Yousuf Brothers

Yousuf Brothers Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Yousuf Brothers, Shopping & retail, اردو بازار لاہور, Lahore.

عمران سیریز اور سنسنی خیز اردو ادب کے معروف و یادگار ناولوں کا معتبر مرکز۔
کئی دہائیوں سے مظہر کلیم ایم اے کے نایاب، مقبول اور دوبارہ شائع شدہ ناول قارئین تک پہنچانے کی روایت جاری ہے۔

عمران سیریز کی دنیا ایک ہی طرح کے مشن اور ایک ہی نوع کے خطرے میں سمٹ نہیں جاتی۔ اس وسیع دنیا میں سسپنس کی صورتیں بدلتی ر...
24/08/2026

عمران سیریز کی دنیا ایک ہی طرح کے مشن اور ایک ہی نوع کے خطرے میں سمٹ نہیں جاتی۔ اس وسیع دنیا میں سسپنس کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں، خطرے کے دائرے پھیلتے رہتے ہیں اور ہر نئی مہم قاری کے سامنے ایک نئی صورتِ حال رکھ دیتی ہے۔

شاید یہی وسعت مختلف ذوق رکھنے والے قارئین کو اس سلسلے کی طرف بار بار کھینچتی ہے۔

❖ پرل پائریٹ

پرل پائریٹ کی دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران دشمن کے خلاف صرف ایک تدبیر پر انحصار نہیں کرتا؛ وہ ٹائیگر اور روزی راسکل کے درمیان موجود کشمکش کو بھی اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

پوشیدہ جزیروں کی فضا، موتیوں کی دنیا اور ٹائیگر و روزی راسکل کی بے باک نوک جھونک اس ناول کی اپنی ایک الگ شناخت بناتی ہے۔ ناول میں کئی مقامات ایسے آتے ہیں جہاں قاری کی دلچسپی اس بات میں رہتی ہے کہ عمران حالات کو کس رخ پر لے جاتا یے۔

اگر عمران کی ذہانت، غیر متوقع فیصلے اور کرداروں کے درمیان بدلتے ہوئے تعلقات آپ کی پسند ہیں، تو پرل پائریٹ آپ کے اگلے مطالعے میں شامل ہو سکتا ہے۔

❖ ریڈ رنگ

کینسر کی ایک ریسرچ سے تیار ہونے والی مہلک ریڈ پلز، اور ان کے پیچھے کام کرنے والی ایک طاقتور تنظیم—ریڈ رنگ کا خطرہ صرف ایک سائنسی راز تک محدود نہیں رہتا۔

عمران کی براہِ راست قیادت کے بغیر میدان میں اترنے والی ٹیم کی قیادت جولیا کے سپرد ہوتی ہے؛ تنویر کا زخمی ہو کر موت کے سائے میں پہنچنا اور صدیقی کا موت کے "مشینی چیمبر" کا سامنا کرنا اس معرکے کی شدت کو ایک نئی سطح تک لے جاتا ہے۔

اگر آپ کو ایسے سسپنس میں دلچسپی ہے جہاں سائنسی خطرہ، خفیہ کارروائی اور کرداروں کی آزمائش ایک ساتھ آگے بڑھتی ہو، تو ریڈ رنگ آپ کی توجہ روک سکتا ہے۔

❖ سپیشل سپلائی

سپیشل سپلائی کی اصل کشش اس تفتیش میں ہے جو ابتدا میں ایک محدود قتل کے مقدمے سے شروع ہوتی ہے، مگر آہستہ آہستہ اس کے پیچھے چھپی ایک بہت بڑی حقیقت سامنے آنے لگتی ہے۔

ایک جھوٹا الزام، ایک مشکوک گواہی اور پھر وہ کڑیاں جو تفتیش کو قانون اور بیوروکریسی کے بند دروازوں تک لے جاتی ہیں۔ ہر نئی پیش رفت کے ساتھ معاملے کا دائرہ وسیع ہوتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ ابتدائی سوال اپنی اپنی حدود سے کہیں آگے نکل جاتا ہے۔

ایک ایسے مطالعے کے لیے جہاں ابتدا میں اٹھنے والا سوال آگے چل کر کہیں بڑے سوال سے جا ملے، سپیشل سپلائی کو نظرانداز کرنا آسان نہیں۔

یوسف برادرز — عمران سیریز کے مطالعے اور اس کے ادبی ورثے کے ساتھ ایک مسلسل رفاقت۔

✦ یادِ رفتہ ✦❖ عمران سیریز — سپیشل سپلائی ❖◈ رانا ہاؤس کا بلیک روم اور اعصاب شکن تفتیش ◈سپیشل سپلائی کے ان مناظر میں ران...
21/08/2026

✦ یادِ رفتہ ✦

❖ عمران سیریز — سپیشل سپلائی ❖

◈ رانا ہاؤس کا بلیک روم اور اعصاب شکن تفتیش ◈

سپیشل سپلائی کے ان مناظر میں رانا ہاؤس کا بلیک روم بھی شامل ہے جہاں عبدالرزاق جراح کرسی سے جکڑا علی عمران کے سامنے بیٹھا ہے۔ عمران اسے آخری بار سچ بولنے کا موقع دیتا ہے:

’’اگر تم نے سچ سچ بتا دیا تو ایک انگلی بھی ٹیڑھی نہ ہوگی۔ ورنہ دوسری صورت میں تمہاری ایک ایک ہڈی توڑی جا سکتی ہے۔‘‘ عمران کا لہجہ پہلے کی طرح سرد تھا۔

’’کک۔ کک۔ کیا بتائوں۔ کیا۔‘‘ عبدالرزاق جراح نے کانپتے ہوئے لہجے میں کہا۔

’’تھانہ احمد آباد کے علاقے میں رہنے والے ایک طالب علم رفیق کا قتل ہوا اور پولیس نے اس کے قتل کے الزام میں اس کے ایک دوست طالب علم رشید کو گرفتار کر لیا۔ تم اس مقدمے میں عینی گواہ ہو لیکن ہمیں معلوم ہے کہ رشید نے یہ قتل نہیں کیا۔ اس لئے تم تفصیل سے بتا دو کہ تم کس کے کہنے پر عینی گواہ بنے ہو۔ صرف پولیس کے کہنے پر یا اس کے پیچھے کوئی اور پارٹی ہے۔ تو ہم تمہیں زندہ چھوڑ دیں گے۔ ورنہ۔‘‘

’’مم۔ مم۔ میں نے اسے قتل ہوتے دیکھا تھا۔ مم۔ مم۔ میں سچا گواہ ہوں۔‘‘

’’جوانا!۔‘‘

عمران نے جوانا کی طرف مڑتے ہوئے کہا اور دوسرے لمحے شڑاک کی تیز اور دہشت ناک آواز کے ساتھ ہی عبدالرزاق جراح کے حلق سے انتہائی خوفناک چیخ نکلی اور وہ سر مارتا ہوا چند لمحوں میں ہی بے ہوش ہو گیا۔ اس کے بازو پر کوڑا پڑا ہوا تھا اور بازو سے نہ صرف قمیض پھٹ گئی تھی بلکہ گوشت بھی ادھڑ گیا تھا۔

مظہر کلیم ایم اے کے ناولوں میں ایسے مناظر کی کمی نہیں جہاں سسپنس محض کہانی کو آگے نہیں بڑھاتا بلکہ قاری کو چند لمحوں کے لیے اسی منظر کے اندر کھینچ لیتا ہے۔

✦ نَواۓ قاری — سپیشل سپلائی ✦عمران سیریز سے وابستہ بعض یادیں کسی ایک زمانے میں ٹھہر کر نہیں رہتیں؛ وہ قاری کے ساتھ ساتھ ...
17/08/2026

✦ نَواۓ قاری — سپیشل سپلائی ✦
عمران سیریز سے وابستہ بعض یادیں کسی ایک زمانے میں ٹھہر کر نہیں رہتیں؛ وہ قاری کے ساتھ ساتھ سفر کرتی ہیں۔ عمر بدلتی ہے، زمانے بدلتے ہیں، مطالعے کے زاویے بدلتے ہیں، مگر بعض ناول اپنی کشش میں وہی تازگی برقرار رکھتے ہیں جو پہلی بار پڑھتے ہوئے محسوس ہوئی تھی۔

کسی ناول کی دیرپا قدر کا ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ برسوں بعد اس کی طرف دوبارہ رجوع کیا جائے تو صفحات شناسا ہونے کے باوجود تجربہ اجنبی محسوس نہ ہو—بلکہ وہی مانوس تحریر کسی نئے احساس اور نئے زاویۂ نگاہ کے ساتھ سامنے آئے۔

سپیشل سپلائی کے حوالے سے ہمارے ایک قاری کی یہ تحریر اسی دیرپا وابستگی کی نہایت دل نشیں مثال ہے۔ بیس برس کی عمر سے شروع ہونے والا یہ مطالعہ ساٹھ برس کی عمر تک پہنچ کر بھی اپنی کشش نہیں کھو سکا۔

شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ایک مطبوعہ ناول محض ایک مطالعہ نہیں رہتا—وہ قاری کی زندگی کے مختلف ادوار کا خاموش رفیق بن جاتا ہے۔

— یوسف برادرز

✦ رازِ نہاں ✦❖ اسپیشل سپلائی ❖◈ جب گزرے ہوئے مناظر، آگے چل کر اپنی نئی معنویت آشکار کریں ◈مظہر کلیم ایم اے کے اسلوب کا ا...
13/08/2026

✦ رازِ نہاں ✦

❖ اسپیشل سپلائی ❖

◈ جب گزرے ہوئے مناظر، آگے چل کر اپنی نئی معنویت آشکار کریں ◈

مظہر کلیم ایم اے کے اسلوب کا ایک پختہ پہلو یہ ہے کہ وہ بیانیے کی ابتدا نہایت خاموشی سے ایک محدود دائرے میں کرتے ہیں۔ پروفیسر احسن رضوی کی انفرادی تشویش سے قاری جس کہانی میں داخل ہوتا ہے، وہاں بیانیے کا پھیلاؤ بظاہر ایک خاندان کی دہلیز تک محدود نظر آتا ہے۔ اس مرحلے پر معلومات کی ترتیب ایسی ہے کہ ہر واقعہ محض ایک نجی اور انسانی سطح پر محسوس ہوتا ہے، جہاں خطرہ بظاہر ایک انفرادی مسئلہ دکھائی دیتا ہے۔

پھر آگے بڑھتے ہوئے وہی بعض تفصیلات، جو ابتدا میں محض ایک واقعے کا حصہ محسوس ہوتی ہیں، آہستہ آہستہ اپنی دوسری جہت ظاہر کرنے لگتی ہیں۔ مصنف کا فن کمال اسی بات میں ہے کہ وہ قاری کو ہر بات اس کے پورے وزن کے ساتھ بیک وقت ظاہر نہیں کرتا۔ جہاں ایک واقعہ اپنی جگہ مکمل محسوس ہوتا دکھائی دیتا ہے، وہی بعد میں آنے والی کوئی تفصیل اسے ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

یہی پہلو اس ناول کو آج کے قاری کے لیے بھی قابلِ توجہ بناتا ہے۔ ہمارے گرد رونما ہونے والے بعض بڑے واقعات بھی ہمیشہ اپنی اصل اہمیت کے ساتھ سامنے نہیں آتے؛ ان کی معنویت وقت کے ساتھ کھلتی ہے۔ سپیشل سپلائی میں اس کیفیت کو محض موضوع کے طور پر نہیں، بلکہ خود بیانیے کی تعمیر کا حصہ بنایا گیا ہے۔

عمران سیریز‘ کے اس باب کو دوبارہ پڑھتے ہوئے جب واقعات کے تعاقب سے ذرا ہٹ کر ان کی ترتیب پر نظر کی جائے تو ایک دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے: قاری کی تفہیم اس وقت ایک نیا رخ اختیار کرتی ہے جب اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ جو مناظر وہ پہلے دیکھ چکا تھا، ان کی اصل جہت کچھ اور ہی تھی۔ یہی غیر محسوس تبدیلی ایک بار پڑھے ہوئے ناول کو دوبارہ پڑھنے کا جواز دیتی ہے—کیونکہ بعض تفصیلات پہلی بار صرف پڑھی جاتی ہیں، دوسری بار سمجھی جاتی ہیں۔

21/07/2026

گوشۂ مطالعہ

یوسف برادرز کے ادارتی مطالعے کے دوران بعض مقامات ایسے سامنے آتے ہیں جہاں محسوس ہوتا ہے کہ قاری کو چند لمحوں کے لیے کتاب کے انہی صفحات پر ٹھہر جانا چاہیے۔
آج کا انتخاب بھی انہی لمحوں میں سے ایک ہے۔

برگزیدہ اقتباس از ناول "سپیشل سپلائی"
مصنف: مظہر کلیم ایم اے

❖ ❖ ❖

"یہ کیسی رپورٹ ہے ٹائیگر؟"

"رپورٹ مکمل ہے باس۔ ہر ثبوت ایک ہی طرف اشارہ کرتا ہے۔ عینی گواہ موجود ہیں، خنجر پر انگلیوں کے نشانات ہیں، خون آلود لباس برآمد ہو چکا ہے، اور مجسٹریٹ کے سامنے اقرارِ جرم بھی ہو چکا ہے۔"

عمران کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا:

"اس کا مطلب ہے کہ رشید واقعی قاتل ہے... چاہے یہ قتل فوری اشتعال میں ہوا ہو یا اپنی جان بچانے کے لیے... لیکن بہرحال قتل ہوا ہے۔"

"جی ہاں باس۔ یہی بات ہے۔"

عمران نے رسیور رکھ دیا۔ مگر اس کے چہرے پر ایک انجانا سا کھچاؤ موجود تھا۔
ویسے یہ تمام رپورٹ اس کی توقع کے خلاف نہ تھی... لیکن دل کے کسی گوشے میں ایک ہلکی سی خلش پھر بھی باقی تھی۔
کچھ دیر خاموش بیٹھنے کے بعد اس نے اچانک دوبارہ رسیور اٹھایا...
اور پولیس سنٹرل آفس کا نمبر ملانا شروع کر دیا۔"

❖ ❖ ❖

بعض اوقات ناول کی سب سے مؤثر سطریں وہ ہوتی ہیں...

جنہیں پڑھ کر قاری کتاب بند نہیں کرتا...
بلکہ چند لمحوں کے لیے ٹھہر جاتا ہے۔

یوسف برادرز
اردو ادب کے یادگار ناولوں سے برگزیدہ اقتباسات

زندگی کے سب سے بڑے حادثے ہمیشہ غیر معمولی انداز میں شروع نہیں ہوتے... بعض اوقات وہ معمول کی طرح دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔بعض...
15/07/2026

زندگی کے سب سے بڑے حادثے ہمیشہ غیر معمولی انداز میں شروع نہیں ہوتے... بعض اوقات وہ معمول کی طرح دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔

بعض لمحے خاموشی سے گزر جاتے ہیں... یہاں تک کہ وقت خود پلٹ کر بتاتا ہے کہ اصل آغاز وہیں تھا، جہاں کبھی نگاہ ٹھہری ہی نہ تھی۔

⚡ ایک سرکاری قافلہ...
⚡ روزمرّہ معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن۔
⚡ ہر نگاہ اسے معمول کا منظر سمجھ کر آگے بڑھ جاتی ہے۔

مگر کہیں اسی خاموش منظر کے پس منظر میں ایک نام گردش کر رہا ہوتا ہے...
"سپیشل سپلائی"

اور پھر ...
منظر وہی رہتا ہے ،سرکاری قافلہ بھی اپنی رفتار سے آگے بڑھتا رہتا ہے مگر وہ منظر اب محض ایک منظر نہیں رہتا۔

یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں بعض ناول اپنے اسرار آشکار نہیں کرتے ...
وہ صرف قاری کی نگاہ کو ایک نئی سمت عطا کر دیتے ہیں۔

عمران اور اس کے رفقائے کار کی دنیا بھی وہیں سے اپنا سفر شروع کرتی ہے، جہاں دوسروں کے لیے ایک منظر ختم ہو جاتا ہے، مگر ان کے لیے سوالوں کا ایک نیا سلسلہ جنم لیتا ہے۔

وہ جانتے ہیں کہ بعض اوقات حقیقت اپنا پہلا اشارہ شور میں نہیں... خاموشی میں چھوڑتی ہے۔

مظہر کلیم ایم اے کی تخلیقی دنیا کی یہی وسعت ہے کہ وہ غیر معمولی واقعات کا آغاز بھی ان مقامات سے کرتے ہیں، جہاں زندگی بظاہر اپنی معمول کی رفتار سے رواں دکھائی دیتی ہے، مگر وہیں سے ایک بالکل نئی دنیا آہستہ آہستہ قاری کے سامنے وا ہونے لگتی ہے۔

"سپیشل سپلائی" اسی ادبی جہاں کی ایک ایسی جھلک ہے، جہاں سنسنی سے پہلے مشاہدہ، اور انکشاف سے پہلے بصیرت قاری کا ساتھ دیتی ہے۔

اس کے بعد...
یہ سفر قاری ان صفحات کے ساتھ خود طے کرتا ہے۔

یوسف برادرز
**اردو ادب کی ان تخلیقات کے ساتھ... جن کی بازگشت نسلوں تک سنائی دیتی ہے۔**










✦ نوائے قاری ✦عمران سیریز صرف ناولوں کا ایک سلسلہ نہیں، بلکہ کئی نسلوں کی یادوں، جذبات اور تجربات کا مشترکہ سفر بھی ہے۔و...
18/06/2026

✦ نوائے قاری ✦

عمران سیریز صرف ناولوں کا ایک سلسلہ نہیں، بلکہ کئی نسلوں کی یادوں، جذبات اور تجربات کا مشترکہ سفر بھی ہے۔

وقتاً فوقتاً ہم اپنے قارئین کے ایسے تاثرات اور یادیں پیش کریں گے جو اس سفر کی اصل روح کو زندہ رکھتے ہیں۔

آج کی نوائے قاری جناب حفیظ اللہ ظفر کی یادوں سے ماخوذ ہے، جن کا تعلق عمران سیریز سے کئی دہائیوں پر محیط رہا۔

آپ کی عمران سیریز سے وابستہ سب سے پہلی یا سب سے عزیز یاد کون سی ہے؟

❖ یوسف برادرز ❖
اردو بازار لاہور
یادوں کے اس سفر کے امین۔

✦ رازِ نہاں ✦❖ ریڈ رنگ ❖◈ جب ایک امید مختلف قوتوں کی کشمکش بن جائے ◈بعض تحریریں اپنے مطالعے کے دوران متاثر کرتی ہیں...او...
13/06/2026

✦ رازِ نہاں ✦

❖ ریڈ رنگ ❖

◈ جب ایک امید مختلف قوتوں کی کشمکش بن جائے ◈

بعض تحریریں اپنے مطالعے کے دوران متاثر کرتی ہیں...

اور بعض کا اصل مفہوم وقت گزرنے کے ساتھ منکشف ہوتا ہے۔

ریڈ رنگ بھی ان معدودے چند ناولوں میں شامل ہے جن کا اصل مفہوم شاید آخری صفحہ پلٹنے کے بعد زیادہ واضح ہوتا ہے۔

بظاہر یہ ایک غیر معمولی سائنسی پیش رفت کے گرد جنم لینے والی کشمکش ہے...

مگر اس کے پس پردہ انسانی ترجیحات، مفادات اور رویّوں کی ایک پیچیدہ دنیا بھی موجود ہے۔

عمران سیریز کے بیشتر ناولوں میں خطرہ کسی خفیہ منصوبے، پراسرار تنظیم یا مہلک ہتھیار کی صورت سامنے آتا ہے۔

مگر ریڈ رنگ میں مظہر کلیم ایم اے نے کشمکش کا مرکز ایک امید کو بنایا۔

ایک ایسی امید...

جو اگر حقیقت کا روپ دھار لیتی تو شاید لاکھوں زندگیاں بدل سکتی تھی۔

یہی وہ پہلو ہے جو اس ناول کو محض ایک سنسنی خیز مہم سے ممتاز کرتا ہے۔

کیونکہ یہاں توجہ صرف اس پیش رفت پر نہیں رہتی...

بلکہ ان قوتوں پر بھی مرکوز ہو جاتی ہے جو ہر غیر معمولی کامیابی کے گرد جمع ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عظیم انسانی کامیابیاں اکثر اپنی اصل حدود سے آگے نکل جاتی ہیں۔

وہ صرف علم، تحقیق یا سائنس کا معاملہ نہیں رہتیں...

بلکہ اختیار، رسائی اور مفادات کی نئی بحثوں کو جنم دیتی ہیں۔

شاید مظہر کلیم ایم اے نے اسی حقیقت کی طرف ایک نہایت دلچسپ پیرائے میں اشارہ کیا تھا۔

کہ بعض اوقات کسی کامیابی کی اصل قدر اس کے فوائد سے نہیں...

بلکہ اس اہمیت سے ظاہر ہوتی ہے جو مختلف حلقے اس کے لیے محسوس کرنے لگتے ہیں۔

اور شاید یہی وہ زاویۂ نظر ہے جو ریڈ رنگ کو آج بھی محض ایک پرانا ناول نہیں رہنے دیتا۔

بلکہ اسے ایک ایسی فکری جہت عطا کرتا ہے جس پر برسوں بعد بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

آخرکار...

بعض تحریریں ہمیں یہ نہیں بتاتیں کہ دنیا کیسی ہے...

بلکہ یہ بے نقاب کرتی ہیں کہ جب ایک عظیم امید جنم لیتی ہے تو اس کے گرد کتنی مختلف خواہشات بیدار ہو جاتی ہیں۔

09/06/2026

پروفیسر ہربرٹ کے الفاظ تھے:
"میں نے کینسر کا علاج دریافت کر لیا ہے۔"

ایک ایسا دعویٰ...
جو لاکھوں انسانوں کے لیے امید کا دروازہ کھول سکتا تھا۔
مگر بعض دریافتیں اپنی افادیت سے زیادہ ان خواہشات کو بے نقاب کرتی ہیں جو ان کے گرد جمع ہونے لگتی ہیں۔
کیونکہ
جہاں امید جنم لیتی ہے... وہیں اقتدار کی بھوک بھی سر اٹھانے لگتی ہے۔

""کچھ لوگ انسانیت کی خدمت نہیں کرنا چاہتے...
وہ انسانیت پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ ""

شاید اسی لیے بعض راز اپنی نوعیت سے نہیں...
بلکہ ان عزائم سے خطرناک بن جاتے ہیں جو ان سے وابستہ ہو جائیں۔

اگر واقعی کوئی ایسی دریافت وجود میں آ جائے جو لاکھوں زندگیاں بدل سکتی ہو...
تو کیا اسے پوری دنیا کے سامنے آ جانا چاہیے؟

یا بعض اوقات ایک عظیم راز کا محفوظ رہنا ہی انسانیت کے لیے زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے؟

شاید یہی سوال "ریڈ رنگ" کو محض ایک سنسنی خیز مہم نہیں...
بلکہ طاقت، علم اور انسانی خواہشات کے بارے میں ایک گہری سوچ میں بدل دیتا ہے۔

چالیس برس...چالیس برس کسی خواب کی تعبیر کے لیے صرف کر دینا معمولی بات نہیں تھی۔پروفیسر ہربرٹ نے اپنی زندگی کے بہترین سال...
05/06/2026

چالیس برس...

چالیس برس کسی خواب کی تعبیر کے لیے صرف کر دینا معمولی بات نہیں تھی۔

پروفیسر ہربرٹ نے اپنی زندگی کے بہترین سال کینسر جیسی موذی بیماری کے خلاف جدوجہد میں گزار دیے تھے۔

آخرکار اسے یقین ہو گیا تھا کہ اس کی تحقیق لاکھوں انسانوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔

مگر...

بعض خواب اپنی تکمیل کے قریب پہنچ کر سب سے زیادہ غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔

آخر ایسا کیا تھا جس نے چالیس برس کی محنت کو خطرے میں ڈال دیا؟

آخر وہ کون لوگ تھے جو انسانیت کے لیے امید بننے والی ایک تحقیق پر قبضہ کرنا چاہتے تھے؟

جلد ہی پروفیسر ہربرٹ پر ایک خوفناک حقیقت آشکار ہونے لگی۔ وہ تحقیق جسے اس نے انسانیت کو بچانے کے لیے تخلیق کیا تھا...

اب انسانیت کے خلاف استعمال ہونے والی تھی۔

"بعض خواب انسانیت کو بچانے کے لیے دیکھے جاتے ہیں...

اور بعض لوگ انہیں انسانیت کو تباہ کرنے کے لیے چرا لیتے ہیں۔"

یہ صرف ایک سائنسی راز کا معاملہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے کھیل کی ابتدا تھی جہاں لالچ، طاقت اور خفیہ عزائم انسانی جانوں سے کہیں زیادہ بڑی قیمت وصول کرنے والے تھے۔

اور پھر ایک دن... پروفیسر ہربرٹ قتل کر دیا گیا۔

شاید قاتلوں کو یقین تھا کہ ایک بوڑھے سائنسدان کی موت کے ساتھ چالیس برس کی جدوجہد بھی ختم ہو جائے گی۔

اور وہ راز بھی دفن ہو جائے گا جس کے لیے اس نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی۔

مگر قاتل شاید یہ نہیں جانتے تھے کہ پروفیسر ہربرٹ خطرے کی اطلاع ان حلقوں تک پہنچا چکا تھا جہاں ایک معمولی سراغ بھی بین الاقوامی سازشوں کا دروازہ کھول سکتا تھا۔

بلخصوص جب ان کی بازگشت ایسے لوگوں تک پہنچ جائے جن کے نام سن کر خطرناک ترین مجرم بھی محتاط ہو جاتے ہیں۔

"ریڈ رنگ" کا شمار ان ناولوں میں ہوتا ہے جہاں مظہر کلیم ایم اے صرف ایک سنسنی خیز معمہ نہیں بُنتے...

وہ اس حقیقت سے بھی روشناس کراتے ہے کہ جب علم، طاقت اور لالچ ایک ہی جگہ جمع ہو جائیں تو انسانیت کی تقدیر کس قدر خطرناک موڑ لے سکتی ہے۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ عمران سیریز کے بعض ناول صرف پڑھے نہیں جاتے...

برسوں تک یاد بھی رکھے جاتے ہیں۔

اگر آپ بھی ان قارئین میں شامل ہیں جنہیں ایسے ناولوں کی تلاش رہتی ہے جو آخری صفحے کے بعد بھی ذہن میں زندہ رہیں...

تو یوسف برادرز کے ساتھ جڑے رہیے۔ کیونکہ بعض راز ابھی باقی ہیں۔












Address

اردو بازار لاہور
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 11:00 - 19:00
Tuesday 11:00 - 20:00
Wednesday 11:00 - 20:00

Telephone

+923009401919

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yousuf Brothers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Yousuf Brothers:

Shortcuts

Share