Faiz Agro mart

Faiz Agro mart Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Faiz Agro mart, kasure, raiwind Road, Kasur.

🌐 ٹھیکہ داری اور زرعی زمین کا انتظام​عالمی سطح پر، تمام زرعی زمین کا 42 % حصہ کرائے پر ہے۔ یہ زراعت کی ترقی میں خاموش تر...
01/12/2025

🌐 ٹھیکہ داری اور زرعی زمین کا انتظام
​عالمی سطح پر، تمام زرعی زمین کا 42 % حصہ کرائے پر ہے۔ یہ زراعت کی ترقی میں خاموش ترین رکاوٹوں میں سے ایک ہے، اور یہ ہر فصل میں زمین کے انتظام کے طریقے کو تشکیل دیتی ہے۔
​تصور کریں کہ آپ 2-3 سالہ لیز (پٹے) پر کھیتی کر رہے ہیں۔
​آپ جانتے ہیں کہ کور کراپس (حفاظتی فصلیں)، بہتر ساخت، اور آرگینک مواد (نامیاتی مادہ) فائدہ دیتے ہیں — لیکن صرف کئی سالوں کے بعد۔ اس کا منافع آپ کا لیز ختم ہونے کے بہت بعد آتا ہے۔
​لہٰذا، آپ عقلی کام کرتے ہیں: آپ مختصر مدت کے لیے بہتر بناتے ہیں۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔
​مٹی کے انتظام کے فیصلے کرنے والا شخص اثاثے کا مالک نہیں ہوتا۔ اثاثے کا مالک اس کی حالت نہیں دیکھ سکتا۔ دونوں نامکمل معلومات کے ساتھ کام کرتے ہیں، اور دونوں اس ساخت میں پھنسے ہوئے ہیں۔
​نہ اس لیے کہ کسی میں علم کی کمی ہے۔ نہ اس لیے کہ لوگ پرواہ نہیں کرتے۔ بلکہ اس لیے کہ موجودہ نظام استحصال (extraction) کا انعام دیتا ہے اور طویل مدتی سرمایہ کاری کو جائز ٹھہرانا مشکل بنا دیتا ہے۔
​جب مٹی کی کارکردگی (soil performance) قابلِ پیمائش ہو جاتی ہے، تو ترغیبات (incentives) بدل جاتی ہیں۔ یہ کرایہ دار اور زمیندار کے درمیان کے تقسیم کو تو حل نہیں کرتا، لیکن یہ دونوں فریقوں کو وہ چیز فراہم کرتا ہے جو ان کے پاس کبھی نہیں تھی: مٹی کی حالت اور وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلی کا قابلِ تصدیق ثبوت (verifiable evidence)۔
​اس سے نئے قسم کے معاہدے اور مشترکہ قدر (shared value) ممکن ہو جاتی ہے۔
​اگر آپ کرایہ دار کے طور پر زرعی زمین کرایہ پر لیتے ہیں، یا آپ زمیندار ہیں، تو آپ جس جگہ کام کرتے ہیں وہاں طویل مدتی مٹی کی سرمایہ کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟

17/05/2025
بندروں کو جب پتہ چلا کہ جس زمیندار کی وہ مکئی  کھاتے ہیں اس کا مالک مر گیا ہے ۔انہوں نے خوب جشن منایا کہ اب ہمیں مکئی کھ...
15/04/2025

بندروں کو جب پتہ چلا کہ جس زمیندار کی وہ مکئی کھاتے ہیں اس کا مالک مر گیا ہے ۔
انہوں نے خوب جشن منایا کہ اب ہمیں مکئی کھانے سے کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔
لیکن اگلے سال جب مکئی لگانے والا ہی نہ رہا
تو انہیں احساس ہوا کہ اس وقت جشن منانے کا نہیں دراصل ماتم کرنے کا وقت تھا ۔
کسان بے چارہ اس وقت شدید تکلیف میں ہے
اس کے مرنے کی خوشیاں مت منائیں ۔
اس کی خاطر آواز اٹھائیں اور اس کا ساتھ دیں ۔
زراعت اور کسان ہماری آن اور شان ہے ۔

اوپر کی مٹی کیا ہے؟ ٹاپ سوائل مٹی کی سب سے اوپر کی تہہ ہے۔  قدرتی حالات پر منحصر ہے، اس قیمتی سبسٹریٹ کے صرف ایک انچ کو ...
20/01/2025

اوپر کی مٹی کیا ہے؟

ٹاپ سوائل مٹی کی سب سے اوپر کی تہہ ہے۔ قدرتی حالات پر منحصر ہے، اس قیمتی سبسٹریٹ کے صرف ایک انچ کو بنانے میں 100 سے 1000 سال تک کا وقت لگتا ہے۔

اوپر کی مٹی نامیاتی مادے اور معدنی ذرات سے بنی ہوتی ہے، اور یہ عام طور پر زیادہ نامیاتی مادے کی وجہ سے مٹی کی سیاہ ترین تہہ ہوتی ہے۔ یہ مٹی کے مجموعی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہے کیونکہ اس میں پانی اور ہوا موجود ہے، جو حیاتیاتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اوپر کی مٹی بنیادی طور پر ریت، گاد، مٹی اور humus کے مرکب پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہمس زمین کی سطح کی تہہ سے پودوں اور جانوروں کے ملبے کو ختم کر رہا ہے، جو اسے سب سے زیادہ غذائیت سے بھرپور مٹی کی تہہ بنا رہا ہے۔

اوپر کی مٹی مختلف قسم کے جانداروں کا گھر ہے جس میں بیکٹیریا، فنگس، پروٹوزوا، نیماٹوڈس، کیڑے، کیڑے جیسے چیونٹی اور چقندر، مائٹس، سینٹی پیڈز، اور بڑے جانور جیسے مولز، وولز اور گوفرز شامل ہیں، یہ سب نامیاتی مادے کے ٹوٹنے میں حصہ ڈالتے ہیں۔ اور پودوں کے لیے غذائیت کی سائیکلنگ۔

بیکٹیریا اور فنگس اوپر کی مٹی میں سب سے زیادہ پائی جانے والی زندگی کی شکلیں ہیں، جو نامیاتی مادے کو گلنے اور پودوں کے لیے غذائی اجزاء جاری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کینچوڑے، اسپرنگ ٹیل، مائٹس، اور نیماٹوڈز جیسی مخلوقات بھی مٹی کو ہوا دینے اور نامیاتی مواد کو توڑنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔ تلنے والے جانور جیسے مولز، گوفرز اور کچھ چوہا بھی اوپر کی مٹی میں رہتے ہیں، جو مٹی کو ملانے اور ہوا دینے میں مدد کرتے ہیں۔

دنیا اس شرح سے اوپر کی مٹی کو کھو رہی ہے جو قدرتی طور پر بھرائی جانے والی اس سے 10 سے 40 گنا زیادہ تیزی سے ہے۔ یہ نقصان زیادہ تر انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہے جیسے کہ روایتی کاشتکاری کے طریقے، جو کاربن اور غذائی اجزاء کی مٹی کو ختم کر دیتے ہیں۔ اوپر کی مٹی کو کھونے کے نتائج اہم ہیں۔ دنیا اپنی خوراک کا 95% مٹی کی اوپری تہہ میں اگاتی ہے، اس لیے اوپر کی مٹی کھونے سے غذائی تحفظ کو خطرہ ہے۔

انسانوں نے ہمارے سیارے کی سطح پر کافی مقدار میں مٹی کو منتقل کیا ہے۔ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ اس وقت، ہم نے زمین میں کسی بھی دوسرے قدرتی ارضیاتی عمل سے زیادہ مٹی کو ادھر ادھر منتقل کیا ہے۔ پچھلے 150 سالوں میں، دنیا کی نصف مٹی ختم ہو چکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے مٹی کے کٹاؤ کی شرح نئی مٹی کی تشکیل کی شرح سے تجاوز کر گئی ہے۔

تو ہم اپنے اوپر کی مٹی کی حفاظت کیسے کریں اور مزید نقصان کو کیسے روکیں؟ اپنی اوپری مٹی کی حفاظت اور اسے بنانے میں مدد کے لیے آپ کئی اقدامات کر سکتے ہیں۔

زمین میں چُھپے خزانےپاکستان  زیرِ زمین پانی کی ایکوئفر کے لحاظ سے دُنیا کی سپر پاور ہے۔ دنیا کے 193 ممالک میں سے صرف تین...
29/12/2023

زمین میں چُھپے خزانے

پاکستان زیرِ زمین پانی کی ایکوئفر کے لحاظ سے دُنیا کی سپر پاور ہے۔ دنیا کے 193 ممالک میں سے صرف تین ممالک چین، انڈیا اور امریکہ پاکستان سے بڑی ایکوئفر رکھتے ہیں۔دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے میدانی علاقوں کے نیچے یہ ایکوئفر 5 کروڑ ایکڑ رقبے پر سے زیادہ علاقے پر پنجاب اور سندھ میں پھیلی ہوئی ہے۔

در حقیقت پاکستان کے مردہ ہوتے دریاؤں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والے سیلابوں یا قحط کے خطرے کے سامنے یہ ایکوئفر ہی ہماری آخری قابلِ بھروسہ ڈھال ہے جس کے سینے میں ہم نے دس لاکھ سے زیادہ چھید (ٹیوب ویل ) کر رکھے ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

یہ ایکوئفر اتنی بڑی ہے کہ پاکستان کے سارے دریاؤں کا پانی اپنے اندر سما سکتی ہے۔ یہ آپ کے تربیلا ڈیم جتنی ایک درجن جھیلوں سے زیادہ پانی چُوس لے گی اور اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

پاکستان اس وقت دُنیا میں زمینی پانی کو زراعت کے لئے استعمال کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ آپ کی زراعت میں آدھے سے زیادہ پانی (50ملئین ایکڑ فٹ) اس ایکوئفر سے کھینچا جارہا ہے۔دریائے سندھ کے نہری نظام سے کبھی سال میں ایک فصل لی جاتی تھی ، آج ہم تین تین فصلیں لے رہے ہیں۔

آبادی کے دباؤ کی وجہ سے زرعی اور صنعتی مقاصد کے لئے بے تحاشا پانی ٹیوب ویلوں سے کھینچنے کی وجہ سے یہ ایکوئفر نیچے جانا شروع ہوچکی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بنک کے مطابق پاکستان تقریباً 500 کیوبک میٹر پانی فی بندہ کے حساب سے زمین سے کھینچ رہا ہے جو کہ پورے ایشیا میں بہت زیادہ ہے۔

اس ایکوئفر کے اوپر سندھ اور پنجاب کے علاقے میں صرف مون سون کے تین مہینوں میں 100 ملئین ایکڑ فٹ تک پانی برس جاتا ہے۔ یہ ایکوئفر ہزاروں سال سے قدرتی طور پر ری چارج ہورہی تھی لیکن ہم نے کنکریٹ کے گھر اور اسفالٹ کی سڑکیں بناکر پانی کے زمین میں جانے کا قدرتی راستہ کم سے کم کردیا ہے۔

بارش کا پانی سب سے صاف پانی ہوتا ہے لیکن یہ ری چارج ہونے کی بجائے فوری طور پر سڑکوں ، سیوریج لائنوں اور گندے نالوں کے ذریعے گٹر والے پانی میں بدل جاتا ہے جس سے نہ صرف اس کی کوالٹی بدتر ہوجاتی ہے بلکہ یہ سیلابی پانی بن کر شہروں کے انفراسٹرکچر اور دیہاتوں کو فلیش فلڈنگ سے نقصان پہنچاتا ہے۔

تاہم اگر اس پانی کو اکٹھا کرکے زیرزمین پانی کوری چارج کرنے کا بندوبست کیا جائے تو نہ صرف اربن فلڈنگ اور فلیش فلڈنگ پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ بڑے بڑے ڈیم بنائے بغیر بہت زیادہ پانی بھی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔

لہٰذا فوری طور پر آبادی والے علاقوں میں ری چارج کنویں، ڈونگی گراونڈز، ری چارج خندقیں ، تالاب، جوہڑ بنانے پر زور دیا جائے جب کہ نالوں اور دریاؤں میں ربڑ ڈیم اور زیرزمین ڈیم بنا کر مون سون کے دوران بارش اور سیلاب کے پانی کو زیرِزمین ری چارج کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے راوی اور ستلج دریا کے سارا سال خشک رہنے والے حصے، پرانے دریائے بیاس کے سارے راستے اور نہروں اور دوآبوں کے زیریں علاقے انتہائی موزوں جگہیں ہیں۔

اس طرح پانی ذخیرہ کرنے کے فوائد کیا ہوں گے؟

1- بڑے ڈیموں کی جھیلیں آہستہ آہستہ مٹی اور گادھ سے بھر جاتے ہیں جب کہ زیرِ زمین ایکوئفر میں پانی فلٹر ہو کر جاتا ہے لہٰذا یہ ہمیشہ کے لئے ہیں ۔

2- ایکوئفر سے پانی بخارات بن کر نہیں اڑ سکتا ۔

3- کسی بھی قسم کی آبادی یا تنصیبات کو دوسری جگہ منتقل نہیں کرنا پڑے گا جیسا کہ پانی کے دوسرے منصوبوں میں کرنا پڑتا ہے۔

4- جب اور جہاں ضرورت ہو یہ پانی نکالا جا سکے گا

5- پانی کی کوالٹی بھی جھیل میں کھڑے پانی سے بہتر ہوگی۔

ہمارے صنعتوں میں 100 فی صد پانی زیرزمین استعمال ہوتا ہے اور پھر یہ لوگ پانی استعمال کرنے کے بعد بغیر اسے صاف کئے واپس زمین میں یا نالوں میں پانی گندا کرنے کے لئے چھوڑ دیتےہیں۔ اگر ابتدا صنعتوں سے ہی کرکے ان کو پمپ کئے گئے پانی کی مقدار کے برابر پانی ری چارج کرنے کی سہولیات بنانے کا پابند بنایا جائے تو یہ ایک اچھا آغاز ہوگا جس کے بعد میونسپیلیٹی اور ضلع کی سطح پر کام کیا جاسکتا ہے۔

موجودہ پانی کے تناؤ کی صورت حال، بھارت کی طرف سے دریاؤں کے خشک کرنے، سیلابوں اور قحط کے سامنے نظر آتے خطروں کے خلاف زمینی پانی ہی ہمارے بچاؤ کی آخری صورت ہے۔ زمین میں چھپے اس خزانے کو ری چارج کرنا ضروری ہے۔

17/03/2023
کھڑی فصلوں پہ بارش سے نہ ہم کو آزما رازقبندھے ہاتھوں کی مِنّت  سُن مِرے مشکل کشا رازقسنہرے ریشمی سِٹّوں میں دانے سر بسجد...
17/03/2023

کھڑی فصلوں پہ بارش سے نہ ہم کو آزما رازق
بندھے ہاتھوں کی مِنّت سُن مِرے مشکل کشا رازق

سنہرے ریشمی سِٹّوں میں دانے سر بسجدہ ہیں
مِری مٹّی کو اشک و خون کے نم سے بچا رازق..آمین

Address

Kasure, Raiwind Road
Kasur

Telephone

+923366704949

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faiz Agro mart posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Faiz Agro mart:

Share