انصاف امن کمیٹی

انصاف امن کمیٹی انصاف امن کمیٹی

جب سایہ قد سے بڑا اور باتیں اوقات سے بڑی ہونے لگ جائیں تو سمجھ جائیں کہ سورج غروب ہونے والا ہے۔
08/04/2025

جب سایہ قد سے بڑا
اور باتیں اوقات سے بڑی ہونے لگ جائیں
تو سمجھ جائیں کہ سورج غروب ہونے والا ہے۔

19/02/2025
"‏سب سے بڑی جنگ میدانوں میں نہیں، انسان کے دل اور دماغ کے درمیان لڑی جاتی ہے۔"جب دل خواب دیکھتا ہے اور دماغ شک کرتا ہے، ...
13/02/2025

"‏سب سے بڑی جنگ میدانوں میں نہیں، انسان کے دل اور دماغ کے درمیان لڑی جاتی ہے۔"
جب دل خواب دیکھتا ہے اور دماغ شک کرتا ہے، تو انسان اپنی ہی سوچوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ہم یا تو اپنی کمزوریوں سے ہار جاتے ہیں، یا پھر اپنے حوصلے سے جیت جاتے ہیں۔
زندگی کا حقیقی کمال یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کو پہچانے، اپنی خامیوں کو قبول کرے، اور اپنے اندر وہ روشنی تلاش کرے جو اندھیروں کو شکست دے سکتی ہے۔
خود پر قابو پانا ہی اصل کامیابی ہے، اور خود سے ہار جانا سب سے بڑا نقصان۔

نشانیاں الجاثیہ میں ایک آیت ایسی ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو ۔۔۔ ایک بہت ہی واضح پیغام دیا ہے ۔"اور آس...
11/02/2025

نشانیاں
الجاثیہ میں ایک آیت ایسی ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو ۔۔۔ ایک بہت ہی واضح پیغام دیا ہے ۔

"اور آسمان و زمین کی ہر چیز کو بھی اس نے اپنی طرف سے تمہارے لیے تابع کر دیا ہے (1)۔ جو غور کریں یقیناً وه اس میں بہت سی نشانیاں پالیں گے."

اس وقت اگر آپ مصر کے ایک صوبے الفایوم میں جائیں تو وہاں کے صحراء میں ایک بڑی ہی عجیب و غریب سی وادی ہے کہ جسے وادی الحیتان کہتے ہیں ۔

ایک طویل عرصے تک یہ جگہ دنیا کی نظروں سے چھپی رہی تھیں محض اس لیے کیوں کہ یہاں پہنچنا اتنا آسان نہیں تھا ۔

دشوار گزار ریت کے ٹیلے اور پیچیدہ راستے لیکن پھر پچھلی صدی کے اواخر میں کہ جب فور بائی فور گاڑیاں لوگوں کی پہنچ میں آ گئیں ۔۔۔ تو اس وقت صحراء کی اس گمنام وادی میں دریافت ہوا ۔

وہیل مچھلیوں کا دنیا میں سب سے بڑا قبرستان کہ جہاں اب تک صرف وہیل مچھلیوں کے ہی ۔۔۔ ایک ہزار سے زیادہ ڈھانچے مل چکے ہیں ۔

لیکن وہیل مچھلیاں ؟ وہ بھی ایک صحراء میں ؟

جی ہاں !صرف وہیلز نہیں بلکہ شارکس بھی ۔۔۔ بڑے بڑے دانتوں والی ساء فِش بھی ۔۔۔ اور عظیم الجثہ کچھووں کے ڈھانچے بھی ۔

لیکن آخر ہمارے لیے اس سب کا کیا مطلب ہوا ؟

اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی زمانے میں یہ تمام کا تمام صحراء ایک عظیم سمندر کے نیچے ہوا کرتا تھا ۔

اور یہ کب اور کتنے زمانے پہلے کی بات ہے ؟
اس پر تو ایک طویل اور لمبی چوڑی بحث ہے لیکن جو بات ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں۔

وہ یہ ہے کہ تاریخ میں ایک موقع اور بھی تھا کہ جب ایک عظیم سمندر نے دنیا کا سب کچھ اپنے اندر نگل لیا تھا ۔

وہ سمندر کہ جو نوحؑ کے زمانے میں ایک عظیم الشان بارش آنے کے بعد پیدا ہوا تھا ۔

وہ سمندر کہ جو آسمان کے دروازے کھل جانے۔ (قمر 54:11)
اور زمین کے چشمے جاری ہو جانے کے بعد پیدا ہو گیا تھا۔(قمر 54:12)

لیکن کیا واقعی کبھی اتنی بارش ہو سکتی ہے کہ وہ پورا ایک سمندر بنا دے ؟ اور سمندر بھی اتنا بڑا کہ وہ پوری دنیا کو ڈبو دے ؟

اس کے لیے آپ کو زمین کا واٹر سائیکل سٹڈی کرنا پڑے گا ، یہ ایک بڑا پیچیدہ نظام ہے ۔

جس کی سب سے سادہ شکل یوں ہے کہ سمندر سے پانی بخارات بن کر اڑتا ہے ، پھر بادل بنتا ہے ، پھر بارش ہوتی ہے اور ایک بار پھر سے وہ پانی بہہ کر ۔

ندی ، نالوں اور دریاؤں کے ذریعے بالآخر سمندروں میں ایک بار پھر سے شامل ہو جاتا ہے اور پانی کا یہ سائیکل ۔

پچھلے کئی سو سال سے جاری ہے۔
منقول

ایک گاؤں میں ایک اجنبی شخص آیا اور اس نے اعلان کروایا کہ وہ گاؤں والوں سے ایک بندر 10 روپے میں خریدے گا۔ اس گاؤں کے اردگ...
05/02/2025

ایک گاؤں میں ایک اجنبی شخص آیا اور اس نے اعلان کروایا کہ وہ گاؤں والوں سے ایک بندر 10 روپے میں خریدے گا۔ اس گاؤں کے اردگرد بہت زیادہ بندر تھے ، دیہاتی بہت خوش ہوئے، انہوں نے بندر پکڑنا شروع کر دئیے۔اس آدمی نے ایک ہزار بندر 10، 10 روپے کے بدلے میں خریدے، اب گاؤں میں بندروں کی تعداد کافی کم ہو چکی تھی، چند ایک بندر باقی تھے جنہیں پکڑنا دشوار ہو گیا تھا۔اس وقت تاجر نے اعلان کیا کہ اب وہ بندر 20 روپے میں خریدے گا، اس سے دیہاتیوں میں نیا جذبہ پیدا ہوا اور ایک دفعہ پھر انہوں نے پوری قوت سے بندر پکڑنا شروع کئے۔

چند دن بعد بندر اکا دکا ہی نظر آتے اور اس نئے آئے ہوئے تاجر کے ایک بڑے پنجرے میں تقریباََ 1300 بندر جمع ہو چکے تھے ۔جب تاجر نے بندروں کی خریداری میں سُستی دیکھی تو اس نے فی بندر قیمت پہلے 25 روپے مقرر کی اور پھر اگلے دن قیمت 50 روپے کر دی۔ اس قیمت میں اس نے صرف 9 بندر خریدے ۔اب جو بندر بھی نگاہ انسانی کی زد میں آتا ، داخل زندان کر دیا جاتا ۔اس کے بعد وہ کام کے سلسلے میں کسی دور دراز شہر چلا گیا اور اسکا اسسٹنٹ کام سنبھالنے لگا۔ اسکی غیر موجودگی میں اسکے اسسٹنٹ نے دیہاتیوں کو جمع کر کے کہا کہ:
”بھائیو! اس بڑے پنجرے میں تقریبا 1450 جانور ہیں جو استاد نے جمع کئے ہیں۔ میں ایسا کرتا ہوں کہ تم سب کو یہ سارے 35 روپے فی بندر کے حساب سے بیچ دیتا ہوں، جب استاد آئے تو تم اسے یہ بندر 50،50روپے میں بیچ دینا۔“

دیہاتی بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اپنی ساری جمع پونجی خرچ کر کے بندر خرید لئے۔اسکے بعد انہوں نے نہ کہیں تاجر کو دیکھا نہ ہی اس کے اسسٹنٹ کو، بس ہر جگہ بندر ہی بندر تھے۔

Right100%
15/04/2024

Right100%

Address

Ravi Clifton Shahdra Lahore
Lahore
FALAHIKAMETI

Telephone

+923015245003

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when انصاف امن کمیٹی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to انصاف امن کمیٹی:

Shortcuts

Share