Kalam e IQBAL کلام اقبال ترنم میں

Kalam e IQBAL کلام اقبال ترنم میں خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

24/07/2026
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
09/11/2025

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
08/11/2025

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

ابرِ کُہسارہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا ابرِ کُہسار ہوں گُل پاش ہے دامن میرا کبھی صحرا، کبھی گُلزار ہے مسکن میرا شہر و...
28/10/2025

ابرِ کُہسار
ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا
ابرِ کُہسار ہوں گُل پاش ہے دامن میرا
کبھی صحرا، کبھی گُلزار ہے مسکن میرا
شہر و ویرانہ مرا، بحر مرا، بَن میرا
کسی وادی میں جو منظور ہو سونا مجھ کو
سبزۂ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو

مجھ کو قُدرت نے سِکھایا ہے دُرافشاں ہونا
ناقۂ شاہدِ رحمت کا حُدی خواں ہونا
غم زدائے دلِ افسُردۂ دہقاں ہونا
رونقِ بزمِ جوانانِ گُلستاں ہونا
بن کے گیسو رُخِ ہستی پہ بکھر جاتا ہوں
شانۂ موجۂ صرصر سے سنور جاتا ہوں

دُور سے دیدۂ امیّد کو ترساتا ہوں
کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتا ہوں
سَیر کرتا ہُوا جس دم لبِ جُو آتا ہوں
بالیاں نہر کو گرداب کی پہناتا ہوں
سبزۂ مزرعِ نوخیز کی امّید ہوں میں
زادۂ بحر ہوں، پروردۂ خورشید ہوں میں

چشمۂ کوہ کو دی شورشِ قلزُم میں نے
اور پرندوں کو کیا محوِ ترنّم میں نے
سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قُم میں نے
غنچۂ گُل کو دیا ذوقِ تبسّم میں نے
فیض سے میرے نمونے ہیں شبستانوں کے
جھونپڑے دامنِ کُہسار میں دہقانوں کے

لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنّا میری زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری دُور دنیا کا مرے دَم سے اندھیرا ہو جائے ہر جگہ میرے چ...
28/10/2025

لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنّا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

دُور دنیا کا مرے دَم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اُجالا ہو جائے

ہو مرے دَم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھُول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
عِلم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب!

ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
دردمندوں سے، ضعیفوں سے محبت کرنا

مرے اللہ! بُرائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو، اُس رہ پہ چلانا مجھ کو

ہوَیدا آج اپنے زخمِ پنہاں کر کے چھوڑوں گا لہُو رو رو کے محفل کو گُلستاں کر کے چھوڑوں گا جلانا ہے مجھے ہر شمعِ دل کو سوزِ...
25/10/2025

ہوَیدا آج اپنے زخمِ پنہاں کر کے چھوڑوں گا
لہُو رو رو کے محفل کو گُلستاں کر کے چھوڑوں گا
جلانا ہے مجھے ہر شمعِ دل کو سوزِ پنہاں سے
تری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا
مگر غنچوں کی صورت ہوں دلِ درد آشنا پیدا
چمن میں مُشتِ خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گا
پرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کو
جو مشکل ہے، تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گا
مجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغلِ سینہ کاوی میں
کہ مَیں داغِ محبّت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گا
دِکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہے
تجھے بھی صورتِ آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گا
جو ہے پردوں میں پنہاں، چشمِ بینا دیکھ لیتی ہے
زمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہے

نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے خراج کی جو گدا ہو، وہ قیصری کیا ہے! بتوں سے تجھ کو اُمیدیں، خدا سے نومیدی مجھے بتا تو س...
22/10/2025

نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو، وہ قیصری کیا ہے!

بتوں سے تجھ کو اُمیدیں، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!

فلَک نے اُن کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیں
خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

اِسی خطا سے عتابِ مُلُوک ہے مجھ پر
کہ جانتا ہُوں مآلِ سکندری کیا ہے

کسے نہیں ہے تمنّائے سَروری، لیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سَروری کیا ہے!

خوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میری
وگرنہ شعر مرا کیا ہے، شاعری کیا ہے!

اعجاز ہے کسی کا یا گردشِ زمانہ! ٹُوٹا ہے ایشیا میں سِحرِ فرنگیانہ تعمیرِ آشیاں سے میں نے یہ راز پایا اہلِ نوا کے حق میں ...
22/10/2025

اعجاز ہے کسی کا یا گردشِ زمانہ!
ٹُوٹا ہے ایشیا میں سِحرِ فرنگیانہ

تعمیرِ آشیاں سے میں نے یہ راز پایا
اہلِ نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ

یہ بندگی خدائی، وہ بندگی گدائی
یا بندۂ خدا بن یا بندۂ زمانہ!

غافل نہ ہو خودی سے، کر اپنی پاسبانی
شاید کسی حرم کا تُو بھی ہے آستانہ

اے لَا اِلٰہ کے وارث! باقی نہیں ہے تجھ میں
گُفتارِ دلبرانہ، کردارِ قاہرانہ

تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے
کھویا گیا ہے تیرا جذبِ قلندرانہ

رازِ حرم سے شاید اقبالؔ باخبر ہے
ہیں اس کی گفتگو کے انداز محرمانہ

کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمّازی گُستاخ ہے، کرتا ہے فطرت کی حِنابندی خاکی ہے مگر اس کے انداز ہیں افلاکی رومی ہے نہ شا...
27/09/2025

کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمّازی
گُستاخ ہے، کرتا ہے فطرت کی حِنابندی

خاکی ہے مگر اس کے انداز ہیں افلاکی
رومی ہے نہ شامی ہے، کاشی نہ سمرقندی

سِکھلائی فرشتوں کو آدم کی تڑپ اس نے
آدم کو سِکھاتا ہے آدابِ خداوندی!
علامہ محمد اقبال ❤️

15/09/2025

All-Pakistan Competitions Continue Under the Theme “Yeh Ghazi Yeh Tere Purasrar Banday”Students from colleges and universities across the country participate...

Address

Baby Sabo Soo Fitt Road
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kalam e IQBAL کلام اقبال ترنم میں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kalam e IQBAL کلام اقبال ترنم میں:

Shortcuts

Share

Category