05/04/2026
# Vani __Revenge_Based_Rude Hero based_Most_Romantic_Novel
مشت غبار _💞
💞
#قسط _ 2💞
Please don’t copy paste without my permission 📌 📌
____________________
چہرے پہ پڑنے والے پانی کے چھینٹوں سے اس نے مندی مندی آنکھیں وا کی تو اپنے اوپر ایک عورت کو جھکے پایا
جو اس کا
چہرہ تھپتھپاتے کچھ بول رہی تھی
"اٹھ جاؤ بیٹی چھوٹے سائیں آ گئے تو اچھا نہیں ہوگا وہ تمھارے ساتھ ساتھ مجھے بھی ڈانٹیں گے"
سیکنہ بی نے اسے پیار سے اٹھاتے کہا
"مجھے گھر جانا ہے بابا کے پاس پلیز مجھے بابا کے پاس چھوڑ آئیں مجھے ڈر لگ رہا ہے وہ وہ مجھے مارے گا وہ"
وہ روتے ہوئے سکینہ بی کے سامنے ضد کررہی تھی
"تم گھر نہیں جا سکتی بیٹی ونی میں آئی لڑکیاں کبھی گھروں میں جا ہی نہیں سکتی
انھیں تو ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنی ہوتی ہے "
سکینہ نے روتی ہوئی معصوم لڑکی کو چادر اڑھاتے کہا
"مجھے نہیں پتہ مجھے گھر جانا ہے بس مجھے بابا کے پاس جانا ہے وہ پرشان ہونگے"
کسی ضدی بچے کی طرح وہ ضد کرتے بولی
" آپ کیسے جا سکتی ہیں آپ کا تو ویاہ ہے نہ آج ہمارے چھوٹے سائیں کے ساتھ آپ کے تو بھاگ ہی جاگ اٹھے ہیں آپ کا ویاہ خوبصورت گھبرو جوان سے ہو رہا ہے "
پری نے چھوٹے سائیں کی خوبصورتی بیان کرتے کہا
کون چھو چھوٹا سائیں ؟
وہ ہکلاتے ہوئے پوچھ رہی تھی
"مومن سائیں کی بات کر رہی ہوں جو آپ کو لے کر آئے ہیں وہ بہت اچھے ہیں "
پری نے مومن کی تعریف کرتے اس کے کملائے چہرے کو دیکھا
"نہیں وہ برے ہیں وہ مجھے زبردستی کے آئے ہیں وہ اچھے نہیں ہیں "
"صرف برا نہیں بہت برا ہوں اور اگر میری بات نہ مانی تو اس سے برا بننے میں بھی دیر نہیں لگاؤں گا "
دروازے میں کھڑے اس مومن شاہ نے کہا
ڈر کے مارے اس نے پاس کھڑی سکینہ بی کو پکڑ لیا
" اس کو لے کر باہر آ جاؤ نکاح کیلئے اور ہاں اچھی طرح سمجھا کے لانا "
سکینہ بی کو حکم دیتا وہ وہاں سے چلا گیا
" سنو بیٹی اگر مولوی صاحب کچھ پوچھیں تو تم کہنا قبول ہے پھر ہی تم گھر جا سکوں گی"
سکینہ بی نے اس ڈری سہمی لڑکی کو کہا
"ہاں ہاں میں سب کر لوں گی بس مجھے گھر جانے دو "
وہ گھر جانے کی خوشی میں جلدی جلدی بولی
اس بات سے انجان کے وہ اپنی قید کے پروانے پہ مہر ثبت کرنے جارہی ہے
کسی بے بس پرندے کی طرح سونے کے پنجرے میں قید ہونے جارہی ہے کھڑکیاں تو ہیں مگر بند
سکینہ اسے لے کے باہر آئی اور صوفے پہ بٹھا کے ساتھ مؤدب انداز میں کھڑی ہوگئ
مومن شاہ نے جو چادر اسے اڑھائی تھی اب بھی وہ اسی کو اوڑھے منہ ڈھانپے کوئی چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی ڈری سہمی
مومن کے اشارہ کرنے پہ مولوی صاحب نے نکاح شروع کروایا
" قلب افراسیاب ۔۔۔۔۔
"کیے مولوی صاحب ابھی کچھ کام باقی ہیں جن کا پہلے ہو جانا بہت ضروری ہے "
پیچھے سے آنے والی رعب دار آواز پہ سب نے نظریں گھما کے آنے والی شخصیت کو دیکھا تھا
"مومن میں چاہتا ہوں کہ ان کاغذات پہ تمھارے نکاح سے پہلے ہی سائن ہو جانے چاہئیں"
وہ اب کالی شلوار قمیض میں ملبوس کندھوں پہ چادر ڈالے وجاہت کے شاہکار آنکھوں میں سرد پن لیے اپنے بیٹے سے مخاطب تھے
کیسے کاغذات گے؟
مومن شاہ نے باپ کے سامنے آتے پوچھا
وکیل صاحب لائیے کاغذات
ان کے کہنے پہ وکیل نے کاغذات کی ایک کاپی انھیں تمھاری دی
"جائیداد کے کاغذات ہم نے یہ حویلی اس لڑکی کے نام اور باقی جائیداد تمھارے نام کر دی ہے "
حیدر شاہ ایسے کہا جیسے یہ کوئی عام سی بات ہو
"بابا سائیں یہ سب کیا ہے؟
وہ لڑکی ہے ونی میں آئی ہے اور پھر ساری جائیداد میرے ہی نام کیوں میرے بھائی کی بیوہ اور بچہ بھی تو ہیں "
وہ چہرے پہ حیرت لیے بولا
تم نے اگر ان سب کاغذات پر سائن کر دئیے تو ٹھیک نہیں تو ہم حنان کے والد ہونے کے ناطے خون معاف کرنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں اور پھر یہ لڑکی بھی ونی ہوکر تمھارے نکاح میں نہیں آئے گی "
وہ دھمکی آمیز لہجے میں کہتے کاغذات اسے پکڑا چکے تھے
جبکہ مومن شاہ حیران نظروں سے باپ کو دیکھ رہا تھا
کہ آخر انھیں جائیداد اس کے نام کرنے کی اتنی کیا جلدی ہے
آخر کیا وجہ ہے جو انھیں یہ سب کرنے پہ مجبور کر رہی ہے
اور وہ حنان کی بیوہ اور بیٹے جو کیوں نہیں کچھ دینا چاہتے
وہ سوچ میں پڑ گیا تھا نہ بھائی کا انتقام لیے بنا رہ سکتا تھا
اور نہ ہی بیوہ بھابھی اور بھتیجے کے ساتھ نا انصافی ہوتے دیکھ سکتا تھا
آخر کار وہ ایک نتیجے پہ پہنچ گیا تھا وہ جانتا تھا کہ اب اسے کیا کرنا ہے
اس نے سائن کر کے پیپر حیدر شاہ کو پکڑا دئیے
اب اجازت ہے میرا نکاح ہو جائے
اس نے باپ کو دیکھتے پوچھا
اب نکاح پڑھائیں مولوی صاحب ۔۔۔۔
حیدر شاہ نے مولوی صاحب کو کہا
قلب افراسیاب آپ کا نکاح مومن حیدرشاہ سے بعوض حق مہر سکہ رائج الوقت طے پایا ہے کیا آپ کو قبول ہے
"ق ق ق قبول ہے "
اس کے منہ سے گھٹی گھٹی سسکیاں نکلی تھیں آواز جیسے حلق سے نکالنا مشکل ہو گیا تھا مگر اسے یہ سب قبول کرنا تھا گار اسے گھر جانا تھا تو ۔۔۔۔۔
مگر اسے خبر ہی نہ تھی یہ تو اسے بہلانے کیلئے بولا گیا تھا
ونی ہونے والی لڑکیاں بھلا کہاں اپنے ماں باپ کے گھر جاتی ہیں
تین بار قبول ہے بول کے وہ اپنے جملہ حقوق اس کے نام لکھوا چکی تھی
مومن شاہ نے بھی ایسے قبول ہے کہا جیسے کوئی بوجھ ہو اور جلد از جلد اسے اتار پھینکنا ہو
"چلو اب حویلی"
سب کے جانے کے بعد وہ قلب نہ اٹھتے دیکھ بولا
"مگر آپ نے بولا تھا کہ ہمیں بابا کے پاس چھوڑ آئیں گے مجھے کسی حویلی نہیں جانا "
وہ سر کو دائیں بائیں گھماتے بولی
" تمھیں کہاں جانا ہے ،کیاکھانا ہے پینا ،پہنا ہے سب میری مرضی سے ہوگا تم مومن شاہ کی ملکیت ہو
تم سانس بھی میری مرضی سے لو گی
اب سمجھی
یہ میں طے کروں گا تمھیں کیا کرنا ہے کیا نہیں
تم نہیں "
غضب ناک تیور لیے وہ معصوم سی لڑکی کو بولا
جس کا شاید اسے نام ہی نہیں پتہ تھا
نکاح کے وقت بھی اس نے غور نہیں کیا کوئی دلچسپی جو نہیں تھی
اسے صرف انتقام لینا تھا
ڈری سہمی لڑکی کو بازو سے پکڑتے وہ آگے بڑھا وہ بھی کسی کٹی پتنگ کی طرح اس کے ساتھ گھسیٹتی چلی گئ
_________________
مومن شاہ کے قلب کو لے جانے بعد افراسیاب چودھری زمین پر بیٹھتا چلا گیا
آج اس نے اپنی جان سے پیاری بیٹی بھی کھو دی تھی
اور بیٹا تو جانے جرم کر کے غائب ہی ہو گیا تھا
اس کے اپنے اسے دلاسہ دینے کے بجائے تماشائی بنے کھڑے تھے
ایسا ہی تو ہو رہا ہے ہم تکلیف میں ہوں دکھ میں ہوں ہمارے اپنے بس چپ چاپ خاموش تماشائی بنے ہماری حالت زار پہ مسکراتے اور آوازیں جاتے نظر آتے ہیں
اور شاید چند ایک لوگ اپنوں کا درد محسوس کر بھی لیتے ہیں
سب لوگ جو مومن شاہ کی گاڑیوں اور محافظوں کو دیکھ کر اپنے اپنے کمروں میں بند ہو گئے تھے
اب باہر کھڑے سرگوشیاں کرنے میں مصروف تھے
" بھائی بس کریں جو خدا کو منظور تھا شاید ہماری قلب کی قسمت ہی ایسی تھی
آپ بس دعا کریں کے وہاں اسے کوئی نقصان نہ پہنچے "
افراسیاب کے بھائی نے اسے اٹھاتے تسلی دی
زہرا بھائی جان کیلئے پانی لاؤ
انھوں نے اپنی بیوی کو پانی لانے کا کہا
__________________
عالیشان سرخ رنگ کی حویلی پوری شان کے ساتھ سامنے کھڑی یہاں بسنے والوں مے شاہانہ طرز زندگی کا منہ بولتا ثبوت تھی
بلیک مرسڈیز کے رکتے ہی باقی تمام
گاڑیاں بھی یکے بعد دیگرے حویلی کے بڑے سے پورچ میں آ رکی
مومن شاہ گاڑی سے نکلا اور کھینچ کے
سسکتی ہوئی قلب کو بھی باہر نکالا
پھر اسے لیے حویلی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھا
بہت سی راہداریاں پار کرتے بڑے بڑے کمروں کے سامنے سے گزرتے وہ ایک بڑے سارے ہال میں آ رکا
جہان سامنے مسہری پہ ایک ادھیڑ عمر خاتون
بیٹھی کسی تصویر کو سینے سے لگائے آنسو بہا رہی تھی
قدموں کی آواز پہ اس نے سر اٹھا کے سامنے مومن کے ساتھ کھڑی سسکتی لڑکی کو دیکھا
غصے سے ان کے ماتھے پہ بل پڑے
پھر اچانک وہ مسہری سے اتر کے اس لڑکی کے قریب آتے اس پہ جھپٹ پڑیں
"تیرے بھائی نے میرا جگر کا ٹکڑا چھین لیا مار ڈالا میرے حنان کو
آخر کیا بگاڑا تھا میرے بچے نے اس کا جو اسکو بھری جوانی میں موت کی نیند سلا دیا"
وہ غصے سے اس چھوٹی لڑکی کو مارتے ہوئے بول رہیں تھی
جبکہ وہ خود کو ان سے بچانے کی ناکام کوشش کرتی ہلکان ہو رہی تھی
جب بوڑھی تھک کر رکی
تو کسی اور نے اس پہ اچانک حملہ کیا بالوں سے پکڑ کے زمین پہ گراتے مکوں لاتوں کی برسات شروع کردی
اس معصوم کا جس کا کوئی قصور نہ ہوتے ہوئے بھی یہ حال کیا جا رہا تھا
" ظالم مجھ سے میرا شوہر چھین کر مجھے بیوہ کر دیا
میرے بچے کو یتیم کر دیا تیرے بھائی نے میں تجھے چھوڑوں گی نہیں
مار دوں گی میں تجھے "
وہ حنان کی پچیس سالہ بیوی تھی جو قلب کو بے دردی سے مار رہی تھی
بس کر دیں بھابھی ورنہ یہ مر جائے گی
چھوڑیں ابھی
اب آپ کا غصہ اتر گیا ہو تو اماں جان اور آپ آج کے بعد اسے کچھ نہیں کہیں گی
میں خود دیکھ لوں گا
وہ درد سے دہری ہوتی قلب کو اٹھاتے بولا
پھر تقریباً گھسیٹتے ہوئے اسے اپنے کمرےلے کر چل پڑا
پری کو آواز دے بلایا
جی صاحب ۔۔۔
پری ہانپتی کانپتی اس کے کمرے میں آئی
" اسکی مرہم پٹی کر دینا آج کے بعد میں حویلی سے باہر ہوں تو تم اس کے ساتھ رہو گی "
وہ بے نیازی سے کہتا کمرے سے باہر نکل گیا
قلب بی بی زیادہ درد ہو رہا ہے کیا ۔۔۔
کتنا مارا آپ کو
سامیہ بی بی نے بہت برا کیا آپ کے ساتھ وہ تو ملازموں کو بھی ایسے ہی مارتی ہیں زرا رحم نہیں ہے ان میں ۔۔۔۔
اسکی مرہم پٹی کرتے وہ بولے جارہی تھی
پھر اس کو نیند کی دوا دے سلا دیا
خود باہر چلی گئ مومن شاہ کی تاکید کے مطابق دروازہ لاک کرنا نہ بھولی
__________________
"امی جان آخر آپ لوگوں نے کسیے قلب کو اس
درندے کے حوالے کر دیا "
دافع جو ابھی ابھی لوٹا تھا یہ سن کے کہ قلب کو ونی کر کے مومن شاہ کے گیا وہ انگاروں پہ لوٹ رہا تھا
اب بھی ماں کے سامنے کھڑا غصے سے ان سے پوچھ رہا تھا
" تم کیوں اس طرح غصہ کر رہے ہو تمھارا کیا اس کے بھائی کے گناہ کی سزا ملی ہے اسے اور شکر ادا کرو تمھاری جان چھوٹی اس سے "
رخشندہ بیگم نے ایسے کہا جیسے وہ ان پہ بوجھ ہو
" منگ تھی وہ میری ایسے کیسے چپ کر جاؤں پسند کرتا تھا میں اسے "
وہ بھی اسی انداز سے بولا
" ہاں تو شکر ہے یہ بات شاہوں کو نہیں پتہ تھی ورنہ پرائی لڑائی میں کہیں تجھے ہی نہ نقصان پہنچا دیتے "
وہ شکر ادا کرتے بولیں
" آپکو کیا لگتا ہے میں خاموش ہو کے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہوں گا بے غیرت نہیں ہوں میں ۔۔۔
میں خود قلب کو وہاں سے لے کر آؤں گا "
وہ جتنے آرام سے یہ بات کر کے گیا تھا
رخشندہ بیگم کا آرام سکون تباہ کر کے گیا تھا
وہ سوچ میں پڑ گئ تھیں
کہ کیسے اپنے اکلوتے بیٹے کو بچائے
وہ تو اپنی بھانجی سے اس کی شادی کے ارمان سجائے بیٹھی تھی
کہ اب تو راستے کا کانٹا بھی نکل گیا تھا مگر ان کا بیٹا وہ خود پرائی آگ میں کودنے کی بات کر رہا تھا
__________________
اسلام علیکم ریڈرز
سنیک پڑھ کے بھول گئے ہو سنیک پہ اور فرسٹ ایپی پہ لائکس آدھے بھی نہیں اب یہ ظلم تو نہ کرو نہ لنک دیا گیا فرسٹ ایپی اور سنیک کا خود ہی دیکھ