786 drink corner near Punjab college kabirwala

786 drink corner near Punjab college kabirwala Murree Brewery 📱🗽🍾 basmallha darnk coner

کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر ہتھیار اٹھانے کیلئے تیار ہوگئے ہیں۔ صدر پیٹرو نے آج ایکس پر ا...
06/01/2026

کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر ہتھیار اٹھانے کیلئے تیار ہوگئے ہیں۔ صدر پیٹرو نے آج ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ میں نے قسم کھائی تھی کہ دوبارہ کبھی ہتھیار کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا، لیکن وطن کے لیے میں ایک بار پھر تیار ہوں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی دھمکیوں پر ہتھیار اٹھائیں گے، جنہوں نے دو روز قبل فوجی کارروائی کرکے ہمسایہ ملک وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر لیا تھا۔

وینزویلا کے وزیرِ دفاع: ہم نے مسلح افواج کو پورے ملک میں تعینات کر دیا ہے۔🔹 ہم آپریشنل تیاری کو فعال کر رہے ہیں اور سامر...
06/01/2026

وینزویلا کے وزیرِ دفاع: ہم نے مسلح افواج کو پورے ملک میں تعینات کر دیا ہے۔
🔹 ہم آپریشنل تیاری کو فعال کر رہے ہیں اور سامراجی جارحیت کے مقابلے کے لیے عوام، فوج اور پولیس کو یکجا کرنے کے مشن پر کام کر رہے ہیں۔
🔹 ہم اغوا کیے گئے صدر اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں اور دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ امریکی جارحیت کے خلاف اقدام کرے

05/01/2026
ملک: وینزویلا سال: 2025-2002فائل: SA-18_______________________________________________________اپریل 2002 کی ایک دوپہر تھ...
04/01/2026

ملک: وینزویلا
سال: 2025-2002
فائل: SA-18
_______________________________________________________
اپریل 2002 کی ایک دوپہر تھی، جب کاراکس کی سڑکوں پر لاکھوں لوگ نعرے لگا رہے تھے کہ “چاویز استعفیٰ دو”۔ ٹی وی چینلز بند ہو چکے تھے، فوج کے ٹرک شہر میں گھوم رہے تھے، اور ایک لمحے کے لیے ایسا لگا جیسے انقلاب ختم ہو گیا۔ صدر ہوگو چاویز، جنہوں نے چند سال پہلے ہی غریبوں کو امید دلائی تھی، اب فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو چکے تھے۔ صرف چند گھنٹوں بعد، امریکی حمایت یافتہ سرمایہ کار، پیڈرو کارمونا نے ایک نئے صدر کی حیثیت سے اقتدار سنبھال لیا۔ دنیا دنگ رہ گئی، مگر جو بات سب سے زیادہ چونکانے والی تھی، وہ یہ کہ امریکہ نے فوراً اس نئے صدر کو تسلیم کر لیا۔ گویا واشنگٹن برسوں سے اسی موقع کا انتظار کر رہا تھا۔
چاویز کی کہانی دراصل وینزویلا کے عوام کی پرانی مایوسی سے شروع ہوتی ہے۔ تیل کے سمندر پر بیٹھا یہ ملک 1980 کی دہائی میں قیمتوں کے گرنے سے تباہ ہوا۔ غریب مزید غریب ہو گئے، امیر مزید امیر۔ دو پرانے سیاسی دھڑے برسوں تک آپس میں اقتدار بانٹتے رہے، مگر عام آدمی کے لیے کچھ نہ بدلا۔ اسی ماحول میں ایک فوجی افسر سامنے آیا، ہوگو چاویز، اس نے 1992 میں فوجی بغاوت کی کوشش کی، ناکام ہوا، مگر لوگوں کے دل جیت لیے۔ جب 1998 میں الیکشن ہوا تو اس نے وعدہ کیا کہ اب دولت عوام میں بٹے گی، تیل صرف امیروں کا نہیں رہے گا۔ وہ جیت گیا، اور یوں "بولیوارین انقلاب" شروع ہوا۔
چاویز نے ملک کے تیل کے پیسوں سے سماجی پروگرام شروع کیے، تعلیم اور صحت میں سرمایہ لگایا، مگر ساتھ ہی اس نے سب سے طاقتور ادارے، یعنی PDVSA، کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس نے کہا کہ اب یہ کمپنی عوام کی ہے۔ امریکا کو یہ سب سخت ناگوار گزرا۔ واشنگٹن کے لیے ایک تیل پیدا کرنے والا ملک، جو کھل کر کیوبا کے فیدل کاسترو کا دوست بن جائے، خطرہ تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب چاویز اور امریکا کے درمیان ایک سرد جنگ شروع ہوئی۔
پھر آیا اپریل 2002۔ چاویز کے مخالفین نے عام ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کیا۔ حالات بگڑ گئے۔ فوج کے کچھ جرنیلوں نے اسے معزول کر دیا۔ چند ہی گھنٹوں میں امریکا نے نئی حکومت کو تسلیم کر لیا۔ امریکی حکام، جن میں اوٹو ریخ جیسے نام شامل تھے، پہلے ہی ان سازش کرنے والوں سے مل چکے تھے۔ مگر کارمونا کی حکومت نے ایسا قدم اٹھایا جس نے سب کچھ الٹ دیا۔ اس نے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ دونوں کو ختم کر دیا۔ عوام بھڑک اٹھے۔ وہی غریب جو چاویز کے ساتھ تھے، سڑکوں پر نکل آئے۔ فوج کے اندر بھی وفادار افسر حرکت میں آ گئے۔ صرف 47 گھنٹوں بعد چاویز واپس اقتدار میں واپس آ چکے تھے۔
یہ واقعہ چاویز کے لیے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ امریکی سازش کی ناکامی نے اسے عوام میں بیحد مقبول بنا دیا۔ فوج، عدالتیں اور میڈیا سب اس کے ساتھ تھے۔ عوام میں اس کی حیثیت قومی ہیرو کی بن چکی تھی۔۔وہی مقبولیت جو فیڈل کاسترو اور چے گویرا کو نصیب تھی۔ خوش قسمتی سے تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں، پیسہ آیا، اور چاویز نے اپنی سوشلسٹ پالیسیوں کو تیز کر دیا، پیسہ عوام پر نچھاور کر دیا۔ اس نے امریکہ کے خلاف نیا اتحاد بنایا جس میں بولیویا، نکاراگوا اور کیوبا جیسے ممالک شامل تھے۔ اسے یقین تھا کہ وہ لاطینی امریکا میں امریکی اثر کو ختم کر سکتا ہے۔ لیکن چاویز کو قدرت نے وقت نہیں دیا۔ پانچ مارچ، 2013 کو وینزویلا کا ہیرو ہوگو چاویز دنیا سے رخصت ہوا۔
چاویز کے بعد 2013 میں عوام نے اسکے پسندیدہ اور وفادار ساتھی نیکولس مادورو کو صدر چنا۔ مگر قسمت نے رخ موڑ لیا۔ 2014 میں تیل کی قیمتیں گر گئیں۔ ملک کی معیشت تباہ ہونے لگی۔ خوراک، دوائیں، بجلی، سب کی قلت ہو گئی۔ مہنگائی اتنی بڑھی کہ کرنسی بے معنی ہو گئی۔ لاکھوں لوگ ملک چھوڑنے لگے
امریکا نے اس موقع کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کیا۔ پہلے اوباما حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا کر چند حکام پر پابندیاں لگائیں۔ پھر ٹرمپ کے زمانے میں 2017 اور 2018 میں پابندیاں سخت ہو گئیں۔ تیل کی برآمدات پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔ حکومت کو قرضوں کی ادائیگی سے روک دیا گیا۔ واشنگٹن کو امید تھی کہ فوج مادورو کا ساتھ چھوڑ دے گی۔ مگر اس کا الٹا اثر ہوا۔ مادورو نے فوجی جرنیلوں کو اعتماد میں لیا۔ فوج کو معیشت کے بڑے حصوں میں سٹیک ہولڈر بنایا۔
ایک نیا موڑ 23 جنوری 2019 کو آیا جب اپوزیشن لیڈر حوان گوایدو نے امریکہ کی ایماء پر خود کو عبوری صدر قرار دے دیا۔ امریکا اور یورپی ممالک نے اسے فوراً تسلیم کر لیا۔ مادورو پر دباؤ بڑھ گیا۔ امریکا نے وینزویلا کے بیرونی اثاثے گوایدو کے نام منتقل کیے۔ تیل پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔ مگر وہ ایک چیز جس پر ساری حکمت عملی کھڑی تھی، فوج کی بغاوت، وہ نہیں ہوئی۔ فوج نے مادورو کا ساتھ دیا۔
فروری 2019 میں امریکا نے کولمبیا کی سرحد پر انسانی امداد کے نام پر ایک کارروائی کی کوشش کی، تاکہ حکومت کو کمزور دکھایا جا سکے۔ مگر وہ ناکام رہی۔ مادورو نے سرحد بند کر دی۔ سنہ 2020 میں گوایدو کی تحریک بھی بیٹھ گئی۔ پھر ایک مضحکہ خیز کوشش ہوئی، جسے "آپریشن گڈیان" کہا جاتا ہے، جہاں چند سابق امریکی فوجیوں نے مادورو کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ وہ پکڑے گئے، اور پوری دنیا میں یہ کہانی مذاق بن گئی۔
ان سب واقعات کے بعد وینزویلا مکمل طور پر ایک نئی شکل میں سامنے آیا۔ سیاست میں اب ایک ہی جماعت کا راج تھا۔ اپوزیشن امریکی حمایت کے سہارے کھڑی تھی۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ فوج حکومت کے ساتھ کھڑی رہی۔ امریکہ اور اتحادیوں کی طرف سے پابندیوں کی بدولت معیشت تباہ ہو چکی تھی۔ سنہ 2013 سے 2023 تک ملک کی جی ڈی پی تقریباً 80 فیصد گر گئی، جو کسی جنگ زدہ ملک کے برابر نقصان تھا۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ امریکہ نے وینزویلا پر جنگ مسلط کر رکھی تھی۔ سات ملین سے زیادہ لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ امریکی پابندیوں نے حکومت پر دباؤ تو ڈالا، مگر عوام پر مکمل تباہی نازل کر دی۔
اس موقع پر امریکہ میں سب کو احساس ہو چکا تھا کہ امریکا کی "زیادہ دباؤ" کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔

یہ میری کتاب ایک مضمون ہے۔ امریکہ نے سینکڑوں ایسے کام کئے ہیں۔ پوری دنیا میں حکومتیں گرائی ہیں۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا۔ یہ جنگی جرم سینکڑوں بار دہرایا جا چکا ہے۔

سچ یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کی اکانومیز مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ ان کا گزارہ ڈالرز چھاپ کر ہو رہا تھا۔ برکس نے وہ راستہ بھی بند کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کے پاس جنگیں جیت کر دنیا میں نئے اصول بنا کر پچھلے قرضے ختم کروانے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

پلیز میری کتاب پڑھئے۔ دستوں کیساتھ بھی شیئر کیجئے۔ میں پچھلے پندرہ سالوں سے یہ باتیں مسلسل لکھ رہا ہوں۔ دو کتابیں لکھ چکا ہوں۔ یقیناً کوئی بات ہے تو یہ چیزیں سچ ثابت ہو رہی ہیں۔

پلیز شئیر کیجئے۔

شکریہ۔

Address

Kabirwala
58250

Opening Hours

Monday 07:30 - 23:30
Tuesday 07:30 - 23:30
Wednesday 07:30 - 23:30
Thursday 07:30 - 23:30
Friday 07:30 - 23:30
Saturday 07:30 - 23:30
Sunday 08:30 - 23:30

Telephone

+923077650007

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 786 drink corner near Punjab college kabirwala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share