برکت والی زندگی

برکت والی زندگی We offer Design and construction services of Residential, Commercial and industrial Buildings. Cost

We deliver Design & Build projects, where design services are offered free of charge. We strive to build a transparent relationship with our clients by disclosing actual cost of materials.

22/06/2026

اپنے لوگ" — آخر کون ہوتے ہیں؟
"اپنے لوگ"… یہ صرف دو الفاظ نہیں، بلکہ انسانی زندگی کی ایک گہری ضرورت، ایک جذباتی پناہ گاہ اور دل کی ایک خاموش دعا کا نام ہیں۔
یہ الفاظ کانوں میں پڑتے ہی دل میں عجیب سا سکون، تحفظ، اپنائیت اور وابستگی کا احساس بیدار کر دیتے ہیں۔ انسان کی پوری زندگی دراصل انہی "اپنوں" کی تلاش میں گزرتی ہے۔ بچپن میں والدین اپنے ہوتے ہیں، جوانی میں دوست اپنے لگتے ہیں، شادی کے بعد شریکِ حیات اور اولاد اپنے بن جاتے ہیں، لیکن وقت، حالات، آزمائشیں اور تجربات رفتہ رفتہ انسان کو یہ سکھا دیتے ہیں کہ ہر قریب رہنے والا اپنا نہیں ہوتا اور بعض اوقات دور بیٹھے ہوئے لوگ بھی دل کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اس حوالے سے قرآنِ کریم ہمیں کیا سکھاتا ہے، سنتِ نبوی ﷺ کیا رہنمائی فراہم کرتی ہے، اور دنیا اس حقیقت کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔
۱۔ قرآنِ کریم کی نظر میں "اپنے لوگ" کون ہیں؟
قرآنِ مجید نے "اپنے لوگوں" کا تصور نہایت وسیع، متوازن اور مخلصانہ بنیادوں پر قائم کیا ہے۔ قرآن کے نزدیک اپنائیت کا معیار صرف خون کا رشتہ نہیں، بلکہ ایمان، اخلاص، کردار اور خیر خواہی بھی ہے۔
اہلِ خانہ اور خونی رشتے
سب سے پہلے قرآن نے والدین، بہن بھائیوں، اولاد اور قریبی رشتہ داروں کو خصوصی اہمیت عطا کی ہے اور ان کے حقوق کو بہت بلند مقام دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ (النساء: 1)
"اور اللہ سے ڈرو، جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داریوں کو قطع کرنے سے بچو۔"
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خاندان محض سماجی اکائی نہیں بلکہ اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے، جس کی حفاظت عبادت کا حصہ ہے۔
ایمان کا رشتہ: خون سے بھی مضبوط تعلق
قرآن نے انسانیت کو ایک ایسا رشتہ عطا کیا جو نسب اور قومیت سے کہیں بلند ہے، اور وہ ہے ایمان کا رشتہ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ (الحجرات: 10)
"بے شک تمام اہلِ ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔"
یہ وہ بھائی چارہ ہے جو زبان، نسل، رنگ، وطن اور سرحدوں سے ماورا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والا مومن، دوسرے مومن کا اپنا ہے۔
حق کا ساتھ دینے والے ہی اصل اپنے ہیں:
قرآن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اگر کوئی خونی رشتہ دار حق کے راستے میں رکاوٹ بن جائے اور خیر خواہی سے محروم ہو جائے تو محض رشتہ اسے "اپنا" نہیں بنا دیتا۔
حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ (ہود: 46)
"اللہ نے فرمایا: اے نوح! وہ تمہارے اہل میں سے نہیں، کیونکہ اس کا عمل نیک نہیں تھا۔"
گویا قرآن کی نظر میں اصل اپنائیت نسب سے نہیں بلکہ کردار، ایمان اور خیر خواہی سے پیدا ہوتی ہے۔
۲۔ سنتِ نبوی ﷺ کیا سکھاتی ہے؟
رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی "اپنے لوگوں" کے عملی نمونے سے عبارت ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیں بتایا کہ اپنے وہ ہیں جن کے ساتھ ہمارا رویہ بہترین ہو، جن کے حقوق ہم ادا کریں اور جن کے دکھ سکھ میں ہم شریک ہوں۔
سب سے زیادہ حسنِ سلوک گھر والوں کے ساتھ:
آپ ﷺ نے فرمایا:
خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي (جامع ترمذی)
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔"
انسان کا اصل کردار باہر نہیں بلکہ گھر کے اندر ظاہر ہوتا ہے۔ جو اپنے گھر والوں کے لیے رحمت بن جائے، وہی حقیقی معنوں میں بہترین انسان ہے۔
صلۂ رحمی: اپنائیت کو زندہ رکھنے کا نام:
سنتِ نبوی ﷺ نے رشتہ داروں سے تعلق جوڑے رکھنے کو بہت بڑی نیکی قرار دیا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ (صحیح بخاری)
"جو یہ چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں برکت ہو اور اس کی عمر میں اضافہ ہو، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔"
رشتے صرف خون سے نہیں چلتے، بلکہ توجہ، دعا، محبت اور وقت دینے سے زندہ رہتے ہیں۔
دکھ درد میں شریک ہونے والے:
رسول اللہ ﷺ نے مومنوں کی مثال ایک جسم سے دی۔
مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ... (صحیح مسلم)
"مومن آپس کی محبت، رحمت اور ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہیں؛ جب جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار کے ذریعے اس کا ساتھ دیتا ہے۔"
یہی وہ لوگ ہیں جو دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں، نہ کہ نمک چھڑکتے ہیں۔
۳۔ دنیا "اپنے لوگوں" کو کس نظر سے دیکھتی ہے؟
دنیاوی زندگی میں "اپنے لوگ" کی تعریف اکثر وقت، ضرورت، حالات اور مفادات کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔
مفاد کے رشتے:
آج کی دنیا میں بہت سے تعلقات ضرورت کے سہارے قائم ہوتے ہیں۔ جب تک فائدہ موجود ہو، اپنائیت باقی رہتی ہے، اور جب فائدہ ختم ہو جائے تو رشتے بھی مدھم پڑنے لگتے ہیں۔
اسی لیے کہا جاتا ہے:
مفاد پرستی کی دنیا میں سچے اپنے بہت کم ہوتے ہیں۔
مشکل وقت کے ساتھی:
زندگی کا سب سے بڑا امتحان خوشی نہیں بلکہ مصیبت ہوتی ہے۔
خوشیوں میں تو ہجوم جمع ہو جاتا ہے، لیکن آزمائش کی گھڑی میں اکثر چہرے بدل جاتے ہیں۔ تب انسان جان لیتا ہے کہ اس کے اصل اپنے کون ہیں۔
واقعی،
اپنے وہ نہیں جو ہر تصویر میں ساتھ ہوں، بلکہ اپنے وہ ہیں جو ہر مشکل میں ساتھ کھڑے ہوں۔
جن کے سامنے نقاب پہننے کی ضرورت نہ پڑے:
نفسیات کے مطابق، اپنے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے سامنے انسان کو خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہ ہو، جہاں اسے مصنوعی شخصیت اختیار نہ کرنی پڑے، جہاں خاموشی بھی سمجھ لی جائے اور آنکھوں کی نمی بھی پڑھی جا سکے۔
یہی لوگ انسان کے لیے ذہنی سکون اور جذباتی پناہ گاہ بن جاتے ہیں۔
حاصلِ کلام:
اگر قرآن، سنت اور زندگی کے تجربات کو یکجا کیا جائے تو "اپنے لوگ" وہ ہیں:
جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کی بنیاد پر آپ سے جڑے ہوں۔
جو آپ کے والدین، بہن بھائی، شریکِ حیات، اولاد اور قریبی رشتہ دار ہیں، جن کے ساتھ صلہ رحمی کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔
جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کی عزت، وقار اور رازوں کی حفاظت کریں۔
جو آپ کی کامیابی پر حسد نہیں بلکہ دل سے خوش ہوں۔
جو مصیبت کے وقت آپ کا ہاتھ تھام لیں، چاہے پوری دنیا آپ کا ساتھ چھوڑ دے۔
آخرکار انسان یہ سیکھ لیتا ہے کہ اپنے لوگ نام کے رشتہ دار نہیں ہوتے، بلکہ وہ ہوتے ہیں جن کے دلوں میں آپ کے لیے سچی دعا، بے غرض محبت اور مخلصانہ تڑپ موجود ہو۔
اور شاید زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ دولت، شہرت یا منصب نہیں، بلکہ چند ایسے لوگ ہیں جنہیں آپ بے تکلفی سے "اپنے لوگ" کہہ سکیں۔ ان لوگوں کی قدر کیجیے، ان کے لیے دعا کیجیے اور خود بھی کسی کے لیے ایسا انسان بن جائیے کہ کوئی دل سے کہہ سکے:
"یہ میرے اپنے ہیں۔"
— محمد اجمل خان


#عبرت
See less

21/04/2025

🌸 اپنے گھر اور معاشرے کو سنواریں 🌸

✍️ تحریر: محمد اجمل خان

ازدواجی زندگی کے سُبُک رفتاری میں چھوٹی چھوٹی ناچاقیاں، وقتی تلخ کلامی اور تناؤ کے چند لمحات کا ہونا معمول کی بات ہے۔ لیکن پھر نظریں ملتی ہیں، چہروں پر مسکراہٹیں کھلتی ہیں، دل پگھلتے ہیں اور جنبشِ لب کے بغیر معافی مانگ لی جاتی ہے، درگزر کر دیا جاتا ہے اور محبت پہلے سے زیادہ گہری ہو جاتی ہے۔ یہی تو ہے ازدواجی کا حسین رقص، جو نسل در نسل یونہی چلتا آیا ہے۔

وہ گھر جہاں میاں بیوی کے جھگڑے معافی اور درگزر کی چھلنی سے گزرتے رہتے ہیں، وہاں رشتوں کی مٹھاس کبھی کم نہیں ہوتی۔ مگر وہ گھر جہاں دل میں زہر بھر لیا جائے، وہاں چین کی سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے اور صرف تناؤ، تلخی، گھٹن اور تنگی باقی رہ جاتی ہے۔
وہاں چھوٹی چھوٹی باتیں انا کا مسئلہ بن جاتی ہیں۔
شوہر تھوڑا سخت ہو جائے، بیوی کا دل بھر آتا ہے۔
بیوی ذرا زیادہ بول دے، شوہر غصے میں آ جاتا ہے۔
پھر تکرار و جھگڑے یا پھر رونا دھونا اور خاموشی۔

✅ خاموش تو اختیار کرتے ہیں، مگر دل سے معاف نہیں کرتے۔
✅ چہرے پر مسکراہٹ تو ہوتی ہے، لیکن دل میں کدورت باقی رہتی ہے۔
✅ اور یہ دل کی دوری رفتہ رفتہ دو جسموں کے درمیان دیوار بن جاتی ہے۔

⚡ پھر رشتہ محض "ساتھ رہنے" کا نام بن کر رہ جاتا ہے، "دل سے جُڑنے" کا نہیں۔

یا پھر

⚡ طلاق یا خلع
⚡ گھر کا ٹوٹ جانا اور
⚡ بچوں کا برباد ہو جانا۔

❌خاموشی کا مطلب معافی نہیں

اکثر لوگ کہتے ہیں:

میں نے بات آگے نہیں بڑھائی؟ بس چھوڑ دیا؟
لیکن چھوڑ دینے کا مطلب معاف کر دینا نہیں۔

🔸 جب تک دل نرم اور صاف نہ ہو،
🔸 جب تک دل سے معاف نہ کر دیا جائے،
🔸 جب تک دل سے معافی نہ مانگی لی جائے،

- - نہ تعلق درست ہوتا ہے، نہ دل میں پہلے جیسی محبت ہی برقرار رہتی ہے۔

کیونکہ:

🧱 مرد " انا " کے قیدی ہیں اور
🧱 عورتیں " ضد " کی زنجیروں میں جکڑی ہیں۔
🧱کوئی یہ سوچتا ہے: میں مرد ہو کر معافی کیوں مانگوں؟
🧱کوئی یہ کہتی ہے: پہل میں کیوں کروں؟ غلطی تو ان کی تھی؟
لیکن - - -
🔸کبھی بھی جھگڑا صرف ایک کی غلطی سے نہیں ہوتا۔
🔸اکثر دونوں طرف کچھ نہ کچھ غفلت اور کوتاہی ہوتی ہے۔

🧱 اور یہ سب دینی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے۔🧱

دین اسلام اپنی لامحدود حکمت کے ساتھ ہر تنازعہ کا یہی آسان حل پیش کیا ہے: "معافی مانگ لو، معاف کر دو"۔

مگر افسوس آج کے مسلم معاشروں میں معافی کا یہ سنہری اصول دم توڑتا نظر آتا ہے۔ نہ ہی بچوں کو معافی مانگنا سکھایا جاتا ہے، نہ ہی گھروں میں یہ نیک رواج پایا جاتا ہے۔ بلکہ معافی مانگنے کو کمزوری یا شرمندگی کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔ خاص طور پر مردوں کو تو بچپن سے ہی انا پرستی کا سبق پڑھایا جاتا ہے، اور بعض خواتین بھی یہ سمجھتی ہیں کہ معافی مانگنا ان کی عزت کے خلاف ہے۔ یہ سوچ معاشرے کو سخت دل اور بے جان بنا رہا ہے۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ غلطی پر معافی مانگنا ایک عظیم اور باوقار عمل ہے، یہ کمزوری نہیں بڑائی ہے، معافی مانگ لینے سے انسان چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ اپنی عزت بڑھاتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو معاف کر دیتا ہے، اللہ اس کی عزت بڑھاتا ہے"۔ (صحیح مسلم: 2588)

"اور جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت محبوب ہیں" (134) سورۃ آل عمران

🌿 دیکھیے! کتنا محبوب ہے اللہ کو یہ عمل، کہ اس پر کاربند رہنے والوں کو اللہ اپنے محبوب بندوں میں شامل کر لیتے ہیں 🌿

اسی لیے اللہ کے پیارے نبی ﷺ نے ایک وعدہ اور بھی کیا ہے، فرمایا: "میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود لڑائی جھگڑا ترک کر دے"۔ (سنن ابوداؤد: 4800)

تو کیوں نہ ہم معافی اور درگزر کو معمول بنا کر اپنے رب کے محبوب بندوں میں شامل ہوں اور جنت میں ایک گھر کا وارث بن جائیں!

🌟 معافی، مرد کی شان – عورت کی عظمت

یہ سوچنا کہ
🔸" میں مرد ہوں، میں کیوں معافی مانگوں؟"
یا
🔸" میں پہل کیوں کروں؟ غلطی تو ان کی تھی؟"

⚡یہ سب دراصل انا پرستی ہے۔
⚡اور انا شیطان کا ہتھیار ہے۔
⚡ انا کو طاقت سمجھنا جہالت ہے۔
⚡طاقت وہی ہے جو نفس کو توڑ دے، جو دل کو نرم کر دے۔

🌿 لہذا اپنی سوچ کو مبت بنائیں، اپنے گھر اور معاشرے کو سنواریں 🌿

ایک خوشحال گھر وہی ہوتا ہے:

✅ جہاں روٹھنے، منانے اور مان جانے کی گنجائش ہو،
✅ جہاں معافی مانگنے اور معاف کردینے کا جذبہ ہو،
✅ جہاں مرد معافی مانگنے سے نہ شرمائے، اور
✅ عورت معاف کرنے سے نہ ہچکچائے۔

پھر وہ گھر نہ صرف چلتا ہے بلکہ پھلتا پھولتا ہے اور جنت کا نمونہ بن جاتا ہے،

ایسے گھر میں:

✦ محبت بڑھتی ہے،
✦ دل قریب آتے ہیں،
✦ رشتے مضبوط ہوتے ہیں
✦ بچے اعتماد سیکھتے ہیں،
✦ ان کی تربیت بہتر ہوتی ہے،
✦ اور زندگی آسان ہو جاتی ہے،

🌱 لہذا اپنے بچوں کی تربیت میں معافی مانگنے اور درگزر کردینے کی عادت کو شامل کیجیے:

🔹 آج کے بچے کل کے شوہر، بیویاں، والدین، ملازمین، افسران، سیاستدان، اور رہنما بنیں گے۔

🔹 اگر آج آپ انہیں معافی مانگنا اور درگزر کرنا سکھا دیں، تو کل وہ معاشرے کے بہتر فرد ہوں گے۔

معافی مانگ لینا اور معاف کر دینا — یہ مثبت سوچ کا بھی ثبوت ہے اور مثبت عمل بھی!

⚡معاف کر دینا رشتوں کو پائیدار بناتا ہے۔
⚡درگزر کرنا اللہ کے نیک بندوں کا شیوہ ہے۔
⚡شیریں گفتاری مومن کا حقیقی زیور ہے۔

"بھلائی اور بُرائی برابر نہیں ہوتی۔ (تم) برائی کو بھلائی سے دفع کرو، پھر وہی شخص جو تمہارا دشمن تھا، گویا گہرا دوست بن جائے گا"۔ (سورۃ فصلت: 34)

💡اپنے رب کے بتائے ہوئے اس سنہری اصول کو

✅- اپنے گھر میں بھی اپنائیے،
✅- خاندان کے جھگڑوں میں بھی،
✅- پڑوسیوں کے تنازعات میں بھی،
✅- دفتر یا کاروباری معاملات میں بھی،
✅- روزمرہ کے معمولی تکرار میں بھی۔

🔹 پھر اگر کبھی گھر، دفتر، بازار یا کوئی اور جگہ — تلخ کلامی یا جھگڑا ہو جائے تو:

✨ پہلا قدم: اپنے دل میں جھانکیں، اپنی کسی ممکنہ غلطی کو تلاش کریں۔
✨ دوسرا قدم: اپنی غلطی بے جھجھک تسلیم کریں اور دل سے معافی مانگیں۔
✨ تیسرا قدم: اگر دوسرا شخص معافی مانگے تو فوراً درگزر کر دیں، اور بات کو وہیں ختم کر دیں۔

ہر تکرار کے بعد " صلح کرنے" میں پہل کیجیے — اور اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لیے جنت کے دروازے کھولتے رہیے۔

اللہ تعالٰی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ہمیں معاف کرنے والا، اور معافی مانگنے والا بنا دے۔ آمین ثمہ آمین

تحریر: محمد اجمل خان، کراچی
21 اپریل 2025
ہ
📢 یہ پیغام شیئر کریں تاکہ ہر دل نرم ہو، ہر گھر بچ جائے، اور ہر رشتہ محفوظ رہے!
ہ
ہ

28/01/2025

السلام علیکم
مشورہ درکار ہے۔
کتاب *بابرکت و باسعادت بڑھاپا* کے بعد میں ایک اور کتاب لکھنے کی سوچ رہا ہوں۔ لہذا نئی کتاب کے نئے موضوع کے بارے مشورہ درکار ہے۔

23/10/2024

اگلا موقع

شروع میں ایک بچے کو پینسل سے لکھنا سکھایا جاتا ہے،
تاکہ اگر کوئی غلطی ہوجائے تو ربر سے مٹا کر اسے درست کرلے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پینسل کی جگہ ہاتھ میں قلم پکڑا دیا جاتا ہے یہ سمجھانے کیلئے کہ اب آپ بڑے ہوگئے ہیں، اب اگر غلطی ہوئی تو اسے مٹانا ممکن نہیں بلکہ

اسے یاد رکھنا ہے،
اِس سے سبق لینا ہے،
پھر
اِسے کاٹ کر ٹھیک کرنا ہے۔

مٹانا نہیں ہے بلکہ ذہن میں محفوظ رکھنا ہے۔

اسی طرح
اپنی تربیت کیجئے،
اپنے آپ کو ٹرینڈ کیجئے،
اپنے آپ کو حوصلہ دیجئے،
اپنے اندر مثبت سوچ پیدا کیجئے،

یاد رکھئے:

ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔

فیل (FAIL) ہونے کا مظلب "کچھ سیکھنے کی طرف پہلا قدم" یعنی

(۔FAIL = First Attempt In Learning ۔)

اور (-END-) کا مطلب خاتمہ یا سب کچھ ختم ہوجا نا نہیں ہے۔

بلکہ

(-END-) کا مطلب ہے (۔END = Effort Never Dies۔) یعنی جدوجہد کبھی نہیں ختم نہیں ہوتی۔

جب کبھی جواب نفی (NO) میں ملے تو اگلے موقعے کیلئے تیار ہوجائیے،

کیونکہ "(-NO-) کا معنی ہے "اگلا موقع"

(۔NO = Next Opportunity۔)

ہمارا رب ہمیں باربار موقع دیتا ہے، ہر رات اپنے بندے کو پکارتا ہے جیسا کہ اللہ کے محبوب پیغمبر ﷺ نے ہمیں خبر دی ہے: " ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں، کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں"۔ (صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1145)

لہذا ہر لمحہ ایک موقع ہے،
ہر رات اگلہ موقع لے کر آتا ہے،
ہر اگلے موقعے سے فائدہ اٹھائیے،

یا کم از کم

ہر رات کے آخری پہر اپنے رب سے بخشش طلب کیجیے، مغفرت طلب کیجیے، استغفار کیجیے۔

پڑھیے:

أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ

( میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ ہے اور قائم رکھنے والا ہے اور میں اسی سے توبہ کرتا ہوں )۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے « أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» کہا تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اگرچہ وہ میدان جنگ سے بھاگ گیا ہو “۔ (سنن ابي داودسنن ابي داود: 1517)

مغفرت مل گئی تو دنیا و آخرت کی سارے غم سے نجات مل گئی۔ دنیا میں سب سے بڑا غم رزق کی تنگی کا غم ہے، جو استغفار کی برکت سے حل ہوتا ہے۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے استغفار کو لازم کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا، اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو گا “۔ (سنن ابن ماجه: 3819)

آج جس کو دیکھو وہ رزق کی تنگی کا رونا رو رہا ہوتا ہے۔ اس کا حل تو ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں بتا دیا ہے۔ لیکن افسوس کہ لوگ اس حل کی طرف رجوع نہیں کرتے، استغفار کی کثرت نہیں کرتے بلکہ گناہ پر گناہ کیے جاتے ہیں اور ناجائز طریقے یعنی کرپشن و رشوت خوری اور جھوٹ و فریب سے رزق کی تنگی دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے مال تو بڑھ سکتا ہے لیکن رزق کی تنگی دور نہیں ہوتی۔

یاد رکھیے: آپ کا کمایا ہوا حرام مال صرف آپ کو ہی نہیں بلکہ آپ کی متعدد نسلیں تباہ کرکے رہے گی اور نہ جانے کتنی نسلوں کی تباہی کا گناہ آپ کے سر ہوگا۔

لہذا حرام کمانا چھوڑ دیجیے، حرام کمانے سے توبہ کیجیے۔

اگر رزق میں تنگی ہے تو اسے دور کرنے کے لیے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا بتایا ہوا آزمودہ طریقہ اپنائیے۔

استغفار کو لازم کیجیے۔ استغفار کو لازم وہی کرے گا جو اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اور تقویٰ اختیار کرے گا، ارشاد باری ہے:

وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبْ (سورة الطلاق)

”جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جس کا وہ گمان بھی نہیں رکھتا ہو گا“۔

لہذا دنیا و آخرت کے ہر غم سے نجات پانے کے لیے اپنے رب سے ہر لمحہ مغفرت طلب کیجیے، جب تک جان میں جان ہے تب تک ہمیں یہ موقع حاصل ہے۔ روح کے حلق میں پہنچتے ہی توبہ و استغفار کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا اور موت کسی بھی وقت آسکتی ہے۔ لہذا موت سے پہلے جتنا ممکن ہو کثرت سے استغفار کیجیے اور دنیا و آخرت کی ہر غم و تکلیف اور ہر تنگی سے نجات پائیے۔

اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو استغفار کی کثرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

تحریر: محمد اجمل خان
کتاب: بابرکت زندگی۔
۔

20/10/2024

مثبت ذہنی رویہ یا مثبت سوچ
Positive mental attitude (PMA) or Positive Thinking

مثبت ذہنی رویہ [Positive mental attitude (PMA)] کا تصور سب سے پہلے 1937 میں نپولین ہل (Napoleon Hill) نے اپنی کتاب تھنک اینڈ گرو رچ (Think and Grow Rich) میں متعارف کرایا تھا۔

کتاب میں حقیقتاً مثبت ذہنی رویہ ((PMA) کی اصطلاح کا استعمال نہیں کی گئی لیکن زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے ایک اہم عنصر کے طور پر مثبت سوچ کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اس کے بعد 1960 میں نپولین ہل (Napoleon Hill) مشترکہ انشورنس (Combined Insurance) کمپنی کے بانی ، ولیم کلیمنٹ اسٹون (William Clement Stone) کے ساتھ مل کر ’’مثبت ذہنی رویہ کے ذریعے کامیابی‘‘ (Success Through a Positive Mental Attitude) نامی کتاب لکھی جس میں مثبت ذہنی رویہ کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا۔

مثبت ذہنی رویہ وہ فلسفہ ہے جو انسان کو ذہنی اور جسمانی صحت اور کامیابی کیلئے ہر حال میں مثبت سوچ اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ جو انسان ہر حال میں مثبت ذہنی رویہ اختیار کرتا ہے وہ اپنی اور دوسروں کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی اور کامیابی لاتا ہے۔ مثبت سوچنے والے انسان ہر حال میں پر امید اور خوش رہتے ہیں۔ ہر حال میں پرامید رہنا مثبت سوچ کی اساس ہے۔

مثبت سوچ کی متعضاد منفی سوچ ہے جو شکست، ناکامی، ناامیدی، غصہ، بد مزاجی ، مایوسی ، دوسروں کو ذلیل کرنے کی خواہش وغیرہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔

’’ Positive mental attitude (PMA) ‘‘ بعد میں’’Positive Thinking‘‘ کی نئی اصطلاح سے مشہور ہوئی اور اردومیں ’’مثبت سوچ‘‘ کی اصطلاح متعارف کرائی گئی ہے جو کہ ’’Positive Thinking‘‘ کا بس ترجمہ ہے جبکہ ’’حسن ظن یا نیک گمان‘‘ سے تعبیر کیا جانا زیادہ مناسب ہوتا کیونکہ ’’حسن ظن یا نیک گمان‘‘ کی اصطلاح ہمارے دین اسلام میں پہلے دن سے موجود ہے اور اس بارے میں ہمارے پیارے رسول اللہ ﷺ کی متعدد احادیث بھی موجود ہیں۔

1960 کے بعد مغربی ممالک میں ’’مثبت سوچ‘‘ کے موضوع پر ایک انقلاب آگیا۔ بے شمار موٹیویشنل اسپیکرز (Motivational Speakers) اور لائف کوچز (Life Coaches) وغیرہ نے لوگوں کو ’’مثبت سوچ‘‘ کی تربیت دینے کیلئے ٹریننگ سینٹرزقائم کیں، بے شمار کتابیں لکھیں اور بہت سارے سیمینار اور ٹریننگ وغیرہ کے ذریعے لوگوں کو مثبت سوچنے اور کامیابی کے زینے پر چڑھنے میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی کامیاب ہوئے۔

مغربی ممالک کے ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے ورکرز کی پروڈکٹیویٹی (Productivity) بڑھانے کیلئے ’’مثبت سوچ‘‘ کے موضوع پر ٹریننگ کی انعقاد کرواتے رہتے ہیں۔ میں جب دبئی میں تھا تو مجھے بھی اپنی کمپنی کی طرف سے اس طرح کی بعض ٹریننگ میں حصہ لینے کا موقع ملا تھا۔

پاکستان میں بھی پچھلے چند سالوں سے بعض موٹیویشنل اسپیکرز (Motivational Speakers) نے ’’مثبت سوچ‘‘ کے موضوع کو اپنی ٹریننگ کا حصہ بنایا ہوا ہے لیکن ابھی اس موضوع پر بہت کام ہونا ہے۔

میں نے بھی سوچا کہ کیوں نہ اس موضوع پر لکھا جائے۔ بعض دوستوں سے مشورہ کیا تو سب نے سراہا۔

جیسا کہ اوپر بیان کر چکا ہوں کہ جدید دنیا 1960 کے بعد مثبت سوچ اپنانا سیکھا جبکہ اسلام 1400 سال پہلے سے ہی اپنے ماننے والوں میں مثبت سوچ پیدا کرتا چلا آرہاہے۔ مجھے قرآن و سنت کی ہر تعلیم انسان کو مثبت سوچ دینے والی ملی۔

قرآن وسنت میں کسی بھی مقام پر کوئی ایسا کوئی مواد نہیں ملتا جو انسان کو مثبت کے بجائے منفی سوچ دیتا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے مشکل سے مشکل ترین حالات میں بھی مثبت انداز فکر اپنایا اور مثبت قدم اٹھایا۔ صحابہ کرامؓ نے بھی اسی مثبت سوچ اور مثبت اقدام کے ذریعے ساری دنیا میں اپنی فتوحات سکے جمائے اور دنیا و آخرت کے کامیاب ترین انسان بنے۔

مغرب میں مثبت سوچ کے موضوع پر جو کچھ ابھی تک کہا یا لکھا گیا ہے ہمارے پاس قرآن و سنت اور سلف صالحین کی تعلیمات میں اس سے کہیں زیادہ مواد موجود ہے۔ لہذا میں نے سوچا کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے بارے میں میں جو کچھ لکھتا ہوں کیوں نا اسے جدید دنیا کی نئی اصطلاح ’’مثبت سوچ‘‘ کے ساتھ ہم آہنگ کردو۔ میرا علم اتنا وسیع تو نہیں، بس اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کچھ لکھ لیتا ہوں۔ اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ میرے اور آپ کے علم میں برکت دے اور اس علم کے مطابق عمل کرنے کی توفیق بھی دے۔ آمین۔

تحریر: محمد اجمل خان
۔

25/08/2024

قومیں اپنی تاریخ قلم سے نہیں خون سے لکھتی ہیں، جیسے فلسطینی آج لکھ رہے ہیں۔

08/08/2024

اچھی موت اور خاتمہ بالخیر کی دعا کرنا

زندگی کا خاتمہ تو کسی بھی وقت ہو سکتا ہے لیکن جب بڑھاپا آجائے تو انسان اپنا انجام موت کی صورت میں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اب اس کے پاس نہ ہی جسمانی صحت و طاقت ہوتی ہے اور نہ ہی اتنا وقت کہ زیادہ سے زیادہ عبادات کرکے اپنی آخرت سنوار سکے۔ لیکن جب تک حواس بحال ہو اور روح حلق میں آکر نہ پھنسی ہو تب تک ایک بندہ مومن دعا اور استغفار کے ذریعے اپنی آخرت سنوار سکتا ہے۔ خاتمہ بالخیر اس دنیا میں انسان کو ملنے والی رب کریم کی سب سے بڑی نعمت ہے کیونکہ اسی پر اخروی زندگی کی کامیابی کا مدار ہے۔

موت کے وقت حسن خاتمہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہمیشہ خاتمہ بالایمان اور خاتمہ بالخیر کی دعا کرنا ہے۔

بڑھاپے میں ضعف کی وجہ سے اگرچہ ہم بڑی بڑی عبادات نہ کر سکتے ہوں لیکن دعا تو کر سکتے ہیں، ہمارا رب کتنا مہربان ہے کہ اس نے ہماری دعائیں قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے:

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ‎(٦٠)‏ سورة غافر

ترجمہ: ’’تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بیشک جو لوگ میری عبادت (دعا مانگنے) سے رو گردانی کرتے ہیں وہ عنقریب جہنم میں رسوا ہو کر داخل ہوں گے ‘‘

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دعا کرنا افضل عبادت ہے۔ (سلسلہ احاديث صحيحہ: 3066) 1579
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارا رب بڑا باحیاء اور کریم ہے، اسے اس بات سے شرم آتی ہے کہ اس کا بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے تو وہ انہیں خالی اور ناکام و نامراد لوٹا دے ۔ (سنن ترمذي: 3556،)

دعا ہمہ قسم کی خیر کا سر چشمہ اور دنیا و آخرت کی فلاح و کامیابی کا ذریعہ ہے۔ بڑھاپے میں پہنچ کر ہر بندہ مومن کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ اس دنیا سے خاتمہ بالخیر کے سرٹیفیکیٹ کے ساتھ وہ اپنی آخرت کے سفر پر روانہ ہو اور ہمارا رب بھی یہی چاہتا ہے کہ اس کا بندہ خاتمہ بالخیر سے ہمکنار ہو اور اس کی نعمتوں بھری جنت کا وارث بنے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے اپنے بندوں کو خاتمہ بالخیر کی دعائیں سکھائی ہیں۔

اللہ کے آخری نبی ﷺ ساری زندگی خاتمہ بالخیر کی دعائیں کرتے رہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی سکھاتے رہے۔ آپ ﷺ اپنی وفات کے وقت جو دعا مانگی یہ تھی:

«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَی»۔

’’اے اللہ! بخش دے مجھ کو اور رحم فرما مجھ پر اور مجھ کو رفیق اعلیٰ سے ملا دے‘‘۔(صحیح البخاری: 5674، ترمذي: 3496)

رفیق اعلیٰ سے مراد ہے: انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں، جس کی دلیل یہ آیت ہے:

وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا (٦٩) سورة النساء

’’اورجو شخص الله اور اس کے رسول کا فرمانبردار ہو تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر الله نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین اور یہ رفیق کیسے اچھے ہیں ‘‘



۔

27/07/2024

جب دولت، شہرت اور عزت سب کچھ مل جائے تو تکبر سے بچنا نبیوں اور ولیوں کے سوا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔

27/07/2024

بے ضمیر لوگ
بدن سے روح نکلتی ہے تو بچھتی ہے صف ماتم، مگر جب ضمیر مرتا ہے تو کوئی ماتم نہیں کرتا۔

بابرکت و باسعادت بڑھاپامیں نے ’’بابرکت و باسعادت بڑھاپا‘‘ کے نام سے ایک کتاب تالیف کی، جو کہ ایک منفرد کتاب ہے۔ اس موضوع...
22/07/2024

بابرکت و باسعادت بڑھاپا

میں نے ’’بابرکت و باسعادت بڑھاپا‘‘ کے نام سے ایک کتاب تالیف کی، جو کہ ایک منفرد کتاب ہے۔ اس موضوع پر دنیا میں *ابھی تک کوئی دوسری کتاب نہیں ہے*۔

اس کتاب کی دو علٰیحدہ جلدیں ہیں۔ پہلی جلد میں 300 صٖحات ہیں اور دوسری جلد میں 310 صفحات ہیں۔ ان کی اشاعت: کلر پرنٹ، عمدہ کاغذ، مضبوط بائنڈنگ اور پرکشش سرورق۔

عام لوگوں کو یہ دونوں کتابیں رعایتی ہدیہ 1310 روپے (بمع ڈاک خرچ) کی پیشگی ادائیگی پر یہ دی جارہی ہے۔ جبکہ امام و خطیب، حافظ و قاری، مدرس معلم و طالب علم اور دین کا کام کرنے والے دیگر افراد کو صرف 710 روپے کی ادائیگی پر دی جائے گی۔ (نوٹ: اب کوئی عام شخص چند روپے بچانے کے لیے جھوٹ بول کر کتابیں نہ لے)

رقم ایزی پیسہ یا جاز کیش اکاؤنٹ 03363780896 بنام محمد اجمل خان پر بھیج کر گھر بیٹھے اس کتاب کی دونوں جلدیں حاصل کر سکتے ہیں۔
- - -
’’مسلمان کی خیرخواہی کرنا عظیم عبادت ہے اور اسے نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے‘‘

حضرت جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے، زکاۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی‘‘۔ (سنن ترمذي: 1925)

اسی حدیث کے حوالے سے طبرانی میں ہے کہ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ ایک گھوڑا خرید کر لاو۔ وہ تین سو درہم میں گھوڑا خرید کر لایا ساتھ قیمت دلانے کے لیے گھوڑے کے مالک کو بھی لیتا آیا۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ کو مقرر شدہ تین سو درہم رقم بتلائی اور گھوڑا بھی پیش کردیا۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے اندازہ کیا کہ گھوڑے کی قیمت تین سو درہم سے کہیں زیادہ ہے۔ لہذا آپ نے گھوڑے کے مالک سے کہا کہ تمہارا گھوڑا تین سو درہم سے زیادہ قیمت کا ہے، کیا تم اسے چار سو میں بیچو گے؟ وہ راضی ہو گیا، پھر آپ نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ قیمت کا ہے، کیا پانچ سو درہم میں فروخت کرو گے؟ چنانچہ وہ راضی ہو گیا، پھر اسی طرح اس کی قیمت بڑھاتے رہے یہاں تک کہ اسے آٹھ سو درہم میں خریدا۔

*حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا جب مالک تین سو درہم پر راضی تھا تو آپ نے اسے آٹھ سو درہم دے کر اپنا نقصان کیوں کیا؟ تو آپؓ نے فرمایا: بات یہ ہے کہ گھوڑے کے مالک کو اس کی صحیح قیمت کا اندازہ نہ تھا (لیکن مجھے تو معلوم تھا)۔ میں نے خیر خواہی کرتے ہوئے اس کو پوری قیمت ادا کی، کیوں کہ *میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا تھا کہ ہمیشہ ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گا۔ میں نے اس وعدہ کو پورا کیا۔*

آج ہم سب اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں اور دیکھیں کہ ہم اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی کرتے ہیں یا ہم اس کے بدخواہ ہیں۔ ہم اسے فائدہ پہنچانا چاہتے یا اسے نقصان پہنچا کر خوش ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آج کل لوگ کسی کو نقصان پہنچا کر کہتے ہیں کہ ’’فلاں کو چونا لگا دیا‘‘ اور اس چونا لگانے پر خوش ہوتے ہیں، حالانکہ *انہیں رونا چاہیے کہ اپنے اس عمل سے وہ خود اپنے نیک اعمال پر چونا پھیرتے ہیں۔

کسی کتاب کی تصنیف کتنا محنت طلب اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے، یہ وہی لوگ چانتے ہیں جنہوں نے کوئی کتاب مرتب کی ہو۔ ان دونوں کتابوں کا یکمشت ہدیہ 1310 روپے ہے۔ لیکن ہماری قوم کا مزاج دوسروں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا اور دوسروں کو نقصان پہنچانا ہے۔ اب ہر دوسرا شخص ان کتابوں کو مفت میں لینا چاہتا ہے، جبکہ بعض کم سے کم قیمت پر لینا چاہتے ہیں۔ بعض لوگوں نے کتابیں منگوائے کہ ملنے پر روپیہ بھیج دوں گا اور آج تک روپیہ نہیں دیئے۔ بعض لوگوں کو مفت میں صرف 200 روپے ڈاک خرچ دینے کی شرط پر کتابیں بھیجی گئیں، وہ کتابیں حاصل کرنے کے بعد 200 روپے ڈاک خرچ کے بھی نہیں دیئے۔ (اب ایسے لوگوں کو ’’بابرکت و باسعادت بڑھاپا‘‘ کتاب سے کیسے برکت مل سکتی ہے اور ان کا بڑھاپا کیسے بابرکت و باسعادت ہوسکتا ہے) لیکن ان لوگوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ان کتابوں کی تصنیف سے لے کر طباعت تک کتنی محنت ہوئی ہے اور ان پر کتنے اخراجات آئے ہیں۔ انہیں بس اپنا دنیاوی فائدہ دیکھنا ہے، چاہے دوسرے کا نقصان کرکے ہی کیوں نہ ہو۔

تو ایسے لوگوں کو بتاتا چلوں کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: *”جس شخص نے کسی مسلمان کو نقصان پہنچایا، اللہ اسے نقصان پہنچائے گا اور جس شخص نے کسی مسلمان کو مشقت میں ڈالا، اللہ اسے مشقت میں مبتلا کرے گا“*۔ (بلوغ المرام: 1297، سنن ترمذي: 1940، سنن أبي داود: 3635، سنن ابن ماجه: 2342)

دوسری طرف، الحمد للہ! *ہمارے معاشرے میں بعض ایسے مخیر حضرات بھی ہیں جو کتابوں کا ایک سیٹ لے کر 4000 یا 5000 روپے بھی دے جاتے یا بھیج دیتے ہیں، جن کی اضافی رقم سے مستحق افراد کو رعایت دی جاتی ہے*۔ اگر آپ بھی اس کتاب کی چند سیٹس صدقہ جاریہ کے طور پر امام و خطیب، حافظ و قاری، مدرس، معلم و طالب علم اور دین کا کام کرنے والے دیگر افراد میں تقسیم کرنا چاہیں تو رابطہ کریں۔ آپ خود منگواکر انہیں بھیج دیں یا ہمیں رقم ایزی پیسہ کرکے ان افراد کا پتہ بھیج دیں تو ہم انہیں ارسال کر دیں گے، پوری ذمہ داری کے ساتھ، ان شاء اللہ۔

کتاب کے بارے میں تمام معلومات فیس بک کے اس پیج پر موجود ہیں, مزید معلومات کے لیے وہاں سے پڑھ سکتے ہیں۔
شکریہ۔

مؤلف: محمد اجمل خان
واٹس اپ نمبر 0326 2366183

Address

House No. A-9, Block-2, Gulshan-e-Iqbal
Karachi
75300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when برکت والی زندگی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to برکت والی زندگی:

Shortcuts

Share

Category