر گئی ساری
کہا گیا تھا کئی درجنوں میں اترے گی
خدا کرے مرے کپڑوں میں بھی اتر جائے
جو تیری خوشبو ترے بستروں میں اترے گی
ہم اس کی گفتگو میں اس لیے نہیں بولے
کہ شاخ نیم کی بھی شربتوں میں اترے گی
تمہارے گال گلابوں کا روپ دھاریں گے
تمہاری آنکھ کئی بوتلوں میں اترے گی
وہ کھُل تو جائے گی ہم پر کُھلے گی وقفوں میں
بڑی غزل ہے کئی مرحلوں میں اترے گی