01/07/2026
اس جمعہ کو ایران بمقابلہ مصر فٹبال ورلڈ ک مقابلے کو ہم جنس پرست مقابلہ( پرائیڈ میچ ) کا نام دیا گیا تھا۔ اور یوں دس محرم کو دو اسلامی ممالک کا ورلڈ کپ مقابلہ ہم جنس پرست ہونا کافی دلچسپی کا باعث بنا کیونکہ دونوں ہی ممالک میں ہم جنس پرستی کی قانونی اجازت نہیں ہے۔
ایران بمقابلہ مصر فیفا ورلڈ کپ 2026 کے اس مقابلے کو لگ بھگ 62 ہزار سے زائد لوگوں نے براہ راست میدان میں دیکھا اور جب ورلڈ کپ کا شیڈیول بنایا جا رہا تھا تو واشنگٹن کی لوکل ہم جنس پرست تنظیم سیاٹل نے فیصلہ کیا کہ جو بھی میچ جمعہ 26 جون 2026 کو یہاں کھیلا جائے گا وہ پرائڈ میچ کہلائے گا اور تب تک فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ یہ میچ کن دو ٹیموں کے مابین کھیلا جائے گا۔
بعدزاں جب فیفا نے فیصلہ کیا کہ یہ میچ ایران اور مصر کے درمیان ہوگا تو کافی دلچسپ صورتحال سامنے ائی اور لگا شاید سیاٹل تنظیم اپنا پرائڈ میچ کا منصوبہ کسی اور دن کسی اور میچ کے لیے رکھ لے لیکن سیٹال کے مطابق وہ اپنا پرائڈ میچ کا منصوبہ اسی دن رکھے گی اور اس کو ہرگز تبدیل نہیں کرے گی جس پر مصر اور ایران دونوں کی فٹبال تنظیموں نے اپنا احتجاج فیفا کو ریکارڈ بھی کروایا لیکن فیفا اس معاملے میں کافی بے بس تھا کیونکہ یہ فیفا کی طرف سے نہیں بلکہ لوکل تنظیم کی طرف سے اعلان کردہ پروگرام تھا۔
اور یوں جب دو اسلامی ممالک کے فینز اور ٹیموں نے میدان کا رخ کیا تو باہر ہم جنس پرست تنظیموں کے حامیوں نے اپنے سترنگی جھنڈے لہرائے ، اپنے گانے بجائے اور جوش و خروش کے ساتھ برائڈ میچ کو منایا اور اس کے کچھ مناظر گراؤنڈ میں بھی دیکھے گئے۔
سیاٹل تنظیم کے ایک رکن نے سوشل میڈیا پر لکھا۔۔
( ہمیں خوشی ہے کہ اس بار کا پرائڈ میچ تب ہوا جب اندر کھیلتی دونوں ٹیموں کے ملکوں میں ہماری کمیونٹی کو مسائل کا سامنا ہے اور اس سے بہتر مسائل اجاگر کرنے کا موقع کوئی نہیں ہوسکتا)
قاسم سلیم
.