New Books Online

New Books Online Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from New Books Online, Book shop, Office no 53 Roomi Centre urdu bazar, Karachi.

الحمد للہ ایسی مقبولیت تو میری کسی کتاب کو نہیں نصیب ہوئی جیسی مقبولیت شاہانہ خٹک کے پہلے ناول کو ملی ۔ایک ماہ سے بھی کم...
05/01/2026

الحمد للہ
ایسی مقبولیت تو میری کسی کتاب کو نہیں نصیب ہوئی
جیسی مقبولیت شاہانہ خٹک کے پہلے ناول کو ملی ۔
ایک ماہ سے بھی کم وقت میں
ایک ہزار کے ایڈیشن میں سے نصف آن لائن فروخت ہوگیا ۔
۔
۔
مکمل ایڈیشن فروخت ہوتے ہی
شاہانہ خٹک کا دوسرا ناول منظر عام پرآجائے گا ۔
۔
بیگم صاحبہ کو اس کام یابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد
گھر میں ہی ایسا سخت کمپیٹیشن
ہماری تو ساری پھوں پھاں ہوا ہوگئی ۔
۔
۔گھر بیٹھے منگوانے کے لیے رابطہ :
دعا بک پیلس ۔اردو بازار ۔کراچی
شعیب میمن : 03243206908
03212043587
قیمت : 2000
رعایتی قیمت پندرہ سو
ڈاک خرچ فری
۔
نوٹ : کتاب کچھ بولڈ ہے ۔
کم عمر بچے بچیاں آرڈر نہ کریں ۔
۔

چار بہترین شعری مجموعے اور ان کا تعارف ۔۔۔۔۔۔۔دھیان کے دریچے ۔۔۔۔ از رخسانہ افضل ۔۔۔۔۔۔۔رخسانہ افضل کی شاعری کا پہلا مجم...
02/09/2024

چار بہترین شعری مجموعے اور ان کا تعارف
۔۔۔۔۔۔۔
دھیان کے دریچے ۔۔۔۔ از رخسانہ افضل
۔۔۔۔۔۔۔
رخسانہ افضل کی شاعری کا پہلا مجموعہ "دھیان کے دریچے" اردو ادب میں ایک نہایت اہم اضافہ ہے۔ 2023 میں شائع ہونے والا یہ مجموعہ نہ صرف اپنے موضوعات کی گہرائی کی بنا پر قابلِ ذکر ہے بلکہ اس کی زبان میں جو لطافت اور شائستگی ہے، وہ بھی اس کو ممتاز بناتی ہے۔
رخسانہ افضل کا تعلق کراچی سے ہے، اور ان کا شعری انداز عصرِ حاضر کی روایتی شاعری سے کچھ مختلف ہے۔ "دھیان کے دریچے" کی نظمیں ایک ایسے فکری سفر کا احاطہ کرتی ہیں جو قاری کو اندرونی اور بیرونی دنیا کے رازوں میں غوطہ زن کرتی ہیں۔ ہر نظم میں ایک فلسفیانہ فکر موجود ہے جو قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔
رخسانہ کی شاعری میں محبت، وجود، اور انسانیت جیسے موضوعات پر بہت عمدگی سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان کی نظموں میں جو الفاظ کا انتخاب ہے، وہ ایک منفرد لسانی اور فکری بصیرت کا عکاس ہے۔ ان کے اشعار میں عربی اور فارسی کے الفاظ کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ مشرقی ادبی روایت سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
رخسانہ افضل کی نظموں میں ایک خاص قسم کی روحانیت کا عکس بھی دکھائی دیتا ہے۔ ان کے الفاظ میں ایک طرح کی گہرائی ہے جو دل میں اتر جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں فکر و فلسفہ کی آمیزش اس قدر خوبصورت ہے کہ قاری اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
"دھیان کے دریچے" کی قیمت 600 روپے رکھی گئی ہے، جو کہ ایک مناسب قیمت ہے اس قیمتی ادبی سرمایہ کے لیے۔ یہ مجموعہ فروخت کے لیے دستیاب ہے اور اسے اردو ادب کے شائقین کی خاصی پذیرائی ملی ہے۔
رخسانہ افضل کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے یہ کہنا ضروری ہے کہ انہوں نے اپنے کلام میں نہ صرف جدید دور کے مسائل کو اجاگر کیا ہے بلکہ روایتی اقدار اور افکار کو بھی بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری ایک ایسا آئینہ ہے جس میں قاری اپنی ذات کے کئی پہلوؤں کو دیکھ سکتا ہے۔

آخر میں، "دھیان کے دریچے" کو اردو ادب کے نئے افق کا حامل قرار دینا کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ یہ مجموعہ نہ صرف رخسانہ افضل کی تخلیقی صلاحیتوں کا عکاس ہے بلکہ اس میں اردو زبان کی خوبصورتی اور لطافت بھی بھرپور انداز میں جھلکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
باد صبا ۔۔۔۔۔ از طاہرہ مسعود
۔۔۔۔
طاہرہ مسعود، جو بیرونِ ملک مقیم ہیں، اردو ادب کی ایک منفرد اور معتبر شاعرہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ "بادِ صبا" حالیہ عرصے میں شائع ہوا ہے اور یہ مجموعہ اردو ادب کے شائقین میں بہت مقبول ہوا ہے۔ "بادِ صبا" میں شامل غزلیں اور غیر مطبوعہ کلام طاہرہ مسعود کے فکری اور شعری سفر کی ایک عمیق جھلک پیش کرتا ہے۔
"بادِ صبا" میں طاہرہ مسعود کی غزلیں اردو کی روایتی شاعری کی جمالیاتی خصوصیات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک نئی تازگی اور فکر انگیزی سے مزین ہیں۔ ان کے اشعار میں عشق، غم، اور زندگی کی پیچیدگیوں کا بیان اس قدر مؤثر انداز میں کیا گیا ہے کہ قاری ان کی گہرائی میں ڈوب جاتا ہے۔ طاہرہ کے الفاظ میں جو لسانی خوبصورتی اور فکری بلند پروازی ہے، وہ اس بات کی غماز ہے کہ وہ نہایت گہرائی سے کلاسیکی اور جدید شاعری کا مطالعہ کرتی ہیں۔
"بادِ صبا" کی اشاعت 2023 میں ہوئی اور اسے سال کے بہترین شعری مجموعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مجموعہ اس لحاظ سے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں شامل غیر مطبوعہ کلام طاہرہ مسعود کی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور عکاس ہے۔ ان کی شاعری میں عربی اور فارسی کے الفاظ کا خوبصورت استعمال ان کے فن کی اعلیٰ مہارت کا مظہر ہے۔
طاہرہ مسعود کی شاعری میں جو بنیادی عناصر پائے جاتے ہیں، ان میں ایک خاص قسم کی روحانی بصیرت اور وجودی فکر شامل ہیں۔ ان کی غزلیں قاری کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہیں اور ان کے اشعار میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کا نہایت دل نشین انداز میں بیان ملتا ہے۔ طاہرہ کی شاعری میں مشرقی ثقافت اور روایات کی جھلک نمایاں ہے، جو ان کے اشعار کو ایک منفرد رنگ عطا کرتی ہے۔
"بادِ صبا" کی قیمت 800 روپے مقرر کی گئی ہے، جو اس قیمتی ادبی شاہکار کے لیے نہایت موزوں ہے۔ یہ مجموعہ اب فروخت کے لیے دستیاب ہے اور ادب کے شائقین کے لیے ایک بیش قیمت تحفہ ہے۔
آخری بات، طاہرہ مسعود کی شاعری کا مجموعہ "بادِ صبا" اردو ادب میں ایک نئی روح پھونکتا ہے۔ یہ مجموعہ نہ صرف طاہرہ مسعود کے شعری سفر کا اہم سنگ میل ہے بلکہ اس میں اردو زبان کی لطافت، خوبصورتی اور بلاغت بھی بھرپور انداز میں جلوہ گر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
درد کی چھاؤں ۔۔۔۔ از احمد منہاج
۔۔۔۔۔۔
احمد منہاج، جو کراچی کے ممتاز قلم کار اور شاعر ہیں، نے حال ہی میں اپنے پہلے شعری مجموعے "درد کی چھاؤں میں" کے ذریعے اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ یہ مجموعہ گزشتہ بائیس برسوں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے، جس میں شامل نظمیں اردو شاعری کی جدید اور منفرد انداز کی بہترین مثالیں ہیں۔
"درد کی چھاؤں میں" کی نظمیں احمد منہاج کی گہری فکری اور جذباتی تجربات کا آئینہ دار ہیں۔ ان کی شاعری میں جو موضوعات نمایاں ہیں، ان میں درد، تنہائی، عشق، اور انسانی جذبات کی مختلف کیفیات شامل ہیں۔ ان کی نظموں میں جو لسانی چابک دستی اور خیالات کی گہرائی ہے، وہ قاری کو حیرت زدہ کر دیتی ہے۔ احمد منہاج کے اشعار میں عربی اور فارسی کے الفاظ کا حسن ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔
احمد منہاج کی شاعری کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی نظموں میں انسانی زندگی کی پے چیدگیوں کو نہایت سادہ لیکن مؤثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان کی نظموں میں موجود درد اور کرب کا احساس قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے، اور اس کا دل و دماغ ان کی فکر کی گہرائی میں اتر جاتا ہے۔
احمد منہاج نے اپنی شاعری میں مشرقی روایات اور جدید دور کے مسائل کو یکجا کیا ہے، جس سے ان کی شاعری میں ایک نیا رنگ اور تازگی پیدا ہوتی ہے۔
"درد کی چھاؤں میں" کی اشاعت 2023 میں ہوئی اور یہ مجموعہ سال کے بہترین شعری مجموعوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی قیمت 700 روپے رکھی گئی ہے، جو کہ اس اعلیٰ ادبی کاوش کے لیے نہایت مناسب ہے۔ یہ مجموعہ اب فروخت کے لیے دستیاب ہے اور اردو ادب کے شائقین کے لیے ایک نایاب تحفہ ثابت ہو رہا ہے۔
احمد منہاج کی شاعری کا یہ مجموعہ نہ صرف ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف ہے بلکہ اردو شاعری کے میدان میں ایک نئے دور کا آغاز بھی ہے۔ "درد کی چھاؤں میں" اردو ادب میں ایک اہم اضافہ ہے، جو قاری کو انسانی جذبات اور فکر کے مختلف رنگوں سے روشناس کراتا ہے۔ اس مجموعے کی نظمیں دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں اور قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔
آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ "درد کی چھاؤں میں" احمد منہاج کی فکری گہرائی اور لسانی مہارت کا شاہکار ہے، جو اردو ادب کے شائقین کے لیے ایک لازوال خزانہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
شیریں سخن ۔۔۔۔ از طاہرہ مسعود
۔۔۔۔۔۔۔
طاہرہ مسعود، اردو ادب کی ایک ممتاز شاعرہ، اپنی نادر تخلیقی صلاحیتوں کی بہ دولت آج دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم ہونے کے باوجود، ان کی شاعری میں وطن کی محبت، زبان کا حُسن اور ثقافتی رنگ نمایاں طور پر موجود ہیں۔ ان کا تیسرا شعری مجموعہ شیریں سخن" نہایت موزوں نام کے ساتھ، ان کی فن کارانہ مہارت اور جذباتی نزاکت کا آئینہ دار ہے۔
"شیریں سخن" کی غزلیں، جہاں روایتی عشقیہ مضامین کو اپنی انفرادیت سے نوازتی ہیں، وہیں عصرِ حاضر کے مسائل اور انسانی حیات کی پے چیدگیوں کو بھی انتہائی باریک بینی سے اُجاگر کرتی ہیں۔ طاہرہ مسعود کی شاعری کا خاصہ ان کا فارسی اور عربی زبان کے الفاظ کا خوش اسلوبی سے استعمال ہے، جو ان کے اشعار کو ایک لافانی چاشنی عطا کرتا ہے۔ ان کے کلام میں جہاں محبت کی شیرینی ہے، وہیں درد کی تلخی بھی ایک منفرد انداز میں جلوہ گر ہے۔
"شیریں سخن" کی اہمیت صرف اس کی غزلوں میں ہی نہیں، بلکہ اس میں شامل غیر مطبوعہ کلام میں بھی ہے، جو ان کے شعری سفر کی ابتدا سے لے کر حال تک کے تجربات اور احساسات کو محفوظ کرتا ہے۔ یہ مجموعہ 2023 کے بہترین شعری مجموعوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے، جو طاہرہ مسعود کی شعری عظمت کا ثبوت ہے۔
اس کی قیمت 900 روپے ہے، جو اس کی ادبی وقعت اور قیمتی مواد کے لحاظ سے نہایت مناسب ہے۔ **"شیریں سخن"** ہر اُس قاری کے لیے ایک لازوال خزانہ ہے جو اردو غزل کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہونے کا خواہاں ہو۔ یہ مجموعہ نہ صرف طاہرہ مسعود کی شاعری کا سنگِ میل ہے، بلکہ اردو ادب کی ثروت میں بھی ایک گراں قدر اضافہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : ادارہ
آس پبلی کیشن
۔۔۔۔۔۔
رابطہ : 03212043587
۔۔۔۔۔۔
اپنی کتابوں کی ،بہترین اشاعت کے لیے
معتبر ترین ادارہ ۔
آس پبلی کیشن ۔اردو بازار کراچی

فنا فی العشق ۔۔۔۔۔۔۔سونیا لطیف کا منفرد اور انوکھا ناول۔۔۔۔۔۔۔ناول "فنا فی العشق" از سونیا لطیف ایک ایسے جذبے کا آئینہ د...
27/08/2024

فنا فی العشق
۔۔۔۔۔۔۔
سونیا لطیف کا منفرد اور انوکھا ناول
۔۔۔۔۔۔۔
ناول "فنا فی العشق" از سونیا لطیف ایک ایسے جذبے کا آئینہ دار ہے ،جو عشق حقیقی کی بلندیوں کو چھوتامحسوس ہوتا ہے۔ یہ ناول اپنی نوعیت میں ایک منفرد تخلیق ہے، جو بین المذاھب محبت کی داستان کو بڑے ہی خوب صورت انداز میں پیش کرتا ہے۔ ناول کی کہانی ایک کرسچن ہیرو اور ایک مسلم لڑکی کے گرد گھومتی ہے، جن کا عشق مشکلات اور تضادات کا شکار ہوتا ہے، مگر اپنی روحانی اور جذباتی شدت سے پڑھنے والوں کو جکڑ لیتا ہے ۔کو مسحور کر دیتا ہے۔
سونیا لطیف نے مختصر عرصے میں اپنے منفرد اسلوب اور دلکش کہانیوں کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ وہ پہلے سوشل میڈیا پہ لکھتی تھیں ، یہ ان کا وہ ناول ہے جو ہزاروں لوگوں نے پڑھا اور پسندیدگی کی سند سے نوازا ۔ان کی تحریروں میں معاشرتی حقائق کے ساتھ ساتھ انسانی جذبات کی گہرائی اور شدت کو بڑے فن کارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ سونیا لطیف کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ پےچیدہ موضوعات کو نہایت سادہ اور موثر انداز میں پیش کرنے کا ہنر رکھتی ہیں۔ ان کے ناولوں میں عموماً رومانویت، محبت، اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے، جس سے وہ قارئین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔
جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ "فنا فی العشق" ناول ایک بین المذاھب محبت کی کہانی ہے، جس میں دو مختلف مذاھب کے پیروکاروں کے درمیان جنم لینے والی محبت اور اس کی مشکلات کو نہایت گہرائی سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ کہانی جہاں محبت کے جذبات کو اعلیٰ مقام دیتی ہے، وہیں اس میں عشق حقیقی کا تصور بھی نمایاں ہے۔ ٹوئسٹ اور ٹرن ایسے ہیں کہ پڑھنے والا سوچتا رہ جائے کہ اب کیا ہونے والا ہے ۔
ناول کا پلاٹ پیچیدہ مگر دل چسپ ہے، جو قاری کو آغاز سے اختتام تک باندھے رکھتا ہے۔ سونیا لطیف نے نہایت مہارت سے کہانی کے کرداروں کی نفسیاتی کشمکش، مذہبی تضاد ، مسائل ، اور عشق کی روحانی جہتوں کو پیش کیا ہے۔
ناول کا سب سے منفرد پہلو بین المذاھب محبت کا موضوع ہے، جو نہ صرف اردو ادب میں کم پڑھنے کو ملتا ہے بلکہ اس کو پیش کرنے کا انداز بھی نادر ہے۔ سونیا لطیف نے مذہبی اختلافات اور ان کے اثرات کو بڑی حقیقت پسندی کے ساتھ بیان کیا ہے۔
ناول میں عشق حقیقی کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ یہ کرداروں کی روحانیت اور ان کے اندرونی جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ سونیا لطیف نے عشق کے اس پہلو کو بیان کرنے کے لئے جو زبان استعمال کی ہے، وہ نہایت ہی خوبصورت اور دلکش ہے۔
سونیا لطیف کے کردار جان دار اور حقیقی معلوم ہوتے ہیں۔ انہوں نے مرکزی کرداروں کے ساتھ ساتھ ضمنی کرداروں کو بھی بڑی محنت اور محبت سے تراشا ہے، جس سے کہانی کی گہرائی اور تاثیر بڑھ جاتی ہے۔
سونیا لطیف کی یہ تخلیق اس بات کی غماز ہے کہ وہ ایک بے مثل کہانی کار ہیں۔ ان کا ناول "فنا فی العشق" نہ صرف ادب کے دلدادہ افراد کے لیے بلکہ عام قارئین کے لئے بھی ایک لازوال تحفہ ہے۔ اس ناول کی مقبولیت اس بات کی دلیل ہے کہ سونیا لطیف کے اس ناول نے رومانوی ادب میں ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔ ان کی تحریریں قارئین کو نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہیں بلکہ انہیں زندگی کے اہم سبق بھی دیتی ہیں۔
"فنا فی العشق" ایک ایسا ناول ہے جو اپنی کہانی، پلاٹ، اور کرداروں کے اعتبار سے اردو کے رومانوی ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔ سونیا لطیف نے اس ناول کے ذریعے نہ صرف محبت اور عشق کے پےچیدہ جذبات کو بڑی مہارت سے بیان کیا ہے بلکہ بین المذاھب محبت کے حساس موضوع کو بھی کام یابی سے پیش کیا ہے۔ یہ ناول بلاشبہ سونیا لطیف کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، اور اردو رومانوی ادب کے قارئین کے لئے ایک بیش بہا سرمایہ ہے۔
سونیا لطیف کے ناول "فنا فی العشق" کی یک خاص بات یہ بھہ ہے کہ یہ ناول محبت کی عظیم طاقت اور اس کی تباہ کن اثرات کو بڑی گہرائی کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اس ناول میں محبت کا تصور محض ایک رومانوی جذبے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ عشق حقیقی کے ذریعے انسان کی روحانی ترقی اور ذات کی تکمیل کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔ ناول کی کہانی مذہب اور ثقافت کے درمیان موجود فرقوں کے باوجود محبت کی وحدت پر زور دیتی ہے، اور یہ دکھاتی ہے کہ حقیقی عشق کسی بھی رکاوٹ کو پار کر سکتا ہے۔
بین المذاھب محبت کا موضوع ہمیشہ سے عالمی ادب میں ایک اہم مقام کا حامل رہا ہے۔ اس حوالے سے کئی بین الاقوامی ناولز اور کہانیاں موجود ہیں جو سونیا لطیف کے "فنا فی العشق" سے موضوعی اور اسلوبیاتی مماثلت رکھتے ہیں۔
"دی انگلش پیشنٹ"( از مائیکل اونڈاچی)
یہ ناول دوسری عالمی جنگ کے دوران ایک زخمی انگریز سپاہی اور اس کی نرس کے درمیان محبت کی کہانی بیان کرتا ہے، جہاں مذہب اور ثقافت کے اختلافات بھی موجود ہیں۔ ناول میں جنگ کی ہولناکیوں کے پس منظر میں محبت کے پے چیدہ اور دل دوز جذبات کو بیان کیا گیا ہے۔
"اے تھاؤزنڈ سپلنڈڈ سنز" (از خالد حسینی)
یہ ناول افغانستان کے پس منظر میں دو خواتین کے درمیان محبت اور دوستی کی کہانی ہے، جن کی زندگیوں میں مذہب اور ثقافت کا فرق اہم کردار ادا کرتاہے۔ سونیا لطیف کے ناول کی طرح، یہ ناول بھی محبت کی قوت اور اس کے نتائج کو بڑی گہرائی کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
"دی گارڈن آف لاز" (از امیتاوا گھوش)
یہ ناول بھارت میں 18ویں صدی کے دوران ایک مسلمان عورت اور ایک انگریز آدمی کے درمیان محبت کی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس ناول میں بھی بین المذاھب محبت اور اس کی مشکلات کو دکھایا گیا ہے۔.
سونیا لطیف کے "فنا فی العشق" اور بین الاقوامی ادب میں مذکورہ ناولوں کے درمیان کئی موضوعاتی اور فنی مماثلتیں ہیں۔ جہاں مائیکل اونڈاچی اور خالد حسینی کے ناولز میں محبت اور جنگ، یا محبت اور ثقافتی فرق کو بیان کیا گیا ہے، وہیں سونیا لطیف نے اپنے ناول میں مذہبی تفاوت اور روحانی عشق کو مرکزی حیثیت دی ہے۔
سونیا لطیف کے ناول کی ایک اور خصوصیت اس کی زبان کی خوب صورتی اور بیان کی سادگی ہے، جو اسے بین الاقوامی ادب کے نمایاں نمونوں کے برابر کھڑا کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی کہانی کو نہایت ہی سادہ مگر پُرتاثیر انداز میں بیان کیا ہے۔

"فنا فی العشق" اپنی نوعیت کا ایک منفرد ناول ہے جو بین الاقوامی ادب کے مقابلے میں بھی ایک مضبوط اور مؤثر تخلیق قرار دیا جا سکتا ہے۔ سونیا لطیف نے جس طرح بین المذاھب محبت کے موضوع کو پیش کیا ہے، وہ نہ صرف اردو ادب کے لئے ایک بیش بہا اضافہ ہے بلکہ اس موضوع کو عالمی سطح پر مزید آگے بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
فنا فی العشق" بلاشبہ سونیا لطیف کے تخلیقی سفر کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے، جو نہ صرف اردو ادب کے دائرے میں بلکہ عالمی ادب کے مقابلے میں بھی قابلِ ذکر ہے۔ اس ناول کی اہمیت اس کے موضوع، پلاٹ اور کرداروں کی گہرائی میں مضمر ہے، اور سونیا لطیف نے اپنے منفرد انداز میں اسے ایک لازوال تخلیق میں ڈھالا ہے۔ ان کا یہ ناول نہ صرف اردو قارئین بلکہ بین الاقوامی ادب کے دل دادہ افراد کے لئے بھی ایک اہم اور دل چسپ مطالعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔
تبصرہ : ادارہ
آس پبلی کیشن ۔اخبار مارکیٹ ۔اردو بازار کراچی
۔۔۔۔۔۔۔
ناول کی قیمت : 900 روپے ۔( ڈاک خرچ فری )
۔۔۔۔
گھر بیٹھے منگوانے کے لیے :
واٹس ایپ کیجیے ۔
۔03212043587 ( جیز کیش اکاؤنٹ)
۔03162608616 ( واٹس ایپ )
۔۔۔۔۔

" امی سچ کہتی ہیں "بچوں کے لیے ان کے بچپن کا ان مول تحفہکہانیوں کا ایک بہترین مجموعہ ،جو بچوں کی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے ...
26/08/2024

" امی سچ کہتی ہیں "
بچوں کے لیے ان کے بچپن کا ان مول تحفہ
کہانیوں کا ایک بہترین مجموعہ ،جو بچوں کی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
فوزیہ عرفان کراچی سے تعلق رکھنے والی، بچوں کی ایک ممتاز ادیبہ ہیں، جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے بچوں کی ادبی دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف دل چسپ ہوتی ہیں بلکہ وہ بچوں کی تربیت و تعلیم میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
فوزیہ عرفان نے بچوں کے لیے جو کہانیاں لکھی ہیں، وہ بچوں کی فطرت، معصومیت، اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتی ہیں۔ وہ اپنی تحریروں میں اسلوب کی خوب صورتی کے ساتھ ساتھ بچوں کی نفسیات کو مدنظر رکھتی ہیں اور ایسی کہانیاں تخلیق کرتی ہیں جو نہ صرف بچوں کو تفریح فراہم کرتی ہیں بلکہ ان کے ذہنوں میں اچھے اخلاق، سماجی اقدار اور اسلامی تعلیمات کی روشنی بھی ڈالتی ہیں۔

فوزیہ عرفان کی کتاب "امی سچ کہتی ہیں" منظر عام پر آ چکی ہے، جس میں کل اٹھارہ کہانیاں شامل ہیں۔ یہ کہانیاں بچوں کے لیے ایسی نصیحتوں اور اخلاقی تعلیمات پر مشتمل ہیں جو عموماً مائیں اپنے بچوں کو ان کی کم عمری میں سکھاتی ہیں۔
اس کتاب کی ہر کہانی میں فوزیہ عرفان نے بچوں کو زندگی کی اہم باتیں سکھانے کی کوشش کی ہے۔ آئیے ہر کہانی پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں۔

السلام علیکم۔۔۔ ادب کا پہلا قدم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کہانی میں بچوں کو سلام کرنے کی اہمیت اور فضیلت سکھائی گئی ہے۔ اسلام میں سلامتی اور امن کا پیغام دینا بہت بڑی نیکی ہے، اور فوزیہ عرفان نے اس کہانی کے ذریعے بچوں کو یہ نیکی کرنے کی ترغیب دی ہے۔ بچوں کو بتایا گیا ہے کہ سلام کرنا ایک سنت عمل ہے جو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں شامل ہے، اور یہ کہ اس سے لوگوں کے دلوں میں محبت اور احترام پیدا ہوتا ہے۔

شریر بچے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"شریر بچے" کہانی میں فوزیہ عرفان نے بچوں کو شرارت اور بد تمیزی کے فرق کو واضح کیا ہے ، دوسروں کے ساتھ محبت اور اچھے سلوک کی اہمیت بتائی ہے۔ کہانی کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ شریر ہونا بری بات نہیں ، بد تمیز ہونا بری بات ہے ۔۔۔ شرارت میں بھی اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ کہانی بچوں کی اخلاقی تربیت کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔

آخر ہم بھی انسان ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی بچوں کو دوسروں کے حقوق کی پہچان اور ان کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آنے کی اہمیت سکھاتی ہے۔ فوزیہ عرفان نے اس کہانی کے ذریعے بچوں کو یہ درس دیا ہے کہ کسی بھی شخص کو کم تر نہ سمجھیں اور سب کے ساتھ مساوی سلوک کریں۔

جان وروں کے ساتھ سلوک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کہانی میں فوزیہ عرفان نے بچوں کو جان وروں کے حقوق اور ان کے ساتھ اچھے سلوک کی اہمیت بتائی ہے۔ کہانی کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ جان ور بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے ساتھ شفقت اور محبت سے پیش آنا چاہیے۔

بیمار کی عیادت کے فائدے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوزیہ عرفان نے اس کہانی میں بچوں کو بیماروں کی عیادت کرنے کی اہمیت بتائی ہے۔ عیادت ایک ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف بیمار خوش ہوتے ہیں بلکہ یہ عمل اللہ کے نزدیک بھی محبوب ہے۔ اس کہانی کے ذریعے بچوں کو عیادت کی فضیلت اور اس کے اجر کی اہمیت سمجھائی گئی ہے۔

ہمارے ماں باپ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی والدین کی خدمت اور ان کی عزت کی اہمیت پر مبنی ہے۔ فوزیہ عرفان نے بچوں کو بتایا ہے کہ والدین کا احترام اور ان کی خدمت کرنا نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ دنیاوی کامیابی کا ذریعہ بھی ہے۔ اور یہ سب کچھ ایک دل چسپ کہانی کے ذریعے سمجھایا اور سکھایا گیا ہے ۔

خوش رہنے کا نسخہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کہانی میں بچوں کو خوش رہنے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔ فوزیہ عرفان نے اس کہانی کے ذریعے بچوں کو سکھایا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا، سچ بولنا اور اللہ کا شکر ادا کرنا خوشی کے بنیادی اصول ہیں۔

صلح کروانے کا ثواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی بچوں کو صلح کروانے اور لوگوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کی اہمیت بتاتی ہے۔ فوزیہ عرفان نے اس کہانی کے ذریعے بچوں کو یہ درس دیا ہے کہ صلح کروانا اللہ کے نزدیک بہت بڑا عمل ہے اور اس کا اجر عظیم ہے۔

قصہ ایک پکنک کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی بچوں کو پکنک کے ذریعے تفریح کا موقع فراہم کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ انہیں یہ سکھاتی ہے کہ تفریح کے دوران بھی اچھے اخلاق اور نظم و ضبط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

رمضان کی برکت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوزیہ عرفان نے اس کہانی میں بچوں کو رمضان کے مہینے کی برکتوں اور فضیلتوں کے بارے میں بتایا ہے۔ بچوں کو یہ سکھایا گیا ہے کہ روزے رکھنا اور عبادت کرنا اللہ کے نزدیک بہت بڑا عمل ہے۔ اور اس پس منظر میں نہایت عمدہ کہانی بیان کی گئی ہے ۔

گھڑی اور ہماری زندگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کہانی میں وقت کی اہمیت اور اس کی قدر و قیمت سکھائی گئی ہے۔ فوزیہ عرفان نے بچوں کو یہ درس دیا ہے کہ وقت کی پابندی اور اس کا صحیح استعمال کام یابی کا راز ہے۔

مہمان: جام یابی کا راستہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی بچوں کو مہمان نوازی کی اہمیت بتاتی ہے۔ فوزیہ عرفان نے اس کہانی کے ذریعے بچوں کو سکھایا ہے کہ مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں اور ان کی خدمت کرنا باعث برکت ہے۔
فوزیہ عرفان نے اس کہانی میں بچوں کو کامیابی حاصل کرنے کے اصول بتائے ہیں۔

پیارے نبی کے پیارے اعمال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کہانی میں بچوں کو نبی کریم ﷺ کے اعمال اور سنتوں کی پیروی کرنے کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ فوزیہ عرفان نے اس کہانی کے ذریعے بچوں کو سکھایا ہے کہ سنتوں پر عمل کرنا دنیا اور آخرت دونوں میں کام یابی کا ذریعہ ہے۔

استاد قابل عزت ہستی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوزیہ عرفان نے اس کہانی میں استاد کی عزت اور ان کے مقام کی اہمیت بتائی ہے۔ بچوں کو سکھایا گیا ہے کہ استاد کی عزت اور ان کی بات ماننا ایک طالب علم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اور یہ سب کچھ ایک بہترین کہانی کے ذریعے سکھایا گیا ہے ۔

اپنا حصہ ڈالو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی بچوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لیے ہے۔ فوزیہ عرفان نے بچوں کو سکھایا ہے کہ معاشرے کی بھلائی کے لیے ہر فرد کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔

اللہ دیکھ رہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوزیہ عرفان نے اس کہانی میں بچوں کو اللہ کے خوف اور نیکی کرنے کی ترغیب دی ہے۔ کہانی کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ ہر وقت ہماری نگرانی کر رہا ہے۔

گھمنڈی لوگوں کا انجام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کہانی میں فوزیہ عرفان نے بچوں کو گھمنڈ اور غرور کے نقصان بتائے ہیں۔ کہانی کا پیغام یہ ہے کہ عاجزی اور انکساری اللہ کو پسند ہے اور گھمنڈی لوگوں کا انجام برا ہوتا ہے۔

ربی زدنی علما
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی علم کی اہمیت اور اس کے حصول کی ترغیب دیتی ہے۔ فوزیہ عرفان نے بچوں کو سکھایا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور علم ہی انسان کی اصل دولت ہے۔
کتاب کی اہمیت والدین کے لیے اہم پیغام
۔۔۔۔۔۔۔۔
"امی سچ کہتی ہیں" کی کہانیاں نہایت اہم ہیں کیوں کہ یہ بچوں کو زندگی کے ابتدائی دور میں وہ تربیت فراہم کرتی ہیں جو ان کے مستقبل کے لیے بنیاد بنتی ہے۔
والدین کی طرف سے بچوں کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی تحفہ ہے کیوں کہ اس میں شامل کہانیاں نہ صرف بچوں کی اخلاقی تربیت کرتی ہیں بلکہ انہیں زندگی کی مختلف آزمائشوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار بھی کرتی ہیں۔
یہ کتاب بچوں کو نہ صرف اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا درس دیتی ہے ،بلکہ انہیں انسان اور انسانی سماج میں بہترین انسان کے طور پر خود پیش کرنے کا ہنر سے سکھاتی ہے اور انہیں ایک کام یاب اور خوش حال زندگی کے اصول سکھاتی ہے۔
والدین کو یقین دلایا جا سکتا ہے کہ "امی سچ کہتی ہیں" جیسی کتابیں بچوں کی زندگی کو سنوارنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
فوزیہ عرفان ایک ایسی ادیبہ ہیں جو بچوں کی نفسیات کو بہ خوبی سمجھتی ہیں اور اس کا اظہار ان کی کہانیوں میں بہ درجہ اتم موجود ہوتا ہے۔ ان کی تحریروں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نہ صرف بچوں کے دل کو بھاتی ہیں بلکہ ان کی ذہنی نشوونما اور اخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
فوزیہ عرفان کی کہانیاں محض نصیحتیں نہیں ہیں، بلکہ وہ ایسی دل چسپ اور دل کش کہانیاں تخلیق کرتی ہیں جو بچوں کے دلوں میں گھر کر جاتی ہیں۔ ہر کہانی میں وہ اس طرح سے پیغام پہنچاتی ہیں کہ بچہ کہانی کی کشش میں کھو کر خود بخود اس پیغام کو سمجھ لیتا ہے اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

فوزیہ عرفان کی کہانیوں کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ بچوں کی روزمرہ کی زندگی سے بہت قریب ہوتی ہیں۔ کہانیوں کے کردار اور واقعات بچوں کی دنیا سے جڑے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے بچے نہ صرف کہانیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ ان سے بہت کچھ سیکھتے بھی ہیں۔ فوزیہ عرفان نے اپنی تحریروں میں بچوں کی عمر، دل چسپیوں اور ان کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیاں ہر عمر کے بچوں کے لیے مفید اور دل چسپ ثابت ہوتی ہیں۔

والدین کے لیے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ "امی سچ کہتی ہیں" جیسی کتابیں ان کے بچوں کی ابتدائی تربیت کے لیے کتنی اہم ہیں۔ خاص طور پر 6 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کے لیے یہ کتاب نہایت موزوں ہے، کیوں کہ اس عمر میں بچے سیکھنے اور سمجھنے کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جب بچوں کی شخصیت کی تعمیر ہو رہی ہوتی ہے، اور فوزیہ عرفان کی کہانیاں بچوں کو اس عمر میں بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

"امی سچ کہتی ہیں" ایک ایسی کتاب ہے جو بچوں کو نہ صرف اسلامی تعلیمات سے روشناس کراتی ہے بلکہ انہیں اچھے اخلاق، سماجی ذمے داریوں اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کی سمجھ بھی دیتی ہے۔ یہ کتاب بچوں کے بستے میں ہر وقت موجود ہونی چاہیے کیوں کہ یہ ان کی روزمرہ کی زندگی کے لیے ایک بہترین ساتھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کتاب کی کہانیاں بچوں کو نہ صرف اچھی عادتیں اپنانے کی ترغیب دیتی ہیں بلکہ انہیں زندگی کی مختلف مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار بھی کرتی ہیں۔

لہٰذا، والدین کے لیے یہ نہایت اہم ہے کہ وہ اس کتاب کو اپنے بچوں کی ابتدائی تربیت کا حصہ بنائیں اور انہیں ان کہانیوں کے ذریعے بہتر انسان بنانے کی کوشش کریں۔ "امی سچ کہتی ہیں" جیسی کتابیں بچوں کے لیے بہترین تحفہ ہیں جو ان کے مستقبل کو روشن اور کامیاب بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہ ایک باتصویر کتاب ہے ۔ہر کہانی کا خوب صورت اسکیچ بنوایا گیا ہے ۔
کتاب بڑے سائز میں ہے ۔۔۔
سفید کاغذ پر ہے ۔اور خوب صورت ہارڈ بائنڈنگ میں ہے ۔
۔۔۔۔
تحریر : ادارہ ۔
(آس پبلی کیشن . اردو بازار کراچی )
۔
گھر بیٹھے منگوانے کے لیے ابھی رابطہ کریں ۔
قیمت : 800 روپے ( ڈاک خرچ فری )
۔۔۔
رابطہ :
۔ 03212043587
۔03162608616

قلندر بابابچوں اور نوجوانوں کے لیے ۔۔ ایک لاجواب ناول ۔۔۔۔۔سید عرفان علی یوسف کا بچوں کے لیے لکھا گیا ناول "قلندر بابا" ...
25/08/2024

قلندر بابا

بچوں اور نوجوانوں کے لیے ۔۔ ایک لاجواب ناول
۔۔۔۔۔
سید عرفان علی یوسف کا بچوں کے لیے لکھا گیا ناول "قلندر بابا" اردو ادب میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ کہانی ایک غیر معمولی اور پراسرار کردار، قلندر بابا، کے گرد گھومتی ہے، جس کی موجودی اور عدم موجودی خود ایک راز سے کم نہیں۔ اس کہانی کا مرکزی کردار، نعمان، ایک معصوم اور تجسس سے بھرپور بچہ ہے، جو اس پراسرار شخصیت کی حقیقت جاننے کے لیے مسلسل کوشاں رہتا ہے۔ اس ناول کو آپ " نیلے پہاڑوں کا راز" کی دوسری کڑی کیہہ سکتے ہیں ، اگرچہ یہ مکمل ناول ہے ۔
قلندر بابا کی شخصیت میں ایسی گہرائی اور پیچیدگی ہے جو کہانی کو دلکش اور پُر اثر بناتی ہے۔ نعمان کی بے قرار فطرت اور قلندر بابا کے ناقابل فہم اعمال، کہانی کو ایک پراسرار ماحول میں لے جاتے ہیں جہاں حقیقت اور خیال کی سرحدیں مٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ نعمان کے ذہن میں اُٹھنے والے سوالات، قلندر بابا کی آمد و رفت کی پوشیدہ وجوہ ، اور اس کردار کے پس پردہ راز، بچوں کو ایک غیر معمولی دنیا میں لے جاتے ہیں۔

ناول میں نعمان کی جستجو اور مہم جوئی کا سلسلہ دراصل انسانی تجسس اور علم کی طلب کی علامت ہے۔ نعمان کی یہ مہمات اسے مختلف مراحل اور حالات سے گزارتی ہیں، جہاں وہ نہ صرف دنیا کے پوشیدہ رازوں سے واقف ہوتا ہے بلکہ اپنے اندرونی خوف اور وسوسوں کا بھی سامنا کرتا ہے۔ ہر مہم ایک نیا سبق اور نئی بصیرت فراہم کرتی ہے، اور ہر بار نعمان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ قلندر بابا کے راز کے قریب پہنچ رہا ہے، لیکن پھر ایک نیا پہلو سامنے آجاتا ہے جو اس کی جستجو کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

قلندر بابا کا کردار ایک فلسفیانہ پہلو بھی رکھتا ہے، جو زندگی کے پراسرار حقائق کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ کہاں سے آتے ہیں اور کہاں چلے جاتے ہیں، اس سوال کا جواب پوری کہانی میں ایک اسرار کے پردے میں چھپا رہتا ہے۔ جب آخرکار اس راز سے پردہ اُٹھتا ہے، تو کہانی میں حیرت و استعجاب کے نئے در وا ہوتے ہیں، جو نعمان اور قارئین دونوں کے لیے ایک عمیق فکری تجربہ ثابت ہوتا ہے۔
"قلندر بابا" ایک ایسی داستان ہے جو نہ صرف بچوں کے لیے ایک دلچسپ اور مہم جوئی سے بھرپور کہانی فراہم کرتی ہے، بلکہ ان کے ذہنوں کو فلسفیانہ سوالات اور زندگی کے پراسرار پہلوؤں پر غور و فکر کی دعوت بھی دیتی ہے۔
سید عرفان علی یوسف نے اس ناول کے ذریعے بچوں کے لیے ایک ایسا ادبی شاہکار تخلیق کیا ہے، جو ان کے ادبی ذوق کو جلا بخشتا ہے اور انہیں علم کی جستجو میں مصروف رکھتا ہے۔ قلندر بابا کی شخصیت اور نعمان کی مہمات، اس کہانی کو اردو ادب میں ایک نایاب اور لازوال مقام عطا کرتی ہیں۔

سید عرفان علی یوسف کے ناول "قلندر بابا" میں موجود پراسراریت اور فلسفیانہ پہلو کہانی کو صرف ایک مہم جوئی کے قصے سے کہیں بڑھ کر ایک عمیق اور معنی خیز تجربہ بناتے ہیں۔ اس ناول کا پلاٹ ہمیں نعمان کے ہمراہ ایک ایسے سفر پر لے جاتا ہے جو بظاہر ایک بچے کی سادہ سی جستجو معلوم ہوتا ہے، لیکن جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، اس کی تہہ در تہہ پیچیدگیوں کا ادراک ہوتا ہے۔

قلندر بابا کا کردار ایک ایسی علامت ہے جو صدیوں سے روحانیت اور معرفت کی تلاش میں سرگرداں انسان کی عکاسی کرتا ہے۔ نعمان کی حیرانی اور اس کے دل میں پیدا ہونے والے سوالات دراصل ان سوالات کی نمائندگی کرتے ہیں جو ہر انسان کے دل میں کسی نہ کسی موڑ پر جنم لیتے ہیں۔ قلندر بابا کے ہر عمل اور ہر گفتگو میں چھپے معانی، نعمان کو ایک نئی سوچ اور فکری سفر کی جانب مائل کرتے ہیں۔

کہانی میں موجود پراسرار مقامات، جن کی طرف قلندر بابا کے قدم اٹھتے ہیں، دراصل انسان کے اندرونی مناظر اور روحانی منازل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نعمان کا ان مقامات کی جانب کشش محسوس کرنا، اور وہاں پہنچ کر نئے رازوں کا سامنا کرنا، دراصل اس کی روحانی ترقی اور فکری بلوغت کی جانب اشارہ ہے۔

قلندر بابا کے اصل راز کا افشا ہونا، جہاں نعمان کو حیران و پریشان کرتا ہے، وہیں اس کے لیے ایک نیا باب بھی کھولتا ہے۔ اس لمحے نعمان اور قارئین دونوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ حقیقت ہمیشہ بظاہر جو نظر آتی ہے، اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور پراسرار ہوتی ہے۔ یہ راز محض قلندر بابا کی ذات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک گہری فلسفیانہ اور روحانی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، جو انسانی زندگی اور کائنات کی بھید بھری گہرائیوں کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔
"قلندر بابا" ایک ایسا ناول ہے جو بچوں کے لیے ایک مہم جوئی کی داستان ہونے کے ساتھ ساتھ، ایک گہری فلسفیانہ اور روحانی تجربہ بھی پیش کرتا ہے۔
سید عرفان علی یوسف نے اس کہانی میں ایسی گہرائی اور پیچیدگی پیدا کی ہے جو بچوں کے ادب کے قارئین کو ایک منفرد تجربہ فراہم کرتی ہے۔ قلندر بابا کا کردار، اپنی پراسراریت کے باوجود، حقیقت کے گہرے رازوں کو کھوجنے کی تحریک دیتا ہے، اور نعمان کی جستجو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کے سوالات کے جوابات ہمیشہ ظاہری سطح پر نہیں ملتے، بلکہ ان کے لیے گہرائی میں اترنا ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔
( تحریر : ادارہ آس پبلی کیشن )
۔۔۔۔
قیمت : 600
ڈلیوری مفت
۔۔۔۔۔۔
رابطہ : آس پبلی کیشن ۔اردو بازار ۔کراچی
۔03212043587
۔03162608616
۔۔۔۔۔۔

25/08/2024

کتاب کا نام : ذالقرنین (سلیمان بن داود ع)
قیمت: 600 روپے مع فری ہوم ڈیلیوری
آرڈر کے لئے رابطہ کریں
0316 2608616 واٹس ایپ

تحریر انشاء ربی
انشاء ربی ایک ، انگریزی قلم کار اور Peace Journalist تحقیق، اور تقابلی ادیان کے شعبے سے و سے وابستہ ہیں ۔ ان کی جائے پیدائش پاکستان ہے، جب کہ ان کے خاندان کا شمار سر سید احمد خان اور دیگر تحریک پاکستان میں شامل اعلی تعلیم یافتہ افراد میں ہوتا ہے۔ اپنے ذاتی بزنس کے ساتھ کئی زبانوں میں ادب کے تراجم کرنے کے ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں سے منسلک ہیں۔

اردو یا انگریزی میں شائع ہونے والی یہ ان کی پہلی کتاب ہے۔ ان کی تمام نئی اور پرانی تحریریں ابھی زیر طباعت میں جو آس پبلی کیشنز کے توسط سے گاہے گاہے، یکے بعد دیگرے منظر عام پر آئیں گی۔
https://kitabgharonline.com

25/08/2024

نمرہ احمد کے تین مشہورِ زمانہ ناول
قیمت =/6250
فری ہوم ڈیلیوری
واٹس ایپ 0316 2608616
03212043587
https://kitabgharonline.com
instagram.com/kitabgharonline786

25/08/2024

فرحت اشتیاق کا نیا ناول"یہ دل میرا"
قیمت /2500
واٹس ایپ کیجیئے 03162608616

25/08/2024

Address

Office No 53 Roomi Centre Urdu Bazar
Karachi
75350

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when New Books Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category