Jodia bazar wholesale

Jodia bazar wholesale Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jodia bazar wholesale, Jodia bazar, Karachi.

20/04/2026

یزید پلید لعنتی کی موت کی بعد امت نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللّہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی انہوں نے مکہ میں اپنی حکومت قائم کی جو کچھ عرصہ بعد ہر جگہ قائم ہو گئی۔۔۔۔
اموی بادشاہ مروان۔۔۔۔
مروان نے دمشق کے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور اس کے بیٹے عبد الملک نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت کو ختم کر ڈالنے کا قصد کیا ،، اموی افواج حجاج بن یوسف کی سربراہی میں مکہ پہنچی اور مکہ کا محاصرہ کرلیا حجاج بن یوسف نہایت ظالم و سفاک تھا اس نے مکہ کے محاصرہ میں تمام اخلاقی و مذہبی حدود کو پامال کرتے ہوئے خانہ کعبہ پر پتھراؤ سے بھی گریز نہ کیا اس کی حد سے بڑھی ہوئی سفاکی اور طویل محاصرہ مکہ سے اہل مکہ کے حوصلے جواب دے گئے اور وہ ابن زبیر کا ساتھ چھوڑنے لگے ،،

عبد اللہ بن زبیر کی شہادت
یہ محاصرہ تقریباً 7 ماہ جاری رہا۔ دونوں افواج نے حج کے دوران میں طواف وغیرہ کے لیے جنگ روک دی۔ حج کے اختتام پر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو حجاج نے شہر مکہ پر سنگباری کا حکم دیا جس سے شہر کا اکثر حصہ منہدم ہو گیا۔ جب مقابلہ جاری رکھنے کی کوئی صورت باقی نہ رہی تو آپ رضی اللّہ عنہ مشورہ کی غرض سے اپنی والدہ حضرت اسماء رضی اللّہ عنہا کے پاس گئے اور عرض کیا کہ

’’اب جب کہ میرے بیٹے بھی میرا ساتھ چھوڑ گئے ہیں اور جو چند باقی رہ گئے ان میں بھی لڑنے کی تاب نہیں ہے۔ ہمارا دشمن ہمارے ساتھ کوئی رعایت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایسی حالت میں آپ کا کیا ارشاد ہے؟‘‘

حضرت اسماء رضی اللّہ عنہا جو حضرت صدیق اکبر صدیق رضی اللّہ عنہ کی بیٹی تھیں نے جواب دیا

’’بیٹا تم کو اپنی حالت کا اندازہ خود ہوگا۔ اگر تم حق پر ہو اور حق کے لیے لڑتے رہے ہو تو اب بھی اس کے لیے لڑو کیونکہ تمھارے بہت سے ساتھیوں نے اس کے لیے جان دی ہے اور اگر دنیا طلبی کے لیے لڑتے تھے تو تم سے برا کون خدا کا بندہ ہوگا۔ تم نے خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا اور اپنے ساتھ کتنوں کو ہلاک کیا۔ اگر یہ عذر ہے کہ حق پر ہو لیکن اپنے مددگاروں کی وجہ سے مجبور ہو تو یاد رکھو شریفوں اور دین داروں کا یہ شیوہ نہیں ہے۔ تم کو کب تک دنیا میں رہنا ہے۔ جاؤ حق پر جان دینا دنیا کی زندگی سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ ‘‘

یہ جواب سن کر ابن زبیر رضی ﷲ عنہ نے کہا ماں مجھے ڈر ہے کہ میرے قتل کے بعد بنو امیہ میری لاش کو مثلہ(میت کی بے ادبی) کرکے سولی پر لٹکائیں گے۔ اس خدا پرست خاتون نے جواب دیا۔ ’’ذبح ہو جانے کے بعد بکری کی کھال کھینچنے سے تکلیف نہیں ہوتی۔ جاؤ خدا سے مدد مانگ کر اپنا کام پورا کرو۔ ‘‘ ماں کے اس جواب سے ابن زبیر ایک نئے ولولہ اور جذبہ سے اٹھے۔ ماں کو آخری بار الوداع کہہ کر دشمنوں کی صفوں میں گھس گئے اور ان کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ لیکن بالآخر میدان جنگ میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ حجاج آپ کی لاش کو سولی پر لٹکا دیا۔ جو تین دن وہیں لٹکتی رہی آپ کی والدہ حضرت اسماء کا ادھر سے گذر ہوا تو دیکھ کر بولیں

’’شہسوار ابھی اپنی سواری سے نہیں اترا۔ ‘‘

حجاج بن یوسف اور اس کی فوج نے شہر فتح کرکے کعبے پر مجنیقوں سے پتھر برسائے اور پھر آگ لگادی۔ جس سے کعبہ کی دیواریں شق ہوگئیں اور حجر اسود کے تین ٹکڑے ہو گئے۔ لوگ کعبہ کی دیواروں کے ٹکرے اور حجر اسود کے ٹکرے اٹھا کر لے گئے جنھیں بعد میں منگوا کر کعبہ کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔۔۔۔

آئیں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی ﷲ عنہ کی فضیلت جانتے ہیں۔۔۔
3910 حضرت عائشہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا کہ

رض رض (ہجرت کے بعد) پہلا بچہ جو اسلام میں پیدا ہوا وہ عبداللہ بن زبیر ۔ ہیں ۔ وہ (ان کے گھر والے) انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لی اور اسے چبایا ۔ پھر آپ نے اسے اس (عبد اللہ ) کے منہ میں ڈالا ۔

ان کے پیٹ میں پہلی داخل ہونے والی چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا ۔
[صحيح بخاري، حديث3910:نمبر
ان کی فضیلت میں بے شمار اقوال و احادی
حضرت عبد اللہ بن زبیر گی فضیلت کے لئے یہی کافی ہے ۔

حضرت عبد اللہ بن زبیر اسد قریشی ہیں مدینہ میں مہاجرین میں یہ سب سے پہلے بچے ہیں ۔

جو 1ھ میں پیدا ہوئے خودان کے نانا جان حضرت ابو بکر صدیق نے ان کے کان میں اذان پڑھی ۔

یہ بالکل صاف چہرہ والے تھے ایک بھی بال منہ پر نہیں تھا نہ ڈاڑھی تھی۔

بڑے روزے رکھنے والے اور بہت نوافل پڑھنے والے تھے موٹے تازے بڑے قوی اور بارعب شخصیت کے مالک تھے ۔

حق بات ماننے والے صلہ رحمی کرنے والے اور بہت سی خوبیوں کے مالک تھے ۔

ان کی والدہ حضرت ابو بکر کی بیٹی تھیں ۔

ان کے نانا حضرت ابو بکر صدیق تھے ان کی دادی حضرت صفیہ رض

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں ان کی خالہ حضرت عائشہ

تھیں آٹھ سال کی عمر میں ان کو شرف بیعت حاصل ہوا۔

حجاج بن یوسف ظالم نے ان کو بڑی بے رحمی کے ساتھ مکہ میں قتل کیا۔
واللہ اعلم بالصواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لکھنے میں کوئی غلطی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے آمین ۔
اگر آپ نے پوری تحریر پڑھی ہے تو اس کو اپنے دوستوں تک پہنچادیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ علم حاصل کر سکیں اس فتنہ کے دور میں علم کی بات ہمارے ساتھ مل کے عام کریں۔شکریہ آپ سب کے لیے میری طرف سے بہت محبت بہت پیار۔۔۔۔💞💞💞💞💞💞💞

11/04/2026
06/04/2026

ایک وقت ایسا بھی تھا… جب سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں اور بسیں پٹرول یا ڈیزل سے نہیں بلکہ گیس کے بڑے بڑے تھیلوں کے سہارے چلتی تھیں۔

یہ منظر 1940 کے برطانیہ کا ہے، جب Second World War کے دوران ایندھن کی شدید قلت ہو گئی تھی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے گاڑیوں کے اوپر کپڑے یا ربڑ کے بڑے بیگز لگائے جاتے تھے، جن میں “پروڈیوسر گیس” یا “ٹاؤن گیس” بھری جاتی تھی۔ یہ گیس عام طور پر کوئلہ، لکڑی یا دیگر مواد کو جلا کر حاصل کی جاتی تھی۔

ان بیگز کو بھرنا بھی ایک الگ مرحلہ ہوتا تھا۔ مخصوص اسٹیشنز یا عارضی سیٹ اپس پر گاڑی کھڑی کی جاتی، پھر آہستہ آہستہ گیس بھری جاتی تاکہ بیگ پھٹے نہیں۔ سڑکوں پر چلتے ہوئے یہ بیگز ہوا کے دباؤ سے پھولے رہتے اور گاڑی کی شکل ہی بدل دیتے۔ دیکھنے والوں کے لیے یہ منظر عجیب بھی تھا اور خطرناک بھی۔

یہ بیگز جتنے بڑے تھے، ان کی کارکردگی اتنی ہی محدود تھی۔ ایک بار بھرنے کے بعد یہ صرف 15 سے 20 میل تک ہی ساتھ دیتے تھے، اس کے بعد دوبارہ بھرنا لازمی ہو جاتا تھا۔ رفتار بھی کم رہتی تھی، اور ذرا سی لاپرواہی حادثے کا سبب بن سکتی تھی۔ مگر اس وقت حالات ایسے تھے کہ یہی طریقہ لوگوں کی ضرورت پوری کر رہا تھا اور یہی مجبوری تھی۔

آج ہم جدید گاڑیاں، الیکٹرک ٹیکنالوجی اور فیول کی آسانی دیکھتے ہیں تو یہ سب عام سی بات لگتی ہے، مگر اس دور میں یہی چھوٹے چھوٹے حل لوگوں کے لیے زندگی کا سہارا تھے۔

یہ پوسٹ تیار کرتے ہوئے ایک خیال بار بار ذہن میں آ رہا تھا… کہ دنیا میں حالات جس طرف جا رہے ہیں، اور خاص طور پر موجودہ عالمی کشیدگی کے ماحول میں، جب پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، کہیں ایسا وقت دوبارہ نہ آ جائے جب فیول کی قلت ہمیں پھر انہی پرانے اور محدود طریقوں کی طرف لے جائے۔
ایک اور بات ذہن میں آئی… اُس دور میں موٹر سائیکل عام نہیں تھی، لیکن آج اگر بائیک پر ایسا بیگ لگانا پڑ جائے تو وہ کہاں فٹ ہو گا… 🥴

ویسے کبھی کبھی تاریخ صرف کہانیاں نہیں سناتی، یہ ایک خاموش تنبیہ بھی دیتی ہے کہ حالات بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔

آپ کا کیا خیال ہے؟

پوسٹ اچھی لگے تو آگے تک ضرور پہنچائیے۔
دعا کا طالب
محمد عظیم حیات
لندن

06/04/2026

‏جنرل یحییٰ نور جہاں کے جسم پر شراب بہاتے اور چاٹتے تھے:محمو دالرحمن کمیشن رپورٹ میں سنسن خیز انکشاف

پاکستان میں حمودالرحمن کمیشن کے سامنے بریگیڈ میجر منور خان نے بیان دیا کہ 1971 میں 11 اور 12دسمبر کی درمیانی شب، جس رات ہندوستانی فوج ہمارے فوجیوں پر آگ کے گولے برسا رہی تھی،
اسی رات کو کمانڈر بریگیڈیئر حیات اللہ اپنے بنکر میں عیاشی کے لئے چند لڑکیوں کو لے کر آئے تھے۔ کمیشن کو بریگیڈیئر عباس بیگ نے بتایا کہ بریگیڈیئر جہانزیب ارباب (بعد میں لیفٹیننٹ جنرل) نے ایک پی سی ایس افسر (جو ملتان میونسپل کمیٹی کے چیئرمین تھے) سے رشوت کے طور پر ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ افسر نے خودکشی کر لی تھی اور اپنے پیچھے ایک پرچی پر لکھا چھوڑ گیا کہ بریگیڈٰیر جہانزیب ارباب نے اس سے ایک لاکھ کا مطالبہ کیا حالانکہ اس نے صرف پندرہ ہزار روپے کمائے تھے۔ یہی جہانزیب ارباب تھا جس نے بعد ازاں بطورکمانڈر سابق مشرقی پاکستان میں بریگیڈ 57 سراج گنج میں نیشنل بینک کے خزانے سے ساڑھے تیرہ کروڑ روپے لوٹے تھے۔
کمیشن کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ میجر جنرل خداداد خان ایڈجوٹنٹ جنرل پاکستان آرمی کے نہ صرف مشہورِ زمانہ جنرل اقلیم اختر رانی کےساتھ ناجائز تعلقات تھے بلکہ اس نے مارشل لاء کے دوران کئی مقدمات دبانے میں جنرل رانی کی معاونت بھی کی۔ مار شل لا کے دوران ہی کئی کاروباری سودوں میں وسیع پیمانے پر رقم کی خرد برد کے الزامات بھی میجر جنرل خداداد خان پر ہیں۔
جنرل اے اے کے نیازی کے لاہور کی سعیدہ بخاری کے ساتھ مراسم تھے جس نے سینوریٹا ہوم کے نام سے گلبرگ میں ایک گھر کو کوٹھا بنایا ہوا تھا۔ یہی سعیدہ بخاری اس وقت لاہور میں جنرل آفیسر کمانڈنگ اور بعد میں کورکمانڈر “ٹائیگر نیازی” کی ٹاؤٹ تھی اور غیرقانونی کاموں اور رشوت ستانی میں اس کی مدد کرتی تھی۔ سیالکوٹ کی بدنامِ زمانہ شمیم فردوس بھی نیازی کے لئے اسی خدمت پر مامور تھی۔ فیلڈ انٹلی جنس کی 604 یونٹ سے میجر سجادالحق نے کمیشن کو بتایا کہ ڈھاکہ کےایک گھر میں جرنیلوں کی عیاشی کے لئے بارہا ناچنے گانے والیاں لائی جاتی تھیں۔ ٹائیگر نیازی اپنی تین ستاروں سے آراستہ اور کور کے جھنڈے سے مزین سٹاف کار پر بھی ناچنے والیوں کے در کے طواف کرتا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل عزیز احمد خان نے کمیشن کو بتایا کہ فوجیوں کا کہنا تھا کہ جب کمانڈر خود جنسی جرائم کا مرتکب ہو تو وہ فوجیوں کو جبری زنا سے کیسے روک سکتا ہے۔ انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی سے خواتین سے زیادتی جیسے گھناؤنے جرم کا دفاع کرتے ہوئی نیازی نے کہا تھا کہ ”آپ کسی جوان سے یہ توقع کیسے رکھتے ہیں کہ وہ جئے، لڑے اور مرے مشرقی پاکستان میں اور جنسی بھوک مٹانے کے لئے جہلم جائے”۔
پاکستانی صدر مملکت یحییٰ خان شراب اور عورتوں کے رسیا تھے۔ ان کے جن عورتوں سے تعلقات تھےان میں آئی جی پولیس کی بیگم، بیگم شمیم این حسین، بیگم جوناگڑھ، میڈم نور جہاں، اقلیم اختر رانی، کراچی کے تاجر منصور ہیرجی کی بیوی، ایک جونیئر پولیس افسر کی بیوی نازلی بیگم، میجر جنرل (ر) لطیف خان کی سابقہ بیوی، کراچی کی ایک رکھیل زینب اور اسی کی ہم نام سر خضر حیات ٹوانہ کی سابقہ بیگم، انورہ بیگم، ڈھاکہ سے ایک انڈسٹری کی مالکن للّی خان اور لیلیٰ مزمل اور اداکاراؤں میں سے شبنم، شگفتہ، نغمہ، ترانہ اور بے شمار دوسروں کے نام شامل تھے۔ ان کے علاوہ لا تعداد آرمی کے افسر اور جرنیل اپنی بیگمات اور دیگر رشتہ دار خواتین کے ہمراہ ایوانِ صدر آتے اور واپسی پر خواتین ان کے ہمراہ نہیں ہوتی تھیں۔
اس رپورٹ میں 500 سے زائد خواتین کے نام شامل ہیں جنہوں نے اس ملک کے سب سے عیاش حاکم کے ساتھ تنہائی میں وقت گزارا اور بدلے میں سرکاری خزانے سے بیش بہا پیسہ اور دیگر مراعات حاصل کیں۔ جنرل نسیم، حمید، لطیف، خداداد، شاہد، یعقوب، ریاض، پیرزادہ، میاں سمیت کئی دوسروں کی بیویاں باقاعدگی سے یحییٰ خان سے ملاقات کرنے آتی تھیں۔
یہاں تک کہ جب ڈھاکہ میں حالات ابتر تھے۔ یحییٰ خان لاہور کا دورہ کرنے آتے اور گورنر ہاوس میں قیام کرتے تھے۔ جہاں ان کے قیام کے دوران دن میں کم از کم تین بار ملکہ ترنم و نور جہاں مختلف قسم کے لباس، بناو سنگھار اور ہیر سٹائل کے ساتھ ان سے ملاقات کرنے تشریف لے جاتی تھیں اور رات کو نور جہاں کی حاضری یقینی ہوتی تھی۔ جنرل رانی نے سابق آئی جی جیل خانہ جات حافظ قاسم کو بتایا کہ اس نے خود جنرل یحییٰ اور ملکہ ترنم نور جہاں کو بستر پر ننگے بیٹھے اور پھر جنرل یحیی کو نور جہاں کے جسم پر شراب بہاتے اور چاٹتے دیکھا تھا۔ اور یہ عین اس وقت کی بات ہے جب مشرقی پاکستان جل رہا تھا۔
بیگم شمیم این حسین رات گئے جنرل یحییٰ کو ملنے آتیں اور صبح واپس جاتیں۔ ان کے شوہر کو سوئٹزر لینڈ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر بھیجا گیا جبکہ بعد ازاں بیگم شمیم کو آسٹریا کا سفیر مقرر کردیا گیا تھا۔ دونوں میاں بیوی کو سفارت کاری کا کوئی تجربہ تھا نہ ہی امورِ خارجہ کے شعبے سے ان کا کوئی تعلق تھا۔
بیگم شمیم کے والد، جسٹس (ر) امین احمد کو ڈائریکٹر نیشنل شپنگ کارپوریشن مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر ستر برس تھی۔ اسی زمانے میں نور جہاں ایک موسیقی کے میلے میں شرکت کرنےکے لئے ٹوکیو گئی تھیں تو ان کے ہمراہ ان کے خاندان کے بہت سے افراد سرکاری خرچ پر جاپان گئے تھے۔
یحییٰ خان کی ایک رکھیل نازلی بیگم کو جب پی آئی سی آئی سی (بینک) کے ایم ڈی نے قرضہ نہیں دیا تو اس کو عہدے سے زبردستی بر خاست کر دیا گیا تھا۔ سٹینڈرڈ بینک کے فنڈز سے راولپنڈی کی ہارلے سٹریٹ پر یحییٰ خان نے ایک گھر بنایا جس کی تزئین وآرئش بھی بینک کے پیسے سے کی گئی۔ یحییٰ اور ان کے چیف آف اسٹاف جنرل عبدالحمید خان اس گھر کے احاطے میں فوج کی حفاظت میں طوائفوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔
ایک غیر معمولی انٹرویو میں جنرل رانی نے انکشاف کیا کہ ایک رات آغا جانی مجھ سے ملنے کے لئے آئے تھے اور کسی حد تک بے چین تھے ۔ آتے ہی مجھ سے پوچھا تمھیں فلم دھی رانی کا گانا ‘چیچی دا چھلا‘ آتا ہے۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا میرے پاس گانے سننے کا وقت کہاں ہوتا ہے۔ اسی وقت انھوں نے ملٹری سیکرٹری کو فون کیا اور نغمے کی کاپی لانے کا حکم صادر کر دیا۔ رات کے دو بجے کا وقت تھا۔ بازار بند تھے۔ ملٹری سیکرٹری کو ایک گھنٹے کے اندراندر ایک آڈٰیو البم کی دکان کھلوا کر گانے کی کاپی حاضر کرنا پڑی۔ جس کے بعد آغا جانی خوشی خوشی نغمہ سن رہے تھے۔ اور اس کی اطلاع نور جہاں کو کر دی گئی۔
یحییٰ خان کے دور حکومت میں اداکارہ ترانہ کے بارے میں ایک لطیفہ زبان زدِ عام تھا کہ ایک شام ایک عورت صدارتی محل میں پہنچی اور یہ کہہ کر اندر داخل ہونے کا مطالبہ کیا کہ ‘میں اداکارہ ترانہ ہوں، سیکورٹی گارڈز نے جواب دیا.کہ تم کیا ہو، ہمیں پرواہ نہیں ہے۔ ہر کسی کو اندر جانے کے لئے پاس کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاتون مصر رہیں اور اےڈی سی سے بات کرنے کا مطالبہ کیا جس نے اداکارہ کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔ اداکارہ جب دو گھنٹے بعد واپس لوٹی تو گارڈ نے اداکارہ کو سیلیوٹ کیا۔ اداکارہ نے روئیے کی تبدیلی کی وجہ پوچھی تو گارڈنے جواب دیا۔ پہلے آپ صرف ترانہ تھیں اب آپ قومی ترانہ بن گئی ہیں۔
جنرل آغا محمدیحییٰ خان نے 61برس تک ایک مطمئن اور خوشحال زندگی بسر کی وہ اپنے راولپنڈی میں ہارلے سٹریٹ پر موجود اسی گھر میں قیام پذیر رہے جو کہ سٹینڈرڈ بینک کے فنڈز سے تعمیر کیا گیا تھا۔ اور ان کو بطور سابق صدر اور آرمی چیف کے پنشن اور دیگر مراعات حاصل رہیں۔ انہوں نے 10اگست 1980 کو وفات پائی -انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: سلیقہ وڑائچ
ماخذ: حمود الرحمن کمیشن رپورٹ (1974)
اقلیم اختر رانی کا انٹرویو،
(ماہنامہ نیوز لائن شمارہ مئی، 2002)
اس کی تصدیق

06/04/2026

دونوں عربوں نے بستی کے لوگوں سے کہا کہ وہ ڈریں نہیں اور اپنے گھروں میں رہیں۔ ان عربوں نے سواروں کو اور ان کے گھوڑوں کو پانی پلایا، اور اس دوران وہ سواروں کے ساتھ باتیں بھی کرتے رہے۔ باتوں باتوں میں ان عربوں نے سواروں کو بتایا کہ ایک گھوڑے پر رومیوں نے ایک آدمی کو باندھ رکھا تھا اس کا سر ننگا تھا اور اس کی قمیض بھی نہیں تھی اور اس کے ایک بازو پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ اسے انہوں نے یہاں پانی پلانے کیلئے روکا تھا۔“ ایک عرب نے بتایا۔ ” وہ تمہارا ساتھی معلوم ہوتا تھا۔ مسلمان سواروں کو شک نہ رہا۔ یہ ضرار رضی اللہ عنہ تھے۔ سواروں نے ان عربوں سے مزید معلومات لیں۔ ضرار رضی اللہ عنہ کے ساتھ تقریباً ایک سو رومی تھے۔ وہ رومی لشکر کی پسپائی سے بہت پہلے وہاں سے گزرے تھے اور وہ حمص کی طرف جا رہے تھے۔ مسلمان سواروں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ وہ پیچھے جا کر سپہ سالار کو ضرار بن الازور رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ اطلاع دے۔ الحمد للہ ! خالد رضی اللہ عنہ نے یہ خبر سن کر کہا۔ ”ضرار رضی اللہ عنہ زندہ ہے اور وہ زندہ رہے گا۔ انہوں نے اسے قتل کرنا ہوتا تو کر چکے ہوتے۔ وہ اسے اپنے بادشاہ کے پاس لے جا رہے ہیں. ابن عمیرہ رضی اللہ عنہ کو بلاؤ۔ “ رافع بن عمیرہ رضی اللہ عنہ آئے تو خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں ضرار رضی اللہ عنہ کے متعلق جو اطلاع ملی تھی، پوری سنا کر کہا کہ وہ ایک سو سوار چن لیں جو جان پر کھیلنے والے شہسوار ہوں، انہیں ساتھ لے کر حمص کی طرف ایک ایسا راستہ اختیار کریں جو راستہ نہ ہو۔ مطلب یہ تھا کہ راستہ چھوٹا کر کے حمص کی طرف جائیں اور ان ایک سو رومیوں کو روکیں، اور ابن الازور رضی اللہ عنہ کو رہا کرائیں۔ رافع جب سواروں کا انتخاب کر رہے تھے تو ضرار رضی اللہ عنہ کی بہن کو پتا چل گیا کہ رافع ضرار رضی اللہ عنہ کو آزاد کرانے جا رہے ہیں، وہ رافع کے پاس دوڑی گئیں اور کہنے لگیں کہ وہ بھی ان کے ساتھ جائیں گی۔ نہیں بنت الازور ! رافع نے کہا۔ ” خدا کی قسم ! جو کام ہمارا ہے، وہ ہم ایک عورت سے نہیں کرائیں گے۔ تجھے تیرا بھائی چاہیے۔ وہ تمہیں مل جائے گا۔ نہیں ملے گا تو ہم بھی واپس نہیں آئیں گے۔ میں اگر سپہ سالار سے اجازت لے لوں ! ابن ولید رضی اللہ عنہ تجھے اجازت نہیں دے گا الازور کی بیٹی ! رافع رضی اللہ عنہ نے کہا۔ خولہ رضی اللہ عنہا مایوس ہو گئیں۔ رافع رضی اللہ عنہ چنے ہوئے ایک سو سواروں کے ساتھ بڑی عجلت سے روانہ ہو گئے۔ انہوں نے حمص کی طرف جانے والے راستے کا اندازہ کر لیا تھا۔ وہ اس راستے سے دور دور تیز رفتار سے گھوڑے دوڑاتے گئے، وہ زیادہ دور نہیں گئے ہوں گے کہ ایک طرف سے ایک گھوڑا سرپٹ دوڑتا آ رہا تھا۔ وہ رومی نہیں ہو سکتا تھا، رومی ہوتا تو اکیلا نہ ہوتا۔ وہ خالد رضی اللہ عنہ کا قاصد ہو سکتا تھا ، کوئی نیا حکم لایا ہوگا۔ وہ قریب آیا تو اس کا سبز عمامہ اور چہرے پر کپڑے کا نقاب نظر آیا۔ " ابن عمیرہ رضی اللہ عنہ! سوار نے للکار کر کہا۔ ” اپنے بھائی کو آزاد کرانے کیلئے میں آگئی ہوں۔“
کیا سپہ سالار نے تجھے اجازت دے دی ہے ؟ رافع رضی اللہ عنہ نے پوچھا۔ ”اپنے بھائی کو قید سے چھڑانے کیلئے مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ خولہ بنت الازور رضی اللہ عنہا نے کہا۔ "اگر تو مجھے اپنے سواروں میں شامل ہونے نہیں دے گا تو میں اکیلی آگے جاؤں گی۔ خدا کی قسم بنت الازور ! رافع رضی اللہ عنہ نے کہا۔ ”میں تجھے اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ آ ہمارے ساتھ چل۔“ یہ جواں سال عورت ساتھ چل پڑی۔ ایک سو رومی سوار ضرار بن الازور رضی اللہ عنہ کو گھوڑے پر اس حالت میں بٹھائے لے جا رہے تھے کہ ان کے ہاتھ رسیوں سے بندھے ہوئے تھے اور پاؤں اس طرح بندھے ہوئے تھے گھوڑے کے پیٹ کے نیچے سے رسی گزار کر دونوں ٹخنوں سے بندھی ہوئی تھی۔ رومی ان پر پھبتیاں کستے اور ان کا مذاق اڑاتے جا رہے تھے، اور ضرار رضی اللہ عنہ چپ چاپ سنتے جا رہے تھے، ایک جگہ راستہ نشیب میں چلا جاتا تھا، اس کے دائیں بائیں علاقہ کھڈوں کا تھا، جب رومی اس نشیب میں سے گزر رہے تھے تو اچانک دائیں بائیں، آگے اور پیچھے سے رافع کے سواروں نے ان پر ہلہ بول دیا۔ رومیوں کیلئے یہ حملہ غیر متوقع تھا۔ وہ اس طرح جا رہے تھے جیسے میلے پر جا رہے ہوں۔ ضرار رضی اللہ عنہ کی بہن خولہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی کو دیکھا تو اس نے رومیوں پر اس طرح حملے شروع کر دیئے جس طرح وہ پوری رومی فوج پر کر چکی تھی۔ رافع رضی اللہ عنہ بھی ایسے ہی جوش میں تھے۔ ان کے سوار ہزاروں میں سے چنے ہوئے تھے۔ انہوں نے رومیوں کا ایسا برا حال کر دیا کہ ان میں سے جو مرے نہیں یا زخمی نہیں ہوئے تھے بھاگ اٹھے۔ خطرہ یہ تھا کہ رومی ضرار رضی اللہ عنہ کو قتل کردیں گے۔ ان کی بہن تلوار اور برچھی چلاتی ضرار رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئی ، رومیوں نے ان کی یہ کوشش کامیاب نہ ہونے دی لیکن رافع رضی اللہ عنہ نے ایسا ہلہ بولا کہ رومی سوار بکھر گئے۔ پھر فرداً فرداً بھاگ اٹھے۔ سب سے پہلے ضرار رضی اللہ عنہ نے رافع رضی اللہ عنہ سے ہاتھ ملایا اور جب بہن بھائی ملے تو وہ منظر رقت انگیز بھی تھا اور ولولہ انگیز بھی۔ بہن اپنے بھائی کے زخم دیکھنے کو بیتاب تھی۔ بعض مؤرخوں نے خولہ رضی اللہ عنہا کے یہ الفاظ لکھے ہیں : ”میرے عزیز بھائی ! میرے دل کی تپش دیکھ ، کس طرح ترے فراق میں جل رہا ہے۔ اپنے زخم دکھاؤ ضرار رضی اللہ عنہ ! بہن نے بیتابی سے کہا۔ ”مت دیکھو خولہ رضی اللہ عنہا ! ضرار رضی اللہ عنہ نے بہن سے کہا۔ ”اور یہ زخم مجھے بھی نہ دیکھنے دو۔ یہ زخم دیکھنے کا وقت نہیں۔ “ ضرار رضی اللہ عنہ نے رافع اور ان کے سواروں سے کہا۔ ”چلو دوستو ! رومی کہاں ہیں؟ دمشق کے محاصرے کا کیا بنا؟“
رومی لڑ بھی رہے تھے اور پسپا بھی ہو رہے تھے۔ یہ ان کی تنظیم بھی تھی اور جرات بھی کہ وہ بھاگ نہیں رہے تھے۔ ایک ایسی جگہ آگئی جس کے دونوں طرف چٹانیں اور کچھ بلند ٹیکریاں تھیں۔ رومی لشکر کو سکڑنا پڑا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں پہلوؤں کے سالاروں سے کہا کہ وہ چٹانوں کی دوسری اطراف میں نکل جائیں، اور سر پٹ رفتار سے رومیوں کے عقب میں چلے جائیں۔ رومی نہ دیکھ سکے کہ چٹانوں کے پیچھے سے ان پر کیا آفت ٹوٹنے والی ہے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے تعاقب کی رفتار کم کر دی۔ رومی سمجھے ہوں گے کہ مسلمان تھک گئے ہیں۔ انہوں نے پسپائی روک لی۔ خالد رضی اللہ عنہ نے اپنے دستوں کو روک لیا۔
اچانک عقب سے رومیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ سامنے سے خالد رضی اللہ عنہ نے شدید حملہ کر دیا۔ رومیوں کی یہ حالت ہو گئی کہ وہ گھوڑوں کو چٹانوں اور ٹیکریوں پر چڑھالے گئے، اور دوسری طرف اتر کر بھاگنے لگے۔ توقع یہ تھی کہ رومی رسد وغیرہ کا جو ذخیرہ ساتھ لا رہے تھے وہ مسلمانوں کے ہاتھ آجائے گا۔ لیکن رومیوں نے گھوڑا گاڑیوں اور اونٹوں کو پہلے ہی حمص روانہ کر دیا تھا۔ حمص کی طرف جانے والی رہگزر پر رومیوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ زخمی تڑپ اور کراہ رہے تھے۔ ان کے گھوڑے اِدھر اِدھر آوارہ پھر رہے تھے۔ مجاہدین نے حکم ملتے ہی اپنے ساتھیوں کی لاشیں اور زخمیوں کو اٹھانا، زخمی اور مرے ہوئے رومیوں کے ہتھیاروں کو اکٹھا اور ان کے گھوڑوں کو پکڑنا شروع کر دیا۔ کاش ! میرے پیچھے دمشق نہ ہوتا۔ “ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا۔ ” میں دشمن کے ایک آدمی کو بھی دمشق تک نہ پہنچنے دیتا۔“ خالد رضی اللہ عنہ نے تعاقب ترک کر دیا۔ لیکن اس خطرے کے پیش نظر کہ رومی کہیں اکٹھے یا حمص سے کمک منگوا کر واپس نہ آجائیں۔ اپنے ایک سالار سمط بن الاسود رضی اللہ عنہ کو بلایا۔ ایک ہزار سوار اپنے ساتھ لو اور رومیوں کے پیچھے جاؤ۔ “ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا۔ " انہیں کہیں اکٹھے نہ ہونے دینا۔ جنگی قیدی نہیں لینے۔ جو سامنے آئے اسے ختم کرو۔ فوراً روانہ ہو جاؤ۔ ولید کے بیٹے !‘ خالد رضی اللہ عنہ کو کسی کی پکار سنائی دی۔ ” وہ آگیا میرا ننگا جنگجو ! خالد رضی اللہ عنہ نے ضرار رضی اللہ عنہ کو آتے دیکھ کر نعرہ لگایا۔ ضرار رضی اللہ عنہ کو اپنے زخموں کی پرواہ نہیں تھی، وہ گھوڑے سے کود کر اترے۔ خالد رضی اللہ عنہ بھی کود کر اترے اور تاریخ اسلام کے دو عظیم مجاہد ایک دوسرے کے بازوؤں میں جکڑ گئے۔ خولہ رضی اللہ عنہا گھوڑے پر سوار تھی۔ اس کا چہرہ نقاب میں تھا۔ صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ جن کی چمک اور زیادہ روشن ہو گئی تھی۔
خدا کی قسم ابن الازور رضی اللہ عنہ ! خالد رضی اللہ عنہ نے کہا۔ ” تیری بہن نے تیری خاطر میرا بھی منہ پھیر دیا تھا۔“ ”اس بہن پر اللہ کی رحمت ہو۔ ضرار رضی اللہ عنہ نے کہا۔ ” تو مجھے بتا میں کیا کروں ؟ کیا تو محسوس نہیں کر رہا کہ تجھے آرام کرنا چاہیے ؟ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا۔ ”پہلے جراح کے پاس جا، اور اسے اپنے زخم دکھا۔ ضرار بن الازور رضی اللہ عنہ جراح کے پاس تو چلے گئے لیکن صرف پٹیاں بندھوا کر واپس آگئے۔ سالار سمط بن الاسود رضی اللہ عنہ رومیوں کے تعاقب میں گئے۔ رومی بری طرح بھاگے جا رہے تھے ان کی آدھی نفری تو لڑائی اور پسپائی میں ختم ہو گئی تھی اور باقی نصف بکھر گئی تھی۔ سمط جب حمص کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ رومی حمص کے قلعے میں داخل ہونے جا رہے ہیں۔ اس دور میں حمص ایک قلعہ بند قصبہ ہوا کرتا تھا۔ سمط رضی اللہ عنہ وہاں جا کر رک گئے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ قلعہ کے اندر کتنی فوج ہے، پھر بھی انہوں نے اپنے ہزار سواروں کو قلعے کے ارد گرد اس انداز سے دوڑایا جیسے وہ محاصرہ کرنا یا قلعے پر حملہ کرنا چاہتے ہوں۔ قلعے کا دروازہ کھلا اور تین چار آدمی جو فوجی نہیں تھے باہر آئے۔ وہ رومی نہیں مقامی باشندے تھے۔ سالار سمط بن الاسود رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے پاس بلایا۔
کیوں آئے ہو؟“ سمط نے پوچھا۔ ”امن اور دوستی کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ ایک نے کہا۔ ”رومی مزید لڑائی نہیں چاہتے۔ کیا تمہارا شہنشاہ ہر قل بھی مزید لڑائی نہیں چاہتا؟ سمط نے پوچھا۔ ”ہم شہنشاہ روم کی ترجمانی نہیں کر سکتے۔ “حمص کے ایک شہری نے کہا۔ ”ہم یہ پیغام لائے ہیں کہ حمص والے نہیں لڑنا چاہتے۔ آپ جس قدر سامانِ خورد و نوش چاہتے ہیں ہم سے لے لیں۔ آپ جتنے دن بھی یہاں قیام کرنا چاہتے ہیں کریں۔ آپ کی فوج اور گھوڑوں کو خوراک ہم مہیا کریں گے۔ کسی بھی تاریخ میں نہیں لکھا کہ سالار سمط رضی اللہ عنہ نے حمص میں رومیوں سے صلح کی کیا شرائط منوائی تھیں۔ وہ واپس آگئے۔ خالد رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ دمشق جا چکے تھے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ خالد رضی اللہ عنہ جب دمشق پہنچے تو شہر کے اندر مایوسی اور خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی۔ شہر والوں کو پہلے یہ اطلاع ملی تھی کہ انطاکیہ سے کمک اور رسد آرہی ہے۔ اب انہیں اطلاع ملی کہ کمک کو مسلمانوں نے راستے میں ختم کر دیا ہے۔ دمشق میں رومی سالار تو ما تھا جو شہنشاہ ہر قل کا داماد تھا۔ چند ایک شہری وفد کی صورت میں تو ما کے پاس گئے۔ کیا آپ کو کسی نے بتایا ہے کہ لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں؟ ایک شہری نے کہا۔ ” کیا تم لوگ یہ نہیں جانتے کہ یہ بزدلی ہے؟ توما نے کہا۔ ”ہم نے ابھی محاصرہ توڑنے کی کاروائی کی ہی نہیں، کیا تم لوگ مجھے یہ مشورہ دینے آئے ہو کہ میں مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈال دوں ؟ ہم سالار معظم کو شہر کی صورت حال بتانے آئے ہیں۔ وفد کے ایک اور آدمی نے کہا۔ ”شہر کے لوگ یہ سن کے ہراساں ہیں کہ جس فوج نے محاصرہ کر رکھا ہے اور ہماری کمک کو بھی ختم کر دیا ہے وہ اس شہر میں بھی داخل ہو جائے گی پھر گھر ہمارے لوٹے جائیں گے بچے ہمارے کچلے جائیں گے، اور لڑکیاں ہماری اٹھائی جائیں گی۔ ہم یہاں تک نوبت نہیں آنے دیں گے۔ سالار تو ما نے کہا۔ ” سالار معظم !“ ایک اور شہری نے کہا۔ ” آپ کو یقیناً معلوم ہو گا کہ نوبت کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ شہر میں خوراک کی اتنی کمی رہ گئی ہے کہ لوگوں نے دوسرے وقت کا کھانا چھوڑ دیا ہے، دو تین دنوں بعد صرف پانی رہ جائے گا۔ غور کریں۔ لوگ فاقہ کشی سے تنگ آکر بغاوت بھی کر سکتے ہیں۔ یہ صورت سلطنت روم کیلئے اچھی نہیں ہوگی۔“واللہ اعلم و رسُول اعلم ۔
نوٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے واٹس ایپ چینل بنایا ہے جہاں آپ کو قسط کا لنک روزانہ مل جائا کرے گا آسانی سے اس کو جوئن کر لیں تمام دوست۔👇👇👇👇👇
https://whatsapp.com/channel/0029VbC4Bzq545uxo7taCv0O

02/04/2026

Address

Jodia Bazar
Karachi
74000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jodia bazar wholesale posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Jodia bazar wholesale:

Shortcuts

Share