Zarrar Traders

Zarrar Traders Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Zarrar Traders, Household Supplies, Islamabad.

"*"Welcome to Zarar Traders"*"
We are Wholeseller & Distributor of following Pakistani products.
Liquid.
, Toilet Cleaner.
, Jasmine Fragrance.
Powder.
Bottles Best Quality.
& Other household items.

احباب "وڈے" بلب سے روشنی ڈال کر اپنی علمی بیداری کا ثبوت دیں۔۔۔ جزاکم اللہ خیر
07/10/2024

احباب "وڈے" بلب سے روشنی ڈال کر اپنی علمی بیداری کا ثبوت دیں۔۔۔ جزاکم اللہ خیر

19/09/2024

مندرجہ ذیل باتوں پہ کبھی یقین نہ کریں بھلے کوئی لاکھ قسمیں بھی کھائے:
1۔اسلام آباد سے نئی ہاؤسنگ سکیم کا فاصلہ دو کلو میٹر ہے.
2۔ہوٹل سے حرم کا فاصلہ 500 میٹر ہے.
3۔ہمارا آئل لگانے سے بال واپس آجائیں گے.
4۔ہمارے پاس چھوٹی مکھی کا اصلی شہد ہے.
5۔تم اگر غریب بھی ہوتے تو پھر بھی تمہیں پیار کرتی.

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ:
6۔ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے...

04/09/2024

کہتے ہیں سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ الله علیہ کو انکے جاسوسوں نے بتایا کہ ایک عالمِ دین ہیں جو بہت اچھا خطاب کرتے ہیں لوگوں میں بہت مقبول ہو گئے ہیں۔ سلطان نے کہا آگے کہو.
جاسوس بولے "کچھ غلط ہے جسے ہم محسوس کر رہے ہیں مگر لفظوں میں بیان نہیں کرپا رہے"
سلطان نے کہا "جو بھی دیکھا اور سنا ہے بیان کرو"
*جاسوس* بولے کہ وہ کہتے ہیں کہ "نفس کا *جہاد* افضل ہے، بچوں کو تعلیم دینا ایک بہترین *جہاد* ہے، گھر کی زمہ داریوں کیلئے جد وجہد کرنا بھی ایک *جہاد* ہے۔ *سلطان* نے کہا تو اس میں کوئی شک ہے؟؟
*جاسوس* نے کہا کہ انہیں کوئی شک نہیں لیکن اس *عالم* کا کہنا ہے کہ:*"جنگوں* سے کیا ملا؟؟ صرف قتل وغارت گری صرف لاشیں، *جنگوں* نے تمہیں یا تو قاتل بنایا یا مقتول "
*سلطان* بے چین ہو کر اٹھے، اسی وقت *عالم* سے ملنے کی ٹھانی، ملاقات بھیس بدل کر کی اور جاتے ہی سوال کر دیا کہ "جناب ایسی کوئی ترکیب بتائیے کہ *بیت المقدس* کو آزاد اور مسلمانوں کے خلاف مظالم کو بغیر *جنگ* کے ختم کرایا جاسکے؟؟"، *عالم* نے کہا دعا کریں *سلطان* کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا، وہ سمجھ چکے تھے کہ یہ *عالِم* پوری *صلیبی فوج* سے بھی زیادہ خطرناک ہے
*سلطان* نے سب سے پہلے اپنے خنجر سے اُس *عالم* کی انگلی کاٹ دی، وہ بری طرح چیخنے لگا۔
اب *سلطان* نے کہا کہ اصلیت بتاتے ہو یا گردن بھی کاٹ دوں پتہ چلا کہ وہ سفید پوش *عالم* ایک *یہودی* تھا، *یہودیوں* کو عربی بخوبی آتی تھی، جس کا اس نے فائدہ اٹھایا *سلطان* نے پایا کہ اس کے جیسا *درس* اب *خطبوں* میں عام ہو چلا تھا، بڑی مشکل سے یہ *فتنہ* روکا جاسکا۔ *فتنہ* اس وقت بھی پوری آب وتاب سے رواں دواں ہے
*اب بھی *فلسطین دعاوں* سے آزاد کرانے کی مہم زور وشور سے جاری ھے* ۔۔۔۔ اپنے حصے کا کام کیجئے۔۔اصل ہے جہاد بالقتال۔۔۔ اگر خود کرنے کے مواقع میسر نہ ہوں تو جو کر رہے ہیں ان کی اعانت۔۔وگرنہ جہاد بالنفس دوسرا درجہ ہے اس پہ عمل کیجئے وہ ہے معاشی بائیکاٹ۔۔جو اہل یہود کی دکھتی رگ ہے۔۔۔
خدارا بائیکاٹ کی اہمیت کو سمجھیں اور
بائیکاٹ کیجئے، بائیکاٹ کیجئے، بائیکاٹ کیجئے۔۔۔

23/08/2024

ضروری نہیں کہ ہر جگہ ترازو انصاف کی علامت ہو، دوکانداری کی علامت بھی ہو سکتا ہے...!
Think about it

21/08/2024

بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ سیدھا نہر سے ہی پانی لیکر پیتے تھے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلیئے یہاں ایک گھڑا بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا سہولت کے ساتھ پانی پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔

شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور ایک سنتری کو چوکیداری کیلیئے مقرر کیا جائے۔

سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلیئے کسی ماشکی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور ہفتے کے ساتوں دن صرف ایک ماشکی یا ایک سنتری کو نہیں پابند کیا جا سکتا ، بہتر ہوگا کہ سات سنتری اور سات ہی ماشکی ملازم رکھے جائیں تاکہ باری باری کے ساتھ بلا تعطل یہ کام چلتا رہے۔

ایک اور محنتی اہلکار نے رائے دی کہ نہر سے گھڑا بھرا ہوا اٹھا کر لانا نہ تو ماشکی کا کام بنتا ہے اور نہ ہی سنتری کا۔ اس محنت طلب کام کیلیئے سات باربردار بھی رکھے جانے چاہیئں جو باری باری روزانہ بھرے ہوئے گھڑے کو احتیاط سے اٹھا کر لائیں اور اچھے طریقے سے ڈھکنا لگا کر بند کر کے رکھیں۔ ۔

ایک اور دور اندیش مصاحب نے مشورہ دیا کہ اتنے لوگوں کو رکھ کر کام کو منظم طریقے سے چلانے کیلیئے ان سب اہلکاروں کا حساب کتاب اور تنخواہوں کا نظام چلانے کیلیئے منشی محاسب رکھنے ضروری ہونگے، اکاؤنٹنگ کا ادارہ بنانا ہوگا، اکاؤنٹنٹ متعیین کرنا ہونگے۔

ایک اور ذو فہم و فراست اہلکار نے مشورہ دیا کہ یہ اسی صورت میں ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ ہر کام اچھے طریقے سے چل رہا ہے تو ان سارے ماشکیوں، سنتریوں اور باربرداروں سے بہتر طریقے سے کام لینے کیلیئے ایک ذاتی معاملات کا ایک شعبہ قائم کرنا پڑے گا۔

ایک اور مشورہ آیا کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے مگر ملازمین کے درمیان میں لڑائی جھگڑا یا کوئی زیادتی ہو جاتی ہے تو ان کا تصفیہ اور ان کے درمیان میں صلح صفائی کون کرائے گا؟ تاکہ کام بلاتعطل چلا رہے، اس لیئے میری رائے میں خلاف ورزی کرنے والوں اور اختلاف کرنے والوں کی تفتیش کے لیے ایک قانونی امور کا محکمہ قائم کیا جانا چاہیے۔

ان سارے محکموں کی انشاء کے بعد ایک صاحب کا یہ مشورہ آیا کہ اس سارے انتظام پر کوئی ہیڈ بھی مقرر ہونا چاہیئے۔ ایک ڈائریکٹر بھی تعیینات کر دیا گیا۔

سال کے بعد حسب روایت بادشاہ کا اپنی رعایا کے دورے کے دوران اس مقام سے گزر ہوا تو اس نے دیکھا کہ نہرکے کنارے کئی کنال رقبے پر ایک عظیم الشان عمارت کا وجود آ چکا ہے جس پر لگی ہوئی روشنیاں دور سے نظر آتی ہیں اور عمارت کا دبدبہ آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔ عمارت کی پیشانی پر نمایاں کر کے "وزارت انتظامی امور برائے گھڑا " کا بورڈ لگا ہوا ہے۔

بادشاہ اپنے مصاحبین کے ساتھ اندر داخل ہوا تو ایک علیحدہ ہی جہان پایا۔ عمارت میں کئی کمرے، میٹنگ روم اور دفاتر قائم تھے۔ ایک بڑے سے دفتر میں ، آرام کرسی پر عظیم الشان چوبی میز کے پیچھے سرمئی بالوں والا ایک پر وقار معزز شخص بیٹھا ہوا تھا جس کے سامنے تختی پر اس کے القابات "پروفیسر فاتح فلان بن فلان ڈائریکٹر جنرل برائے معاملات سرکاری گھڑا" لکھا ہوا تھا۔

بادشاہ نے حیرت کے ساتھ اپنے وزیر سے اس عمارت کا سبب پوچھا، اور ساتھ ہی اس عجیب و غریب محکمہ کے بارے میں پوچھا جس کا اس نے اپنی زندگی میں کبھی نام بھی نہیں سنا تھا۔

بادشاہ کے وزیر نے جواب دیا: حضور والا، یہ سب کچھ آپ ہی کے حکم پر ہی تو ہوا ہے جو آپ نے پچھلے سال عوام الناس کی فلاح اور آسانی کیلیئے یہاں پر گھڑا نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔

بادشاہ مزید حیرت کے ساتھ باہر نکل کر اس گھڑے کو دیکھنے گیا جس کو لگانے کا اس نے حکم دیا تھا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ گھڑا نہ صرف خالی اور ٹوٹا ہوا ہے بلکہ اس کے اندر ایک مرا ہوا پرندہ بھی پڑا ہوا ہے۔ گھڑے کے اطراف میں بیشمار لوگ آرام کرتے اور سوئے ہوئے پڑے ہیں اور سامنے ایک بڑا بورڈ لگا ہوا ہے:

"گھڑے کی مرمت اور بحالی کیلیئے اپنے عطیات جمع کرائیں۔ منجانب وزارت انتظامی امور برائے گھڑا" ۔

21/08/2024

پرانے زمانے میں مالاکنڈ پہاڑی کے دامن میں ایک گاوں آباد تھا۔ جب بھی کوئی مسافر گاڑی حادثے کا شکار ہوکر پہاڑ سےگر جاتی یہ لوگ جاکر ان کا سامان لوٹتے۔
یہی ان کا ذریعہ معاش تھا۔
ان کا امام مسجد میں نماز کے بعد کچھ یوں دعا پڑھتا:
"اے پروردگار بہت عرصہ ہوا ہے کوئی گاڑی نہیں گری۔۔۔۔۔۔ کوئی باراتیوں سے بھری بس گرادے جن کی عورتیں سونے سے لدی ہوئی ہوں۔۔۔۔ ۔۔۔۔
رب کریم کوئی برطانیہ پلٹ کی گاڑی گرادے جس کا بیگ سامان سے اور جیب پاونڈ سے بھرا ہو ۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔
ہم تیرے نادان بندے ہیں اگر ہم سے کوئی بھول ہوئی ہو تو رحم کا معاملہ کر ورنہ ہمارے بچے بھوکے مرجائے گے۔"
پیچھے سے مقتدی امین ثمہ امین کی صدا لگاتے۔۔۔۔۔😁

پشتو کہاوت ہے:
"دا چا پہ شر کی دا چا خیر یی۔"
جس کا ترجمہ ہے:
"کسی کے شر میں کسی کی خیر ہوتی ہے"۔

قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہم نے دوسروں کے شر میں اپنی خیر منائی ہے۔ ہم نے خود سے کچھ نہیں کیا نا اپنے ادارے مضبوط کئے نہ انڈسٹری بنائی نہ برآمدات بڑھائی۔ تعلیم صحت اور انصاف کسی شعبے پر محنت نہیں کی۔۔۔
پچاس کی دہائی میں ہم نے "سیٹو" اور "سینٹو" کے مزے اڑائے۔
ساٹھ کی دہائی میں سرد جنگ میں امریکہ کا ڈارلنگ بن کر یوٹو طیاروں کو اڈے دیکر ڈالر بٹورے۔
ستر کی دہائی میں بھٹو صاحب نے عرب اسرائیل جنگوں میں جے کانت شکرے کا کردار نبھایا اور ڈائیلاگ بول بول کر مفت تیل کے مزے اڑائے۔
اسی کی دہائی میں روس افغانستان والے کھاتے میں ہم نے خوب "ریمبو تھری" بنا کر باکس آفس پر پیسے بنوائے۔
نوے کی دہائی میں کسی کا شر ہمارے ہاتھ نہیں آیا اور ہماری حالت بہت پتلی ہوگئی۔
دو ہزار کے بعد رحمت خداوندی نے پھر جوش مارا اور امریکہ نے افغانستان پر حملہ کردیا۔
اس شر کا جام لیکر ہم خوب جھومے، اسلحے اور ڈالروں کی برسات ہوئی۔
اس دفعہ ہم اکشے کمار بنے رہے کیونکہ
"جو ہم بولتے وہ ہم کرتے ہیں اور جو نہیں بولتے وہ ڈیفنٹلی کرتے ہیں" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد آٹھ سال ہوئے کہ خدا ہم سے ناراض ہے اور ہمارے اردگرد کوئی شر نہیں ہورہا۔
حالت بہت خراب ہے ڈالر ڈبل سنچری کراس کر گیا ہے۔لوگوں کا معیار زندگی جانوروں سے بھی بدتر ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔

آئیں سب مل کر اپنے رب کریم سے دعا مانگتے ہیں:
"اے تمام جہانوں کے مالک امریکہ کا ایران پر حملہ کروادے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چین اور امریکہ کی کوئی زبردست سرد جنگ شروع کرادے۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔
سعودی اور حوثیوں کی لڑائی ہمارے مکران ساحل تک پھیلا دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روس اور یوکرین کی لڑائی میں ہمیں فریق بنادے۔۔۔۔
پروردگار ہم تیرے نادان بندے ہیں اگر رحم کا معاملہ نہیں کروگے تو ہم بھوکے مرجائے گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین ثمہ آمین

منقول در منقول😁

13/08/2024

سب پاکستانی بھائیوں کو 14 اگست، اور ہندوستان والوں کو 15 اگست جشن آزادی مبارک ہو۔۔۔
انگریزوں کو دونوں دن مبارک ہوں ان کی جان چھوٹی برصغیر والوں سے۔۔۔

13/08/2024

بچوں کی صحت کا راز کیا ہے؟

شوہر کا اپنی بیوی سے محبت کرنا اور بیوی کا اپنے شوہر سے محبت کرنا بچوں کی صحت کا راز ہے۔

ایک فیملی سیمینار میں شرکت کرنے والے ایک حاضرین نے کہا:
"میں نے ایک تربیتی کورس میں شرکت کی جس میں 30 سے زیادہ شرکاء تھے۔ وہاں مقرر نے ایک سوال کیا:

'ماں اپنے بچوں کے لیے سب سے بہتر کیا کر سکتی ہے؟'

جوابات مختلف تھے: 'محبت، دین، اخلاص، تقوی، دوستی، کھلا ذہن، سکون، احسان' اور ان کے مترادفات۔

مقرر نے خاموش ہو کر کہا: 'آپ کے تمام جوابات تربیت میں بہت اہم ہیں۔ لیکن میری تحقیقات کے مطابق، جو چیز سب سے اہم ہے وہ یہ ہے:
'ماں اپنے بچوں کے لیے سب سے بہتر یہ کر سکتی ہے کہ وہ ان کے والد سے محبت کرے۔'

🖤 ازدواجی جھگڑے بچے کے دماغ کی نشوونما کو متاثر کر سکتے ہیں، اس کے منفی اثرات پہلے چند ماہ سے شروع ہو جاتے ہیں اور لمبے عرصے تک رہتے ہیں۔

ایک محقق کہتا ہے:
'ایک شخص میرے پاس آیا اور پوچھا کہ اپنے بچے کی تربیت کیسے کروں تاکہ وہ بڑا ہو کر ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لے سکے؟
میں نے جواب دیا: 'اگر آپ اپنے بچے کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، تو گھر جائیں اور اپنی بیوی سے محبت کریں۔'
💗 'Go home and love your wife.'💗

خلاصہ یہ کہ
ایک محبت بھرا اور ہم آہنگ خاندان بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت میں حیرت انگیز بہتری لا سکتا ہے، اور یہ سب شوہر اور بیوی کی ایک دوسرے سے محبت کے ذریعے ممکن ہے۔
والدین کی محبت اور توجہ میں گھرا بچہ کم بیماریوں، کم ضد، کم تشدد، کم نفسیاتی مسائل، اور تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔

(اگر آپ ذمہ داری اور شعور کے ساتھ والدین نہیں بن سکتے، تو ایسی روحوں کو کیوں جنم دیتے ہیں جو آپ کی سختی سے تکلیف میں ہوں؟)

12/08/2024

پاکستان اسلام کا قلعہ ہے..!

یہ اسلام کا وہ عجیب و غریب قلعہ ہے، جو کافروں کے چندوں، قرضوں اور سود سے چلتا ہے...!

10/08/2024

پیری مریدی میں پیر نہیں بلکہ مرید مشکل کُشا ہوتا ہے،
کیوں کہ مرید کے دیے گئے نذرانے سے پیر کی ساری مشکلات دور ہو جاتی ہیں...!
جس نے نہیں ماننا وہ نہ مانے

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zarrar Traders posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share