Urdu Novel_______ اردو ناول

Urdu Novel_______           اردو ناول ناول پسند آنے پر لائیک یا کمنٹ ضرور کریں شکریہ
Admin:: Ayesha khan

 # Vani __Revenge_Based_Rude Hero based_Most_Romantic_Novelمشت غبار _💞 💞 #قسط _ 2💞Please don’t copy paste without my per...
05/04/2026

# Vani __Revenge_Based_Rude Hero based_Most_Romantic_Novel

مشت غبار _💞

💞

#قسط _ 2💞

Please don’t copy paste without my permission 📌 📌

____________________

چہرے پہ پڑنے والے پانی کے چھینٹوں سے اس نے مندی مندی آنکھیں وا کی تو اپنے اوپر ایک عورت کو جھکے پایا
جو اس کا
چہرہ تھپتھپاتے کچھ بول رہی تھی

"اٹھ جاؤ بیٹی چھوٹے سائیں آ گئے تو اچھا نہیں ہوگا وہ تمھارے ساتھ ساتھ مجھے بھی ڈانٹیں گے"

سیکنہ بی نے اسے پیار سے اٹھاتے کہا

"مجھے گھر جانا ہے بابا کے پاس پلیز مجھے بابا کے پاس چھوڑ آئیں مجھے ڈر لگ رہا ہے وہ وہ مجھے مارے گا وہ"

وہ روتے ہوئے سکینہ بی کے سامنے ضد کررہی تھی

"تم گھر نہیں جا سکتی بیٹی ونی میں آئی لڑکیاں کبھی گھروں میں جا ہی نہیں سکتی
انھیں تو ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنی ہوتی ہے "

سکینہ نے روتی ہوئی معصوم لڑکی کو چادر اڑھاتے کہا

"مجھے نہیں پتہ مجھے گھر جانا ہے بس مجھے بابا کے پاس جانا ہے وہ پرشان ہونگے"

کسی ضدی بچے کی طرح وہ ضد کرتے بولی


" آپ کیسے جا سکتی ہیں آپ کا تو ویاہ ہے نہ آج ہمارے چھوٹے سائیں کے ساتھ آپ کے تو بھاگ ہی جاگ اٹھے ہیں آپ کا ویاہ خوبصورت گھبرو جوان سے ہو رہا ہے "

پری نے چھوٹے سائیں کی خوبصورتی بیان کرتے کہا

کون چھو چھوٹا سائیں ؟

وہ ہکلاتے ہوئے پوچھ رہی تھی

"مومن سائیں کی بات کر رہی ہوں جو آپ کو لے کر آئے ہیں وہ بہت اچھے ہیں "

پری نے مومن کی تعریف کرتے اس کے کملائے چہرے کو دیکھا

"نہیں وہ برے ہیں وہ مجھے زبردستی کے آئے ہیں وہ اچھے نہیں ہیں "

"صرف برا نہیں بہت برا ہوں اور اگر میری بات نہ مانی تو اس سے برا بننے میں بھی دیر نہیں لگاؤں گا "

دروازے میں کھڑے اس مومن شاہ نے کہا

ڈر کے مارے اس نے پاس کھڑی سکینہ بی کو پکڑ لیا

" اس کو لے کر باہر آ جاؤ نکاح کیلئے اور ہاں اچھی طرح سمجھا کے لانا "

سکینہ بی کو حکم دیتا وہ وہاں سے چلا گیا

" سنو بیٹی اگر مولوی صاحب کچھ پوچھیں تو تم کہنا قبول ہے پھر ہی تم گھر جا سکوں گی"

سکینہ بی نے اس ڈری سہمی لڑکی کو کہا

"ہاں ہاں میں سب کر لوں گی بس مجھے گھر جانے دو "

وہ گھر جانے کی خوشی میں جلدی جلدی بولی

اس بات سے انجان کے وہ اپنی قید کے پروانے پہ مہر ثبت کرنے جارہی ہے

کسی بے بس پرندے کی طرح سونے کے پنجرے میں قید ہونے جارہی ہے کھڑکیاں تو ہیں مگر بند

سکینہ اسے لے کے باہر آئی اور صوفے پہ بٹھا کے ساتھ مؤدب انداز میں کھڑی ہوگئ

مومن شاہ نے جو چادر اسے اڑھائی تھی اب بھی وہ اسی کو اوڑھے منہ ڈھانپے کوئی چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی ڈری سہمی

مومن کے اشارہ کرنے پہ مولوی صاحب نے نکاح شروع کروایا

" قلب افراسیاب ۔۔۔۔۔

"کیے مولوی صاحب ابھی کچھ کام باقی ہیں جن کا پہلے ہو جانا بہت ضروری ہے "

پیچھے سے آنے والی رعب دار آواز پہ سب نے نظریں گھما کے آنے والی شخصیت کو دیکھا تھا

"مومن میں چاہتا ہوں کہ ان کاغذات پہ تمھارے نکاح سے پہلے ہی سائن ہو جانے چاہئیں"

وہ اب کالی شلوار قمیض میں ملبوس کندھوں پہ چادر ڈالے وجاہت کے شاہکار آنکھوں میں سرد پن لیے اپنے بیٹے سے مخاطب تھے

کیسے کاغذات گے؟

مومن شاہ نے باپ کے سامنے آتے پوچھا

وکیل صاحب لائیے کاغذات
ان کے کہنے پہ وکیل نے کاغذات کی ایک کاپی انھیں تمھاری دی

"جائیداد کے کاغذات ہم نے یہ حویلی اس لڑکی کے نام اور باقی جائیداد تمھارے نام کر دی ہے "

حیدر شاہ ایسے کہا جیسے یہ کوئی عام سی بات ہو

"بابا سائیں یہ سب کیا ہے؟
وہ لڑکی ہے ونی میں آئی ہے اور پھر ساری جائیداد میرے ہی نام کیوں میرے بھائی کی بیوہ اور بچہ بھی تو ہیں "

وہ چہرے پہ حیرت لیے بولا

تم نے اگر ان سب کاغذات پر سائن کر دئیے تو ٹھیک نہیں تو ہم حنان کے والد ہونے کے ناطے خون معاف کرنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں اور پھر یہ لڑکی بھی ونی ہوکر تمھارے نکاح میں نہیں آئے گی "

وہ دھمکی آمیز لہجے میں کہتے کاغذات اسے پکڑا چکے تھے

جبکہ مومن شاہ حیران نظروں سے باپ کو دیکھ رہا تھا
کہ آخر انھیں جائیداد اس کے نام کرنے کی اتنی کیا جلدی ہے
آخر کیا وجہ ہے جو انھیں یہ سب کرنے پہ مجبور کر رہی ہے
اور وہ حنان کی بیوہ اور بیٹے جو کیوں نہیں کچھ دینا چاہتے

وہ سوچ میں پڑ گیا تھا نہ بھائی کا انتقام لیے بنا رہ سکتا تھا
اور نہ ہی بیوہ بھابھی اور بھتیجے کے ساتھ نا انصافی ہوتے دیکھ سکتا تھا

آخر کار وہ ایک نتیجے پہ پہنچ گیا تھا وہ جانتا تھا کہ اب اسے کیا کرنا ہے

اس نے سائن کر کے پیپر حیدر شاہ کو پکڑا دئیے

اب اجازت ہے میرا نکاح ہو جائے
اس نے باپ کو دیکھتے پوچھا

اب نکاح پڑھائیں مولوی صاحب ۔۔۔۔

حیدر شاہ نے مولوی صاحب کو کہا

قلب افراسیاب آپ کا نکاح مومن حیدرشاہ سے بعوض حق مہر سکہ رائج الوقت طے پایا ہے کیا آپ کو قبول ہے

"ق ق ق قبول ہے "
اس کے منہ سے گھٹی گھٹی سسکیاں نکلی تھیں آواز جیسے حلق سے نکالنا مشکل ہو گیا تھا مگر اسے یہ سب قبول کرنا تھا گار اسے گھر جانا تھا تو ۔۔۔۔۔

مگر اسے خبر ہی نہ تھی یہ تو اسے بہلانے کیلئے بولا گیا تھا

ونی ہونے والی لڑکیاں بھلا کہاں اپنے ماں باپ کے گھر جاتی ہیں

تین بار قبول ہے بول کے وہ اپنے جملہ حقوق اس کے نام لکھوا چکی تھی

مومن شاہ نے بھی ایسے قبول ہے کہا جیسے کوئی بوجھ ہو اور جلد از جلد اسے اتار پھینکنا ہو

"چلو اب حویلی"

سب کے جانے کے بعد وہ قلب نہ اٹھتے دیکھ بولا

"مگر آپ نے بولا تھا کہ ہمیں بابا کے پاس چھوڑ آئیں گے مجھے کسی حویلی نہیں جانا "

وہ سر کو دائیں بائیں گھماتے بولی

" تمھیں کہاں جانا ہے ،کیاکھانا ہے پینا ،پہنا ہے سب میری مرضی سے ہوگا تم مومن شاہ کی ملکیت ہو
تم سانس بھی میری مرضی سے لو گی
اب سمجھی
یہ میں طے کروں گا تمھیں کیا کرنا ہے کیا نہیں
تم نہیں "

غضب ناک تیور لیے وہ معصوم سی لڑکی کو بولا

جس کا شاید اسے نام ہی نہیں پتہ تھا
نکاح کے وقت بھی اس نے غور نہیں کیا کوئی دلچسپی جو نہیں تھی

اسے صرف انتقام لینا تھا

ڈری سہمی لڑکی کو بازو سے پکڑتے وہ آگے بڑھا وہ بھی کسی کٹی پتنگ کی طرح اس کے ساتھ گھسیٹتی چلی گئ


_________________

مومن شاہ کے قلب کو لے جانے بعد افراسیاب چودھری زمین پر بیٹھتا چلا گیا
آج اس نے اپنی جان سے پیاری بیٹی بھی کھو دی تھی
اور بیٹا تو جانے جرم کر کے غائب ہی ہو گیا تھا
اس کے اپنے اسے دلاسہ دینے کے بجائے تماشائی بنے کھڑے تھے

ایسا ہی تو ہو رہا ہے ہم تکلیف میں ہوں دکھ میں ہوں ہمارے اپنے بس چپ چاپ خاموش تماشائی بنے ہماری حالت زار پہ مسکراتے اور آوازیں جاتے نظر آتے ہیں

اور شاید چند ایک لوگ اپنوں کا درد محسوس کر بھی لیتے ہیں

سب لوگ جو مومن شاہ کی گاڑیوں اور محافظوں کو دیکھ کر اپنے اپنے کمروں میں بند ہو گئے تھے
اب باہر کھڑے سرگوشیاں کرنے میں مصروف تھے

" بھائی بس کریں جو خدا کو منظور تھا شاید ہماری قلب کی قسمت ہی ایسی تھی
آپ بس دعا کریں کے وہاں اسے کوئی نقصان نہ پہنچے "

افراسیاب کے بھائی نے اسے اٹھاتے تسلی دی
زہرا بھائی جان کیلئے پانی لاؤ

انھوں نے اپنی بیوی کو پانی لانے کا کہا


__________________


عالیشان سرخ رنگ کی حویلی پوری شان کے ساتھ سامنے کھڑی یہاں بسنے والوں مے شاہانہ طرز زندگی کا منہ بولتا ثبوت تھی

بلیک مرسڈیز کے رکتے ہی باقی تمام
گاڑیاں بھی یکے بعد دیگرے حویلی کے بڑے سے پورچ میں آ رکی

مومن شاہ گاڑی سے نکلا اور کھینچ کے
سسکتی ہوئی قلب کو بھی باہر نکالا
پھر اسے لیے حویلی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھا
بہت سی راہداریاں پار کرتے بڑے بڑے کمروں کے سامنے سے گزرتے وہ ایک بڑے سارے ہال میں آ رکا

جہان سامنے مسہری پہ ایک ادھیڑ عمر خاتون
بیٹھی کسی تصویر کو سینے سے لگائے آنسو بہا رہی تھی

قدموں کی آواز پہ اس نے سر اٹھا کے سامنے مومن کے ساتھ کھڑی سسکتی لڑکی کو دیکھا

غصے سے ان کے ماتھے پہ بل پڑے
پھر اچانک وہ مسہری سے اتر کے اس لڑکی کے قریب آتے اس پہ جھپٹ پڑیں

"تیرے بھائی نے میرا جگر کا ٹکڑا چھین لیا مار ڈالا میرے حنان کو
آخر کیا بگاڑا تھا میرے بچے نے اس کا جو اسکو بھری جوانی میں موت کی نیند سلا دیا"

وہ غصے سے اس چھوٹی لڑکی کو مارتے ہوئے بول رہیں تھی

جبکہ وہ خود کو ان سے بچانے کی ناکام کوشش کرتی ہلکان ہو رہی تھی

جب بوڑھی تھک کر رکی
تو کسی اور نے اس پہ اچانک حملہ کیا بالوں سے پکڑ کے زمین پہ گراتے مکوں لاتوں کی برسات شروع کردی

اس معصوم کا جس کا کوئی قصور نہ ہوتے ہوئے بھی یہ حال کیا جا رہا تھا

" ظالم مجھ سے میرا شوہر چھین کر مجھے بیوہ کر دیا
میرے بچے کو یتیم کر دیا تیرے بھائی نے میں تجھے چھوڑوں گی نہیں
مار دوں گی میں تجھے "

وہ حنان کی پچیس سالہ بیوی تھی جو قلب کو بے دردی سے مار رہی تھی

بس کر دیں بھابھی ورنہ یہ مر جائے گی
چھوڑیں ابھی
اب آپ کا غصہ اتر گیا ہو تو اماں جان اور آپ آج کے بعد اسے کچھ نہیں کہیں گی
میں خود دیکھ لوں گا

وہ درد سے دہری ہوتی قلب کو اٹھاتے بولا
پھر تقریباً گھسیٹتے ہوئے اسے اپنے کمرےلے کر چل پڑا

پری کو آواز دے بلایا

جی صاحب ۔۔۔

پری ہانپتی کانپتی اس کے کمرے میں آئی

" اسکی مرہم پٹی کر دینا آج کے بعد میں حویلی سے باہر ہوں تو تم اس کے ساتھ رہو گی "

وہ بے نیازی سے کہتا کمرے سے باہر نکل گیا

قلب بی بی زیادہ درد ہو رہا ہے کیا ۔۔۔
کتنا مارا آپ کو

سامیہ بی بی نے بہت برا کیا آپ کے ساتھ وہ تو ملازموں کو بھی ایسے ہی مارتی ہیں زرا رحم نہیں ہے ان میں ۔۔۔۔

اسکی مرہم پٹی کرتے وہ بولے جارہی تھی
پھر اس کو نیند کی دوا دے سلا دیا

خود باہر چلی گئ مومن شاہ کی تاکید کے مطابق دروازہ لاک کرنا نہ بھولی

__________________

"امی جان آخر آپ لوگوں نے کسیے قلب کو اس
درندے کے حوالے کر دیا "
دافع جو ابھی ابھی لوٹا تھا یہ سن کے کہ قلب کو ونی کر کے مومن شاہ کے گیا وہ انگاروں پہ لوٹ رہا تھا
اب بھی ماں کے سامنے کھڑا غصے سے ان سے پوچھ رہا تھا

" تم کیوں اس طرح غصہ کر رہے ہو تمھارا کیا اس کے بھائی کے گناہ کی سزا ملی ہے اسے اور شکر ادا کرو تمھاری جان چھوٹی اس سے "

رخشندہ بیگم نے ایسے کہا جیسے وہ ان پہ بوجھ ہو

" منگ تھی وہ میری ایسے کیسے چپ کر جاؤں پسند کرتا تھا میں اسے "

وہ بھی اسی انداز سے بولا

" ہاں تو شکر ہے یہ بات شاہوں کو نہیں پتہ تھی ورنہ پرائی لڑائی میں کہیں تجھے ہی نہ نقصان پہنچا دیتے "

وہ شکر ادا کرتے بولیں

" آپکو کیا لگتا ہے میں خاموش ہو کے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہوں گا بے غیرت نہیں ہوں میں ۔۔۔
میں خود قلب کو وہاں سے لے کر آؤں گا "

وہ جتنے آرام سے یہ بات کر کے گیا تھا
رخشندہ بیگم کا آرام سکون تباہ کر کے گیا تھا

وہ سوچ میں پڑ گئ تھیں
کہ کیسے اپنے اکلوتے بیٹے کو بچائے
وہ تو اپنی بھانجی سے اس کی شادی کے ارمان سجائے بیٹھی تھی

کہ اب تو راستے کا کانٹا بھی نکل گیا تھا مگر ان کا بیٹا وہ خود پرائی آگ میں کودنے کی بات کر رہا تھا



__________________

اسلام علیکم ریڈرز
سنیک پڑھ کے بھول گئے ہو سنیک پہ اور فرسٹ ایپی پہ لائکس آدھے بھی نہیں اب یہ ظلم تو نہ کرو نہ لنک دیا گیا فرسٹ ایپی اور سنیک کا خود ہی دیکھ

 # Vani __Revenge_Based_Rude Hero based_Most_Romantic_Novelمشت غبار _💞 💞 #قسط _ 1💞Please don’t copy paste without my per...
05/04/2026

# Vani __Revenge_Based_Rude Hero based_Most_Romantic_Novel

مشت غبار _💞

💞

#قسط _ 1💞

Please don’t copy paste without my permission 📌 📌

____________________


آسمان پہ پھیلے بادلوں نے نیلے آسمان کے ساتھ ساتھ سورج کو بھی چھپا دیا تھا
موسم تو ابر آلود تھا ہی کسی کی قسمت بھی خاک ہونے والا تھا
آج ایک اور معصوم بہن اپنے بھائی کے گناہوں کے بدلتے ونی ہونے جا رہی تھی

سرپنچ کے ڈیرے پر اس وقت بہت سے لوگ موجود تھے
جو سانس روکے منتظر تھے آج کے فیصلے کے جو کسی معصوم کو ظلم کی چھٹی میں دھکیلنے کیلئے کیا جانا تھا

"پنچایت اس فیصلے پہ پہنچی ہے کہ ۔۔۔۔
حنان شاہ کے قتل کے بدلے میں قاتل کی بہن یعنی افراسیاب چودھری کی بیٹی کو ونی کے طور پہ مقتول کے بھائی مومن شاہ کے حوالے کیا جائے
جس کا ابھی اور اسی وقت مومن شاہ سے نکاح ہوگا"

سر پنچ کی بھاری رعب دار آواز نے جہاں مومن شاہ کے سینے میں ٹھنڈک کی پھوار اتاری

وہیں چودھری افراسیاب کے اوپر اس فیصلے نے گویا ظلم کا پہاڑ توڑا ۔۔۔

آج پھر ایک بہن کو بھائی پہ قربان ہونا تھا بھائی کی زندگی بچانے کیلئے اسے اپنی معصوم جان پہ ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹتے دیکھنے تھے ۔۔۔

"میری بچی پر رحم کریں سرپنچ جی اس کا کیا قصور آپ میرے بیٹے کو قتل کر دیں قتل کے بدلے قتل "

چودھری افراسیاب نے ان کے آگے رحم کی اپیل کی۔۔۔

"نہیں چودھری افراسیاب مجھے قتل کے بدلے قتل نہیں بلکہ ونی چاہیے "

ان کی آنکھوں میں بیٹی کی محبت اور اسے کھونے کی تڑپ دیکھتے کب سے خاموش بیٹھا مومن شاہ چلایا

"ابھی تو میری بچی بہت چھوٹی ہے آپ دو سال بعد اس کے اٹھارہ سال کے ہوتے ہی نکاح کر لیجیے گا شاہ صاحب وہ میرے پاس آپ کی امانت ہوگی "

چودھری افراسیاب نے اس کے سامنے التجا کی

"آج اور ابھی کا مطلب ابھی میں تمھیں دو دن نہ دوں اور تم دو سال کی بات کر رہے ہو
اگر تم ایک گھنٹے کے اندر اندر لڑکی کو لے کر ادھر نہیں آئے تو میں خود تمھاری گھر میں گھس کر اٹھا لاؤں گا اسے "

مومن شاہ نے غضب ناک انداز سے کہا

"ایسا ظلم نہ کریں کہ اگر حقیقت کچھ اور نکلے تو آپ معافی بھی نہ مانگ سکیں "

افراسیاب چودھری نے مومن شاہ کو دیکھتے کہا

"چودھری صاحب بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی
ابھی تو آپ کا بیٹا مجرم ہے
اور اسنے میرے بھائی کو قتل کیا ہے
پنچایت کے فیصلے پہ اب تمھیں اپنی لڑکی میرے حوالے کرنی ہوگی "

" میں میں اپنی بیٹی کسی کو نہیں دوں گا
جو کرنا ہے کر لو میں اپنی معصوم بیٹی ظالموں کے حوالے کبھی نہیں کروں گا
سن لو تم سب میں نے اپنی بچی کو ماں اور باپ بن کے پالا ہے
ایسے کیسے میں کسی اور کی گناہ کی سزا اپنی بچی کو دینے دوں "

یہ کہتے افراسیاب چودھری اپنے آنسو صاف کرتے چلا گیا

پیچھے مومن شاہ غصے سے سر پنج کو دیکھنے لگا ایسے جائے پانی وحشت زدہ نظروں سے ہی اسے جلا کے بھسم کر ڈالے گا

"مومن شاہ آپ اپنی ونی کو خود جا کے لے آئیں اگر افراسیاب اس کو آپ کے حوالے نہیں کر رہا تو "

سرپنچ نے اس کے غصے سے لال بھبھوکا چہرے کو دیکھتے کہا

"صاف ظاہر وہ تو میں لے ہی آؤں گا "

یہ کہتے مومن شاہ اپنے آدمیوں کے ساتھ
ادھر سے چلا گیا

وہاں موجود ہر شخص جانتا تھا کہ مومن شاہ کو روکنا ممکن نہیں
وہ کسی کو خاطر میں نہ لانے والا پتھر دل انسان تھا جس پہ کسی کی التجاؤں کا بھی اثر نہ ہوتا تھا

وہ سب اس لڑکی کیلئے بس دعا ہی کر سکتے تھے

وہ شاہ حویلی پہنچا تو ملازم نے گاڑی کو دروزی کھولا وہ ایک شان سے باہر نکلا اور شاہانہ انداز سے قدم اٹھاتا حویلی کے اندر داخل ہو گیا
جہاں ملازم اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے
مومن شاہ کو آتے دیکھ جیسے ان کے ہاتھوں نے بجلی کی تیزی سے کام کرنا شروع کر دیا تھا

"سکینہ بی اور ان کی بیٹی کیا نام ہے ہاں پری کو ساتھ لو اور میرے پیچھے آؤ دوسری گاڑی میں "

وہ بے نیاز شہزادہ ہاتھ باندھے مؤدب کھڑے
شرفو کو حکم دیتا پھر سے پلٹ گیا تھا

اسنے اپنا بڑا بھائی کھویا تھا جس میں مومن شاہ کی جان بستی تھی
مگر وہ خود پہ ضبط کئے اب بس انتقام کی آگ میں جل رہا تھا

اب تو بس چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے اس کے دل و دماغ پہ ایک چیز چھائی تھی اور وہ تھا انتقام بس انتقام

اسے لگتا تھا وہ پنے بھائی کے قاتل کی بہن کو اپنے پاس رکھ کے اسپیکر ظلم کے پہاڑ توڑ کے اپنوں کی نظروں سے دور کر کے اپنے دل میں بجھتے الاؤ کو بجھا کے گا

مگر وہ انجان تھا قدرت کے فیصلوں سے جو اوپر آسمانوں پہ ہو چکے تھے
اور وہ نہ تو ضد سے نہ طاقت سے اور نہ ہی کسی اور طریقے سے ان فیصلوں کو بدل سکتا تھا

ابھی وہ جس نفرت اور انتقام کی آگ میں جل رہا تھا وہی اس پہ الٹے پڑنے والے تھے

بلیک مرسڈیز اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی
اس کے پیچھے محافظوں کی گاڑیاں بھی پیچھے غبار چھوڑتی جا رہی تھیں

بلیک مرسڈیز یکدم ایک خوبصورت گھر کے سامنے رکی یہ گھر نہ اتنا بڑا تھا نہ ہی چھوٹا
مگر اپنے مالکوں کے ذوق کا منہ بولتا ثبوت تھا

بلیک کلر کی قمیض شلوار میں ملبوس کندھوں پہ بڑی سی بھوری شال ڈالے وہ گاڑی سے باہر نکلا اور قدم گھر کے دروازے کی طرف بڑھائے

اس کے باہر نکلتے ہی اس کے محافظ بھی بندوقیں تانے چاق و چوبند اس کے پیچھے چلے
گارڈ نے انھیں روکنے کی کوشش کی تو شرفو نے اس کے اوپر پسٹل تانتتے اسے خاموش کروا دیا

جبکہ وہ شان بے نیازی سے گھر کے اندر داخل ہو گیا

"کدھر لے کے جا رہے ہو ہماری امانت کو افراسیاب ہم نے سوچا آپ کو زحمت ہوگی اسی لیے مومن شاہ بذاتِ خود چل کر اپنی امانت لینے آیا ہے "

چہرے پہ چٹانوں سی سختی لیے وہ قدم قدم چلتے افراسیاب کے قریب آیا

افراسیاب جو بیٹی کا بازو پکڑے گھر کی پچھلی سائڈ کی طرف جانے ہی لگا تھا مومن شاہ کی آواز سن کے ایک دم رکا

"دیکھو مومن شاہ میری بیٹی نے تمھارا کچھ نہیں بگاڑا تم اسے مت کے جاؤ "

افراسیاب نے منت بھرے انداز میں کہا

"مجھے کچھ نہیں پتہ کس نے میرا کچھ بگاڑا ہے یا نہیں مگر مجھے بس یہ یہ بڑی جھیل سی آنکھوں والی لڑکی چاہیے "

وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کے بلکل سامنے آ کھڑا ہوا

مومن شاہ کی سرخ انگارا آنکھیں چیخ چیخ کے اس کے انتقام اور نفرت کی کہانی بیان کر رہی تھی

افراسیاب نے بیٹی کو خود میں بھینچا
وہ ڈری سہمی باپ سے چپکی کھڑی تھی جیسے چھوٹا بچہ ڈر کے مارے کھڑا ہوتا ہے

اس کے اشارہ کرنے پہ سکینہ اور پری نے آگے بڑھ کے اس لڑکی کو پکڑنا چاہا

مگر وہ تھی کہ اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کرتی ان کے ہاتھ نہیں آ رہی تھی

"ایک چھٹانک بھر کی لڑکی نہیں پکڑی جا رہی تم دونوں سے ہٹو پیچھے "

یہ کہتے وہ خود اس کا بازو سختی سے پکڑ چکا تھا جبکہ اس کے آدمی افراسیاب کو قابو کئے کھڑے تھے

وہ اسے گھسیٹتے ہوئے لے جا رہا تھا جبکہ وہ تو رو کہ باپ کو پکار رہی تھی

چھوڑو مجھے ۔۔۔۔
بابا مجھے بچاؤ نہ ۔۔۔

اسی کھینچا تانی میں اس کا دوپٹہ بھی راستے میں گر گیا تھا

جب مومن کی نظر اس پہ پڑی تو غصے سے اس کے ماتھے کی تھیں تن گئیں

اپنے کندھوں سے شال اتارتا وہ اس کے اردگرد لپیٹ چکا تھا

اسے گاڑی کی بیک سٹ پہ پٹکتے وہ خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ چکا تھا
اور گاڑیاں دوبارہ منزل کی طرف رواں دواں تھیں
اور وہ معصوم لڑکی بے ہوش ہو کے اس کندھے پہ ڈھلک گئ
مومن ایک نظر اسے دیکھتا باہر کی طرف متوجہ ہو چکا تھا

____________
_____________
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
کسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

نہ دوائے درد جگر ہوں میں نہ کسی کی میٹھی نظر ہوں میں
نہ ادھر ہوں میں نہ ادھر ہوں میں نہ شکیب ہوں نہ قرار ہوں

مرا وقت مجھ سے بچھڑ گیا مرا رنگ روپ بگڑ گیا
جو خزاں سے باغ اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں

پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوں
کوئی آ کے شمع جلائے کیوں میں وہ بیکسی کا مزار ہوں

نہ میں لاگ ہوں نہ لگاؤ ہوں نہ سہاگ ہوں نہ سبھاؤ ہوں
جو بگڑ گیا وہ بناؤ ہوں جو نہیں رہا وہ سنگار ہوں

میں نہیں ہوں نغمۂ جاں فزا مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا
میں بڑے ہی روگ کی ہوں صدا میں بڑے دکھ کی پکار ہوں

نہ میں ان کا حبیب ہوں نہ میں ان کا رقیب ہوں
جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں
__________
____________________

ناول کی قسط تو میں نے پوسٹ کر دی ہے
اب آگے کی اقساط پوسٹ ہونگی یا نہیں یہ آپ سب کا رسپانس بتائے گا سنیک پہ آپ سب کا رسپانس دیکھ کے بڑی امیدیں وابستہ کر لی ہیں میں نے ۔۔۔
ایپی شارٹ ہے انشاللہ اگلی لانگ ہوگی

 #اسیرِعشق (??who is dead) 😥 (پارٹ 2) 💞💞💞💞💞💞💞💞💞شہرِخموشاں۔۔۔۔جہاں ہم خود اپنے پیاروں کو مٹی میں دفن کرکے آتے ہیں۔ بہت صب...
09/02/2026

#اسیرِعشق (??who is dead) 😥
(پارٹ 2)


💞💞💞💞💞💞💞💞💞

شہرِخموشاں۔۔۔۔

جہاں ہم خود اپنے پیاروں کو مٹی میں دفن کرکے آتے ہیں۔ بہت صبر حوصلے اور ہمت سے۔۔۔!

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

کہ ہم اللہ کے ہیں۔۔ اور ہمیں اللہ ہی کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔

دنیا کی ہر چیز فانی ہے۔ ہمیشہ رہنے والی ذات صرف خداوند پاک کی ہے۔

قبر کی مٹی کو ہاتھ کی مٹھی میں لیے وہ دھیرے سے چھوڑ گیا۔

کتبے پے لکھا نام۔

بدر کی ذوجہ۔۔۔

عینی کی آخری خواہش پے لکھوایا گیا تھا شایان کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کے گرے۔

اس کی بہن۔۔ عینی۔۔ اسے چھوڑ کے جا چکی تھی۔

قبرستان میں کھڑا وہ اکیلا۔۔۔ تپتی دھوپ میں سلگ رہا تھا۔ یک ٹک قبر کو دیکھے جا رہا تھا۔

اسے یوں محسوس ہو رہا تھا۔ کہ وہ ابھی بھی اس کے سامنے ہنستی کھلکھلاتی مسکرا رہی ہے۔ لیکن۔۔ وہ تو منوں مٹی تلے دفن ہو چکی تھی۔ شایان نے کرب سے مٹھیاں بھینچیں۔

بھاٸ۔۔۔؟ بھاٸ پلیز۔۔۔ آپ کو میری قسم۔۔ آپ نادیہ مام کو معاف کر دیں گے۔۔۔ ان سے کسی قسم کا کوٸ بدلہ نہیں لیں گے۔۔ پلیز۔۔۔؟؟

اپنے آخری لمحات میں وہ اپنی سوتیلی ماں کے لیے معافی بھی لے چکی تھی۔ لیکن۔۔ بھلے وہ معافی لے چکی تھی۔ پر شایان دل ہی دل میں تہیہ کر چکا تھا۔ کہ وہ ایک بار ان سے ضرور ملے گا۔ دل ہی دل میں سوچتے شایان نے سن گلاسز لگاۓ۔ دور ہی سے اس کا گارڈ بشیرخان اس کو چشمہ پہنتا دیکھ گن کے ساتھ اس کی جانب لپکا۔ باقی ڈھیروں گارڈ تھے۔ جہنوں نے شایان کو مکمل اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔ لیکن بشیر اس کا دایاں بازو تھا۔

ماں باپ اور بہن کی قبر پے فاتحہ خوانی کے بعد وہ اب بشیر کے ساتھ قدم سے قدم ملا کے چل رہا تھا۔

کیا بنا۔۔۔؟؟ ملاقات کا۔۔۔؟؟ کھردرے لہجے میں پوچھا۔

جی۔۔! عدالت سے اجازت مل گٸ ہے۔۔۔ کل آپ ملاقات کر لیجے گا۔

بشیر سر جھکاۓ بولا۔

ملاقات تو لازمی ہے۔۔۔ گاڑی کے پاس کھڑا وہ بات کر رہا تھا۔

اس کے بعد لندن کی سیٹ بک کروا دو۔۔۔ اب دوبارہ واپس پاکستان نہیں آٶں گا۔ قطعی انداز میں کہتا وہ بشیر کو لب بھینچنے پے مجبور کر گیا۔

اس کے بیٹھتے ہی ڈراٸیور نے گاڑی اسٹارٹ کی۔ اب ان کا رخ عثمانی ہاٶس تھا۔

آج عینی کی وفات کو پورا ایک ہفتہ ہو گیا تھا۔ لیکن ایسا لگتا تھا۔ کل کی بات ہو۔۔۔ اور آج وہ چھوڑ گٸ۔ شایان بالکل چپ سا ہو گیا تھا۔ ولید اور زیان کے لاکھ کہنے کے باوجود بھی اریج ان کے ساتھ نہیں گٸ تھی۔ وہ شایان کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ حالانکہ اتنے روز سے وہ دن کا بیشتر حصہ مہمان خانے میں گزارتا۔ اور راتوں کو وہ قبرستان چلا جاتا۔ وہ جانتا تھا عینی کو اندھیرے سے ڈر لگتا ہے وہ وہاں بیٹھا بہن کی قبر پے خاموش آنسو بہاتا پڑھاٸ کرتا۔پھر بس یونہی رات گزار ۔۔ وہ صبح فجر کی ازانوں کے ساتھ گھر لوٹتا۔ اس کا ان دنوں میں اریج سے سامنا نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس کے وجود کو وہ اسے بالکل فراموش کر چکا تھا۔ جب کہ اریج اس کی حالت دیکھ دیکھ اندر ہی اندر دکھ رہی تھی۔ وہ اپنا غم کسی سے کہتا بھی تو نہ تھا۔ ایک بار کھل کے رو لیتا تو شاید سکون پا لیتا۔ ابھی بھی وہ جب گھر میں داخل ہوا تو اریج کے لے غیر متوقع تھا۔ وہ ابھی ابھی باتھ لے کے نکلی تھی۔ شایان کی اچانک کمرے میں آمد پے وہ چونکی۔ شایان نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اور پھر نظر انداز کرتا ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا۔

کیسے ہیں۔۔۔ٗ؟ اریج نے فوراً اس کے پاس آتے نرم لہجے میں پوچھا۔ ایک پل کو شایان کا ہاتھ تھاما۔ لیکن پھر اگلے ہی پل وہ کبرڈ کھول رہا تھا۔

شان۔۔۔۔؟؟ اریج نے اس کی کلاٸ پے ہاتھ رکھا۔ تو وہ پھر سے تھما۔

آپ چپ کیوں ہیں۔۔؟؟ وہ اسے اکسا رہی تھی۔

تو کیا کروں۔۔۔؟ شایان نے غصے سے کبرڈ زور سے بند کی۔ کہ اریج سہم کے دو قدم پیچھے ہوٸ۔

میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔۔ پھر سے کہہ رہا ہوں۔۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔ سب چلے گۓ ہیں۔۔ تم بھی چلی جاٶ۔۔۔۔ شایان شکست خوردہ لہجے میں آنکھیں میچے بولا۔

اریج کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔

سب۔۔ تو ۔۔۔ اس دنیا سے ہی چلے

گۓ۔۔تو کیا میں بھی۔۔؟؟

بکواس بند کرو۔۔۔! شایان نے اسکی بات کاٹی۔ اور ایک سخت گیر نگاہ سے اسے دیکھا۔ جو اب سر جھکاۓ بے دردی سے لب کاٹ رہی تھی۔

شایان کو اسکی یہی عادت بری لگتی تھی۔ ۔ جو اپنے نازک لبوں پے ظلم ڈھاتی اسے انگاروں پے گھسیٹ لیتی تھی۔

میں لندن جا رہا ہوں۔۔ کچھ دنوں تک۔۔۔۔۔۔!

یہ۔۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔؟؟ اریج نے اس کے قریب ہوتے بے چینی سے پوچھا۔ جس پے وہ نظریں چرا گیا۔

مجھے چھوڑ کے جاٸیں گے۔۔۔؟؟ معصوم بچوں کی طرح پوچھتے وہ شایان کو خود کی جانب دیکھنے پے مجبور کر گٸ۔

تم۔۔۔ اپنی فیملی کے پاس جاٶ گی۔۔۔ شایان نے قطعی انداز میں کہتے باتھ روم کا رخ کیا۔

مجھ سے تعلق توڑ کے آپ۔۔۔؟؟

کس نے کہا میں تعلق توڑ کے جا رہا ہوں۔۔۔؟؟ شایان انہی قدموں پے واپس پلٹتا اس کی بات کاٹتا انتہاٸ سخت لہجے میں بولا۔

تو پھر کیوں جا رہے ہیں مجھے چھوڑ کے۔۔۔؟ آنکھیں بے دردی رگڑتے وہ بچوں کی طرح رو دی۔ کچھ پل یونہی خاموشی کی نظر ہو گۓ۔

کچھ وقت اپنے ساتھ بیتانا چاہتا ہوں۔ اکیلے۔ شایان بولا تو اس کے لہجے میں درد صاف چھلک رہا تھا۔

اور میں۔۔۔؟ میرا کیا۔۔۔؟؟ وہ اب دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی اس کے پاس آٸ۔

تمہارے سب اپنے موجود ہیں۔۔۔ شایان اسکی آنکھوں میں جھانکتے بولا۔

میرے سب سے اپنے تو آپ ہیں ناں۔۔۔؟؟ جب آپ نہیں تو اریج۔۔۔۔؟؟ اریج شایان سے بھی زیادہ دکھی ہو رہی تھی۔

تمہاری لاٸف میں میرے ہونے یا نہ ہونے سے کوٸ فرق نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔!

بلکہ جتنی اذیت تمہیں دی ہے۔۔۔ تمہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ کہ تمہیں مجھ سے رہاٸ مل رہی ہے۔۔۔ شایان نے رخ پھیرے دھیرے لیکن سخت لہجے میں کہا۔

رہاٸ میں نہیں آپ چاہتے ہیں۔۔ مسٹر شایان۔۔۔! اب کی بار اریج اونچی آواز میں بولتی شایان کو لب بھینچنے پے مجبور کر گٸ۔ اریج کی اس پے بس نہ ہوٸ۔ وہ غصہ سے اسکے سامنے ہوتی اس کا کالر جکڑ گٸ۔

سیدھا سیدھا کہتے کیوں نہیں۔۔ مجھ سے دل بھر گیا ہے۔۔۔؟؟ یہ۔۔۔ محبت تھی آپ کی۔۔؟؟ یہ عشق تھا آپ کا۔۔؟؟ جو بس۔۔۔ اتنا ہی چل سکا۔۔۔۔؟؟ اریج کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھیں شایان بے حس بنا کھڑا اسے دیکھے جا رہا تھا۔

آپ۔۔۔ آپ کیا سمجھیں گے محبت کو۔۔ آپ نے۔۔۔ مجھ سے کبھی محبت کی ہی نہیں۔۔ اریج نے اس کا کالر اپنے ہاتھ کی مٹھیوں میں زور زور سے جھٹکا۔

آپ۔۔۔ جانا چاہتے ہیں نا۔ں۔۔۔؟؟ اس کے چہرے کے قریب ہوتی وہ اپنے آنسو روکتے غصہ سے بولی۔

تو ٹھیک ہے۔۔۔ چلیں جاٸیں۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلے جاٸیں۔۔ اگر۔۔۔ کبھی میرے مرنے کی خبر ملے تو بھی لوٹ کر۔۔۔۔

اریج کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ شدت سے اس کے لبوں پے جھکتا اس کے الفاظ کا گلہ گھونٹ گیا۔ اریج کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوا۔ اس کا سانس حلق میں ہی اٹک گیا۔ شایان نے بنا اس پے رحم کھاۓ اس کو اسکے لفظوں کی شدت بھری سزا دی۔ آٸندہ سوچ سمجھ کے بولنا۔۔۔ ورنہ اپنے ہاتھوں سے تمہیں مار کے جاٶں گا۔ پھولی سانسوں کے درمیان بولتا وہ اسے ایک طرف کرتا ڈریسنگ روم کا رخ کر گیا۔ جب کہ اریج رخ پھیرے اپنی ناہموار سانسوں کو درست کرتی غصہ سے کمرے سے باہر نکل گٸ۔ اور پھر کمرے ہی نہیں۔۔ وہ حویلی کی دہلیز ہی عبور کر گٸ۔

وہ ڈریس چینج کرتا باہر آیا تو موباٸل پے بشیر خان کی کال آتی دیکھ ٹھٹھکا۔ کال پک کی۔ تو ماتھے پے بل پڑے وینز میں خون دوڑنے کی شدت میں اضافہ ہوا۔

فالو۔۔۔ہر۔۔ ایم کمنگ۔ کال کاٹتا وہ گاڑی کی چابیاں اٹھاۓ عجلت میں باہر نکلا۔

💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞

دانیال اور اس کے ساتھیوں سحرش وغیرہ جو بھی اس گینگ میں شامل تھے سب کے اچھے خاصے ریمانڈ کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ ڈرگ۔ز۔ سم۔گ۔ل۔ن۔گ اور لڑکیوں کی خیر و فروخت کے جرم میں ان سب کو سخت سزا سناٸ گٸ۔ ساتھ فرہاد راجپوت کے خلاف بھی کافی ثبوت ملے تھے۔ لیکن ان کی تلاش جاری تھی۔ جب کہ نادیہ اور پشمینہ کے کیس کی فی الحال ابھی سنواٸ نہیں ہوٸ تھی۔ وہ حوالات میں بند تھیں۔

دانیال کو پولیس نے واپس اپنی حراست میں لے لیا تھا۔ لیکن فرہاد کہاں تھا کوٸ نہیں جانتا تھا۔ عدالت سے نکلتے شازل اور پرویز خان نے ایک دوسرے کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا۔ ایک آسودہ مسکراہٹ تھی۔ دونوں کے لبوں پے۔

ملک دشمنوں کا یہی حال ہونا چاہیے۔ پرویز خان نے سخت لہجے میں کہا۔

اس سے بھی بدتر حال کروں گا۔ شازل کے لہجے میں مضبوطی تھی۔

ٹھیک ہے شازل۔۔۔ میں چلتا ہوں۔

پرویز خان کے نمبر پے کال آنے لگی۔ تو وہ شازل سے کہتے نکلے۔ جب کہ شازل کا رخ اب پولیس اسٹیشن کی جانب تھا۔

۔۔۔💫💫💫💫💫💫

اب کیسی ہے میری بیٹی۔۔۔؟؟ نسا نے حیا کی کلاٸ کو دیکھتے محبت بھرے لہجے میں پوچھا۔

ایک ہفتے میں اس کی کلاٸ کا زخم کافی حد تک مدمل پڑ گیا تھا۔ لیکن نشان ہمیشہ کی طرح رہ گیا تھا۔

اس ایک ہفتے میں شازل نے اس کا بھرپور خیال رکھا۔ اس کی بہت کٸیر کی۔ کہ وہ اس ٹراما سے باہر نکل آٸ۔ ورنہ راتوں کو بھی اٹھ کے روتی ڈرتی۔۔ اپنا پیٹ دونوں بازوٶں میں چھپا کے اپنا بچاٶ کرتی۔ اسے بس یہی ڈر لاحق ہوا۔ کہ اس کے بچے کو کوٸ نقصان نہ پہنچا دے۔ ایسے میں شازل کے ساتھ نے اس کو بہت ہمت اور حوصلہ دیا۔

مما۔۔۔ پریشان نہ ہوں۔ میں اب ٹھیک ہوں۔ حیا نے بیڈ کراٶن کے ساتھ ٹیک لگاتے نرم لہجے میں کہا۔ نسا کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔

اپنی پریگننسی کی بات کیوں چھپاٸ۔ مجھ سے۔۔۔؟؟ نم لہجے میں پوچھا۔ ابھی وہ جواب دیتی کہ دروازے پے ہلکی سی دستک ہوٸ۔ پرویز خان اندر داخل ہوۓ۔

کیسا ہے میرا بہادر بچہ۔۔۔؟ انہوں نے حیا کے سر پے شفقت بھرا ہاتھ رکھا۔ حیا کے چہرے کو بہت پیاری مسکان نے چھوا۔

ایک دم فٹ۔۔۔! بس۔۔۔ آپ کی مسز ٹھیک نہیں۔۔ حیا کی دوسری بات پے نسا اور پرویز دونوں کی نظریں ٹکراٸیں۔ نسا نے خود ہی نظریں ہٹا لیں۔

کیوں۔۔۔؟؟ کیا ہوا ہماری مسز کو۔۔؟؟ پرویز خان نے بہت نرم لہجے میں استفسار کیا۔ وہ دونوں ایک ہی گھر میں اجنبیوں کی طرح رہ رہے تھے۔ پروہز خان نے نہ کوٸ صفاٸ دی۔ نہ نسا نے ان کی جانب کوٸ پیش قدمی کی۔ لیکن گھر والوں کو بھنک نہیں پڑنے دے رہے تھے۔ جب کہ حیا اچھے سے جانتی تھی۔ رات کے وقت اس کے بابا روم میں نہیں جاتے تھے۔ کیونکہ اس نے ایک دن صبح انہیں اوپر سے سیڑھیاں اترتے دیکھ لیا تھا۔ تب ہی سے وہ الجھی ہوٸ تھی۔ کیسے ماں باپ کو راضی کرے۔ آج پہلی بار ایسا ہوا تھا۔ کہ دونوں ایک ساتھ اس کے روم میں تھے۔ ورنہ ایک دوسرے کی موجودگی معلوم ہونے پے یہ حیا کے روم میں آنے سے گریز برتتے تھے۔

آپ خود کیوں نہیں پوچھتے۔۔۔؟ آپ کے سامنے ہیں۔

حیا۔۔۔ تم ریسٹ کرو بیٹا۔ مجھے کچھ کام ہے۔

نسا نے اٹھتے ہوٸ سپاٹ انداز میں کہا۔ پروز خان نے خاموشی سے ایک نظر انہیں دیکھا۔

بیٹا۔۔ اپنی مما کو صرف اتنا کہہ دو۔۔۔ آپ کے بابا کے لیے آج بھی وہی سب کچھ ہیں۔۔

پرویز خان نے نسا کی پشت دیکھتے مضبوط لہجے میں کہا۔ نسا کے قدم تھمے تھے۔

بابا۔۔ مما آپ سے یہ بات ڈاٸریکٹ سننا چاہتی ہیں۔ حیا نے ایک آنکھ ونک کرتے کہا۔ تو نسا کا چہرہ لال بھبھوکا ہوا۔

بے شرم باپ بیٹی دونوں۔۔۔ زیرِلب دہراتے وہ باہر نکل گٸیں۔ پرویز خان اور حیا مسکرا دیٸے۔

بابا۔۔۔ پلیز۔۔ مما کو منا لیں۔۔ انہیں ہمیشہ سے آپ کی ضرورت رہی ہے۔۔ اور آج بھی ہے۔ شی از رٸیلی لو یو۔

میرا بہادر بچہ اتنا میٹھا کیسے بول لیتا ہے۔۔۔؟ پرویز نے پیار سے اس کا گال چھوا۔

فکر نہ کرو۔۔۔ سب ٹھیک کر دوں گا۔ اپنے ہینڈسم بابا پے ٹرسٹ رکھو۔ اپنے بالوں میں ہاتھ چلاتے مسکراتے وہ حیا کو بہت پیارے لگے۔

💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞

آج کتنے عرصے بعد شاہ ہاٶس پھر سے خوشیوں کا گہوارہ بنا تھا۔

اویس شاہ کے تینوں بیٹے ان کے ساتھ تھے۔ اپنی اپنی فیملی کےساتھ وہ سب ایک ساتھ بہت خوش تھے یا نہیں۔۔۔۔؟؟ لیکن مطمین ضرور تھے۔ سبھی اس وقت ڈاٸننگ ٹیبل پے موجود ڈنر کر رہے تھے۔ نہال اور عزہ شرارتوں میں مصروف تھے۔ عزہ نے یونی جانا چھوڑ یا تھا۔ دارم نے بھی فی الحال اسے مجبور نہ کیا۔ اس کا موسٹلی ٹاٸم نہال کے ساتھ سپینڈ ہوتا۔ جب کہ ہیزل اور زیان آج صبح ہی حیدرآباد گۓ تھے۔ زیان ہیزل کو زبردستی ساتھ لے کے گیا تھا۔ کہ وہ اپنی بہن سے مل لے۔ جہنوں نے زیان سے ریکویسٹ کی تھی۔ کہ ایک بار ہیزل کو منا کے لے آٸیں۔ وہ اس سے معافی مانگنا چاہتی ہے۔ اور زیان اسے واقعی لے کے گیا تھا۔

نہال۔۔۔۔! جلدی سی ڈنر فنش کرو۔۔۔ سارہ نے ڈاٸننگ ٹیبل پے نہال کو مسلسل عزہ کے ساتھ لگا دیکھا۔تو دھیرے سے کہا۔

مما۔۔۔ مجھے اور نہیں کھانا۔۔۔ وہ بھی فوراً بولا۔

آپ نے کھایا کتنا ہے۔۔۔؟؟ اسی طرح سب پڑا ہے۔ سارہ نے اس بار تھوڑا سنجیدگی سے کہا۔

دیں بھابھی۔۔۔ ہم کھلا دیتے ہیں۔ عزہ نے پلیٹ فوراً تھام لی۔ سارہ خاموش رہی۔

عزہ نہال کو بہت آرام اور پیار اسے کھلانے لگی۔ جب کہ دارم کی نرم گرم نگاہوں کا مرکز اسی پے تھا اور وہ انجان بنی بیٹھی تھی۔

میں سوچ رہا ہوں۔۔۔۔۔ کہ گھر میں ایک چھوٹا سا فنکشن ہونا چاہیے۔۔۔ اویس صاحب نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کے بیٹھتے بولے۔

کیسا۔۔۔فنکشن۔۔؟ ولید نے پانی کا گلاس منہ کو لگاتے دریافت کیا۔

ہیزل اور زیان کا نکاح ہو گیا۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ کوٸ۔۔۔؟؟ ولیمہ نہیں ہوا۔۔ تو وہ رکھ لیتے ہیں۔ اور ہیزل کے گھر والوں کو بھی مدعو کر لیں گے۔ اویس صاحب جیسے سب پلان کر کے بیٹھے تھے۔

لیکن بابا۔۔ آپ جانتے ہیں۔۔ ہیزل کے والد شاہنواز خان نے منع کیا ہے۔ کہ یہ راز لیک نہ کریں۔ کہ ہیزل ان کی بیٹی ہے۔ ان کی سیاست کی وجہ سے اس کی جان کو۔۔۔؟؟

ارے یار۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ لوگوں کے ڈر سے کیا خان اور شاہ جینا چھوڑ دیں گے۔۔؟؟

خانوں کی ایک اپنی دہشت ہے۔۔۔ تو شاہ بھی کسی سے کم نہیں۔۔۔ (ناولز کی دنیا میں یہی چھاۓ ہوۓ ہیں۔۔۔۔) فکر نہیں کرو سیکیورٹی کا سخت انتظام ہو جاۓ گا۔ بس۔۔ ہم اپنی ادھوری خوشیوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔۔ اور یہ بھی چاہتے ہیں۔۔ کہ آپکا اور سارہ کا بھی ولیمہ ساتھ ہو۔

اویس صاحب کی بات پے ولید کو جیسے پانی پیتے اچھو لگا۔ ایک نگاہ اپنی بیوی پے ڈالی جس کی آنکھوں میں ڈھیروں حیرانگی تھی۔

بابا۔۔۔۔؟؟ یہ۔۔۔ ضروری نہیں۔۔ آپ۔۔؟؟

چپ کرو یار۔۔۔ چشمہ پہن لیا ہے تو کیا باپ سے بڑے ہو گۓ ہو۔۔۔؟ اویس صاحب نے پھر سے اس کے چشمے پے چوٹ کی تو وہ سر جھٹکتا بیٹے کی طرف دیکھنے لگا جو اب عزہ کے ساتھ باقاعدہ کھلکھلا رہا تھا۔

بابا آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں۔ بھاٸ اور بھابھی کا ولیمہ بھی ساتھ ڈن کریں۔ دارم نے ولید کو چھیڑنے والے انداز میں کہا۔

ولید نے اسے ایک مصنوعی گھوری سے نوازا۔

میری تو یہ دیرینہ خواہش تھی میرے سب بچے ہنسی خوش ایک ساتھ رہیں۔۔ اللہ نے وہ پوری کر دی۔۔۔ کل ان شاء اللہ صدقہ خیرات بھی کریں گے۔۔۔ نبیلہ بیگم نے محبت پاش نظروں سے سب کو دیکھا۔

ٹھیک ہے پھر ڈن ہو گیا۔ ہیزل اور زیان کے ساتھ ولید اور سارہ کا بھی ولیمہ ہوگا۔ بیگم آپ تیاری کرلیں۔۔ پرسوں۔۔ جمعے کی شام شاہ ولا سجے گا۔۔۔! اویس صاحب کے چہرے پے ایک پرسکون مسکان تھی۔ ولید ان کا چہرہ دیکھتا ٹھٹھکا۔ اس کے دل کو جیسے کسی نے مٹھی میں پکڑ کے مسل ڈالا۔

بابا کا چہرہ۔۔۔۔؟؟ نہیں۔۔ میرا وہم ہے۔۔ وہ خوش ہیں۔۔ اپنے دماغ میں آتے نیگیٹیو خیالات کی نفی کرتے وہ نظریں ہٹا گیا۔

💖💖💖💖💖💖💓💓💓

بند کمرہ میں قید اسے نجانے کتنے دن ہو گٸے تھے۔۔ اپنے گزرے دنوں کو یاد کرتا وہ شخص آج رو رہا تھا۔ اس کا غرور اس کا طنطنہ سب ٹوٹ پھوٹ گیا تھا۔ دولت کی لالچ میں وہ اندھا شخص۔۔ آج ایک زندان میں قید تھا۔ جہاں کسی ذی روح کا کوٸ نام و نشان تک نہ تھا۔ وہ تو خود کو اس قابل بھی سمجھ پا رہا تھا کہ اللہ سے معافی مانگتا۔ وہ تاشا تھا۔۔۔ فرہاد راجپوت عرف تاشا۔ جس کی زندگی کا مقصد ہمیشہ سب سے اوپر رہنا تھا۔ فرہاد راجپوت سے اسے تاشا بنانے والا کوٸ اور نہیں۔۔ کاشف عثمانی تھا۔ شایان عثمانی کا باپ۔ ہاں وہ فارمولا چاہتا تھا۔ جسے حاصل کرنے کے لیے سر توڑ کوشش کی۔ لیکن ناکام رہا۔ کچھ عرصہ وہ منظر عام سے غاٸب ہی ہو گیا۔ اور پھر بہت زیادہ ڈھونڈنے کے بعد پتہ چلا اس کے پاس فارمولا نہیں۔۔۔ لیکن ہیرے ہیں۔ اسے حاصل کرنے کی غرض سے اس نے کاشف کی بیوی کو بھی مروا دیا۔ لیکن پھر بھی ہیرے نہ حاصل کر سکا۔ کیونکہ ہیرے حیا کے پاس تھے۔ کاشف کو بھی کار ایکسیڈینٹ میں مروا دیا۔ لیکن ہیروں تک وہ پھر بھی نہ پہنچ پایا۔ فرہاد راجپوت نے اوپر کی جانب دیکھا۔ آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کے گرے وہ زخموں سے چور ایک ہفتے سے یہاں بند تھا۔ کسی نے اب تک اس کی خیر خبر نہیں لی تھی۔ بھوک پیاس سے فرہاد کا برا حال تھا۔ اور عنقریب اس کی موت بھی ہو جاتی۔۔۔کہ۔۔۔؟؟

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

آپ کو بابا کو منع کرنا چاہیے ولید۔۔۔ اب اتنے عرصے بعد ولیمہ کا فنکشن۔۔۔؟ سارہ ازحد پریشان تھی۔ ولید کے کمرے میں آتے ہی وہ پریشانی سے بولی۔

ولید بستر کے ایک طرف بیٹھتا کلاٸ سے گھڑی اتارنے لگا۔ اور موباٸل اٹھاۓ زیان کو کال ملا دی۔ جو دوسری بیل پے ہی اس نے اٹھالی۔

کہاں ہو۔۔؟؟ ابھی تک گھر کیوں نہیں پہنچے۔۔۔؟؟ ولید کے لہجہ سنجیدہ لیکن پریشانی کا عنصر نمایاں تھا۔

ٹھیک ہے۔۔۔ پہنچ کے میسج کرنا۔۔۔ اتنی رات ہو گٸ ہے۔۔۔۔! ولید نے خداحافظ کہتے کال بند کر دی۔ سارہ نے اسکی پریشانی نوٹ کرتے اس کی پشت کی جانب دیکھا۔ جو اب کف لنکس کھول رہا تھا۔ لیکن چہرے پے غیر معمولی سنجیدگی تھی۔

ولی۔۔۔۔۔؟؟ میں آپ سے بات کر رہی ہوں۔۔۔؟؟ سارہ نے خفگی سے کہا۔ ولید نے پیچھے ہوتے بیڈ کراٶن کے ساتھ ٹیک لگاتے آنکھیں موند لیں۔ سارہ بس اسے دیکھے گٸ۔ وہ کیوں اس قدر خاموش ہو گیا تھا ضرور کوٸ بات تھی۔ سارہ اپنی جگہ سے تھوڑا سا آگے کو ہوٸ۔ اور ولید کے ماتھے پے ہاتھ رکھا۔ ٹمپریچر تو نہیں۔۔۔ پھر کیوں اپ سیٹ ہیں یہ۔۔۔؟؟ سارہ دل ہی دل میں سوچتے واپس پیچھے ہونے لگی۔ کہ ولید نے اس کا ہاتھ تھامے واپس اپنے ماتھے پے رکھ دیا۔ دبا دو۔۔۔۔پلیز۔۔۔؟؟ ولید نے آنکھیں موندے ہی آہستہ آواز میں کہا۔ سارہ بنا کچھ کہے اس کا سر دبانے لگی۔ کچھ ہی دیر میں ولید نے سارہ کو کھینچتے اپنے سینے سے لگایا۔

کیا بات ہے ولی۔۔۔؟ آپ کی طبعیت ٹھیک ہے۔۔۔؟؟ سارہ نے س اٹھاتے پریشانی سے پوچھا۔ تم ساتھ ہو تو بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ آنکھیں وا کرتے اسے دیکھا۔ اس کے گالوں پے لب رکھتے وہ خمار آلود لہجے میں بولتا سارہ کا دل دھڑکا گیا۔ آپ۔۔۔۔۔ آپ۔۔۔؟؟ سارہ کی نظریں جھک گٸیں۔ ولید کی آنکھوں کا مفہوم وہ اچھے سے جان گٸ تھی۔ ولید اس کا سر تکیے پے رکھتا اس پے سایہ فگن ہوا۔ سارہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ آٸ وانٹ ٹو لو یو۔۔۔۔۔! وہ س کی گردن میں چہرہ چھپاۓ اس سے اجازت مانگ رہا تھا۔ سارہ آنکھیں میچے جھرجھری لیتی رہ گٸ۔ ولید کی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچے وہ آج کتنے عرصے بعد ولید کو پہلے والے روپ میں واپس دیکھ رہی تھی۔ وہی دیوانگی۔۔۔ وہی جنون۔۔۔ ولید کے ہاتھوں کی تھرتھراہٹ اپنے بیلی پے محسوس کرتی وہ کانپی۔ وہ اس پے اپنا زرا سا بھی وزن نہیں ڈال رہا تھا۔ بہت احتیاط سے وہ اپنی محبت کو اپنے پور پور سے مہکا رہا تھا۔ سارہ کی خاموشی اس کی سپردگی اس کی رضامندی تھی۔ جس سے ولید ہمیشہ سرشار ہو جایا کرتا تھا۔

💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞

ایک بار پھر سے سب چھن گیا تھا۔۔۔ رات کے اندھیرے میں کھلے آسمان کے نیچے کھڑی وہ زارو قطار روتی چلی جا رہی تھی۔

آج ہی تو آٸ تھی وہ ڈاکٹر زیان کے ساتھ۔۔۔ اسے دیکھ کتنا خوش ہوٸ تھی۔ فوراً گلے سے لگا لیا۔ لیکن۔۔۔ جو گرم جوشی شہلا کے انداز میں تھی۔ وہ ہیزل میں نہ تھی۔ وہ صرف زیان کی وجہ سے شہلا سے ملنے کو راضی ہوٸ تھی۔ ہیزل کے بے تاثر انداز کو دیکھ شہلا کا دل کھٹکا۔

میری بہن کیسی ہے۔۔۔؟؟ اس کے گالوں کو چھوا۔

ٹھیک ہوں۔ الحَمْدُ ِلله ماں باپ مل گۓ ہیں۔۔ پوری فیملی سے ملی ہوں۔ لاوارث نہیں۔۔۔ ہیزل کے تلخ جواب پے شہلا آنسو پونچھتے نظریں جھکا گٸ۔

اپنی بہن کو معاف نہیں کرو گی۔۔؟؟ جانتی ہوں۔ بہت غلط کیا۔۔ لیکن۔۔۔ پھر بھی۔۔؟؟

نہیں تو۔۔۔۔ آپ نے بہت اچھا کیا۔۔۔ اس دن مجھے گھر سے نکال کے آپ نے بہت اچھا کیا۔ ہیزل کا لہجہ سخت اور تیز ہوا۔ زیان ویسٹ پے ہاتھ رکھے سر نفی میں ہلاتا رہ گیا۔

ایگزیکٹلی۔۔ اگر آپ ایسا نہ کرتیں تو۔۔۔ مجھے اپنی فیملی کبھی نہ ملتی۔۔۔ اور جو اس رات۔۔۔ زیان شاہ نے میری مدد کی۔۔۔ پلٹ کے میٹھی نگاہ سے شوہر کو دیکھا۔ مجھے زیان ملے۔۔۔ اس سب کے لیے میں آپ کی شکر گزار ہوں۔۔۔ ہیزل کی باتوں پے شہلا کا دل بری طرح دھڑکا۔ وہ زیان کو ڈاکٹر زیان نہیں کہہ رہی تھی۔ صرف اس کے نام سے پکار رہی تھی۔۔۔ کیا کوٸ حق مل گیا تھا۔ اسے۔۔۔؟؟

ہیزل۔۔۔۔ ڈاکٹر زیان واقعی بہت اچھے انسان ہیں۔ اور ان کی اچھاٸ ہی کی وجہ سے میں نے تمہیں لے کے ان پے بھروسہ کیا۔

ہونہہ۔۔۔۔ آپ میرے لیے اب فکر کرنا چھوڑ دیں۔۔ آپ نے اس دن جو میری فکر کی۔۔۔ اس کے بعد۔۔؟

ہیزل۔۔۔؟؟ زیان نے اس کا ہاتھ تھام کے اسے مزید کچھ بھی سخت کہنے سے باز رکھا۔ اس کا یوں استحقاق سے ہیزل کا ہاتھ تھامنا شہلا کو بہت کچھ سمجھا گیا تھا۔ شہلا نے اپنے دل کا درد چھپاتے اپنے آنسو پونچھے۔

میرا خیال ہے۔۔۔ بہت دیر ہو رہی ہے۔۔ ہمیں اب چلنا چاہیے۔۔۔ بابا کا فون بھی آچکا ہے۔۔ رات ہونے سے پہلے واپس آنے کو بولا ہے۔

ہیزل سے کہتے وہ شہلا کی جانب مڑا۔

ڈاکٹر شہلا۔۔۔ میں کچھ دن تک واپس آٶں گا ہاسپٹل۔۔ کچھ فارمیلٹیز ہیں وہ پوری کرنے۔۔۔ ابھی ہمیں جانا ہو گا۔

آپ۔۔۔ اور ہیزل۔۔۔؟؟ کیا ایک ساتھ ہیں۔۔؟؟ دل میں اٹھتے سوال کو آخر پوچھ ہی لیا۔ ہیزل اور زیان دونوں ہی اس کی بات پے چونکے۔

جی۔۔۔ ہمارا نکاح ہو چکا ہے۔۔ اور میں مسز زیان شاہ ہوں۔ ہیزل اپنی بہن کی آنکھوں میں ٹوٹے کانچ کی کرچیاں دیکھ چکی تھی۔ اس کا دل اس بات پے سخت دکھا۔ لیکن۔۔ زیان اس کا تھا۔ یہ بات کلٸیر کر دی۔

شہلا تو کچھ پل کے لیے گنگ ہی رہ گٸ۔

یہ۔۔۔۔ یہ۔۔ کب ہوا۔؟ بے یقینی سے پوچھا۔

بہت پہلے۔۔۔ خیر۔۔۔ ہمیں دیر ہو رہی ہے۔ نکلنا ہو گا۔۔ ہمیں۔۔! زیان شہلا کو الله حافظ کہتا ہیزل کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے باہر نکلا۔

وہ دونوں جا چکے تھے۔ لیکن شہلا کے دل کی دنیا ایک بار پھر اجڑ گٸ تھی۔

جسے پنسد کیا وہ نہ ملا۔

جو اچھا لگا۔۔۔ وہ بھی ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ نجانے آگے کیا قسمت میں لکھا تھا۔
💘💘💘💘💘💘💘💘💘💘
جاری ہے۔

Address

Lahore
51770

Telephone

+923061904182

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Novel_______ اردو ناول posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category