18/05/2026
#ناول
_____⭕
اگلے دن ہی ماہی یونی پہنچ چکی تھی اپنے ڈاکیومنٹس لینے، ڈاکیومنٹس لینے کے بعد وہ سیدھا اسکول آئی تھی اپنے ریزائین کی بات کرنے
خیریت ہے میڈم آج اسکول نہیں آئیں اور کل سے کوئی میسج کوئی کال نہیں کی تم نے
وہ لوگ اس وقت اسکول کی کینٹین میں بیٹھی تھیں طلحہ بھی ان کے برابر میں آکر بیٹھا
ہاں بس تھوڑی طبیعت خراب ہے زارا اور طلحہ نے ماہی کے چہرے کو جانچا وہ واقعی صدیوں کی بیمار لگی تھی آج ان کو
ماہی تمہاری طبیعت ذیادہ خراب ہے تو پھر ابھی کیوں آئی جو کام تھا بعد میں ہو جاتا
زارا نے ماہی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
نہیں یار جو کام ہے وہ آج ہی لازمی کرنا ہے
ماہی نے مسکراتے ہوئے زارا اور طلحہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ایسا بھی کیا کام ہے
اب کہ طلحہ نے پوچھا تھا اس کو ماہی کے جواب سے الجھن سی ہوئی تھی
میں ریزائن دے رہی ہوں
زارا اور طلحہ اپنی جگہ سن رہہ گئے اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے پوچھتے ماہی کو میم بلاچکی تھی
مس ماہین آپ کو میم بلارہی ہوں
ماہی ایک مسکراتی نگاہ ان پر ڈال کر آفس کی طرف بڑھ گئی
_____⭕
مس ماہین یوں اچانک سے آپ ریزائن دے رہی ہیں کوئی خاص وجہ
جی میم ایکچیولی میں لندن جارہی ہوں اپنی اسٹڈی کے لئے مجھے کچھ ٹائم بعد جانا تھا اور آپ کو بھی پہلے ہی بتاتی لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر مجھے اس ہی مہینے وہاں جوائن کرنا ہے لازمی
میم کی بات پر ماہی وضاحت دینے لگی
میں ویسے اتنی جلدی کسی کا ریزائن اکسیپٹ نہیں کرتی لیکن آپ میری بہت قابل ٹیچر رہی ہیں اس لئے میں آپ کا ریزائن اکسیپٹ کرلیتی ہوں لیکن اس کے لئے کچھ شرائط ہیں کو آپ کو لازمی پوری کرنی ہوں گی
ماہین کی بات پر میم کہنے لگیں
پہلی یہ کہ آپکا جو ریزگنیشن لیٹر ہے اس کو کچھ ٹائم لگے کا کم از کم تین سے چار ورکنگ ڈیز تو جب تک آپ کو اسکول آنا پڑے گا تاکہ آپ کے جو ریمینگ ٹاپکس ہیں آپ وہ مکمل کروا دیں تاکہ جو نیو ٹیچر آئیں وہ نئے طریقے سے اگر اسٹارٹ اپ لیتی ہیں تو بچوں کو مشکل نہ ہو اور پھر اتنے دنوں میں جب تک نیو ٹیچر نہیں آجاتی آپ باقی ٹیچرز کو سارا کام سمجھا دیں گی
میم کی بات پر ماہی نے اثبات میں سر ہلایا اور اسکول سے نکلتی چلی گئی ماہی سیدھی گھر نہیں گئی تھی وہ قریب ہی موجود ایک سر سبز پارک میں آگئی تھی صبح گیارہ بجے کا وقت تھا سردیوں کی وجہ سے دھوپ بھی ٹھنڈی لوگ جاگنگ کرکے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہورہے تھے کچھ منچلے لڑکے اپنا فوٹو شوٹ کررہے تھے ماہی بینچ کی بیک پر سر ٹکائے آسمان کو تکنے لگی
مشکل تھا اپنے ملک اپنے ماں باپ اپنے بہن بھائیوں اور خاص کر اب اس دشمن جاں سے دور جانا جب تک اومان واپس نہیں آیا تھا ماہی کو تھوڑا اطمینان تھا لیکن اب کل سے اومان کو دیکھنے کے بعد ماہی کی حالت مسلسل خراب ہی رہی تھی یہاں پارک میں آنے کا مقصد بھی خود کو کمپوز کرنا تھا گھر والوں سے بات کرنے کے لئے ورنہ وہ تھوڑی سی طبیعت خرابی میں ماہی کو جانے کی اجازت نہیں دیتے
_____⭕
تیرا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا اتنی دور وہ بھی اکیلی
یہ عبداللّٰہ تھا جو ماہی پر غصہ کررہا تھا جبکہ ماہی سامنے صوفے پر اطمینان سے بیٹھی تھی
بھائی جانتی ہوں اتنی دور ہے لیکن میرا خواب ہے پوری زندگی اس چیز کے لئے محنت کی ہے اور آج قسمت نے مجھے ایک چانس دیا ہے پلیز آپ لوگ مان جائیں صرف دو سال کی بات ہے اپنا ماسٹرز کمپلیٹ کرکے میں نے واپس آجانا ہے پلیز
ماہی پچھلے آدھے گھنٹے سے اپنے گھر والوں کو راضی کرنے کی کوشش کررہی تھی سب کہیں نہ کہیں راضی تھی سعد بھی خاموش تھا بس راشدہ بیگم اور عبداللّٰہ ہی ضد لگائے بیٹھے تھے
امّی چھوڑ دیں ضد جانے دیں اس نے واقعی بہت محنت کی ہے ہمیں اس کا حوصلہ بننا چاہیے نہ کہ کمزوری
سعد عبداللّٰہ اور راشدہ بیگم کو سمجھانے لگا
ماہی بھی التجائیہ نظروں سے راشدہ بیگم اور عبداللّٰہ کو دیکھنے لگی پھر جاکر عبداللّٰہ اور راشدہ بیگم کے سینے سے لگی
پکا میں جلدی واپس آجاؤں گی اپنا بہت سارا خیال رکھوں گی ہر بری چیز سے دور رہوں گی جہاں اتنے سال مجھ پر یقین رکھا ہے آج بھی رکھ لیں
ماہی راشدہ بیگم کے سینے سے لگی انکو منا رہی تھی جس میں وہ کامیاب بھی ہوگئی تھی ایک گھنٹے کی مسلسل محنت کے بعد اب اس کو اطمینان ہوا تھا اپنے گھر والوں کے ساتھ پلینز بناتی اس کا دماغ کافی حد تک پرسکون ہوگیا تھا
رات کے کھانے کے بعد ماہی اپنے کمرے میں آرام کرنے جاچکی آج اتنے دنوں بعد ماہی بنا نیند کی گولیاں کھائے گہری نیند سوئی تھی
_____⭕
صبح ماہی کی آنکھ اپنے کمرے میں کسی کی موجودگی سے کھلی تھی سامنے دیکھا جو وہ ساری کی ساری ماہی کو کھڑی دیکھ کم گھور ذیادہ رہیں تھیں
کیا ہوگیا بھئی ایسے کیوں دیکھ رہی ہو تم سب اور اتنی صبح صبح یہاں
ماہی اپنے سامنے زارا، اقراء، امل، اسماء اور عنایہ کو بھی دیکھ کر حیران ہی ہوئی تھی
ہاں تو تمہارے جانے کے بعد آتے تمہارے کمرے میں تمہاری یاد میں
اقراء نے ماہی کو پلو کھینچ کر مارا تھا جو اس کے سر پر لگا تھا ماہی کا سر میں ایک ٹیس سی اٹھی جس کو دیکھ کر وہ لوگ فوراً آگے بڑھے
اقراء پاگل تو نہیں ہوگئی ہو اس کی طبیعت ویسے ہی خراب ہے
زارا نے ماہی کا سر اوپر کرتے ہوئے کہا ماہی خود کو سنبھال چکی تھی
سو سوری یار مجھے پتہ نہیں تھا
اقراء رونی صورت بناتی ماہی کے گلے لگی
اچھا نہ پاگل کچھ نہیں ہوا ٹھیک ہوں میں اقراء یہاں دیکھو
ماہی کو اپنا کندھا نم محسوس ہوا تو اس نے اقراء کو زبردستی خود سے الگ کیا جو رونے کا شغل اسٹارٹ کرچکی تھی
میں یہ کیا دیکھ رہی ہوں اقراء رو رہی ہے امل دیکھنا سورج مغرب سے تو نہیں نکلا
ماہی نے زارا کو چھیڑتے ہوئے کہا جس میں وہ کامیاب بھی ہوگئی تھی اقراء نے ماہی کے کندھے پر چماٹ مارا پھر دوبارہ ماہی کے گلے لگی اس دفعہ زارا، امل، عنایہ اور اسماء بھی شامل تھیں
ارے ارے بس کرجاؤ مجھے سانس نہیں آرہا
ماہی نے سب کو ہنسانے کے لئے مصنوعی درد کی آواز نکالی جس پر وہ لوگ ہنستے ہوئے ماہی سے الگ ہوئے پھر سب ایک ساتھ ماہی کو لے کر باہر ناشتہ کرنے جا چکی تھیں
یار یہ سارے لڑکے کہاں ہیں
ماہی نے اپنے سامنے بیٹھی ان لوگوں سے پوچھا
علی تو پتہ نہیں کہاں غائب ہے طلحہ بھائی کسی کام سے گئے تھے اور زین بھائی گھر میں پڑے سورہے تھے ہم میں سے کسی نے بھی لڑکوں کو نہیں بتایا کہ ہم آپ کے پاس جارہے ہیں
امل، اقراء اور عنایہ بتانے لگیں
اچھا مطلب ان لڑکوں کو تو پتہ بھی نہیں ہوگا نہ کہ میں جارہی ہوں
ماہی نے کافی کا سپ لیتے ہوئے پوچھا
جی شاید ان لوگوں کو نہیں پتہ
ماہی کی بات پر امل نے جواب دیا
یار ایک کام کرتے ہیں ماہی کے جانے سے پہلے ایک گیٹ تو گیڈر رکھ لیتے ہیں پھر تو دو سال بعد واپسی ہوگی ان میڈم کی
اقراء کی بات پر سب نے حامی بھری ماہی نے اپنا موبائل نکال کر طلحہ کو میسج ٹائپ کیا
ناشتے کے بعد وہ ساری تو اپنے گھر جاچکی تھیں جبکہ ماہی کسی کام کا کہہ کر وہیں بیٹھی رہی تھوڑی دیر بعد ہی اس کو طلحہ آتا دکھائی دیا
خیریت اتنی صبح صبح بلایا مجھے یہاں
طلحہ ماہی کے سامنے چیئر پر بیٹھتے پوچھنے لگا
آپ نے بات کی گھر میں امل کے بارے میں
ماہی ڈائیریکٹ پوائنٹ پر آئی تھی
نہیں ہمت نہیں ہوئی کیونکہ امی نے آپ کے بارے میں سوچ رکھا تھا
طلحہ نے بھی صاف گوئی سے جواب دیا
ہمم ٹھیک ہے آپ کی بات کیا میں بات کروں آنٹی سے لیکن پہلے آپ مجھے اپنا کلئیر کریں آپ امل کو دل سے اپنانا چاہتے ہیں نہ کیونکہ آپ کا تو نہیں پتہ وہ آپ سے ضرور محبت کرتی ہے خاموش محبت اور خاموش محبت اندر ہی اندر دم تو توڑ دیتی ہے لیکن بے وفائی نہیں کرتی
ماہی نے کچھ دیر سوچ کر کہا
ہاں آپ کرسکتی ہو اگر چاہو تو اور میں دل سے راضی ہوں بلکہ یہ کہا جائے کہ اس کی محبت سمجھنے کے بعد راضی ہوا ہوں تو غلط نہیں ہوگا چاہنے سے زیادہ چاہے جانے کا احساس خوبصورت ہوتا ہے
طلحہ نے کافی کا آرڈر دیتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا ماہی نے بھی مسکراتے ہوئے طلحہ کو دیکھا
ماہی ایک بات پوچھوں
تھوڑی دیر بعد طلحہ نے ماہی کو مخاطب کیا
جی پوچھیں
اسکول کیوں چھوڑ رہی ہیں آپ
طلحہ اور ماہی کی نظریں ایک پل کے لئے ملی تھیں لیکن آج ماہی نے نظروں کا زاویہ نہیں بدلا تھا کیونکہ آج طلحہ کی نظروں میں فقط دوستی کا جذبہ تھا
میں اسٹڈی کے لئے ابروڈ جارہی ہوں دو سال کے لئے بس اس وجہ سے
ماہی کی بات پر طلحہ کے چہرے پر سایہ سا لہرایا کچھ بھی سہی ماہی پہلی محبت تھی طلحہ احمد کی وہ اس بات سے کبھی انکاری نہیں ہوسکتا تھا
اللّٰہ پاک آپ کو کامیاب کرے لیکن ہم ہمیشہ دوست رہیں گے کبھی بھی رابطہ ختم کرنے کی کوشش مت کرنا
طلحہ نے ماہی کو پیار بھری دھمکی دی تھی جس کو ماہی نے مسکراتے ہوئے کھلے دل سے قبول کیا تھا
_____⭕
ماہی نے یونیورسٹی جانا چھوڑ دیا تھا کیونکہ اب اسٹڈی وہیں جاکر ہونی تھی آج بھی ماہی جلدی گھر کا تھوڑا بہت کام سمیت کر اسکول آئی اسکول کے بعد ماہی نے طلحہ کے گھر جانا تھا آنیہ بیگم سے بات کرنے کے لئے
اسلام علیکم آنٹی کیسی ہیں
ماہی نے طلحہ کے ساتھ گھر میں داخل ہوتے ہوئے آنیہ بیگم کو سلام کیا جو سامنے صوفے پر بیٹھیں چاول بین رہی تھیں
وعلیکم السلام میں ٹھیک تم کیسی ہو میری بچی عنایہ کی شادی کے بعد آج شکل دیکھ رہی ہوں تمہاری
آنیہ بیگم نے شکوہ کرتے ہوئے کہا
جی آنٹی بس تھوڑا مصروف تھی آج بھی آپ کے پاس ایک ضروری کام سے آئی ہوں
ماہی نے ایک نظر طلحہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو کمرے میں جانے کی تیاری پر تھا ماہی کے اشارے پر وہیں رکا آنیہ بیگم نے بھی دونوں کا اشارہ دیکھا تھا
بلکل بیٹا ضرور کرنا بات بھی لیکن پہلے کھانا لگوادوں تھکے ہارے آئے ہو تم دونوں
آنیہ بیگم کہہ کر کچن کی طرف بڑھیں طلحہ بھی فریش ہونے کو کہہ کر اپنے روم کی جانب بڑھا
کھانے کے دوران آنیہ بیگم کی نظریں ماہی اور طلحہ پر ہی تھیں جو کتنی دیر سے ایک دوسرے کو اشارے کررہے تھے
اب اگر اشارے ہوچکے ہوں تو بات کرو گے تم دونوں
آنیہ بیگم کی بات پر طلحہ کے حلق میں نوالہ اٹکا جبکہ ماہی ریلیکس تھی
آنٹی بات یہ ہے کہ طلحہ امل کے لئے رشتہ بھیجنا چاہتے ہیں
ماہی نے ایک نظر طلحہ کو دیکھتے ہوئے کہا اب کہ حیران ہونے کہ باری آنیہ بیگم کی تھی
کیا لیکن یہ تو
آنیہ بیگم اس سے پہلے کچھ کہتیں ماہی دوبارہ کہنا شروع ہوئی
جی آنٹی میں ساری بات جانتی ہوں لیکن آنٹی میں اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے لئے لندن جارہی ہوں دو سال کے لئے اور میں نہیں چاہتی کہ میں کسی کو آسرے میں رکھوں نہ جانے وہاں سے آنے کے بعد میرا مائینڈ کیسا ہو یا میں واپس آؤں یا نہ آؤں
ماہی کے منہ سے بے اختیار ہی نکلا تھا
اللّٰہ نہ کرے
طلحہ اور آنیہ بیگم دونوں نے ایک ساتھ کہا تھا
سوری بس بے اختیاری میں نکل گیا لیکن آنٹی موت تو بروقت ہے نہ اور ویسے بھی امل اچھی لڑکی ہے آپ کی رشتہ دار ہے اور پھر طلحہ کو پسند کرتی ہے
آخری بات ماہی نے طلحہ کو دیکھتے مسکراتے ہوئے آنیہ بیگم کو بتائی تھی
آنیہ بیگم نے کچھ سوچتے ہوئے طلحہ کی طرف دیکھا جس کی نظریں ماہی پر تھیں
آنٹی یہ بات میں ان کی مرضی سے ہی آپ سے کررہی ہوں یہ راضی ہیں بس آپ سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی
ماہی نے آنیہ بیگم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا آنیہ بیگم کے دیکھنے پر طلحہ نے بھی اثبات میں سر ہلایا
ٹھیک ہے اگر طلحہ راضی ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے میرے لیے تو میرے بچوں کی خوشی ضروری ہے
آنیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا ماہی اور طلحہ کی جان میں جان آئی
تو ٹھیک ہے آنٹی آپ جلد از جلد منگنی کی مٹھائی مجھے کھلادیں کیونکہ میں اس مہینے کے اینڈ تک چلی جاؤں گی
ماہی نے مسکراتے ہوئے طلحہ کو دیکھتے ہوئے کہا طلحہ نے بھی مسکراتے ہوئے ماہی کو دیکھا جس کے چہرے پر الگ ہی چمک تھی کسی کی محبت اس سے ملانے کی
امل کی محبت امل سے ملانے کی
ایک محبت کی کہانی دوستی پر آکر ختم ہوئی تھی
_____⭕
آنیہ بیگم دوسرے دن ہی طلحہ کا رشتہ لیکر چوہان ہاؤس پہنچ چکی تھیں زین کو ماہی پہلے ہی سمجھا چکی تھی تو رشتہ کا جواب بھی ہاتھوں ہاتھ مل گیا اور منگنی کی تاریخ بھی ماہی کے جانے کی وجہ سے اس ہی ویک اینڈ کی طے ہوچکی تھی امل تو شرم کے مارے دوبارہ کمرے سے باہر ہی نہیں نکلی تھی لگ ہی نہیں رہا تھا کہ امل مغربی ملک کی پیدائش ہے زین بھی اپنی بہن کو لے کر خوش تھا
زین کی والدہ ماہی کے جانے کا سن کر پریشان ہوئی تھیں زین کی وجہ سے لیکن زین ان کو سمجھا چکا تھا کہ ماہی صرف ایک اچھی دوست ہے
تو مسز رافع بھی اپنے بیٹے کو سکون میں دیکھ کر پرسکون ہوچکیں تھیں منگنی کے ساتھ نکاح کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا یہ بھی طلحہ کی مرضی تھی وہ ایک پاک اور مضبوط رشتہ چاہتا تھا منگنی کی تو ویسے بھی کوئی اہمیت نہیں تھی اسلام میں سب راضی بھی ہوگئے تھے اور زور و شور سے نکاح کی تیاریوں میں لگ گئے تھے
رات کے کھانے کے بعد ماہی کو زین اس کے گھر چھوڑنے جارہا تھا گاڑی میں خاموشی تھی زین ناراض تھا کہ ماہی نے اس کو بتایا نہیں اپنے جانے کا
زین واقعی میرے اچانک جانے کا ہوا ہے یقین نہ آئے تو تم سر طلحہ سے بھی پوچھ لو
ماہی نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا لیکن زین نے کوئی جواب نہیں دیا
زین سوری اب تم ایسے کرو گے میں جارہی ہوں اور جاتے جاتے تم اس طرح ناراض رہو گے سپوز اگر میں واپس نہ آئی تو پھر
ماہی نے تو زین کو اموشنل کرنا چاہا تھا لیکن وہ زین کو غصہ دلا چکی تھی زین نے اچانک سے بریک مارا تھا ماہی کو۔جھٹکا سا لگا تھا جس کی وجہ سے اس کے سر میں ٹیس سی اٹھی
ماہی کو کراہتا ہوا دیکھ زین کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا تھا
ایم رئیلی سوری ماہی سو سوری تم ٹھیک ہو
زین نے آگے پڑھ کر ماہی کو دیکھا جو اپنا سر تھامے بیٹھی تھی
میں ٹھیک ہوں ریلکس بس جھٹکا لگنے کی وجہ سے
زین کے پوچھنے پر ماہی خود کو سنبھالتے ہوئے کہنے لگی جبکہ سر میں درد ابھی بھی ہورہا تھا زین گاڑی سے نکل کر پانی کی بوتل لے آیا
ایم سوری ماہی میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن تمہاری مرنے والی بات پر غصہ آگیا تھا
زین نگ شرمندہ ہوتے ہوئے کہا
زین ریلیکس کچھ بھی نہیں ہے میں ٹھیک ہوں ٹینشن نہیں لو جانتی ہوں تمہیں فکر ہے میری جبھی تم غصہ بھی تھے لیکن واقعی سب اچانک ہوا ہے اس ہی ہفتے میں
ماہی کی بات پر زین نے اثبات میں سر ہلایا اور لندن کے راستوں اور وہاں کی جگہوں کے بارے میں بتانے لگا
گھر آنے پر ماہی اترنے لگی تو زین کی بات پر رکی
ماہی
ہاں
ماہی نے گاڑی کا دروازہ کھولے زین کی طرف منہ کرکے اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگی
ہادیہ نے مجھے شادی کے لئے پرپوز کیا
زین کی نظریں سامنے اسٹریٹ لائٹس پر تھیں کچھ پل کے لئے تو ماہی بھی ساکت ہوئی تھی زین کی بات پر نہیں ہادیہ کی بات پر ہاں ہادیہ اومان کی کزن جس کے ساتھ اومان کا بچپن سے رشتہ طے تھا لیکن اومان کی ماہی کی طرف دلچسپی اور ماہی کی اومان کے لئے بڑھتی ہوئی محبت کی وجہ سے ان کا رشتہ ختم ہوچکا تھا رشتہ ختم ہونے کہ وجہ مانو نہیں تھی جب ہادیہ اور اومان کا رشتہ ختم ہوا تھا تب تو اومان مانو سے بھی ہر تعلق ختم کرچکا تھا ہادیہ اور اومان کی فیملی پرابلمز کی وجہ سے ان کا رشتہ ختم ہوچکا تھا جس کا مانو کو بھی بہت بعد میں معلوم ہوا تھا اور جب تک اومان ترکی جانے کی مکمل تیاری کرچکا تھا لیکن ہادیہ مانو سے جیلس ہی رہتی تھی کیونکہ وہ مانو سے ذیادہ خوبصورت تھی دوسری وجہ اومان ہادیہ سے رشتے میں ہونے کے باوجود مانو کو پرپوز کرچکا تھا اور ہادیہ تو موو آن کرچکی تھی لیکن اومان اور مانو آج بھی وہیں تھے جہاں نو سال پہلے تھے
کیا ہوا ماہی
زین کے پکارنے پر ماہی ہوش میں آئی
نہیں کچھ نہیں بس اتنا کہوں گی کہ اگر کسی لڑکی نے تمہارے لئے پہل کی ہے تم سے محبت کی نکاح کی امید لگائی ہے تو اسے خالی ہاتھ مت لوٹانا زین ہادیہ ایک اچھی لڑکی ہے تم اس کے ساتھ ہمیشہ خوش رہو گے
ماہی مسکراتے ہوئے کہتی گاڑھ سے باہر نکلی لیکن دوبارہ گاڑی کے شیشے پر جھکی
زین نے سوالیہ نظروں سے دیکھا جیسے کچھ کہنا ہے کیا
اب امل اور سر طلحہ کے نکاح کے ساتھ تم اپنے نکاح کی مٹھائی بھی مجھے کھلادو لازمی پھر تو تم میرے پکے رشتے دار بن جاؤ گے اور میں رشتے داروں سے دور رہتی ہوں
ماہی نے آنکھ ونک کرتے ہوئے کہا ماہی کی بات پر زین کا بھی قہقہہ چھوٹا
بلکل ارادہ تو یہی ہے لیکن یہ رشتہ دار تمہاری جان نہیں چھوڑنے والا بچو بچ کے رہنا
زین کی بات پر ماہی بھی مسکراتے ہوئے اندر کی طرف بڑھی
ماہی کا دل جہاں امل، طلحہ اور زین کو لے کر سکون میں تھا وہیں ہادیہ کا نام سوچ کر بے چین ہوتا تھا کیونکہ ہادیہ کے ساتھ اومان کا ذکر جڑا ہوتا تھا کیا اومان کے دل میں آج بھی ہادیہ کے لئے محبت ہے کیا اومان کو تکلیف ہوگی اگر ہادیہ کی شادی کسی اور سے ہو جائے
ساری سوچوں اور پھر سر کو جھٹکا لگنے کی وجہ سے ماہی کا سر درد سے پھٹ رہا تھا وہ ایک کپ کڑوی کافی کے ساتھ اپنی ٹیبلٹ لے کر سونے کے لئے لیٹ چکی تھی
دوسری کہانی نفرت اور جیلیسی سے شروع ہوکر محبت پر ختم ہوئی تھی
_____⭕
sorry for late🫢
Continue....