09/10/2025
*محمدعلی نقوی مرحوم میرا مخلص دوست ،جس کی پہلی برسی کل منائی جارہی ہے*
*محمدعلی نقوی مرحوم کو دنیا سے رخصت ہوئے کل ایک برس بیت جائے گا میری اس سے آخری بات چیت انتقال سے چار دن قبل ہوئی تھی جو کہ دو گھنٹے پر مشتمل تھی جب کہ انتقال سے ایک دن قبل میں نے ایک میسج اداکار مظہر علی کے انتقال کی اطلاع دینے کیلئے کیا جس کے جواب میں نقوی میں لکھا کہ جملہ " اللہ کی رضا" فقط تین الفاظ کا یہ اس کا مجھے کیا گیا آخری جملہ تھا کیونکہ اسی روز اس کی طبعیت پھر سے بہت زیادہ خراب ہوئی تھی اس قبل وہ کسی مووی کی عکسبندی میں مصروف تھا جہاں اس کی طبعیت اچانک خراب ہوئی تھی اور وہ اسپتال میں داخل بھی رہا تھا اور طبعیت بہتر ہونے کے بعد گھر آگیا تھا مگر 8 اکتوبر کو دوبارہ طبعیت خراب ہوئی اور بیٹا نادر علی نقوی اسپتال لے کر بھی گیا مگر فرشتے تیار کھڑے تھے اس کی روح کو قبض کرنے کے لیے رات گئے نقوی کے انتقال کی خبر مجھے بھی ملی جب نادر کے روتی ہوئی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی تب مجھے اندازہ ہوگیا کہ میرا مخلص دوست اب دنیا میں نہیں رہا چار روز قبل جس سے دو گھنٹے طویل گفتگو ہوئی تھی وہ آواز اب ہمیشہ کیلئے خاموش ہو چکی ہے 35 سالہ رفافت اچانک سے ختم ہو گئی تب مجھے شدید سے احساس ہوا کہ نقوی نے اس دن مجھے سے اتنی طویل گفتگو کیوں کی تھی کیونکہ اسے چار دن بعد اس جہان فانی سے رخصت ہونا تھا نقوی نے اپنے بچپن سے لے کر جوانی تک کی داستان اس دو گھنٹے کی گفتگو میں بیان کردی تھی بہاولپور کے اسکول ٹیچر سے نقوی نے اپنی گفتگو شروع کی آرٹس کونسل پر اختتام کی اس دو گھنٹے کی بات چیت میں مجھے کم و بیش آدھا گھنٹہ ملا باقی کا وقت نقوی نے لیا نقوی نے اپنی صحافتی اور شوبز لائف کے حالات و واقعات بیان کیے جو وہ 35 سالہ دوستی میں کبھی بیان نہ کرسکا ہم نے مستقبل کی کچھ پلاننگ مرتب کی محمد علی نقوی کو میں نے اپنی کچھ شارٹ موویز اور ڈرامے کے اسکرپٹ کا ذکر کیا جو اسے بہت پسند آیا اور اس نے بطور ڈائریکٹر ان پروجیکٹس کو کرنے کی حامی بھری میرا نقوی کا ساتھ کم و بیش 35 سال پرانا تھا بطور ایکٹر محمدعلی نقوی کو عمرشریف کے ڈرامے میں دیکھ چکا تھا اس کے بعد وہ بطور صحافی منظر عام پر آیا بہاولپور اور کراچی کے مختلف اخبارات میں کام کیا اور اس شعبے میں بھی اپنی صلاحیتوں کو منوایا ایک طرف وہ بہت اچھا ایکٹر تھا پھر بعد وہ رائٹر اور ڈائریکٹر کے روپ میں نظر آیا دوسری جانب اس نے اپنی صحافت کا سلسلہ جاری رکھا بہاولپور سے کراچی کا سفر انتہائی دشوار رہا کراچی ایک عرصہ رہائش پذیر رہا بعد میں وہ پھر بہاولپور چلا گیا مگر وہاں زیادہ عرصہ نہیں رہا واپس کراچی چلا آیا میں ذاتی طور اس کی اداکاری' ہدایتکاری کا مداح تھا میرا اکثر اس کو کہنا ہوتا تھا کہ یار تو اداکاری ہدایتکاری کر یا پھر صحافت کر دو کشتیوں میں سوار مت ہو پھر جب وہ ایوننگ سے امت میں گیا وہاں تو پھر اس کا رجحان اداکاری کی طرف کم ہوگیا امت میں کام کرتے کرتے اچانک ایک روز آرٹس کونسل میں ملاقات ہوئی تب پتہ کہ نقوی نے امت اخبار چھوڑ دیا ہے اور واپس شوبز کی دنیا میں آنے کا سوچ رہا ہے پھر کہا چل زاہد نہاری کھانی ہے اور وہاں پر ہی بات ہوگی میری اور نقوی کی پسندیدہ ذش نہاری ہی رہی جب فون پر بات ہوتی وہ نہاری سے بات شروع کرتا کہ آج شام کو مل جاؤ نہاری پکی ہے جب نقوی کو شوگر اور بلڈ پریشر کا مرض لاحق ہوا تب بھی وہ اصرار کرتا کہ نہاری کھانی ہے تب میں نہاری کھانے سے اس کو پرہیز کرنے کا کہتا خیر نہاری کھانے پہنچے تب میں نے نقوی سے کہا کہ پھر اچھی طرح سوچ سمجھ لو ایسا نہ ہو کہ پھر شوبز سے دل برداشتہ ہوکر واپس صحافت کی جانب جانا پڑے اور بڑے اخبارات کی نوکری ایک بار چھوڑنے کے بعد دوبارہ مشکل سے ملتی ہے بہرحال اس نے حتمی فیصلہ کیا کہ وہ اب مکمل طور پر شوبز کرے گا پھر اس نے ٹیلی موویز کا سلسلہ شروع کیا بے شمار سرائیکی اور پنجابی فلمیں بنائی پھر ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار ڈرامے پیش کیے میں ذاتی طور پر نقوی کے کام کا مداح رہا مجھے اس کی تحریر، ہدایتکاری اور اداکاری ہمیشہ دوسروں سے مختلف لگتی تھیں 9 اکتوبر 2024 کی دوپہر نقوی کا جنازہ میرے سامنے تھا چار دن قبل کی گئی بات چیت کا ہر اک لفظ میرے دماغ میں گھوم رہا تھا میرے اسکرپٹس پر کام کرنا کا وعدہ پورا نہ ہوسکا کیونکہ اس کی زندگی نے ہی وفا نہ کی تو وعدہ کیسے پورا ہوتا لیاقت آباد سی ایریا قبرستان اس کی آخری آرام گاہ ثابت ہوئی آج مجھے نقوی کے صاحب زادے نادر علی نقوی کا پہلی برسی کے حوالے سے میسج آیا تو ایک سال پہلے کا سارا منظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا نادر بہت چھوٹا ہوا کرتا تھا جب کبھی نقوی اس کو لے کر آرٹس کونسل آیا کرتا تھا آج ماشاءﷲ نارد جوانی کی دہلیز پر عبور کرچکا ہے بہت سمجھ دار لڑکا ہے والد کے انتقال کے بعد اپنی بہن اور ماں کا سہارا بن چکا ہے اپنی ذمے داریاں احسن طریقے سے ادا کررہا ہے شوبز میں اپنے والد سے سیکھا ہوا کام اب نادر کے کام آرہا ہے ایک سال سے وہ بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر بہت اچھا کام سر انجام دے رہا ہے اور مجھے اس میں محمدعلی نقوی کے کام کی جھلک بھی نظر آتی ہے میری دعائیں اور سپورٹ نادر علی نقوی کے ساتھ رہیں گئیں مستقبل میں وہ بطور رائٹر اور ڈائریکٹر تھیٹر کی دنیا میں اپنا نام روشن کرے گا*
دعاگو
*وسیم علی خان*
Every Thing Purchase In One Store