20/04/2026
یزید پلید لعنتی کی موت کی بعد امت نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللّہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی انہوں نے مکہ میں اپنی حکومت قائم کی جو کچھ عرصہ بعد ہر جگہ قائم ہو گئی۔۔۔۔
اموی بادشاہ مروان۔۔۔۔
مروان نے دمشق کے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور اس کے بیٹے عبد الملک نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت کو ختم کر ڈالنے کا قصد کیا ،، اموی افواج حجاج بن یوسف کی سربراہی میں مکہ پہنچی اور مکہ کا محاصرہ کرلیا حجاج بن یوسف نہایت ظالم و سفاک تھا اس نے مکہ کے محاصرہ میں تمام اخلاقی و مذہبی حدود کو پامال کرتے ہوئے خانہ کعبہ پر پتھراؤ سے بھی گریز نہ کیا اس کی حد سے بڑھی ہوئی سفاکی اور طویل محاصرہ مکہ سے اہل مکہ کے حوصلے جواب دے گئے اور وہ ابن زبیر کا ساتھ چھوڑنے لگے ،،
عبد اللہ بن زبیر کی شہادت
یہ محاصرہ تقریباً 7 ماہ جاری رہا۔ دونوں افواج نے حج کے دوران میں طواف وغیرہ کے لیے جنگ روک دی۔ حج کے اختتام پر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو حجاج نے شہر مکہ پر سنگباری کا حکم دیا جس سے شہر کا اکثر حصہ منہدم ہو گیا۔ جب مقابلہ جاری رکھنے کی کوئی صورت باقی نہ رہی تو آپ رضی اللّہ عنہ مشورہ کی غرض سے اپنی والدہ حضرت اسماء رضی اللّہ عنہا کے پاس گئے اور عرض کیا کہ
’’اب جب کہ میرے بیٹے بھی میرا ساتھ چھوڑ گئے ہیں اور جو چند باقی رہ گئے ان میں بھی لڑنے کی تاب نہیں ہے۔ ہمارا دشمن ہمارے ساتھ کوئی رعایت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایسی حالت میں آپ کا کیا ارشاد ہے؟‘‘
حضرت اسماء رضی اللّہ عنہا جو حضرت صدیق اکبر صدیق رضی اللّہ عنہ کی بیٹی تھیں نے جواب دیا
’’بیٹا تم کو اپنی حالت کا اندازہ خود ہوگا۔ اگر تم حق پر ہو اور حق کے لیے لڑتے رہے ہو تو اب بھی اس کے لیے لڑو کیونکہ تمھارے بہت سے ساتھیوں نے اس کے لیے جان دی ہے اور اگر دنیا طلبی کے لیے لڑتے تھے تو تم سے برا کون خدا کا بندہ ہوگا۔ تم نے خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا اور اپنے ساتھ کتنوں کو ہلاک کیا۔ اگر یہ عذر ہے کہ حق پر ہو لیکن اپنے مددگاروں کی وجہ سے مجبور ہو تو یاد رکھو شریفوں اور دین داروں کا یہ شیوہ نہیں ہے۔ تم کو کب تک دنیا میں رہنا ہے۔ جاؤ حق پر جان دینا دنیا کی زندگی سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ ‘‘
یہ جواب سن کر ابن زبیر رضی ﷲ عنہ نے کہا ماں مجھے ڈر ہے کہ میرے قتل کے بعد بنو امیہ میری لاش کو مثلہ(میت کی بے ادبی) کرکے سولی پر لٹکائیں گے۔ اس خدا پرست خاتون نے جواب دیا۔ ’’ذبح ہو جانے کے بعد بکری کی کھال کھینچنے سے تکلیف نہیں ہوتی۔ جاؤ خدا سے مدد مانگ کر اپنا کام پورا کرو۔ ‘‘ ماں کے اس جواب سے ابن زبیر ایک نئے ولولہ اور جذبہ سے اٹھے۔ ماں کو آخری بار الوداع کہہ کر دشمنوں کی صفوں میں گھس گئے اور ان کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ لیکن بالآخر میدان جنگ میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ حجاج آپ کی لاش کو سولی پر لٹکا دیا۔ جو تین دن وہیں لٹکتی رہی آپ کی والدہ حضرت اسماء کا ادھر سے گذر ہوا تو دیکھ کر بولیں
’’شہسوار ابھی اپنی سواری سے نہیں اترا۔ ‘‘
حجاج بن یوسف اور اس کی فوج نے شہر فتح کرکے کعبے پر مجنیقوں سے پتھر برسائے اور پھر آگ لگادی۔ جس سے کعبہ کی دیواریں شق ہوگئیں اور حجر اسود کے تین ٹکڑے ہو گئے۔ لوگ کعبہ کی دیواروں کے ٹکرے اور حجر اسود کے ٹکرے اٹھا کر لے گئے جنھیں بعد میں منگوا کر کعبہ کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔۔۔۔
آئیں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی ﷲ عنہ کی فضیلت جانتے ہیں۔۔۔
3910 حضرت عائشہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا کہ
رض رض (ہجرت کے بعد) پہلا بچہ جو اسلام میں پیدا ہوا وہ عبداللہ بن زبیر ۔ ہیں ۔ وہ (ان کے گھر والے) انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لی اور اسے چبایا ۔ پھر آپ نے اسے اس (عبد اللہ ) کے منہ میں ڈالا ۔
ان کے پیٹ میں پہلی داخل ہونے والی چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا ۔
[صحيح بخاري، حديث3910:نمبر
ان کی فضیلت میں بے شمار اقوال و احادی
حضرت عبد اللہ بن زبیر گی فضیلت کے لئے یہی کافی ہے ۔
حضرت عبد اللہ بن زبیر اسد قریشی ہیں مدینہ میں مہاجرین میں یہ سب سے پہلے بچے ہیں ۔
جو 1ھ میں پیدا ہوئے خودان کے نانا جان حضرت ابو بکر صدیق نے ان کے کان میں اذان پڑھی ۔
یہ بالکل صاف چہرہ والے تھے ایک بھی بال منہ پر نہیں تھا نہ ڈاڑھی تھی۔
بڑے روزے رکھنے والے اور بہت نوافل پڑھنے والے تھے موٹے تازے بڑے قوی اور بارعب شخصیت کے مالک تھے ۔
حق بات ماننے والے صلہ رحمی کرنے والے اور بہت سی خوبیوں کے مالک تھے ۔
ان کی والدہ حضرت ابو بکر کی بیٹی تھیں ۔
ان کے نانا حضرت ابو بکر صدیق تھے ان کی دادی حضرت صفیہ رض
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں ان کی خالہ حضرت عائشہ
تھیں آٹھ سال کی عمر میں ان کو شرف بیعت حاصل ہوا۔
حجاج بن یوسف ظالم نے ان کو بڑی بے رحمی کے ساتھ مکہ میں قتل کیا۔
واللہ اعلم بالصواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لکھنے میں کوئی غلطی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے آمین ۔
اگر آپ نے پوری تحریر پڑھی ہے تو اس کو اپنے دوستوں تک پہنچادیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ علم حاصل کر سکیں اس فتنہ کے دور میں علم کی بات ہمارے ساتھ مل کے عام کریں۔شکریہ آپ سب کے لیے میری طرف سے بہت محبت بہت پیار۔۔۔۔💞💞💞💞💞💞💞