Baba Koda بابا کوڈا

Baba Koda بابا کوڈا ⭐ ہمارے ہاں پٹواریوں ، فضلانڈاوں ، جیالوں ، اور غداروں کی تسلی بخش مرمت کی جاتی ہے 😍

امیرالمؤمنین مرشد کامل  عمران احمد خان نیازی کی داتا دربار پہ حاضری !!
13/03/2023

امیرالمؤمنین مرشد کامل عمران احمد خان نیازی کی داتا دربار پہ حاضری !!

12/03/2023

فوج کی مجموعی پالیسی یکساں ہے۔ مثلاً ابھی ن لیگ کو لانا ، پھر پیپلز پارٹی کو ، بلاول وزیر اعظم بنے گا اور پھر مریم نواز کی باری آئے گی لیکن طریقہ کار پہ اختلاف ہے اور اپنے اپنے مفادات کی وجہ سے کچھ چیزوں پہ ٹکراؤ بھی ہے جسے آپ گروپنگ کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً ن لیگ کے تناظر میں دو گروپ ہیں۔ ایک پرو مریم ہے اور ایک پرو شوباز ۔ پرو شہباز گروپ مریم گروپ کو نقصان پہنچا کر شہباز شریف کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

عمران خان پہ قاتلانہ حملے میں شہباز شریف پہ بات آئی تو اس کا امیج کلیئر کرنے کےلیے ارشد شریف کے قتل میں مریم نواز اور نواز شریف کے ملوث ہونے کی گواہی آ گئی ۔ پھر ایک دوسرے کی آڈیو لیکس بھی ہوئیں۔ مریم نواز کی میڈیا کےلئے ہدایات اور شہباز شریف سے کال لیکس بھی ہوئیں۔ یہ سلسلہ دونوں جانب سے وقتاً فوقتاً چلتا رہتا ہے۔ نواز شریف اسی لیے اپنے بھائی ہی حکومت ہوتے ہوئے بھی واپس نہیں آ رہا ۔ بداعتمادی بہت زیادہ ہے ۔ مریم کا دھڑا تو یہ بھی سمجھتا ہے کہ نواز شریف کو کچھ وقت تک نااہل کر کے اور سزائیں دلوا کر ہمدردی سیمٹنے کا جو لولی پاپ تھا، وہ شہباز شریف کو لانچ کرنے کےلئے تھا اور اس پلان میں شہباز شریف شامل تھا۔ ایسی کوئی آڈیو لیک سامنے نہیں آئے گی جس میں دونوں لڑ رہے ہوں کیونکہ ادارہ یہ چیز سامنے نہیں لانا چاہتا۔ ادارے نے مریم ، نواز شریف ، شہباز شریف ، خاقان عباسی ، مفتاح اسمائیل ، بلاول ، زرداری ، فضلو ، محسن داوڑ ، علی وزیر ، منظور پشتین ، ایم کیو کی تمام لیڈرشپ سمیت سب کو استعمال کرنا ہے ۔ اسی لیے اختلاف ضرور ہوں گے لیکن اس کے استعمال میں بھی کچھ حد ہوتی ہیں۔ بس ادارے کو صرف عمران خان پسند نہیں ہے کیونکہ وہ ان کی طرح ہڈی پہ دم ہلانے والوں میں سے نہیں ہے بلکہ خوددار پاکستانی ہے جو اس حرامخور آرمی کو پسند نہیں آتی کیونکہ انھوں نے ساری زندگی دم ہلانے کو ہی کامیابی سمجھا ہے۔

عمران خان کو دشمن سمجھنے کے باجود مفادات کی بنیاد پہ اس وقت بھی مریم اور شہباز گروپ آمنے سامنے ہیں۔ مریم گروپ کی جانب سے ابصار عالم نے آئی ایس آئی کی جانب سے لوگوں کی ننگی ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے اور لڑکیوں کے استعمال پہ کالم لکھا جس میں مریم گروپ پہ شک نہ جائے ، اس لیے باجوہ کو بھی مورد الزام ٹھہرایا حالانکہ باجوہ نے انھیں این آر او دیا ہے اور وعدے کے مطابق یہ اب اس پہ حملہ آور نہیں ہو سکتے۔ اس آرٹیکل کےلیے ہدایات نواز شریف کی جانب سے آئی ہیں کیونکہ انھوں نے بڑی چالاکی سے آٹھ مارچ کو ظلم کرنے کے بعد مریم نواز کی آڈیو لیک کر دی۔ دوسری بڑی وجہ توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کرنے کی منظوری بھی ہے۔ مریم سمیت سب کا نام شامل ہے ۔ خاقان عباسی نے دو دن قبل ماحول بناتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ اس نے بھی گھڑی لی ہے۔ اس ریکارڈ کے پبلک ہونے کا شہباز شریف اینڈ کو ، کو زیادہ نقصان نہیں لیکن مریم براہ راست متاثر ہو گی جو کسی سرکاری عہدے کے بغیر توشہ خانہ سے مہنگے تحائف لے اڑیں۔ ادھر سے آڈیو لیک تو ادھر سے کالم اور پھر ادھر سے ریکارڈ پبلک ، یہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا حربہ ہی ہے۔ یاد رکھیں یہ ریکارڈ اس وقت پبلک ہو رہا ہے جب گھڑی والا پروپیگنڈا کامیاب نہیں ہو پایا۔ اس ریکارڈ کے پبلک ہونے سے کسی کی مقبولیت پہ فرق نہیں آئے گا لیکن مریم نواز براہ راست متاثر ہوں گی۔ اس ریکارڈ کے پبلک ہونے سے بلاول کی بھی امیج بنی یے کہ اس نے مریم نواز کی طرح اختیارات کا غلط استعمال نہیں کیا ۔ ریکارڈ کو 2002 سے شروع کیا گیا ہے کیونکہ 2001 میں تحفوں کی معلومات پبلک کرنا نیوٹرل کےلیے اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنے جیسا ہے اگرچہ پتہ سب کو ہے!!! بقلم خود بابا کوڈا

12/03/2023

آپ نے فوڈ بلاگرز کی ویڈیوز کبھی نہ کبھی تو لازمی دیکھی ہوں گی جس میں وہ کسی بھی ٹھیلے پر پہنچ کر شروع ہو جاتے ہیں کہ تو بھیا آجا ہم کیا بنانے والے ہیں، اب ہم کیا ڈالنے والے ہیں، اب اسکے بعد کیا ڈالنے والے ہیں وغیرہ وغیرہ. جسکے جواب میں بیچارہ دوکاندار ہر ایک سوال کا جواب دیتا نظر آتا ہے اور اتنا ہی نہیں کیمرے کی وجہ سے اسے مکھن اور گھی بھی زیادہ ڈالنا پڑتا ہے جیسے ہمارے یہاں پچیس روپے کی چھولے کی پلیٹ میں ایک کلو مکھن استعمال ہوتا ہو.

گزشتہ روز ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک بن کباب والا چاروں طرف سے گاہکوں میں گھرا ہوا ہے اور ماتھے سے پسینہ ٹپک رہا ہے. ایسے میں فوڈ بلاگر پوچھنے لگا کہ تو بھیا اب ہم اس میں کیا ڈالیں گے؟.

یہ سن کر بن کباب والا اپنا کام چھوڑ کر فوڈ بلاگر کی طرف متوجہ ہوا کہ تمہیں ریکارڈ کرنا ہے تو چپ کر کے ریکارڈ کرو یہ سوال پوچھ کر دماغ کی ماں کو نل مت دو ویسے ہی گاہکوں کے پریشر سے پھٹی پڑی ہے.

اس تحریر سے یہ سبق ملتا ہے کہ ان تین ہزار سوروں سے جنہیں محسن نقوی نے بھیجا تھا ہرگز یہ مت پوچھنا کہ بھیا اب اپن کیا کرنے والے ہیں کیونکہ اسکے بعد وہ جو جواب دینے والے ہیں وہ شاید آپ کی دادی محترمہ کے بھی کپڑے تار تار کر دے.

11/02/2023

ننکانہ صاحب میں ہوئے حادثے میں تقریباً چھ سو سے زائد افراد تھے جنہوں نے ایک مبینہ گستاخ کو ق تل کیا.

کیا ان میں سے کسی ایک شخص کے دماغ میں بھی یہ سوال پیدا ہوا ہوگا کہ آیا واقعی اس شخص نے گستاخی کی ہے یا جھوٹا الزام ہے؟.

اب یاد کریں کہ کیوں اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو مروانے کے لیے توہین مذہب کا کارڈ استعمال کیا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ ایک جاہل قوم ہے جو اس بات کی تحقیق کرنا بھی گناہ سمجھے گی اور ق تل کے بعد سوال کرنے والا بھی گستاخ تصور ہوگا.

یہ دلڑے اب خون کے رسیا ہو چکے ہیں انہیں جب تک دوبارہ حلوے تک محدود نہیں کیا جاتا یہاں نہ انسان رہ سکتا ہے اور نہ ہی رکشے. ب چ لنگڑا خود تو رہا نہی پیچھے اپنے باؤلے قوطے چھوڑ گیا

30/01/2023

سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے

جب لمبڑ ون کو عمران خان اور فواد چوہدری سے ہی فرصت نہیں تو پھر دھماکے تو ہونے ہی ہیں اور یہی کچھ ہو گا۔ اب یہ بات بھی کھل گئی ہے کہ اس ملک کی فوج اور آئی ایسی آئی ہی اس ملک کی سب سے بڑی دشمن ہے اور لوگوں نے ان وردی والے دہ ش ت گر د و ں پر چونکہ یقین کرنا چھوڑ دیا ہے اس لیے اب یہ اپنی ڈوبتی ناؤ بچانے کے لیے کسی بھی حد تک، کسی بھی سطح تک گر سکتے ہیں

اسحاق ڈار کی معاشی تباہی کے بعد اب خو د ک ش دھما ک و ں کا سلسلہ بھی پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ آنے والے دن خوفناک تبا ہ ی کے ہیں۔

فوج اور لمبڑون نے پاکستان کو تباہ کرنے کا مکمل پلان بنا لیا ہے۔ یہ پاکستان کے اختتام کا آغاز ہے۔ سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے۔۔۔۔۔

29/01/2023

عمران خان جب روس گیا تو پٹرول 150 کا تھا اسکا پلان تھا روس ہمیں 60٪ سستا تیل دے دے تو ہم 50 روپے فی لیٹر تک قیمت لے آئیں گے. IMF سے جان چھوٹ جائے گی.

مگر اسکو کیا پتا تھا وہ پاکستان آئے گا تو پاکستانی فوج امریکی سازش میں اسکا تختہ ہی الٹ دے گی.

اب کمنٹ میں سلاجیت نہ مانگ لینا اپنی لاؤ اور شروع ہوجاؤ
29/01/2023

اب کمنٹ میں سلاجیت نہ مانگ لینا اپنی لاؤ اور شروع ہوجاؤ

25/01/2023

محب وطن صحافیوں کو گھروں سے اٹھا کر ننگا کیا گیا ہم نے ڈی پیاں بدلیں ،

شہباز گل اور اعظم سواتی پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ہم نے ڈی پیاں بدلیں ،

عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا ہم نے ڈی پیاں بدلیں ،

ارشد شریف کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا ہم نے ڈی پیاں بدلیں ،

آج پھر فسطائیت کا کھیل اپنے جوبن پہ ہے۔ فواد چوہدری کو ان کے گھر سے اغوا کیا گیا ہے۔ عمران خان کی گرفتاری کےلیے فورسز اکٹھی کی جا رہی ہیں اور زمان پارک کی جانب جانے والے راستے بند کر کے ہاؤس اریسٹ یقینی بنایا جا رہا ہے۔ وہ ملک توڑنے تک آگئے ہیں جبکہ ہم ڈی پیاں بدل رہے ہیں ۔

ادھر امریکہ نے ہمارے جرنیلوں کی مدد سے ریاست پر قبضہ کیا ہوا ہے جبکہ ہمارے محب وطن فوجی جوان اس انتظار میں ہیں کہ جرنیل ہمیں آرڈر دیں اور ہم اپنی ہی قوم کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔ یہ سات لاکھ کٹھ پتلیاں روبوٹ بنے ہوئے ہیں۔ فوجی تو آزادی کا سپاہی ہوتا ہے یہ بزدل اپنے ملک کو اغیار کی غلامی میں دینے کیلئے اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ۔ کسی ایک کی غیرت نہیں جاگی ، کسی ایک کے ایمان نے انہیں نہیں جھنجھوڑا کہ ان چند جرنیلوں کی گردنیں دبوچ سکیں۔

ہمیں باہر نکلنا ہوگا ،
ہمیں گھروں سے باہر نکلنا ہوگا ،
ہمیں اپنی ہر مجبوری سے باہر نکلنا ہوگا ،
ہمیں خوف و ہراس سے باہر نکلنا ہو گا ،
ہمیں عقیدت سے باہر نکلنا ہو گا ،
ہمیں یکطرفہ سمجھوتوں سے باہر نکلنا ہو گا ،

فوجی جوانو یاد رکھو اگر اس ملک کو آگ لگی تو تمہارے گھر بھی جلیں گے۔ تمہارے ماں باپ بھی اس آگ میں بھسم ہونگے ۔
تمہارے بچے بھی سسک سسک کر جان دیں گے۔ بنگالیوں پر مظالم کے بعد تمہارے پاس واپسی کا آپشن تھا لیکن یہاں سے کہیں جانے کا آپشن نہیں ہے ۔ یہاں ہم سب مریں گے۔ جس آگ میں آج جرنیل ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر تیل چھڑکنے کا حکم دے رہے ہیں ، یہ آگ سب کو نگلے گی۔ آج وقت ہے کہ ایک سائیڈ چن لی جائے۔ عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں تمام حدیں عبور ہو جائیں گی۔ پھر کسی سے کوئی رعایت نہیں ہو گی۔ تحریک انصاف جیسی پرامن پارٹی کو اس طرف دھکیلا گیا تو پھر بیک فائر ہو گا۔ طاقت کے استعمال کی صورت میں گاندھی ازم اختیار کرنا ہمارا شیوہ نہیں ۔ عمران خان گرفتار ہو گا تو پھر ہم جرنیلوں کو گریبان سے پکڑ کر نکالیں گے۔ دنیا ترکی اور سری لنکا کے مناظر بھول جائے گی۔ اب بغاوت فرض ہو چکی ہے۔ ہم نے بہت صبر کر لیا ہے

24/01/2023

پنجاب کی ٹوٹل 371 سیٹیں ہیں جس میں 297 جنرل سیٹیں ہیں جن پر الیکشن ہونا ہے جبکہ کے پی کی ٹوٹل 145 سیٹیں ہیں جس میں 115 جنرل سیٹیں ہیں جہاں پر الیکشن ہونا ہے۔۔

الیکشن کمپیئن کے حوالے سے انصافیوں کو سمپل اس وقت نیشنل لیول کی بجائے اپنے حلقے لیول کی کمپیئن شروع کرنی ہوگی۔ نیشنل لیول کی کمپیئن کو چھوڑ دیں اور اب اپنے حلقے کے لیول پر آجایئں۔ حلقے کے لیول کے لیے جہاں آپ کو گراونڈ پر ایکٹیو ہونا پڑے گا وہیں آپ کو حلقے کے لحاظ سے سوشل میڈیا پر ایکٹیو ہونا ہوگا۔۔

اس کے 2،3 طریقے ہیں۔

1۔ اپنے حلقے کے نام سے واٹس ایپ گروپ بنایئں جس میں نیشنل لیول کے ساتھ ساتھ اپنے حلقے پر واٹس ایپ پر آگہی دیں۔

2۔ فیس بک پر اپنے حلقے کا گروپ اور پیج بنا کر وہاں یہی کام کریں۔

3۔ ٹیوٹر پر آپ کو ایکٹیو صرف اس حد تک ہونا ہے کہ نیشنل لیول کی سیاست پر ٹویٹ کرسکیں کیونکہ ٹیوٹر ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ کسی کا پرسیپشن تبدیل نہیں کرسکتے صرف فیس بک، اور ٹک ٹاک ایسی جگہ ہے جہاں آپ اپنی کمپیئن کا بہترین رزلٹ دیکھ سکتے ہیں۔

4۔ اجکل ایک دانشوڑوں کا طبقہ ٹک ٹاک کے کافی خلاف ہوا پڑا ہے ان کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک یوٹیوب پر گانے کی ویڈیو کے نیچے ایک بندے کا کمنٹ کہ "شرم کرو یہ گانا گاتے ہوئے۔۔تم جہنم میں جاو گے" اور ایسا کمنٹ ہر گانے ،ویڈیو اورڈرامے کے کمنٹ میں ہوتا ہے۔ اگر اپ کو پسند نہیں تو ٹک ٹاک کا الگورتھم سمپل ہے جیسی سرچ آپ کی۔ہوگی ویسی ہی ویڈیوز آپ کے سامنے آئے گی۔ اچھی سرچ ہوگی تو اچھی ویڈیوز ورنہ وہ والی ویڈیوز جس کا رونا ہمارے دانشوڑ روتے ہیں۔ ٹک ٹاک ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں پر آپ نچلے لیول کے ہر قسم کے طبقے کو ٹارگٹ کرسکتے ہیں۔۔

میں پھر کہہ رہا ہوں یہ وقت آپ کے لیے حلقے کے لیول کی سیاست کا وقت ہے۔لہذا اب اپنے اپنے حلقے میں زمینی طور پر اور سوشل میڈیا پر ایکٹیو ہوں۔ یہ وہ وقت ہے جب آپ نے ان پرانے بابوں کا منہ توڑ جواب دینا ہے۔ کیونکہ ان حرام خور ٹھرکی بابوں کا دماغ سیکس کے علاوہ اور کچھ سوچتا ہی نہیں۔اور کوئی بات کرو تو کہتے ہیں عمران خان نے جوانی میں یہ کیا وہ کیا۔۔

22/01/2023

محسن نقوی کا نگران وزیر اعلی بننا ہر اعتبار سے غلط اور نامناسب ہے۔
وہ نہایت متنازع شخص ہیں، زرداری صاحب کے نہایت قریبی اور قابل اعتماد ساتھی اور پی ڈی ایم کے تمام جوڑتوڑ اور مبینہ لندن پلان وغیرہ میں شریک رہے۔ ان کے حوالے سے یہ الزام لگایا جاتارہا ہے کہ وہ زرداری کے فرنٹ مین ہیں۔

ان کا چینل عمران خان کا بدترین مخالف اور انتہائی یک رخے پروپیگنڈہ کا مرکز ہے۔ ایسے متنازع اور واضح طور پر عمران مخالف شخص کو الیکشن کمیشن کیسے نگران وزیراعلی پنجاب بنا سکتا ہے؟

یہ توواضح طور پر سب کچھ پلانڈ لگ رہا ہے۔ پی ڈی ایم نے دانستہ تین نام دینے کے بجائے صرف دو نام دئیے۔ ایک احد چیمہ جو وفاقی مشیر ہے دوسرا محسن نقوی۔
دانستہ طور پر پی ڈی ایم نے تیسرا نام نہیں دیااور پہلانام احد چیمہ کا دیاتاکہ اسے مسترد کر کے محسن نقوی کو الیکشن کمیشن نگران وزیراعلی بنا دے ۔
یہ پنجاب میں بدترین دھاندلی کا پلان لگ رہا۔

اس سے ثابت ہو گیا کہ الیکشن کمیشن نہایت متعصب ،ناقابل اعتماد اور پارٹی بن چکا ہے۔ یہ کسی بھی صورت میں پنجاب اسمبلی کا الیکشن کرانے یا اگلے جنرل الیکشن کرانے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے دعووں کے باوجود غیر جانبدار نہیں ہوئی۔

عمران خان اور تحریک انصاف کواس پر شدید سیاسی اور قانونی احتجاج کرنا چاہئیے۔ اس پر تحریک چلانے کی صورت ہے۔

اگر محسن نقوی نگران وزیراعلی رہے اور الیکشن کمیشن کا یہی چلن تو تحریک انصاف کراچی کے دھاندلی زدہ بلدیاتی انتخابات بھول جائے۔
پنجاب اسمبلی میں ہر جتن کر کے پی ڈی ایم کو جتوایا جائے۔

نگران انتظامیہ تین ماہ تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دے گی۔
عمران خان کوناکافی سکیورٹی دے گی اور اللہ نہ کرے کوئی اور سانحہ نہ ہوجائے۔
یہ پورا پلان نوشتہ دیوار لگ رہا ۔ محسن نقوی کو پی ڈی ایم کی طرف سے نامزد کرنا اور پھر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت الیکشن کمیشن کاانہیں نگران وزیراعلی مقرر کرنا۔ یہ کوئی اتفاق نہیں۔ یہ سب پلان شدہ ہے۔
اس کی نہ صرف انصافین کو بلکہ ہر جمہوریت پسند کو مزمت اور مخالفت کرنی چاہئیے۔

Address

Lahore
786

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Baba Koda بابا کوڈا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share