Maktaba Quddusia

Maktaba Quddusia Maktaba Quddusia is a famous and a well-reputed bookstore which deals in religious books

📚 𝐓𝐚𝐟𝐬𝐢𝐫 𝐀𝐡𝐬𝐚𝐧 𝐚𝐥 𝐇𝐚𝐰𝐚𝐬𝐡𝐢 | 𝐔𝐫𝐝𝐮 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 𝐍𝐨𝐭𝐞𝐬 | 𝐇𝐚𝐟𝐢𝐳 𝐒𝐚𝐥𝐚𝐡𝐮𝐝𝐝𝐢𝐧 𝐘𝐮𝐬𝐮𝐟Tafsir Ahsan al Hawashi by Hafiz Salahuddin Yusuf i...
22/06/2026

📚 𝐓𝐚𝐟𝐬𝐢𝐫 𝐀𝐡𝐬𝐚𝐧 𝐚𝐥 𝐇𝐚𝐰𝐚𝐬𝐡𝐢 | 𝐔𝐫𝐝𝐮 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 𝐍𝐨𝐭𝐞𝐬 | 𝐇𝐚𝐟𝐢𝐳 𝐒𝐚𝐥𝐚𝐡𝐮𝐝𝐝𝐢𝐧 𝐘𝐮𝐬𝐮𝐟
Tafsir Ahsan al Hawashi by Hafiz Salahuddin Yusuf is a Quran edition designed for readers who want translation and concise tafsir support while staying close to the Quranic text. Its footnote-style format makes it convenient for daily study, teaching, and reference without needing to open a separate tafsir volume for every question.
This edition is especially useful for Urdu-speaking readers who want brief explanation alongside recitation. It supports understanding of Quranic meanings, key terms, and practical lessons in a compact format suitable for homes, students, teachers, and mosque libraries.
🛒 𝐎𝐫𝐝𝐞𝐫 𝐍𝐨𝐰:
https://maktabaquddusia.com/products/tafsir-ahsan-al-hawashi-hafiz-salahuddin-yusuf?_pos=3&_psq=hawa&_ss=e&_v=1.0
📲 𝐖𝐡𝐚𝐭𝐬𝐀𝐩𝐩 𝐎𝐫𝐝𝐞𝐫:
0325-5447755
🚛 𝐃𝐞𝐥𝐢𝐯𝐞𝐫𝐲 all over Pakistan
📦 Delivery within 4-6 days, 𝐈𝐧𝐬𝐡𝐀𝐥𝐥𝐚𝐡
𝐌𝐚𝐤𝐭𝐚𝐛𝐚 𝐐𝐮𝐝𝐝𝐮𝐬𝐢𝐚⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣
https://maktabaquddusia.com/⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣
Ghazni Street, Urdu Bazar, Lahore⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣
+92 325 5447755

یہ تھے ہمارے عمر (قسط 2)ابوبکر قدوسیبات اعزہ و اقارب کی چل نکلی تو پھر سیدنا عبداللہ بن عمر کا یہ قصہ کیونکر ذکر نہ ہو ۔...
19/06/2026

یہ تھے ہمارے عمر (قسط 2)

ابوبکر قدوسی

بات اعزہ و اقارب کی چل نکلی تو پھر سیدنا عبداللہ بن عمر کا یہ قصہ کیونکر ذکر نہ ہو ۔ اچھا پہلے عبداللہ بن عمر کو جان تو لیجیے کہ کیا نابغہ روزگار تھے ۔
عبداللہ کہ محض سیدنا عمر فاروق کے بیٹے ہی نہ تھے ، خود بھی عظیم الشان صحابی رسول ، اپنے وقت کے بڑے عالم تھے ، گویا باپ امیر المؤمنین تھا تو بیٹا امیر المؤمنین فی العلم تھا ۔ سیدنا عمر فاروق کہا کرتے تھے کہ میری ساری اولاد ، میرا مال ، میرا اسباب اور میرے عیال سب میری زندگی میں رخصت ہو جائیں تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لوں گا لیکن میری خواہش ہے کہ عبداللہ میرے بعد بھی دیر تک جیئے کہ :
جگ تے تو جیویں
تے تیری آس تے میں جیواں
لائق فرزند باپ کا فخر ہوتا ہے ، باپ کی طاقت ہوتی ہے اور باپ کا بازو ہوتا ہے ، اور عبداللہ محض عالم نہ تھے معاملہ فہمی میں بھی کمال کو پہنچے ہوئے تھے سو یہی سبب تھا کہ جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ زخمی ہو جاتے ہیں تو بعض اصحابِ رسول آپ کو یہ رائے بھی دیتے ہیں کہ :
" عبداللہ کو خلیفہ نامزد کر دیجئے کہ ہماری نظر میں وہ اس کے اہل بھی ہیں اور ہم ان پر اعتماد بھی کرتے ہیں " ۔
ان کی یہ بات سیدنا عمر کے مزاج کے بھی خلاف تھی لیکن پھر بھی سیدنا عمر فاروق نے یہ کہا تھا کہ :
" مجھ پر خلافت کا بوجھ پڑ گیا یہی کیا کم ہے کہ آل عمر کی گردنوں پر بھی دوسروں کا بوجھ دیا جائے ۔ ۔
یہاں تھوڑی دیر کے لیے رک جائیے ، عبداللہ بن عمر کا قصہ پھر بیان کرتے ہیں ، سوچیے ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے ؟
مذہبی سیاست ہو یا دنیاوی سیاست سب وراثت کا بٹوارا ہوئی پڑی ہیں ۔ یہ آپ کی قومی اسمبلی کے ممبران اور وزیر ، مشیر ، ان کے اکثر دادا ، پردادا بھی اسی اسمبلی کا حصہ تھے ۔
لیکن عبداللہ بن عمر کے لیے تجویز بھی پیش ہوتی ہے تو سیدنا عمر اس کو رد کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ امارت اور خلافت اعزاز نہیں ہے بلکہ جواب دہی ہے کہ روز قیامت ایک ایک فرد کا حساب دینا ہو گا کہ کسی سے زیادتی و ظلم تو نہیں ہو گیا ۔۔
ہاں تو اس روز قصہ یوں ہوا کہ عبداللہ دل خراب کر بیٹھے ،
کہ بھلے جو بھی تھا عبداللہ اس خلیفہ کے بیٹے تھے کہ جن کی سلطنت آج کے سعودی عرب ، یمن ، کویت ، قطر ، متحدہ عرب امارات ، سلطنت عمان ، عراق ، شام، لبنان ،فلسطین،اردن ، مصر ، ایران اور اس کے علاوہ کئی ریاستوں پر پھیلی ہوئی تھی ۔۔ گویا دسیوں بادشاہتوں کے بادشاہ ۔ ایک روز مال غنیمت آیا تو تمام اہل مدینہ کو وظائف دیے گئے ۔ عبداللہ بن عمر کو کچھ کم ملا تو دل خراب کر بیٹھے ، پاس سے یاروں نے بھی کہا ۔۔
" ہاں نا یار ، یہ بھلا کیا بات ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
سو دکھی دل سے ابا کے پاس آئے ۔۔ شکوہ کیا کہ :
" مجھے تو آپ نے اسامہ بن زید سے بھی نیچے رکھ چھوڑا ، ان کو بھی دو ہزار دینار بھیجے اور مُجھے صرف ڈیڑھ ہزار "
سیدنا عمر نے گویا محبت پاش نگاہوں سے محبوب بیٹے کو دیکھا:
" جان پدر ! میں نے اپنی محبت کو پیچھے رکھ چھوڑا اور رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو ترجیح دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ اسامہ بن زید کو تم سے زیادہ پیار کرتے تھے ، سو لازم تھا کہ محبت رسول سے عمر کی محبت سے بڑھ کر پیار کیا جائے اور ترجیح دی جائے " ۔
عمر کہ عمر بھر رسول کی محبتوں کی بنیاد پر فیصلے کرتے رہے ، آپ کے غلام اسلم بیان کرتے ہیں کہ :
" جب جب کوئی عمدہ پھل آتے اور امیر المومنین کا جی چاہتا کہ کھایا جائے تو سب سے پہلے امہات المؤمنین ، ازواجِ مطہرات کے حصے کے برتن بناتے اور پھر باری باری ان کے گھر بھجواتے لیکن ۔۔۔۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ کا حصہ روکے رکھتے ، اور جب سب کا حصہ ان کو بھیج دیتے تو پھر آخر میں ان سیدہ کو بھیجتے " ۔
جانتے ہیں وہ کون تھیں اور کیوں ان کی باری اخر میں آتی ؟؟ ۔
حالانکہ وہ بھی تو ام المؤمنین تھیں ، مومنوں کی ماں تھیں لیکن وہ خود سیدنا عمر کی بیٹی بھی تھیں ، یہ سیدہ حفصہ تھی ، جن کو سب سے آخر میں حصہ دیا کرتے ۔۔ اسلم کہتے ہیں کہ اس عمل سے سیدنا عمر فاروق کا مقصود یہ ہوتا کہ اگر کچھ نقصان ہوتا ہے اور کم رہ جاتا ہے تو وہ اپنی بیٹی کے حصے میں آئے دوسری امہات کو ایک ذرہ بھی کم نہ جائے ۔۔
کوئی ایک بات ہو تو بیان کیجیے ، کوئی ایک قصہ ہو تو کہیے ۔۔
ایک روز فیصلہ کیا کہ جو اول اول مہاجرین تھے یقیناً وہ معزز و مکرم بھی بڑھ کے تھے سو ان سب کا وظیفہ مقرر کر دیا جائے ۔ ہر ایک کے حصے میں چار ہزار درہم آئے اور عبداللہ بن عمر کی باری آئی تو ان کو ساڑھے تین ہزار دیے ۔
کسی نے سوال کیا کہ حضرت سب کو چار ہزار اور عبداللہ کو ساڑھے تین ہزار ، یہ بھی تو اولین مہاجروں میں سے تھے ان کو پانچ سو کم کیوں دیے ۔ تو سلطنتوں کے بادشاہ نے کہا تھا کہ :
" عبداللہ نے تو اپنے ماں باپ کے ساتھ ہجرت کی تھی"
یعنی احتیاط اور دیانت کا یہ عالم ہے کہ اپنے بیٹے کی ہجرت کو اپنی ہجرت کے تحت شمار کیا اور ان کا حصہ کم کر دیا۔۔۔

پھر یہی عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں ۔کہ وہ جلولاء کی جنگ میں شریک ہوئے کہ جو 16 ہجری کو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کی امارت میں لڑی گئی اور ایرانیوں کو شکست دی گئی۔ اس تاریخی جنگ سے مجاہدین واپس لوٹے تو بے بہا مال غنیمت ساتھ تھا ۔
اسی مال غنیمت میں بہت سی بکریاں بھی تھیں جو چالیس ہزار درہم میں عبداللہ بن عمر نے خرید لیں ، اب یہ کیسے ہو کہ اتنا اسباب امیر المومنین کے بیٹے کے گھر میں آئے اور امیر المومنین چپکے پڑے رہیں ؟ ۔۔
مال و اسباب سے بے نیاز عمر کہاں برداشت کرتے ، سو عبداللہ بن عمر کے پاس جا پہنچے ۔
محبت سے پاس بلایا اور کہا :
" عبداللہ ! اگر مجھے آگ میں ڈال دیا جائے اور تم سے پوچھا جائے کہ :
ہاں بھئی عبداللہ ! اپنے باپ عمر کو فدیہ دے کر چھڑوا لے جاؤ ، تو کیا تم مجھے اس آگ سے آزاد نہ کرواؤ گے ؟
عبداللہ کی جانے بلا کہ کاہے کی تمہید باندھی جا رہی ہے ۔ اور عبداللہ کہ صاحبِ علم ہی نہ تھے صاحبِ تقوی بھی تھے ، اپنے وقت کے امام ، بے ساختہ کہا :
" اللہ کی قسم ! میں تو آپ کو ہر ہر اذیت دینے والی چیز سے چھڑانے کے لیے اپنے مال اور اپنی جان کا صدقہ بھی دے دوں "
سیدنا عمر کا چہرہ گویا دمک اٹھا ایسے ہی تو نہیں کہا تھا عبداللہ بارے کہ " عبداللہ جیتا رہے ، میری عمر جیتا رہے " ۔ عبداللہ کا جواب سنا تو امیر المومنین نے بیٹے کو کہا کہ :
" عبداللہ ! وہ جو بکریاں تم جلولاء سے خرید کے لے آئے ہو میں نہیں سمجھتا کہ تم کو ان کی درست قیمت ادا کرنی پڑی ہے ، لوگوں نے تمہیں اس لیے رعایت کی کہ رسول اللہ کے قریبی صحابی کے بیٹے بھی ہو ، امیر المومنین کے فرزند بھی سو انہوں نے تم کو بہت سستا مال دیا ہے ۔ میں مسلمانوں کا امیر ہوں اور میری ذمہ داری ہے اس لیے میں تمہاری ان بکریوں کو ازسر نو بازار میں نیلام کے لیے رکھوں گا اور تم کو اتنا ہی نفع دوں گا جتنا مدینے کے دوسرے تاجروں کو حاصل ہوا ہے ۔
پھر سیدنا عبداللہ بن عمر کی تمام بکریاں بازار میں پیش کی گئی اور فروخت کے بعد ان کا اصل زر ان کو واپس کر دیا گیا اور دوسرے تاجروں سے پوچھا گیا کہ ان کو کتنے فیصد نفع حاصل ہوا ہے سو اسی شرح سے نفع عبداللہ کو دیا گیا ۔ اب جو رقم بچ رہی وہ تمام مجاہدین میں برابر تقسیم کر دی گئی ۔۔۔۔۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

Assalamualaikum,Maktaba Quddusia kay customers ke liye hum ne ek exclusive WhatsApp Group: Maktaba Quddusia VIP Club sta...
19/06/2026

Assalamualaikum,

Maktaba Quddusia kay customers ke liye hum ne ek exclusive WhatsApp Group: Maktaba Quddusia VIP Club start kiya hai.

Group ka maqsad:
- Flash Sales - Wholesale se bhi kam prices ⚡️
- New book alerts & introductory prices 📚
- Group kay through order karnay par surprise gifts 🎁
- Guaranteed lowest price in universe 🌎

Hum bohat arsay se apni 25,000+ Online Family kay liye kuch munfarid karna chah rahay thay, aur is group kay through hum apkay liye aisi offers le kar ayen g*y jo shayad kisi ney na kabhi suni, na dekhi - InshAllah!

Note: Group main Whatsapp Policy kay mutabiq limited slots hain, isi liye pehlay ayen, pehlay payen!

JazakAllah khair,
Maktaba Quddusia, Est. 1962
Ghazni Street, Urdu Bazar, Lahore

JOIN HERE
https://chat.whatsapp.com/LItlYQv3tZR960X2lFwg2K?s=cl&p=i&ilr=4&amv=1

یہ تھے ہمارے عمر – قسط ١ ابوبکر قدوسیزخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں لیے کمرے س...
18/06/2026

یہ تھے ہمارے عمر – قسط ١

ابوبکر قدوسی

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں لیے کمرے سے باہر نکل آئے ، وصیتیں سن کر کہہ رہے تھے کہ عمر نے آپنے بعد آنے والوں کو مشکل میں ڈال دیا ۔۔۔ سیدنا علی کی مراد تھی کہ حکمرانی کا جو یہ معیار قائم کر گئے اب بھلا اسے برقرار رکھنا کوئی آسان ہے ۔
اب یہی دیکھئیے نا کہ خلیفہ بنے تو امانت و دیانت کا یہ عالم رہا کہ ریاست کی ملکیت ایک کھجور بھی خود پر حرام رکھی ۔

ایک صاحب کہ سرکاری ڈیوٹی پر ہوتے تھے ، ایک روز دور دراز سے سفر کر کے اپنی کارگزاری کی بپتا سنانے خلیفہ کے پاس آتے ہیں ۔ خلیفۃ المسلمین کے پاس بیٹھے ہیں ، گفتگو کر رہے ہیں تو ان کی مہمان نوازی کو سیدنا عمر نے بیت المال سے کچھ کھجوریں پیش فرمائیں ۔ وہ صاحب کھا رہے ہیں اور کھاتے کھاتے سیدنا عمر کو کہتے ہیں کہ :
" امیر المومنین ! آپ بھی تو کھائیے نا "
سیدنا عمر نے دھیرے سے انکار کر دیا تو اس پر وہ صاحب بولے :
" ہم تو بیت المال کے جانوروں کا دودھ بھی پیتے ہیں ، ان کی سواری بھی کرتے ہیں ، گوشت بھی کھا لیتے ہیں "
تو آپ نے فرمایا کہ :
" میرا اور تمہارا معاملہ الگ ہے تم لوگ بیت المال کے لیے محنت کرتے ہو ، صدقات کی وصولی کے لیے قریہ قریہ پھرتے ہو ، دھوپ اور موسم کی سختی برداشت کرتے ہو ، تم گویا ان جانوروں کی دم کے ساتھ لگے رہتے ہو ، تم اگر ان کے دودھ اور سواری سے فائدہ اٹھاؤ تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ لیکن میں یہاں مدینے میں بیٹھے بیٹھے یوں بیت المال کا مال کھانے کا کیا حق رکھتا ہوں".
اب خود ہی دیکھیے کہ لاکھوں مربع میل کا ایک حاکم خود پر بیت المال کی کھجور کا استحقاق نہیں سمجھتا تو کیا یہ حکمرانی کا مشکل ترین معیار نہیں؟ ۔

عالم یہ تھا کہ اک بار بیمار ہو گئے اور بیماری میں طبیب نے آ کر دیکھا تو عرض کیا کہ :
" حضور تھوڑا سا شہد کھائیے کہ آپ کے درد کا درماں اس میں رکھا ہے ۔۔"
اب امیر المومنین اور خلیفۃ المسلمین کے گھر میں نہ تو شہد تھا اور نہ اتنی رقم کہ شہد خرید پاتے ۔ دوسری طرف بیت المال میں شہد کا ایک بڑا برتن بھرا پڑا تھا ، مگر عمر اس سے بلا اجازت استعمال کرتے تو کیسے کرتے کہ ان کی لغت میں یہ ناممکنات سے تھا۔ مسجد نبوی میں چلے آئے اور منبر پر بیٹھے ۔ لوگوں کو طلب کیا ۔ ممکن ہے لوگ اس گمان میں چلے آئے ہوں کہ امیر المومنین نے بلایا ہے کوئی معرکہ درپیش ہوگا کہ مشاورت چاہیے یا ریاست کا کوئی بڑا کام ہوگا ، سو مشورہ کرنا چاہتے ہیں ۔
اور یہاں امیر المومنین کہہ رہے ہیں کہ :
" لوگو ! معاملہ یہ پیش آیا کہ طبیب نے کہا ہے شہد استعمال کر لو اور شہد بیت المال میں ہے میرے پاس موجود نہیں ۔ اگر آپ سب مجھے اجازت دیں تو میں استعمال کر لوں کیونکہ یہ تم لوگوں کا مال ہے یہ رعایا کا مال ہے آپ لوگوں کی اجازت کے بغیر میں کیسے استعمال کر سکتا ہوں ۔۔"

سیدنا عمر فاروق کی ریاست کے مال ، اور بیت المال کے اسباب کے لیے دیانت داری کے واقعات انسان کو حیران کر دیتے ہیں ۔ اب یہی دیکھئیے کہ ایک بار 10 ہزار درہم کی ضرورت آن پڑی تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف کو کہلا بھیجا ، انہوں نے معذرت کر لی اور ساتھ پیغام بھیجا کہ بیت المال سے لے لیجئے ۔ سیدنا عمر کو یہ بات اچھی نہ لگی لیکن بیت المال سے بھی رقم نہ لی ، جیسے تیسے اپنی ضرورت پوری کر لی یا صبر کر لیا ۔
ایک روز راہ چلتے ان سے ملاقات ہو گئی شکوہ کیا اور کہا کہ :
" عبدالرحمن ! آپ سے تو اس لیے مانگ لیے تھے کہ زندگی کی اس ڈور کا کیا پتہ کب کٹ جائے ، سو اپ میرے ورثاء سے یہ رقم مطالبہ کر کے حاصل کر سکتے ہیں اور اگر میں نے بیت المال سے لی اور اس بیچ میری موت آگئی تو مسلمانوں نے میرے ورثا سے [ میرے لحاظ میں ] کبھی مطالبہ نہیں کرنا ۔

اور وہ دن تو بہت عجیب تھا مدینے میں سخت گرمی پڑ رہی تھی ، چلچلاتی دھوپ تھی اور لوگ اپنے گھروں میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ سیدنا عثمان غنی کا گھر تھوڑا فاصلے پر کھلی اور اونچی جگہ تھا ۔ بالا خانے پر بیٹھے دیکھا کہ ایک شخص تیز تیز یوں چلتا آ رہا ہے کہ گویا دوڑ رہا ہو ۔ خود کلامی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ " بھلا یہ شخص گھر میں آرام کرتا اس گرمی میں اچانک کیا ضرورت اس کو باہر نکال لائی " ۔
چلچلاتی دھوپ میں بھاگنے والا مسافر قریب چلا آ رہا تھا ، اب سیدنا عثمان کی آنکھوں نے جب شناخت پائی تو سیدنا عثمان حیرت سے اٹھے ، باہر بھاگے اور کہا :
" امیر المومنین ! کیا ہوا کہ آپ اس گرمی میں یوں تپتی ریتوں پر پھر رہے ہیں "
فرمایا:
" بیت المال سے دو اونٹ نکل گئے ہیں ان کو ڈھونڈ رہا ہوں کہ ایسا نہ ہو کہ گم ہو جائیں اور روز قیامت عمر کا مقدر گم ہو جائے میں بھلا کیا جواب دے پاؤں گا ۔۔ "
سیدنا عثمان حیران و پریشان کہنے لگے کہ :
" حضرت ! آپ آئیے ، تھوڑی دیر سائے میں بیٹھیے ، ٹھنڈا پانی پئیں ، میرے غلام تلاش کر دیتے ہیں "
وہاں بھی عمر تھے وہ بھلا کہاں یہ بات مانتے ، رساں لہجے میں کہنے لگے کہ :
" عثمان آپ کو اپنا یہ سایہ مبارک ہو ، بیت المال کے مال کی نگرانی میری ذمہ داری ہے ، سو یہ کام مجھے ہی کرنا ہے"
سیدنا عثمان بے اختیار کہنے لگے۔
" من احب ان ینظر الی القوی الامین فلینظر الی ھذا "
جو کسی مضبوط و قوی امانت دار کو دیکھنا چاہتا ہے تو سیدنا عمر کو دیکھ لے ۔۔۔
واقعی سیدنا علی نے بے سبب تو نہیں کہا تھا کہ آپ نے اپنے بعد آنے والے خلفاء کے لیے بہت مشکل کر دیا سب کچھ ۔۔۔۔

اج کوئی حکمران بنتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس کی سات نسلیں سنور گئیں ، ہوتا بھی یہ ہے کہ کمزور مالی حیثیت کے لوگ جب اقتدار کی ہوا کو بھی چھو جائیں تو ان کے رنگ ڈھنگ بدل جاتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہاں کیا عالم تھا؟
ایک بار سیدنا عمر کے سسر کسی ضرورت کے تحت تشریف لائے اور کہا بیت المال سے مجھے اتنا قرض تو دے دیجئے ، سیدنا عمر نے ان کا مطالبہ سنا تو غصّے میں آگئے اور کہنے لگے کہ :
" یہ بیت المال کا مال کیا میرے ذاتی تصرف کی شے ہے کہ میں اس کو اپنے اعزہ و اقارب پہ نچھاور کرنا شروع کر دوں ؟ "
اور صاف چٹا انکار کر دیا پھر اپنے ذاتی وسائل سے جو ممکن ہو سکتا تھا ان کو رقم دی ۔
اور بیت المال کے مال سے اپنی ذات اور اپنے گھر والوں کے تصرف کے معاملے میں تو ان کی احتیاط انتہا کو پہنچی ہوئی تھی ۔ ابو موسی اشعری کہ خود جلیل القدر صحابی رسول تھے ، ایک روز بیت المال کی صفائی کر رہے ہیں اور اس کے صفائی کے بیچ میں ایک درہم زمین پر گرا پڑا دیکھا درہم کہ سب سے چھوٹی اکائی ، اکیلا ہو تو بے حیثیت ۔ اتفاق دیکھیے کہ اسی وقت سیدنا عمر کا ایک چھوٹا بچہ ادھر سے گزر رہا تھا ۔ ابو موسی نے چھوٹا بچہ جان کے درہم ان کے ہاتھ پکڑا دیا ۔ اب بچہ درہم پا کے خوشی خوشی گھر کو چلا ۔
آگے ابا حضور کھڑے ہیں بچے کے ہاتھ میں درہم دیکھا تو چونک اٹھے پوچھا :
" کہاں سے لیا ؟ "

بچے نے ماجرا کہہ سنایا ۔ بچے کا بازو پکڑا ، گویا بھاگتے ہوئے بیت المال کو چل دیے ۔ ابو موسی ادھر ہی موجود تھے ، سیدنا عمر نے غصے سے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
گویا تم چاہتے ہو کہ امت محمدیہ کا ہر ہر فرد [ روز قیامت ] اس ایک درہم کا مجھ سے سوال کرے ؟ ۔
اور پھر وہ درہم اٹھا کر بیت المال کے اسباب میں رکھ دیا ۔

۔۔۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔۔۔

Our top most recommended books to gift your loved ones.maktabaquddusia.com
18/06/2026

Our top most recommended books to gift your loved ones.

maktabaquddusia.com

📚 𝐋𝐢𝐬𝐚𝐧 𝐮𝐥 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 | 𝐀𝐫𝐚𝐛𝐢𝐜 𝐂𝐨𝐮𝐫𝐬𝐞 | 𝐀𝐦𝐢𝐫 𝐒𝐨𝐡𝐚𝐢𝐥Lisan ul Quran by Amir Sohail is a structured Arabic learning course creat...
16/06/2026

📚 𝐋𝐢𝐬𝐚𝐧 𝐮𝐥 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 | 𝐀𝐫𝐚𝐛𝐢𝐜 𝐂𝐨𝐮𝐫𝐬𝐞 | 𝐀𝐦𝐢𝐫 𝐒𝐨𝐡𝐚𝐢𝐥
Lisan ul Quran by Amir Sohail is a structured Arabic learning course created for Urdu-speaking students who want to understand the Quran in its original language. Instead of treating Arabic as only a grammar subject, this course connects vocabulary, sentence structure and practice with the goal of Quran comprehension.
For many students, the biggest barrier to learning Arabic is not motivation but method. Lisan ul Quran gives a more guided path, making it useful for self-study, classes, study circles and anyone beginning Quranic Arabic from an Urdu background.
🛒 𝐎𝐫𝐝𝐞𝐫 𝐍𝐨𝐰:
https://maktabaquddusia.com/products/lisan-ul-quran-amir-sohail?_pos=1&_psq=lisa&_ss=e&_v=1.0
📲 𝐖𝐡𝐚𝐭𝐬𝐀𝐩𝐩 𝐎𝐫𝐝𝐞𝐫:
0325-5447755
🚛 𝐃𝐞𝐥𝐢𝐯𝐞𝐫𝐲 all over Pakistan
📦 Delivery within 4-6 days, 𝐈𝐧𝐬𝐡𝐀𝐥𝐥𝐚𝐡
𝐌𝐚𝐤𝐭𝐚𝐛𝐚 𝐐𝐮𝐝𝐝𝐮𝐬𝐢𝐚⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣
https://maktabaquddusia.com/⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣
Ghazni Street, Urdu Bazar, Lahore⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣
+92 325 5447755

📚 𝐁𝐚𝐜𝐡𝐨𝐧 𝐊𝐞 𝐋𝐢𝐲𝐞 𝐒𝐮𝐧𝐞𝐡𝐫𝐢 𝐒𝐞𝐞𝐫𝐚𝐭 | 𝐀𝐛𝐝𝐮𝐥 𝐌𝐚𝐥𝐢𝐤 𝐌𝐮𝐣𝐚𝐡𝐢𝐝Bachon Ke Liye Sunehri Seerat Sy Muntakhab Waqiyat by Abdul Malik M...
15/06/2026

📚 𝐁𝐚𝐜𝐡𝐨𝐧 𝐊𝐞 𝐋𝐢𝐲𝐞 𝐒𝐮𝐧𝐞𝐡𝐫𝐢 𝐒𝐞𝐞𝐫𝐚𝐭 | 𝐀𝐛𝐝𝐮𝐥 𝐌𝐚𝐥𝐢𝐤 𝐌𝐮𝐣𝐚𝐡𝐢𝐝
Bachon Ke Liye Sunehri Seerat Sy Muntakhab Waqiyat by Abdul Malik Mujahid introduces children to selected incidents from the life of Prophet Muhammad ﷺ in simple Urdu.
The book helps young readers develop love for the Prophet ﷺ while learning practical lessons in honesty, mercy, courage, patience, truthfulness, and Islamic manners. It is a strong choice for families building a meaningful children's Islamic library.
🛒 𝐎𝐫𝐝𝐞𝐫 𝐍𝐨𝐰:
https://maktabaquddusia.com/products/bacho-key-lye-sunehri-seerat-sy-muntakhab-waqiyat?_pos=1&_psq=sun&_ss=e&_v=1.0
📲 𝐖𝐡𝐚𝐭𝐬𝐀𝐩𝐩 𝐎𝐫𝐝𝐞𝐫:
0325-5447755
🚛 𝐃𝐞𝐥𝐢𝐯𝐞𝐫𝐲 all over Pakistan
📦 Delivery within 4-6 days, 𝐈𝐧𝐬𝐡𝐀𝐥𝐥𝐚𝐡
𝐌𝐚𝐤𝐭𝐚𝐛𝐚 𝐐𝐮𝐝𝐝𝐮𝐬𝐢𝐚⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣
https://maktabaquddusia.com/⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣
Ghazni Street, Urdu Bazar, Lahore⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣⁣
+92 325 5447755

Address

Rehman Market, Ghazni Street, Urdu Bazar
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 10:00 - 20:00
Tuesday 10:00 - 20:00
Wednesday 10:00 - 20:00
Thursday 10:00 - 20:00
Friday 10:00 - 20:00
Saturday 10:00 - 20:00

Telephone

+923040490404

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maktaba Quddusia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Maktaba Quddusia:

Shortcuts

Share

Category