Infact Urdu - Urdu facts

Infact Urdu - Urdu facts Free Download or read online Urdu Novels, tutoring books, Islamic books, kids books, English books, funny books and most popular poetry Books .

دﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ🥛🚰ﺷﮩﺪ ﻣﯿﮟ ﺷﯿﺮﮦ🍺ﮔﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻤﯿﮑﻞ🥃ﻣﺮﻏﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮍﯾﺎﮞ🐓ﮨﻠﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺭﻧﮓﺳﺮﺥ ﻣﺮﭺ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻨﭩﻮﮞ ﮐﺎ ﺑُﻮﺭﺍ🍝ﮐﺎﻟﯽ ﻣﺮﭺ ﻣﯿﮟ...
24/07/2022

دﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ🥛🚰
ﺷﮩﺪ ﻣﯿﮟ ﺷﯿﺮﮦ🍺
ﮔﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻤﯿﮑﻞ🥃
ﻣﺮﻏﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮍﯾﺎﮞ🐓
ﮨﻠﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺭﻧﮓ
ﺳﺮﺥ ﻣﺮﭺ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻨﭩﻮﮞ ﮐﺎ ﺑُﻮﺭﺍ🍝
ﮐﺎﻟﯽ ﻣﺮﭺ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﺎ ﺩﺍﻧﮧ اور پپیتے کے بیج🍱
ﺟﻮﺱ ﻣﯿﮟ ﺟﻌﻠﯽ ﺭﻧﮓ ﺍﻭﺭ ﻓﻠﯿﻮﺭﺯ🍯
چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے
آٹے میں ریتی
چنے کے آٹے میں لکڑی کا بھوسہ🍞
پھلوں میں میٹھے انجکشن🍎🍊🍋
سبزیوں پر رنگ🥦🥒🥑🍆
پیٹرول میں گندہ تیل🛢
بچوں کی چیزوں میں زہر آلود میٹریل🍦🍩🍭🍬
ﺑﮑﺮﮮ🦌🐏 ﮐﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻭﺯﻥ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺮﻧﺎ
بھینس کو دودھ بڑھانے کے ٹیکے لگانا🐄🐃
ﺷﻮﺍﺭﻣﮯ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺘﮯ🐕 ﺍﻭﺭ چوہے 🐭
ﺷﺎﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ🐓🐓 جھوٹ بول کر گدھے کا گوشت کھلایا جانا
ﻣﻨﺮﻝ ﻭﺍﭨﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﻠﮑﮯ🚰🚰 ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ
ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺟﻌﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﭘﯽ ﻓﻮﻥ📲📱
ﺟﻌﻠﯽ ﺻﺎﺑﻦ، ﺟﻌﻠﯽ ﺳﺮﻑ، ﺟﻌﻠﯽ ﺷﯿﻤﭙﻮ ﻣﮕﺮ ﺳﺐ ﺍﻭﺭﯾﺠﻨﻞ ﭨﯿﮕﺰ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﺩﻭ ﻧﻤﺒﺮ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ💊💊 ﺍﺻﻠﯽ ﭘﯿﮑﻨﮓ ﻣﯿﮟ
ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹرز
بازاروں میں بدنگاہی 👀 اور جھگڑے👊🤛🤜
ﺍﻣﺘﺤﺎﻧﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﻞ
مسلمان لڑکیوں کے ہاتھ میں قرآن پاک کی جگہ فحش ڈائجسٹ 📖📘
ﻧﺎﭖ ﺗﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ⚖
ﺩﻭﺳﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﻏﺮﺿﯽ🗣
محبت میں دھوکہ
ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺎﻓﻘﺖ👹
ﻧﻮﮐﺮﯼ ﻣﯿﮟ ناجائز ﺳﻔﺎﺭﺵ ﻭﺭﺷﻮﺕ🙏🏿
ﺑﺠﻠﯽ 💡💡ﻣﯿﮟ ﮨﯿﺮﺍ ﭘﮭﯿﺮﯼ
بے ریش چہرے👴🏻
بے نمازی پیشانیاں👴🏻
ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﮐﺴﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﻧﻨﮕﮯ ﻟﺒﺎﺱ
عبایوں میں فیشن
ﺷﺎﺩﯼ ﺑﯿﺎﮦ ﭘﺮ ﺷﺮﺍﺏ ﻧﻮﺷﯽ، ﻣﺠﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺋﺮﻧﮓ
مرد و عورت کا اختلاط
مردہ عورتوں کیساتھ قبروں میں ریپ
ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﻓﺤﺶ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﻭﻓﻠﻤﯿﮟ📲📱
ٹی وی پر ننگے ناچ
بھائی بہنوں میں نفرت
ماں باپ کی عزت میں عدم تکریم
رشتے داروں سے قطع تعلقی
پڑوسیوں سے بدسلوکی
استادوں سے بدتمیزی
بغیر عمل کا علم
مساجد ویران...سینما گھر آباد
میاں بیوی میں نفرت
بچوں پر سختی
غربت کی آزمائش میں چوری
امیری میں تکبر
اپنے علم پر غرور
روزی میں حرام کی آمیزش
ﺟﮭﻮﭦ ﻧﯿﮑﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﻨﺎ
ﮈﮐﯿﺘﯽ، ﻓﺮﺍﮈ، ﺩﮬﻮﮐﺎ، ﺭﺍﮨﺰﻧﯽ
ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﺎﮐﺎﺭﯼ

ایک بے سمت ہجوم...!!
ایک ایسا ریوڑ جو سات عشروں میں بھی اپنی درست سمت کا تعین نہ کرسکا.

ان تمام باتوں کے بعد حیرت زدہ و حیرت کدہ ہوں کہ ﮨﻢ صرف ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻏﻠﻂ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
کیا آپ نے نہیں سنا کہ ظالم و جابر حکمران👨‍🎨🤴🧙🏿‍♂ کب اور کیوں مسلط ہوتے ہیں؟؟؟

کیا ایک پَل کو ذہن و دل نے یہ سوچا یا محسوس کیا کہ ہم خود کتنے نیک ہیں؟؟؟
پھر کہتے ھیں کہ دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں۔۔۔؟؟؟

جب بہو کو گھر لے کے آئیں تو خدارا اسے ایڈجیسٹ ہونے کا وقت دیں 20 سے 22 سال کی لڑکی سے آپ پچاس سال کی عورت کی سمجھداری کی...
23/07/2022

جب بہو کو گھر لے کے آئیں تو خدارا اسے ایڈجیسٹ ہونے کا وقت دیں 20 سے 22 سال کی لڑکی سے آپ پچاس سال کی عورت کی سمجھداری کی امید مت کریں جیسے گھر میں بیٹھی آپ کی بیٹی آپ کو بچی لگتی ہے بہو کو بھی بچی سمجھ کے اسکی نادانیوں کو نظر انداز کر دیا کریں آج جس لڑکی سے آپ ایک بیوی بہو بھابھی کی ساری زمہ داریاں پوری کرنے کی امید رکھتے ہیں وہ بھی اپنے والدین کے لیے بچی ہی تھی ساس ماں نہیں بن سکتی تو کیا ہوا اپنی بہو کی دوست بننے کی کوشش کریں کبھی کبھی اسے بولیں آجا بیٹا تیرے سر میں مالش کرتی ہوں وہ کام سے فارغ ہو تو اسکا ماتھا پیار سے چوم کے اتنا کہہ دیں میری بیٹی بہت تھک گئی ہوگی کھانا کھانے لگے تو بہو کو آواز دے کر اپنے پاس بیٹھائیں بیٹے کے سامنے بہو کی تعریف کر دیا کریں
میں یقین سے کہتا ہوں ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوش ہو کر وہ دل و جان سے آپکی بن جائے گی اسکی حوصلہ افزائی کریں اس سے گھر کے معاملات میں مشورہ کریں
احساس دلائیں کہ اسکے بنا اپکا گھر ادھورا ہے خوش رہیں خوشیاں بانٹیں

موسم برسات کی ایک خوراک برسات کے موسم میں بارش کے بعد عموما ایک نبات( جسے آپ سبزی کہ سکتے ہیں ) قدرتی طور پر زمین کو پھا...
21/07/2022

موسم برسات کی ایک خوراک

برسات کے موسم میں بارش کے بعد عموما ایک نبات( جسے آپ سبزی کہ سکتے ہیں ) قدرتی طور پر زمین کو پھاڑ کر نکلتی ہے جسے ہم اپنی زبان میں خومبے ,,, نُتْکو کہتے ہیں اردو میں کھمبی اور انگریزی میں اسے مشروم کہتے ہیں۔
حدیث شریف میں اسے من و سلویٰ میں سے شمار کیا گیا ہے اور اس کے پانی کو آنکھوں کی شفاء یابی قرار دیا گیا ہے

عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفِی یَدِہِ أَکْمُؤٌ ، فَقَالَ : ہَؤُلاَئِ مِنَ الْمَنِّ ، وَہِیَ شِفَائٌ لِلْعَیْنِ۔
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ ﷺ کے دست مبارک میں کھمبیاں تھیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: " یہ کھمبیاں منّ میں سے ہیں اور یہ آنکھ کے لے شفاء ہیں۔ "
(مصنف ابن ابی شیبہ 24161)

حضرت جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں کھمبیاں بہت زیادہ ہوا کرتی تھی تو بعض صحابہ کرام کہنے لگے کہ یہ زمین کے چیچک ہیں( یعنی جس طرح انسان سے بیماری میں چیچک نکلتا ہے گویا یہ بھی زمین کی بیماری میں اس سے نکلتی ہے) اور انہوں نے اسے کھانے سے انکار کردیا یہ بات رسول اللہﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے منبر پر کھڑے ہوکر فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ کھمبی زمین کا چیچک ہے، خبردار سنو یہ زمین کا چیچک نہیں بلکہ من و سلویٰ سے ہے اور اسکے پانی میں آنکھوں کے لئے شفاء ہے
[شرح مشكل الآثار، ٣٦٧/١٤]

علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ کمأة کی تعریف میں لکھتے ہیں کہ یہ ایک ایسی سبزی ہے جو تنا اور پتوں کے بغیر ہوتی ہے اور زمین میں بغیر بوئے پائی جاتی ہے
[فتح الباري لابن حجر، ١٦٣/١٠]

اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے اب آیا بغیر خالص پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے یا کسی دوائی وغیرہ میں ملایا جائے تب شفاء ہے تو علامہ نووی اس بارے میں لکھتے ہیں کہ
صحیح اور درست بات یہ ہے کہ اس کا پانی مطلقا آنکھوں کے لئے شفاء ہے کہ پانی کو نچوڑ کر آنکھوں پر لگایا جائے اپنے زمانے میں، میں نے اور میرے علاؤہ لوگوں نے دیکھا کہ وہ ایک نابینا تھے جن کی آ نکھوں کی بینائی چلی گئی تھی انہوں نے اپنے آنکھوں پر کھمبی کا خالص پانی لگایا تو وہ شفایاب ہوگئے اور ان کی آنکھیں ٹھیک ہوگئی اور وہ شخصیت علامہ شیخ کمال بن عبد اللہ دمشقی علیہ الرحمہ تھے،جہنوں نے حدیث پاک پر اعتماد کرتے ہوئے اور حدیث سے تبرک کی نیت سے کھمبی کا پانی استعمال فرمایا تھا
[النووي، شرح النووي على مسلم، ٥/١٤]

ان تمام فضائل کے ساتھ ساتھ اس کا سالن بھی بڑا مزیدار اور لذید بنتا ہے ذائقہ بھی گوشت جیسا ہوتا ہے
آپ کے علاقے میں اگر کہیں پائی جاتی ہے تو ایک بار کھاکر ضرور دیکھئے گا

*بھابھی کپڑے استری ہوگۓ میرے؟ جلدی کریں میری دوست بس آتی ہی ہوگی*بس بس حبا یہ عشیر کو نہلایا ہے نہ کپڑے پہنا دوں اسے۔کیا...
14/07/2022

*بھابھی کپڑے استری ہوگۓ میرے؟ جلدی کریں میری دوست بس آتی ہی ہوگی*

بس بس حبا یہ عشیر کو نہلایا ہے نہ کپڑے پہنا دوں اسے۔
کیا اب تک نہیں کیۓ رہنے دیں امی امی امی آپ ہی کردیں
بھٸ کیا ہوگیا تمہارے ہاتھوں کو میں نے صبح سے ابو کے لیۓ کھچڑی بنانے کا کہا تھا اسکی سخت جان روٹی سے دانت ٹوٹتے ہیں انکے لیکن وہ بے چارے تو انتظار کرتے کرتے سو گۓ۔
امی میں نے سب کی روٹیاں پہلے ہی بنا دیں تھی. عشیر اپنے پاس سے اُٹھنے نہیں دے رہا تھا۔
بس بی بی یہ بچوں کے بہانے خوب ہی سنے ہیں بچے کا بہانہ بنا کر سارا دن کمرے میں پڑی رہتی ہو
امی۔۔۔۔!! اک آنسو آنکھ سے ٹپکا مگر پھر بھی گھر بھر کے برتن دھوۓ شکر کیا کہ عشیر سو چکا تھا۔
شام کو سب کو چاۓ پیش کر کے جب کمرے میں جانے لگی تو سسر صاحب پاۓ لے آۓ۔ بہو ۔؟ یہ لو رات کو پاۓ پکانا اور سنو میری روٹیوں میں اصلی گھی کی مقدار زیادہ رکھنا۔
جی۔ ابو جی
اُلٹے پاٶں کچن میں جا کر پائے صاف کر ہی رہی تھی کہ شوہر کی باٸیک کی آواز پر چاۓ چڑھاٸ۔
اور جا کر پانی پیش کیا۔
یہ کیا حالت بناٸ ہوٸ ہے اپنی نہا دھو کر کپڑے ہی بدل لیتی۔
کاشف میں جا ہی رہی تھی کہ ابو پاۓ لے آۓ ۔
اچھا تو اب یہ الزام بھی میرے گھر والوں پر۔۔
وہ تمہیں کاموںمیں اُلجھاۓ رکھتے ہیں ۔
نہیں نہیں کاشف۔۔۔!
بس کرو جاٶ کپڑے نکالو تمہارے ڈرامے نہیں ختم ہوتے..
جی اچھا ۔۔
واٸٹ کاٹن کا سوٹ جسے وردا نے پرسوں پریس کر کے الماری میں سجایا تھا اُسے دیکھ کر کاشف چلایا یہ کیا اس پر اتنی شکن کوٸ کام ٹھیک سے نہیں ہوتا تم سے پھوہڑ عورت۔۔۔۔۔
آنسو اب آنکھوں میں جم چکے تھے کیوںکہ یہ اب روز کا معمول تھا
رات جب سارے کاموں سے فراغت کے بعد کمرے میں گٸ تو کاشف پھر چلایا یہ کیا ہے جانتی ہو مجھے اسٹڈی ٹیبل پر مٹی بلکل پسند نہیں سارا دن کیا کرتی رہتی ہو ٹیبل نہیں صاف کرسکتی تم۔۔۔

اسٹڈی ٹیبل پر مٹی تلاش کرتا یہ بد بخت آدمی اس پر بیٹھ کر پڑھنے والی کتابوں سے کچھ نہ سیکھ سکا۔۔۔!
اور یہ گھریلو لڑکی صبر کا دامن تھامے جنت میں گھر بنا گٸ ۔
رات جب سب سو چکے ٢ بجے کے وقت وہ عشیر کو سُلا کر رات کی اس چاندنی میں بیٹھی اپنے والدین کو یاد کر رہی تھی
جو دور دوسرے شہر میں بسے تھے
اور بیٹی کی حالت سے ناواقف تھے۔
وہ نہیں جانتے تھے کے جس بیٹی کو محنت محبت سے ہنسنا سکھایا تھا اُسے کوٸ بڑی آسانی سے بڑی جلدی رونا سکھا گیا۔۔۔!!!!!!!

*🚀 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے ضرور شیئر کریں🚀*

جب سے یہ تصویر میرے سامنے آئی ہے دل بہت اداس رہتا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کو سلامت رکھے اور جن کے وفات ہیں انہیں الل...
19/02/2022

جب سے یہ تصویر میرے سامنے آئی ہے دل بہت اداس رہتا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کو سلامت رکھے اور جن کے وفات ہیں انہیں اللہ تعالیٰ صبر عطا فرمائے آمین 😢😢😢

18/12/2021

حضرت عمر بن خطابؓ خلافت سنبھالنے کے بعد بیت المال میں آئے تو لوگوں سے پوچھا کہ :
" حضرت ابوبکر ؓ کیا کیا کرتے تھے، تو لوگوں نے بتایا کہ :
" وہ نماز سے فارغ ہو کر کھانے کا تھوڑا سا سامان لے کر ایک طرف کو نکل جایا کرتے تھے ...! "

آپ نے پوچھا کہ کہاں جاتے تھے :
" لوگوں نے بتایا ک یہ نہیں پتا بس اس طرف کو نکل جاتے تھے ...! "

آپؓ نے کھانے کا سامان لیا اور اس طرف کو نکل گے لوگوں سے پوچھتے ہوئے کہ :
" حضرت ابوبکر ؓ کس جگہ جاتے تھے پتہ چلتے چلتے ایک جھونپڑی تک پہنچ گئے وہاں جا کر دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی دونوں آنکھوں سے آندھا ہے اور اسکے منہ پر پھالکے بنے ہوئے ہیں اس نے جب کسی کے آنے کی آواز سنی تو بڑے غصے میں بولا کہ پچھلے تین دن سے کہاں چلے گئے تھے تم ...؟ "
آپؓ خاموش رہے اور اس کو کھانا کھلانا شروع کیا تو اس نے غصے سے کہا کہ :
" کیا بات ہے ایک تو تین دن بعد آئے ہو اور کھانا کھلانے کا طریقہ بھی بھول گئے ہو ...؟ "

آپؓ نے جب یہ سنا تو رونے لگے اور اسے بتایا کہ :
" میں عمرؓ ہوں اور وہ جو آپ کو کھانا کھلاتے تھے، وہ مسلمانوں کے خلیفہ ابوبکر ؓ تھے، اور وہ وفات پا چکے ہیں ...! "
جب اس بوڑھے نے یہ بات سنی تو کھڑا ہو گیا اور کہا کہ :
" اے عمر ؓ مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان کر دیں۔ پچھلے دو سال سے وہ آدمی روز میرے پاس آتا اور کھانا کھلاتا رہا ایک دن بھی اس نے مجھے نہیں بتایا کہ میں کون ہوں ...! "

میرے محترم و مکرم قارئین کرام !!
ایسے اچھے اخلاق والے تھے وہ ابو بکر ؓ ۔اور ایسے ہی اچھے اخلاق کا درس دیتا ہے ہمیں ہمارا یہ دین اسلام ❤

08/12/2021

Whatsap Group :
comment me hamare Wp group ka link hai jis ne join karna hain join kared 24 hr ke baad link expire hojaye ga.

14/09/2021

آپ کو کس قسم کی کتابیں پڑھنا پسند ہے؟

*ایک رحمدل شہزادی* مصر کے جنگل میں ایک شہزادہ چند بکریاں چراتا اور ان سے حاصل ہونے والے دودھ اور جنگل کے پھلوں پہ گزارہ ...
07/09/2021

*ایک رحمدل شہزادی*

مصر کے جنگل میں ایک شہزادہ چند بکریاں چراتا اور ان سے حاصل ہونے والے دودھ اور جنگل کے پھلوں پہ گزارہ کرتا۔ وہ تھا شہزادہ مگر نہ تو اس میں شاہوں والا غرور تھا اور نہ ہی وہ جاہ وجلال۔ وہ عام انسانوں کی طرح زندگی بسرکرتا۔ روکھی سوکھی کھاتا بیشتر وقت اپنی رعایا کی خدمت اور خدا کی یاد میں بسر کرتا ۔
اس کی نیک چلنی کا پوری ریاست میں چرچا تھا۔ اسے یہ خصوصیات اپنے رحمدل باپ سے وراثت میں ملی تھیں۔ایک دن شہزادہ معمول کے مطابق رعایا کے مسائل سننے کے بعد جنگل میں ،دنیا سے بے نیاز، خدا کی یاد میں محو تھا، کہ اس نے دیکھا کہ ایک غریب لکڑہارا اپنے گدھے کو ساتھ لئے ہوئے لکڑیاں کاٹ رہا ہے اور اور اس سے باتیں بھی کیے جارہا ہے حالانکہ اسے معلوم تھا کہ نہ تو گدھا اس کی بات سن رہا ہے نہ ہی سمجھ رہا ہے اور پھر وہ زاروقطار رونے لگا۔
شہزادہ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ لکڑہارا روزانہ لکڑیاں کاٹتا، گدھے سے چند باتیں کرتا اور پھر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگتا۔ چندروز یہی معاملہ رہا، جب رحمدل شہزادے سے اس کا رونا دیکھا نہ گیا اور وہ یہ گتھی سلجھانے میں ناکام رہا تو بلآخر درخت کی اوٹ سے باہر آگیا اور لکڑہار سے پوچھا: اے لکڑہارے تیرے اس طرح بلک بلک کر رونے کی وجہ کیا ہے؟ غریب بوڑھا ، ہمدرد انسان سامنے پاکر اور شدت سے رونے لگا اور سسکیوں کے ساتھ اپنی بدبختی کی کہانی سنانے لگا۔
میرا ایک بیٹا تھا، جسے خدا نے بے تحاشہ دولت سے نوازا تھا ہر طرح کا عیش اسے میسر تھا ،مگر اس دولت کا غرور اس کے تن بدن پر اس قدرحاوی ہو چکا تھا کہ اسے اپنی دولت کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ اپنے غریب رشتہ داروں کو دھکے دیتا، انہیں ذلیل ورسوا کرتا۔
پھر اس کی بربادی کا دن آگیا اور میری دور کی ایک رشتہ دار دوسری ریاست سے میرے گھر سوالی بن کر آئی یہ سوچ کرکہ مشکل میں اپنے ہی کام آتے ہیں، وہ بہت غریب تھی اس کی بیٹی کی شادی قریب تھی مگر کوئی انتظام نہ ہو پایا تھا، اسے کچھ رقم کی ضرورت تھی، وہ اللہ کی نیک بندی تھی بیشتر وقت عبادت میں گزارتی تھی، مگر میرا بیٹا دولت کے نشے میں اندھا ہوچکا تھا، اس عورت کو دھکے مارکر گھر سے نکال دیا۔
یہی وہ وقت تھا جب ہماری بربادی شروع ہوئی۔ اسی رات سرخ آندھی چلی بجلی کڑکی اور تیز بارش ہوئی۔ میں اور میرا بیٹا اپنے نرم بستر پر میٹھی نیند سو رہے تھے، اور وہ عورت پوری رات ہمارے دروازے سے لگی روتی رہی ،شدید طوفان اور رات کے گھنے اندھیرے میں دوسری ریاست واپس جانا اس کیلئے ممکن نہ تھا، اور وہ ضعیف عورت پوری رات اس طوفان کا مقابلہ کرتی رہی اور میرے بیٹے کورحم نہ آیا صبح جب میری آنکھ کھلی تو مجھ پہ قیامت ٹوٹ پڑی۔
میرا بیٹا گدھے کی صورت اختیار کرچکا تھا۔ گھر کا سارا سامان آسمانی بجلی گرنے سے جل کرخاک ہوچکا تھا سب کچھ برباد ہوگیا تھا، اس سب میں میرا قصور یہ ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کو غرور وتکبر کرنے سے نہ روکا، برائی کی طرف بڑھتا ہوا کوئی قدم نہ روکا۔
اور اب یہ عالم ہے کہ میں جنگل سے لکڑیاں کاٹتا ہوں اور اپنے ہی بیٹے پہ لاد کر بیچنے لے جاتا ہوں ،اور اسی سے ہم باپ بیٹے کا گزرا چلتا ہے۔یہ سن کر شہزادے کی آنکھیں نم ہوگئیں اور وہ لکڑہارے سے مخاطب ہوا: اے ضعیف انسان!تو نے بہت ظلم کیا۔
بے شک برائی پر خاموش رہنا اور اسے نہ روکنا، اس کا ساتھ دینے کے متراوف ہے تونے اپنے بیٹے کو برائی سے نہ روکا، مجھے تیری حالت پر افسوس ہے۔
اب میں اپنی اس غریب رشتہ دارکی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہوں۔ اس کی تلاش مجھے رلاتی ہے شاید وہ میری مدد کرسکے وہ مجھے مل جائے میں اس سے معافی مانگوں گا۔
شاید میرے گناہوں کا ازالہ ہو سکے مگر افسوس وہ مجھے کہیں نہیں یہ کہہ کر لکڑہارا رونے لگا۔ شہزادے نے اس کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ تو اپنے گناہوں کی معافی اللہ سے مانگ۔ وہ بہت رحیم ہے، اگر اس نے تجھے معاف کردیا تو وہ تجھے اس عورت تک پہنچانے کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور بنادے گا، وہ بہت مہربان ہے۔
اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ بوڑھا لکڑہارا اسی وقت سجدے میں گر کر بلک بلک کر اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگا۔ اچانک دور سے کسی گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ ایک خوبصورت شہزادی سفید رنگ کے حسین گھوڑے پر سوار تھی۔
قریب آکر شہزادے سے مخاطب ہوئی: اے شہزادے آخر یہ کیا ماجرا ہے؟ شہزادے نے بوڑھے کی رام کہانی شہزادی کو سنادی۔ شہزادی کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے اور وہ گھوڑے سے اتری اور لکڑہارے سے کہنے لگی: میں ہی وہ لڑکی ہوں جس کی ماں تیرے در پر سوالی بن کر آتی تھی۔
مگر اے بدبخت تیرے مغرور بیٹے نے اس نیک عورت کی زندگی ہی چھین لی۔ ساری رات تیرے دروازے پر تیز بارش میں طوفان کامقابلہ کرتی رہی، کہ شاید تجھے رحم آجائے۔بالآخر تیز بارش کی ٹھنڈی بوندوں کو وہ بوڑھی جان برداشت نہ کرسکی اور دنیا سے چلی گئی۔
جب صبح ہوئی۔ تو رحمدل بادشاہ معمول کے گشت پر تھا اس کا وہاں سے گزر ہوا، وہ میری ماں کو جب گھر لایا تو ماں کی لاش دیکھ کر میرے پیروں تلے سے زمین ہی نکل گئی، اب میرا سہارا کوئی نہ تھا۔ بادشاہ یہ سب دیکھ کر بہت پریشان ہوا بالآخر اس نے مجھے اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا کچھ عرصہ میں اس کے محل میں رہی اور اس نے مجھے نیک لڑکی پا کر اپنے بیٹے سے میری شادی کرادی۔
شاید یہ میری ماں کی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔ جس نے میری خاطر اپنی جان قربان کردی اور اس رب نے مجھ غریب کو فرش سے اٹھا کر عرش پر بٹھا دیا اور اس نیک شہزادے سے میری شادی کرادی جو اس وقت تیرے سامنے کھڑا ہے۔

اور تجھے تیرے مغرور بیٹے کے کرموں نے عرش سے فرش پر گرادیا۔
خدا کی قدرت دیکھ کر لکڑہارا شرمندگی سے زمین میں گڑھتا جارہا تھا اور رورو کر شہزادی سے معافی مانگی۔شہزادی بہت رحمدل تھی ۔لکڑہارے کے آنسوؤں سے اس کا دل بھر آیا اور اس نے اس کو معاف کردیا، خدا کی قدرت ، لڑکا اس لمحے اپنے اصل روپ میں واپس آگیا اور خدا کے حضور سجدے میں گرگیا اور شہزادی سے بھی معافی مانگنے لگا۔ شہزادی نے اسے بھی معاف کردیا۔ بلآخر دونوں باپ بیٹا اپنی جھونپڑی کی طرف روانہ ہوگئے۔

۔ پیارے دوستو آگر کہانی اچھی لگے تو لائک اور کمینٹ کے ساتھ ساتھ اس پوسٹ کو شیئر ضرور کریں اور ہاں اپنے دوستوں کو بھی انوئٹ کریں ۔ شکریہ

‏کتوں کی دوڑ کے مقابلے میں ایک مرتبہ ایک چیتے کو شامل کیا۔‏لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جب مقابلہ شروع ہوا تو چیتا اپنی جگہ...
23/08/2021

‏کتوں کی دوڑ کے مقابلے میں ایک مرتبہ ایک چیتے کو شامل کیا۔
‏لیکن تعجب کی بات یہ ہے
کہ جب مقابلہ شروع ہوا تو چیتا اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں
اور کتے اپنی پوری قوت کے ساتھ مقابلہ جیتنے کی کوشش کر رہے۔
چیتا خاموشی سے دیکھتا رہا۔
‏جب مالک سے پوچھا گیا کہ چیتے نے مقابلے میں شرکت کیوں نہیں کی تو اس نے دلچسپ جواب دیا:
‏کبھی کبھی خود کو بہترین ثابت کرنا دراصل اپنی ہی توہین ہوتی ہے۔
‏ہر جگہ خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
بعض لوگوں کے سامنے خاموش رہنا ہی بہترین جواب ہوتا ہے
‏ کتوں کے ساتھ کتے دوڑتے ہیں شیر اور چیتے نہیں
اس لئے ہمیں اگر خود پر یقین ہو کہ ہم بہترین ہیں تو اس کیلئے ضروری نہیں کہ ہم خود کو ثابت کرنے کیلئے کتوں کے ساتھ مقابلہ کرلیں بلکہ چپ رہ لیں۔۔اسی لئے ہم ہر بات کا جواب نہیں دیتے
کتے سمجھتے ہیں ہمیں مقابلہ کرنا نہیں آتا .

*(_خوبیاں اور خامیاں_)*  ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻭ ﻣﭩﮑﮯ ﺗﮭﮯ, ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﻟﮑﮍﯼ ﭘﺮ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ...
23/08/2021

*(_خوبیاں اور خامیاں_)*

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻭ ﻣﭩﮑﮯ ﺗﮭﮯ, ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﻟﮑﮍﯼ ﭘﺮ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﺮ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﻻﺗﯽ۔ ﺍﻥ ﺩﻭ ﻣﭩﮑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﭽﮫ ﭨﻮﭨﺎ ہوﺍ۔ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮩﺮ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺘﯽ ﺗﻮ ﭨﻮٹی ﮨﻮئ ﻣﭩﮑﯽ ﮐﺎ ﺁﺩﮬﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺑﮩﮧ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻣﭩﮑﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺘﺎ۔ ﺛﺎﺑُﺖ ﻣﭩﮑﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺎﺭﮐﺮﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮨﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ۔ ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺧﺮ ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﻮﻗﻊ ﮐﯽﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺩﻭ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺗﮏ ﻧﺎﮐﺎﻣﯽ ﮐﯽ ﺗﻠﺨﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮍﻭﺍﮨﭧ ﻟﺌﮯ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﮭﮍﮮ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔۔۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﻣﻌﺬﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﺗﻢ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺸﻘﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﻻﺗﯽ ﮨﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺳﺎﺭﺍ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﺮﮮ ﭨﻮٹے ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮔﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮔﮭﮍﮮ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﮨﻨﺲ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ۔۔۔۔۔
ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ دو ﺳﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ جس طرف ﺳﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻻﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﺩﮬﺮ ﺗﻮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﻮﺩﮮ ﮨﯽ ﭘﻮﺩﮮ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮔﺎ ﮨﻮﺍ۔ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭨﻮٹے ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮔﺮﺗﺎ ﮨﮯ, ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﮩﺮ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﯿﺞ ﺑﻮﺩﯾﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺁﻧﮯ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺱ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮨﻮﺗﮯ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻥ ﺩﻭ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ, ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﻥ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮔﻠﺪﺳﺘﮯ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺳﺠﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﮑﺎﯾﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﺎ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﮩﺎﺭ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮨﯽ ﻧﺎ ﭘﺎﺗﯽ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻡ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﻈﺮﺁﺗﯽ ﮨﮯ۔

*حاصل کلام:-ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﺌﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎ ﮐﻮﺋﯽﺧﺎﻣﯽ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﯾﮩﯽ ﺧﺎﻣﯿﺎﮞ, ﻣﻌﺬﻭﺭﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﺎ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﺍﻭﺭ ﭘُﺮ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﭘﺮ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺎﻣﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺍﻥ ﺧﻮﺑﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺟﺎﮔﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﺎﻣﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺬﻭﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽﺧﺠﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﺑﻮﺟﮫ ﻣﯿﮟ ﺩﺏ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎ ﭘﺎﺗﮯ۔ ﻣﻌﺬﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽﻣﻌﺬﻭﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻔﯿﺪ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﯽ ﮨﺎﮞ, ﮨﻢ ﺳﺐ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﯿﺐ ﮨﮯ, ﭘﮭﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﺎ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻥ ﻋﯿﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ, ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺧﺎﻣﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﭘﻮﺭ ﻟﻄﻒ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ۔ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﺎﻣﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﺮﺩﮦ ﮈﺍﻝ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖_*مزید ایسی پوسٹیں حاصل کرنے کے لیے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور اپنے دوستوں کو اس پیج پر invite کریں، شکریہ

20/08/2021

یہ کونسی انجینیرنگ یونیورسٹی سے پڑھا ہے
مٹی کے ساتھ باریک لکڑی کا استعمال کر رہا ہے تاکہ گھونسلہ مضبوط رہے...

Address

Karak

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Infact Urdu - Urdu facts posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category