Maktaba Darululoom Karachi

Maktaba Darululoom Karachi یہ جامعہ دارالعلوم کراچی کا اہم شعبہ اور اس کا اشاعتی ادارہ ہے۔

 ۔۔مکتبہ دارالعلوم کراچی 0319 6588892
19/05/2026



۔۔
مکتبہ دارالعلوم کراچی
0319 6588892

يسرّ مجلة البلاغ العربية، الصادرة عن دار العلوم كراتشي، أن تزفّ إلى قرّائها وباحثيها ومحبي العربية والإسلام عددها الجديد لشهور شوال وذي القعدة وذي الحجة لعام 1447هـ؛ عددٌ تتجاور فيه أنوار التفسير، وعمق الفقه، ووعي الاقتصاد الإسلامي، وأصالة التراث، وجمال الأدب والرحلات، في لوحة معرفية متكاملة تعبّر عن رسالة المجلة العلمية والثقافية.

صدر العدد الجديد من مجلة البلاغ العربية، الصادرة عن دار العلوم كراتشي، حاملاً بين دفتيه رحلةً علميةً وفكريةً ثرية، تتنقّل بالقارئ بين رحاب القرآن الكريم، ومدارج الفقه، وآفاق الفكر والاقتصاد، وكنوز التراث والأدب.

يفتتح العدد بإشراقة بعنوان "بين التحريف والتحقيق"بقلم سماحة مشرف المجلة، في قراءة واعية تلامس قضايا المنهج العلمي وأمانة الكلمة وتنقد المنهج الحداثي التجددي بحكمة وعقلانية،

ثم تأتي "كلمة العدد" لفضيلة الدكتور الشيخ محمد عمران أشرف العثماني حفظه الله تعالى (نائب رئيس الجامعة) بعنوان "الكليات الجامعة للمسلمين"، لتؤكد الحاجة إلى المعاني الجامعة التي تحفظ للأمة وحدتها وروحها الحضارية.

وفي افتتاحية العدد قراءةٌ في المعنى الاجتماعي للاقتصاد الإسلامي، بقلم عضو إدارة المجلة عبدالوهاب سلطان، تسعى إلى إبراز البعد الإنساني والأخلاقي في المنظومة الاقتصادية الإسلامية، بعيدًا عن النظرة المادية الجافة.

كما يضم العدد دراسةً علميةً نفيسة لسماحة الشيخ محمد تقي العثماني حفظه الله تعالى بعنوان "فقه الاستطاعة في الحج"، في المذاهب الأربعة، وهي ورقة مقدَّمة في ندوة الحج الكبرى، تجمع بين التأصيل الفقهي وفقه الواقع، وتكشف عن سعة الشريعة ومرونتها.

ومن الجوانب الأدبية والفكرية، يتناول الأخ عصمت الله النظاماني إسهامات الشيخ محمد تقي العثماني في أدب الرحلات، كاشفًا عن بُعدٍ أدبي وثقافي .

وفي محور التربية والتعليم، يقرأ الأستاذ محمود التونسي من جامعة دار العلوم كراتشي قضية "إعداد المعلم من منظور إسلامي" قراءةً تجمع بين الرؤية التربوية والقيم الإيمانية، في زمن تتعاظم فيه الحاجة إلى بناء المعلم الرسالي.

أما عشّاق التراث، فسيجدون في هذا العدد مادةً علميةً نادرة ضمن باب "تراث علماء شبه القارة الهندية الباكية"، حيث نُشرت خطبة تاريخية ارتجلها الإمام المحدّث الكبير أنور شاه الكشميري رحمه الله بعنوان:
«مزايا الحديث النبوي صلى الله عليه وسلم وخصائصه وأسرار اختلاف الأئمة والرأي الصائب فيها»،
قام باختيارها وترتيبها الأستاذ بابر القائم الخاني.

كما يتضمّن العدد مسائل مختارة من «إمداد الفتاوى» في كتاب الطهارة، نقلها إلى العربية وخرّج نصوصها الأستاذ حبيب القاسمي حفظه الله تعالى، خدمةً للتراث الفقهي الحنفي وتقريبًا له إلى القارئ العربي.

وفي زاوية الرحلات والأسفار، تتواصل الرحلة الممتعة «من جبل أحد إلى جبل قاسيون» لرحلات شيخ الإسلام حفظه الله تعالى في حلقتها الخامسة، بترجمة الأستاذ لقمان حكيم، الأستاذ السابق بالجامعة، حيث تمتزج مشاهد التاريخ بروح التأمل وأدب الرحلة.

العدد نافذةٌ على مدرسة علمية تجمع بين أصالة الموروث، ووعي الحاضر، وحسن العرض، ورصانة الطرح؛ ليبقى البلاغ العربي منبرًا يخدم لغة القرآن والفكر الإسلامي الرصين.

نسأل الله تعالى أن ينفع بهذا العمل، وأن يجعله لبنةً مباركةً في خدمة العلم وأهله.

للتواصل: مكتب مجلة البلاغ
جامعة دار العلوم كراتشي

0318 2735670

تَقْدِيمٌ جَدِيدٌ لِلمُدَوَّنَةِ الْجَامِعَةِ، كَتَبَهُ فَضِيلَةُ الشَّيْخِ محمد تقي العثماني حَفِظَهُ اللَّهُ تَعَالى ق...
17/05/2026

تَقْدِيمٌ جَدِيدٌ لِلمُدَوَّنَةِ الْجَامِعَةِ، كَتَبَهُ فَضِيلَةُ الشَّيْخِ محمد تقي العثماني حَفِظَهُ اللَّهُ تَعَالى قَبْلَ سَنَتَيْنِ.

0319 6588892

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب قدس سرہ نے المدونۃ الجامعۃ کے لیے ایک وقیع تقریظ تحریر فرمائی ت...
16/05/2026

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب قدس سرہ نے المدونۃ الجامعۃ کے لیے ایک وقیع تقریظ تحریر فرمائی تھی۔ یہ تقریظ پہلی جلد میں شامل ہوئی۔ بعد میں اس تقریظ کی افادیت کے پیش نظر اس کا اردو ترجمہ ماہنامہ البلاغ میں شائع ہوا۔

حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کے لیے جہاں صدقہ جاریہ کی بیشمار صورتیں الحمدللہ موجود ہیں، وہیں بحیثیت صدر جامعہ،شعبہ موسوعۃ الحدیث کا قیام، اس کے جملہ انتظامات اور آج الحمد للہ جبکہ المدونۃ الجامعۃ کی 20 جلدیں شائع ہو چکی ہیں، تو یہ سب بھی آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ اللہ تعالی آپ سے راضی ہو آمین

حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کی یہ وقیع علمی تحریر المدونۃ الجامعۃ کے تعارف کی مزید جہتیں کھولتی ہے۔
یہ وقیع علمی تحریر ہدیہ قارئین ہے۔

۔
مکتبہ دارالعلوم کراچی
احاطہ جامعہ دارالعلوم کراچی
رابطہ نمبر
0319 6588892

07/05/2026

حدیثِ رسولﷺ کا عالمی انسائیکلوپیڈیا

تحریر: محمد عکاشہ نیازی

اگر کوئی یہ سوال اٹھائے کہ جس طرح قرآنِ کریم کی ہر آیت کا ایک مستقل اور عالمی نمبر موجود ہے، کیا اسی طرح احادیثِ نبوی صلی الله عليه وآله وسلم کی بھی کوئی ایسی عالمی نمبرنگ موجود ہے جسے پوری دنیا کے اہلِ علم یکساں طور پر استعمال کرتے ہوں؟تو اس کا جواب آج تک نفی میں ہی دیا جاتا رہا ہے۔
ہم روزمرہ زندگی میں بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ قانون کی فلاں شق نمبر اتنی ہے، یا کسی کتاب کے فلاں صفحہ نمبر پر یہ عبارت موجود ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ کہنا چاہے کہ حدیث نمبر فلاں میں یہ ارشادِ نبوی صلی الله عليه وآله وسلم مذکور ہے، تو ایسا کہنا ممکن نہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حدیث کی ہر کتاب نے اپنی الگ ترتیب اور اپنی الگ نمبرنگ اختیار کی ہے۔ چنانچہ ایک ہی حدیث کا نمبر صحیح بخاری میں کچھ اور ہوتا ہے، صحیح مسلم میں کچھ اور، اور دوسری کتبِ حدیث میں بالکل مختلف۔یہی وہ سوال تھا جس نے ایک غیر معمولی علمی منصوبے کو جنم دیا۔ ایک ایسا منصوبہ جسے بجا طور پر علمِ حدیث کی جدید تاریخ کا ایک عظیم سنگِ میل قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس منصوبے کا نام ہے:
"المدونة الجامعة للأحاديث المروية عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم"
یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک عظیم علمی منصوبہ ہے، جس کا مقصد سنتِ نبوی صلی الله عليه وآله وسلم کے منتشر اور وسیع ذخیرے کو ایک جامع، منظم اور عالمی معیار کے مطابق مرتب کرنا ہے، تاکہ آنے والی صدیوں کے محققین کے لیے اس تک رسائی انتہائی آسان ہو جائے۔
یہ منصوبہ پاکستان کے عظیم علمی مرکز جامعہ دار العلوم کراچی میں شیخ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی سرپرستی میں جاری ہے۔ بظاہر یہ کام بڑی خاموشی کے ساتھ انجام پا رہا ہے، لیکن اس کے اندر جو علمی محنت، تحقیقی دقت اور وسعت پوشیدہ ہے، وہ واقعی حیرت انگیز ہے۔
اس مقصد کے لیے جامعہ دار العلوم کراچی میں ایک مستقل شعبہ قائم کیا گیا ہے جسے شعبہ موسوعۃ الحدیث کہا جاتا ہے۔ اس شعبے میں تقریباً بیس کے قریب علماء و فضلاء کئی برسوں سے مسلسل اس عظیم منصوبے پر مصروفِ عمل ہیں۔
دار العلوم کراچی میں اپنی معمول کی حاضری کے دوران ایک مرتبہ اتفاق ہوا کہ میں سیڑھیاں چڑھ کر موسوعۃ الحدیث کے دفتر جا پہنچا۔ وہاں محبی و مکرمی مولانا عنایت الرحمن صاحب مد ظلہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے جب اس کام کی نوعیت اور اس کے مختلف مراحل کی تفصیل بیان کی تو وہاں کام کرنے والے اہلِ علم کو دیکھ دیکھ کر حیرت ہوتی رہی۔یہ حضرات محض روایت نقل کرنے کا کام نہیں کر رہے بلکہ ایک ایسا عالمی علمی ذخیرہ مرتب کر رہے ہیں جس کی مثال تاریخِ علمِ حدیث میں اس سے پہلے نہیں ملتی۔اس منصوبے کی نگرانی حضرت مولانا نعیم اشرف صاحب مد ظلہ کر رہے ہیں جو اس شعبے کے ناظم ہیں۔ انہوں نے اس کام کے تعارفی مضمون میں ایک جگہ لکھا ہے کہ یہ محض ایک تصنیفی منصوبہ نہیں بلکہ سنتِ نبوی صلی الله عليه وآله وسلم کی جامع اور عالمی تدوین کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
اگر تاریخِ اسلام پر نظر ڈالی جائے تو محدثینِ کرام نے حفاظتِ حدیث کا جو عظیم کارنامہ انجام دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ علمِ حدیث کی بدولت علم الرجال جیسا نادر فن وجود میں آیا جس کی نظیر دنیا کی کسی دوسری تہذیب میں نہیں ملتی۔
محدثین کی علمی دیانت کا عالم یہ ہے کہ بعض اہلِ علم نے یہ دلچسپ بات کہی ہے کہ دیگر مذاہب کی محرف کتابوں سے کہیں زیادہ استناد ہمارے ہاں موضوع روایات کے ذخیرے کو حاصل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں تحریف کرنے والوں کا سراغ تک نہیں ملتا، جبکہ مسلمان محدثین نے نہ صرف موضوع روایات کو جمع کیا بلکہ ان کے پیچھے چھپے جھوٹے راویوں کے نام تک امت کے سامنے واضح کر دیے۔ان حضرات نے احادیث کو جمع کیا، ان کی اسناد کو پرکھا، راویوں کی تحقیق کی اور ہزاروں عظیم کتابیں تالیف کیں۔لیکن اس عظیم علمی سرمایہ کے باوجود اب تک کوئی ایسا مجموعہ موجود نہیں تھا جس میں تمام احادیثِ مرفوعہ (یعنی وہ تمام احادیث جو براہِ راست رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم کی طرف منسوب ہیں) کو ایک جگہ جمع کر دیا گیا ہو۔اسی خلا کو پر کرنے کے لیے المدونة الجامعة کا منصوبہ شروع کیا گیا۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم کی طرف منسوب تمام احادیثِ مرفوعہ کو ایک جامع مجموعے میں جمع کر دیا جائے۔ اس میں صرف صحیح احادیث ہی نہیں بلکہ وہ تمام احادیث بھی شامل ہوں گی جو حسن یا ضعیف درجے کی ہوں، البتہ موضوع (من گھڑت) احادیث کو اس میں شامل نہیں کیا جائے گا۔تاہم اس میں ان احادیث کو بھی جگہ دی گئی ہےجن کو بعض نے موضوع کہاہے اور دوسرے بعض علماء نے اسے موضوع تسلیم نہیں کیا یوں یہ ایک ایسا وسیع دائرہ ہے جس کے نتیجے میں احادیث کا ایک عظیم ذخیرہ سامنے آ رہا ہے جس کی مثال پہلے موجود نہیں۔اور بجا طور پر اسے حدیث کی تدوینِ جدید کہاجاسکتا ہے۔
اس منصوبے کے محققین نے احادیث کے مصادر کو تین بنیادی حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
1۔ المصادر الأساسية
سب سے پہلے حدیث کی 80 بنیادی کتابوں کو منتخب کیا گیا۔ ان میں صحاحِ ستہ کے علاوہ وہ عظیم مجموعے شامل ہیں جن میں حدیث کی روایت براہِ راست سند کے ساتھ موجود ہے، جیسے:
مسند احمد، مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، ابن خزیمہ، ابن حبان، طبرانی، بیہقی، حاکم اور ابو نعیم اصفہانی۔
ان کتابوں کی ہر حدیث اور اس کے تمام طرق کو مکمل طور پر دیکھا گیا۔
2۔ المصادر المستمدة
چونکہ قدیم حدیثی کتابوں کی بعض طباعتیں ناقص ہیں اور کئی مخطوطات مکمل طور پر شائع نہیں ہوئے، اس لیے مزید 111 کتابوں کو شامل کیا گیا تاکہ ان کمیوں کو پورا کیا جا سکے۔
3۔ مصادر الزوائد
تحقیق کا تیسرا مرحلہ اس منصوبے کی وسعت کا حقیقی اندازہ دیتا ہے۔ ان بنیادی کتابوں کے علاوہ تقریباً 1900 مزید حدیثی کتب کے لاکھوں صفحات کی ورق گردانی کی گئی تاکہ اگر کسی حدیث کا کوئی طریق، کوئی لفظی اضافہ یا کوئی اہم فائدہ کہیں اور موجود ہو تو اسے بھی محفوظ کیا جا سکے۔
یوں مجموعی طور پر اب تک 20 لاکھ 60 ہزار سے زائد صفحات کا دقیق علمی جائزہ لیا جا چکا ہے، جو اس منصوبے کی مضبوط بنیاد بن چکا ہے۔
اس منصوبے کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا مخصوص کمپیوٹر ڈیٹا بیس ہے۔ اس عظیم علمی کام کی ضروریات کے مطابق ایک خصوصی سافٹ ویئر تیار کیا گیا ہے، جس میں حدیث کے ہر پہلو کے لیے الگ فیلڈز (Fields) مختص کی گئی ہیں، مثلاً:
حدیث کا متن اور سند، راویوں کے نام اور ان کی تحقیق، متعلقہ کتاب، باب، جلد اور صفحہ نمبر، متابعات اور شواہد (Supporting Narrations)، حکم علی الحدیث (صحت و ضعف کا درجہ)، الرقم العالمي (عالمی نمبر)۔
یوں اس جدید نظام اور علماء کی شبانہ روز محنت کی بدولت اب تک (۲۵ رمضان المبارک۱۴۴۷ ھجری) تقریباً:
ستائیس ہزار نو سو باون (٢٧٩٥٢)احادیث مرفوعہ
چھبیس ہزار پانچ سو چورانوے (٢٦٥٩٤)شواہد
اور ٤٦١٧١١ (قریباً پونے پانچ لاکھ) کے قریب قریب طرقِ حدیث اپنی مکمل اسناد اور حوالوں کے ساتھ محفوظ کیے جا چکے ہیں۔
اس منصوبے کی سب سے منفرد خصوصیت الرقم العالمي للحديث ہے۔ اس کے تحت ہر حدیث کو ایک ایسا مستقل نمبر دیا جائے گا جو کسی خاص کتاب کے تابع نہیں ہوگا بلکہ خود حدیث کا ایک عالمی نمبر ہوگا۔
یہ نمبرنگ موضوعاتی ترتیب پر رکھی گئی ہے۔
چنانچہ حدیث "إنما الأعمال بالنيات" کو نمبر 1 دیا گیا ہے۔ اس کے بعد ایمان سے متعلق احادیث، پھر طہارت، نماز، زکوٰۃ اور دیگر ابواب کے مطابق ترتیب آگے بڑھتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آئندہ اگر دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی محقق یہ کہے کہ "المدونة الجامعة حدیث نمبر 500" تو دنیا بھر کے اہلِ علم فوراً اسی ایک حدیث کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنا عظیم منصوبہ کئی برسوں تک تقریباً خاموشی کے ساتھ جاری رہا۔ نہ اس کی تشہیر کی گئی اور نہ اسے نمایاں کیا گیا۔ مگر اب جب اس کی بیس جلدیں منظرِ عام پر آ چکی ہیںجن میں عقائد،عبادات، مناکحات،مماملات عالیہ کے ابواب مکمل ہوچکے ہیں اور مزید ان شاءاللہ بہت جلد منظر عام پر آنے والی ہیں۔تو اہلِ علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس عظیم علمی خدمت سے واقف ہوں۔
بلاشبہ "المدونة الجامعة" حدیثِ رسول صلی الله عليه وآله وسلم کے بے پناہ خزانے کو ایک جامع، منظم اور عالمی معیار کے مطابق مرتب کرنے کی ایک غیر معمولی علمی کوشش ہے۔ یہ منصوبہ علمِ حدیث کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر رہا ہے۔یہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ سنتِ نبوی صلی الله عليه وآله وسلم کی خدمت کا سلسلہ کبھی رکا نہیں اور نہ کبھی رکے گا۔ اہلِ علم کی محنت، اخلاص اور تحقیق آنے والی صدیوں کے لیے یقیناً ایک روشن مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔

المدونۃ الجامعہ کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے تین خطاب پیش ہیں:المدونہ الجامعہ کی پہلی جلد کے موقع پر ایک تقریب مسرت کا ان...
02/05/2026

المدونۃ الجامعہ کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے تین خطاب پیش ہیں:

المدونہ الجامعہ کی پہلی جلد کے موقع پر ایک تقریب مسرت کا انعقاد ہوا تھا، جس میں مختلف حضرات کے خطاب ہوئے جو بعد میں ضبط ہو کر البلاغ میں شائع ہوئے۔۔
ادارتی نوٹ میں ذیل کی تفصیل درج ہے:

"المدونۃ الجامعۃ للأحادیث المرویۃ عن النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم " کی پہلی جلد الحمدللہ شائع ہوگئی ہے جس کا ذکر البلاغ کے صفر اورربیع الاول کے شماروں میں آچکا ہے ، رئیس الجامعہ دارا لعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی ہدایت پر خوشی کے اس موقع پر اس کا م کے تعارف اور اس میں شریک رفقاء کی ہمت افزائی کے لئے ۱۶؍ربیع الاول ۱۴۳۹؁ ھ (۵؍دسمبر ۲۰۱۷؁ ء ) منگل کے روز جامع مسجد دارالعلوم کراچی میں ایک باوقار تقریب منعقد کی گئی جس میں اساتذہ وطلبۂ دارالعلوم کے علاوہ دیگر احباب نے بھی شرکت فرمائی ۔
تقریب میں نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم کا بصیرت افروز خطاب ہوا ، جس میں آپ نے اس کتاب سے متعلق مفصل معلومات سے حاضرین کو آگاہ کیا ۔حضرت کے خطاب کے بعد ناظم شعبۂ موسوعۃ الحدیث ، استاذ جامعہ دارالعلوم کراچی جناب مولانا نعیم اشرف صاحب ، حفظہ اللہ، نے کام کے نہج اور طریقہ ٔ کارپر روشنی ڈالی ، اس سے سامعین کواس منفرد کام کے عملی نشیب وفراز کے بارے میں بہت مفید اور اہم باتوں کاپتہ چلا، آخر میں رئیس الجامعہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے مختصر خطاب میں اس عظیم خدمت پر اپنی خوشی کا اظہار فرمایا اور جن حضرات نے اس کام میں محنت فرمائی، آپ نے ان کو مبارکبادبھی دی اور ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ان میں انعامات بھی تقسیم فرمائے۔ حضرت والا زید مجدہم ہی کی دعا ء پر جلسہ اختتام کو پہنچا ۔
تقریب تشکّرسے متعلق یہ بیانات افادئہ عام کے لئے ہدیۂ قارئین کئے جارہے ہیں۔۔۔(ادارہ)"
...
الحمد للہ اب تک اس کی بیس جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے کمنٹ ملاحظہ فرمائیں

مکتبہ دارالعلوم کراچی

المدونہ الجامعہ کا تعارف اور اہم خصوصیات بقلممولانا نعیم اشرف صاحب دامت برکاتہمیہ تعارف چھ سال قبل تحریر کیا گیا تھا۔ اب...
30/04/2026

المدونہ الجامعہ کا تعارف اور اہم خصوصیات
بقلم
مولانا نعیم اشرف صاحب دامت برکاتہم

یہ تعارف چھ سال قبل تحریر کیا گیا تھا۔ اب الحمد للہ کام تیزی سے تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔
.....۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مولانا نعیم اشرف صاحب شعبہ موسوعۃ الحدیث کے ناظم ہیں، آپ کی نظامت اور حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم کی سرپرستی اور نگرانی میں احادیث مبارکہ کا یہ عظیم الشان منصوبہ بیس سے زائد برسوں سے جاری ہے، اور الحمد للہ اب تک اس کی 20 جلدیں شائع ہو چکی ہیں، اب یہ منصوبہ اپنی تکمیل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اللہ تعالی اس عظیم الشان منصوبے کو شرف قبولیت عطا فرمائے، جملہ معاونین کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین

کتاب حاصل کرنے کے لیے پہلا کمنٹ ملاحظہ فرمائیں )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکتبہ دارالعلوم کراچی

جو حضرات المدونۃ الجامعہ کے منصوبے کو سمجھنا چاہیں ان کے لیے یہ مختصر تعارف بہترین ہے۔۔۔۔پہلی جلد کی اشاعت کے موقع پر حض...
26/04/2026

جو حضرات المدونۃ الجامعہ کے منصوبے کو سمجھنا چاہیں ان کے لیے یہ مختصر تعارف بہترین ہے۔
۔۔۔

پہلی جلد کی اشاعت کے موقع پر حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے قلم سے

المدونۃ الجامعہ کا تعارف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الحمد للہ اب تک اس عظیم الشان منصوبے کی 20 جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ جو مکتبہ دارالعلوم کراچی سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔۔

رابطہ نمبر:

0319 6588892

مکتبہ دارالعلوم کراچی

25/04/2026
کتاب کا تعارف حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم یوں فرماتے ہیں:"الحمد للّٰہ رب العالمین والصّلوۃ والسّلام علی...
22/04/2026

کتاب کا تعارف حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم یوں فرماتے ہیں:

"الحمد للّٰہ رب العالمین والصّلوۃ والسّلام علی سیدنا ومولانا محمد خاتم النبیین، وإمام المرسلین، وعلی آلہٖ واصحابہٖ أجمعین، وعلی کل من تبعہم بإحسان إلی یوم الدّین.

اظہارالحق کا اردو ترجمہ جو میرے استاذ مکرم حضرت مولانا اکبر علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کیا تھا، پہلی بار سن ۱۳۸۸ ہجری مطابق ۱۹۶۸ شمسی میں میری تحقیق کے ساتھ ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا ۔ میں نے اُس وقت ’’حرف آغاز‘‘ میں کتاب کا تعارف اور اُس پر اپنے کام کی کچھ تفصیل عرض کر دی تھی جو اس نئی طباعت میں بھی شامل ہے۔ جس وقت میں یہ کام کررہا تھا ، اُس وقت کام کے انتہائی محدود وسائل میسر تھے اور انہی محدود وسائل کے ساتھ میں نے کسی نہ کسی طرح کتاب کو اشاعت کے قابل بنانے کی کوشش کی ، لیکن اُسی حرف آغاز میں اس اعتراف کے ساتھ کہ میں اس کتاب کی تحقیق کا حق ادا نہیں کر سکا۔
خاص طورپر جو بات مجھے ہمیشہ کھٹکتی رہی،وہ یہ تھی کہ عیسائی مصنفین کی جن کتابوں کے حوالے حضرت مولانا کیرانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جابجا دئیے ہیں، اُن میں سے کوئی بھی مجھے پاکستان میں میسر نہ آسکی تھی ۔ اس لئے ان کتابوں کی مراجعت کرکے ترجمے کی صحت یا اُس کے قابلِ ترمیم ہونے کا فیصلہ ممکن نہیں تھا ۔ دوسری طرف جن مغربی ناموں کا کتاب میں بار بار ذکر آیا ہے، چونکہ حضرت مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں عربی سانچے میں ڈھال کر (یعنی معرّب کرکے) لکھا تھا ، اس لئے نہ ان ناموں کا صحیح تلفظ بہت سے مقامات پر معلوم ہوسکا،اور نہ ان کی انگریزی یا یونانی یا رومی اصل معلوم ہوسکی۔ چنانچہ چند مشہور مصنفین کو چھوڑ کر جن کے ٹھیک ٹھیک نام اُس وقت مجھ پر واضح ہوگئے تھے ،باقی نام اُسی عربی شکل میں لکھ دئیے گئے تھے جس شکل میں وہ ’’اظہارالحق‘‘ میں موجود تھے۔
اللہ تعالیٰ حضرت ڈاکٹر حمید اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر اپنی رحمت کی بارشیں برسائے ، انہیں اس کتاب کی اہمیت کا بڑا احساس تھا ۔ وہ پیرس میں رہتے تھے ، اور مجھے اُن سے خط وکتابت کا شرف حاصل تھا ، جب یہ کتاب منظر عام پر آئی تو انہوں نے اُس پر بڑی مسرت کا اظہار فرمایا ،اور میری ہمت افزائی فرمائی، اور ساتھ ہی انہوں نے مجھے مطلع فرمایا کہ کتاب میں جو فرنگی نام آئے ہیں ، پیرس کے کتب خانوں کی مدد سے وہ ان ناموں کے انگریزی ہجے ایک فہرست کی شکل میں مرتب فرما رہے ہیں ۔چنانچہ انہوں نے اس فہرست کا کچھ ابتدائی حصہ مجھے ارسال بھی فرمایا ،اور کچھ حواشی بھی لکھے جو بعد میں ہم شائع بھی کرتے رہے، لیکن پھر ان کی دوسری مصروفیات اور بیماریاں آڑے آ گئیں اور وہ اس کام کی تکمیل سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃ۔
مجھے چونکہ ‘‘اظہارالحق‘‘ کے اصل مآخذ کی تلاش ہمیشہ رہی ، اس لئے جب کسی ایسے کتب خانے میں جانے کا اتفاق ہوتا جہاں ان کے ملنے کی امید ہو سکتی تھی ، میں یہ کتابیں تلاش کرتا ، لیکن چونکہ یہ کتابیں سولہویں سے لے کر اٹھارویں صدی کے دوران کی لکھی ہوئی تھیں، جو اَب نایاب ہو چکی تھیں، اس لیے بہت کم کامیابی ہوتی۔آخر کار لندن کے ایک سفرکے دوران میں نے اپنا قیام خاص اس غرض سے بڑھایا ، اور برٹش لائبریری کی رکنیت حاصل کرکے اس لائبریری میں ان مآخذ کی تلاش شروع کی تو مجھے بڑی مسرت ہوئی کہ اس میں اظہارالحق کے بیشتر مآخذ موجود تھے ۔
یہ مسرت اپنی جگہ تھی ، لیکن ان کتابوں سے متعلقہ حوالے تلاش کرکے الگ کرنا ایک دیر طلب اور دقت طلب کام تھا،اور میرے لیے اُس وقت کی مصروفیات میں یہ ممکن نہیں تھا کہ میں لندن میں اتنا طویل قیام کر سکوں جس سے یہ ضرورت پوری ہو جائے ۔ لہٰذا مجھے اس مشکل کا حل یہی نظر آیا کہ میں لندن کے کسی صاحبِ علم کو اس کام پر آمادہ کروں کہ وہ اس لائبریری میں موجود ذخیرے کو کنگھال کر وہ عبارتیں جمع کریں جو حضرت مولانا کیرانوی رحمۃ اللہ علیہ نے نقل فرمائی ہیں ۔ میں نے اس ضرورت کا ذکر اپنے مخلص دوست مولانا اسماعیل گنگات صاحب (حفظہ اللہ تعالیٰ ) سے کیا جو لندن ہی کے باشندے ہیں،اور وہاں کے علمی حلقوں سے بخوبی واقف۔میں نے ان سے درخواست کی کہ اس کام کے لیے جو قابلیت درکار ہے، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ کسی ایسے صاحبِ علم کو تلاش کریں جو اس کام کے لیے اپنا وقت فارغ کرسکتے ہوں ،ہم ان کو انشاء اللہ تعالیٰ مناسب حق الخدمت پیش کر یں گے ۔
اس درخواست کے کچھ ہی عرصے کے بعد مولانا گنگات صاحب نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ ایک صاحب اس کام کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔ان کانام’’ زاہدعطاء اللہ ‘‘ہے ۔ لندن کے اگلے سفر میں انہوں نے زاہد صاحب سے میری ملاقات کرائی تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ ایک نو عمر نوجوان تھے جو اکاؤنٹنسی کی تعلیم حاصل کررہے تھے ۔ اردو، عربی اور فارسی سے بالکل ناواقف تھے ، اور اس قسم کے کسی علمی کام کا انہیں کوئی تجربہ بھی نہیں تھا ۔مجھے شروع میں شک ہوا کہ وہ یہ کام کرسکیں گے ۔اول تو ان کا تعلیمی پس منظر بظاہر اس کام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا ،دوسرے اپنی تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے وہ اس کام کے لیے یکسوئی کے ساتھ کیسے وقت نکال سکیں گے ؟ مجھے اس میں بڑا تردد تھا ، لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ جس سے چاہیں ، کام لے لیتے ہیں،وہ بڑے جذبے کے ساتھ اس پر آمادہ تھے، اور چونکہ اردو عربی سے واقف نہیں تھے ، اس لیے ان کا کہنا تھا کہ میں اظہارالحق کا وہ انگریزی ترجمہ سامنے رکھوں گا جو میرے بڑے بھائی جناب مولانا محمد ولی رازی صاحب مدظلہم نے کیا ہے ،اور لندن سے شائع ہوا ہے ۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ کام کا کچھ ابتدائی نمونہ مجھے بھیجیں جس سے یہ اندازہ ہو کہ کام صحیح نہج پر ہورہا ہے ۔
جب انہوں نے مجھے کچھ ابتدائی صفحات بھیجے تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ انہوں نے نہایت سلیقے ، خوش ذوقی اور صحیح فہم کے ساتھ کتابوں کے حوالے جمع کئے تھے ۔ میں نے ان کی ہمت افزائی کر کے انہیں کام جاری رکھنے کا مشورہ دیا ، اور وہ پوری تن دہی اور استقامت کے ساتھ اس مہم میں مصروف رہے،اور میری بار بار کی پیشکش کے باوجود انہوں نے کوئی حق الخدمت لینا گوارا نہیں کیا،بلکہ اپنے گھر سے لائبریری تک آمد ورفت یا اس سلسلے کا کوئی اور خرچ بھی انہوں نے قبول نہیں کیا،اور خالص لوجہ اللہ اس کام میں مصروف رہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اپنی تعلیمی اور گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے وہ پورا وقت نہیں دے سکتے تھے ، لیکن جتنا دے سکتے تھے ،اس میں انہوں نے کوئی کوتاہی نہیں کی، اور چند سال میں انہوں نے کام مکمل کر کے کئی صفحات پر مشتمل ایک ضخیم فائل مجھے بھیج دی جو نہایت سلیقے کے ساتھ مرتب کی ہوئی تھی ، اور حسنِ ترتیب کی وجہ سے اُس سے استفادہ بھی آسان تھا ۔ اللہ تعالیٰ ان کے صدق واخلاص اور ان کی عرق ریزی کا بہترین صلہ انہیں دنیا وآخرت میں عطا فرمائیں۔
اس فائل کے میسر آنے کے بعد مجھے اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس فائل کے ذریعے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں، انہیں متعلقہ جگہوں پر سمویا جائے۔ چونکہ بعض مقامات پر کتابت کی غلطیاں بھی رہ گئی تھیں، خاص طور پر بائبل کے حوالوں میں باب اور آیت کے نمبروں میں غلطی کی وجہ سے یہ شکایات بھی ملی تھیں کہ متعلقہ جگہوں پر حوالہ دستیاب نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ اس دوران عربی اظہارالحق کا ایک تحقیق شدہ نسخہ بھی منظر عام پر آگیا تھا جس میں محقق کو اصل کتاب کے قلمی نسخوں سے مقابلہ کرنے کا موقع ملا تھا، اور ان کی روشنی میں متن میں بعض مقامات پر کمی بیشی بھی ہوئی تھی ، اور اُس میں کچھ مفید حواشی بھی تھے ۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر میں نے ضروری سمجھا کہ ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ کے نام سے جو نسخہ شائع ہوا تھا ، اُس کا ان نئی معلومات کی روشنی میں دقت ِنظر سے جائزہ لے کر اس کو نئی ترتیب دی جائے ۔
میرے لئے اپنی گوناگوں مصروفیات کی وجہ سے بذات خود یہ کام کرنا مشکل تھا ۔ اس لئے شروع میں میں نے اپنے ایک ہونہار اور نوجوان ساتھی مولانا جنید عالم صاحب کو جو دارالعلوم کے تخصص فی الدعوۃ والارشاد سے فارغ التحصیل تھے، کتاب کی تصحیح کا کام سونپا۔انہوں نے ماشاء اللہ بڑے سلیقے سے اردو ترجمے پر نظر ثانی شروع کی،اور تمام دستیاب عربی نسخوں اور جدید معلومات کی روشنی میں اردو ترجمے کا جائزہ لیا،اور جابجا مجھ سے مشورے بھی کرتے رہے ،لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ابھی ان کا کام درمیان میں تھا کہ اچانک وہ ایک ٹریفک کے حادثے میں شہید ہوگئے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین انعامات سے نواز کر ان کی خدمات کو قبول فرمائیں۔آمین
ان کی شہادت کی وجہ سے یہ کام ایک مرتبہ پھر التوا میں پڑگیا۔ بالآخر ہمارے درجہ تخصص فی الدعوۃ کے ایک اور فارغ التحصیل ساتھی مولانا محمدطاہر مسعود صاحب سلمہ مجھے اس کام کے لیے موزوں نظر آئے ، کیونکہ انہوں نے تخصص کی تعلیم کے دوران اظہارالحق کی تلخیص کی تھی جو بعض رسائل میں شائع بھی ہوئی، اور اس طرح انہیں عیسائیت کے موضوع اور اظہارالحق سے مناسبت معلوم ہوتی تھی ۔چنانچہ میں نے یہ کام ان کے سپرد کیا ، اور اس مرتبہ انہیں یہ بھی تاکید کی کہ تصحیح وتنقیح کے علاوہ زاہد صاحب کی مرتب کردہ فائل کے حوالے متعلقہ جگہوں پر لگا کر مجھے دکھائیں ،تاکہ میں اظہارالحق میں منقول عبارتوں سے ان کا مقابلہ کر سکوں اللہ تعالیٰ عزیز موصوف کی عمر اور علم و عمل میں برکت اور ترقی عطا فرمائیں ،انہوں نے بفضلہ تعالیٰ یہ کام بڑی تندہی ،عرق ریزی، خوش ذوقی اور سلیقے کے ساتھ کیا ،اول تواصل عربی نسخوں سے مقابلہ کرکے اردوترجمے کی بڑی دقت نظرکے ساتھ تصحیح کی،اورجہاں ضرورت محسوس ہوئی وضاحتی حاشیے بھی لکھے جن کے آخر میں ان کا نام درج ہے۔اس کے علاوہ جو انگریزی حوالے زاہد صاحب کے ذریعے جمع ہوئے تھے، انہیں متعلقہ مقامات پر چسپاں کرکے روزانہ مجھے دکھاتے رہے ۔اس کے علاوہ اس دوران اظہارالحق کے بہت سے مآخذ انٹر منیٹ پر بھی دستیاب ہو گئے تھے ،اور ان میں وہ کتابیں بھی تھیں جو زاہد صاحب کو برٹش لائبریری میں نہیں مل سکی تھیں ۔ چنانچہ یہ نئے حوالے بھی انہوں نے جمع کر لیے ۔ انٹرنیٹ سے ان کتابوں کی تلاش میں میرے معاونِ خصوصی مولانا شاکر جکھورا صاحب سلمہ نے بھی ان کی مدد کی۔ اس طرح الحمدللہ، اظہارالحق میں منقول اکثر عبارتیں اپنی اصل صورت میں دستیاب ہوگئیں ۔اس کے نتیجے میں بہت سے ناموں کی اصل حقیقت بھی واضح ہو گئی ، اور ان کا تعارف کرانا بھی آسان ہو گیا۔چنانچہ میں نے نہ صرف یہ کہ ان کے اصل نام رومن رسم الخط میں ساتھ ساتھ لکھ دئیے، بلکہ ان میں سے اہم ناموں کے تعارف پربھی نئے حاشیوں کا اضافہ کردیا۔اور متعدد مقامات پر مزید وضاحتی نوٹ بھی بڑھا دئیے۔نیز ان عبارتوں کے سامنے آنے کی وجہ سے بعض جگہ اردو ترجمے میں کچھ جزوی ترمیمات کی بھی ضرورت محسوس ہوئی ،اگرچہ حضرت مولانا اکبر علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے اظہارالحق کا اردو ترجمہ کیا تھا ،اب موجود نہیں تھے کہ ان کے ترجمے میں تصرف کی اُن سے اجازت لی جائے ، لیکن انہوں نے مجھے اپنی حیات میں اس قسم کی ترمیم کی اجازت دے رکھی تھی، اس لیے اس اجازت سے فائدہ اٹھا تے ہوئے میں نے جہاں نہایت ضروری سمجھا ، یہ ترمیمات کرلیں۔
اصل عبارتوں کا اظہارالحق میں مذکور عبارتوں سے موازنہ کرنے پر یہ بات سامنے آئی کہ حضرت مولانا کیرانوی صاحب قدس سرہ نے ہر جگہ اصل انگریزی عبارت کا مکمل عربی ترجمہ دینے کے بجائے بہت سے مقامات پر لمبی لمبی عبارتوں کی تلخیص کرکے انہیں نقل فرمایا ہے ، لہٰذا ایسے مقامات پر اگر کوئی شخص ان کی نقل کردہ عبارت کا اصل سے موازنہ کرے تو وہ شبہے میں پڑسکتا ہے۔ لیکن ہرجگہ میں نے اچھی طرح جائزہ لے کر یہ اطمینان کرلیا ہے کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے جو تلخیص فرمائی ہے ،اُس سے عبارت کے اصل مفہوم میں کوئی معمولی تبدیلی بھی واقع نہیں ہوئی،بلکہ عبارت کا بنیادی مفہوم وہی ہے جو حضرت مولاناؒنے نقل فرمایا ہے ۔
چونکہ یہ حوالے بڑی محنت سے حاصل ہوئے تھے، اور اس موضوع پر کام کرنے والے محققین کے لیے وہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ،اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ ان کو بالکل محفوظ کرلیا جائے ۔ چنانچہ کتاب کے آخر میں ایک ضمیمے کے طورپر ان سارے حوالوں کو نمبر ڈال کر اصل انگریزی عبارت میں یکجا جمع کرد یا گیا ہے ،اور کتاب میں جہاں کہیں کوئی حوالہ آیا ہے، اُس جگہ پر ضمیمے کا حوالہ نمبر حاشیے پر درج کردیا گیا ہے ،تاکہ اگر کوئی اصل عبارت دیکھنا چاہے تو وہ ضمیمے میں اُس حوالہ نمبر پر اصل عبارت نکال کر دیکھ سکے۔
جوتبدیلیاں کتاب میں کی گئیں ،ان کو ٹھیک ٹھیک جگہوں پر بٹھانا عام کمپوزروں کے بس کی بات نہیں تھی اس لئے ایڈیٹنگ کا کام بھی مولانا محمدطاہر مسعود صاحب سلمہ نے خود انجام دیا۔فجزاہ اللہ تعالیٰ احسن الجزاء
خلاصہ یہ ہے کہ اس نئے اڈیشن میں مولانا محمدطاہر مسعود صاحب کی مدد سے جو کام ہوئے ہیں ،ان کی تفصیل خود ان ہی کے قلم سے درج ذیل ہے :

’’اللہ تعالیٰ کابے انتہا فضل وکرم اوراحسان ہوا اس ناچیزپرکہ رب کریم نے مجھ ناتواں بندے کو اس عظیم کتاب کی کچھ خدمت کی توفیق بخشی۔اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اورمیرے محسن ومربی حضرت مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم وعمت فیوضہم ومدظلہم کی دعاؤں اورتوجہاتِ مسلسلہ کی برکت سے اس جدید اڈیشن میں متن سے متعلق مندرجہ ذیل کام ہوئے:
۱۔پوری کتاب پرنظرثانی کرکے اغلاط کی حتی الامکان تصحیح کی گئی ۔
۲۔اظہارالحق کے قدیم نسخوں کا جدید عربی نسخہ (جو الدکتورمحمد احمد عبدالقادر خلیل ملکاوی کی تحقیق سے شائع ہواہے)کے ساتھ مقابلہ کرکے جہاں ضروری ہوافرق واضح کیاگیا۔
۳۔جدید نسخے میں مخطوطے کے حوالے سے نقل کی گئی ایسی عبارات جو قدیم نسخوں میں شامل نہیں ہو سکی تھیں ان کاترجمہ شامل کیاگیا۔اورایسے مقامات پرمربع قوسین ([])لگاکر حاشیہ میں اس کی وضاحت کر د ی گئی۔
۴۔جدیدنسخے کے اعتبارسے ترجمہ میں جہاں فرق تھا،حضرت والامدظلہم کے مشورے سے درستگی کی گئی۔
۵۔ابواب وفصول کی ترتیب جدیدنسخہ کے مطابق کردی گئی،کیونکہ وہ مخطوطہ کے مطابق ہے۔
۶۔آیاتِ قرآنیہ پراعراب لگادیاگیا۔
۷۔کتاب میں مذکور آیاتِ قرآنیہ کاترجمہ حضرت والادامت برکاتہم کے ترجمۂ قرآن ’’آسان ترجمہ قرآن ‘‘سے نقل کیاگیا۔
۸۔جہاں آیاتِ قرآنیہ کا حوالہ(سورت کانام اورآیت نمبر) درج نہیں ہو سکا تھا وہ درج کردیا گیا ۔
۹۔کتاب میں مذکوربائبل کی عبارات کی بھی مراجعت کی گئی ۔اوران عبارات کے رموزِ اوقاف بھی حتی الامکان بائبل کے مطابق کردیے گئے۔
۱۰۔کتاب میں جہاں کہیں بائبل کی کسی عبارت کاباب نمبریاآیت نمبرمذکورنہیں تھا، ذکرکردیاگیا۔
۱۱۔قدیم ایڈیشن میںکئی مقامات پربائبل کی عبارت ذکرکرنے کے بجائے صرف باب اورآیت نمبرلکھاہو ا تھا، جس کی وجہ سے قاری کے لیے بعض اوقات مطلب سمجھنے میں دشواری ہوتی تھی ،ایسے مقامات پرحتی الامکان بائبل کی اصل عبارات نقل کردی گئی ہیں۔تاکہ قاری کوبات سمجھنے میں آسانی ہو۔
۱۲۔کتاب میں پائے جانے والی عیسائی کتب کے حوالہ جات کی زاہد عطاء اللہ صاحب کی جمع کردہ اورانٹرنیٹ سے حاصل کردہ اصل انگریزی عبارات سے مراجعت کی گئی اوراردوترجمہ میں حسبِ ضرورت انگریزی عبارات کے مطابق ترمیم کی گئی ،اوریہ کام حاشیہ کے بجائے متن میں ہی کیاگیا، کیونکہ ترمیمی الفاظ حاشیہ میں نقل کرنے سے باربار حاشیہ کی طرف مراجعت سے مطلب سمجھنا مشکل ہوجاتا۔
اگرچہ متن میں مذکورعیسائی کتب کے حوالہ جات میں دستیاب انگریزی کتب کے مطابق مناسب ترمیم کی گئی ہے لیکن متن میں ہونے والی اس ترمیم کے بارے میں یہ بات ملحوظ رہنانہایت ضروری ہے کہ تمام انگریزی کتب کے ہمیں وہ ایڈیشن دستیاب نہیں ہوسکے جومصنفؒ کے سامنے تھے اسی وجہ سے عبارات میں کچھ فرق سامنے آیا۔چنانچہ کئی مقامات پر مصنفؒ کی ذکر کردہ عبارات بعینہٖ نہ مل سکیں، اس بات کی طرف مقدمہ کی تیسری بات میں متنبہ کیاگیاہے قارئین اس کوضرورملاحظہ فرمائیں۔( ص۲۲۴جلدہذا)
۱۳۔انگریزی داں طبقہ کی سہولت کے لیے اکثر حوالہ جات کی اصل انگریزی عبارات کتاب کے آخر میں ایک ضمیمہ کااضافہ کرکے اس میں باحوالہ نقل کردی گئی ہیں۔
۱۴۔’’بائبل سے قرآن تک ‘‘کی ہر جلد میں مذکور حوالہ جات کو ایک مسلسل نمبردے کروہی نمبر انگریزی عبارت کودیاگیاہے اور حاشیہ میں اس نمبرکااس طرح حوالہ دے دیا گیا(انگریزی عبارت کے لیے دیکھیے ضمیمہ حوالہ نمبر)ہے۔
۱۵۔اظہارالحق میں مذکورکتب اوردیگرافراد کے نام مصنفؒ نے دستیاب کتب کے مطابق لکھے تھے جیساکہ مصنفؒ نے اظہارالحق کے مقدمہ کی آٹھویں بات میں لکھاہے:
’’…ناموں کی گڑبڑدوسرے حالات سے بھی زیادہ بڑھی ہوئی ہے…لہذااگرکوئی کسی نام کو دوسری زبان میں مشہورنام کے مخالف پائیں تواس سلسلہ میں میری عیب جوئی نہ فرمائیں۔‘‘
مگرچونکہ ان ناموںکی تعریب ہوئی تھی اس لیے بائبل سے قرآن تک کے قدیم ایڈیشن میں حتی المقدورکوشش سے ان کا تلفظ لکھاگیاتھالیکن اکثر مقامات پران کاسمجھنا بہرحال مشکل تھا۔اب موجودہ ایڈیشن میں اکثرناموں کے آگے ان کے انگریزی ہجے (Spelling) درج کرنے کے ساتھ ساتھ اسی کے مطابق ان کااردوتلفظ بھی لکھ دیاگیا۔
۱۶۔سابقہ ایڈیشن چھوٹے سائز پر تھا۔جب اس سائز میں سیٹنگ کی گئی توصفحات بہت زیادہ ہو رہے تھے توحضرت والادامت برکاتہم کے مشورے سے کتاب کوبڑے سائز میں منتقل کیاگیا۔
حواشی سے متعلق یہ کام ہوئے :
۱۔کتاب کے سابقہ ایڈیشن کی جلداو ل میں تقریبا۹۰۰کے قریب حواشی تھے ۔جوجدید ایڈیشن میں بڑھ کر تقریبا ۱۳۴۰ہوگئے۔یوںتقریبا صرف ایک جلدمیں ۴۴۰حواشی کااضافہ ہوا۔جن میں بہت سے تشریحی اورتعارفی حواشی توخودحضرت والانے تحریرفرمائے اورکئی ایک مقام پربندہ نے وضاحتی اورتعارفی نوٹ لکھے ۔ان کان صوابا فمن اللہ وان کان خطأ فاستغفراللہ واتوب الیہ۔
۲۔اردوترجمہ کی پہلی اشاعت کے بعد ڈاکٹرحمیداللہ مرحوم نے اظہارالحق کے فرانسیسی ترجمہ کے ساتھ اس کا موازنہ کیااورفرانسیسی مترجم کے کئی مفید حواشی اپنی اضافی معلومات کے ساتھ ترجمہ کرکے ارسال فرمائے تھے ،سابقہ ایڈیشنوں میں یہ حواشی ضمیمہ کے طورپرشائع ہوتے رہے تھے، اب ان( سوائے چندایک حواشی کے جوحوالہ جا ت سے متعلق تھے اوراصل کتابیں دستیاب ہونے کے بعد ان کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی )کو متعلقہ صفحات پر منتقل کردیاگیاہے۔
۳۔اظہارالحق کی اشاعت کے بعد حضرت مصنف ؒ نے اس پر مختلف حواشی تحریرکیے تھے ان میں سے منتخب حواشی عربی نسخے سے کتاب میںنقل کیے گئے۔نیزعربی محقق کے تحریرکردہ حواشی سے بھی استفادہ کیا گیا۔
۴۔ایسے حواشی جن کی افادیت محسوس نہیں ہوتی تھی حضرت والادامت برکاتہم کے مشورے سے ان کو حذف کردیاگیا۔
حواشی میںاس حذف و ترمیم اورنئے سائز کی وجہ سے کتاب کی سیٹنگ کئی بارکرنی پڑی،کیونکہ جب بھی کسی ایک مقام پر بھی کسی حاشیہ کااضافہ ہوتایا کمی ہوتی توپوری فائل کی سیٹنگ متاثرہوجاتی ،نتیجۃ پھر نئے سر ے سے پوری فائل کی سیٹنگ کرنی پڑتی۔ کتاب کی اشاعت میںتاخیر کی ایک وجہ اس کی باربارکی سیٹنگ بھی بنی۔
۵۔بائبل سے قرآن تک کی تینوںجلدوں کے حواشی میںبہت سی شخصیات،مقامات،اصطلاحات اورکتب کاتعارف کروایاگیاہے۔سابقہ ایڈیشن میںجلدسوم کے آخرمیںان کی فہرست دی گئی تھی۔ اس جدید ایڈیشن میںقارئین کی سہولت کے لیے ہرجلدکے حواشی کی فہرست اسی جلدمیںمرتب کردی گئی ہے ۔ یہ فہرست حروف تہجی کے بجائے صفحہ نمبرکے اعتبارسے ہے۔البتہ ہرموضوع کانمبرشمارالگ کردیاگیاہے تاکہ اس موضوع کے مندرجات کی تعداد معلوم ہوجائے۔
۶۔سابقہ ایڈیشن میں کتاب میں مذکوربہت سی شخصیات کاتعارف کرایاگیاتھالیکن پھربھی کئی شخصیات کا تعارف نہیں ہوسکاتھا۔اب تقریبا۲درجن کے قریب شخصیات کا تعارف wikkipedia اوردیگرکتب سے اخذ کرکے شامل کیاجارہاہے۔وللہ الحمد۔
اللہ تعالیٰ اس کاوش کواس عاجز اوراس کے والدین ،بہن بھائیوں اوراہل وعیال کے لیے دنیامیں حفاظتِ ایمان واستقامت علی الاسلام کے ساتھ ساتھ خدمتِ دین کی توفیق ملتے رہنے کاذریعہ اورذ خیرہ آخرت بنائے ۔اورجن ساتھیوں نے بھی اس کام میںبندہ کے ساتھ جس طرح بھی تعاو ن فرمایا،اس کام کی تکمیل کے لیے دعائیں کی اوروہ تمام قارئین جنھوں نے اس جدید طباعت کے سلسلہ میںایک طویل عرصہ تک انتظارکیاسب کواپنی شایان شان جزائے خیرعطافرمائے۔ آمین(محمد طاہرمسعودعطاء)‘‘

اس طرح نصف صدی سے زائدعرصہ کے بعد ’ ’بائبل سے قرآن تک‘‘ کا یہ جدید اڈیشن الحمدللہ بہت سے نئے افادات کے ساتھ زیادہ مستند، مفید اور زیادہ تحقیقی بن کرشائع ہورہا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبول عطا فرمائیں، اور اُسے زیادہ سے زیادہ نافع بنائیں ۔آمین ثم آمین
محمد تقی عثمانی
جامعہ دارالعلوم کراچی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب حاصل کرنے کے لیے اس واٹس ایپ نمبر پر رابطہ فرمائیں

0319 6588892

Address

Jamia Darululoom Karachi
Karachi
75180

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923196588892

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maktaba Darululoom Karachi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Maktaba Darululoom Karachi:

Shortcuts

Share

Category