World View Publishers

World View Publishers ورلڈ ویو پبلشرز لاہور،ہمارا مقصد مذہب وادب کی کتب کا فروغ،پرنٹنگ سروسز کی فراہمی اور ڈسٹریبیوشن ہے

مثنوی مولانا روم کی عکسی اشاعت پہ ہمارے دوست،، کرم فرما جناب مولانا محمد علی صاحب نے اظہار خیال فرمایا آپ بھی ملاحظہ فرم...
07/09/2026

مثنوی مولانا روم کی عکسی اشاعت پہ ہمارے دوست،، کرم فرما جناب مولانا محمد علی صاحب نے اظہار خیال فرمایا
آپ بھی ملاحظہ فرمائیں

مثنوی مولوی معنوی
ہست قرآں در زبان پہلوی
اللہ رب العزت نے کائنات میں اپنے چنیدہ افراد میں سے کچھ کو ایسی لطافت اور چاشنی عطا فرمائی ہے کہ ان کا خیال آتے ہی من کا پنچھی عالم بالا کی سیر کو نکل جاتا ہے ، طبیعت شگفتہ اور روح طہارت حاصل کرتی ہے ۔
جلال الدین محمد بن محمد مولوی رحمۃ اللّٰہ علیہ اور انکی مثنوی اسی کا مصداق ہے ۔ آپ کی مثنوی کو فارسی زبان میں قرآن کا درجہ دیا جاتا ہے اور صوفیا کے ہاں یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ مثنوی مولوی معنوی پڑھتے پڑھتے کثیر سالک ولایت کے مرتبہ پر فائز ہوئے ہیں ۔
یوں تو دنیا میں مثنوی مولوی معنوی کے کثیر تعداد میں نسخے مختلف انداز ( قلمی ، غیر قلمی کمپوز ) میں چھاپے جا رہے ہیں۔ یقینا ان میں بہت سے حرف حرف سہو سے پاک ہوں گے لیکن بعض میں بعض جگہوں پر املا ، الفاظ کا فاصلہ ( سپیس ) اور مختلف غلطیاں اور سقم پائے جاتے ہیں۔ جس کے سبب مبتدی قاری کو پڑھنا ناصرف دشوار گزرتا ہے بلکہ غیر فارسی کے لیے تو نطق کرنا بھی آسان نہیں رہتا چہ جائے کہ اسے سمجھا جائے ۔
حالیہ دنوں میں پاکستان میں بھی جو نسخے مارکیٹ میں دستیاب ہیں ان کو بھی اپنے تئیں کمپوز کر کے سہل بنانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ان میں اغلاط کا ڈھیر ہے ۔
پیش نظر کتاب کا قلمی کتابت شدہ نسخہ برصغیر پاک و ہند میں خانقاہوں میں عرصہ دراز سے پڑھا جا رہا ہے بالخصوص آستانہ عالیہ عظیمیہ کھریپڑ شریف کے سرخیل حضرت خواجہ سائیں محمد اشرف قادری لالہ پاک اور آپ کے صاحبزادہ، حضرت خواجہ سائیں سردار احمد عالم قادری رحمۃ اللّٰہ علیہما نے تمام عمر جس نسخے سے درس مثنوی ارشاد فرمایا وہ یہی ایڈیشن تھا۔
ناچیز نے جب نئے ایرانی ، پاکستانی نسخوں کے ساتھ اس نسخے کی مماثلت دیکھنا چاہی تو یہ عقدہ کھلا کہ یہ نسخہ پڑھنے ، سمجھنے میں نہ صرف آسان ہے بلکہ غلطیوں سے بھی تقریباً پاک ہے ۔
عرصہ دراز سے اس کی اشاعت تو بند ہو چکی ہے لیکن احباب کے اصرار پر اس ایڈیشن کی پی ڈی ایف فائل سے اس نسخے کو اعلی کوالٹی کے کاغذ پر ورلڈ ویو پبلیشرز لاہور نے ڈیجیٹل پرنٹ کر کے نئے سر ورق کے ساتھ شائع کیا ہے۔ محترم جناب مقصود احمد کامران صاحب مبارک باد مستحق ہیں کہ انھوں نے نہ صرف متلاشیان حق کے لیے ایک اور راہ ہموار کی بلکہ آپ نے ہم تک اس علمی وراثت کو منتقل کیا ۔ اللہ پاک ان کو خیر کثیر عطا فرمائے ۔
خادم الفقراء
محمد علی قادری
قادریہ فاؤنڈیشن پاکستان
محمد یار قادری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پاکستان
عام قیمت 15000
ڈسکاؤنٹ کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ فرمائیں
03333585426

"سید محمد نقیب العطاس   عصرِ حاضر کے ممتاز مسلم مفکر، فلسفی، ماہرِ تعلیم اور مفکر ہیں، جنھوں نے اسلامی تصورِ علم، فلسفۂ ...
29/08/2026

"سید محمد نقیب العطاس عصرِ حاضر کے ممتاز مسلم مفکر، فلسفی، ماہرِ تعلیم اور مفکر ہیں، جنھوں نے اسلامی تصورِ علم، فلسفۂ تعلیم، مابعد الطبیعیات اور مسلم تہذیب کے فکری مباحث میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ بین الاقوامی ادارہ برائے اسلامی فکر و تہذیب (ISTAC) کے بانی تھے اور اسلامی تصورِ علم، ادب ، اور اسلامی تصورِ کائنات کے حوالے سے آپ کے نظریات کو معاصر اسلامی فکر میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ آپ کی تصانیف مشرق و مغرب کی متعدد جامعات میں نصاب کا حصہ ہیں اور ان پر دنیا بھر میں تحقیقی کام جاری ہے۔
اسلام اور سیکولر ازم ان کی نمائندہ اور اثر انگیز تصنیف ہے، جس میں انھوں نے جدید مغربی سیکولر فکر کا تاریخی، فلسفیانہ اور تہذیبی تجزیہ کرتے ہوئے اسلام کے جامع تصورِ دین، تصورِ علم، تصورِ انسان اور اسلامی نظامِ تعلیم کی توضیح کی ہے۔ اس کتاب میں محض سیکولر ازم پر تنقید نہیں، بَل کہ اسلامی تہذیب کی فکری بنیادوں کی بازیافت، علم کی درست ترتیب، اور مسلم معاشرے کی علمی و تہذیبی تجدید کا ایک جامع خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اسی بنا پر یہ کتاب معاصر اسلامی فکر، فلسفۂ تعلیم اور تہذیبی مطالعات میں ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے اور آج بھی اہلِ علم، اساتذہ، محققین اور سنجیدہ قارئین کے لیے یکساں اہمیت کی حامل ہے۔"
ڈیجیٹل پرنٹنگ سے اعلیٰ کوالٹی کاغذ اور بائنڈنگ سے ورلڈ ویو پبلشرز اردو بازار لاہور سے شائع ہو چکی ہے
عام قیمت 2000
ڈسکاؤنٹ کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ فرمائیں
03333585426

برٹرینڈ رسل(Bertrand Russell) کا شمار بیسویں صدی کے ممتاز فلاسفہ،   ماہرِ ریاضیات اور سماجی نقادوں میں ہوتا ہے۔ اُس  نے ...
27/08/2026

برٹرینڈ رسل(Bertrand Russell) کا شمار بیسویں صدی کے ممتاز فلاسفہ، ماہرِ ریاضیات اور سماجی نقادوں میں ہوتا ہے۔ اُس نے جدید تجزیاتی فلسفے (Analytic Philosophy) کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا اور فلسفے، سائنس، تعلیم، سیاست اور مذہب کے موضوعات پر گہرا اثر چھوڑا۔ اُس کی کتاب "مذہب اور سائنس"Religion and Science (1935ء) مذہب اور سائنس کے باہمی تعلق کا ایک تنقیدی اور تاریخی مطالعہ ہے، جس میں رسل یہ واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انسانی تاریخ میں مذہبی عقائد اور سائنسی دریافتوں کے درمیان اکثر کشمکش رہی ہے، اگرچہ یہ تعلق ہمیشہ تصادم تک محدود نہیں رہا۔ رسل نے فلکیات، حیاتیات، ارتقا، علت و معلول، روح اور اخلاقیات جیسے موضوعات پر بحث کرتے ہوئے استدلال کیا ہے کہ سائنس کا طریقۂ کار مشاہدے، تجربے اور تنقیدی تحقیق پر اُستوار ہے، جبکہ مذہب اکثر اتھارٹی، روایت اور ایمان سے اپنی صداقت اخذ کرتا ہے۔ تاہم رسل کا مقصد محض مذہب کی تردید نہیں، بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ جدید انسان کے فکری افق کو سمجھنے کے لیے سائنسی ذہنیت اور مذہبی تصورات کے تاریخی ارتقا کا غیر جانب دار مطالعہ ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب مذہب اور سائنس کے تعلق پر لکھی گئی کلاسیکی اور اثر انگیز تصانیف میں شمار ہوتی ہے۔
ورلڈ ویو پبلشرز اردو بازار لاہور سے اعلیٰ کوالٹی کاغذ اور بائنڈنگ ڈیجیٹل پرنٹنگ سے شائع ہو چکی ہے عام قیمت 1900
ڈسکاؤنٹ کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ فرمائیں
03333585426

میں اتنا حساس ہوں کہ جہاں فلسفیوں کا ذکر آیا آنکھیں بند کر لیتا ہوں جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر بند کر لیتا ہے میں ان کی ب...
20/08/2026

میں اتنا حساس ہوں کہ جہاں فلسفیوں کا ذکر آیا آنکھیں بند کر لیتا ہوں جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر بند کر لیتا ہے
میں ان کی باتیں سننا ہی نہیں چاہتا
ویسے بھی یہ خشک سی باتیں کرتے ہیں
نہ کسی کو مردہ باد کہیں یا نہ کسی پہ بدعتی اور مشرک کے فتوے لگائیں
میں ہر وہ کتاب اپنے سے پرے ہٹا دیتا ہوں جہاں فلسفہ آ جاتا ہے
اور ہمارے دوست جناب کلیم الہی امجد کو ہماری اس کمزوری کا اندازہ ہے
انہوں نے بھی ٹھان لی ہے کہ اس کے دماغ کا علاج کر کے چھوڑیں گے
آئے دن نت نئے موضوعات پر کتابیں سامنے آ رہی ہیں
اب آپ یہی کتاب دیکھ لیں
خدا فلسفیوں کی نظر میں
بندہ ان سے پوچھے ہم غیب پہ یقین رکھنے والے لوگوں کو کیا لگے کہ فلسفی خدا کے بارے میں کیا کہتے ہیں
مگر کلیم الہی امجد کا کہنا ہے کہ نہیں
اگر فلسفہ نہیں پڑھیں گے تو آپ لاجک سے بات نہیں کر سکتے انہیں فلسفیوں کے دلائل سے آپ ان کو جواب دے سکتے ہیں۔
اور بظاہر ان کی یہ بات صائب بھی معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ ہم نے بڑوں کی زبانی سنا ہے کہ " سانپ کے زہر کا تریاق بھی اسی کے جسم کے اندر ہی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔"
معاشرے میں کچھ نہ کچھ ایسے لوگ ضرور ہونے چاہئیں جو فلسفیوں سے مکالمہ کر سکیں
ان کچھ ہی لوگوں کے لیے ورلڈ ویو پبلشرز اردو بازار لاہور نے ڈیجیٹل پرنٹنگ سے اعلیٰ کوالٹی کاغذ اور بائنڈنگ سے یہ ضخیم کتاب شائع کی ہے
عام قیمت 2500
ڈسکاؤنٹ کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ فرمائیں

13/08/2026

تعارفِ کتاب:
سُلطانُ العاشقین، خِضرِ صَحراء، اِمامُ العارفین حضرتِ خواجہ غلام فرید قُدِّسَ سِرُّہُ العَزیز کا دیوان در حقیقت کلماتِ عشق کا مَجموعہ، علومِ تصوّف و معرفت کا بحرِ ذخّار اور اسرار و رموزِ ربّانی کا مخزن ہے۔ آپ نے سات زبانوں میں طبع آزمائی فرما کر تصوف و معرفت کے ادق مسائل کو حل فرمایا۔ اب اس شاہکار کلام کی تشریح کا عظیم فریضہ شیخ القرآن حضرت مفتی محمد مختار احمد درانی صاحب علیہ الرحمہ نے انجام دیا ہے، جو گزشتہ 125 سال میں دیوانِ فرید کی شرح میں ایک بے مثال اور فدویانہ سنگِ میل ہے۔
کتاب کی نمایاں خصوصیات:
روحانی گہرائی: یہ شرح قاری کو عالمِ ناسوت سے نکال کر ملکوت کے انوار، جبروت کے اسرار اور لاہوت کے رموز تک رسائی دیتی ہے۔
باطنی تطہیر: سالکِ صادق جب اس بحرِ معانی میں غوطہ زن ہوتا ہے تو اخلاقِ رذیلہ کے پردے دور ہوتے ہیں اور قلب و روح شرابِ وصال سے سیراب ہوتے ہیں۔
جامع فرہنگ: تصوف کی تعبیرات، اصطلاحات، مقاماتِ بسط و قبض، وصل و ہجر، اور سلف صالحین کی فکر سے مکمل تطبیق کا احاطہ کیا گیا ہے۔
محققین کے لیے ماخذ: اہلِ سلوک، محققین اور اربابِ علم و معرفت کے لیے یہ ایک بنیادی اور ناگزیر مآخذ ہے۔
ایڈیشن اور قیمت کی تفصیل:
مشتملات: دوضخیم معیاری جِلْدوں پر مشتمل
عام قیمت: 8,000 روپے
مخصوص رعایتی قیمت: صرف 4,500 روپے
🚚 پورے پاکستان میں ہوم ڈلیوری بالکل فری دستیاب ہے!
📦 آج ہی اپنے گھر بیٹھے اس روحانی سرمائے کو منگوانے کے لیے 03333585426

رومی(میر ولی اللہ) دستیاب ورلڈ ویو پبلشرز اردو بازار تبصرہ ڈاکٹر خالد ندیم صاحب کے شکریہ کے ساتھ بعض کتابیں ایسی بھی ہوت...
06/08/2026

رومی
(میر ولی اللہ)

دستیاب ورلڈ ویو پبلشرز اردو بازار
تبصرہ ڈاکٹر خالد ندیم صاحب کے شکریہ کے ساتھ

بعض کتابیں ایسی بھی ہوتی ہیں، جو کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔ وہ جب بھی شائع ہوں، اس کے طالب موجود ہوتے ہیں۔ ایسی ہی صورتِ حال میر ولی اللہ ایبٹ آبادی کی تصنیف ’’رومی‘‘ کی ہے۔ 12؍ اکتوبر 1937ء کو مکمل ہونے والی یہ تصنیف ابتدائی طور پر تین تین دفاتر پر مشتمل دو جلدوں میں شائع ہوئی تھی۔ بقول ڈاکٹر تحسین فراقی، ’’ترجمہ عمدہ اور اردو روزمرہ اور محاورے کے مطابق ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ میر صاحب اردو اور فارسی زبان و ادب اور اس کی نزاکتوں سے خوب آگاہ تھے، نیز عرفان و تصوف کی رمزوں سے بھی واقف تھے، مگر اقبال کی ہی طرح تصوف کو پیچیدہ فلسفیانہ مباحث میں لپیٹنے کے خلاف تھے۔ اقبال کے نزدیک، تصوف اخلاق فی العمل ہے اور بس! خودی رومی بھی اسی مؤقف کے حامی تھے‘‘۔
1937ء کی اشاعت میں قرآنی آیات میں اغلاط کے علاوہ دیگر بہت ہی غلطیاں راہ پا گئی تھیں، جو 2009ء کی اشاعت میں بھی برقرار رہیں؛ البتہ ناشر(ڈاکٹر تحسین فراقی) نے ان اغلاط کو دُور کر کے اور بعض حواشی و تعلیقات کے اضافے کے ساتھ یہ تصنیف بزمِ اقبال لاہور کی طرف سے شائع کی ہے۔ اردو میں مولانا روم کو سمجھنے کی متعدد کوششیں منظر عام پر آ چکی ہیں، اس کے باوجود یہ تصنیف اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں میر ولی اللہ نے نہایت ہی عمدہ اسلوب میں مثنوی کے منتخب مضامین کی تفہیم و شرح کی ہے۔ مثال کے طور پر دفترِ اوّل کی اوّلین حکایت ملاحظہ فرمائیے:

[ترجمہ] بانسری سے سُن، وہ کیا کہتی ہے۔ وہ جدائیوں کی شکایت کرتی ہے کہ جب سے مجھے نیستان سے کاٹ کر لائے ہیں، میری فریاد سے مرد و زن روتے رہتے ہیں۔ مَیں چاہتی ہوں کہ سینہ فراق سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے، تاکہ مَیں دردِ اشتیاق کی شرح بیان کروں۔ جو شخص اپنے اصل سے دُور ہو گیا، وہ دوبارہ وصل کے زمانے کی خواہش کرتا ہے۔ مَیں ہر مجلس میں روتی رہی اور ہر طرح کے لوگوں سے ملتی رہی، لیکن ہر ایک شخص اپنے اپنے گمان کے مطابق مجھے سمجھتا رہا۔ میرے دل کا بھید کسی نہ نے ڈھونڈا۔ میر بھید میری فریاد سے دُور نہیں، لیکن آنکھوں اور کانوں میں اُس کے دیکھنے اور سننے والا نُور نہیں۔ جسم جان سے اور جان جسم سے پوشیدہ نہیں، لیکن جان کو کوئی دیکھ نہیں سکتا۔

[تشریح] یہی حال روحِ انسانی کا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ تمام روحیں روح الارواح (یعنی ذاتِ باری تعالیٰ) سے متصل تھیں۔ وہاں سے جدا ہو کر جب ہر ایک روح ایک علیحدہ جسم میں آ گئی، گویا اپنے اصل سے جدا ہو گئی؛ اس لیے زندگی کا زمانہ روح کے لیے جدائی اور فراق کا زمانہ ہے۔ روح جسم کی قید میں بے تاب ہے کہ کب وہ اس زندان سے نکل کر اپنے اصل کے ساتھ جا ملتی ہے۔ مہجور روح ہر وقت اسی آرزو میں ہے کہ وہ جلدی وصال حاصل کرے، لیکن انسان کی عقل پر اس کی آنکھوں اور کانوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں کہ وہ روح کی اس آواز کو نہ سن سکتے ہیں، نہ سمجھ سکتے ہیں۔ ہر ایک شخص اپنے ظن و گمان کے مطابق روح کی اس آواز کی تاویلیں کرتا ہے، لیکن حقیقت کو کوئی نہیں سمجھتا۔

آپ نے دیکھا کہ معانی کا براہِ راست ابلاغ اور تشریح کے زندہ اسلوب سے مثنوی معنوی کی تفہیم کس قدر شستہ اور دل آویز ہو گئی ہے۔ پوری تصنیف میں میر ولی اللہ کا یہی لب و لہجہ ہے، جس نے پوری کتاب کو ایسی تصنیف بنا دیا ہے کہ فارسی نہ جاننے کے باوجود مولانا روم کے خیالات سے استفادہ آسان ہو گیا ہے۔

کتاب کے آخر میں تذکرہ کے نام سے مولانا کے حالات کو مختصراً بیان کر دیا گیا ہے۔ نہایت عمدہ پیش کش
ڈاک خرچ 1800
03333585426

31/07/2026

ایک بار سنیں تو صحیح

یہ ہو نہیں سکتا کہ پوتا دادا کی گود میں پرورش پائے اسے لوری سنائے اللہ ہو اللہ ہو کی ضربیں لگانا سیکھائے اور اپنے دوستوں...
24/06/2026

یہ ہو نہیں سکتا کہ پوتا دادا کی گود میں پرورش پائے اسے لوری سنائے اللہ ہو اللہ ہو کی ضربیں لگانا سیکھائے اور اپنے دوستوں کی پیاری پیاری باتیں قصے نہ سنائے
اور دادا حضرت مخدوم سرخ پوش ہو جن کے دوستوں میں شیخ الاسلام حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی، حضرت لعل شہباز قلندر اور حضرت بابا فرید گنج شکر شامل ہوں اپنے پوتے حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کو کیوں کر نہ اپنے دوستوں کی خاص محافل کی داستان نہ سناتے ہوں گے؟؟؟
پھر پوتے کو استاد بھی حضرت رکن عالم نوری ملتانی جیسا ملا ہو اور آپ سے فیض یاب ہونے والوں میں حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی جیسے حضرات ہوں ایسے علوم و فنون پہ دسترس رکھنے والی شخصیت کے ملفوظات میں کیا کیا انمول خزانہ ہوگا اسی لیے حضرت مترجم نے اس کتاب کے اردؤ ترجمہ کا نام ہی خزانہ جلالیہ رکھا ہے آئیے ذرا تفصیل سے تھوڑا سا تعارف مزید پڑھتے ہیں
ملاحظہ فرمائیں
حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت سید جلال الدین حسین بخاری اوچوی رحمۃ اللہ علیہ (ولادت 707ھ-وفات 785ھ)برصغیر کی معروف روحانی و علمی شخصیت ہیں۔ آپ اقلیمِ ولایت کے تاجدار، قصر ہدایت کے بلند مینار اور عشق و محبتِ الٰہی سے سرشار بزرگ تھے، جس طرف رخ کرتے دین کی رونقیں اور بہاریں ساتھ لے جاتے۔ آپ کی علمی وجاہت کیلئے اتنا کافی ہے کہ آپ مشہور صوفی بزرگ حضرت مخدوم سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے ہیں۔ حضرت مخدوم سرخ پوش، شیخ الاسلام حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی، حضرت لعل شہباز قلندر اور حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کی دوستی بڑی مشہور ہے۔ حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت نے حضرت شاہ رکنِ عالم نوری حضوری علیہ الرحمہ جیسے اساتذہ سے فیض لیا ہے۔ آپ نے دو درجن سے زائد ملکوں کا سفر کیا، حرمین شریفین میں حضرت شیخ عبداللہ یافعی اور حضرت شیخ عبداللہ مطری سے اکتسابِ فیض کیا۔ آپ کو 188 علوم میں دسترس تھی۔ سلسلہ اشرفیہ کے بانی، حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی آپ ہی کے خوشہ چیں ہیں۔ خزانہ جلالیہ حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے ملفوظات کا انمول خزانہ ہے۔ مخدوم کریم کے خلیفہ و شاگرد حضرت جلال الدین احمد المعروف بہا بھٹی علیہ الرحمہ نے ان ملفوظات کو حضرت مخدوم کی خدمت میں رہ کر جمع کیا۔اصل کتاب فارسی اور عربی میں بشکلِ خط بہار ہے۔ اس کتاب کے تین نسخوں کی معلومات ملتی ہیں، ان میں سے جو نسخہ حضرت مخدوم کریم کے پاس تھا اسی سے کتاب کا ترجمہ کیاگیا ہے۔ صاحبِ تصانیف کثیرہ حضرت علامہ مولانا مفتی سراج احمد سعیدی قادری رضوی مدظلہ العالی نے اس کتاب کو ترجمے کی صورت میں نئی شکل دی ہے۔ ضروری مقامات پر علمی افادات پر مشتمل حواشی بھی درج ہیں۔ حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ کے تفصیلی حالات و واقعات کی جانچ کیلئے حضرت مترجم دام ظلہ کی ایک اور کتاب”تاریخِ اوچ متبرکہ“ کا مطالعہ مفید رہے گا۔
خزانہ جلالیہ ورلڈ ویو پبلشرز اردو بازار لاہور سے شائع ہو چکا ہے عام قیمت تین ہزار
ڈاک خرچ سمیت 1700 میں گھر بیٹھے بٹھائے منگوا سکتے ہیں 03333585426

جو کتاب ایک سو اکیاسی بار چھپنی چاہیے تھی وہ کتاب 181 سال کے بعد شائع ہوئی ہے ،،، میں ذاتی طور پر صدیوں سے چلے آ رہے اعت...
20/06/2026

جو کتاب ایک سو اکیاسی بار چھپنی چاہیے تھی وہ کتاب 181 سال کے بعد شائع ہوئی ہے ،،، میں ذاتی طور پر صدیوں سے چلے آ رہے اعتقادات پر نشتر چلانے کا ذمہ دار شاہ اسماعیل دہلوی صاحب کو سمجھتا ہوں جو خود بھی محمد بن عبد الوہاب صاحب نجدی کی فکر سے متاثر تھے مگر برصغیر کی حد تک توحید کے اظہار کی آڑ میں تنقیص رسالت اور بے باکی کا در تقویہ الایمان نے ہی کھولا تھا جس پر اس وقت کے بڑے بڑے علماء نے نقد کیا جن میں سرِ فہرست علامہ فضل حق خیرآبادی اور علامہ فضل رسول بدایونی تھے شاہ اسماعیل دہلوی صاحب تو معرکہ بلا کوٹ میں مشغول ہوئے اور تاریخ کا حصہ بن گئے مگر مذکورہ علماء کافی عرصہ زندہ رہے اور اس فکر پر تنقید کرتے رہے جس فکر نے علمی و فکری تواتر کو نقصان پہنچایا تھا جہاں علامہ فضل حق خیرآبادی نے بہت سی کتابیں یادگار چھوڑیں، وہیں علامہ فضل رسول بدایونی نے بھی درس و تدریس کے ساتھ ساتھ بہت ساری کتابیں لکھیں، جن کی زبان اردو ، فارسی اور عربی ہے، آپ کی ایک کتاب سیف الجبار پہلے ورلڈ ویو پبلشرز اردو بازار لاہور سے شائع ہو چکی ہے، اب سنی دارالاشاعت لاہور سے البوارق المحمدیہ لرجم الشیاطین النجدیہ جس کا آسان نام نجدیت و وہابیت تاریخ ،عقاید،اور مکائد رکھا گیا ہے، فارسی زبان میں لکھی گئی اس کتاب کا ایک سو اکیاسی سال کے بعد اردو ترجمہ تحقیق و تخریج کے ساتھ کیا ہے مولانا ابنِ اسحاق سیف اللہ قادری ہزاروی صاحب نے آپ کے حواشی خاصے کی چیز ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح تقویہ الایمان تواتر سے شائع ہو رہی ہے بڑا ضروری تھا کہ اس پر نقد بھی اسی سپرٹ کے ساتھ شائع کیا جاتا، مگر جو لوگ وارث تھے علامہ فضل رسول بدایونی کی فکر کے ان کی آپسی چپقلش انہیں غیر ضروری ابحاث و معمولات میں الجھا چکی ہے، اور شاید وہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ چونکہ وہابی فکر کو پوری پوری ریاستیں توانائی فراہم کر رہی ہیں جس کی وجہ سے ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے،، مگر وہ اپنا احتساب کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ تھوڑا بہت اختلاف رائے برداشت کرتے ہوئے فروغِ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور ناموسِ دین اور ناموسِ رسالت کے لیے مشترکات پر ایک دوسرے سے تعاون کیا جائے۔ میں اس کتاب کے مصنف مترجم ناشر سب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں چھ سو اٹھارہ صفحات پر مشتمل اعلیٰ کوالٹی کاغذ اور بائنڈنگ کے ساتھ یہ کتاب مارکیٹ میں دستیاب ہے 03333585426
عام قیمت تین ہزار
ڈاک خرچ سمیت 1700

یہ تینوں کتابیں عوام کے لیے نہیں ہیں!!!علماء محققین ،خاص کر متکلمین اور الحاد و رد الحاد جن کا میدان ہے صرف وہی متوجہ ہو...
12/05/2026

یہ تینوں کتابیں عوام کے لیے نہیں ہیں!!!
علماء محققین ،خاص کر متکلمین اور الحاد و رد الحاد جن کا میدان ہے صرف وہی متوجہ ہوں

ڈیجیٹل پرنٹنگ سے اعلیٰ کوالٹی کاغذ اور بائنڈنگ سے پرنٹنگ سروسز فراہم کی گئی ہیں
آپ بھی اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ شائع کرا سکتے ہیں
ورلڈ ویو پبلشرز اردو بازار لاہور دکان نمبر 11 فرسٹ فلور الحمد مارکیٹ غزنی سٹریٹ 03333585426

Address

Shop 11 First Floor Alhamd Market Ghazni Street Urdu Bazar Lahore
Lahore

Telephone

+923333585426

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when World View Publishers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to World View Publishers:

Shortcuts

Share

Category