12/03/2023
فوج کی مجموعی پالیسی یکساں ہے۔ مثلاً ابھی ن لیگ کو لانا ، پھر پیپلز پارٹی کو ، بلاول وزیر اعظم بنے گا اور پھر مریم نواز کی باری آئے گی لیکن طریقہ کار پہ اختلاف ہے اور اپنے اپنے مفادات کی وجہ سے کچھ چیزوں پہ ٹکراؤ بھی ہے جسے آپ گروپنگ کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً ن لیگ کے تناظر میں دو گروپ ہیں۔ ایک پرو مریم ہے اور ایک پرو شوباز ۔ پرو شہباز گروپ مریم گروپ کو نقصان پہنچا کر شہباز شریف کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
عمران خان پہ قاتلانہ حملے میں شہباز شریف پہ بات آئی تو اس کا امیج کلیئر کرنے کےلیے ارشد شریف کے قتل میں مریم نواز اور نواز شریف کے ملوث ہونے کی گواہی آ گئی ۔ پھر ایک دوسرے کی آڈیو لیکس بھی ہوئیں۔ مریم نواز کی میڈیا کےلئے ہدایات اور شہباز شریف سے کال لیکس بھی ہوئیں۔ یہ سلسلہ دونوں جانب سے وقتاً فوقتاً چلتا رہتا ہے۔ نواز شریف اسی لیے اپنے بھائی ہی حکومت ہوتے ہوئے بھی واپس نہیں آ رہا ۔ بداعتمادی بہت زیادہ ہے ۔ مریم کا دھڑا تو یہ بھی سمجھتا ہے کہ نواز شریف کو کچھ وقت تک نااہل کر کے اور سزائیں دلوا کر ہمدردی سیمٹنے کا جو لولی پاپ تھا، وہ شہباز شریف کو لانچ کرنے کےلئے تھا اور اس پلان میں شہباز شریف شامل تھا۔ ایسی کوئی آڈیو لیک سامنے نہیں آئے گی جس میں دونوں لڑ رہے ہوں کیونکہ ادارہ یہ چیز سامنے نہیں لانا چاہتا۔ ادارے نے مریم ، نواز شریف ، شہباز شریف ، خاقان عباسی ، مفتاح اسمائیل ، بلاول ، زرداری ، فضلو ، محسن داوڑ ، علی وزیر ، منظور پشتین ، ایم کیو کی تمام لیڈرشپ سمیت سب کو استعمال کرنا ہے ۔ اسی لیے اختلاف ضرور ہوں گے لیکن اس کے استعمال میں بھی کچھ حد ہوتی ہیں۔ بس ادارے کو صرف عمران خان پسند نہیں ہے کیونکہ وہ ان کی طرح ہڈی پہ دم ہلانے والوں میں سے نہیں ہے بلکہ خوددار پاکستانی ہے جو اس حرامخور آرمی کو پسند نہیں آتی کیونکہ انھوں نے ساری زندگی دم ہلانے کو ہی کامیابی سمجھا ہے۔
عمران خان کو دشمن سمجھنے کے باجود مفادات کی بنیاد پہ اس وقت بھی مریم اور شہباز گروپ آمنے سامنے ہیں۔ مریم گروپ کی جانب سے ابصار عالم نے آئی ایس آئی کی جانب سے لوگوں کی ننگی ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے اور لڑکیوں کے استعمال پہ کالم لکھا جس میں مریم گروپ پہ شک نہ جائے ، اس لیے باجوہ کو بھی مورد الزام ٹھہرایا حالانکہ باجوہ نے انھیں این آر او دیا ہے اور وعدے کے مطابق یہ اب اس پہ حملہ آور نہیں ہو سکتے۔ اس آرٹیکل کےلیے ہدایات نواز شریف کی جانب سے آئی ہیں کیونکہ انھوں نے بڑی چالاکی سے آٹھ مارچ کو ظلم کرنے کے بعد مریم نواز کی آڈیو لیک کر دی۔ دوسری بڑی وجہ توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کرنے کی منظوری بھی ہے۔ مریم سمیت سب کا نام شامل ہے ۔ خاقان عباسی نے دو دن قبل ماحول بناتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ اس نے بھی گھڑی لی ہے۔ اس ریکارڈ کے پبلک ہونے کا شہباز شریف اینڈ کو ، کو زیادہ نقصان نہیں لیکن مریم براہ راست متاثر ہو گی جو کسی سرکاری عہدے کے بغیر توشہ خانہ سے مہنگے تحائف لے اڑیں۔ ادھر سے آڈیو لیک تو ادھر سے کالم اور پھر ادھر سے ریکارڈ پبلک ، یہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا حربہ ہی ہے۔ یاد رکھیں یہ ریکارڈ اس وقت پبلک ہو رہا ہے جب گھڑی والا پروپیگنڈا کامیاب نہیں ہو پایا۔ اس ریکارڈ کے پبلک ہونے سے کسی کی مقبولیت پہ فرق نہیں آئے گا لیکن مریم نواز براہ راست متاثر ہوں گی۔ اس ریکارڈ کے پبلک ہونے سے بلاول کی بھی امیج بنی یے کہ اس نے مریم نواز کی طرح اختیارات کا غلط استعمال نہیں کیا ۔ ریکارڈ کو 2002 سے شروع کیا گیا ہے کیونکہ 2001 میں تحفوں کی معلومات پبلک کرنا نیوٹرل کےلیے اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنے جیسا ہے اگرچہ پتہ سب کو ہے!!! بقلم خود بابا کوڈا