Pakiza's Novels

Pakiza's Novels Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pakiza's Novels, Book shop, Lahore.

انتظار سے اظہار تکازقلم پاکیزہ معاذقسط نمبر 16Full of romance episode 😍❤️۔وہ اس کے ساتھ قدم قدم چلتی گردن موڑے اس کا چہر...
29/08/2023

انتظار سے اظہار تک
ازقلم پاکیزہ معاذ
قسط نمبر 16
Full of romance episode 😍❤️

۔وہ اس کے ساتھ قدم قدم چلتی گردن موڑے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔ خاموش کیوں ہو عصام نے چلتے چلتے اس سے پوچھا ۔۔ جیسے آپ جانتے نہیں خفگی سے کہتی رخ پھیر گئی۔ آآپپپپ۔۔۔ وہ اس کے خود کو آپ کہنے پر ہنستا ہوا اس کی نکل اتار رہا تھا ۔وہ اس کے ہنستے چہرے کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی اور کوئی وقت ہوتا تو وہ اس سے اپنا بدلا ضرور لیتی لیکن اس وقت وہ ضرورت سے زیادہ خاموش تھی۔ چلتے چلتے وہ لوگ جھیل کے کنارے پہنچ چکے تھے وہاں سٹیکس اور رنگ برنگے کپڑوں کی مدد سے ڈیکوریشن کی گئی تھی ۔ ماہیر کو اس خوبصورت جگہ کو دیکھ کر بھی کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی ۔ کیونکہ اس کا دل اداس تھا۔ وہیں کھڑے کھڑے عصام نے ایک خوبصورت سی رینگ اپنی پاکٹ سے نکال کر اس کی انگلی میں پہنا دی ۔ تھینکس بہت خوبصورت ہے وہ پھیکی سی مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجائے اس کو دیکھتی کہنے لگی۔ تم جب بھی مجھے مس کرو گی اس رنگ کو پریس کرنا مجھے پتہ چل جائے گا جب میری رنگ بلنک کرے گی۔آپکی رنگ کہاں ہے وہ اس کے خالی ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔ یہ رہی وہ اپنی شرٹ کے بٹن کھولتا اس کو اپنے گلے میں پہنی چین دیکھا رہا تھا جس میں ایک رنگ لٹک رہی تھی۔ وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی اس کی رنگ کو دیکھ رہی تھی ۔ جب عصام نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر جھکتے ہوئے اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کیا ماہیر اس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھے دوسرا ہاتھ اسکے گال پر رکھے اسکا بھرپور ساتھ دے رہی تھی

مکمل قسط پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں ۔
https://youtu.be/GyAB3uIwYXo?si=PH-Svcf9h4cLB1qA

انتظار سے اظہار تکازقلم پاکیزہ معاذقسط نمبر 07پاکیزہ معاذ ناولز پر شائع ہونے والے تمام ناولز کے جملہ حقوق مصنفہ کے نام م...
29/08/2023

انتظار سے اظہار تک
ازقلم پاکیزہ معاذ
قسط نمبر 07

پاکیزہ معاذ ناولز پر شائع ہونے والے تمام ناولز کے جملہ حقوق مصنفہ کے نام محفوظ ہیں۔ انھیں کسی بھی صورت میں کہیں بھی شائع نہیں کیا جا سکتا خلاف ورزی کرنے کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

حریم کی پھوپھو حرا پچھلے آٹھ سال سے کینیڈا میں مقیم تھیں۔ ان کے شوہر حرم کا ٹرانسفر کینڈا ہونے سے پہلے وہ اپنے بڑے بیٹے بدران کے لیے حریم کر اپنے بھائی سے مانگ چکی تھیں۔ ان کے دو ہی بیٹے تھے بدران اور عصام بدران بڑا جبکہ عصام چھوٹا تھا ۔
اکلوتی بہن کے رشتہ مانگنے پر عمران صاحب ان کو منع نہیں کر سکے تھے ۔ اس وقت حریم کی عمر چودہ سال جب کہ بدران کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
پھوپھو کینڈا جانے سے پہلے ایک مضبوط رشتہ قائم کر کے جانا چاہتی تھی ان کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے عمران صاحب بدران اور حریم کا نکاح کر چکے تھے ۔
نکاح سے کچھ گھنٹوں کے بعد حرا پھوپھو اپنی فیملی کے ساتھ کینیڈا چلی گئی تھیں جانے سے پہلے وہ کہہ کر گئی تھیں کہ وہ ٹھیک چار سال بعد پاکستان آئیں گی اور اپنے بیٹے کی امانت کے جائیں گی ۔
لیکن چار سال گزرے بھی اب چار سال گزر چکے تھے ۔آٹھ سال پورے ہونے والے تھے اور حرا اب تک پاکستان نہیں آئی تھی حریم یہ وجہ نہیں جانتی تھی کہ پھوپھو اس کو لے جانے اب تک کیوں نہیں آئی ہیں۔
بدران نے اس سے کبھی کوئی رابطہ نہیں کیا تھا اور نہ اس نے کبھی کوشش کی تھی ۔لیکن حریم نے جب سے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا اس نے صرف بدران کو ہی اپنا آئیڈیل سوچا تھا ۔
نکاح کو جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا وہ بدران کی لیے اپنے دل میں عجیب سے احساسات محسوس کرنے لگی تھی۔ بدران کے لیے اس کے دل کی دنیا بدل چکی تھی ۔وہ بدران کو دیکھنے کی خواہش کرتی تھی کہ اب وہ کیسا دیکھتا ہے وہ اس کو سننا چاہتی تھی کہ وہ بولتے ہوئے کیسا لگتا ہے لیکن یہ ساری خواہشات صرف اس کے دل میں تھیں یہ بات وہ کبھی کسی سے کہہ نہیں سکی تھی ۔
حریم نے ان آٹھ سالوں میں بہت انتظار کیا تھا کہ بدران کبھی تو اس سے رابطہ کرے لیکن ایسا نہیں ہوا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے انتظار میں شدت آچکی تھی وہ بچپن سے اب تک اپنا نام بدران کے نام کے ساتھ اتنی بار سن چکی تھی کہ اب وہ بدران کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی ۔
کبھی کبھی حریم کا دل عجیب و غریب طرح سے وسوسوں سے گر جاتا تھا نا جانے وہ حریم کو پسند کرتا بھی تھا یا نہیں یا شاید وہ کینیڈا میں ہی کسی لڑکی کو پسند کرتا ہو سوچتے ہوئے کئی بار حریم کی آنکھیں نم ہوتی تھیں اور پھر وہ اپنے دل کو سمجھا کر کئی طرح کے دلاسے دے کر مطمئن کرتی تھی ۔
_____________________
کل ماہیر کو دیکھنے کچھ لوگ آ رہے ہیں تو اس کو اچھے سے سمجھا دینا میں کسے بھی قسم کی بدمزگی نہیں چاہتا وہ شخص صوفے کی پشت پر بازو ٹکائے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا روعب دار آواز میں اپنی بیوی سے کہہ رہا تھا ۔
کو ۔۔۔کون لوگ آ رہے ہیں اس کو دیکھنے ۔۔۔۔میرا مطلب ہے انھی لوگوں کی حیثیت کے مطابق انتظامات کرنے ہونگے نہ وہ ڈرتے ہوئے بولی تھیں۔
میرا بزنس پارٹنر ہے جہانگیر ملک وہ اپنی بیگم اور بیٹے کے ساتھ آرہا ہے اور میری طرف سے رشتہ پکا ہی ہے اور جہانگیر بھی ہاں کر چکا ہے یہ دیکھنا دیکھانا تو بس ایک فارمیلٹی ہے اور انتظامات ان کی حیثیت نہیں بلکہ محبوب خان کی حیثیت کے مطابق ہونے چاہیے ان کو پتہ چلنا چاہیے کہ وہ لوگ اپنا رشتہ کس سے جوڑنے جا رہے ہیں ۔ اب جاؤ تم تیاری دیکھوں وہ پتھریلے تاثرات کے ساتھ بولے تو ملیحہ بیگم نے سست رفتاری سے اپنے قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے۔
ان کا رُخ اب ماہیر کے کمرے کی جانب تھا وہ جیسے ہی اس کے کمرے میں داخل ہوئیں تو وہ لیپ ٹاپ کی سکرین پر نظر آتے عصام سے ہنس کر کوئی بات کر رہی تھی جبکہ دروازے کی طرف اسکی پشت تھی ۔
ان کے دروازہ کھٹکھٹانے پر اس نے مڑ کر دیکھا اور بے ساختہ ہاتھ اپنے سینے پر رکھا تھا اُف ماما آپ نے تو ڈرا ہی دیا جان نکل گئی تھی میری وہ کہہ کر اب عصام کی طرف دیکھ کر ہنس کر کوئی اشارہ کر رہی تھی ۔
اسلام و علیکم چچی کیسی ہیں آپ عصام کو بیڈ پر بیٹھی ملیحہ چچی نظر آئیں تو وہ ان سے سلام دعا کے بعد ان کا حال پوچھنے لگا تھا ۔
ٹھیک ہوں بیٹا تم بتاؤ کیسے ہو اور گھر پر سب ٹھیک ہیں وہ بجھے بجھے سے لہجے میں پوچھ رہی تھیں ۔
جی چچی الحمدللہ ۔۔۔۔
ماما آپ پریشان کیوں ہیں ابھی وہ ملیحہ چچی کو کچھ اور کہتا کہ وہ اس کی بات کاٹتی اپنی ماں سے پوچھنے لگی ۔
عصام میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں وہ اس کو کہہ کر فون کاٹتی اپنی ماں کی طرف دیکھنے لگی جو خاموش بیٹھی ناجانے کن سوچوں میں ڈوبی تھیں۔
ماما کیا ہوا وہ ان کا ہاتھ ہلا کر ایک بار پھر پوچھنے لگی۔
کل تمھارے ڈیڈ نے اپنے بزنس پارٹنر کو گھر بلایا ہے۔
تو اس میں اداس ہونے والی کیا بات ہے ماما وہ محبت سے ان کو دیکھتی بولی جو اسی کو دیکھ رہی تھیں۔
وہ تمھارا رشتہ اپنے بزنس پارٹنر کے بیٹے سے طے کر چکے ہیں وہ اپنے ہاتھ میں رکھے ماہیر کے ہاتھوں کو دیکھ کر بولی تھیں ۔
جییی ۔۔۔۔ کک۔۔۔ کیا کہا ابھی آپ نے ۔۔۔ ان کی بات سن ماہیر کو اپنی آواز گہری کھائی میں سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔
نہیں ماما ایسا نہیں ہو سکتا آپ کچھ کریں نہ میرے لیے آپ تو جانتی ہیں کہ میں اور عصام ایک دوسرے کو کتنا پسند کرتے ہیں وہ روتے ہوئے ان کا بازو ہلا ہلا کر کہہ رہی تھی ۔ جبکہ وہ خود بھی جانتی تھی کہ اس کا باپ ایک بار جو کہہ دیتا تھا وہ ہو کر ہی رہتا تھا اور کوئی بھی اس کو روک نہیں سکتا تھا ۔
اسے یوں روتے دیکھ کر ملیحہ بیگم کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا ۔
ایسے نہیں رو میری بیٹی تم جانتی ہو تمھاری ماں بہت کمزور ہے اب وہ خود بھی روتی ہوئی اس کو اپنے گلے سے لگا کر بولی تھیں ۔
نہیں ماما آپ ایسے ہار نہیں مان سکتیں میں خود ڈیڈ سے بات کرتی ہوں وہ بے تحاشا روتے ہوئے بولی تھی ۔
نہیں بالکل بھی نہیں تم ان سے کوئی بات نہیں کرو گی ابھی تو وہ لوگ کل بس تمھیں دیکھنے آرہے ہیں ابھی جو ہو رہا ہے ہونے دو پھر میں خود کچھ سوچتی ہوں وہ کچھ سوچتی ہوئے بولی تو ماہیر کو کچھ سکون ہوا لیکن اس کا دل اب بھی بے یقینی کی کیفیت میں تھا وہ جانتی تھی اس کا باپ اپنی بات سے ایک انچ بھی ہلنے والا نہیں ہے ۔
ملیحہ بیگم اس کو ک
دلاسہ دے کر کمرے سے نکلیں تو وہ ایک بار پھر عصام کو کال ملا چکی تھی ۔
اس کو ساری بات روتے روتے ہچکیوں سے بتانے کے بعد وہ ٹوٹی بکھری حالت میں بیٹھی رونے لگی تھی۔
جبکہ عصام اس کی باتیں سنتا طیش میں آچکا تھا۔
لیکن وہ اس وقت اپنے سامنے بیٹھی ماہیر کا حوصلا بڑھانا چاہتا تھا ۔
ماہیر یہاں میری طرف دیکھو وہ جو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے گود میں لیپ ٹاپ رکھے آنکھیں موندے بے آواز رو رہی تھی عصام کی آواز پر آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی ۔
تمہیں اپنے عصام پر بھروسہ ہے نہ وہ اس کا چہرہ دیکھتے پوچھ رہا تھا ۔
ہاں عصام مجھے آپ پر تو بھروسہ ہے لیکن ڈیڈ پر نہیں ہے ۔ آپ جانتے ہیں نہ ان کو وہ ایک بار جس چیز کا فیصلہ کر لیں پھر کوئی بھی ان کو وہ کام کرنے سے روک نہیں سکتا وہ ٹوٹی بکھری حالت میں روتے ہوئے اس کو دیکھ کر بولی تھی ۔
تم سب کچھ بھول جاؤ اور یاد رکھو تو بس اتنا کہ تم صرف اور صرف عصام خان کی ہو تمھاری ہر سانس پر تمھارے جسم و جان پر صرف میرا حق ہے اور عصام خان صرف تمھارا ہے کوئی بھی تم سے مجھے چھین نہیں سکتا اور کوئی تمھیں مجھ سے چھین لے ایسا عصام خان ہونے نہیں دے گا وہ کچھ سوچتے ہوئے یقین سے بولا تو ماہیر کو لگا وہ تپتے صحرا سے اسے چھاؤں میں لے آیا ہے ۔
______________________
جہانگیر ملک اور ان کی بیوی کب سے ہی ماہیر کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے ان لوگوں کو ہر حال میں ماہیر کا رشتہ چاہیے تھا وہ کسی بھی قیمت پر اتنی موٹی آسامی کو ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چاہتے تھے۔
وہ سب لوگ ڈرائنگ روم میں بیٹھے باتوں میں مصروف تھے۔جب دانیال نے اپنے باپ کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا تھا ۔
محبوب مجھے لگتا ہے بچوں کو آپس میں اکیلے بات کرنے دینا چاہے وہ بھی کچھ ڈر کر بولے تھے ورنہ کیا بھروسہ تھا اس شخص کا کہ بیٹھے بیٹھے رشتے سے انکار کر دیتا اور وہ ایسا ہونے نہیں دینا چاہتے تھے بہت مشکل سے یہ دن بہت انتظار کے بعد ان کو زندگی میں آیا تھا ۔
ہاں بالکل کیوں نہیں آخر زندگی تو ان لوگوں نے ہی گزارنی ہے محبوب خان نے کہا تو ماہیر نے اپنی جھکی نظریں اٹھا کر اپنے باپ کو بے یقینی سے دیکھا تھا جو آج ضرورت سے زیادہ ہی خوش نظر آرہا تھا یقیناً اس میں بھی اس کے باپ کا کوئی نہ کوئی فائدہ چھپا ہوگا ورنہ وہ بنا فائدہ کے کبھی بھی اچانک اس کے رشتے کی بات نہ کرتا وہ سوچتی ہوئی اپنی ماں کی طرف دیکھنے لگی جو اس کو ہاں کا اشارہ کر رہی تھیں اور دانیال دروازے کے پاس کھڑا اسی کو دیکھتا اس کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی طرف بڑھی تھی ۔
وہ دونوں لان میں ایک جانب رکھے ٹیبل کے اردگرد کرسیوں پر بیٹھے تھے جب دانیال نے ہی اپنی بات کا آغاز کیا تھا کیا کرتی ہو تم بابا نے بتایا تھا سٹڈیز کمپلیٹ ہو چکی تمھاری تو آج کل کیا کر رہی ہو وہ اس کے صاف شفاف چہرے کو دیکھتے ہوئے بلا جھجک پوچھ رہا تھا۔
ماہیر کو اس کی نظروں سے عجیب سی الجھن محسوس ہوئی تھی۔
کچھ نہیں وہ رکھائی سے کہتی اپنا پہلے سے ٹھیک دوپٹہ درست کرنے لگی۔
تو تم بور نہیں ہو جاتی ؟ چلو کوئی بات نہیں اب تو میں آگیا ہوں تو ہم لوگ بہت گھاما کریں گے ویسے بھی آجکل کلب جانے کے لیے میری کوئی بھی گرل فرینڈز نہیں ہے سجل بھی اس دن کے بعد مجھ سے بریک اپ کر چکی وہ اس رات کا سوچتے ہوئے بولا تھا۔
اس کی باتیں سن کر ماہیر کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا وہ بے ساختہ اس کا خوبصورت چہرہ دیکھنے لگی جو اتنی بے باکی سے اپنی گرل فرینڈز اور اپنی عیاشی کے قصے اسے سنا رہا تھا۔
ویسے تمھارا کوئی بوائے فرینڈ ہے وہ اس کے چہرے پر مسلسل نظریں ٹکائے بول رہا تھا۔
نہیں ماہیر کو اس کے سوال پر غصہ آیا تھا اس لیے تھوڑا غصے سے بولی تھی۔
اچھا تم غصہ نہیں کرو میں ہوں نہ وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولا تو ماہیر نے جھٹکے سے اس سے اپنا ہاتھ چھڑوایا تھا۔
ارے کیا ہو گیا ایسا بھی کیا کر دیا میں نے بس ہاتھ ہی تو پکڑا ہے وہ اس کے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتا بولا تھا۔
اچھا چھوڑو اور بتاؤ تمھاری ہوبیز کیا ہیں ۔
نتھنگ سپیشل وہ اب بھی اُکتا کر بولی تھی۔
تم ڈرنک کرتی ہو وہ اس کے بے حد قریب ہو کر سرگوشی سے سوال کرنے لگا تو ماہیر بے ساختہ جھٹکے سے پیچھے ہٹی تھی۔
کیسے باتیں کر رہے ہیں آپ وہ چہرے پر بےزاری طاری کر کے بولی تھی۔
آپ وہ اس کا کہا گیا لفظ دہرا کر قہقہہ لگا چکا تھا۔
دیکھو مجھے یہ آپ سنیے جی کہیے جی ٹائپ لڑکیاں نہیں پسند تو تم بھی مجھے میری طرح تم کہو وہ کہتا کرسی سے ٹیک لگا کر اپنے نچلے لب پر شہادت کی انگلی ٹکا گیا تھا۔
ماہیر کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ صاف صاف اس کو انکار کر دے لیکن وہ فی الحال ایسا نہیں کر سکتی تھی اس لیے ضبط کر کے رہ گئی۔
تم نے جواب نہیں دیا وہ پھر سے پوچھنے لگا تھا ۔
کس چیز کا وہ اپنی سوچوں میں الجھی بولی تھی ۔
یہی کہ تم ڈرنک یا سموکنگ کرتی ہو ؟ وہ اب ایک آئے برو آچکا کر پوچھ رہا تھا ۔
جی نہیں وہ غصے سے کہتی کھڑی ہو چکی تھی ۔
ارے کھڑی کیوں ہوگئی بیٹھو نہ وہ اس کو کہتا ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کر چکا تھا ۔
میرا خیال ہے آپ مجھ سے سارے سوالات پوچھ چکے ہیں اس لیے اب ہمیں چلنا چاہیے ۔
اس کی بات سن کو وہ بھی کھڑا ہوا تھا اور اس کے کندھے سے تھام کر اسے دوبارہ بے تکلفی سے بیٹھانے لگا تھا۔
ماہیر نے اس بار غیر محسوس طریقے سے اپنا آپ اس سے چھڑوایا تھا اور نہ چاہتے ہوئے بھی ایک بار پھر بیٹھ چکی تھی ۔
تم نے تو مجھ سے میرے بارے میں کچھ بھی نہیں پوچھا لیکن میں تمھاری باتوں سے اندازہ لگا چکا ہوں کہ تم مجھ سے کچھ کچھ مختلف ہو لیکن کوئی بات نہیں میں تمھیں شادی تک اپنے جیسا بنا لونگا وہ چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجا کر بولا تھا۔
چلو میں تمھیں اپنے بارے میں خود ہی بتا دیتا ہوں آخر کر مجھے لے کر تمھارے دل میں بھی تو سوالات ہونگے نہ کہہ کر وہ ایک انکھ وینک کرتا مسکرایا تھا ۔
جبکہ اس کی بے باکی پر ماہیر رونے کے قریب پہنچی تھی ۔
فلحال تو میری کوئی گرل فرینڈز نہیں ہے فیوچر میں تو تم ہوگی ہی لیکن پاسٹ میں میری کافی گرل فرینڈز رہ چکی ہیں لیکن میرے پاسٹ سے تمھیں کوئی پرابلم نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ میرا پاسٹ تھا رائٹ اور اگر تمھارا بھی کوئی پاسٹ بوائے فرینڈز ہے یا ابھی بھی ہے تو اس کو فارغ کروا دو تو مجھے بھی کوئی پرابلم نہیں ہوگی وہ اس کی بے باک باتوں سے کوفت میں مبتلا ہوئی تھی اس کا دل چاہا تھا کہ وہ اپنے سامنے بیٹھے لڑکے کے خوبصورت چہرے سے ہنسی نوچ کر پھینک دے جو خوش شکل تھا لیکن انتہائی درجے کا بے شرم اور اخلاق سے گرا ہوا انسان تھا۔
میں کبھی کبھی ڈرنک کر لیتا ہوں لیکن سموکنگ ڈیلی کرتا ہوں تم تھوڑا ایڈجسٹ کر لینا آئے نو کچھ گرلز کو سموکنگ سے تھورا پرابلم ہوتی ہے ابھی ناجانے اور کیا کہنے والا تھا کہ ماہیر ایک جھٹکے سے اٹھ کر اندر کی طرف بڑھی تھی ۔
عجیب لڑکی ہے وہ اس کو جاتا دیکھ کندھے آچکا کر بولا تھا پھر خود بھی اس کے پیچھے قدم بڑھا گیا تھا ۔
_____________________
مجھے معاف کر دو پلیز معاف کر دو وہ روتے ہوئے چلا رہا تھا لیکن اس کی آواز کہیں دب رہی تھی ۔وہ پوری قوت سے چلانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس کے باوجود اس کی آواز بمشکل نکل رہی تھی ۔ وہ لکڑی کی کرسی پر بیٹھا تھا اور اس کے ہاتھوں اور پیروں کو رسی کی مدد سے باندھا گیا تھا۔

اس کے سر پر اور گردن پر ایک شاپر باندھ کر جس کو برف سے بھرا گیا تھا ۔ اور اس کے بعد اس کے چہرے پر پڑنے والے بھاری ہاتھوں سے ایک کے بعد دوسرے تھپڑ اور گھونسے اسے اپنی غلطی پر پچھتانے کے لیے مجبور کر رہے تھے وہ تین دن سے بھوکا پیاسا یہی پر بندھا تھا ۔اس کے کمرے میں نہ کوئی آیا تھا اور نہ کسی نے یہاں جھانک کر دیکھا تھا ۔
آج اگر کوئی اس کے پاس آیا تھا تو اس کی اذیت مزید بڑھ گئی تھی ۔
چھوڑ دو اس کے مقابل بیٹھے شخص نے کہا تھا اور ساتھ ہاتھ کی تین انگلیوں سے ان سب کو ایک طرف ہونے کا اشارہ کیا۔ وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے یوں بیٹھا تھا جیسے کسی سلطنت کا شہزادہ ہو اس کا چہرہ ہمیشہ کی طرح آج بھی ماسک کی وجہ سے ڈھکا ہوا تھا اس کا چہرہ تو اس کے ساتھ کام کرنے والوں نے بھی کبھی نہیں دیکھا تھا ۔
مجھے تم جانتے نہیں ہو گے چلو میں اپنا تعارف کرواتا ہوں بلیک بیئر نام ہے میرا اور میرا کام تم جیسوں کی ہڈیاں توڑنا ہے۔
بتاؤ اب کبھی بھی کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کرو گے وہ ہاتھ کی مٹھی بنا کر اپنی ٹھوڑی کے نیچے ٹکاتا اطمینان سے پوچھنے لگا۔
نن۔۔۔۔نہیں۔۔۔ نہیں کبھی بھی نہیں کروں گا مجھے معاف کر دو میں تمھارے آگے ہاتھ جورتا ہوں وہ بمشکل بول رہا تھا۔
ہاتھ جوڑنے کی ضرورت تمھیں میرے سامنے نہیں بلکہ اس لڑکی کے سامنے ہے اور ہاتھ ہی کیوں تم اس کے پاؤں پکڑ کر اس سے معافی مانگو گے وہ جو اب تک سکون سے بول رہا تھا اب کی بار دھاڑا تھا۔
مجھے چھوڑ دو پلیز میں اس لڑکی تو کیا اس کے پورے خاندان کے قدموں میں بیٹھ کر معافی مانگ لوں گا وہ اب روتے ہوئے التجا کر رہا تھا ۔
ویسے تو میں پوری تسلی کر چکا ہوں کے تمھارے پاس اس لڑکی کی اب کوئی بھی ویڈیو یا تصویر موجود نہیں ہے لیکن اگر مجھے بھنک بھی پڑی کہ تم نے کہیں اور وہ ویڈیو رکھی ہے تو میں تمھارا وہ حشر کروں گا کہ تم موت مانگو گے اور تمھیں موت نہیں آئے گی وہ ایک بار پھر شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے بول رہا تھا ۔
نہیں مم۔۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے میں سچ کہہ رہا تھا وہ لڑکا اذیت سے بول رہا تھا برف پگھل کر پانی میں بدل چکی تھی اور اُس میں اس کے چہرے کا خون گھل کر اس کے ناک اور منہ میں اتر رہا تھا ۔
میں تمھیں آذاد تو کر رہا ہوں لیکن یہ مت سمجھنا کہ تم پر نظر نہیں ہے میری سمجھے تم میرے آدمی ہر وقت ہر لمحہ تم پر نظر رکھیں گے یہ بات یاد رکھنا وہ کہہ کر اٹھ چکا تھا ۔
اس لڑکے کو اس لڑکی کے پاس لے جاؤ اور اگر وہ اس کو معاف نہ کرے تو اس کو یہاں واپس لے آنا وہ اپنے آدمیوں سے کہتا مغرور چال چلتا باہر نکل گیا تھا ۔
جاری ہے
______________________

انتظار سے اظہار تکازقلم پاکیزہ معاذقسط نمبر 15یس کم ان ۔۔۔ دروازے پر ہوتی دستک سن کر عصام نے اُکتاہٹ بڑے انداز میں کہا۔ ...
25/08/2023

انتظار سے اظہار تک
ازقلم پاکیزہ معاذ
قسط نمبر 15
یس کم ان ۔۔۔ دروازے پر ہوتی دستک سن کر عصام نے اُکتاہٹ بڑے انداز میں کہا۔ ماہیر نے کمرے میں قدم رکھا تو اس کو آئینے کے سامنے کھڑے اپنی ٹائی سے الجھتے دیکھ کر ماہیر نے قہقہہ لگایا ۔ اس نے ہنستی ہوئی ماہیر کو دیکھ کر بڑی طرح سے گھورا تھا۔یہاں کوئی کامیڈی فلم چل رہی ہے جو اس طرح ہنس رہی ہو عصان نے دانت پیس کر کہا۔ ڈونٹ ٹیل می کہ تمہیں ٹائی باندھنی نہیں آتی ۔۔ ماہیر نے تعجب سے پوچھا ۔۔ کیسے آتی ہوگی اٹس مائے فرسٹ ایکسپرینس۔۔۔ عصام نے بیچارگی سے بتایا۔ ماہیر اس تک پہنچتی اس کا رخ اپنی جانب موڑ کر ٹائی کو ہاتھوں میں لیے باندھنے لگی ۔عصام اس کو مہارت سے ٹائی باندھتے دیکھ رہا تھا ۔ تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ تمہیں باندھنی آتی ہے عصام نے پوچھا اسی دن کہ لیے تو سیکھی تھی وہ روانی میں کہ کر پچھتائی۔۔۔ ریلی؟ عصام نے شرارت سے اپنا ایک آبرو اچکا کر اس کو کمر سے تھام کر اپنے قریب کرتے ہوئے پوچھا تھا وہ اسکی ٹائی باندھ چکی تو اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسکو ایک ادا سے پرے دھکیلنے لگی ۔ آج اس نے رائیل بلو شارٹ کلیوں والی فراک پہنی تھی جس پر گولڈن اور کاپر کام کیا گیا تھا۔ اور کنٹراس شرارے میں وہ ہم رنگ ڈوپٹہ دائیں شانے پر ٹکائے اس کا سکون غارت کر رہی تھی ۔اس رنگ میں اس کی سفید رنگت اور بھی زیادہ دھمک رہی تھی ۔ عصام نے بھی اسی رنگ میں تھری پیس پہنا تھا بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے ہوئے تھا ۔ اس نے ماہیر کو ایک بار پھر کمر سے تھام کر اپنے قریب کیا تھا اس سے پہلے کے وہ کوئی جسارت کرتا اور ماہیر اسے روکتی بدران کی آواز پر وہ ہوش کی دنیا میں آیا۔ جی بھائے آرہے ہیں ماہیر نے ہنستے ہوئے عصام کے تاثرات دیکھتے ہوئے اس کو ایک بار پھر پرے ہٹایا اور باہر کی طرف بھاگتے ہوئے بدران کو بھی اپنے آنے کا بتایا
مکمل قسط پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں ۔

https://youtu.be/iwfFPoPyTDc?si=DziuHJnhoxevnVQD

انتظار سے اظہار تکازقلم پاکیزہ معاذقسط نمبر 14Most romantic episode 🙈❤️مے آئی؟؟ بدران نے اس کے براؤن آنکھوں میں دیکھتے ہ...
22/08/2023

انتظار سے اظہار تک
ازقلم پاکیزہ معاذ
قسط نمبر 14
Most romantic episode 🙈❤️

مے آئی؟؟ بدران نے اس کے براؤن آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ حریم نے سر کو ہاں میں ہلا کر اجازت دے دی تھی۔ اب وہ اس کے ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کر اس کے ہاتھ پر لب رکھتا حریم کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا۔ پسند آئی ۔۔ جی بہت زیادہ آپ نے دی ہے تو میرے لیے بہت عزیز ہے ۔ بدران کے پوچھنے پر حریم نے کھلے دل سے تعریف کرتے آخر میں ہلکا سا اپنی محبت کا اظہار بھی کر دیا ۔ اس کے انداز پربدران نے بے ساختہ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر اس کی پیشانی پر نرمی سے اپنے لب رکھے تھے۔ حریم کے دل نے ایک بار پھر سے تیز دھڑکنا شروع کیا تھا۔ اب وہ اس کا ہاتھوں کو باری باری تھامے ان میں موجود چوریوں کو بہت آہستگی سے اتار رہا تھا ۔ اور اس کی جیولری اتار کر اس کا بھاری ڈوپٹہ اس کے وجود سے الگ کر چکا تھا۔حریم اس کے چہرے کے نقوش کو محبت سے دیکھ رہی تھی ۔ تم تھک گئی ہوگی چینج کر لو بدران نے حریم کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ۔ اب وہ اٹھ کر آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بال کھول رہی تھی کہ وہ اپنے کپڑے لے کر روم میں موجود اٹیچ باتھ میں چینج کرنے کی غرض سے چلا گیا تھا ۔ چند ہی منٹوں میں وہ باہر نکلا تو آئینے کے سامنے کھڑی حریم کے چہرے پر اکتاہٹ دیکھ کر اس کی طرف بڑھا جو اپنے بالوں کو کھولنے میں الجھی تھی۔ اس کے عکس کو ایک نظر آئینے میں دیکھتے وہ اس کو شانوں سے تھام کر پاس رکھی کرسی پر بیٹھا چکا تھا۔اتنی پنز کوئی لگاتا ہے کیا وہ اس کے عکس کو آئینے میں دیکھتی ہوئی کہنے لگی جو اب ہنستا ہوا اس کے بالوں کو بے شمار پنز سے آزاد کر رہا تھا۔لو ہو گیا اس کے بالوں کو آزاد کرتے ہوئے اب وہ دیوار کے قریب رکھے بیگ کی طرف بڑھا اور اس میں سے ایک سوٹ نکال کر حریم کی طرف بڑھا چکا تھا ۔ تھینکس ۔۔۔ وہ اتنا کہتی اس کے ہاتھ سے بےبی پنک کلر کا ٹراؤزر اور شارٹ شرٹ لے کر واش روم کی طرف بڑھی تھی۔

مکمل قسط پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں ۔
https://youtu.be/Og9lGBhWPZw?si=dTY13Q6PicEXEdbs

انتظار سے اظہار تکازقلم پاکیزہ معاذقسط نمبر 13وہ بستر پر لیٹے لیٹے موبائل فون یوز کرتی اُکتا چکی تھی اس وقت وہ ٹی وی لاؤ...
21/08/2023

انتظار سے اظہار تک
ازقلم پاکیزہ معاذ
قسط نمبر 13

وہ بستر پر لیٹے لیٹے موبائل فون یوز کرتی اُکتا چکی تھی اس وقت وہ ٹی وی لاؤنچ کی طرف جا رہی تھی جب ایک جھٹکے سے اس کا بازو کسی نے پکڑ کر اس کو کمرے میں کھینچتے دروازہ بند کیا تھا اس سے پہلے کہ وہ چینختی اس کے لبوں پر کسی نے اپنی ہتھیلی رکھ کر اس کی آواز کو روکا تھا۔ اس وقت اس کا دل پسلیوں سے باہر آنے کو بیتاب تھا اس کے ٹانگیں کانپ رہی تھیں اگر مقابل نے اس کو کمر سے تھاما نہ ہوتا تو وہ کب سے زمین بوس ہو چکی ہوتی۔وہ اپنی آنکھوں میں ڈھیروں حیرت لیے اپنے مقابل کھڑے شخص کو دیکھ رہی تھی ۔
منع کیوں نہیں کیا تم نے اس کو وہ چہرے پر سنجیدگی طاری کیے اس سے پوچھ رہا تھا ۔
ک۔۔کسس۔۔کسے؟
وہ اس کی بات اچھے سے سمجھ چکی تھی لیکن اس کے تاثرات اسے کچھ بھی کہنے سے روک رہے تھے۔ اس نے کبھی بھی کس بھی سیلز مین سے نہ کبھی جوتا پہنا تھا اور نہ چوریاں لیکن اُس وقت وہ اُس سیلز مین کو منع کرنے ہی والی تھی کہ وہ اس کے ہاتھ سے جوتا لے چکا تھا۔

https://youtu.be/E2q-Yb4cXMQ?si=cyOwo0FLwnc4CMWU

Full of romance episodeانتظار سے اظہار تکازقلم پاکیزہ معاذقسط نمبر 12اس وقت سب آئس کریم کھانے میں مصروف تھے لیکن بدران ن...
20/08/2023

Full of romance episode
انتظار سے اظہار تک
ازقلم پاکیزہ معاذ
قسط نمبر 12

اس وقت سب آئس کریم کھانے میں مصروف تھے لیکن بدران نے آئس کریم نہیں کھائی تھی ۔اس کو آئسکریم پسند ہی نہیں تھی۔ تب ہی حریم نے آگے جھکتے ہوئے عصام کے کان میں سرگوشی کی کے تمھارے بھائی آئسکریم کیوں نہیں کھا رہے۔ حریم کی اب عصام سے بہت اچھی دوستی ہو چکی تھی تب ہی اس نے اتنی آسانی سے اس سے اپنے دل کی بات اس سے کہہ دی تھی ۔۔۔۔۔۔ عصام نے مسکراتے ہوئے اپنی گردن موڑ کر پیچھے دیکھا ۔۔۔۔۔ احد علیمہ سے باتوں میں مشغول اس کا دھیان بٹانے کی کوشش میں تھا۔۔۔
جبکہ علیمہ اسے صرف بیزاری سے سن رہی تھی ۔ وجہ اس کی احد کے لیے بے وجہ ناپسندیدگی تھی۔
عصام کو ایک شرارت سوجھی تھی اس نے حریم کے ہاتھ سے ایک دم آئسکریم لے کر بدران کے چہرے کے سامنے کی۔۔۔۔۔ بھائی بھابھی نے دی ہے آپ کے لیے عصام نے کہا ۔۔۔۔ جب کہ حریم حیرانی سے اس کی بات اور حرکت کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی اس کی جان تو تب ہوا ہوئی جب بدران مسکرا کر عصام کے ہاتھ سے آئسکریم لیتا کر اس میں سے کھانے لگا۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے بدران کو اپنی جوٹھی آئس کریم کھاتے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔کیونکہ وہ پھوپھو کے منہ سے کئی بار سن چکی تھی کہ بدران کسی کا جھوٹا نہیں کھاتا اور وہ بچپن میں بھی تو وہ چیز نہیں کھاتا تھا جو کسی اور نے ٹیسٹ بھی کی ہو۔ آئسکریم کھانے کے بعد بدران نے گاڑی کے فرنٹ مرر کو اس طرح سے سیٹ کیا کہ اس کی نظر خود کو دیکھتی ہوئی حریم پر پڑی ۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی دونوں کی نظریں ملیں حریم نے شرما کر اپنی نظریں جھکا لیں۔۔ بدران نے مسکراتے ہوئے اپنا انگھوٹھا اپنے لبوں پر پھیرتے ہوئے گاڑی چلا دی۔
مکمل قسط پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں ۔

https://youtu.be/jaOi6DLVfIw?si=CWXMsogWeRULwusc

انتظار سے اظہار تکازقلم پاکیزہ معاذقسط نمبر 06Complete episode ناول کو کسی بھی صورت میں کاپی پیسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے ...
19/08/2023

انتظار سے اظہار تک
ازقلم پاکیزہ معاذ
قسط نمبر 06
Complete episode

ناول کو کسی بھی صورت میں کاپی پیسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے میرا اپنا یوٹیوب چینل ہے ۔

وہ حیران ہوتی ڈوپٹہ اٹھا کر ملازمہ کے پیچھے ہی باہر نکلی تھی ۔ ڈرائنگ روم میں بیٹھے نویر کو دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی اس کے ساتھ دو اور لوگ بھی بیٹھے تھے جو یقیناً نویر کے پیرنٹس تھے ۔جو روم میں بیٹھے عمران صاحب اور عمارہ بیگم سے باتوں میں مشغول تھے ۔
اسلام علیکم وہ مدھم آواز میں سلام کرتی اندر داخل ہوئی تھی وعلیکم السلام یہاں آؤ بیٹا میرے پاس بیٹھو صوفیہ بیگم نے اپنے پاس جگہ بنا کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ خاموشی سے ان کے پاس بیٹھتی آنکھوں سے نویر کو اشارہ کرنے لگی۔
جیسے پوچھنا چاہتی ہو کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔
نویر نے مسکرا کر اس کے اشارے کر اگنور کیا تھا ۔
بھائی صاحب آپکی بیٹی ہمیں بہت پسند آئی ہے اور سب سے بڑھ کر نویر حریم کو بہت پسند کرتا ہے ہم آج آپ سے حریم کا ہاتھ مانگنے آئے ہیں ۔
احمد صاحب نے کہا تو حریم کے ساتھ ساتھ عمارہ بیگم کی مسکراہٹ بھی سمٹی تھی ۔ عمران صاحب جو ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے تھے ان کی بات سن کر سیدھے ہو کر بیٹھے تھے ۔
بھائی صاحب میں آپ کے جذبے کی قدر کرتا ہوں لیکن میں آپ سے معزرت خواہ ہوں میں حریم کا نکاح اپنے بھانجے سے کر چکا ہوں اور ہم لوگ حریم کی پڑھائی کے بعد بہت جلد بچوں کی رخصتی کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں عمران صاحب نے تفصیل سے بتایا تو اب نویر کے ساتھ ساتھ احمد صاحب اور صوفیہ کا چہرہ بھی بجھ سا گیا تھا ۔
نویر کو کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا تو وہ اٹھ کر باہر کی جانب بڑھا تھا جبکہ احمد اور صوفیہ بھی عمارہ بیگم اور عمران صاحب سے ملتے باہر کی طرف بڑھے تھے ۔
___________________________________
علیمہ کے پیدا ہوتے ہوتے ہی فائزہ اس دنیا کو چھوڑ کر جاچکی تھی ۔ فائق اور فوزیہ دونوں کی لو میرج تھی فوزیہ کی ڈیتھ کے کافی سالوں تک وہ ڈیپریشن میں رہے تھے یہاں تک کہ وہ علیمہ کو بھی فراموش کر چکے تھے علیمہ صرف چند ہی گھنٹوں کی تھی جب عمارہ بیگم ماں بن کر علیمہ کو اپنی گود میں تھام چکی تھیں اس وقت گل پانچ سال اور احد تین سال کا تھا۔ اس چھوٹی سی گڑیا کو دیکھ کر گل اور احد کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا ۔ گل سارا دن علیمہ کو گود میں لیے بیٹھی رہتی جبکہ تین سالا احد ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ ٹکائے گھنٹوں پاس بیٹھہ علیمہ کو دیکھتا رہتا کبھی اس کو آنکھوں کو اپنی چھوٹی چھوٹی انگلیوں سے چھوتا تو کبھی اس کو چھوٹا سا بند ہاتھ اپنے چھوٹے ہاتھوں سے چھو کر کھولنے کی کوشش کرتا۔ عمارہ بیگم علیمہ کا خیال بالکل اپنی بیٹی کی طرح رکھتی تھیں اور شاید یہی وجہ تھی کہ فائق اپنی بیٹی کو بھلائے اپنے غم کو سینے سے لگائے بیٹھا تھا ۔ عمارہ بیگم اور عمران صاحب کی بہت کوششوں کے باوجود بھی وہ دوسری شادی کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے تھے ۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنے غم سے نکلنے لگے تھے سہی کہتے ہیں وقت ہر زخم کی دوا ہے ۔ چھوٹی سی علیمہ اب آہستہ آہستہ چلنے لگی تھی اور گھر بھر کو اپنے پیچھے بھگا تی اس کی معصوم شرارتوں سے فائق بھی اب مسکرانے لگے تھے ۔ دن بھر وہ احد کو ستاتی تھی ۔ علیمہ کو احد کچھ خاص پسند نہیں تھا کیونکہ وہ بھی عمارہ بیگم کے ساتھ ساتھ گھر بھر کا لاڈلا تھا اور اسی بات سے علیمہ چر جاتی تھی لیکن علیمہ میں احد کی جان بستی تھی وہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی اس کی پرواہ کرنا نہیں چھوڑتا تھا۔ وہ اس کے نکھرے ایسے اٹھاتا جیسے وہ بہت چھوٹی سی گڑیا ہو اور وہ اس سے بہت بڑا ۔ آج وہ دونوں سکول کے کاریڈور میں کھڑے ڈرائیور کا انتظار کر رہے تھے علیمہ نرسری جبکہ احد ون کلاس میں تھا۔ علیمہ بیگ پہنے سینے سے اپنی گڑیا لگائے کھڑی تھی جبکہ احد اس کے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے اپنے ساتھ لگائے کھڑا تھا۔ تم تھک جاؤ گی لاؤ اپنی گڑیا مجھے پکڑا لو وہ تھکی تھکی سی کھڑی تھی جب احد نے جھک کر اس کے ہاتھ سے گڑیا لیتے ہوئے کہا تھا وہ خاموشی سے اپنی گڑیا اسے تھما چکی تھی ۔وہ ایسا ہی تھا اس کی ہر چیز کا خیال رکھنے والا اپنی ہر چیز اس کے نام کر دینے والا لیکن علیمہ اس سب سے انجان تھی۔
____________________
وہ اپنے کمرے کے ٹیرس پر کھڑا سیگریٹ کے کش بھرتا اپنے ہاتھ کی لکیروں میں کہیں کھویا ہوا تھا ۔ اس وقت وہ خود کو کتنا بد نصیب سمجھ رہا تھا یہ بات کوئی نویر سے پوچھتا اپنی جان سے عزیز بچپن کی دوست اور محبت کو کھو کر وہ بامشکل ہی تو سنبھلا تھا۔
اور اس کے سنبھلنے میں زیادہ تر ہاتھ تو شاید حریم ہی کا تھا۔ اس نے اپنی کھوئی ہوئی محبت کو حریم میں تلاش کرنا کب شروع کیا کب اس کی پسند محبت میں بدلی تھی اسے تو خود بھی اس بات کا اندازہ نہیں ہوا تھا ۔
اس وقت اس کے اندر کی دنیا ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔جب حریم کر زین نے پرپوز کیا تھا اس واقعے کو سوچتی ہی اس کا دل ٹوٹ کر بکھرا تھا پھر حریم کے انکار نے اس کا دل جوڑا تھا اور اب ایک بار پھر وہ اس کا دل انجانے میں ہی سہی بڑی طرح توڑ چکی تھی ۔
اس کا دل دنیا کی ہر چیز سے اٹھ چکا تھا پچھلے تین دن سے وہ یونیورسٹی نہیں گیا تھا ۔
سحر کے بار بار کال کرنے پر وہ اس کو اپنے دل کا حال سنا چکا تھا۔ وہ کمزور سی لڑکی اس کو حوصلہ اور ہمت دینے کی ہر ممکن کوشش کر چکی تھی۔
اور سچ ہی کہتے ہیں کہ دل کی بات کسی سے کہہ دینے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔
وہ اپنا دکھ درد سحر کو سنا کر کچھ ہلکا تو ہو چکا تھا لیکن اس نازک لڑکی کے دل پر ٹنوں کے حساب سے بوجھ آن گرا تھا ۔
وہ جو پہلے دن سے ہی اس کی خاموشی طبیعت سے اٹریکٹ ہوئی تھی ۔اس کے ساتھ ہوئی ٹریجڈی کا سن کر اس سے نا جانے کب محبت کر بیٹھی تھی۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی تھی کہ وہ اس کے دل میں نہ جگہ بنا پائی تھی اور نہ اس کو اپنی محبت سے آگاہ کر پائی تھی ۔
ان تینوں میں سے کسی کو بھی اپنی محبت نہیں مل سکی تھی جو وہ اپنے دل میں ایک دوسرے کے لیے چھپاتے چلے آئے تھے اب دیکھنا یہ تھا ہی تقدیر کس کی جھولی میں کس کو ڈالتی ہے ۔
___________________________________
وہ سب ہی اپنے دکھ درد کو دل میں چھپا چکے تھے ان لوگوں کی پوری توجہ اب اپنی پڑھائی پر تھی بہت جلد آ لوگوں کے امتحانات شروع ہونے والے تھے اور اس کے بعد وہ لوگ زندگی کے امتحانات کی نظر ہونے والے تھے ۔
ایسا نہیں تھا کہ ان لوگوں کی دوستی میں کوئی فرق آیا تھا۔
وہ لوگ اب بھی ایک ساتھ گھومتے پھرتے تھے لیکن ان سب نے اپنی محبت کی لاج رکھ لی تھی۔
اپنی محبت کو دل میں چھپائے وہ لوگ اپنے محبوب کو خوش دیکھنے کا پورا پورا عزم کر چکے تھے ۔
سحر نے اپنا دکھ درد سب اپنے رب سے بیان کرنا شروع کر دیا تھا وہ آسمان کو دیکھتی گھنٹوں اپنے اللہ سے باتیں کیا کرتی تھی ۔
کبھی اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اپنی محبت کو بھی اپنے رب سے مانگ لیا کرتی تھی ۔
سب مشکل تو تھا لیکن اللہ کے لیے تو سب آسان تھا ۔اور جو دعا پہاڑوں کو ان کی جگہ سے سرکا سکتی ہے تو کیا وہ دعا پتھر دل موم نہیں کر سکتی تھی ۔
وہ لوگوں دن رات محنت کر کے پڑھ رہے تھے ۔ اور جلد ہی ان لوگوں کے ایگزیمز بھی ہو گئے تھے ۔
ان لوگوں کا رابطہ ختم نہیں ہوا تھا اور نہ کبھی ہو سکتا تھا ہاں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سب ہی اپنی زندگی میں مصروف ہو چکے تھے ۔
زین ملک سے باہر بزنس کلاسز کے لیے جا چکا تھا۔جبکہ نویر اپنے بزنس کو مکمل طور پر ہینڈل کر چکا تھا ہاں لیکن وہ اپنے دل پر اب تالے لگا چکا تھا ۔ یہ جانے بغیر کے تقدیر اس کے لیے کیا فیصلہ کر چکی ہے ۔

جاری ہے ۔

انتظار سے اظہار تکازقلم پاکیزہ معاذقسط نمبر 11Finally Hareem Or Badran ka hua Amna samna ❤️کچھ ہی دیر میں وہ پرپل اور وا...
19/08/2023

انتظار سے اظہار تک
ازقلم پاکیزہ معاذ
قسط نمبر 11

Finally Hareem Or Badran ka hua Amna samna ❤️

کچھ ہی دیر میں وہ پرپل اور وائٹ کامبینیشن کا سوٹ پہنے تیار ہو چکی تھی ۔ اور آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسل رہی تھی ۔حرا پھوپھو دس منٹ سے ڈرائینگ روم میں بیٹھی تھی ۔
چلو اٹھو وہ وقت آ گیا جس کا تم اتنے عرصے سے انتظار کر رہی تھی اور تمھارے وہ بھی آ گئے ہیں ماہیر نے حریم کے روم میں آتے ہوئے کہا تھا ۔
ماہیر مجھے تو بہت شرم آ رہی ہے میں کیسے ان کے سامنے جاؤ حریم نے کنفیوز ہوتے ہوئے کہا۔
دیکھو تمھاری ساس جو ہیں نہ وہ تم سے ملنے کی فرمائش کر رہی ہیں اور عمارہ آنٹی نے کہا ہے کہ میں تمھیں بلا کر لاؤ اب چلو اور شرمانا بند کرو ماہیر کا موڈ بھی آج کافی سے کچھ زیادہ ہی اچھا تھا اس لیے وہ شوخ انداز میں حریم سے محاطب تھی۔
ماہیر اس کے ہمراہ ڈرائنگ روم میں اینٹر ہوئی تھی اس نے نظریں جھکائے مدھم آواز میں سلام کیا تو سب نے جواب دیا تھا ۔
یہاں آؤ میرے پاس بیٹھو حرا پھوپھو اپنی پاس جگہ بناتے اس کو بٹھا چکی تھیں اور اس کو گلے لگا کر چوم بھی رہی تھیں ۔
پھوپھو حرا سے باتیں کرنے کے بعد دوبارہ باقی سب سے باتوں میں مصروف ہوگئیں تو حرا کا اٹکا سانس بحال ہوا بدران اس کے سامنے ہی چہرے پر سنجیدگی طاری کیے سنگل صوفے پر بیٹھا تھا ۔ حریم نے ایک چور نظر اُس ظالم پر ڈالی اور پھر نظر جھکا گئی تھی اس کی دھڑکنوں نے عجیب سا شور مچایا تھا ۔
عصام جو بدران کے ساتھ والے صوفے پر عمران صاحب کے ساتھ بیٹھا تھا وہ حریم کی چوری پکڑ چکا تھا ۔
بھابی کیسی ہیں آپ ؟
وہ جو کب سے خاموش بیٹھا سوچ رہا تھا کہ وہ حریم سے یوں فورا محاطب ہو یا نہ اس کی چوری پکڑ چکا تو اس سے محاطب ہوا۔

https://youtu.be/pyFgLwDsDQw

Most romantic episode jaldi sy ja k prhain or reviews dain ❤️انتظار سے اظہار تکازقلم پاکیزہ معاذقسط نمبر 10وہ سیڑھیاں چڑ...
17/08/2023

Most romantic episode jaldi sy ja k prhain or reviews dain ❤️
انتظار سے اظہار تک
ازقلم پاکیزہ معاذ
قسط نمبر 10
وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر آیا تو ملیحہ چچی اسے سامنے ہی نظر آگئی تھیں وہ ان سے حال احوال پوچھتا اب ماہیر کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔
وہ اپنے کمرے میں ابھی تک سو رہی ہے۔
میں دیکھتا ہوں اسکو وہ کہتا اس کے کمرے کی جانب گیا تھا ۔
خیال سے بیٹا چاچو گھر پر ہی ہیں تمھارے انھوں آہستہ آواز میں سرگوشی کی تو عصام نے مسکرا کر انھیں دیکھا آپ سنبھال لیں نہ چاچو کو وہ شرارت سے کہتا ماہیر کے کمرے میں گھسا تھا جبکہ اس کی شوخی پر وہ مسکرائی تھیں۔
وہ اندر آیا تو وہ مزے سے بیڈ پر لیٹی خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی ۔ وہ دروازہ اختیاط سے لاک کرتا بیڈ کی طرف آیا تھا ۔بیڈ پر بیٹھتا وہ اس کے دائیں بائیں اپنے دونوں ہاتھ بیڈ پر ٹکاتا جھک کر اس کا چہرہ دیکھنے لگا تھا وہ اس قدر گہری نیند میں تھی کہ عصام کو اپنے اتنے قریب محسوس کر کے بھی وہ نیند میں ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی ۔
عصام نے جھک کر اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے تھے اس کی حرکت اسے نیند میں پسند نہ آئی تو اپنے چہرے کے عجیب و غریب زاویے بنانے لگی۔ اس کے ایکپریشنز دیکھ کر عصام کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تو وہ اس کے چہرے پر جھکتا شدت سے اس کی گال پر اپنے لب رکھ چکا تھا ۔ جبکہ اپنے گردن اور چہرے پر اسکی بیئرڈ کی چبھن محسوس کر کے ماہیر نے پٹ سے آنکھیں کھولی تھیں ۔
آپ یہاں وہ جلدی سے نیند میں جھومتی آٹھ کر اس سے پوچھنے لگی تھی ۔ہاں تمھیں دیکھنے کا دل چاہ رہا تھا تو چلا آیا تمھیں دیکھنے اور بھول گئیں آپ میڈم آپ نے رات کو کیا آرڈر دیا تھا وہ شوخی سے بولا تو ماہیر نے اس کے دل کے مقام پر اپنے نازک سے ہاتھ کا مکا بنا کر مارا تھا ۔
مکمل قسط کے لیے لنک کو اوپن کریں۔❤️🙈🙈

https://youtu.be/E2qJjg5ULb8

انتظار سے اظہار تکازقلم پاکیزہ معاذقسط نمبر 05ناول کو کسی بھی صورت میں کاپی پیسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے میرا اپنا یوٹیوب ...
16/08/2023

انتظار سے اظہار تک
ازقلم پاکیزہ معاذ
قسط نمبر 05

ناول کو کسی بھی صورت میں کاپی پیسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے میرا اپنا یوٹیوب چینل ہے ۔

Barka naveer special
Past of naveer

وہ کافی دیر سے کسی خالی گراؤنڈ میں ڈرائیونگ کر رہی تھی ایسا نہیں تھا کہ برکہ کر ڈرائیونگ آتی نہیں تھی وہ بس جزبات میں آ کر بہت تیز ڈرائیو کیا کرتی تھی یہی وجہ تھی کہ گھر میں کسی بھی گاڑی کا ہاتھ لگانا اسے ممنوع تھا ۔
اور وہ گاڑی چلانے کی شوقین لڑکی ہمیشہ سے ہی اپنا شوق نویر کے ذریعے سے پورا کیا کرتی تھی ۔
گراؤنڈ میں گاڑی چلانے کے بعد وہ ایک بڑی کشادہ سڑک پر آ چکے تھے جہاں ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی وہ ایک کچی سڑک تھی وہاں کہیں کہیں دکانیں تھیں ۔ سڑک کے ایک طرف ایک بڑا سٹور تھا جہان کھانے پینے کی ہر چیز ہی موجود تھی۔
نویر مجھے بھوک لگی ہے کچھ لا دیں نہ اس سٹور سے وہ جو کافی دیر سے ڈرائیونگ کر رہی تھی اب اس کو بھوک کا بھی احساس ہو رہا تھا جو کہ ایک ناممکن سی بات تھی۔
اچھا تم گاڑی میں ہی بیٹھوں میں لے کر آتا ہوں وہ کہتا آرام سے سڑک کراس کرتا سامنے سٹور میں گیا تھا۔
مجھے گاڑی سٹور کے سامنے پارک کرنی چاہیے تھی۔ چلو وہیں چلتے ہیں وہ خود کلامی کر رہی تھی آج اس کا موڈ معمول سے زیادہ خوش تھا۔
وہ گاڑی سٹارٹ کرتی خالی سڑک کو کراس کرنے ہی والی تھی کہ سامنے سے تیزی سے آنے والے بڑے ٹرک سے اس کی گاڑی کی ٹکر ہوئی تھی ۔
وہ جو گاڑی پارک کرنے سے پہلے سیٹ بیلٹ کھول چکی تھی اس کو دوبارہ لگانا بھول چکی تھی۔اور اسی طرح روڈ کراس کر رہی تھی ۔
گاڑی اور ٹرک کے زور دار تصادم سے فضا میں ایک شور ابھرا تھا ٹرک بڑا ہونے کی وجہ سے اس کا ڈرائیور اس حادثے سے سنبھلتا آگے بڑھ چکا تھا لیکن برکہ کا سر جھٹکے سے سٹیرنگ پر لگا اور ٹکر کے باعث کئی کانچ ٹوٹ کو اس کے بازوں میں پیوست ہو چکے تھے۔ برکہ کے سر اور بازوؤں سے بھل بھل خون بہہ رہا تھا ۔
شور کی آواز پر کئی دکانوں والے باہر نکل آئے تھے اور عین اسی وقت نویر بھی ہاتھ میں سینڈوچ اور دوسری چیزوں کے شاپر پکڑے باہر نکلا تھا ۔
گاڑی کو سڑک کے بیچ و بیچ کھڑا دیکھ کر اور اس کے گرد جمع ہوتے لوگوں کو دیکھ کرنویر کے ہاتھ میں موجود سارے شاپر زمین بوس ہوئے تھے ۔
وہ بھاگتا ہوا گاڑی تک آیا تھا برکہ کو اس حالت میں دیکھ کر اس کا سانس تھم سا گیا تھا ۔
اور اچھی خاصی جسامت والا مرد اس وقت سناٹوں کی زد میں کھڑا تھا اس کے ہاتھ پیر مکمل طور پر پھول چکے تھے اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے ۔
کوئی ایمبولینس کو کال کرو اس کو اپنی کال گہری کھائی میں سے آتی سنائی دی تھی پھر وہ کار کا فرنٹ ڈور کھولتا برکہ کو ہلانے لگا تھا ۔
برکہ اٹھو آنکھیں کھولو برکہ وہ کہتا اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے موبائل اپنی جیب سے بامشکل نکال چکا تھا ۔
اس کے ہاتھ موبائل سکرین پر چل نہیں رہے تھے وہ بامشکل ایمبولینس کو کال کرنے کی کوشش کر رہا تھا جب اسے ایمبولینس کے سائرن کی آواز آئی تھی ۔
وہ برکہ کو اپنی بازوؤں میں اٹھائے بغیر کسی چیز کا انتظار کیے ایمبولینس کی طرف بڑھا تھا ۔
___________________________________
وہ پچھلے ایک گھنٹے سے آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑا تھا اس کے حواس مکمل طور پر اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے اس نے ہاسپیٹل میں اپنے اور برکہ کے گھر کا نمبر دیا تھا اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کسی سے بات کر پاتا اور نہ اس کے پاس وہ الفاظ تھے کہ وہ ان کو کچھ کہہ پاتا۔
صدف اور صوفیہ بھی پہنچ چکی تھیں جبکہ برکہ کی دونوں بہنیں بریرہ اور بسمہ بھی آچکی تھیں ۔
ان سب کے لبوں پر اس وقت دعائیں اور آنکھوں میں آنسو تھے۔
صدف بیگم تو کسی طرح سنبھل ہی نہیں رہی تھیں۔ جبکہ وہ ان سب سے بے نیاز ایک جانب کھڑا تھا۔
اس کی آنکھیں ضبط کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھی ۔
جو کچھ بھی ہوا تھا وہ اس سب کے لیے کہیں نہ کہیں خود کو بھی قصور وار سمجھ رہا تھا ۔
ڈاکٹر صاحب کیسی ہے میری بھانجی صوفیہ نے تھیٹر سے نکلتے ڈاکٹر سے پوچھا تھا ۔
دیکھیں ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا کانچ کی کئی ساری چھوٹی چھوٹی کرچیاں ان کے دماغ میں پیوست ہو چکی ہیں اگر وہ ٹھیک ہو بھی جاتی ہیں تو ہو سکتا ہے وہ کوما میں چلی جائیں
اس سارے وقت میں نویر نے پہلی بار نظریں اُٹھا کر ڈاکٹر کر قرب اور اذیت سے دیکھا تھا ۔
آپ لوگ ان کے لیے دعا کریں ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں کہتا جا چکا تھا ۔
کیسی بے بچی اب سامنے سے آتے ہوئے احمد صاحب نے صوفیا سے پوچھا تھا اور پھر کونے میں کھڑی اپنے نوجوان بیٹے کو یوں کندھے جھکائے کھڑا دیکھا تھا ۔
ڈاکٹرز ابھی کچھ بھی نہیں کہہ سکتے بس دعا کا کہا ہے صوفیا نے دکھ سے بتایا تھا آپ لوگ پریشان نہیں ہوں بچی بالکل ٹھیک ہو جائے گی وہ کہتے ایک سائیڈ پر بیٹھی خاموش آنسو بہاتی بریرہ اور بسمہ کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے نویر کی طرف بڑھے تھے۔
انھوں نے نویر کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ جو اتنے وقت سے اپنے اوپر ضبط کے پہرے بٹھائے اپنے آنسوؤں پر بند باندھنے کھڑا تھا اپنے کندھے پر ایک محبت اور شفقت بھری تھپکی محسوس کر کے اپنے باپ کے سینے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا اپنے خوبرو نوجوان بیٹے کو یوں ٹوٹتے بکھرتے دیکھ کر احمد صاحب کی آنکھ سے بھی ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا ۔
نہیں میرا بیٹا ایسے نہیں روتے دعا کرو وہ بالکل ٹھیک ہو جائے گی تم تو میرے بہادر بیٹے ہو نہ چلو آؤ یہاں بیٹھو وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے بینچ کی جانب لے جانے لگے تو اس نے تڑپ کر بند دروازے کو دیکھا تھا ۔
نہیں ڈیڈ میں یہی ٹھیک ہو وہ ان سے ہاتھ چھڑوا کر دوبارہ دروازے کے پاس جا رکا تھا جیسے اس کے وہاں سے ہلنے پر وہ کہیں چلی جائے گی ۔
یا وہاں کھڑا رہ کر وہ اسے کہیں بھی جانے سے روک لے گا اور اس کو کھڑا دیکھ وہ بالکل ٹھیک بھی ہو جائے گی۔
اپنے بیٹے کو یوں اذیت میں دیکھ کر احمد صاحب نے لب بھینچے تھے۔
وہ لوگ پچھلے کئی گھنٹوں سے دعائیں مانگ رہے تھے اور ڈاکٹر کئی گھنٹوں سے دروازہ بند کیے سر جوڑے اپنی پوری کوشش کر رہے تھے ۔
اب جب ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر نکلا تو وہ اکیلا نہیں تھا بلکہ ان کے پیچھے دو تین دوسرے ڈاکٹر اور نرسیں بھی باہر آئی تھی ۔
احمد صاحب صوفیا اور صدف وہ سب ہی ڈاکٹر کی طرف بڑھے تھے اور بریرہ بسمہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں ۔
ڈاکٹر صاحب کیسی ہے اب بچی کی حالت احمد صاحب نے پوچھا تو وہاں کھڑے ہر شخص کا پورا وجود سماعت بنا ہوا تھا ۔
سوری ہم ان کو اپنی پوری کوشش کے باوجود نہیں بچا سکے ڈاکٹر کہہ کر احمد صاحب کا کندھا تھپتھپا کر جا چکے تھے جب کہ وہاں کھڑے کسی ایک بھی شخص کو اپنی سماعت پر یقین نہیں آیا تھا۔
وہ سب ہی لوگ ڈاکٹر کی بات سن کر الگ دنیا میں جا چکے تھے وہ سب ہوش میں تب آئے جب ان کو کسی بھاری چیز کے زمین بوس ہونے کی آواز آئی تھی احمد صاحب نے دیکھا تو نویر وہیں زمین پر ڈھے سا گیا تھا جبکہ صوفیا خود ٹوٹ کر بکھر جانے کے باوجود صدف کو خود سے لگائے سمیٹ رہی تھیں۔ بسمہ نے بھی روتے ہوئے بریرہ کو گلے لگایا تھا ۔
کچھ کہانیاں ادھوری ہی رہ جاتی ہیں۔ وہ اپنے انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہیں کیونکہ جب کوئی کہانی ختم ہوتی ہے تو وہیں سے ایک نئی کہانی کا آغاز ہوتا ہے اور ایسا ہی کچھ ہوا تھا برکہ اور نویر کی کہانی میں کیا نویر سنبھل جائے گا اس صدمے سے یا اس صدمے کے بعد ایک اور صدمہ اس کا منتظر تھا۔ یہ بات تو وقت ہی بتانے والا تھا کہ کیا لکھا تھا تقدیر کے پنوں پر اس کے لیے ۔
___________________________________
وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزر ہی جاتا ہے اچھا ہو یا چاہے برا آج برکہ کو گزرے پندرہ دن گزر چکے تھے ۔
زندگی وہ بھی گزار رہے تھے جو مر جانا چاہتے تھے لیکن مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا ۔ سورج روز نکلتا تھا اور روز ڈھل جاتا تھا۔
آج بھی سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔لیکن ایک کمرہ اندھیرے میں یوں ڈوبا تھا جیسے اس نے کبھی روشنی دیکھی ہی نہ ہو۔
وہ بیڈ کے ساتھ زمین پر کارپٹ پر بیٹھا تھا ۔ پورے کمرے میں ہر سو اندھیرا تھا۔ باہر سے آنے والے کو اندر داخل ہو کر کچھ بھی نظر نہ آتا تھا لیکن اس کمرے میں رہنے والا تو جیسے اندھیرے کا دوست اور بہترین ساتھی تھا۔ اسے باہر کی دنیا سے کوئی مطلب نہیں تھا ۔
وہ زمین پر بیٹھا نا جانے کتنے سیگریٹ پھونک چکا تھا ۔رو رو کر اس کے آنسو بھی سوکھ چکے تھے اب تو اس کی آنکھوں میں سرخی یوں گھل چکی تھی جیسے وہ ہمیشہ سے ہی سرخ ہوں ۔اس کی آنکھیں سوجھ جس چھوٹی ہو چکی تھی جن میں سے اب اگر گرم سیال بہتا تو وہ اس کی آنکھوں کو جلانے کے لیے کافی تھا۔
اس کا کثرتی جسم کمزور ہو چکا تھا اور اس کی سفید رنگت زردی مائل ہو چکی تھی ۔
دروازے پر ہونے والی مسلسل دستک کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا تو صوفیا ڈوبلیکیٹ کی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تھی ۔
اندر داخل ہوتے ہی سیگریٹ کے دھوئیں کی بو ان کے نتھوں سے ٹکرائی تھی ان کو اندھیرے میں اس بات کا تعین کرنے میں وقت لگا تھا کہ نویر کہاں بیٹھا ہے۔
وہ احتیاط سے بکھری چیزوں کے درمیان چلتی ہوئی کھڑکی تک آئی تھیں جس پر موٹے پردے گرائے گئے تھے انھوں نے کھڑکی سے پردے سائیڈ پر کیے تو سارا کمرہ روشنیوں سے نہا گیا تھا ۔
ماما پلیز کرٹن آگے کر دیں وہ اپنی آنکھوں کے سامنے ہاتھ رکھ کر بولا تو اپنی اولاد کو اس حالت میں دیکھ کر صوفیا کا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔
میرے شہزادے ایسا کب تک چلے گا کیوں اذیت در رہے ہو خود کو اور اپنے ماں باپ کو وہ اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتی بول رہی تھی ۔
جو چلی گئی ہے وہ تو کبھی بھی واپس نہیں آئے گی تم اس کے کیے دعا کرو نہ تم تو میرے بہادر بیٹے ہو وہ کہتی اس کا ماتھا چوم رہی تھیں۔
جب وہ مضبوط مرد اپنی ماں کے کندھے پر ڈھے سا گیا تھا ماما کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا وہ کیوں چھوڑ گئی مجھے اتنی جلدی بلک بلک کے روتا کوئی بچہ ہی لگ رہا تھا جو اپنا من پسند کھلونا ٹوٹ جانے پر روتا ہے ۔
وہ اللہ سے اتنی ہی زندگی لکھوا کر لائی تھی اگر ہم میں سے کسی کے بھی اختیار میں ہوتا تو ہم اس کو کیا کبھی بھی جانے دیتے یہ تو اللہ کی مرضی ہے ہم اللہ سے شکوہ کرنے والے کون ہوتے ہیں یہ جان اس کی امانت ہے وہ جب چاہے لے لے وہ اس کو سمجھاتے ہوئی مسلسل اس کے چہرے اور بالوں پر ہاتھ پھیر رہی تھیں۔
اتنے دنوں بعد ماں کے کندھے پر اپنا بوجھ ہلکا کرتے اس کو کچھ سکون سا ہوا تھا ۔
اٹھو یہاں سے صوفیا اس کو اٹھا کر بیڈ پر لائی تھی اور اس کا سر اپنی گود میں رکھتی آیات پڑھ کر پھونکنے لگی تھی ۔
وہ جو گئی راتوں کا جاگا تھا ماں گود میں سکون محسوس کرتا نیند کی وادیوں میں اتر گیا تھا ۔
___________________________________
وقت کے ساتھ ساتھ وہ سنبھل چکا تھا لیکن اس کے چہرے کی کی سرخی کہیں کھو سی گئی تھی وقت کے ساتھ وہ سموکنگ کا بھی عادی ہو چکا تھا اور ہر چھوٹی بات پر غصہ کرنے والے کو اب بڑی بڑی بات بھی غصہ نہیں دلاتی تھی۔
وہ آج تقریباً تین ماہ بعد یونی جا رہا تھا۔ اس وقت وہ ناشتے کی میز پر بیٹھا تھا ملازمہ نے اس کے آگے ناشتہ رکھا تو وہ خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا۔
چھوٹے صاحب جی چائے لیں گے یا کافی ملازمہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا اس کا کیا بھروسہ تھا کہ کب کس بات پر بھرک جائے۔
جو مرضی دے دیں وہ ناشتے میں مصروف سا بولا تو ساجدہ کو اپنی سماعت پر یقین نہ آیا تھا ۔
جج ۔۔۔جی اس نے گویا تصدیق کرنا چاہی تھی ۔
ہممم۔۔۔۔۔ وہ بریڈ کا پیس منہ میں ڈالتا بولا ۔
پھر اس نے چائے کا گھونٹ بھرا تھا جو ابھی ساجدہ نے رکھا تھا ۔
چائے قدرے ٹھنڈی ہو چکی تھی اور میٹھا بھی کافی تیز تھا اس نے ایک گھونٹ بھرا اور کپ ٹیبل پر رکھتا بیگ اٹھا کر باہر نکلا تھا ۔
ملازمہ کی نگاہوں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا جو اپنے ساتھ ہوئے حادثے کے بعد اس قدر بدل چکا تھا کہ اس کو اب کوئی بھی چیز خوشی نہیں دیتی تھی اور نہ ہی وہ ہر بات پر غصہ کرتا تھا۔
اب تو گھر میں ایک سناٹا سا ہو گیا تھا جہاں ہر وقت اس شیر کے چنگارنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں ۔
ٹھیک کہتے ہیں وقت اور حالات انسان کو بدلنے کا فن جانتے ہیں ۔

جاری ہے ۔

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakiza's Novels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category