Haunted reels 1

Haunted reels 1 we are dealing in all kind of home and kitchen decore and accosories and also in colour cosmetics ,purse clothes we love to win our costumer confidence

** امی کی چادر**رات کے بارہ بج رہے تھے…بیٹی نے غصے سے کہا،“امی! آپ میری زندگی میں ہر وقت کیوں بولتی ہیں؟ مجھے اپنی زندگی...
31/10/2025

** امی کی چادر**

رات کے بارہ بج رہے تھے…
بیٹی نے غصے سے کہا،
“امی! آپ میری زندگی میں ہر وقت کیوں بولتی ہیں؟ مجھے اپنی زندگی جینے دیں!”

امی خاموش ہو گئیں، صرف مسکرا کر بولیں،
“اچھا بیٹا، اب نہیں بولوں گی…”

اگلی صبح بیٹی کی آنکھ امی کی خالی چارپائی پر کھلی۔
امی واقعی نہیں بولی تھیں — ہمیشہ کے لیے چلی گئی تھیں۔
کمرے میں وہی چادر رکھی تھی جس سے امی ہر رات بیٹی کو اوڑھاتی تھیں…
آج وہ چادر بیٹی نے خود اوڑھ لی،
مگر اس میں اب محبت کی خوشبو نہیں تھی، صرف پچھتاوا تھا۔ 💔

---

🕊️ Moral
: کبھی بھی اپنی ماں سے تلخ لہجے میں بات نہ کرو،
کیونکہ جب وہ چلی جاتی ہے، تو دل میں صرف “کاش” رہ جاتا ہے۔

بارش ہلکی ہلکی ہو رہی تھی۔ گلی کے کونے پر وہی پرانی چائے کی دکان تھی جہاں احمد اور زارا روز ملا کرتے تھے۔ آج احمد کے ہات...
29/10/2025

بارش ہلکی ہلکی ہو رہی تھی۔ گلی کے کونے پر وہی پرانی چائے کی دکان تھی جہاں احمد اور زارا روز ملا کرتے تھے۔ آج احمد کے ہاتھ میں ایک خط تھا، پر زارا کے چہرے پر وہی خاموشی چھائی ہوئی تھی جو کئی دنوں سے تھی۔

احمد نے دھیرے سے کہا،
“زارا، تم بدل گئی ہو… پہلے تم ہنستی تھیں، مجھ سے باتیں کرتی تھیں، اب تمہیں چپ کیوں لگ گئی ہے؟”

زارا نے نظریں جھکائیں، چائے کے کپ سے اٹھتا دھواں اس کی آنکھوں میں اتر گیا۔ ایک آنسو چپکے سے بہہ نکلا۔
“احمد، کبھی کبھی زندگی ہمیں وہاں لے آتی ہے جہاں دل کی نہیں، حقیقت کی سننی پڑتی ہے…”

احمد کچھ کہنے ہی والا تھا کہ زارا نے وہ خط اس کے ہاتھ سے لے لیا۔
“یہ تم رکھ لو، شاید کبھی تمہیں سمجھ آ جائے کہ میں کیوں جا رہی ہوں۔”

بارش تیز ہو گئی۔ زارا اٹھی، آہستہ آہستہ چلتی ہوئی دھند میں گم ہو گئی۔ احمد دیر تک وہیں بیٹھا رہا، ہاتھ میں خط، آنکھوں میں خالی پن۔

جب ہمت کر کے اس نے خط کھولا تو لکھا تھا:
“احمد، میرا سرطان آخری مرحلے میں ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ میری کمزوری تمہارے خواب توڑ دے۔ تم جیو، ہنسو، اور کبھی یہ مت سوچنا کہ میں تم سے پیار نہیں کرتی تھی۔”

چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی… مگر احمد کے دل میں جلتی ہوئی یادیں ابھی تک گرم تھیں۔

18/10/2025

17/10/2025

Dog scatter

15/10/2025

رات کے دو بج رہے تھے۔ سارہ اکیلی بیٹھی لیپ ٹاپ پر کام کر رہی تھی۔ باہر تیز بارش ہو رہی تھی اور کمرے میں بس ٹیوب لائٹ کی مدھم سی روشنی تھی۔
اچانک فون بجنے لگا — نمبر Unknown تھا۔

سارہ نے پہلے نظرانداز کیا، مگر فون مسلسل بجتا رہا۔ تنگ آ کر اس نے اٹھا لیا۔
دوسری طرف سانس لینے کی آواز آئی… بہت بھاری، جیسے کوئی فون کے بہت قریب ہو۔

سارہ نے کہا:
“کون؟”

جواب میں بس ایک جملہ آیا:
“تمہاری کھڑکی کے پیچھے دیکھو…”

سارہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ آہستہ آہستہ اس نے سر موڑا۔
کھڑکی کے شیشے پر بارش کی بوندوں کے بیچ ایک پرچھائیں تھی — بالکل انسانی، مگر چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا۔

سارہ چیخنے ہی والی تھی کہ وہ پرچھائیں غائب ہو گئی۔
اس نے فوراً دروازے کی طرف دوڑ لگائی — لیکن دروازہ اندر سے بند تھا۔

اسی لمحے فون پھر بجا۔
سارہ نے کانپتے ہاتھوں سے اٹھایا۔
دوسری طرف سے وہی بھاری آواز آئی:
“میں اندر آ چکا ہوں…”

فون زمین پر گرا، اور اگلی صبح پولیس کو صرف سارہ کا فون ملا —
اس کے آخری کال لاگ میں “Unknown (00:00 AM)” لکھا تھا۔
وقت وہی، جب بارش بند ہوئی تھی۔

---

کیا تم چاہتے ہو میں اسی اسٹائل میں

🩸 ایک “جن” پر مبنی کہانی لکھوں؟

یا 👻 “چھوڑا ہوا اسپتال” والی؟

یا 🕯️ “گھر میں چھپا راز” والی؟

بتاؤ کون سی تھیم چاہیئے تاکہ میں اگلی خوفناک کہانی اس پر بنا دوں۔

15/10/2025

Amazing trck

15/10/2025

Focus on work

11/10/2025

10/10/2025

Amazing kid

10/10/2025

💔 صرف 15 دن کی دلہن... ہمیشہ کے لیے رخصت 💔

یہ خبر ہر اُس شخص کے لیے قیامت سے کم نہیں جس کے گھر بیٹیاں ہیں۔
**حافظِ قرآن رُخصار**، گوجرانوالہ کی رہائشی، صرف 15 دن پہلے اپنی زندگی کے نئے سفر پر نکلی تھی — شادی ہوئی تھی الطاف نامی شخص سے۔

آٹھ مہینے تک رشتہ چلتا رہا۔ اس دوران رخصار کے والدین ہر موقع پر داماد اور سسرال کا خیال رکھتے رہے — تہوار ہو یا کوئی خاص دن، کپڑے، کھانے پینے کی اشیاء، تحفے — سب کچھ دیا کہ کہیں بیٹی کے سسرال والے ناراض نہ ہوں۔
بیٹی کا گھر بس جائے، یہی سوچ کر وہ کبھی خالی ہاتھ نہ گئے۔

لیکن چند روز پہلے ایک دل دہلا دینے والی خبر ملی — رخصار کے شوہر الطاف کی کال آئی کہ "رخصار کی طبیعت خراب ہے، فوراً ہسپتال پہنچیں۔"
بھائی جب ہسپتال پہنچا تو سچ جان کر زمین ہل گئی — **رخصار نے تیزاب پیا تھا۔**

ابتدا میں شوہر سچ چھپاتا رہا، مگر جب رخصار کو ہوش آیا، جلتی ہوئی زبان سے وہ بول نہ سکی۔
اس نے کاغذ پر لرزتے ہاتھوں سے لکھا:

> "مجھے تیزاب ساس، نند اور شوہر نے پلایا ہے۔"

وجہ صرف اتنی سی تھی کہ **"تم دو دن بعد گھر واپس آئی ہو"
اور
"تمہارے گھر والوں نے شادی پر میرے خاندان کو کپڑے کیوں نہیں دیے۔"** 💔

یہ سن کر سوچئے…
بیٹیوں کے والدین اس معاشرے پر اب کیسے بھروسہ کریں؟
وہ اپنی بیٹیوں کی شادی کرتے وقت کیسے مطمئن رہیں؟
ہم کہاں جا رہے ہیں — یہ سوچ کر روح کانپ جاتی ہے۔

بدقسمت رخصار زخموں کی تاب نہ لا سکی اور دنیا سے چلی گئی۔
پولیس نے شوہر کو گرفتار کر لیا ہے، مگر سوال یہ ہے:
👉 ایسی درندگی کی کیا سزا ہونی چاہیے؟

✍️ تحریر: **حارث بھٹی**
💔

Address

Karachi

Telephone

+923182762195

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Haunted reels 1 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share