Film Walay فلم والے

Film Walay  فلم والے فلم و فنون کی ترویج کیلئے دنیاۓ اردو کے سب سے بڑے فیس بک گروپ فلم والے کے آفیشل پیج پر خوش آمدید ۔

عمر شریف صاحب سے میں (حنیف راجہ) ایوارڈ وصول کر رہا ہوں نیچے دی گئیں تصویروں میں سے ایک میں آپ یہ منظر دیکھ رہے ہونگے با...
11/09/2026

عمر شریف صاحب سے میں (حنیف راجہ) ایوارڈ وصول کر رہا ہوں نیچے دی گئیں تصویروں میں سے ایک میں آپ یہ منظر دیکھ رہے ہونگے باقی دو تصویروں مںیں پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈ فلمسٹارز جن میں محمد علی، زیبا، ریما، غلام محی الدین، روبی نیازی، محسن حسن خان، جاوید شیخ، عمر شریف، سلمی مراد(بیگم وحید مراد) اور بہروز سبزواری نظر آرہے ہیں, مذکورہ تصاویر 1992 میں ہونے والے وحید مراد ایوارڈز کی تقریب کی ہیں جو کراچی کے ریکس آڈیٹوریم میں منعقد ہوا تھا۔

یہ تقریب عیدلاضحی کے دو ہفتے بعد منعقد ہوئی تھی ۔تقریب سے دو دن پہلے ہی سپر ہٹ اسٹیج ڈرامہ "گڈ لک معین اختر" اپنے 20 کامیاب شو مکمل کرکے ختم ہوا تھا جسمیں معین اختر صاحب، روبی نیازی میں (حنیف راجہ) اور دیگر مشہور کاسٹ تھی ، وحیدی ایوارڈ کیلۓ اس اسٹیج ڈرامے سے نامزد معین بھائی، روبی نیازی ، ڈائریکٹر سید فرقان حیدر صاحب اور میں ہوۓ تھے۔اس تقریب میں میرے حوالے سے جو واقعہ رونما ہوا اس سے اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ ذہانت اپنی جگہ اہم سہی لیکن تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

1990 تا 1995 میرے فنی کیریئر کے پنپنے کے اہم سال تھے۔ ہوا کچھ یوں کہ تجربہ کم اور جوش زیادہ تھا کم عمری میں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ نیچے موجود تصاویر میں سے ایک میں، میں عمر بھائی (عمر شریف) سے ایوارڈ لے رہا ہوں ،مجھے ایوارڈ دۓ جانے سے پہلے میری اؤنسمنٹ ہوئی اسٹینڈ اپ کامیڈی پرفارمنس کیلۓ میں نے جم کر کامیڈی کی ہال آڈینس سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا کوئی نشست خالی نہیں تھی حتی کے لوگ سیڑھیوں پر براجمان تھے میری پرفارمنس کو میرے عقب میں تشریف فرما فلمسٹار محمد علی صاحب کے بلند قہقہے نہایت جلا وجوش بخش رہے تھے۔

بعد از پرفارمنس میرے ایوارڈ کی اناؤنسمنٹ ہوئی ، کیٹیگری تھی سال 1991 کے بہترین اسٹینڈاپ کامیڈین اور اداکار کی لوگوں نے بڑی فراخدلی سے دوبارہ بھرپور تالیوں سے استقبال کیا مجھے ایوارڈ دینے کیلۓ بیگم وحید مراد یعنی سلمی مراد صاحبہ سے درخواست کی گئی وہ اٹھ کر آئیں اور مجھے دینے کیلۓ ایوارڈ تھام لیا میں نے عمر بھائی (عمر شریف ) کی محبت و عقیدت میں فرمائش کردی کہ میں یہ ایورڈ عمر شریف صاحب کے ہاتھوں لینا چاہتا ہوں ،صورتحال عجیب سی ہوگئی ،سلمی صاحبہ میرا ایوارڈ عمر بھائی کو تھما کر واپس اپنی نشست پر بیٹھ گئیں بہر حال عمر بھائی نے مجھے ایوارڈ دیا اور میرے کام کو بہت سراہا ہال میں پھر تالیوں کا شور ابھرا اور میں ایوارڈ ملنے کی مبارکبادیں سمیٹتا ہوا دوسرے کسی شو میں پرفارمنس کیلیۓ چلا گیا۔

دوسرے دن روبی نیازی کا میرے گھر فون آیا، روبی نیازی عمر بھائی کی فلم مسٹر 420 سے ہٹ ہوچکی تھیں اور فرقان حیدر بھائی کے ا سٹیج ڈرامے " گڈ لک معین اختر" میں میرے ساتھ ہی کام کررہی تھیں لہذا ان سے اچھی سلام دعا بھی ہوگئی تھی، روبی ایک ملنسار ہنس مکھ اور کاسٹ کیساتھ گھل مل جانے والی انسان تھیں جبکہ وہ اسوقت سپر ہٹ ہوچکی تھیں مگر گھمنڈ سے دور تھیں خیر سلام دعا کے بعد انہوں نے بتایا کہ فرقان بھائی سے آپ کا نمبر لیکر فون کیا ہے ، دراصل کل ایوارڈ شو میں آپ سے نادانستگی میں ایسی غلطی ہوگئی جو سلمی مراد صاحبہ کیلیۓ یقینا ہزیمت کا باعث بنی ہوگی اور انہوں نے پورا واقعہ دھرایا...اوہ میرے خدا یہ تو واقعی مجھ سے بڑی گستاخی ہوگئی ..مجھے روبی نیازی کی نشاندہی پر اس بات کی نزاکت کا احساس ہوا...میں نے روبی کا میری غلطی کی اس نشاندہی پر شکریہ ادا کیا۔ روبی نے کہا شکریہ کی کوئی بات نہیں آرٹسٹ ہونے کے ناطے یہ میرا فرض تھا کہ دوسرے آرٹسٹ کی رہنمائی کروں میں اپنی اس نادانی پر دل میں بیحد نادم ہوا حالانکہ میری نیت صاف تھی ایسا نادانستہ ہوگیا تھا پھر بھی اخلاقی تقاضے کےعین مطابق انہی دنوں ایک تقریب میں جب میری سلمی مراد صاحبہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے اپنی اس نادانی پر معذرت چاہی جو انہوں نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوۓ قبول کرلی۔

زندگی کے سفر میں رونما ہونیوالا ہر واقعہ کچھ سکھا کر جاتا ہے اس واقعہ میں سبق یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنی غلطی تسلیم کرکے معذرت کرلی تو سمجھ جائیں آپ ترقی کی ایک سیڑھی چڑھ گۓ ہیں۔"سفر جاری ہے" نامی اس Blog سیریز میں میرے مشاہدے کیمطابق لوگ موجودہ جاری سفر سے زیادہ گذرے ہوۓ سفر کے دلچسپ واقعات بارے جاننا چاہتے ہیں۔

آپ اپنی راۓ سے کمنٹ کے ذریعے ضرور آگاہ کیجیۓ گا۔

خیراندیش: حنیف راجہ / Film Walay فلم والے

کیا ہو اگر بھارتی فلموں میں "اردو" زبان کی بجائے خالص ہندی کو چنا جائے ؟سچ تو یہ ہےکہ بھارتی فلمیں اردو زبان و لغت کی مح...
11/09/2026

کیا ہو اگر بھارتی فلموں میں "اردو" زبان کی بجائے خالص ہندی کو چنا جائے ؟

سچ تو یہ ہےکہ بھارتی فلمیں اردو زبان و لغت کی محتاج ہیں ، اول تو اسکا تاج بھی وہ اپنے ہی سر لیتے ہیں کہ اردو بھی بھارت ہی کی مقامی زبان ہےاور اس حوالے سے وہ درست بھی ہیں مگر بہت سے حلقے اسکو مسلمانوں کی زبان کہہ کر رد بھی کرتے ہیں۔

آئیے ہم یہاں بھارتی فلموں کے دس مشہور ڈائیلاگز جو اردو میں ہیں اور اردو ہی کی مرہون منت شہرت کی بلندیوں تک پہنچے ہیں جو آج تک ٹرینڈ میں ہیں ان کو خالص ہندی زبان میں آپریشن کرتے ہیں ۔

موگیمبو خوش ہوا۔۔۔مسٹر انڈیا 1987
مموگیمبو پرَسّنت ہوا

رشتے میں تو ہم تمہارے باپ لگتے ہیں نام ہے شہنشاہ۔۔ شہنشاہ 1988
سَمبَنْدھ میں تو ہم تمہارے پتا لگتے ہیں، نام ہے مہاراج

دوستی کا ایک اصول ہے میڈم نو سوری نو تھینک یو۔ میں نے پیار کیا 1989
مِترتا کا ایک سدّھانت ہے شریمتی نا کوئی شما نا کوئی دھنے واد

جا سمرن جا جی لے اپنی زندگی ۔۔ دل والے دلہنیاں لے جائیں گے 1995
جا سمرن جا ویادید کرلے اپنا جیون

تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ ۔ دامنی 1993
دنانک پر دنانک ، دنانک پر دنانک

ٹینشن لینے کا نہیں صرف دینے کا ۔۔ منا بھائی ایم بی بی ایس 2003
تِناوَ لینے کا نہیں، کیول دینے کا۔

ڈون کو پکڑنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔۔ ڈون 1978
ڈون کو پکڑنا کٹھن ہی نہیں اسَمبھوَ ہے

اک بار جو میں نے کمٹمنٹ کردی پھر میں اپنے آپ کی بھی نہیں سنتا ہوں وانٹڈ 2009
ایک بار جو میں نے سنکلپ لے لیا، پھر میں اپنے وچاروں کی بھی نہیں سنتا

پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست اوم شانتی اوم (2007)
چتر ابھی شیش ہے میرے متر

کتنے آدمی تھے ؟ شولے 1975
کتنے منوش تھے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ ہوگیا😆

جی ایم شیخ الخ / Film Walay فلم والے

رمیش سپی: کراچی سے ممبئی تک شعلے روشن کرنے والا فلم ساز ۔۔ہندوستانی فلمی تاریخ میں بعض فلمیں محض کامیاب نہیں ہوتیں بلکہ ...
11/09/2026

رمیش سپی: کراچی سے ممبئی تک شعلے روشن کرنے والا فلم ساز ۔۔
ہندوستانی فلمی تاریخ میں بعض فلمیں محض کامیاب نہیں ہوتیں بلکہ اپنے عہد کی ثقافتی علامت بن جاتی ہیں۔ ’شعلے‘ بھی ایسی ہی فلم ہے، جس نے بھارتی سنیما کے مزاج، اسلوب اور مکالموں تک پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس یادگار فلم کے خالق رمیش سپی کا تعلق اسی شہر کراچی سے ہے جو تقسیم ہند سے قبل برصغیر کی ایک اہم تہذیبی، تجارتی اور ثقافتی بستی تھا۔

رمیش سپی 23 جنوری 1947ء کو کراچی میں پیدا ہوئے اور ان کا بچپن شہر کے معروف علاقے صدرلکی اسٹار کے اطراف میں گزرا۔ رمیش سپی کا تعلق ایک سندھی ہندو خاندان سے تھا۔ ان کے والد گوپال داس پرمانند سپاہیملانی، جو فلمی دنیا میں جی۔ پی۔ سپی (G. P. Sippy) کے نام سے معروف ہوئے، ہندوستانی فلم صنعت کے ممتاز پروڈیوسر اور ڈسٹری بیوٹر تھے۔ سپی خاندان کا فلم سے تعلق بعد میں ایک مضبوط کاروباری اور تخلیقی روایت میں تبدیل ہوا۔ خاندان کا اصل خاندانی نام ’سپاہیملانی‘ تھا، جسے مختصر کرکے ’سپی‘ یا ’Sippy‘ کے نام سے استعمال کیا جانے لگا۔

تقسیم ہند کے وقت رمیش سپی ابھی شیرخوار تھے۔ 1947ء کے بعد ان کا خاندان کراچی سے بمبئی منتقل ہوگیا اور یہی شہر آگے چل کر ان کی عملی زندگی کا مرکز بنا۔ اگرچہ ان کی پرورش اور فلمی تربیت ہندوستان میں ہوئی، لیکن کراچی ان کی زندگی کا وہ ابتدائی حوالہ رہا جس کا ذکر وہ مختلف مواقع پر کرتے رہے۔ ان کی پیدائش اس زمانے کے کراچی میں ہوئی جب یہ شہر مختلف زبانوں، ثقافتوں اور برادریوں کے میل جول کا ایک اہم مرکز تھا۔
رمیش سپی نے اپنے والد کی فلمی دنیا کو قریب سے دیکھا اور اسی ماحول نے ان کے اندر سنیما کے اسرار و رموز سے شناسائی پیدا کی۔ انہوں نے ابتدا میں فلم سازی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھا اور بعد ازاں ہدایت کاری کے میدان میں قدم رکھا۔ ان کی پہلی بڑی کامیابی ’انداز‘ تھی، تاہم 1972ء میں بننے والی ’سیتا اور گیتا‘ نے انہیں ایک نمایاں فلم ساز کے طور پر شناخت دی۔ ہیمامالینی کی دوہری اداکاری پر مبنی یہ فلم مزاح، جذبات، ایکشن اور خاندانی کہانی کا ایسا امتزاج تھی جسے ناظرین نے بے حد پسند کیا۔

پھر 1975ء آیا اور رمیش سپی نے وہ فلم بنائی جس نے ان کا نام ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ ’شعلے‘ میں امیتابھ بچن، دھرمیندر، ہیما مالینی، جیا بھادری، امجد خان اور سنجیو کمار جیسے اداکار شامل تھے۔ فلم کی کہانی، کردار، موسیقی، منظر نگاری اور مکالموں نے اسے غیر معمولی مقبولیت عطا کی۔ ’گبر سنگھ‘، ’جے‘ اور ’ویرو‘ جیسے کردار بھارتی عوام کے اجتماعی حافظے کا حصہ بن گئے۔ ’شعلے‘ کو محض ایک کامیاب فلم کہنا اس کے اثرات کو محدود کرنا ہوگا۔ اس نے بھارتی سنیما میں ایکشن، ڈراما، مزاح اور جذباتی کہانی کو ایک نئے انداز میں یکجا کیا۔ فلم کے مکالمے روزمرہ گفتگو میں شامل ہوئے اور اس کے کرداروں نے کئی دہائیوں تک مقبول ثقافت پر اثر ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ’شعلے‘ کو ہندوستانی فلمی تاریخ کی بااثر ترین فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

رمیش سپی نے ’شعلے‘ کی غیر معمولی کامیابی کے بعد بھی اپنے کام میں تنوع برقرار رکھا۔ ’شان‘ (1980ء) ایک بڑے پیمانے کی ایکشن فلم تھی، جبکہ ’شکتی‘ (1982ء) میں دلیپ کمار اور امیتابھ بچن جیسے دو عظیم اداکاروں کو باپ بیٹے کے کردار میں یکجا کیا گیا۔ یہ فلم محض ایک خاندانی داستان نہیں بلکہ فرض، اصول، محبت اور باپ بیٹے کے پیچیدہ تعلقات کی کہانی بھی تھی۔
1985ء میں ریلیز ہونے والی ’ساگر‘ نے رمیش سپی کے فلمی سفر کا ایک مختلف رخ پیش کیا۔ رشی کپور، ڈمپل کپاڈیا اور کمل ہاسن کی اداکاری سے مزین اس رومانوی فلم نے محبت، قربانی اور انسانی جذبات کو خوب صورت انداز میں پیش کیا۔ ڈمپل کپاڈیا نے اس فلم کے ذریعے طویل وقفے کے بعد پردۂ سیمیں پر واپسی کی اور ان کی اداکاری کو خاصی پذیرائی ملی۔

رمیش سپی نے فلموں کے علاوہ ٹیلی ویژن کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ تقسیم ہند کے پس منظر میں بنایا گیا ان کا ٹیلی ویژن ڈراما سیریل ’بنیاد‘ ہندوستانی ٹیلی ویژن کی یادگار پیش کشوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں تقسیم کے نتیجے میں بچھڑنے والے خاندانوں، ہجرت، انسانی رشتوں اور نئے حالات میں زندگی کی جدوجہد کو موضوع بنایا گیا۔ سیریل نے گھر گھر مقبولیت حاصل کی اور تقسیم ہند کے انسانی المیے کو ایک بڑے ناظرین طبقے تک پہنچایا
فلم سازی کے ساتھ رمیش سپی نے نئی نسل کی تربیت کو بھی اہمیت دی۔ 2017ء میں انہوں نے ممبئی میں رمیش سپی اکیڈمی آف سنیما اینڈ انٹرٹینمنٹ قائم کی، جہاں فلم اور تفریحی صنعت سے متعلق تعلیم و تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ ادارہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ سنیما کو صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ فن، صنعت اور تعلیمی شعبے کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

ہندوستانی حکومت نے فلمی خدمات کے اعتراف میں انہیں پدم شری سے نوازا۔ اس کے علاوہ انہیں فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات اور اعترافات حاصل ہوئے۔ ان کی فلمی زندگی کئی دہائیوں پر محیط ہے اور انہوں نے بطور ہدایت کار، پروڈیوسر اور فلمی شخصیت ہندوستانی سنیما کے مختلف ادوار کو قریب سے دیکھا۔ رمیش سیپی کی پیشہ ورانہ زندگی جتنی کامیاب اور مصروف رہی، ان کی نجی زندگی بھی مختلف ادوار سے گزری۔ ان کی پہلی شادی گیتا سیپی سے ہوئی تھی، تاہم یہ رشتہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا اور دونوں میں طلاق ہوگئی۔ اس ازدواجی رشتے سے ان کے تین بچے، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں، ہیں جنہوں نے اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق مختلف شعبوں میں مقام بنایا۔

ان کے بیٹے روہن سیپی نے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے فلم سازی کو اپنا پیشہ بنایا اور بالی ووڈ میں بطور ہدایت کار اور پروڈیوسر کام کیا۔ انہوں نے ’کچھ نا کہو‘، ’دم مارو دم‘ اور ’بلف ماسٹر‘ جیسی فلموں کے ذریعے فلمی دنیا میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔ یوں سپی خاندان کی فلمی روایت اگلی نسل میں بھی جاری رہی، اگرچہ روہن نے اپنے والد کے قائم کردہ مقام سے آگے بڑھنے کے لیے اپنے عہد کے موضوعات اور فلمی اسلوب کو اختیار کیا۔

رمیش سیپی کی بیٹی شینا سیپی نے فلمی ہدایت کاری کے بجائے فوٹوگرافی کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا اور ایک معروف فوٹوگرافر کے طور پر شناخت حاصل کی۔ ان کی شادی بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار ششی کپور کے صاحبزادے کنال کپور سے ہوئی تھی۔ یہ رشتہ بھی طویل عرصے تک برقرار نہ رہ سکا اور 2004ء میں دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ شینا سیپی کے بیٹے زہان کپور نے بعدازاں اداکاری کے شعبے میں قدم رکھا اور یوں کپور اور سیپی خاندان کی فلمی روایت ایک نئی نسل تک منتقل ہوئی۔

دوسری بیٹی سونیا سیپی نے اپنے بہن بھائیوں کے برعکس فلمی دنیا کی چکاچوند سے خود کو بڑی حد تک دور رکھا۔ تاہم خاندان سے وابستہ بعض فلمی منصوبوں میں انہوں نے پسِ پردہ ذمہ داریاں ادا کیں۔ اس طرح انہوں نے پردۂ سیمیں پر نمایاں ہونے کے بجائے فلم سازی کے دوسرے پہلوؤں میں اپنا کردار ادا کیا۔

رمیش سیپی نے 1991ء میں معروف اداکارہ کرن جونیجا سے دوسری شادی کی۔ کرن جونیجا خود بھی بھارتی ٹیلی ویژن کی معروف شخصیت ہیں اور رمیش سیپی کی ہدایت کاری میں بننے والے تاریخی ڈراما سیریل ’بنیاد‘ میں ’ویرانوالی‘ کا یادگار کردار ادا کرچکی ہیں۔ یوں ان دونوں کا تعلق صرف ازدواجی رشتے تک محدود نہیں رہا بلکہ فنونِ لطیفہ اور ٹیلی ویژن کی دنیا سے بھی جڑا ہوا تھا۔
رمیش سیپی آج بھی حیات ہیں اور ان کی زندگی بھارتی فلمی تاریخ کے کئی اہم ادوار کی عینی شاہد ہے۔ ان کا خاندان ممبئی میں آباد ہے اور ان کی اگلی نسلیں بھی اسی شہر میں رہتی ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سپی خاندان کی نئی نسل بھی بھارتی فلم اور تفریحی صنعت سے کسی نہ کسی صورت وابستہ رہی ہے۔ یوں کراچی میں جنم لینے والے رمیش سیپی سے شروع ہونے والی یہ خاندانی داستان ممبئی کی فلمی دنیا میں کئی نسلوں تک پھیل چکی ہے۔1991ء میں معروف فلم ساز و ہدایت کار رمیش سپی سرکاری مہمان کی حیثیت سے پاکستان آئے تھےان کی اہلیہ کرن جونیجا بھی ان کے ہمراہ تھیں، رمیش سپی نے اپنے دورۂ پاکستان میں لاہور اور کراچی کے علاوہ ان علاقوں کا بھی رخ کیا جہاں ان کی پیدائش، بچپن اور خاندانی کاروباری وابستگیاں تھیں۔ ان گلیوں اور محلوں میں قدم رکھتے ہوئے یقیناً بچپن کی بے شمار یادیں بھی تازہ ہوئی ہوں گی۔

سپی خاندان کی کہانی محض ایک فلم ساز خاندان کی داستان نہیں بلکہ برصغیر کی تقسیم، ہجرت، بدلتے ہوئے شہروں اور فن کی مسلسل منتقلی کی بھی ایک دلچسپ مثال ہے۔ ایک نسل نے کراچی میں آنکھ کھولی، اگلی زندگی ممبئی میں گزاری اور پھر اسی شہر میں آنے والی نسلوں نے سنیما، ٹیلی ویژن اور فوٹوگرافی کے میدان میں اپنے لیے جگہ بنائی۔ اس اعتبار سے رمیش سیپی کی زندگی اور خاندان برصغیر کے بٹے ہوئے جغرافیے کے باوجود فن کی اس مسلسل روایت کی علامت دکھائی دیتے ہیں جو سرحدوں سے ماورا چلتی رہی۔۔

شاہ ولی اللہ جنیدی / Film Walay فلم والے

ہندی سینما کا سپر اسٹار، راجیو ہری اوم بھاٹیا عرف اکشے کمار۔۔۔اکشے کمار سے میرا ناطہ کچھ زیادہ ہی پرانا ہے، وہ میرے پہلے...
11/09/2026

ہندی سینما کا سپر اسٹار، راجیو ہری اوم بھاٹیا عرف اکشے کمار۔۔۔
اکشے کمار سے میرا ناطہ کچھ زیادہ ہی پرانا ہے، وہ میرے پہلے ہیرو تھے، جس کی نقل کرتے کرتے میں آگے بڑھا اور وقت کی تیز رفتاری میں یہ رشتہ مزید گہرا ہوتا چلا گیا...

اکشے کا اصل نام راجیو ہری اوم بھاٹیا ہے... ان کا جنم 9 ستمبر 1967 کو دہلی کے چاندنی چوک میں ہوا...ان کے والد ہری اوم بھاٹیا بھارتی فوج میں افسر تھے، خاندان کا تعلق امرتسر کے پنجابی خاندان سے تھا، جبکہ ان کی والدہ کی جڑیں کشمیر سے ملتی ہیں.. والد نے فوج چھوڑ کر یونیسف میں اکاؤنٹنٹ کی ملازمت اختیار کی تو خاندان ممبئی منتقل ہوگیا اور کُلی واڑہ میں رہائش اختیار کی...

اکشے نے ممبئی کے ماٹونگا علاقے میں ابتدائی تعلیم حاصل کی...اسے بچپن ہی سے کھیلوں اور مارشل آرٹس کا شوق تھا...اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بجائے وہ مارشل آرٹس کی مزید تربیت کے لیے تھائی لینڈ چلا گیا، جہاں پانچ سال بینکاک میں رہا، موئے تھائی سیکھی اور اسی دوران شیف اور ویٹر کے طور پر بھی کام کرتا رہا... تھائی لینڈ سے واپسی پر کولکاتا میں ٹریول ایجنسی، ڈھاکا کے ایک ہوٹل میں شیف اور دہلی میں زیورات فروخت کرنے کا کام کیا... ممبئی واپس آیا تو مارشل آرٹس سکھانے لگا، پھر قسمت اسے ماڈلنگ کی دنیا میں لے گئی, یہاں آکر انہیں محسوس ہوا جتنا مہینے میں کما رہے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ایک اسائنمنٹ کی اماونٹ ہے، پھر وہ یہیں ٹک گئے اور وہیں سے فلمی دنیا کے دروازے کھلنے لگے...

انہوں نے بیک گراؤنڈ ڈانسر کے طور پر بھی کام کیا... 1987 میں فلم ”آج“ میں کراٹے انسٹرکٹر کے مختصر کردار سے اسکرین پر آیا، 1991 میں ”سوگندھ“ کے ذریعے بطور مرکزی اداکار ڈیبیو کیا...اکشے کا ابتدائی فلمی سفر بھی کامیابیوں سے پہلے ناکامیوں سے گزرا... ابتدائی دور میں ”دیدار“، ”مسٹر بانڈ“، ”اشانت“ اور ”دل کی بازی“ جیسی فلمیں باکس آفس پر کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کرسکیں... مگر پھر ”کھلاڑی“ نے ان کی قسمت بدل دی اور ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے انہیں ایکشن ہیرو کے طور پر بالی ووڈ میں مضبوط مقام دلا دیا...

اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ اکشے میں آخر ایسی کیا خاص بات تھی یا ہے جو اسے دوسروں سے الگ کرتی ہے؟ تو اس کا جواب یوں ہے کہ وہ ایکشن کریں، رومانس کریں یا پھر کامیڈی، ہر کردار میں یوں فِٹ بیٹھتے ہیں گویا وہ کردار انہی کے لیے لکھا گیا ہو...

نوے کی دہائی میں ”مہرہ“، ”سپوت“، ”سینک“، ”جانور“ جیسی فلموں میں وہ ایکشن ہیرو کے طور پر چھائے رہے...۔پھر انہوں نے اپنے لیے ایک بالکل مختلف رینج کے کردار چننے شروع کیے۔ ”دل تو پاگل ہے“، ”آرزو“، ”ہاں میں نے بھی پیار کیا ہے“ اور ”سنگھرش“ جیسی فلموں نے ثابت کیا کہ اکشے صرف ایکشن ہیرو نہیں، ایک ورسٹائل اداکار بھی ہیں... رومانوی کرداروں میں بھی وہ خوب جچے...ان کا یہ روپ ”یہ دل لگی“ سے لے کر ”نمستے لندن“ تک دیکھا جاسکتا ہے...

مجھے اکشے کیوں پسند ہے؟ اس سوال کا جواب شاید اتنا ہی سادہ ہے کہ وہ ایک فطری آدمی ہے، ایک خوب صورت سیرت والا انسان، جس میں بے شمار صلاحیتیں ہیں...وہ خود کو ایک ہی کردار تک محدود نہیں رکھتا، بدلتا ہے، تجربہ کرتا ہے اور نئے راستے تلاش کرتے ہیں. یہی شاید اکشے کمار کی وہ خاص بات ہے کہ انہوں نے وقت کے ساتھ اپنے کردار بھی بدلے اور موضوعات بھی...

سماجی مسائل کی بات کریں تو ”او ایم جی“ میں مذہبی اندھی عقیدت، ”ٹوائلٹ: ایک پریم کتھا“ میں صفائی اور بیت الخلا کی سہولت، ”پیڈ مین“ میں خواتین کی ماہواری اور صحت، جبکہ ”او ایم جی 2“ میں جنسی تعلیم اور نوجوانوں کی آگاہی جیسے موضوعات کو اجاگر کیا گیا...۔اور جب بات حب الوطنی کی ہو تو ”ہالی ڈے“، ”بیبی“، ”ایئر لفٹ“، ”رستم“، ”کیسری“ اور ”مشن منگل“ جیسی فلمیں انہیں ایک الگ مقام پر کھڑا کرتی ہیں...

لیکن ہر سفر ہمیشہ کامیابی کی طرف نہیں جاتا... اکشے کمار نے ایک کے بعد ایک ہٹ فلمیں دیں، مگر ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کی کئی فلمیں باکس آفس پر بری طرح ناکام ہونے لگیں... خاص طور پر حالیہ برسوں میں ”بچن پانڈے“، ”سمراٹ پرتھوی راج“، ”رام سیتو“، ”سیلفی“، ”مشن رانی گنج“ اور ”بڑے میاں چھوٹے میاں“ جیسی فلموں کی ناکامی نے ان کے شاندار کیریئر پر سوالات بھی اٹھائے... جس اداکار کی فلم کبھی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی، اب وہی فلمیں ناظرین کو سینما گھروں تک لانے میں ناکام دکھائی دینے لگیں...

فلموں کی طرح اکشے کی ذاتی زندگی بھی اتار چڑھاؤ سے خالی نہیں رہی...

فلموں میں آنے سے پہلے ان کا نام اداکارہ پوجا بترا کے ساتھ جوڑا گیا... نوے کی دہائی کے آخر میں روینا ٹنڈن ان کے قریب آئیں...دونوں کی منگنی بھی ہوئی، مگر یہ رشتہ شادی تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہوگیا...اس کے بعد 1997 سے 2000 تک شلپا شیٹی کے ساتھ ان کے تعلقات بھی فلمی دنیا میں خاصے زیرِ بحث رہے، لیکن یہ رشتہ بھی ایک تلخ انجام پر پہنچا... شلپا نے اکشے پر بے وفائی کے الزامات لگائے اور کہا کہ اس نے اسے بالی ووڈ کے پہلے سپر اسٹار راجیش کھنہ کی بیٹی ٹوئنکل کھنہ کے لیے چھوڑ دیا، جس سے بعد میں اکشے نے شادی کرلی، اکشے نے ان الزامات کی تردید بھی کی... عائشہ جھلکا کے ساتھ بھی اکشے کا نام جوڑا گیا اور دونوں کے مبینہ تعلقات کی خبریں سامنے آتی رہیں... شادی کے بعد پریانکا چوپڑا کے ساتھ اکشے کی مبینہ قربت بھی فلمی میڈیا کا موضوع بنی اور رپورٹس کے مطابق ٹوئنکل کھنہ نے اکشے کے پریانکا کے ساتھ کام کرنے پر اعتراض کیا تھا...

پھر وقت نے انہیں کامیڈی کی دنیا میں پہنچا دیا، ”ہیرا پھیری“ سے شروع ہونے والا یہ سفر آگے بڑھتا گیا اور اکشے کے قہقہوں نے ایک نئی دنیا آباد کردی...

میری خواہش ہے کہ وہ صرف وہیں تک محدود رہے تو اچھا ہے، کیونکہ وہ فنکار ہے اور فن سے وابستہ لوگوں کے لیے دل میں نفرت نہ ہو تو اچھا ہے...

کیونکہ جب من کے دھاگے ٹوٹتے ہیں نا، تو زندگی کی مالائیں بھی بکھر جاتی ہیں...

اس لیے میں چاہتا ہوں کہ وہ اپنے ماضی میں کی گئی غلطیوں سے سیکھے، ایک بار پھر واپس آئے، اپنی ان جڑوں کی طرف لوٹے جو اس کی اصل پہچان ہیں...

میں اپنے اسی اکشے کی واپسی کا منتظر ہوں...

سرمد ادل سولنگی / Film Walay فلم والے

اج یاداں تیریاں آئیاں۔۔۔۔آج نو ستمبر ہے۔ اگر آپ قوالی سے تھوڑا بہت بھی لگاؤ رکھتے ہیں تو یہ تاریخ آپ کے لیے عام تاریخ نہ...
10/09/2026

اج یاداں تیریاں آئیاں۔۔۔۔
آج نو ستمبر ہے۔ اگر آپ قوالی سے تھوڑا بہت بھی لگاؤ رکھتے ہیں تو یہ تاریخ آپ کے لیے عام تاریخ نہیں ہونی چاہیے.کیونکہ آج ہی کے دن ایک ایسا فنکار ہم سے بچھڑا تھا جس کی انگلیاں تین دہائیاں اُس آواز کے ساتھ چلتی رہیں جسے دنیا نے شہنشاہِ قوالی کا خطاب دیا۔ یعنی شہنشاہ قوالی استاد نصرت فتح علی خان کے چھوٹے بھائی،راحت فتح علی خان کے والد محترم فرخ فتح علی خان۔وہ فنکار جس کے بغیر نصرت کی سحرزدہ کر دینے والی وہ آواز، جسے آج پوری دنیا یاد کرتی ہے، شاید ادھوری رہ جاتی۔

جب قوالی کی بات ہو تو ایک ایسے خاندان کا ذکر بھی ناگزیر ہو جاتا ہے جس نے صدیوں سے اس فن کی روایت کو سینے سے لگا کر زندہ رکھا۔یعنی عظیم کلاسیکی گائیک استاد فتح علی خان کا خاندان۔اسی خاندان میں 25 دسمبر 1952 کو فرخ فتح علی خان نے جنم لیا۔ تصور کیجئے۔ ایسے گھر میں پیدا ہونا کیسا ہوتا ہوگا جہاں ہر وقت موسیقی گونجتی ہو، راگ لہراتے ہوں،سر بکھرتے ہوں،جہاں قوالی سب کیلئے پیشے کی بجائےزندگی سے زیادہ اہمیت رکھتی ہو۔روحانی نسبت اور عشق مسلسل بھی ہو۔ فرخ اسی ماحول میں پلے بڑھے۔ ابا استاد فتح علی خان، چچا استاد مبارک علی خان، اور بڑا بھائی نصرت، یہ سب ان کے اردگرد ہی موجود تھے۔ کہیں پڑھا تھا کہ شروع میں فرخ نصرت کے ساتھ بیٹھتے تھے، انہیں سنتے، سیکھتے اور گاتے بھی تھے۔نصرت نے ایک محفل میں خود کہا تھا کہ "میں نے ابتدا میں طبلہ سیکھا تھا، مگر جلد ہی میں نے پوری توجہ گائیکی کی طرف کرلی" مطلب نصرت نے آواز اور فرخ نے ہارمونیم سے دوستی کر لی۔اور پھر 1971 میں فرخ باقاعدہ طور پر نصرت کی قوالی پارٹی کا حصہ بن گئے۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ جیسے فرخ نے شعوری طور پر اپنی زندگی کسی اور کی دنیا کے حوالے کر دی ہو۔

فرخ کے اسی جذبے نے اگلے چھبیس برسوں کی بنیاد رکھی۔ شاید فرخ نصرت کے پہلو میں یوں بیٹھے کہ جیسے نصرت کی آواز ہی ان کی دنیا ہو، موسیقی ان کی پہچان اور ہارمونیم ہی ان کا مقدر۔ نصرت کی آواز کے ساتھ فرخ کے ہارمونیم سے نکلتے سُر یوں گھل مل جاتے جیسے ایک ہی سانس کے دو رخ ہوں۔ اسی لیے فرخ کا نصرت کے پہلو میں بیٹھنا دراصل اپنی زندگی کے لیے ایک الگ ہی دنیا منتخب کرنا تھا۔
نصرت کی پارٹی میں لوگ آتے رہے، جاتے رہے، مگر صرف دو فنکار ایسے تھے جو 1971 سے لے کر 1997 میں نصرت کے انتقال تک، پورے چھبیس برس، ایک لمحے کے لیے بھی ساتھ نہیں چھوڑا۔ طبلہ نواز استاد دلدار حسین، اور خود فرخ فتح علی خان۔انکے علاوہ استاد عطاء فرید بھاگ بھی اوائل جوانی سے نورت وجی رحلت تک ساتھ رہے۔چھبیس سال کم عرصہ تو نہیں ہوتا۔ اتنے طویل عرصے تک کسی ایک آواز کے ساتھ جڑے رہنا، اس کے ہر اتار چڑھاؤ کو سمجھنا، سانس اور اس کے اشاروں کو پہچاننا، یہ صرف ساز بجانا نہیں، بلکہ پوری زندگی اس آواز کے ساتھ جینا ہوتا ہے۔

قوالی ایسا کلام نہیں جو ایک بار لکھا جائے اور ہر بار اسےویسے ہی گایا جائے۔ محفل کا جوبن، سامعین کا جوش، گلوکار کا موڈ،یہ سب مل کر ہر بار ایک ہی قوالی کو ہربار ایک نئی قوالی بنا دیتے ہیں۔ ایک شعر کئی بار دہرایا جا سکتا ہے،ایک تان اچانک بہت دور تک جا سکتی ہے، پوری محفل ایک ہی لمحے میں ایک نئے جوش میں ڈوب جاتی ہے۔ ایسے میں ہارمونیم بجانے والے کے پاس سوچنے کا وقت نہیں ہوتا، فیصلہ اسی لمحے کرنا پڑتا ہے۔اور یہیں فرخ صاحب دوسروں سے ممتاز تھے۔ ان کی انگلیاں ہارمونیم پر اس قدر آزاد تھیں کہ وہ جس سر کی طرف چاہتے، بڑی آسانی سے پہنچ جاتے تھے، حالانکہ عام سازندوں کے لیے سُر بدلنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ اور ان کی دوسری خوبی اس سے بھی زیادہ حیران کن تھی۔ اگر نصرت کلام گاتے گاتے اچانک راستہ بدل لیتے یا دھن کو کسی نئی سمت موڑ دیتے تو فرخ کو نہ سوچنے کے لیے رکنا پڑتا،نہ پیچھے رہ جانے کا خوف ہوتا۔بلکہ ان کی انگلیاں بھی نصرت کی گائیکی کے نئے راستے پر چل پڑتیں۔ وہ نصرت کی آواز کے پیچھے نہیں بھاگتے تھے بلکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ چلتے تھے،انکا ہارمونیم اور آواز کبھی سہارا دیتے تو کبھی اگلے قدم کے لیے راستہ بناتے۔

ایک اور بات جو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ہارمونیم بجانا صرف انگلیوں کا کام نہیں۔ اس کے پیچھے دھونکنی ہوتی ہے، جسے بائیں ہاتھ سے مسلسل چلانا پڑتا ہے تاکہ آواز میں کوئی رکاوٹ نہ آئے، سانس نہ ٹوٹے۔ فرخ اس کام میں بھی کمال رکھتے تھے۔نصرت کی محفلوں کی وڈیوز دیکھنے والے جانتے ہیں کہ پارٹی میں فرخ کا کردار صرف ہارمونیم بجانے تک محدود نہیں تھا۔بلکہ وہ کلاسیک گائیکی پر عبور رکھتے تھے اور نصرت و ہمنوا کیساتھ ساتھ آواز بھی دیتے تھے۔کئی مشہور قوالیوں کی دھنیں بنانے میں بھی ان کا براہ راست حصہ رہا۔ موسیقار اور روح رواں تو ظاہر ہے نصرت جی ہی تھے،مگر ان کے ساتھ مل کر دھن بنانے میں فرخ کا حصہ بھی بہت اہم تھا۔ نصرت نے خود ایک انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ"کئی ایسی قوالیاں،گیت ہیں جن کی دھنیں دراصل فرخ نے بنائی تھیں"۔

یہاں ایک دلچسپ مگر تھوڑا سا افسوس ناک امر بھی ہے کہ جس شخص کی فنکارانہ حیثیت اتنی مضبوط تھی، وہ دنیا کے سامنے زیادہ تر کسی اور کے نام سے پہچانا گیا۔ دنیا نے نصرت کو دیکھا، سنا اور نصرت شہنشاہِ قوالی بن گئے۔ مگر ان کے پہلو میں بیٹھا شخص،جوہر لمحہ نصرت کے ساتھ موسیقی کی زبان میں بات کر رہا تھا تصویر کے کنارے پر ہی رہ گیا۔ ویسے دیکھا جائے تو فرخ کی یہ بدقسمتی نہیں تھی کہ وہ نصرت کے بھائی تھے۔ بلکہ یہ تھی کہ وہ ایک ایسے غیرمعمولی گلوکار کے بھائی تھے جس کی آواز کے سامنے باقی سب کچھ دھندلا جاتا تھا لیکن اس کے باوجود دنیا میں فرخ کو الگ سے بھی پہچانا گیا۔وہ جب نصرت کے ساتھ برطانیہ کے دوروں پر جاتے تو وہاں کے سامعین نے انکی ہارمونیم پر مہارت دیکھ کر انہیں ایک خاص نام دیا
" ہارمونیم کا راجہ"
یعنی ہارمونیم کا بادشاہ۔۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ بیرون ملک وہ سامعین جو ہماری زبان اور ثقافت سے واقف بھی نہیں تھے،انہوں نے پھر بھی فرخ کی مہارت کو الگ سے محسوس کیا۔مثلا بیس جولائی 1985، کو مرسی آئی لینڈ ایسیکس میں نصرت اور ان کی پارٹی نے ایسے سامعین کے سامنے پرفارم کیا جن میں تقریںا تمام ہی یورپین تھے۔محفل تقریباً چار گھنٹے تک سر بکھیرتی رہی۔اور یہی محفل قوالی کے عالمی سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ بھی بنی کیونکہ اسی محفل کے بعد نصرت کا رابطہ پیٹر گیبریل اور ریئل ورلڈ ریکارڈز سے ہوا اور اس پورے سفر میں فرخ کا ہارمونیم ویسے ہی ساتھ چل رہا تھا جیسے برسوں سے چل رہا تھا۔

اس کے بعد پیرس، ٹوکیو، امریکہ کے کئی بڑے شہر،ہر جگہ نصرت کی آواز اور فرخ کا ہارمونیم ساتھ ساتھ سفر کرتے رہے۔ 1994 میں رائل البرٹ ہال، لندن کی مشہور محفل بھی اسی سفر کا حصہ تھی،جس میں فرخ کی آواز اور ساز دونوں شامل تھا۔۔
نصرت کی آواز میں ہی گایا گیا کلام ہے،

ایس توں ڈاڈھا دکھ نہ کوئی
پیار نہ وچھڑے۔۔۔
دنیا وچھڑے نئیں پروا
دلدار نہ وچھڑے۔۔۔۔
کسے دا یار نہ وچھڑے۔۔

اور فرخ کا یاروں جیسا بھائی نصرت 1997 میں فرخ سے بچھڑ کر انہیں ذندگی کا سب بڑا دکھ دے گیا۔میرے خیال میں اس کیفیت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جو اس دن فرخ پر گزری ہوگی۔ چھبیس سال بھائی کیساتھ مل کر گانا، ہارمونیم بجانا اور پھر ایک دن وہ آواز ہمیشہ کیلئے خاموش ہوجائے جس کے سہارے ان کی انگلیاں جیتی تھیں۔۔فرخ کیلئے نصرت جی کا جاناصرف بھائی کا بچھڑنا نہیں تھا بلکہ اس پوری دنیا کا کھونا تھا جو نصرت کے ساتھ ہی چلی گئی تھی۔ چھبیس سال کی رفاقت، ہزاروں محفلیں، ہزاروں سانسیں جو دونوں نے مل کر لی تھیں، وہ سب اچانک ایک خاموشی میں بدل گئیں۔

کہتے ہیں کہ بچھڑنے کا دکھ وقت کے ساتھ کم ہو جاتا ہے۔مگر بابا بلھے شاہ کہتے تھے کہ عشق کبھی مٹتا نہیں،بس اپنا روپ بدل لیتا ہے۔شاید فرخ کے اندر بھی نصرت کی یاد نے یونہی روپ بدل لیا تھا۔درد سے خاموشی میں،خاموشی سے ذمہ داری میں۔۔
لاکھ ڈھونڈا، مگر نہیں مِلا کہیں
وُہ سُکوں، جو تیرے پہلو میں تھا
شاید فرخ نے بھی وہ سکون بہت ڈھونڈا ہوگا جو نصرت کے ساتھ بیٹھ کر ہارمونیم بجانے میں ملتا تھا۔۔۔پارٹی کی قیادت ان کے بیٹے راحت فتح علی خان کے پاس آ گئی اور فرخ نے اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ ایک بار نصرت جی نے فرخ سے کہا تھا کہ "مجھے راحت بیٹے کی طرح دے دو، تاکہ میں اس کی تربیت کر سکوں"
اور فرخ نے جواب دیا تھا کہ وہ ہمیشہ سے ہی تمہارا ہی بیٹا ہے۔شاید یہی وجہ تھی کہ راحت کی تربیت میں نصرت کا براہِ راست ہاتھ رہااور بعد میں فرخ نے بھی اپنے بیٹے کو سنبھالا رہنمائی دی، مگر خود آگے آنے کی کوشش کبھی نہیں کی۔ایک بھائی کا غم دل میں لیے، وہ دوسرے کے بیٹے کی پرورش میں لگ گئے۔

انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی وہ روشنی نہیں مانگی جو ان کا حق تھی بلکہ بھائی کے سائے میں رہ کر بھی مطمئن رہے،کیونکہ شاید ان کے نزدیک اصل بات موسیقی تھی،ہارمونیم سے عشق تھا۔۔۔نام و شہرت نہیں ، صرف چھ سال بعد، 9 ستمبر 2003 کو صرف پچاس برس کی عمر میں وہ ہاتھ جو برسوں نصرت کی آواز کے ساتھ ساتھ ہارمونیم پر دھنوں کے ساتھ چلتے رہے۔ ہمیشہ کے لیے ساکت ہو گئے۔ فرخ فتح علی خان بھی اپنے بھائی کے پیچھے اسی راستے پر چل دیے، جس پر چھ برس پہلے نصرت جا چکے تھے۔۔۔ جیسے دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے سے وعدہ کر رکھا ہو کہ جدائی زیادہ لمبی نہیں ہوگی۔
یہ خواب ہے کہ حقیقت، خبر نہیں امجد
مگر ھے جینا یہیں پر، یہیں پہ مرنا ھے..

اور یوں دو بھائی،جنہوں نے مل کر قوالی کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا،صرف چھ برس کے فاصلے پر ایک دوسرے سے جا ملے۔ ایک نے آواز دی تھی، دوسرے نے اس آواز کو سر بخشا تھا، اور اب دونوں اسی خاموشی میں جا سوئے جہاں سے کوئی آواز واپس نہیں آتی۔ فنکار مر جاتے ہیں،مگر سروں کی دنیا میں ان کی انگلیوں کے نشان بہت دیر تک باقی رہتے ہیں۔

آج فرخ فتح علی خان کی برسی یے۔ انتظامی اراکین اور ممبران استاد فرخ فتح علی خان کی موسیقی کیلئے گراں قدر خدمات پر خراج پیش کرتے ہیں۔موسیقی کیلئے آپ کی خدمات،ہارمونیم سے آپکی محبت، آپ کا عشق، یہ سب آج بھی ہمارے دلوں میں اسی طرح زندہ ہے جیسے کل تھا۔ اور جیسے کل بھی رہے گا۔اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔ درجات بلند کرے اور نصرت سمیت آپ دونوں بھائیوں کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے۔ آمین۔

فیض رسول مغل / Film Walay فلم والے

بابا! آپ کو نہیں لگتا کہ ٹائٹینک کے تھیم سونگ سے بہتر کوئی گانا اس فلم کے لیے ہو ہی نہیں سکتا تھا؟اپنی بیٹی کی اس بات سے...
10/09/2026

بابا! آپ کو نہیں لگتا کہ ٹائٹینک کے تھیم سونگ سے بہتر کوئی گانا اس فلم کے لیے ہو ہی نہیں سکتا تھا؟
اپنی بیٹی کی اس بات سے مجھے بھی مکمل اتفاق ہے۔ فلم ٹائٹینک کا لازوال نغمہ My Heart Will Go On سن کر ہر شخص یہی محسوس کرتا ہے جیسے یہ بنا ہی اس تاریخی المیے کے لیے تھا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اسے 1912 کے اس دردناک حادثے کی روح کو ذہن میں رکھ کر تخلیق کیا گیا تھا۔

اس سحر انگیز دھن کے خالق جیمز ہارنر تھے جنہوں نے آئرش فلوٹ کی مسحور کن آواز اور سمندر کی لہروں جیسا آرکسٹرا ملا کر ایک ایسی فضا قائم کی جو سننے والے کو سیدھا ماضی کے اس تاریخی سفر میں لے جاتی ہے۔ گانے کے ابتدائی بول فلم کی ہیروئن روز کے ان دلی احساسات کی عکاسی کرتے ہیں جو حادثے کے دہائیوں بعد بھی جیک کی یادوں کو اپنے خوابوں میں زندہ رکھتی ہے۔

مگر اس تاریخی گانے کی تخلیق کے پیچھے ایک انتہائی دلچسپ پس منظر بھی ہے۔ فلم کے ڈائریکٹر جیمز کیمرون شروعات میں کسی بھی بول والے گانے کے سخت خلاف تھے کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ اس سے فلم کا تاریخی اور سنجیدہ تاثر متاثر ہو گا۔ لیکن جیمز ہارنر نے ہار نہ مانی۔ انہوں نے مشہور گلوکارہ سیلین ڈیون کو آمادہ کیا اور خفیہ طور پر نیویارک کے ایک اسٹوڈیو میں محض ایک ہی ٹیک میں اس کا ڈیمو ریکارڈ کروا لیا۔

جب یہ ریکارڈنگ جیمز کیمرون کو سنائی گئی تو وہ انتہائی متاثر ہوئے اور انہوں نے فوراً اسے اینڈ کریڈٹس کا حصہ بنا لیا۔ ایک اور دلچسپ واقعہ یہ بھی ہے کہ سیلین ڈیون خود بھی شروع میں اسے گانے کے لیے تیار نہیں تھیں لیکن اپنے شوہر کے اسرار پر انہوں نے مائیک سنبھالا اور وہ پہلا ڈیمو اتنا زبردست ثابت ہوا کہ وہی فائنل ٹریک بن گیا یوں ایک شاہکار فلم اور تاریخ کے سب سے رومانی و الم ناک نغمے نے مل کر ایک ایسا جادو جگایا جو آج تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ہر دل کو چھو لیتا ہے۔

جنید احمد / Film Walay فلم والے

میرے ممبئی کے کئی دوست اور عزیز جب کبھی حاجی مستان اور داؤد ابراہیم  کا ذکر کرتے تو کبھی ان کے لئے کوئی ملامتی جملہ نہ ک...
10/09/2026

میرے ممبئی کے کئی دوست اور عزیز جب کبھی حاجی مستان اور داؤد ابراہیم کا ذکر کرتے تو کبھی ان کے لئے کوئی ملامتی جملہ نہ کہتے۔ ان کے بقول یہ سب بمبئی میں مسلمانوں کی جان و مال کے محافظ تھے اور ان کی وجہ سے ہندوؤں کی ہمّت نہیں ہوتی تھی کہ مسلمان محلّوں میں کوئی کاروائی کرسکیں۔

اور یہی نہیں بچپن سے سلطانہ ڈاکو، بھوپت ڈاکو، رابن ہڈ، ولیم ٹیل، عجب خان، پھولن دیوی وغیرہ کے قصے جب بھی سنے، سنانے والوں کے منہ سے ان کی برائی کم سنی۔ انہیں بہادری اور ہمدردی کا پیکر بتایا جاتا جو امیروں کو لوٹ کر غریبوں کی مدد کرتے۔ ایسا ہر کردار کسی ظلم کے نتیجے میں برائی کی طرف مائل ہوتا۔دلیپ کمار کی گنگا جمنا، محمدعلی ، شمیم آرا کی آگ کا دریا اور بہرام ڈاکو، سنگرام، شیر خان اور اس جیسی کہانیوں میں وحشت و بربریت کے ان کرداروں کو عموماً ہیرو کے رول میں پیش کیا جاتا۔

میں کبھی سمجھ نہیں پایا کہ نیکی اور بدی کے ان متضاد کرداروں کو دکھا کر ہماری کون سی جبلت کی تسکین ہوتی ہے لیکن دیکھا جائے تو اکثر فلمی کہانیاں اور لوک داستانیں تقریباً اسی قسم کی ہوتی ہیں۔ اکثر فلموں میں تو یہ منفی کردار یعنی ولن تو ہیرو سے بھی زیادہ مقبول ہوجاتے ہیں اور ایسے بہت سے ولن گذرے جن کی وجہ سے لوگ سنیما ہال کا رخ کرتے ہیں۔ حالانکہ اس بے چارے ولن کی زندگی بڑی ہی بری ہوتی ہے۔ چھ فٹ کا تگڑا سا ولن ، ٹِڈّی جیسے ہیرو سے مار کھاتا رہتا ہے، ہیروئن کی گالیاں سن کے بھی بد مزہ نہیں ہوتا، ساری فلم کے دوران اس کی چلتی ہے لیکن آخر میں ذلت اور خواری اس کا مقدر بنتی ہے۔ ایک ظلم یہ ہوتا ہے کہ اس غریب کی کبھی شادی نہیں ہوتی۔ اس کی ساری چالبازیوں اور سازشوں کے نتیجے میں ہیروئن کا باپ شادی کے لیے راضی ہوجاتا ہے، شادی کا منڈپ سج جاتا ہے، روتی دھوتی دلہن گھونگٹ کاڑھے بیٹھی ہوتی ہے، باہر شہنائی بج رہی ہوتی ہے۔ مہمان رنگ بر نگے کپڑے پہنے یہاں وہاں کھڑے ہوتے ہیں، پنڈت اشلوک پڑھ رہا ہوتا ہے یا مولوی نکاح پڑھانے والا ہوتا ہے کہ اچانک ایک آواز آتی ہے۔۔۔” رک جائیے مولی ساب۔ یہ شادی نہیں ہوسکتی”

سارے حاضرین مڑ کر اس آواز کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ ہیرو ایک پولیس انسپکٹر اور دو سپاہیوں کے ساتھ شامیانے میں داخل ہورہا ہے۔ ہیرو حاضرین کو ولن کے سارے کرتوتوں اور سازشوں سے آگاہ کرتا ہے۔ ہیروئن کا باپ اتنی بڑی بریکنگ نیوز سن کر غش کھانے لگتا ہے کہ پولیس انسپکٹر آگے بڑھ کر بغیر کسی سمن یا وارنٹ کے ولن کے ہاتھوں ہتھکڑی ڈال دیتا ہے۔ تماشائی حق کی فتح پر تالیاں بجاتے ہیں۔ ہیرو کی ایمانداری سے متاثر ہو کر ہیروئن کے باپ کی حالت سنبھل جاتی ہے اور وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ اس نیک نوجوان کے ہاتھ میں دینے کا اعلان کرتا ہے اور وہ باراتی جو ولن کے ساتھ آئے تھے اب ہیرو کی شادی میں شامل ہوجاتے ہیں ۔شہنائی کی آواز تیز ہوجاتی ہے۔اور تماشائی ہنسی خوشی اپنے گھر جاتے ہیں۔

یہی ولن جو انتہائی شاطر ہے اور اڑتی چڑیا کے پر گن لیتا ہے، اکثر آخری سین میں جب اس نے ہیرو کی ماں اور چھوٹے بھائی کو ستونوں سے باندھا ہوا ہے اور چاروں طرف اس کے گرگے بندوقیں تانے کھڑے ہوتے ہیں کہ ہیروئن ایک پتلی سی جِھلّی کی نقاب اوڑھے اور ہیرو ایک باریک سی مونچھ لگا کر گانا بجانے والوں کے روپ میں داخل ہوتے ہیں، سارا ہال جنہیں پہچان کر تالی بجاتا ہے لیکن ولن ان دونوں کو نہیں پہچان پاتا۔
فلم کے دوران ولن کو سارے تماشائی گالیاں دیتے رہتے ہیں لیکن اگر یہ ولن فلم میں نہ ہو تو فلم ایسی ہی بے مزہ ہوتی ہے جیسے ہسپتالوں کے نمک مرچ کے بغیر کھانے جو مریضوں کو دیے جاتے ہیں۔ پاک و ہند میں ایسے کئی ولن ہیں جن کے بغیر ہماری فلموں کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔ تقریباً ہر فلم میں ہی ایک ولن ہوتا ہے چنانچہ ولنوں کی ایک کثیر تعداد ہے لیکن آج ہم چند ایک ایسے بدمعاشوں کی بات کرتے ہیں جن کی بدمعاشی میں بھی ایک آن بان ہے اور جو اپنے مخصوص انداز اور کرداروں سے پہچانے جاتے ہیں۔ میرے دوست رنجیت، شکتی کپور، گلشن گرور جیسے چھٹ بھئیوں کے نام لیں گے جنہیں سوائے لڑکیوں کی عزت لوٹنے اور فراڈ کرنے کے کوئی کام نہیں آتا۔ لیکن میں ان چنیدہ ولنوں کا ذکر کررہا ہوں جن کا اپنا ایک معیار ہے اور ولن ہونے کے باوجود وہ عام زندگی میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور دیکھے جاتے ہیں.۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلم پرویز

“ جمیلہ رو۔۔جمیلہ رو۔۔رو جمیلہ تیرا دولہا مرگیا ہے”
یہ میرا اسلم پرویز سے پہلا تعارف تھا۔ اور شاید یہی فلم “ سہیلی” تھی جس میں اسلم پرویز پہلی بار ولن کے روپ میں آئے تھے۔ خوبرو اور خوش لباس اسلم پرویز، فیلٹ ہیٹ، بو ٹائی، سفید کوٹ اور کالی پتلون میں کسی ہیرو سے کم نہیں لگتے۔ اور سنا ہے کہ ولن بننے سے پہلے پاکستان میں سب سے زیادہ ہیرو کے کردار اسلم پرویز نے ہی کئے تھے۔ ان کی بطور ہیرو فلمیں “نیند” اور “رہگذر؀ دیکھیں جن میں وہ ولن جیسے لگے۔ لیکن رواج اور سہیلی جیسی فلموں میں وہ ولن تھے لیکن ہیرو لگے۔ بہرحال اپنے وقتوں میں وہ بطور ولن ہر فلمساز کی اولین پسند ہوتے تھے۔ ان کا مکالمے بولنے کا ایک مخصوص انداز تھا اور بدمعاش ہونے کے باوجود بھی پڑھے لکھے نظر آتے۔
ٹریفک کے ایک حادثے نے پاکستان کی فلمی صنعت کا سب سے خوبرو ولن ہم سے چھین لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ادیب
“رومن قوم کے ذلیل کتّے”
یہ شاید ادیب کے لئے کہا گیا تھا اور فلم تھی غالبا “عادل” ۔۔میں نے عادل نہیں دیکھی۔ میں نے ادیب کی کوئی فلم نہیں دیکھی۔ میں نے عادل کو ساٹھ کی دہائی میں جب کراچی ٹیلیویژن نیا نیا شروع ہوا تھا، بچوں کے لئے ایک تعلیمی پروگرام میں “ سر سید احمد خان” کے روپ میں دیکھا تھا۔ لیکن ایک وقت تھا کہ فلموں کے شائقین کے لبوں پر ادیب کا نام ہوتا تھا۔ ہمارے ایک استاد گنجے تھے اور یاروں نے ان کا نام ادیب رکھا ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مظہر شاہ
“ اوئے میں ٹبّر کھانداں، ڈکار ناں لینداں۔۔اؤےےےےےے”
ہیرو اور ہیروئن اچھے بھلے کھیتوں میں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ ہیروئن کدکڑیاں لگاتی پھر رہی ہے، ہیرو اس کے پیچھے دانت نکالے دوڑا چلا آرہا ہے کہ اچانک گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز آتی ہے۔ گھوڑے پر سوار جوان گھوڑے کو قابو کرتا ہے اور بڑھک مارتا ہے “ اوئے۔۔۔میں ٹبّر کھانداں۔۔”
یہ مظہر شاہ ہے۔ پنجابی فلموں کا مقبول ولن..۔ اسے فلم میں لیا ہی اسی شرط پر جاتا ہے کہ یہ بڑھک ضرور مارے گا اور ٹبر کھانے والا مکالمہ ضرور بولے گا۔ میں نے شاید مظہر شاہ کی ایک دو ہی فلمیں دیکھی ہیں لیکن ایک زمانے میں مظہر شاہ، ساون اور الیاس کاشمیری پنجابی فلموں کے لیے لازم وملزوم تھے اور ان سب میں مظہر شاہ اپنی بڑھک کے لیے مشہور تھے۔ پردے پر ان کی آمد کے ساتھ ہی تالیاں گونجنے لگتیں جو کہ ہیرو کے لیے کبھی نہ بجتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصطفیٰ قریشی

“ نواں آیا ای سوہنیا؟”
سرگوشی کرتی ہوئی آواز میں یہ سوال فلم بینوں کے دل کو چھو جاتا۔ کہاں تو یہی فلم بین مظہر شاہ کی بڑھکوں کے عادی تھے اور اب بھی سلطان راہی کی بڑھکیں سنتے تھے۔ لیکن مصطفٰی قریشی نے مکالمہ بازی کا نیا انداز متعارف کرایا۔ “ لاکھوں میں ایک” سے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کرنے والے مصطفٰی قریشی نے عندلیب اور دیگر اردو فلموں میں اچھا خاصا نام کمایا تھا کہ سندھی بولنے والے اس اداکار کے جی میں نجانے کیا آیا کہ پنجابی فلموں میں کام شروع کردیا اور وہ بھی ایسے کہ سلطان راہی اور مصطفٰی قریشی کے بغیر پنجابی فلم بنانے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
“ مولا جٹ” کا یہ مکالمہ “جے تو وساکھی لے کر چلے گا تو تیری وساکھی وچ کھٹ کھٹ دی نئی نت نت دی اواج آئے گی” آپ چاہے ہزار بار سنیں، ہر بار ایک نیا لطف آئے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پران

“پتہ ہے شکورساب ؟پران بلوچ ہے!”
“نہیں یار۔ میں نے تو سنا ہے وہ پنجابی ہے۔ نورجہاں کی پہلی فلم کا ہیرو تھا۔”
“ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ پران بلوچ ہے “ مراد علی اپنی بات پر اڑا ہوا تھا۔
“ وہ کیسے” میں اس کی کج بحثی سے چڑ رہا تھا۔
“ وہ آخر تک بندوق نہیں پھینکتا۔ بلوچ بھی مرجاتا ہے لیکن بندوق نہیں پھینکتا” مراد علی بلوچ نے دلیل پیش کی۔

نوجوان مراد علی بحرین میں ہمارے بنک میں آفس بوائے تھا۔ فلموں کا شوقین۔ پران اور راج کمار اس کے پسندیدہ اداکار تھے۔ راج کمار اس لئے کہ لورالائی میں پیدا ہوا تھا اور پران اس لئے کہ کسی فلم میں بندوق نہیں پھینکی۔ مراد علی نے تین چار فلموں کے نام گنوائے۔
“ شیر خان آج کا کام کل پر نہیں ٹالتا”۔
“شیر خان کالا دھندہ کرتا ے لیکن ایمانداری کے ساتھ”
“ تاؤ سب کے سب پھانسی چڑھیں گے”۔
اپنے مخصوص انداز میں مکالمے بولنے والا پران بھی ہمارے اسلم پرویز کی طرح پہلے ہیرو آئے پھر ولن بنے۔ ولن کے بعد کیریکٹر ایکٹر بھی ایسے بنے کہ کمال کردیا۔ پران ان اداکاروں میں تھے جو اپنے کرداروں کو سمجھ کر کرتے تھے نہ کہ ہدایتکار کی ہدایتکاری کے محتاج ہوتے تھے۔ پران صاحب اکثر اپنا گیٹ اپ خود منتخب کرتے اور اکثر مکالمے میں بھی اپنی مرضی سے ردوبدل کرتے۔

فلم “جس دیش میں گنگا بہتی ہے “ میں وہ اکثر مکالمے بولتے ہوئے، خصوصا ایسی مکالمے جس میں پریشان یا غصہ میں دکھایا گیا ہو، وہ اپنے کالر کے اندر انگلی ڈال کر گردن پر پھیرتے۔ یہ اس بات کی علامت تھا کہ پران جو فلم میں ایک ڈاکو ہیں انہیں لاشعور میں ہر وقت پھانسی کے پھندے کا خیال رہتا ہے اور اضطراب کی حالت میں بے اختیار اپنی گردن پر انگلی پھیرتے ہیں۔

ایک اور دلچسپ واقعہ فلم زنجیر کا ہے جس میں انہوں نے پٹھان کا کردار کیا تھا۔ کہانی کے مطابق انہیں پٹھانوں والی پگڑی پہننی تھی تاکہ اپنے دوست کی رہائی کے لئے مہاجن سے قرض مانگتے وقت رہن رکھنے کے لئے پگڑی دے سکیں۔ لیکن پران نے اصرار کیا کہ وہ پگڑی نہیں باندھیں گے بلکہ خیبر کے آس پاس کے کسی علاقے کے پٹھانوں کی طرح پٹے دار بال رکھیں گے۔ اب اس صورت میں رہن کیا رکھا جائے ؟۔
پران نے کہا کہ یہ مجھ پر چھوڑ دیں۔ مہاجن اپنے مکالمے بولے۔ میں اپنا مکالمہ بولوں گا۔ پران صاحب سینئیر اداکار تھے۔ ہدایتکار ان کا احترام کرتے تھے۔ انہوں نے پران صاحب کی بات مان لی۔
شوٹنگ شروع ہوئی۔ مہاجن نے کہا “ تو بھایا رہن رکھنے کے لئے بھی کچھ ہے؟”
“ پٹھان کی مونچھ کا بال “ پران نے اپنی مونچھ سے ایک بال اکھاڑ کر مہاجن کے حوالے کیا
“ رہنے دے بھایا۔ کھرے آدمی اور کھوٹے سکے کی منے اچھی طرح خبر ہے” یہ مکالمہ ہوا اور سیٹ تالیوں سے گونج اٹھا۔
آج کوئی فنکار ہے ایسی سمجھ بوجھ اور مطالعے والا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اجیت

“بر خوردار”
ہیرو کو اتنی نرمی سے شاید ہی کوئی ولن پکارتا ہو۔
“ مونا ڈارلنگ”۔۔لائن کو صرف دو چیزیں پسند ہیں ۔ مونا۔۔اور مونا کے ساتھ سونا”
اور یہ لائن شاید ہندوستان میں سونے کے سب سے بڑے اسمگلر تھے جن کا سونا ہمیشہ و رسوا بیچ یا مجگاؤن ڈاک پر آتا تھا۔ حکومت ہند کو چاہئیے کہ ان بندرگاہوں پر لائن کے نام سے ایک ٹرمنل قائم کردے۔
“ للی۔۔ڈونٹ بی سلی”۔۔
رااابرٹ اور مائیکل۔۔ اجیت کی زبان سے یہ مکالمے ہیرو کے گرج دار مکالموں سے زیادہ شہرت پاتے۔
حامد علی خان المعروف بہ اجیت یا لائن۔۔ہمیشہ بہترین لباس میں نظر آتے۔ آنکھوں پر سیاہ چشمہ، سفید سوٹ اور سفید جوتے۔ اور مکالموں کی ادائیگی کا نستعلیق انداز۔
بلاشبہ وہ ہندوستان کے ایک منفرد ولن تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پریم چوپڑا

“ پریم نام ہے میرا! پریم چوپڑا”
جیمز بانڈ کی طرح نام بتانے کا یہ انداز پریم چوپڑا کے ساتھ مخصوص ہوگیا۔ ہر وقت جائیداد حاصل کرنے کے لئے جوڑ توڑ میں مصروف پریم چوپڑا بھی دھیمے انداز میں مکالمے بولتے۔ یہ بھی شاید ہیرو بننے کے لئے فلموں میں آئے تھے لیکن شہرت ( یا عزت) برا آدمی بن کر ملی۔
ہمارے وزیر خارجہ جب بات کرتے ہیں تو مجھے نجانے کیوں پریم چوپڑا یاد آتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریش پوری

“موگا مبو خوش ہوا”
امریش پوری کا یا مکالمہ اب ضرب المثل بن گیا ہے۔ وہ ہندوستان کے ان اداکاروں میں سے ہیں جن کا نقش فلموں پر بہت دیر تک رہے گا۔
لیکن فلم میں زبردست طاقت کے مالک امریش پوری کا انجام بہت ہی خواری والا ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امجد خان

“ تیرا کیا ہوگا کا لیا”
“ ہوں! تو کتنے آدمی تھے؟”
“ سرکار میں نے آپ کا نمک کھایا ہے۔۔۔۔۔تو اب گولی کھا”

یہ اور نجانے ایسے کتنے مکالمے ہیں جو آج تک بچے بوڑھے کی زبان پر اور روزمرہ کی بات چیت میں شامل رہتے ہیں۔ لیکن امجد خان کا سفر بلندی سے نشیب کی طرف تھا۔ بلاشبہ وہ بہترین اداکار تھے اور سنجیدہ اور مزاحیہ کردار بھی عمدگی سے ادا کئے۔ لیکن جو بھاری بھرکم اور یادگار ترین کردار انہوں نے اپنی پہلی فلم “شعلے” میں ادا کیا، اس کے بعد آنے والا کوئی بھی کردار اس کے پاسنگ بھی نہیں تھا۔
لیکن ایک بات میں بلا خوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ پاک و ہند کے تمام ولنوں کے کردار ایک طرف اور امجد خان کا “ گبر سنگھ” ایک طرف۔۔ یہ کردار صرف اور صرف امجد خان ہی کرسکتے تھے۔۔ اس سے بڑھ کر کسی ولن کا کردار مشہور نہیں ہوا۔

یہ سارے بدمعاش، ڈاکو، ڈون، گینگ لیڈر، قاتل، وحشی اپنی تمام تر خباثتوں کے باوجود ہمارے دلوں میں گھر کئے ہوئے ہیں۔ اسی لئے تو میں کہتا ہوں

بدمعاش ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا۔

شکور پٹھان / Film Walay فلم والے

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Film Walay فلم والے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share