Rathore's Novels

Rathore's Novels nOvel writer pOetess want tO first�

      #ناول      _____⭕اگلے دن ہی ماہی یونی پہنچ چکی تھی اپنے ڈاکیومنٹس لینے، ڈاکیومنٹس لینے کے بعد وہ سیدھا اسکول آئی ت...
18/05/2026




#ناول


_____⭕
اگلے دن ہی ماہی یونی پہنچ چکی تھی اپنے ڈاکیومنٹس لینے، ڈاکیومنٹس لینے کے بعد وہ سیدھا اسکول آئی تھی اپنے ریزائین کی بات کرنے

خیریت ہے میڈم آج اسکول نہیں آئیں اور کل سے کوئی میسج کوئی کال نہیں کی تم نے

وہ لوگ اس وقت اسکول کی کینٹین میں بیٹھی تھیں طلحہ بھی ان کے برابر میں آکر بیٹھا

ہاں بس تھوڑی طبیعت خراب ہے زارا اور طلحہ نے ماہی کے چہرے کو جانچا وہ واقعی صدیوں کی بیمار لگی تھی آج ان کو

ماہی تمہاری طبیعت ذیادہ خراب ہے تو پھر ابھی کیوں آئی جو کام تھا بعد میں ہو جاتا

زارا نے ماہی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

نہیں یار جو کام ہے وہ آج ہی لازمی کرنا ہے

ماہی نے مسکراتے ہوئے زارا اور طلحہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

ایسا بھی کیا کام ہے

اب کہ طلحہ نے پوچھا تھا اس کو ماہی کے جواب سے الجھن سی ہوئی تھی

میں ریزائن دے رہی ہوں

زارا اور طلحہ اپنی جگہ سن رہہ گئے اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے پوچھتے ماہی کو میم بلاچکی تھی

مس ماہین آپ کو میم بلارہی ہوں

ماہی ایک مسکراتی نگاہ ان پر ڈال کر آفس کی طرف بڑھ گئی

_____⭕

مس ماہین یوں اچانک سے آپ ریزائن دے رہی ہیں کوئی خاص وجہ

جی میم ایکچیولی میں لندن جارہی ہوں اپنی اسٹڈی کے لئے مجھے کچھ ٹائم بعد جانا تھا اور آپ کو بھی پہلے ہی بتاتی لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر مجھے اس ہی مہینے وہاں جوائن کرنا ہے لازمی

میم کی بات پر ماہی وضاحت دینے لگی

میں ویسے اتنی جلدی کسی کا ریزائن اکسیپٹ نہیں کرتی لیکن آپ میری بہت قابل ٹیچر رہی ہیں اس لئے میں آپ کا ریزائن اکسیپٹ کرلیتی ہوں لیکن اس کے لئے کچھ شرائط ہیں کو آپ کو لازمی پوری کرنی ہوں گی

ماہین کی بات پر میم کہنے لگیں

پہلی یہ کہ آپکا جو ریزگنیشن لیٹر ہے اس کو کچھ ٹائم لگے کا کم از کم تین سے چار ورکنگ ڈیز تو جب تک آپ کو اسکول آنا پڑے گا تاکہ آپ کے جو ریمینگ ٹاپکس ہیں آپ وہ مکمل کروا دیں تاکہ جو نیو ٹیچر آئیں وہ نئے طریقے سے اگر اسٹارٹ اپ لیتی ہیں تو بچوں کو مشکل نہ ہو اور پھر اتنے دنوں میں جب تک نیو ٹیچر نہیں آجاتی آپ باقی ٹیچرز کو سارا کام سمجھا دیں گی

میم کی بات پر ماہی نے اثبات میں سر ہلایا اور اسکول سے نکلتی چلی گئی ماہی سیدھی گھر نہیں گئی تھی وہ قریب ہی موجود ایک سر سبز پارک میں آگئی تھی صبح گیارہ بجے کا وقت تھا سردیوں کی وجہ سے دھوپ بھی ٹھنڈی لوگ جاگنگ کرکے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہورہے تھے کچھ منچلے لڑکے اپنا فوٹو شوٹ کررہے تھے ماہی بینچ کی بیک پر سر ٹکائے آسمان کو تکنے لگی

مشکل تھا اپنے ملک اپنے ماں باپ اپنے بہن بھائیوں اور خاص کر اب اس دشمن جاں سے دور جانا جب تک اومان واپس نہیں آیا تھا ماہی کو تھوڑا اطمینان تھا لیکن اب کل سے اومان کو دیکھنے کے بعد ماہی کی حالت مسلسل خراب ہی رہی تھی یہاں پارک میں آنے کا مقصد بھی خود کو کمپوز کرنا تھا گھر والوں سے بات کرنے کے لئے ورنہ وہ تھوڑی سی طبیعت خرابی میں ماہی کو جانے کی اجازت نہیں دیتے

_____⭕

تیرا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا اتنی دور وہ بھی اکیلی

یہ عبداللّٰہ تھا جو ماہی پر غصہ کررہا تھا جبکہ ماہی سامنے صوفے پر اطمینان سے بیٹھی تھی

بھائی جانتی ہوں اتنی دور ہے لیکن میرا خواب ہے پوری زندگی اس چیز کے لئے محنت کی ہے اور آج قسمت نے مجھے ایک چانس دیا ہے پلیز آپ لوگ مان جائیں صرف دو سال کی بات ہے اپنا ماسٹرز کمپلیٹ کرکے میں نے واپس آجانا ہے پلیز

ماہی پچھلے آدھے گھنٹے سے اپنے گھر والوں کو راضی کرنے کی کوشش کررہی تھی سب کہیں نہ کہیں راضی تھی سعد بھی خاموش تھا بس راشدہ بیگم اور عبداللّٰہ ہی ضد لگائے بیٹھے تھے

امّی چھوڑ دیں ضد جانے دیں اس نے واقعی بہت محنت کی ہے ہمیں اس کا حوصلہ بننا چاہیے نہ کہ کمزوری

سعد عبداللّٰہ اور راشدہ بیگم کو سمجھانے لگا
ماہی بھی التجائیہ نظروں سے راشدہ بیگم اور عبداللّٰہ کو دیکھنے لگی پھر جاکر عبداللّٰہ اور راشدہ بیگم کے سینے سے لگی

پکا میں جلدی واپس آجاؤں گی اپنا بہت سارا خیال رکھوں گی ہر بری چیز سے دور رہوں گی جہاں اتنے سال مجھ پر یقین رکھا ہے آج بھی رکھ لیں

ماہی راشدہ بیگم کے سینے سے لگی انکو منا رہی تھی جس میں وہ کامیاب بھی ہوگئی تھی ایک گھنٹے کی مسلسل محنت کے بعد اب اس کو اطمینان ہوا تھا اپنے گھر والوں کے ساتھ پلینز بناتی اس کا دماغ کافی حد تک پرسکون ہوگیا تھا

رات کے کھانے کے بعد ماہی اپنے کمرے میں آرام کرنے جاچکی آج اتنے دنوں بعد ماہی بنا نیند کی گولیاں کھائے گہری نیند سوئی تھی

_____⭕

صبح ماہی کی آنکھ اپنے کمرے میں کسی کی موجودگی سے کھلی تھی سامنے دیکھا جو وہ ساری کی ساری ماہی کو کھڑی دیکھ کم گھور ذیادہ رہیں تھیں

کیا ہوگیا بھئی ایسے کیوں دیکھ رہی ہو تم سب اور اتنی صبح صبح یہاں

ماہی اپنے سامنے زارا، اقراء، امل، اسماء اور عنایہ کو بھی دیکھ کر حیران ہی ہوئی تھی

ہاں تو تمہارے جانے کے بعد آتے تمہارے کمرے میں تمہاری یاد میں

اقراء نے ماہی کو پلو کھینچ کر مارا تھا جو اس کے سر پر لگا تھا ماہی کا سر میں ایک ٹیس سی اٹھی جس کو دیکھ کر وہ لوگ فوراً آگے بڑھے

اقراء پاگل تو نہیں ہوگئی ہو اس کی طبیعت ویسے ہی خراب ہے

زارا نے ماہی کا سر اوپر کرتے ہوئے کہا ماہی خود کو سنبھال چکی تھی

سو سوری یار مجھے پتہ نہیں تھا

اقراء رونی صورت بناتی ماہی کے گلے لگی

اچھا نہ پاگل کچھ نہیں ہوا ٹھیک ہوں میں اقراء یہاں دیکھو

ماہی کو اپنا کندھا نم محسوس ہوا تو اس نے اقراء کو زبردستی خود سے الگ کیا جو رونے کا شغل اسٹارٹ کرچکی تھی

میں یہ کیا دیکھ رہی ہوں اقراء رو رہی ہے امل دیکھنا سورج مغرب سے تو نہیں نکلا

ماہی نے زارا کو چھیڑتے ہوئے کہا جس میں وہ کامیاب بھی ہوگئی تھی اقراء نے ماہی کے کندھے پر چماٹ مارا پھر دوبارہ ماہی کے گلے لگی اس دفعہ زارا، امل، عنایہ اور اسماء بھی شامل تھیں

ارے ارے بس کرجاؤ مجھے سانس نہیں آرہا

ماہی نے سب کو ہنسانے کے لئے مصنوعی درد کی آواز نکالی جس پر وہ لوگ ہنستے ہوئے ماہی سے الگ ہوئے پھر سب ایک ساتھ ماہی کو لے کر باہر ناشتہ کرنے جا چکی تھیں

یار یہ سارے لڑکے کہاں ہیں

ماہی نے اپنے سامنے بیٹھی ان لوگوں سے پوچھا

علی تو پتہ نہیں کہاں غائب ہے طلحہ بھائی کسی کام سے گئے تھے اور زین بھائی گھر میں پڑے سورہے تھے ہم میں سے کسی نے بھی لڑکوں کو نہیں بتایا کہ ہم آپ کے پاس جارہے ہیں

امل، اقراء اور عنایہ بتانے لگیں

اچھا مطلب ان لڑکوں کو تو پتہ بھی نہیں ہوگا نہ کہ میں جارہی ہوں

ماہی نے کافی کا سپ لیتے ہوئے پوچھا

جی شاید ان لوگوں کو نہیں پتہ

ماہی کی بات پر امل نے جواب دیا

یار ایک کام کرتے ہیں ماہی کے جانے سے پہلے ایک گیٹ تو گیڈر رکھ لیتے ہیں پھر تو دو سال بعد واپسی ہوگی ان میڈم کی

اقراء کی بات پر سب نے حامی بھری ماہی نے اپنا موبائل نکال کر طلحہ کو میسج ٹائپ کیا

ناشتے کے بعد وہ ساری تو اپنے گھر جاچکی تھیں جبکہ ماہی کسی کام کا کہہ کر وہیں بیٹھی رہی تھوڑی دیر بعد ہی اس کو طلحہ آتا دکھائی دیا

خیریت اتنی صبح صبح بلایا مجھے یہاں

طلحہ ماہی کے سامنے چیئر پر بیٹھتے پوچھنے لگا

آپ نے بات کی گھر میں امل کے بارے میں

ماہی ڈائیریکٹ پوائنٹ پر آئی تھی

نہیں ہمت نہیں ہوئی کیونکہ امی نے آپ کے بارے میں سوچ رکھا تھا

طلحہ نے بھی صاف گوئی سے جواب دیا

ہمم ٹھیک ہے آپ کی بات کیا میں بات کروں آنٹی سے لیکن پہلے آپ مجھے اپنا کلئیر کریں آپ امل کو دل سے اپنانا چاہتے ہیں نہ کیونکہ آپ کا تو نہیں پتہ وہ آپ سے ضرور محبت کرتی ہے خاموش محبت اور خاموش محبت اندر ہی اندر دم تو توڑ دیتی ہے لیکن بے وفائی نہیں کرتی

ماہی نے کچھ دیر سوچ کر کہا

ہاں آپ کرسکتی ہو اگر چاہو تو اور میں دل سے راضی ہوں بلکہ یہ کہا جائے کہ اس کی محبت سمجھنے کے بعد راضی ہوا ہوں تو غلط نہیں ہوگا چاہنے سے زیادہ چاہے جانے کا احساس خوبصورت ہوتا ہے

طلحہ نے کافی کا آرڈر دیتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا ماہی نے بھی مسکراتے ہوئے طلحہ کو دیکھا

ماہی ایک بات پوچھوں

تھوڑی دیر بعد طلحہ نے ماہی کو مخاطب کیا

جی پوچھیں

اسکول کیوں چھوڑ رہی ہیں آپ

طلحہ اور ماہی کی نظریں ایک پل کے لئے ملی تھیں لیکن آج ماہی نے نظروں کا زاویہ نہیں بدلا تھا کیونکہ آج طلحہ کی نظروں میں فقط دوستی کا جذبہ تھا

میں اسٹڈی کے لئے ابروڈ جارہی ہوں دو سال کے لئے بس اس وجہ سے

ماہی کی بات پر طلحہ کے چہرے پر سایہ سا لہرایا کچھ بھی سہی ماہی پہلی محبت تھی طلحہ احمد کی وہ اس بات سے کبھی انکاری نہیں ہوسکتا تھا

اللّٰہ پاک آپ کو کامیاب کرے لیکن ہم ہمیشہ دوست رہیں گے کبھی بھی رابطہ ختم کرنے کی کوشش مت کرنا

طلحہ نے ماہی کو پیار بھری دھمکی دی تھی جس کو ماہی نے مسکراتے ہوئے کھلے دل سے قبول کیا تھا

_____⭕

ماہی نے یونیورسٹی جانا چھوڑ دیا تھا کیونکہ اب اسٹڈی وہیں جاکر ہونی تھی آج بھی ماہی جلدی گھر کا تھوڑا بہت کام سمیت کر اسکول آئی اسکول کے بعد ماہی نے طلحہ کے گھر جانا تھا آنیہ بیگم سے بات کرنے کے لئے

اسلام علیکم آنٹی کیسی ہیں

ماہی نے طلحہ کے ساتھ گھر میں داخل ہوتے ہوئے آنیہ بیگم کو سلام کیا جو سامنے صوفے پر بیٹھیں چاول بین رہی تھیں

وعلیکم السلام میں ٹھیک تم کیسی ہو میری بچی عنایہ کی شادی کے بعد آج شکل دیکھ رہی ہوں تمہاری

آنیہ بیگم نے شکوہ کرتے ہوئے کہا

جی آنٹی بس تھوڑا مصروف تھی آج بھی آپ کے پاس ایک ضروری کام سے آئی ہوں

ماہی نے ایک نظر طلحہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو کمرے میں جانے کی تیاری پر تھا ماہی کے اشارے پر وہیں رکا آنیہ بیگم نے بھی دونوں کا اشارہ دیکھا تھا

بلکل بیٹا ضرور کرنا بات بھی لیکن پہلے کھانا لگوادوں تھکے ہارے آئے ہو تم دونوں

آنیہ بیگم کہہ کر کچن کی طرف بڑھیں طلحہ بھی فریش ہونے کو کہہ کر اپنے روم کی جانب بڑھا

کھانے کے دوران آنیہ بیگم کی نظریں ماہی اور طلحہ پر ہی تھیں جو کتنی دیر سے ایک دوسرے کو اشارے کررہے تھے

اب اگر اشارے ہوچکے ہوں تو بات کرو گے تم دونوں

آنیہ بیگم کی بات پر طلحہ کے حلق میں نوالہ اٹکا جبکہ ماہی ریلیکس تھی

آنٹی بات یہ ہے کہ طلحہ امل کے لئے رشتہ بھیجنا چاہتے ہیں

ماہی نے ایک نظر طلحہ کو دیکھتے ہوئے کہا اب کہ حیران ہونے کہ باری آنیہ بیگم کی تھی

کیا لیکن یہ تو

آنیہ بیگم اس سے پہلے کچھ کہتیں ماہی دوبارہ کہنا شروع ہوئی

جی آنٹی میں ساری بات جانتی ہوں لیکن آنٹی میں اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے لئے لندن جارہی ہوں دو سال کے لئے اور میں نہیں چاہتی کہ میں کسی کو آسرے میں رکھوں نہ جانے وہاں سے آنے کے بعد میرا مائینڈ کیسا ہو یا میں واپس آؤں یا نہ آؤں

ماہی کے منہ سے بے اختیار ہی نکلا تھا

اللّٰہ نہ کرے

طلحہ اور آنیہ بیگم دونوں نے ایک ساتھ کہا تھا

سوری بس بے اختیاری میں نکل گیا لیکن آنٹی موت تو بروقت ہے نہ اور ویسے بھی امل اچھی لڑکی ہے آپ کی رشتہ دار ہے اور پھر طلحہ کو پسند کرتی ہے

آخری بات ماہی نے طلحہ کو دیکھتے مسکراتے ہوئے آنیہ بیگم کو بتائی تھی

آنیہ بیگم نے کچھ سوچتے ہوئے طلحہ کی طرف دیکھا جس کی نظریں ماہی پر تھیں

آنٹی یہ بات میں ان کی مرضی سے ہی آپ سے کررہی ہوں یہ راضی ہیں بس آپ سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی

ماہی نے آنیہ بیگم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا آنیہ بیگم کے دیکھنے پر طلحہ نے بھی اثبات میں سر ہلایا

ٹھیک ہے اگر طلحہ راضی ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے میرے لیے تو میرے بچوں کی خوشی ضروری ہے

آنیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا ماہی اور طلحہ کی جان میں جان آئی

تو ٹھیک ہے آنٹی آپ جلد از جلد منگنی کی مٹھائی مجھے کھلادیں کیونکہ میں اس مہینے کے اینڈ تک چلی جاؤں گی

ماہی نے مسکراتے ہوئے طلحہ کو دیکھتے ہوئے کہا طلحہ نے بھی مسکراتے ہوئے ماہی کو دیکھا جس کے چہرے پر الگ ہی چمک تھی کسی کی محبت اس سے ملانے کی
امل کی محبت امل سے ملانے کی

ایک محبت کی کہانی دوستی پر آکر ختم ہوئی تھی

_____⭕

آنیہ بیگم دوسرے دن ہی طلحہ کا رشتہ لیکر چوہان ہاؤس پہنچ چکی تھیں زین کو ماہی پہلے ہی سمجھا چکی تھی تو رشتہ کا جواب بھی ہاتھوں ہاتھ مل گیا اور منگنی کی تاریخ بھی ماہی کے جانے کی وجہ سے اس ہی ویک اینڈ کی طے ہوچکی تھی امل تو شرم کے مارے دوبارہ کمرے سے باہر ہی نہیں نکلی تھی لگ ہی نہیں رہا تھا کہ امل مغربی ملک کی پیدائش ہے زین بھی اپنی بہن کو لے کر خوش تھا

زین کی والدہ ماہی کے جانے کا سن کر پریشان ہوئی تھیں زین کی وجہ سے لیکن زین ان کو سمجھا چکا تھا کہ ماہی صرف ایک اچھی دوست ہے

تو مسز رافع بھی اپنے بیٹے کو سکون میں دیکھ کر پرسکون ہوچکیں تھیں منگنی کے ساتھ نکاح کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا یہ بھی طلحہ کی مرضی تھی وہ ایک پاک اور مضبوط رشتہ چاہتا تھا منگنی کی تو ویسے بھی کوئی اہمیت نہیں تھی اسلام میں سب راضی بھی ہوگئے تھے اور زور و شور سے نکاح کی تیاریوں میں لگ گئے تھے

رات کے کھانے کے بعد ماہی کو زین اس کے گھر چھوڑنے جارہا تھا گاڑی میں خاموشی تھی زین ناراض تھا کہ ماہی نے اس کو بتایا نہیں اپنے جانے کا

زین واقعی میرے اچانک جانے کا ہوا ہے یقین نہ آئے تو تم سر طلحہ سے بھی پوچھ لو

ماہی نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا لیکن زین نے کوئی جواب نہیں دیا

زین سوری اب تم ایسے کرو گے میں جارہی ہوں اور جاتے جاتے تم اس طرح ناراض رہو گے سپوز اگر میں واپس نہ آئی تو پھر

ماہی نے تو زین کو اموشنل کرنا چاہا تھا لیکن وہ زین کو غصہ دلا چکی تھی زین نے اچانک سے بریک مارا تھا ماہی کو۔جھٹکا سا لگا تھا جس کی وجہ سے اس کے سر میں ٹیس سی اٹھی

ماہی کو کراہتا ہوا دیکھ زین کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا تھا

ایم رئیلی سوری ماہی سو سوری تم ٹھیک ہو

زین نے آگے پڑھ کر ماہی کو دیکھا جو اپنا سر تھامے بیٹھی تھی

میں ٹھیک ہوں ریلکس بس جھٹکا لگنے کی وجہ سے

زین کے پوچھنے پر ماہی خود کو سنبھالتے ہوئے کہنے لگی جبکہ سر میں درد ابھی بھی ہورہا تھا زین گاڑی سے نکل کر پانی کی بوتل لے آیا

ایم سوری ماہی میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن تمہاری مرنے والی بات پر غصہ آگیا تھا

زین نگ شرمندہ ہوتے ہوئے کہا

زین ریلیکس کچھ بھی نہیں ہے میں ٹھیک ہوں ٹینشن نہیں لو جانتی ہوں تمہیں فکر ہے میری جبھی تم غصہ بھی تھے لیکن واقعی سب اچانک ہوا ہے اس ہی ہفتے میں

ماہی کی بات پر زین نے اثبات میں سر ہلایا اور لندن کے راستوں اور وہاں کی جگہوں کے بارے میں بتانے لگا

گھر آنے پر ماہی اترنے لگی تو زین کی بات پر رکی

ماہی

ہاں

ماہی نے گاڑی کا دروازہ کھولے زین کی طرف منہ کرکے اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگی

ہادیہ نے مجھے شادی کے لئے پرپوز کیا

زین کی نظریں سامنے اسٹریٹ لائٹس پر تھیں کچھ پل کے لئے تو ماہی بھی ساکت ہوئی تھی زین کی بات پر نہیں ہادیہ کی بات پر ہاں ہادیہ اومان کی کزن جس کے ساتھ اومان کا بچپن سے رشتہ طے تھا لیکن اومان کی ماہی کی طرف دلچسپی اور ماہی کی اومان کے لئے بڑھتی ہوئی محبت کی وجہ سے ان کا رشتہ ختم ہوچکا تھا رشتہ ختم ہونے کہ وجہ مانو نہیں تھی جب ہادیہ اور اومان کا رشتہ ختم ہوا تھا تب تو اومان مانو سے بھی ہر تعلق ختم کرچکا تھا ہادیہ اور اومان کی فیملی پرابلمز کی وجہ سے ان کا رشتہ ختم ہوچکا تھا جس کا مانو کو بھی بہت بعد میں معلوم ہوا تھا اور جب تک اومان ترکی جانے کی مکمل تیاری کرچکا تھا لیکن ہادیہ مانو سے جیلس ہی رہتی تھی کیونکہ وہ مانو سے ذیادہ خوبصورت تھی دوسری وجہ اومان ہادیہ سے رشتے میں ہونے کے باوجود مانو کو پرپوز کرچکا تھا اور ہادیہ تو موو آن کرچکی تھی لیکن اومان اور مانو آج بھی وہیں تھے جہاں نو سال پہلے تھے

کیا ہوا ماہی

زین کے پکارنے پر ماہی ہوش میں آئی

نہیں کچھ نہیں بس اتنا کہوں گی کہ اگر کسی لڑکی نے تمہارے لئے پہل کی ہے تم سے محبت کی نکاح کی امید لگائی ہے تو اسے خالی ہاتھ مت لوٹانا زین ہادیہ ایک اچھی لڑکی ہے تم اس کے ساتھ ہمیشہ خوش رہو گے

ماہی مسکراتے ہوئے کہتی گاڑھ سے باہر نکلی لیکن دوبارہ گاڑی کے شیشے پر جھکی

زین نے سوالیہ نظروں سے دیکھا جیسے کچھ کہنا ہے کیا

اب امل اور سر طلحہ کے نکاح کے ساتھ تم اپنے نکاح کی مٹھائی بھی مجھے کھلادو لازمی پھر تو تم میرے پکے رشتے دار بن جاؤ گے اور میں رشتے داروں سے دور رہتی ہوں

ماہی نے آنکھ ونک کرتے ہوئے کہا ماہی کی بات پر زین کا بھی قہقہہ چھوٹا

بلکل ارادہ تو یہی ہے لیکن یہ رشتہ دار تمہاری جان نہیں چھوڑنے والا بچو بچ کے رہنا

زین کی بات پر ماہی بھی مسکراتے ہوئے اندر کی طرف بڑھی

ماہی کا دل جہاں امل، طلحہ اور زین کو لے کر سکون میں تھا وہیں ہادیہ کا نام سوچ کر بے چین ہوتا تھا کیونکہ ہادیہ کے ساتھ اومان کا ذکر جڑا ہوتا تھا کیا اومان کے دل میں آج بھی ہادیہ کے لئے محبت ہے کیا اومان کو تکلیف ہوگی اگر ہادیہ کی شادی کسی اور سے ہو جائے

ساری سوچوں اور پھر سر کو جھٹکا لگنے کی وجہ سے ماہی کا سر درد سے پھٹ رہا تھا وہ ایک کپ کڑوی کافی کے ساتھ اپنی ٹیبلٹ لے کر سونے کے لئے لیٹ چکی تھی

دوسری کہانی نفرت اور جیلیسی سے شروع ہوکر محبت پر ختم ہوئی تھی

_____⭕
sorry for late🫢
Continue....

      #ناول      _____⭕رافع صاحب اور ان کی وائف ، ماہی اور ابرام راستے میں ہی ان کو جوائین کرچکے تھے ہال کے سامنے لائن س...
27/12/2025




#ناول


_____⭕

رافع صاحب اور ان کی وائف ، ماہی اور ابرام راستے میں ہی ان کو جوائین کرچکے تھے

ہال کے سامنے لائن سے گاڑی رکیں تو سب دیکھنے لگے وہ سارے لوگ بہت ذیادہ امیر نہیں تھے لیکن اپنے کمفرٹ کے لئے محنت کرنا جانتے تھے سب کے پاس چھوٹی ہی صحیح پر اپنی اپنی گاڑیاں تھیں مہمانوں کے لیے طلحہ نے بک کروائیں تھیں

سب اتر کر اندر بڑھنے لگے طلحہ ایک ضروری کال کرکے پلٹا تو کسی سے ٹکرا کر خود کو اور سامنے موجود شخص کو بچایا

طلحہ اپنے سامنے موجود اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جس پر شاید آج سے پہلے کبھی جی بھر کر نظر بھی نہیں ڈالی تھی اور آج بنا پلک جھپکائے دیکھ رہا تھا جو بےبی پنک کلر کی میکسی میں بال کھولے میک اپ کے نام پر لائٹ سی گلوز لگائے آنکھیں میچیں کھڑی تھی

کارن کی آواز پر طلحہ ہوش میں آیا اور امل نے بھی آنکھیں کھول کر دیکھا اور فوراً طلحہ سے دور ہوئی طلحہ کی نظریں امل کی آنکھوں پر گئیں جہاں گلابی ڈورے بسیرا کیے ہوئے تھے مطلب وہ روتی رہی تھی دوبارہ ہارن بجنے پر طلحہ نے علی کو دیکھا جو اپنی بتیسی لئے ہر جگہ پہنچ جاتا تھا جبکہ امل اندر جا چکی تھی طلحہ بھی علی کو پنچ دکھاتا اندر کی طرف بڑھ گیا۔

گلابی آنکھیں جو تیری دیکھیں شرابی یہ دل ہوگیااا

علی طلحہ کے پیچھے گنگناتا ہوا اندر داخل ہوا طلحہ بخوبی اس کی آواز سن سکتا تھا لیکن بعد میں سبق سکھانے کا سوچتے چپ ہوگیا

سارے سب سے پہلے عنایہ سے ملنے اسٹیج کی طرف بڑھے تھے وہاں ہنسی مزاق اور فوٹو سیشن کے بعد نیچے اترے تھے

امل کی فکر تھی یا چاہے جانے کا خوبصورت احساس تھا جس سے مجبور ہوکر طلحہ کی نظریں بار بار امل کی طرف اٹھ رہیں تھیں جسے امل بھی محسوس کررہی تھی ساتھ علی اور ماہی بھی

ولیمے سے فری ہوکر سارے آج اپنے اپنے گھروں کو جاچکے تھے ماہی، زارا اور طلحہ کا تو کل ایونٹ تھا جبکہ باقی سب نے بھی اپنی یونی جوائن کرنی تھی ماہی کے ذہن میں امل اور طلحہ ہی گردش کررہے تھے

_____⭕

اگلے دن ماہی، زارا اور طلحہ ایونٹ کے لئے صبح صبح ہی گھر سے نکل چکے تھے اور شام تک ہی واپسی ہونی تھی

یار یہ بچوں کو سنبھالنا کتنا مشکل ہے نہ میں تو سوچ رہی ہوں تم ای سی کے بچوں کو کیسے سنبھالتی ہو

زارا تھوڑی ہی دیر میں بچوں سے بیزار نظر آرہی تھی

بہت آرام سے مجھے تو کوئی محنت ہی نہیں کرنی پڑتی بچے خود مجھ سے لگ جاتے ہیں

ماہی بچوں کو اسکول کارڈ پہناتے کہنے لگی

تو مجھ سے کیا دشمنی ہے میری بات کیوں نہیں سن رہے

زارا اپنے سامنے کھڑے بچے کو دوسری ٹیچر کی طرف کرتے ہوئے کہنے لگی

کیونکہ تم بچوں سے بیزار رہتی ہو کبھی دل سے مسکرا کو دیکھو ان کے ساتھ نہ تمہیں سکون ملے اور نہ یہ تم سے اٹیچ ہوں پھر کہنا

ماہی مسکراتے ہوئے سامنے بچی کے گال پر پیار کرتے کہنے لگی دوسرے ٹیچرز کے ساتھ طلحہ نے یہ منظر دیکھا تھا اس کو ماہی کا یہ انداز پہلے دن سے ہی پسند تھا لیکن آج پہلی دفعہ طلحہ کے وہ جذبات نہیں تھے اس کو اچانک ہی امل کا خیال آیا تھا جس دن وہ مال میں بچوں کو بلونز دلانے کے بعد ان کے ساتھ کھلکھلا رہی تھی
ماہی الگ تھی سب سے الگ لیکن آج طلحہ کو امل بھی خاص لگ رہی تھی

وہ سب اپنے ایونٹ میں مصروف ہوچکے تھے ایونٹ کے بعد ریفریشمنٹ کا دور چلنا تھا اس کے بعد گھر جانا تھا

_____⭕

تین ہفتے گزر چکے تھے اومان کا مانو سے کوئی رابطہ کوئی سامنا نہیں ہوا تھا دو دن سے تو وہ ہر چیز سے بیزار گھوم رہا تھا آج بھی اس کے دوست زبردستی اسے لے پی ایف میوزیم لے کر آئے تھے اومان اتنے لوگوں کو دیکھتا ایک دفعہ پھر بیزار ہوا تھا وہ تو تنہائی چاہتا تھا

یار کیا ہے اکیلا اکیلا گھوم رہا ہے چل کچھ کھاتے ہیں

اومان کا دوست اومان کے پاس آکر کہنے لگا جو بیک سائیڈ لان کے پاس اکیلا بیٹھا تھا

یار وہاں پر اتنا کراؤڈ ہے تو بس یہاں آگیا تھا لیکن بس یار جلدی کرکے گھر چلتے ہیں بوریت ہورہی ہے

اومان کھڑے ہوتے کہنے لگا

ہاں بس یہ لوگ کھانے کا کہہ رہے ہیں پھر نکلتے ہیں

اومان کا دوست بھی ساتھ ساتھ چلتے کہنے لگا

وہ لوگ کیفے ٹیریا میں بیٹھے لوگ ذیادہ نہیں تھے اومان کی نظر تھوڑی دور کھڑے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پر گئی لڑکی کی بیک اومان کی طرف تھی وہ لڑکے کا چہرہ دیکھ سکتا تھا لیکن لڑکی کا نہیں وہ دونوں شاید کسی مینجمنٹ کا حصہ تھے کیونکہ ان کے گلے میں کارڈز لٹکے ہوئے تھے

مت دیکھ ان کو ایسے ہی نہ جانے کتنے لو برڈز یہاں موجود ہوں گے

اومان کا دوست اومان کی نظروں کے تعاقب میں دیکھتے کہنے لگا

لیکن مجھے ایسا کچھ نہیں لگ رہا شاید وہ لوگ کسی بات کو ڈسکس کررہے ہیں لڑکے کے چہرے کے امپریشن نارمل ہیں

اومان کا دوسرا دوست بھی ان کی باتوں میں شامل ہوا جبکہ اومان کی نظریں لڑکی کی بیک پر موجود اس کے لمبے گھنے بالوں پر جارہی تھیں بار بار

کیا ہوا کس کے بارے میں بات ہورہی ہے اومان کا ایک اور دوست جو ریفریشمنٹ لینے گیا تھا ٹیبل پر رکھتے پوچھنے لگا

ارے وہ جو سامنے لو برڈز کھڑے ہیں نہ ان کے بارے میں بات کررہے ہیں

ارے وہ لوو برڈز نہیں ہیں شاید کولیگز ہیں کیونکہ لڑکی کسی کے گھر رشتہ بھیجنے کا کہہ رہی ہے

اومان کے دوست نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا کیونکہ ہو وہیں سے آیا تھا

ہوسکتا ہے کہ اپنے گھر رشتہ بھیجنے کا کہہ رہی ہو

ارے نہیں نہ وہ کیا کہہ رہی تھی ہاں
وہ کہہ رہی تھی کہ تم رشتہ بھیجو اس کے بھائی اور گھر والوں سے میں بات کرلوں گی اور اگر ضرورت ہوئی تو میں خود رشتہ کے کر تمہارے ساتھ چل لوں گی

اب وہ خود کے بارے میں تو یہ نہیں کہے گی نہ پاگل

وہ سب اپنی باتوں کے دوران کھانا کھانے لگے جبکہ وہ لڑکا اور لڑکی وہاں سے جاچکے تھے

_____⭕

آپ توگڈ بوائے ہو نہ آپ تو ناراض نہیں ہوتے ٹیچر سے میں مس زارا سے بات کروں گی وہ اب آپ کی کینڈیز نہیں لیں گی ٹھیک ہے

ماہی اپنے اسکول کے بچے کو منا رہی تھی جو غصہ میں منہ پھلائے کیمپ سے تھوڑا دور نکل آیا تھا

پکا آپ مس زارا کو بولیں گی نہ

بچہ معصومیت سے آنکھیں بڑی کرکے پوچھنے لگا جس پر ماہی کو بے ساختہ پیار آیا تھا

جی میرا بچہ بلکل میں بات کروں گی اب آپ کیمپ کی طرف جائیں میں ہینڈ واش کرکے آئی سیدھے جانا ہے آ پ نے میں آپ کو دیکھ رہی ہوں

ماہی بچے کو کیمپ کی طرف بھیج کر اس کو دیکھنے لگی بچے کو کیمپ کی طرف بڑھتا دیکھ ماہی جیسے ہی پلٹی اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر پیروں تلے زمین نکلی تھی

اومان جو گھر جانے کے لئے باہر کی جانب بڑھ رہا تھا لڑکی کی جانی پہچانی آواز پر پلٹا جو کسی یونیفارم میں بچے سے بات کررہی تھی یہ وہی لڑکی تھی جو کیفے کے پاس لڑکے کے ساتھ کھڑی تھی

پانچ سال بعد وہ دونوں اس طرح آمنے سامنے تھے بلکل ساکت بنا پلک جھپکے ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے آس پاس سے بیگانے اپنی آنکھوں کی پیاس بجھا رہے تھے وہ ایک دوسرے سے دور ہو کر بھی ایک دوسرے کو یاد رکھے ہوئے تھے لیکن ایک دوسرے کو خبر تک نہیں ہونے دی تھی

ماہی تو اومان کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے پہلی دفعہ دیکھ رہی ہو شاید یہ سچ بھی تھا کیونکہ پہلے تو کبھی نظر بھر دیکھا بھی نہیں تھا پروفائل روازنہ چیک کرتی تھی لیکن پہلی دفعہ آس پاس دنیا کو بھول کر اومان کو دیکھنے میں مدہوش تھی سیاہ آنکھیں گھنے سیاہ بال نارمل قد گھنی آئیبرو ملی ہوئی گوری رنگت گول چہرہ کسرتی بدن ہیلتھ پہلے کی نسبت کافی اچھی ہو چکی تھی

اور وہ اس طرح اپنے سامنے موجود مانو کو دیکھنے میں مگن تھا جیسے پہلی دفعہ کسی لڑکی کو دیکھ رہا ہو ہزاروں لڑکیاں اس کی نظروں میں آئیں تھی لیکن پتہ نہیں ایسا کیا تھا کہ وہ اس سے بیگانہ ہو ہی نہیں پایا تھا نازک سا سراپہ پونی میں مقید گھنے لمبے بال بھرے بھرے ہونٹ خوبصورت آنکھیں جن پر اب نظر کے بڑے سائز کے فریم تھے ہونٹ کے پاس اور گال پر دو تل بہت خوبصورت نہ سہی لیکن دیکھنے والے ایک دفعہ کے چہرے میں کھو ضرور جاتے تھے اس کے چہرہ سے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ مغرور ہے یا معصوم
وہ دونوں اس وقت پی اے ایف میوزیم میں لوگوں کے ہجوم کے بیچ کھڑے تھے دور کہیں ایک گانا ان کو اپنے سحر میں جکڑنے کے لئیے کافی تھا

سر جھکائے میں سوچتا ہوں"
راہ ایسی میں ڈھونڈتا ہوں
وقت گزرا ہے وہ تجھے
میں کیسے دلاسا دوں
تھا غلط یہ جانتا ہوں
ہوئی خطا یہ مانتا ہوں
معاف کر دے تو مجھ کو
یا کوئی سزا دے تو
جب یہ سوچا کیوں وہاں جی کے بھی جی نہ سکے
"جب یہ جانا دل میرا تیرے پاس ہی بھلا چکے

وہ دونوں اک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے اپنے ماضی میں کھوئے ہوئے تھے اپنی غلطیاں٫نادانیاں٫شددتیں اور شاید ان سب میں چھپے اپنے عشق میں

دور کہیں دوبارہ گانے کا ٹریک شروع ہوا دونوں نے ایک ساتھ شدت سے آنکھیں موندے اپنے سر جھکائے اس سحر سے نکلنے کے لئے

دے دوں دل میرا دے دوں جاں"
کر دوں تجھ پہ میں سب قربان
چھین لاؤں میں رب سے ابھی
"وہ تیری اک مسکاں

اومان نے سامنے کھڑی ماہی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا جس کی آنکھوں میں شکوہ،درد،ازیت کیا کچھ نہ تھا اس کے سامنے وہ لڑکی تھی جس کی مسکراہٹ قائم رہنے کی اس نے سدا دعا کی تھی

جو اس کے نام سے جیتی تھی اس کی خوشی کی خاطر اپنی اذیت بھول کر اس کے لئے دعا کرتی تھی اور اس نے اسی کے ساتھ اتنا برا کرا تھا اس شخص نے شدت غم سے اپنی آنکھیں میچیں

پیار تیرا جو کھویا ہے"
پیار تیرا وہ پانا ہے
کھول دے یہ دروازہ تو
تجھے اپنا بنانا ہے
جب یہ سوچا کیوں وہاں جی کے بھی جی نہ سکے
"جب یہ جانا دل میرا تیرے پاس ہی بھلا چکے

ان کی محویت کو پیچھے سے آتی زارا کی آواز نے توڑا

میڈم تم یہاں ہو وہاں تمہارا موبائل بج بج کر اپنا دم" توڑنے والا ہے اور سب پوچھ بھی رہے ہیں جلدی آؤ"

اتنا کہہ کر زارا نے ایک نظر اومان پر ڈال کر بچے کے پیچھے بھاگی جو اس کا ہاتھ چھڑا کر بھاگا تھا

زارا کے جانے کے بعد اس نے ایک نظر اپنے
سامنے کھڑے خود کو تکتے اومان پر ڈالی اور جانے کے لئے پلٹی جب اس کے قدم اومان کے ایک الفاظ نے روکے

"مانو"

دو پل کے کے لئے اس کے قدم رکے لیکن پلٹی نہیں
اومان کے منہ سے اتنے سال بعد اپنا یہ نام سن کر اس کو لگا کسی نے جلتی آگ پر پانی ڈال دیا ہو

پر بنا کوئی جواب دیئے آگے بڑھ گئی
اومان کی نظروں نے اس کے بھیڑ میں گم ہونے تک اس کا پیچھا کرا

ہوش میں آتے اومان اس سے پہلے مانو کی طرف بڑھتا اومان کا دوست اسے بلانے آچکا تھا لیکن وہ اس کی بات ان سنی کرتا اس راستے بھاگا تھا جہاں ابھی ابھی مانو گئی تھی

اومان کے دوست بھی اس کو اس طرح بھاگتے دیکھ اس کے پیچھے بھاگے تھے

تقریباً پورا میوزیم دیکھنے کے بعد بھی اومان کو مانو نہیں دعکھی تھی نہ ہی زارا اور نہ ہی اس کے اسکول کے بچے وہ تھک ہار کر وہیں سر ہاتھوں میں دیئے بینچ پر بیٹھ گیا

اومان تو ڈھونڈ کس کو رہا تھا

اومان کے دوست اس سے پوچھ رہے تھے لیکن اومان کی نظریں سامنے بس پر تھیں جس کے دروازے سے ایک آنچل اڑ کر باہر آرہا تھا ایک لمحہ لگا تھا اومان کو وہ بس کی طرف بھاگا تھا لیکن بس جاچکی تھی

اومان کب سے کس کے پیچھے بھاگ رہا ہے کچھ بتا تو

اومان کے دوست اس کو اس طرح دیکھ کف پریشان ہوئے تھے

وہ زندگی جو مجھ سے روٹھ گئی ہے

اومان ایک نظر جاتی بس پر ڈال کر سب دوستوں کو گھر چلنے کا کہہ کر باہر کی طرف پورے راستے وہ خاموش ہی رہا تھا

_____⭕

ایونٹ کے بعد ماہی سیدھا گھر آکر اپنے کمرے میں بند ہوئی تھی راشدہ بیگم تھیں نہیں ایک بھابھی گئی ہوئی تھی بھابھی بھی آرام کررہی تھیں

دروازہ بند کرے وہ وہیں دروازے سے ٹیک لگا کر ڈھ گئی تھی دماغ بلکل سن ساکت ہوچکا تھا کچھ سوچنے سمجھنے کے لائق نہیں تھی وہ آج اتنے سالوں بعد اپنے سامنے اومان کو دیکھ کر آئی تھی اس کو لگا تھا اس کو سانس لینا مشکل ہورہا ہے وہ کھڑی ہوکر کھڑکی کے پاس جاکر کھڑی ہوئی دسمبر کی شامیں تھیں اور ٹھنڈ بڑھ رہی تھی لیکن اس کو ماہی کو پرواہ کہاں تھی وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی دل کو اگر کہیں راحت ملی تھی تو دل کی بے چینی بھی بڑھی تھی ماہی اپنے علاج کے لئے جانے سے پہلے اومان سے نہیں ملنا چاہتی تھی وہ جانتی تھی اس کا جانا اور مشکل ہو جائے گا ماہی نے تو اپنے گھر والوں کو کیا ابرام تک کو نہیں بتایا تھا اپنے ٹیومر کا سوچتے سوچتے دماغ میں درد کی ٹیسیں اٹھیں تو ماہی نے کھڑے ہوکر اپنی دوا لی پھر اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہوئی جہاں ڈاکٹر افشین کالنگ لکھا ہوا آرہا تھا

جی ڈاکٹر کیسی ہیں آپ

ماہی نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے پوچھا

میں ٹھیک تم بتاؤ طبیعت کیسی ہے اس دن تمہاری حالت کافی خراب تھی

جی اب بلکل ٹھیک ہے اچھا اس دن آپ نے کسی کو میرے متعلق بتایا تو نہیں تھا نہ

ماہی نے اپنا سر دباتے ہوئے پوچھا

نہیں ابرام مجھ سے تمہاری رپورٹ بھی مانگ رہا تھا ٹیسٹ کی مین نے کہا کہ ٹیسٹ نہیں ہوئے کوئی بھی

ڈاکٹر کی بات پر ماہی حیران ہوتے ہوئے پوچھا

آپ ابرام کو کیسے جانتی ہیں

میں ابرام کی فیملی ڈاکٹر رہہ چکی ہوں لیکن تم ٹینشن نہ لو میں نے اس کو کچھ نہیں بتایا اور تم یہ بتاؤ ویزا آگیا ٹکٹ کب کی بک کرنی ہے تاکہ میں ڈاکٹر سے میٹنگ فکس کروں

ڈاکٹر نے ماہی سے پوچھا جو اپنی ہی دنیا میں گم تھی

ماہین تم سن رہی ہو نہ

جی جی آپ اس منتھ کے لاسٹ ویک اینڈ کی ڈیٹ فائنل کردیں

ماہی نے کہہ کر کال کٹ کی جبکہ دوبارہ اپنے نمبر پر اومان کی کال دیکھ کر موبائل آف کرچکی تھی ماہی نے سوچ لیا تھا کہ اب کیا کرنا ہے

_____⭕

To be continue.....

     #ناول      _____⭕ہیلو مس مانو آپ کا پاسپورٹ ویزا لگ کر آچکا ہے برائے مہربانی آکر اپنا پاسپورٹ لے جائیں تاکہ آپ جلد ...
24/12/2025




#ناول


_____⭕

ہیلو مس مانو آپ کا پاسپورٹ ویزا لگ کر آچکا ہے برائے مہربانی آکر اپنا پاسپورٹ لے جائیں تاکہ آپ جلد از جلد اپنے ٹکٹ بک کروا سکیں شکریہ

مانو جو موبائل کان پر لگائے کھڑی تھی کال کٹ ہونے پر ہوش میں آئی اور وہیں صوفے پر ڈھہ گئی اس نے کیا سوچا تھا اور کیا ہونے جارہا تھا وہ یہی سوچ رہی تھی کہ نہ جانے وہاں جانے کے بعد وہ واپس آپائے گی یا نہیں زندگی اس کو مہلت دے گی یا نہیں ابھی تو گھر والوں کو بھی منانا تھا اپنی بیماری کا تو اس نے اپنے سائے کے علاوہ کسی کو پتہ بھی لگنے نہیں دیا تھا وہ انہی سوچوں میں تھی جب موبائل پر اومان کا نمبر نمودار ہوا وہ جب سے آیا تھا اس کے اگلے دن سے ہی اومان کی کالز آرہی تھیں

اومان کیوں اومان کیوں کیا غلطی تھی میری اتنے سال تم نے مجھے تڑپایا میرا حال تک نہ پوچھا اور آج جب زندگی مجھے اس تڑپ سے نکالنے جارہی ہے تم واپس سے مجھے اور تڑپا رہے ہو رہنا سیکھ لیا تھا تمہارے بن لیکن اب یہ تمہاری پھر سے جاگی ہوئی محبت میری سانسیں مزید مجھ پر تنگ کررہی ہے کیوں کررہے ہو ایسا کیوں کررہے ہو مجھے یاد کچھ نہیں ہے اب میرے پاس دینے کو کچھ بھی نہیں مررہی ہے وہ مانو جس کو کبھی تم نے مرنے کی بددعا دی تھی مرنے تو سکون سے دو اومان جب جینے سکون سے نہیں دیا تو

مانو اومان سے شکوہ کرتے کرتے وہیں صوفے پر سر ٹکائے نہ جانے کب نیند کی وادی میں جا سوئی تھی

_____⭕

سب اس وقت چھت پر موجود حیران نظروں سے سامنے کا منظر دیکھ رہے تھے جہاں زین کی برتھڈے کی ڈیکوریشن کی گئی ہے ڈیکوریشن سمپل تھی لیکن اچھی لگ رہی تھی

زین تو سامنے ما منظر دیکھ کر ہی ساکت تھا اس کو تو یاد ہی نہیں تھا کہ اس کی برتھڈے آج ہے اس نے پیشمان نظروں سے ماہی کی طرف دیکھا لیکن ماہی کے گھورنے پر مسکرا دیا سب نے ساتھ مل کر زین کی برتھڈے سیلیبرٹ کی تھی اتنے میں عنایہ بھی آچکی تھی ملنے ابرام کے آنے پر ماہی گھر کے لئے نکل چکی تھی جبکہ سب اب زین کے سر پر کھڑے اس کو گھور رہے تھے

یار معاف بھی کردو اب تو تم لوگ مانتا ہوں مجھ سے غلطی ہوگئی ہے ماہی سے بھی معافی مانگ چکا ہوں تم لوگ بھی معاف کردو پلیز

زین سب کے سامنے کان پکڑے گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا وہ بھی سب کے کہنے پر جبکہ طلحہ وہیں سامنے صوفے پر بیٹھا چائے سے لطف اندوز ہورہا تھا

اتنی آسانی سے معاف نہیں کریں گے بیٹا ہماری کچھ شرائط ہیں جن پر آپ پورے اترتے ہیں تو آپ کو معافی ملے گی

علی کی بات پر سب نے اثبات میں سر ہلایا

مجھے تم لوگوں کی ہر شرط منظور ہے لیکن میری بھی ایک شرط ہے کہ تم لوگوں کو ابھی سے ہی مجھے معاف کرنا پڑے گا

زین کی بات پر سب نے آئبرو اُٹھا کر دیکھا

اوئے پہلی بات تو یہ کہ تیرا صرف ہماری شرط ماننا بنتا ہے نہ کہ اپنی دینا لیک خیر مان لیتے ہیں تیری شرط بھی تو پہلی میری شرط یہی ہے کہ عنایہ کے ولیمے میں آپ ایز آ پرسنل سیکرٹری میرا ہر کام کریں گے ہر کام مطلب ہر کام

علی شاہانہ انداز میں کہہ رہا تھا جبکہ زین کا بس نہیں چل رہا تھا علی کو ہی اپنا پرسنل سیکرٹری بنالے لیکن مجبور تھا

اوکے تو میری شرط یہ ہے کہ مجھے جتنے بھی مارکیٹ کے چکر لگانے ہوں گے تم مجھے لے کر جاؤ گے چاہے رات کے دو ہی کیوں نہ بج رہے ہوں

اب کہ اقراء نے اپنی شرط بتائی تو سب نے تائیدی انداز میں اقراء کو دیکھا جبکہ زین نے کچا چبا دینے والی نظروں سے

میری شرط یہ ہے کہ

اس سے پہلے زارا کچھ کہتی زین بول پڑا

ویٹ ویٹ تم کس خوشی میں شرط رکھ رہی ہو میرے سامنے

زین کی بات پر زارا نے غصے سے دیکھا کیونکہ تم نے میری دوست کا دل دکھایا تھا اس وجہ سے

زارا نے چبا چبا کر بولا

تو میں اس سے معافی مانگ چکا ہوں اور یہاں پر جو یہ شرطیں چل رہی ہیں یہ ان لوگوں سے معافی کے لئے ہیں ماہی سے نہیں

زین نے بھی چبا چبا کر کہا

تو میں بھی تم سے ناراض ہوں

تو ہوتی رہو مجھے تمہارے ناراض ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والے میں تمہاری کوئی شرط نہیں مان رہا جاکر اپنے احد سے اپنی شرائط پوری کرواؤ

زین زمین پر آلٹی پالتی مار کر بیٹھ کر کہنے لگا

وہ تو مانتے ہیں ہیں تم بھی مانو

زین تم نے یہاں پر سب کا دل دکھایا تھا تو جو جو شرط رکھنا چاہتا ہے رکھ سکتا ہے اور تمہیں پوری کرنی ہوگی

اس سے پہلے کہ زین کچھ اود کہتا طلحہ کی بات پر زارا کو غصے سے دیکھنے لگا

لیکن طلحہ بھائی

زین کے طلحہ بھائی کہنے پر سب نے حیرانی سے زین کو دیکھا جیسے جو انہوں نے سنا ہو غلط ہو

کوئی لیکن ویکن نہیں زارا آپ اپنی شرط بتائیں

تو میری شرط یہ ہے کہ ولیمے پر آپ ایز آ ویٹر مجھے ٹریٹ کریں گے

زارا کی بات پر زین نے خونخوار نظروں سے اس کو دیکھا

اور کچھ میڈم

نہیں نہیں بس اتنا ہی کرلینا

زین نے چبا چبا کر کہا

اور تم لوگوں میں۔ سے کوئی نہیں دے گا

زین نے اسماء، امل اور ہادیہ کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا

نہیں آپ پہلے ان لوگوں کی شرائط ہی پوری کردیں بہت ہے ہم آپ کو ایسے ہی معاف کر دیتے ہیں

اسماء نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا امل اور ہادیہ کے کچھ نہ کہنے پر زین نے ان دونوں کو دیکھا امل تو خاموش ہی رہی جب کہ ہادیہ کہنے لگی

میری بھی ایک شرط ہے سب ہادیہ کی جانب متوجہ ہوئے جو سنجیدگی سے زین کو دیکھ رہی تھی

تمہیں میری شرط تھوڑی عجیب لگے گی لیکن شاید تمہیں بعد میں سمجھ آجائے میری شرط یہ ہے کہ تم ماہین کو بس یکطرفہ ہی پسند کرتے رہو اس سے کوئی امید نہ لگاؤ جب تک وہ خود کسی طرح کی پہل نہ کرے نہ اس کو احساس دلاؤ اپنی محبت کا

ہادیہ کی بات پر طلحہ اور زین سمیت سب نے حیرانی سے ہادیہ کو دیکھا

ایسے مت دیکھو تم سب مجھے میں ماہین کو جانتی ہوں وہ میری کزن ہے اس کی نیچر کو دیکھ کر ہی میں یہ شرط رکھ رہی ہوں ورنہ وہ ہم سب سے دور ہو جائے گی اور کل والا حادثہ یاد بھی ہوگا

ہادیہ کی بات پر ایک لمحے کے لیے سب کے چہروں کا رنگ فق ہوا ہادیہ کو کہہ رہی تھی ٹھیک ہی تھا

مجھے منظور ہے تمہاری یہ شرط مس ہادیہ ہماری دوستی کا پہلا وعدہ نہ سہی پہلی شرط ہی سہی

زین نے مسکرا کر ہادیہ کو کہا باقی سب بھی زین کی بات پر مسکرا دیئے جبکہ طلحہ کی نظریں امل پر تھیں جو بنا کسی کو محسوس ہوئے وہاں سے جاچکی تھی لیکن وہ وہاں ہوکر بھی وہاں نہیں تھی

طلحہ اس سے پہلے امل کے پیچھے جاتا ماہی کی کال آنے پر چھت کی بیک سائیڈ پر چلا گیا

_____⭕

ماہی سے بات کرتے کرتے طلحہ کی نظریں نیچے لان کی طرف گئیں جہاں امل آسمان کی طرف منہ کرکے آسمان کو دیکھ رہی تھی طلحہ نے بھی ایک نظر سامنے ن ظر آتے چاند کو دیکھا جو خوب اپنی چمک دکھا رہا تھا ایک ایک نظر سب پر ڈالتا نیچے کہ جانب بڑھا

نہیں نہیں امل کیا سوچ رہی ہے یہ سب غلط ہے

طلحہ نیچے امل کے پاس آرہا تھا جب اسے امل کی سرگوشی سنائی دی طلحہ کو لگا امل کسی اور سے بات کررہی ہے لیکن خود کو مخاطب کرتے امل کو دیکھ کے حیران ہوا اب امل اپنا سر ہاتھوں میں گرائے خود سے مخاطب تھی طلحہ اتنی دور نہیں تھا کہ امل کی سرگوشی سن نہ پاتا

لیکن میں مجبور ہوں میں چاہ کر بھی ان کو اپنے دل سے نکال نہیں پارہی میں کیا کروں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ مانو آپی کو پسند کرتے ہیں میں ان کی طرف
مائل ہوتی جارہی ہوں یا اللّٰہ پاک یا تو ان کو میرے دل سے نکال دے یا ان کو میرا کردے میں یہ اذیت برداشت نہیں کر پارہی

امل کی سرگوشیوں میں اب ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز بھی شامل تھی طلحہ اپنی جگہ اسٹل ہوا تھا طلحہ نے گہرا سانس لےکر منہ پر ہاتھ پھیرا اور اندر کی طرف بڑھا وہ امل کو سنبھالنے آیا تھا لیکن اس کی خود کی حالت سنبھالنے والی تھی۔

_____⭕

آج ولیمے کا فنکشن تھا علی امل اور زین رات کو اپنے گھر چلے گئے تھے کیونکہ ان کا سامان گھر پر ہی تھا انہوں نے شام میں ہی آنا تھا طلحہ ماہی اور زارا کو ارجنٹ اسکول جانا پڑا تھا وزیٹرز کی وجہ سے ان کا ایونٹ اس ولیمے کے اگلے دن ہی ہونا تھا جبکہ ہادیہ اور اقراء یہیں موجود تھیں آنیہ بیگم کی مدد کے لئے اسکول سے واپسی پر طلحہ ماہی کو اسکے گھر ڈراپ کرچکا تھا جبکہ زارا طلحہ کے ساتھ اس کے گھر ہی آئی تھی کیونکہ اس کا سامان یہیں تھا

سب نے ریڈی ہوکر پہلے طلحہ کے گھر آنا تھا پھر سب نے ساتھ ہی جانا تھا یہ بھی عنایہ کا آرڈر تھا کیونکہ طلحہ اور کا خاندان چھوٹا سا ہی تھا

حد ہے یار تم لوگ جلدی تو ایسے مچا رہے تھے جیسے دروازے پر کھڑے ہو نکلنے کے لئے اور ابھی تک ریڈی ہی نہیں ہو

زین نے کمرے میں آتے ہوئے سب کو دیکھ کر کہنا شروع کیا

علی جو اپنی ٹائی باندھنے کی کوشش کررہا تھا جس میں وہ ناکام ہی رہا ہے آج تک اشعر مرر کے زمانے کھڑا اپنے بال سیٹ کررہا تھا اشعر کے کزنز کوئی شیشے کے سامنے کھڑا تھا تو کوئی اپنے کوٹ سیٹ کررہے تھے طلحہ جو اپنے نہا کر آیا تھا ایک نظر زین کو دیکھ کر زین کی بات کو اگنور کرے دروازے کی جانب دیکھنے لگا

ہیلو بھائی جی میں یہاں ہوں دروازے پر کون ہے جس کو آپ دیکھ رہے ہیں اور میری بات کو اگنور کررہے ہیں

زین کو اپنا اگنور کیا جانا پسند نہیں آیا تھا

نہیں وہ مجھے لگا کہ ہادیہ تجھے بلارہی ہے

طلحہ نے زین کو چھیڑتے ہوئے کہا ہادیہ کے بارے میں بھی علی کی بدولت ہی سب کو پتہ چل گیا تھا

اوہ ہیلو وہ جسٹ میری دوست ہے

زین نے اک نظر پیچھے دیکھتے ہوئے کہا

ہاں تو میں نے تو یہ کہیں کہا کہ تو یا وہ پسند کرتے ہیں ایک دوسرے کو

طلحہ نے بھی دوبدو جواب دیا طلحہ کی بات پر زین نے کھا جانے والی نظروں سے علی کو دیکھا جیسے کہہ رہا ہو کہ تیری وجہ سے ہورہا ہے یہ

وہ میں اپنی والی سے مطلب کی یہ ٹائی بندھوا کر آتا ہوں

علی کہہ کر جانے لگا

جی جی بلکل اقراء بھی جسٹ ابھی ریڈی ہوئی ہے

زین کہاں یہ موقع چھوڑنے والا تھا

علی نے جاتے جاتے زین کو اپنے ہاتھ سے پانچ دکھایا تھا

گھر والے آگئے سب

طلحہ نے مرر میں دیکھتے شرٹ پہنتے ہوئے پوچھا

ہاں مما بابا راستے میں ہیں

زین وہیں صوفے پر بیٹھتا کہنے لگا

کیا مطلب مما بابا امل کہاں ہے

طلحہ نے شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے سرسری سا پوچھا زین نے طلحہ کو دیکھا جس نے آج پہلی دفعہ امل کا نام لیا تھا

وہ نہیں آرہی اس کی طبیعت تھوڑی ٹھیک نہیں تھی تو اس لئے

زین کہہ کر دوبارہ اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہوا جہاں ابھی ابھی ہادیہ کے نام کا نوٹیفیکیشن آیا تھا اس نے انسٹا پر اپنی پک اپلوڈ کی تھی زین اس کی پے کو چند پل دیکھتا رہا ہادیہ واقعی حسین تھی لیکن جو پہلی نظر کی پسند ہوتی ہے اس کو جھٹلانا کہاں آسان ہوتا ہے زین بس سوچ سکا تھا

جبکہ طلحہ تو امل کی طبیعت اور نہ آنے کا سن کر بے چین ہوا تھا یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا شاید چاہے جانے کا احساس تھا جو پہلی دفعہ کو عام سے خاص محسوس کروا رہا تھا طلحہ اپنی سوچوں کو جھٹک کر اپنی تیاری میں مصروف رہا

یار یہ اقراء کہاں ہے

علی تقریباً چلاتا ہوا لڑکیوں کے روم میں داخل ہوا تھا علی کے اس طرح داخل ہونے پر سب نے گھر کر علی کو دیکھا

اب ایسے کیا دیکھ رہے ہو میں نے تو اقراء کا پوچھا ہے

علی نے معصومیت سے پوری آنکھیں کھول کر پوچھا

ذرا سی آنکھیں کھول کر دیکھو گے تو پتہ چلے گا کہ میں یہیں ہوں اور تمہارے مینرز کہاں جاتے جا رہے ہیں روم ناک کرکے آنا تھا نہ

اقراء نے پیچھے سے علی کے کندھے پر پنچ مارتے ہوئے کہا

اوپس سوری یار میں

اس سے علی اپنی بات مکمل کرتا علی کی نظریں اقراء پر ٹھہر سی گئیں جو پستہ کلر کی ٹیل میں بال ایک سائیڈ پر ڈالے لائیٹ سے میک اپ میں بہت پیاری لگ رہی تھی

اقراء کی سینڈل اپنے پیر پر پڑنے پر ہوش میں آیا

کیا ہے چڑیل اتنی تیز کون مارتا ہے

علی کے چلانے پر سب دوبارہ علی کو دیکھنے لگے پھر معاملہ سمجھ کر دوبارہ اپنے کام میں لگ گئے

میں اور جب ایسے ندیدوں کی طرح دیکھو گے تو میں ماروں گی ہی

اقراء نے ایک نظر سب کر دیکھتے آہستہ آواز میں کہا

قسمے اگر تمہاری جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو میرے ایسے دیکھنے پر ابھی تک شرما شرما کر لال ٹماٹر ہوچکی ہوتی

آہ

اپنی بات کے جواب میں دوبارہ اقراء کی سینڈل سے اپنے پیر کو دیکھا جو لال ہورہا تھا

اللّٰہ کی بندی انسان بن جاؤ میرا نازک سا پیر ہے اپنی تعریف بھی نہیں برداشت نہ کسی اور لڑکی کا ذکر عجیب ہے بھئی

نکلو یہاں سے ورنہ اب اس دفعہ تم اپنے پیروں پر چل کر جا نہیں سکو گے

اقراء نے علی کی بات پر اس کو کمرے سے دھکے دیتے ہوئے ساتھ دھمکی بھی دی

اچھا نج سو سوری اب کچھ نہیں بولوں گا بس یہ ٹائی باندھ دو

علی ساری ڈرامے بازی کرنے کے بعد اب مطلب کی بات پر آیا تھا

پکا پرامس کرو پہلے کہ واقعی اب کوئی الٹی بات نہیں کہو گے

اقراء جانتی تھی علی کو ٹائی باندھنا نہیں آتی لیکن اس کو پسند بھی بہت ہے جبھی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا علی نے بھی شرافت سے ہاں میں سر ہلا کر منہ اور آنکھیں دونوں بند کیں

اقراء ایک پل کے لئے مسکرا کر علی ٹائی باندھنے لگی لیکن علی وہ اک پل کی مسکراہٹ بھی دیکھ چکا تھا

_____⭕

سب ہال جانے کے لئے نیچے لاؤنج میں جمع ہو کے تھے لڑکے اور باقی مہمان پہلے سے ہی موجود تھے بس لڑکیوں کا انتظار ہورہا تھا آنیہ بیگم نے لڑکیوں کو دیکھ کر بے ساختہ ماشاءاللّٰہ کہا تو زین کی نظر بھی لڑکیوں پر اور ان کے درمیان ہادیہ پر گئی جو اسماء کی کسی بات پر مسکراتے ہوئے نیچے اتر رہی تھی ہادیہ اسکائے بلو کلر کی پیاری سی میکسی بیچ کی مانگ نکالے بال کھولے حسین لگ رہی تھی

علی کے کندھا مارنے پر ہوش میں آیا جو اسی کو دیکھ کر اپنی بتیسی دکھا رہا تھا

چلو بھئی جلدی سب ابراہیم بھائی(عنایہ کے ہسبینڈ) کی کال آچکی ہے

طلحہ نے سب کو لاؤنج میں دیکھتے ہوئے کہا

ہاں چلو لیکن طلحہ ماہین بیٹا کہاں رہہ گئ اور رافع بھائی اور بھابھی بھی نہیں آئیں

عنایہ بیگم نے طلحہ اور زین دونوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا

آنی مما بابا گھر سے نکل چکے ہیں راستے میں جوائن کر لیں گے ہمیں اور امی ماہی بھی ہمیں راستے میں جوائن کرلیں گی انکے کزن کے ساتھ

طلحہ اور زین نے باری باری عنایہ بیگم کو جواب دیا پھر سب ہال کے لیے نکل چکے تھے

_____⭕

Like, Share & Follow

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rathore's Novels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category