Deen-e-Islam786

Deen-e-Islam786 Allah aur is k Rasool sallaho eleh wasllam ki mano aur us pe amal karo to dunia aur akhirat ki kamyabi lazmi hai

22/08/2026
اس جمعہ کو ایران بمقابلہ مصر فٹبال ورلڈ ک مقابلے کو ہم جنس پرست مقابلہ( پرائیڈ میچ ) کا نام دیا گیا تھا۔ اور یوں دس محرم...
01/07/2026

اس جمعہ کو ایران بمقابلہ مصر فٹبال ورلڈ ک مقابلے کو ہم جنس پرست مقابلہ( پرائیڈ میچ ) کا نام دیا گیا تھا۔ اور یوں دس محرم کو دو اسلامی ممالک کا ورلڈ کپ مقابلہ ہم جنس پرست ہونا کافی دلچسپی کا باعث بنا کیونکہ دونوں ہی ممالک میں ہم جنس پرستی کی قانونی اجازت نہیں ہے۔
ایران بمقابلہ مصر فیفا ورلڈ کپ 2026 کے اس مقابلے کو لگ بھگ 62 ہزار سے زائد لوگوں نے براہ راست میدان میں دیکھا اور جب ورلڈ کپ کا شیڈیول بنایا جا رہا تھا تو واشنگٹن کی لوکل ہم جنس پرست تنظیم سیاٹل نے فیصلہ کیا کہ جو بھی میچ جمعہ 26 جون 2026 کو یہاں کھیلا جائے گا وہ پرائڈ میچ کہلائے گا اور تب تک فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ یہ میچ کن دو ٹیموں کے مابین کھیلا جائے گا۔
بعدزاں جب فیفا نے فیصلہ کیا کہ یہ میچ ایران اور مصر کے درمیان ہوگا تو کافی دلچسپ صورتحال سامنے ائی اور لگا شاید سیاٹل تنظیم اپنا پرائڈ میچ کا منصوبہ کسی اور دن کسی اور میچ کے لیے رکھ لے لیکن سیٹال کے مطابق وہ اپنا پرائڈ میچ کا منصوبہ اسی دن رکھے گی اور اس کو ہرگز تبدیل نہیں کرے گی جس پر مصر اور ایران دونوں کی فٹبال تنظیموں نے اپنا احتجاج فیفا کو ریکارڈ بھی کروایا لیکن فیفا اس معاملے میں کافی بے بس تھا کیونکہ یہ فیفا کی طرف سے نہیں بلکہ لوکل تنظیم کی طرف سے اعلان کردہ پروگرام تھا۔
اور یوں جب دو اسلامی ممالک کے فینز اور ٹیموں نے میدان کا رخ کیا تو باہر ہم جنس پرست تنظیموں کے حامیوں نے اپنے سترنگی جھنڈے لہرائے ، اپنے گانے بجائے اور جوش و خروش کے ساتھ برائڈ میچ کو منایا اور اس کے کچھ مناظر گراؤنڈ میں بھی دیکھے گئے۔
سیاٹل تنظیم کے ایک رکن نے سوشل میڈیا پر لکھا۔۔

( ہمیں خوشی ہے کہ اس بار کا پرائڈ میچ تب ہوا جب اندر کھیلتی دونوں ٹیموں کے ملکوں میں ہماری کمیونٹی کو مسائل کا سامنا ہے اور اس سے بہتر مسائل اجاگر کرنے کا موقع کوئی نہیں ہوسکتا)

قاسم سلیم
.

30/04/2026

اے آئی کا بہترین شاہکار، جس نے بھی یہ ویڈیو بنائی ہے اس نے کمال کر دیا ہے

‏مزاحیہ مگر سبق آموز 🙂‏کسی گاؤں کے لوگ اپنی مہمان نوازی کے لیے دور دور تک مشہور تھے۔ ان کے ہاں اگر کوئی اجنبی آ بھی جاتا...
10/04/2026

‏مزاحیہ مگر سبق آموز 🙂
‏کسی گاؤں کے لوگ اپنی مہمان نوازی کے لیے دور دور تک مشہور تھے۔ ان کے ہاں اگر کوئی اجنبی آ بھی جاتا تو اس پر ایسے ٹوٹ پڑتے جیسے وہ کوئی شہزادہ ہو۔ دال، گوشت، پراٹھے، حلوہ، لسی اور اوپر سے دہی تک دسترخوان پر چُن دیتے۔
‏ایک دن ایسا ہی ہوا۔ ایک اجنبی مہمان گاؤں آیا۔ گاؤں والے بھاگے بھاگے کھانے لائے اور دسترخوان یوں سجا دیا جیسے ولیمے کی دعوت ہو۔
‏مہمان نے کھانے دیکھ کر خوشی سے جی بھر کے قہقہہ لگایا... لیکن اگلے ہی لمحے اس کی ہنسی کے دانت اندر اٹک گئے۔
‏کیونکہ دسترخوان کے عین بیچ میں ایک بڑا سا موٹا ڈنڈا بھی رکھ دیا گیا تھا۔
‏مہمان نے تھوک نگلا اور ڈرتے ڈرتے پوچھا
‏"بھائی یہ ڈنڈا... یہ کیوں رکھا ہے؟"
‏گاؤں والے مسکراتے ہوئے بولے،
‏"ارے بھائی صاحب! یہ ہماری پرانی روایت ہے بس اسے ہی پورا کر رہے ہیں، آپ ڈریں نہیں۔ کھانا شروع کریں۔"
‏لیکن مہمان کے دل میں کھٹک بیٹھ گئی۔
‏اس نے سوچا،
‏"کہیں کھانا کھلا کے آخر میں اسی ڈنڈے سے میری دھلائی نہ ہوجائے۔"
‏وہ اندر ہی اندر سہم گیا اور ضدی لہجے میں بولا،
‏"جب تک اس ڈنڈے کی حقیقت نہیں بتاتے، میں تو ایک نوالہ بھی نہیں لوں گا..."
‏گاؤں والے پریشان ہوگئے کیونکہ انہیں خود بھی پتا نہیں تھا کہ یہ ڈنڈا دسترخوان پر کیوں رکھا جاتا ہے۔ وہ تو بس اپنے بزرگوں کو ایسا کرتے دیکھتے آئے تھے اسی لیے وہ روایت نبھا رہے تھے۔ وہ کسی بڑے بزرگ کی کھوج میں نکلے جو اس ڈنڈے کا راز بتا سکے۔ آخر کار ایک معمر بزرگ کو بلایا گیا۔ وہ آئے، ڈنڈا دیکھا تو بھڑک اٹھے،
‏"اوئے کھوتیو...! یہ کس جاہل نے اتنا لمبا ڈنڈا رکھ دیا؟ ہم تو صرف ڈنڈا ہمیشہ تین فٹ کا رکھتے تھے اور تم نے سات فٹ کا بنا دیا...!"
‏فوراً ڈنڈا کاٹ کر اور تراش کر تین فٹ کر دیا گیا اور واپس دسترخوان پر رکھ دیا لیکن ڈنڈا رکھنے کی وجہ نہیں بتائی،
‏مہمان کے چہرے پر اب بھی خوف تھا۔ اس نے سوچا،
‏"پہلے تو بھاری ڈنڈا تھا، شاید مارتے وقت احتیاط کرتے لیکن یہ ڈنڈا تو میری ہڈی پسلی ایک کر دے گا!"
‏وہ ایک بار پھر ضد پر اڑ گیا کہ ڈنڈے کی حقیقت پتا چلے گی تب ہی کھانا کھاؤں گا۔
‏گاؤں والے مہمان کی ناراضگی سے ڈر گئے اور دوڑے کسی ضعیف بزرگ کی تلاش میں۔ کافی تلاش کے بعد نوّے برس کے ایک اور بزرگ کو لایا گیا۔ جن کے کانوں میں اونچا بولنا پڑتا تھا۔ انہوں نے ڈنڈا دیکھا اور غصے سے کانپتے ہوئے بولے،
‏"اوئے بیوقوفو...! ہم دسترخوان پر ڈنڈا نہیں بلکہ چھڑی رکھتے ہیں... اتنی کہ ہاتھ میں سما جائے۔ شاباش اسے اٹھاؤ اور یہاں ایک لچکدار چھری لا کر رکھو۔ "
‏ڈنڈا وہاں سے ہٹا کر ایک لچکدار چھری رکھ دی گئی
‏مہمان کو اب غصہ آنے لگا تھا کہ کوئی یہ تو بتاتا نہیں یہ رکھی کیوں ہے اور بس سائز چھوٹا کر دیتے ہیں۔ اگر لچکدار چھری کی مار پڑی، اپنی تو چمڑی بھی ادھڑ جائے گی۔ اس نے غصے سے چلا کر پوچھا،
‏"اوئے بھائی...! خدا کا واسطہ صرف اتنا بتا دو، آخر کھانے کے ساتھ چھڑی رکھنے کی منطق کیا ہے؟"
‏گاؤں والوں نے کہا،
‏"یہ تو ہمیں بھی نہیں پتا کہ یہ کیوں رکھتے ہیں، خیر ساتھ والے گاؤں میں بھی یہی رواج ہے، وہاں سے ہم کسی بڑی عمر کے بزرگ کو لاتے ہیں، شاید وہ بتا دے۔
‏وہ دوسرے گاؤں سے ڈولی میں ایک سو تیس سالہ بوڑھے بزرگ کو لے کر آئے اور اسے مہمان کے سوال کا بتایا،
‏انہوں نے چھڑی پر ایک نظر ڈالی اور فوراً ڈانٹ کر بولے،
‏"یہ سب جہالت(بدعت، اضافت) ہے...! اصل رواہت تو یہ ہے کہ مہمان کے سامنے پیالی میں ایک باریک تنکا رکھا جائے، تاکہ اگر گوشت کا کوئی ریشہ دانتوں میں پھنس جائے تو وہ آرام سے نکال سکے۔ تم لوگوں نے یہ کیا ظلم کیا کہ تیلی کو چھری، پھر ڈنڈا اور پتا نہیں کیا بنا دیا۔"
‏اب جا کے مہمان کی جان میں جان آئی۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا،
‏"ارے بھائیو...! میں تو ڈنڈے کو دیکھ کے سوچ رہا تھا کہ کھانے کے بعد میرا ہڈی گوشت الگ کر دو گے۔"
‏پھر اس نے سکون سے پیٹ بھر کے کھانا کھایا، ڈکار ماری اور ہنستے مسکراتے شکریہ ادا کر کے گاؤں سے رخصت ہو گیا

02/04/2026

Karachi k konse area SE ho
Baarish ki situation batao sab

Address

Green Street Plaza Square
Karachi

Telephone

+923222285761

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Deen-e-Islam786 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share