01/07/2026
وہ گیٹ... جو ہماری سانس تھے
ہمارے گیٹ دہشت گرد اور ان کے کے گیٹ امن کے بزنس پوائنٹ
*گُرسل - مہمند۔ طورخم - خیبر۔ خرلاچی - کرم۔ غلام خان - وزیرستان۔ انگور اڈہ - وزیرستان۔ چمن - بلوچستان۔ باجوڑ کے پاس۔*
یہ 7 گیٹ نہیں تھے بھائی... یہ 7 دل تھے۔ 7 نبضیں تھیں۔
گرمیوں کی رات تھی۔ ہوا چل رہی تھی۔ میں بابا کے پاؤں دبا رہا تھا۔
بابا نے اچانک میرا ہاتھ پکڑا۔ اتنے زور سے کہ ہڈیاں چرمرا گئیں۔
اور سرگوشی میں کہا:
*"بیٹی... قریب آ۔ یہ باتیں کتابوں میں نہیں لکھی ہوتیں۔"*
*"ایک وقت تھا... جب گُرسل گیٹ، مہمند کی دھرتی کا دل تھا۔*
*ایسا ذریعہ معاش تھا... کہ مہمند کا کتا بھی بھوکا نہیں سوتا تھا۔*
یہاں کا ہر بیٹا بادشاہ تھا۔ کسی کا ارمان ادھورا نہیں رہتا تھا۔
جس کو کاروبار کرنا تھا، وہ کابل سے مال لاتا تھا۔
جس کو شادی کرنی تھی، وہ تاجکستان سے جہیز لاتا تھا۔
*گُرسل کھلا تھا... تو عزت کھلی تھی۔ غیرت کھلی تھی۔ روزی کھلی تھی۔*"
بابا ہنسے۔ لیکن وہ ہنسی نہیں تھی... وہ زخم تھا۔
*"میں نے پوچھی پھر؟"*
*"ہم لڑ گئے آپس میں۔ ہم بک گئے۔ ہم اندھے ہو گئے۔*
*اور دشمن نے... ہماری ہی کنڈی میں اپنی چابی گھما دی۔*
*اور گُرسل... بند۔"*
بابا کا سانس پھول گیا۔
*"اور آج دیکھ...*
*مہمند کا بچہ بچہ...*
*دبئی کی پچاس ڈگری کی بھٹی میں جل رہا ہے۔*
*سعودی کی ریت میں دفن ہو رہا ہے۔*
*قطر کی کنکریٹ میں گھل رہا ہے۔*
جس زمین پر سونا تھا... آج اس کے بیٹے پتھر توڑ رہے ہیں۔
جس کے باپ ٹرک کے مالک تھے... آج ان کے بیٹے ٹرک دھوتے ہیں۔"
بابا نے زمین پر تھوک دیا۔
*"اور اُدھر دیکھ... واہگہ کی طرف۔*
*وہ ہمارا ازلی دشمن۔*
*نہ کلمہ ایک۔ نہ زبان ایک۔ نہ خون ایک۔*
*تین جنگیں لڑ چکا ہے ہمارے ساتھ۔*
لیکن ان کا گیٹ... چوبیس گھنٹے کھلا ہے۔**
*ٹماٹر جاتا ہے۔ دوا آتی ہے۔ اربوں کا کھیل ہے۔*
*ہنستے ہوئے ہاتھ ملاتے ہیں۔*
کیوں بیٹی؟"
بابا نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔
*"کیونکہ ان کا رنگ ایک ہے۔ ان کا مفاد ایک ہے۔*
*ان کو ہم سے نفرت ہے... لیکن پیسے سے محبت ہے۔*
*اور ہم...؟*
*ہم کو اپنے بھائی سے نفرت ہے... اور دشمن کے پیسے سے محبت ہے۔"*
بابا گر گئے۔ حقہ ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
میں روز صبح گُرسل کے بند گیٹ کی تصویر دیکھتی ہوں
پھر میں موبائل نکالتا ہوں۔ واہگہ کا ویڈیو دیکھتا ہوں۔
لائٹیں۔ شور۔ تالیاں۔ ٹرک۔ پیسہ۔ ہنسی۔
اور پھر میں اپنا پاسپورٹ نکالتا ہوں۔
اس پر لکھا ہے: "اسلامی جمہوریہ پاکستان"۔
اور نیچے ویزے کی مہر: "متحدہ عرب امارات"۔
میں پاسپورٹ کو چومتا ہوں... اور پھینک دیتا ہوں۔
کیونکہ مجھے پتہ چل گیا ہے...
*میرا وطن میرے لیے جیل بن گیا ہے۔*
*اور دشمن کا وطن... میرے باپ کے لیے بازار بن گیا ہے۔*
گُرسل کی کنڈی پر جو تالا ہے...
وہ لوہے کا نہیں ہے۔
وہ ہمارے مردہ ضمیروں سے بنا ہے۔
اور اس کی چابی... اسلام آباد کے دفتر میں پڑی ہے