26/07/2025
سلسلہ وحی کا اختتام اور سلسلہ الہام و کشف کا تسلسل
ختم نبوت ﷺ کے ساتھ ہی سلسلہ وحی مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ مگر
اس کے ساتھ روحانی فیوضات کے حصول اور تجلیات الہیہ کے انوار کے نزول کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔
سلسلہ نبوت ختم ہو گیا اس کا مطلب وحی کا آنا اب مکمل طور پر بند ہو گیا۔ اب کوئی نئی شریعت یا شریعت میں ردو بدل یا کمی بیشی نہیں ہوگی۔
وحی نبوت سے شریعت بنتی ہے ، اس وحی کو ماننا ہر شخص پر لازمی ہے اگر نہیں مانتا تو وہ کافر ہو جائے گا۔ اور اس پر عمل کرنا بھیی لازم اور فرض ہے۔
کسی بھی شخص پر روحانی کمالات کے باعث انوار و تجلیات یا روحانی فیوضات کا ظہور بطریق الہام یا بطریق کشف یہ کسی شخص کے لئے رہنمائی کا باعث ہو سکتا ہے، مگر
اس کا شرعی احکامات سے کوئی لینا دینا نہیں۔ نہ ہی اس سے شرعی حکم میں اضافہ ہوتا ہے نہ کمی واقع ہوتی ہے۔ نہ ہی کسی کو ایسا کرنے کی اجازت ہے، جو بھی ایسا کرنے کی جسارت کرتا ہے وہ مردود لعین ہے۔
کسی بھی شے کو ختم یا منسوخ و متروک کرنا کسی پندرہویں صدے کے جاہل چھوکرے کا کام نہیں۔ بلکہ
یہ خود صاحب شریعت کا اختیار ہے جو ذات باری تعالی ہے اور اس کے بعد یہ حیثیت ختم الرسل ﷺ کو حاصل ہے۔
اس کے بعد کوئی بھی ایسی شڑل چھوڑے تو وہ فسادی ہی ہو سکتا ہے۔
علم مکاشفات تین طرح کے بیان کئے گئے
کشف قبور
کشف صدور
کشف قلوب
کشف صدور اور کشف قلوب ممکنہ طور پر ایک ہی علم کے 2 نام ہو سکتے ہیں۔
یہ بنیادی اصول ہے کہ آپ جس شے کو نہیں جانتے اس کی تعلیم حاصل کریں ورنہ اس پر بحچ ہی نہ کریں۔
ایک غیر متعلقہ علم پر اپنی رائے کا اظہار کرنا جہاں ایک طرف جہالت ہے وہیں یہ دین میں فساد کا بہت بڑا سبب ہے۔