22/06/2026
اپنے لوگ" — آخر کون ہوتے ہیں؟
"اپنے لوگ"… یہ صرف دو الفاظ نہیں، بلکہ انسانی زندگی کی ایک گہری ضرورت، ایک جذباتی پناہ گاہ اور دل کی ایک خاموش دعا کا نام ہیں۔
یہ الفاظ کانوں میں پڑتے ہی دل میں عجیب سا سکون، تحفظ، اپنائیت اور وابستگی کا احساس بیدار کر دیتے ہیں۔ انسان کی پوری زندگی دراصل انہی "اپنوں" کی تلاش میں گزرتی ہے۔ بچپن میں والدین اپنے ہوتے ہیں، جوانی میں دوست اپنے لگتے ہیں، شادی کے بعد شریکِ حیات اور اولاد اپنے بن جاتے ہیں، لیکن وقت، حالات، آزمائشیں اور تجربات رفتہ رفتہ انسان کو یہ سکھا دیتے ہیں کہ ہر قریب رہنے والا اپنا نہیں ہوتا اور بعض اوقات دور بیٹھے ہوئے لوگ بھی دل کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اس حوالے سے قرآنِ کریم ہمیں کیا سکھاتا ہے، سنتِ نبوی ﷺ کیا رہنمائی فراہم کرتی ہے، اور دنیا اس حقیقت کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔
۱۔ قرآنِ کریم کی نظر میں "اپنے لوگ" کون ہیں؟
قرآنِ مجید نے "اپنے لوگوں" کا تصور نہایت وسیع، متوازن اور مخلصانہ بنیادوں پر قائم کیا ہے۔ قرآن کے نزدیک اپنائیت کا معیار صرف خون کا رشتہ نہیں، بلکہ ایمان، اخلاص، کردار اور خیر خواہی بھی ہے۔
اہلِ خانہ اور خونی رشتے
سب سے پہلے قرآن نے والدین، بہن بھائیوں، اولاد اور قریبی رشتہ داروں کو خصوصی اہمیت عطا کی ہے اور ان کے حقوق کو بہت بلند مقام دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ (النساء: 1)
"اور اللہ سے ڈرو، جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داریوں کو قطع کرنے سے بچو۔"
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خاندان محض سماجی اکائی نہیں بلکہ اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے، جس کی حفاظت عبادت کا حصہ ہے۔
ایمان کا رشتہ: خون سے بھی مضبوط تعلق
قرآن نے انسانیت کو ایک ایسا رشتہ عطا کیا جو نسب اور قومیت سے کہیں بلند ہے، اور وہ ہے ایمان کا رشتہ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ (الحجرات: 10)
"بے شک تمام اہلِ ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔"
یہ وہ بھائی چارہ ہے جو زبان، نسل، رنگ، وطن اور سرحدوں سے ماورا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والا مومن، دوسرے مومن کا اپنا ہے۔
حق کا ساتھ دینے والے ہی اصل اپنے ہیں:
قرآن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اگر کوئی خونی رشتہ دار حق کے راستے میں رکاوٹ بن جائے اور خیر خواہی سے محروم ہو جائے تو محض رشتہ اسے "اپنا" نہیں بنا دیتا۔
حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ (ہود: 46)
"اللہ نے فرمایا: اے نوح! وہ تمہارے اہل میں سے نہیں، کیونکہ اس کا عمل نیک نہیں تھا۔"
گویا قرآن کی نظر میں اصل اپنائیت نسب سے نہیں بلکہ کردار، ایمان اور خیر خواہی سے پیدا ہوتی ہے۔
۲۔ سنتِ نبوی ﷺ کیا سکھاتی ہے؟
رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی "اپنے لوگوں" کے عملی نمونے سے عبارت ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیں بتایا کہ اپنے وہ ہیں جن کے ساتھ ہمارا رویہ بہترین ہو، جن کے حقوق ہم ادا کریں اور جن کے دکھ سکھ میں ہم شریک ہوں۔
سب سے زیادہ حسنِ سلوک گھر والوں کے ساتھ:
آپ ﷺ نے فرمایا:
خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي (جامع ترمذی)
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔"
انسان کا اصل کردار باہر نہیں بلکہ گھر کے اندر ظاہر ہوتا ہے۔ جو اپنے گھر والوں کے لیے رحمت بن جائے، وہی حقیقی معنوں میں بہترین انسان ہے۔
صلۂ رحمی: اپنائیت کو زندہ رکھنے کا نام:
سنتِ نبوی ﷺ نے رشتہ داروں سے تعلق جوڑے رکھنے کو بہت بڑی نیکی قرار دیا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ (صحیح بخاری)
"جو یہ چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں برکت ہو اور اس کی عمر میں اضافہ ہو، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔"
رشتے صرف خون سے نہیں چلتے، بلکہ توجہ، دعا، محبت اور وقت دینے سے زندہ رہتے ہیں۔
دکھ درد میں شریک ہونے والے:
رسول اللہ ﷺ نے مومنوں کی مثال ایک جسم سے دی۔
مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ... (صحیح مسلم)
"مومن آپس کی محبت، رحمت اور ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہیں؛ جب جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار کے ذریعے اس کا ساتھ دیتا ہے۔"
یہی وہ لوگ ہیں جو دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں، نہ کہ نمک چھڑکتے ہیں۔
۳۔ دنیا "اپنے لوگوں" کو کس نظر سے دیکھتی ہے؟
دنیاوی زندگی میں "اپنے لوگ" کی تعریف اکثر وقت، ضرورت، حالات اور مفادات کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔
مفاد کے رشتے:
آج کی دنیا میں بہت سے تعلقات ضرورت کے سہارے قائم ہوتے ہیں۔ جب تک فائدہ موجود ہو، اپنائیت باقی رہتی ہے، اور جب فائدہ ختم ہو جائے تو رشتے بھی مدھم پڑنے لگتے ہیں۔
اسی لیے کہا جاتا ہے:
مفاد پرستی کی دنیا میں سچے اپنے بہت کم ہوتے ہیں۔
مشکل وقت کے ساتھی:
زندگی کا سب سے بڑا امتحان خوشی نہیں بلکہ مصیبت ہوتی ہے۔
خوشیوں میں تو ہجوم جمع ہو جاتا ہے، لیکن آزمائش کی گھڑی میں اکثر چہرے بدل جاتے ہیں۔ تب انسان جان لیتا ہے کہ اس کے اصل اپنے کون ہیں۔
واقعی،
اپنے وہ نہیں جو ہر تصویر میں ساتھ ہوں، بلکہ اپنے وہ ہیں جو ہر مشکل میں ساتھ کھڑے ہوں۔
جن کے سامنے نقاب پہننے کی ضرورت نہ پڑے:
نفسیات کے مطابق، اپنے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے سامنے انسان کو خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہ ہو، جہاں اسے مصنوعی شخصیت اختیار نہ کرنی پڑے، جہاں خاموشی بھی سمجھ لی جائے اور آنکھوں کی نمی بھی پڑھی جا سکے۔
یہی لوگ انسان کے لیے ذہنی سکون اور جذباتی پناہ گاہ بن جاتے ہیں۔
حاصلِ کلام:
اگر قرآن، سنت اور زندگی کے تجربات کو یکجا کیا جائے تو "اپنے لوگ" وہ ہیں:
جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کی بنیاد پر آپ سے جڑے ہوں۔
جو آپ کے والدین، بہن بھائی، شریکِ حیات، اولاد اور قریبی رشتہ دار ہیں، جن کے ساتھ صلہ رحمی کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔
جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کی عزت، وقار اور رازوں کی حفاظت کریں۔
جو آپ کی کامیابی پر حسد نہیں بلکہ دل سے خوش ہوں۔
جو مصیبت کے وقت آپ کا ہاتھ تھام لیں، چاہے پوری دنیا آپ کا ساتھ چھوڑ دے۔
آخرکار انسان یہ سیکھ لیتا ہے کہ اپنے لوگ نام کے رشتہ دار نہیں ہوتے، بلکہ وہ ہوتے ہیں جن کے دلوں میں آپ کے لیے سچی دعا، بے غرض محبت اور مخلصانہ تڑپ موجود ہو۔
اور شاید زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ دولت، شہرت یا منصب نہیں، بلکہ چند ایسے لوگ ہیں جنہیں آپ بے تکلفی سے "اپنے لوگ" کہہ سکیں۔ ان لوگوں کی قدر کیجیے، ان کے لیے دعا کیجیے اور خود بھی کسی کے لیے ایسا انسان بن جائیے کہ کوئی دل سے کہہ سکے:
"یہ میرے اپنے ہیں۔"
— محمد اجمل خان
#عبرت
See less