Dervish Designs

Dervish Designs - Handpicked books from publishers around the world at the distance of a CLICK @ www.DervishOnline.com

- Handpicked books from publishers around the world at the distance of a CLICK @ www.DervishOnline.com

- We Specialise in Books On:
Seerat Al Nabi (Saw), Allama Iqbal, Islam, Sufism, History, Rumi, Poetry, Humour, Biography, Philosophy, Hadith,
Travelogue
Pakistan
Politics
Language
World Literature
World Religions
Literature
Encyclopedia

The Glorious Quran - Word-for-Word Translation to facilitate learning of Quranic Arabic Compiled by: Shenaz Shaikh and K...
22/08/2024

The Glorious Quran - Word-for-Word Translation to facilitate learning of Quranic Arabic


Compiled by: Shenaz Shaikh and Kausar Khatri


In translating the words, every effort is made to choose authentic Quranic Translations. Among others, we have benefitted from the translations of Abdullah Yusuf Ali, Pickthall, Shakir, Muhammad Asad, Muhammad Mohar Ali, Saheeh International, Muhammad Taqi-ud-Din Ali-Hilali, and Muhammad Mushin Khan, extensively.

Order Link: https://www.dervishonline.com/collections/new-arrivals/products/the-glorious-quran-word-for-word-translation

09/08/2024

اسلام، سیرت النبی ﷺ، تاریخ، اقبالیات، رومی، غزالی، سرگزشت، سفرنامے، مزاح اور دیگر موضوعات پر مختلف زبانوں میں بچوں اور بڑوں کی کتب کے لئے بہترین ویب سائٹ

www.dervishonline.com

تجدیدِ فکریاتِ اسلامعلامہ اقبال کے انگریزی خطبات کا اردو ترجمہمترجم: ڈاکٹر وحید عشرتنظرِ ثانی: ڈاکٹر عبدالخالق   عرض متر...
04/07/2024

تجدیدِ فکریاتِ اسلام

علامہ اقبال کے انگریزی خطبات کا اردو ترجمہ

مترجم: ڈاکٹر وحید عشرت

نظرِ ثانی: ڈاکٹر عبدالخالق





عرض مترجم



حکیم الامت ڈاکٹر محمداقبال کے انگریزی خطبات کا اردو ترجمہ اقبال اکادمی پاکستان کے ابتدائی منصوبوں میں شامل رہا ہے۔ اس منصوبہ پرعمل درآمد کرتے ہوئے جب میں نے پہلے خطبے کاترجمہ مکمل کر لیا تو اسے اقبال اکادمی کی مجلس علمی کے ۲۲ ارکان کے سامنے رکھا گیا۔ مجلس علمی میں ملک کے ممتاز ادیب، نقاد، انشا پرداز، مترجم اور شاعر شامل تھے۔ مسودہ انہیں پڑھنے کے لئے بھیجا گیا اور پھر ان کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس پر غورہوا ۔ تمام حضرات نے اس ترجمے کو سراہا۔ اسے سہل، مستند اور جدید اسلوب کا حامل قرار دیا گیا۔ ترجمے کے سلسلے میں کچھ مشورے بھی موصول ہوئے جو ترجمہ کرتے وقت میں نے پیش نظر رکھے ہیں۔ جولائی ۱۹۹۴ء میں پہلا خطبہ اقبال اکادمی پاکستان کے مجلّے ’’اقبالیات‘‘ میں شائع کیا گیا تاکہ اہل علم کے نقد ونظر کے بعد اس میں مزید بہتری ہو سکے۔ دوسرا خطبہ ۱۹۹۵ئ، تیسرا جولائی ۱۹۹۶ئ، چوتھا جنوری ۱۹۹۸ئ، پانچواں جنوری ۱۹۹۹ئ، چھٹا جولائی ۱۹۹۹ء اور ساتواں خطبہ جنوری ۲۰۰۰ء میں ’’اقبالیات‘‘ کے شماروں میں شائع ہوئے۔ اس ترجمے کی مقبولیت کے سبب اس کی اشاعت کی فرمائش آنے لگی۔ ایک صاحب نے تو الگ الگ خطبات کی اشاعت کے لیے مالی اعانت فراہم کرنے کی بھی پیش کش کر دی۔ مناسب ہو گا کہ اس ترجمے کے سلسلے میں چند معروضات یہاں پیش کر دی جائیں۔

ترجمہ کرنے سے قبل ان تمام تراجم کو پڑھا گیا جو وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے ۔ بعض خطبوں کے الگ الگ بھی ترجمے دستیاب ہوئے انہیں بھی پڑھا گیا۔ خطبات کی تسہیلات اور دیگر متعلقہ کتب بھی دیکھی گئیں۔

ترجمہ کرنے سے پہلے پوری انگریزی کتاب کو بھی بالاستیعاب پڑھا گیا۔

فلسفیانہ اصطلاحات کے لیے قاموس الاصطلاحات، فلسفے کی دوسری ڈکشنریاں اور جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن کی ترجمہ شدہ فلسفے کی کتب اور آخر پر دی گئی فرہنگوں کو دیکھا گیا۔

ترجمے کی زبان انتہائی سہل، رواں اور بوجھل اصطلاحات سے پاک رکھنے کی کوشش کی گئی۔ صرف ناگزیر اصطلاحات کو ہی استعمال کیا گیا ۔

ترجمہ کرتے وقت ہر فقرے پر غور کیا گیا کہ کہیں ترجمے میں وہ مہمل بے معنی یااصل متن سے ہٹ تو نہیں گیا۔ اور فقرہ با معنی بھی ہے کہ نہیں۔

کسی مفہوم اور عبارت کے سمجھ میں نہ آنے پر مترجم بعض مقامات پر متن کا مفہوم اپنے الفاظ میں بیان کردیتا ہے۔ اس ترجمے میں ایسا نہیں کیا گیا۔ یہ ترجمہ لفظی بھی ہے اور بامحاورہ بھی۔

ترجمہ کرتے وقت یہ بات دامن گیر رہی کہ اگر علامہ اردو میں لکھتے تو اپنا مدعا کس طرح ادا کرتے۔ کوشش کی گئی ہے کہ اسے ترجمے کی بجائے طبع زاد کتاب کا روپ مل سکے۔

اقبالیات میں خطبات کی اشاعت مکمل ہونے پر اسے نظر ثانی اور مشاورت کے لیے فلسفے کے جیّد اُستاد اور پاکستان فلسفہ کانگرس کے صدر پروفیسر ڈاکٹر عبدالخالق، سابق چیئرمین اور اقبال پروفیسر شعبہ فلسفہ جامعہ پنجاب لاہور کے پاس بھیج دیا گیا۔ آپ نے نہایت محنت اور انہماک سے تصحیح اور نظرثانی فرماتے ہوئے اس ترجمے کو بہتر بنانے میں میری مدد اور رہنمائی فرمائی، بلکہ کمپوزنگ کے بعد اس ترجمے کی پروف خوانی بھی کی۔ آپ میرے اُستاد ہیں۔ ان کی محبت اور شاگرد پروری کے لیے سراپا سپاس ہوں۔

۹- اس ترجمے کے لئے وہ ایڈیشن استعمال کیا گیا جو پروفیسر محمد سعید شیخ نے مرتب و مدون فرمایا۔ آپ فلسفے کے ممتاز اُستاد رہے ہیں اور یہ خطبات مدون و مرتب کرکے انہوں نے ایک اعلیٰ محقق ہونے کا بھی ایسا ثبوت فراہم کر دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایک لیجنڈ بن گئے ہیں۔ دوسرے مترجمین نے غالباً یہ ایڈیشن استعمال نہیں کیا۔

ترجمے کے صبر آزما مراحل میں اقبال اکادمی پاکستان کے موجودہ ناظم محمد سہیل عمر قدم قدم میرے ساتھ رہے ہیں۔ جب ہم اقبال اکادمی میں آئے تو اقبال کے شعری اور نثری سرمایہ کو جو علامہ کی طبع زاد کتب پر مشتمل ہے، تدوین کے بعد شائع کرنے اور ان کے تراجم کا فیصلہ ہوا۔ سراج منیر مرحوم، پروفیسر محمد منور مرحوم، محمد سہیل عمر اور ہم اس پروگرام کے مرتب تھے۔ اس کے تحت کلیات اقبال اور کئی دوسری کتب شائع ہوئیں۔ پھر نظامتوں کی تبدیلیاں ان پروگراموں پر اثرانداز ہوتی رہیں۔ اور یہ کام رکا رہا۔ ڈاکٹر وحید قریشی جب اکادمی میں آئے تو انہوں نے کام تیز کرنے کو کہا اور اقبالیات میں یہ خطبات شائع ہونے لگے۔ محمد سہیل عمر جب ناظم بنے تو دو خطبے باقی تھے انہوں نے اس منصوبے میں خصوصی دلچسپی لی اور ان کی ہی نظامت میں یہ کام شائع ہو رہا ہے۔

خطبات کے دوسرے تراجم پر ایک سیر حاصل تبصرے کا بھی میں خواہاںتھا مگر میں نے دانستہ اسے ترک کر دیا۔ علامہ اقبال، ڈاکٹر عابد حسین سے خطبات کا ترجمہ چاہتے تھے۔ سید نذیر نیازی کے ترجمے کا کچھ حصہ علامہ نے دیکھا تھاتاہم یہ ترجمہ علامہ کی زندگی میں شائع نہ ہوسکا۔ سید نذیر نیازی میرے محترم اور بزرگ دوست تھے۔ میرے لیے بڑے شفیق تھے۔ وہ عربی کے عالم تھے، لہٰذا ترجمے میں عربی الفاظ اور اصطلاحات ان کی مجبوری تھی۔ جس زمانے میں انہوں نے یہ ترجمہ کیا اس زمانے میں اردو زبان میں فلسفے کا کام ابھی ابتدائی مراحل میں تھا اور جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن میں تراجم ہو رہے تھے۔ لہٰذا ترجمے کی مشکلات سے وہ بھی دوچار تھے۔ ان کے علاوہ بھی لوگوں نے جزواً یا کلاً ترجمے کئے ہیں۔ان میں صرف سید نذیر نیازی ہی نہیں اور بھی بڑے بڑے بزرگ شامل ہیں۔ ان سب کے کام، خلوص اور محنت کا میں قدردان ہوں، اس لیے کہ انہوں نے نو آبادیاتی دور میں ہر طرح کے وسائل سے تہی ہونے کے باوجود یہ کام کیا۔ اب ہم زیادہ باوسائل ہیں، لہٰذا ان پر کچھ کہنا اچھا نہیں لگتا۔وہ سب قابل احترام ہیں کہ انہوں نے اس تاریک دور میں علم و دانش کی شمعیں روشن کیں جن سے ہمارا آج منور ہے۔سید نذیر نیازی کا یہی کیا کم احسان ہے کہ انہوں نے علامہ اقبال کی عمر بھر خدمت کی اور فکر اقبال کو عام کرنے میں شب و روز ایک کر دیئے۔

اس وقت جو ترجمے دستیاب ہیں ان میں’’ تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ‘‘ از سید نذیر نیازی،تفکیر دینی پر تجدید نظراز ڈاکٹر محمد سمیع الحق (یہ ترجمہ دہلی سے شائع ہوا ہے)، ممتاز شاعر، مترجم سائنس اور نفسیات پر دقیق نظر رکھنے والے مصنف شہزاد احمد کا حال ہی میں شائع ہونے والا ترجمہ اسلامی فکر کی نئی تشکیل، پروفیسر شریف کنجاہی کا ترجمہ مذہبی افکار کی تعمیر نوشامل ہیں۔ اس سلسلے میں انہوںنے خطبات کا پنجابی میں بھی ترجمہ کیا ہے۔ احمد آرام کی احیائے فکر دینی دراسلام نے فارسی میں اور عباس محمود نے تجدید التفکیرالدینی فی الاسلام کے نام سے عربی میں بھی ترجمے کئے۔ مادام ایوا میورو وچ نے فرانسیسی میں ترجمہ کیا۔پروفیسر محمد عثمان، ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، پروفیسر محمد شریف بقا، سید وحید الدین، مولانا سعید اکبر آبادی کے علاوہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کی’ تسہیل خطبات اقبال‘ اور ’متعلقات خطبات اقبال‘ از ڈاکٹر سید عبداﷲ کی بھی قابل ذکر کاوشیں ہیں۔ سید میر حسن الدین، ڈاکٹر محمد اجمل اور متعدد دوسرے حضرات نے ایک دو خطبات کے تراجم بھی کئے ہیں۔ مگر خطبات پر کام ابھی مزید توجہ چاہتا ہے۔ اقبال اکادمی پاکستان کے ناظم محمد سہیل عمر کی کتاب ’خطبات اقبال نئے تناظر میں‘ بھی اس سلسلے کی اہم کتاب ہے۔ خطبات کے حوالے سے اقبال اکادمی کے زیر اہتمام ۱۹۹۷ء میںا قبال ریویو(مدیر محمد سہیل عمر)اور اقبالیات (مدیرڈاکٹر وحید عشرت) کے دو خصوصی شمارے بھی شائع ہوئے۔ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی نے بھی قرآن اور علم جدید میں خطبات پر نقد و نظر کی ہے۔ خود میرا بھی ارادہ خطبات کے مباحث پر تنقیدی کام کرنے کا ہے۔ خطبات کے حواشی اور تعلیقات اس ترجمے میں اس لیے شامل نہیں کئے گئے کہ وہ ایک الگ کام ہے اور ایک مستقل کتاب کا متقاضی ہے۔ انشاء اﷲ اگلا کام اسی سمت ہو گا۔ میں ان تمام حضرات کا شکر گزار ہوں جو اس ترجمے کے مختلف مراحل میں شریک رہے یا میرا حوصلہ بڑھاتے رہے۔



ڈاکٹر وحید عشرت

Dr. Waheed Ishrat

The Reconstruction of Religious Thought in Islam

اسلام، سیرت النبی ﷺ، تاریخ، اقبالیات، رومی، غزالی، سرگزشت، سفرنامے، مزاح اور دیگر موضوعات پر مختلف زبانوں میں بچوں اور ب...
27/06/2024

اسلام، سیرت النبی ﷺ، تاریخ، اقبالیات، رومی، غزالی، سرگزشت، سفرنامے، مزاح اور دیگر موضوعات پر مختلف زبانوں میں بچوں اور بڑوں کی کتب کے لئے بہترین ویب سائٹ۔ آرڈرکرنے کے لیےابھی وزٹ کریں
ویب سائٹ کا لنک کمنٹ میں موجود ہے۔

مصباح القرآن 6 جلد مکمل سیٹ تين رنگوں ميں اعلی کاغذ اور جلد بندی کے ساتھہر جلد میں 5 پارےپاکستان میں قرآن مجید کے اردو ت...
12/06/2024

مصباح القرآن 6 جلد مکمل سیٹ

تين رنگوں ميں اعلی کاغذ اور جلد بندی کے ساتھ

ہر جلد میں 5 پارے

پاکستان میں قرآن مجید کے اردو ترجمہ اور تفہیم کے حوالے سے بہت سے لوگ اور مراکز اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ پروفیسر عبدالرحمٰن طاہر کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو عوام الناس کو قرآن کے ترجمہ سے آگاہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ’مصباح القرآن‘ کی شکل میں انھوں نے قرآن مجید کے ترجمہ کو آسان اور سائنٹفک انداز میں سکھانے اور پڑھانے کی سبیل نکالی ہے۔ ترجمہ قرآن میں یقیناً ایک نئے اور مفید اسلوب سے آراستہ یہ کوشش قرآنی مطالب کو عام کرنے اور ایک طالب قرآن کو معانی و مفاہیم سے آشنا کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ اس میں ترجمہ قرآن کا جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے اس میں روز مرہ زندگی میں اردو زبان میں استعمال ہونے والے 65 فیصد الفاظ کو سیاہ رنگ میں پیش کیا گیا ہے، تکرار کے ساتھ استعمال ہونے والے 20 فیصد الفاظ کو نیلا اور 15 فیصد دوسرے اہم الفاظ کو سرخ رنگ میں پیش کر کے ان کے فہم کے الگ الگ ادارے متعین کر دئیے ہیں تاکہ ایک استاد یا طالب قرآن ان کی مدد سے ان کا خصوصی فہم حاصل کر لے، یوں اسی صفحے کے مقابل صفحہ پر پھر انھی تین رنگوں میں تقسیم الفاظ قرآن کے معانی کو بھی ’مفتاح‘ کے اصولوں کے مطابق انھی رنگوں میں قواعد کی تقسیم اور جوڑ توڑ کے پیرائے میں یوں درج کیا گیا ہے کہ کسی آیت شریفہ کا کوئی لفظ یا ان لفظوں کے مزید کسی گرامر میں منقسم حصے کی تعیین، تشریح اور تفہیم بہت واضح اور دلچسپ ہوگئی ہے۔ ترجمہ میں رنگوں کا استعمال قرآنی الفاظ کے رنگوں کے مطابق کیا گیا ہے، بعض الفاظ کی ضروری وضاحت بھی حاشیہ میں کر دی گئی ہے۔


Misbah ul Quran helps understand the Quran in a new and distinct way using signs with the help of only three colors without Arabic grammar.

Break of Quran words into their various components separately with the help of colors, with which a reader can completely and easily understand each word without the help of a tutor.

Prof. Abdur Rahman

کلیات منیر نیازیKuliyat e Munir Niaziصفحات 850منیر نیازی (9 اپریل 1923ء - 26 دسمبر 2006ء) کا شمار اردو اور پنجابی کے اہم...
06/06/2024

کلیات منیر نیازی
Kuliyat e Munir Niazi

صفحات 850

منیر نیازی (9 اپریل 1923ء - 26 دسمبر 2006ء) کا شمار اردو اور پنجابی کے اہم تر شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی ابتدائی شاعری قیام ساہیوال کے ایام کی یادگار ہے۔ منٹگمری (اب ساہیوال) میں انھوں نے ۔۔سات رنگ۔۔۔کے نام سے ایک ادبی رسالہ بھی جاری کیا۔ لاہور منتقلی کے بعد فلمی گانے بھی لکھے۔ منیر نیازی کی غزل میں حیرت اور مستی کی ملی جلی کیفیات نظر آتی ہیں۔ ان کے ہاں ماضی کے گمشدہ منظر اور رشتوں کے انحراف کا دکھ نمایاں ہے۔ منیر نیازی کی شاعری کے بارے میں ڈاکٹر محمد افتخارشفیع اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں۔ منیر نیازی بیسویں صدی کی اردوشاعری کی اہم ترین آواز ہیں۔ ان کا شعری لب ولہجہ اپنی انفرادیت کے ساتھ ہمیشہ انھیں نمایاں مقام عطا کرے گا۔ ابتدائی دور اردو اور پنجابی کے مشہور شاعر اور ادیب۔ 9 اپریل، 1923ء کو ضلع ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بی اے تک تعلیم پائی اور جنگ عظیم کے دوران میں ہندوستانی بحریہ میں بھرتی ہو گئے لیکن جلد ہی ملازمت چھوڑ کر گھر واپس آ گئے۔ برصغیر کی آزادی کے بعد لاہور آ گئے۔ طرز شاعری منیر نیازی نے جنگل سے وابستہ علامات کو اپنی شاعری میں خوبصورتی سے استعمال کیا۔ انہوں نے جدید انسان کے روحانی خوف اور نفسی کرب کے اظہار کے لیے چڑیل اورچیل ایسی علامات استعمال کیں۔ منیر نیازی کی نظموں میں انسان کا دل جنگل کی تال پر دھرتا ہے اور ان کی مختصر نظموں کا یہ عالم ہے کہ گویا تلواروں کی آبداری نشتر میں بھر دی گئی ہو۔ اردو کے معروف ادیب اشفاق احمد نے منیر نیازی کی ایک کتاب میں ان پر مضمون میں لکھا ہے کہ منیر نیازی کا ایک ایک شعر، ایک ایک مصرع اور ایک ایک لفظ آہستہ آہستہ ذہن کے پردے سے ٹکراتاہے اور اس کی لہروں کی گونج سے قوت سامعہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ ان کے اردو شاعری کے تیرہ، پنجابی کے تین اور انگریزی کے دو مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مجموعوں میں بے وفا کا شہر، تیز ہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، دشمنوں کے درمیان میں شام، سفید دن کی ہوا، سیاہ شب کا سمندر، ماہ منیر، چھ رنگین دروازے، شفر دی رات، چار چپ چیزاں، رستہ دسن والے تارے، آغاز زمستان، ساعت سیار اور کلیات منیر شامل ہیں۔ تصنیفات بے وفا کا شہر تیز ہوا اور تنہا پھول جنگل میں دھنک دشمنوں کے درمیان میں شام سفید دن کی ہوا سیاہ شب کا سمندر ماہ منیر چھ رنگین دروازے شفر دی رات چار چپ چیزاں رستہ دسن والے تارے آغاز زمستان ساعت سیار نمونہ کلام پنجابی کے بہت سے مشہور کلام میں سے شائد سب سے زیادہ پڑھا جانے والا کلام رہندا اے پہرا خوف دا قدماں دے نال نال چلدا اے دشت دشت نورداں دے نال نال ہتھاں تے لُکیاں حرفاں دا قصہ عجیب اے ہلدے نیں ہتھ وی پردے دی گلاں دے نال نال ظاہر ہویا اے چند محبت دی رات وچ جیویں سفید روشنی بدلاں دے نال نال رولا پیا اے غم دا نگر دے اخیر تے گلیاں دی چُپ قدیم مکاناں دے نال نال آیا ہاں میں منیر کسے کم دے واسطے رہندا اے ایہہ خیال وی خواباں دے نال نال ایک مشہور اردو نظم ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں، ہر کام کرنے میں ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے يہ بتانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ایک مشہور پنجابی قطعہ کج اونج وی راھواں اوکھیاں سن کج گَل وچ غم دا طوق وی سی کج شہر دے لوک وی ظالم سن کج مينوں مَرن دا شوق وی سی

  تیرے نام تیری پہچانقیمت : Rs.3,600.00آرڈر کرنے کے لیے واٹس ایپ کریں 03218925965کتاب اسماء الحسنیٰ میرے سامنے ہے اور می...
02/06/2024


تیرے نام تیری پہچان
قیمت : Rs.3,600.00
آرڈر کرنے کے لیے واٹس ایپ کریں
03218925965

کتاب اسماء الحسنیٰ میرے سامنے ہے اور میں اس کی سطر سطر اور ورق ورق پڑھ رہا ہوں۔ اللہ کے سارے ہی نام پیارے ہیں اور کیوں نہ ہوں! یہ سارے نام رب العالمین نے اپنے لیے خود تجویز کیے ہیں۔
الٰہ کو کن صفات سے متصف اور کن نقائص سے پاک ہونا چاہیے۔ انسانی عقل جتنا کچھ بھی سوچ لے ’’اسماء الحسنیٰ‘‘ ہر اعتبار سے اس کا مکمل احاطہ کرتے ہیں اور ایک ایسی ہی ہستی کو قبول کرنے اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے پر انسان کو مجبور کرتے ہیں۔ جب انسان اللہ جی کو اس کے پیارے پیارے ناموں سے یاد کرتا ہے تو اس سے تعلق و محبت کا ایک ایسا رشتہ بندھ جاتا ہے جو ہر دوسرے رشتے سے زیادہ مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے۔
ساجدہ ناہید اور بشریٰ تسنیم نے اسماء الحسنیٰ پر جو کتاب لکھی ہے، اس کو پڑھتے پڑھتے آدمی اللہ جی سے محبت کے اسی ’’ جنون‘‘ کا حصہ ہو جاتا ہے اور غالباً کتاب مرتب کرنے کا مقصد و مدعا بھی یہی ہے۔
کتاب انتہائی دلچسپ مگر آسان فہم زبان میں لکھی گئی ہے۔ قاری اسے پڑھتے ہوئے اس میں اتنا جذب ہو جاتا ہے کہ وقت کا احساس تک مٹ جاتا ہے۔ اللہ جی کا ذکر ’’دبدبے‘‘ اور ’’خوف‘‘ کی علامت بننے کی بجائے شفقت، الفت اور محبت کا روپ دھار لیتا ہے۔
کتاب میں درج حضرت علی کا یہ قول اس بات کی تصدیق کے لیے کافی ہے کہ ’’اگر قیامت کے روز یہ فیصلہ کرنے کا اختیار مجھے مل جائے کہ میرے جنت یا جہنم میں جانے کا فیصلہ میرے والدین کریں یا میرا رب تو میں بخوشی یہ فیصلہ ’’رب‘‘ کے حوالے کر دوںگا، اس لیے کہ میں جانتا ہوں میرا رب میرے والدین سے کہیں زیادہ میرا شفیق ہے۔

ساجدہ خوش قسمت ہیں کہ انھوں نے شعوری زندگی کا ایک بڑا حصہ یورپ اور مشرق وسطیٰ میں اس طرح گزارا ہے کہ معاش کے ’’دانے‘‘ چگنے کی بجائے علم و اخلاق کے موتی سمیٹنے میں مصروف رہیں اور عربی زبان اور قرآنی تعلیمات ان کی سرگرمیوں کا محور و مرکز رہا۔
اسماء الحسنیٰ ان کی پہلی تصنیف ہے، لیکن کتاب کو پڑھتے ہوئے قاری اس ’’احساس‘‘ سے کبھی آشنا نہیں ہوتا۔ معلومات کی گہرائی و گیرائی الفاظ اور جملوں پر بھرپور گرفت ایک منجھی ہوئی مصنفہ کا بھرپور تاثر دیتی ہیں۔
کون سی بات کہاں، کیسے کہی جاتی ہے
یہ سلیقہ ہو تو ہر بات پڑھی جاتی ہے
اللہ تعالیٰ اس کوشش کو بارآور کرے اور یہ کتاب اللہ جی کی ’’قدر‘‘ پہچاننے اور دلوں میں اس کی محبت پیدا کرنے کا باعث و ذریعہ بنے۔
✍🏻 محمد عبدالشکور
صدر الخدمت فاؤنڈیشن، پاکستان

Tere Naam Teri Pehchan
Sajida Naheed
Bushra Tasneem

نہج البلاغہحضرت علیؑ کے منتخب خطبات، خطوط اور اقوال کا مجموعہاردو ترجمہ: مفتی جعفر حسین صاحبقیمت: 1400 روپے کتاب کا تعار...
16/05/2024

نہج البلاغہ
حضرت علیؑ کے منتخب خطبات، خطوط اور اقوال کا مجموعہ
اردو ترجمہ: مفتی جعفر حسین صاحب
قیمت: 1400 روپے

کتاب کا تعارف:

نہج البلاغہ حضرت علیؑ کے منتخب خطبات، خطوط اور اقوال کا مجموعہ ہے جو چوتھی صدی ہجری میں سید رضی نے تدوین کیا۔ادبی فصاحت و بلاغت کو معیار اور میزان قرار دیتے ہوئے سید رضی نے امام علی کے کلام کا انتخاب کیا۔ وہ اپنے زمانے کے معروف شاعر اورادیب تھے جبکہ مشہور تالیفات کے مؤلف ہونے کی وجہ سے اس زمانے میں مکتب تشیع کی ایک جانی پہچانی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ خود نہج البلاغہ کی تالیف کو اپنے لئے دنیا اور آخرت کا سرمایہ سمجھتے اور اس مجموعے پر فخر کرتے تھے۔ پہلے درجے کا عربی ادب نہج البلاغہ کے بہت زیادہ تحت تاثیر رہا۔
نہج البلاغہ مجموعی طور پر تین حصوں خطبات، مکتوبات اور کلمات قصار پر مشتمل ہے۔ حضرت علی نے اپنے اکثر خطبات میں لوگوں کو احکام الہی کی بجاآوری اور خدا کے نزدیک ناپسندیدہ امور سے روکنے کی ترغیب دی ہے۔ مکتوبات کا اکثر حصہ ان نصیحت آموز خطوط پر مشتمل ہے جو آپ نے اپنے گورنروں کو لکھے۔ ان خطوط میں لوگوں کے حقوق کی رعایت کی سفارش اور دیگر ضروری اقدامات ذکر کیے ہیں جبکہ کلمات قصار میں حضرت علی کے حکیمانہ اور نصیحت آموز جملے ہیں جو ادبی لحاظ سے بلاغت کی نہائی حدوں کو چھوتے ہیں۔ نہج البلاغہ میں بلاغت نے اوج کمال کو چھوتے ہوئے اسلام کے بنیادی عقائد، خلقت کائنات کی خوبصورتیوں، مختلف جانداروں کی تخلیق میں موجود پوشیدہ اسرار سے پردے اٹھائے ۔انہی وجوہ کے پیش نظر علما نے اسے مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا نیز اہل سنت اور شیعہ علما نے اس کی بہت سی شروحات لکھیں

تیرے نام تیری پہچانتالیف و ترتیب: ساجدہ ناہید، بشریٰ تسنیمصفحات 736کتاب اسماء الحسنیٰ میرے سامنے ہے اور میں اس کی سطر سط...
16/05/2024

تیرے نام تیری پہچان
تالیف و ترتیب: ساجدہ ناہید، بشریٰ تسنیم
صفحات 736

کتاب اسماء الحسنیٰ میرے سامنے ہے اور میں اس کی سطر سطر اور ورق ورق پڑھ رہا ہوں۔ اللہ کے سارے ہی نام پیارے ہیں اور کیوں نہ ہوں! یہ سارے نام رب العالمین نے اپنے لیے خود تجویز کیے ہیں۔
الٰہ کو کن صفات سے متصف اور کن نقائص سے پاک ہونا چاہیے۔ انسانی عقل جتنا کچھ بھی سوچ لے ’’اسماء الحسنیٰ‘‘ ہر اعتبار سے اس کا مکمل احاطہ کرتے ہیں اور ایک ایسی ہی ہستی کو قبول کرنے اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے پر انسان کو مجبور کرتے ہیں۔ جب انسان اللہ جی کو اس کے پیارے پیارے ناموں سے یاد کرتا ہے تو اس سے تعلق و محبت کا ایک ایسا رشتہ بندھ جاتا ہے جو ہر دوسرے رشتے سے زیادہ مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے۔
ساجدہ ناہید اور بشریٰ تسنیم نے اسماء الحسنیٰ پر جو کتاب لکھی ہے، اس کو پڑھتے پڑھتے آدمی اللہ جی سے محبت کے اسی ’’ جنون‘‘ کا حصہ ہو جاتا ہے اور غالباً کتاب مرتب کرنے کا مقصد و مدعا بھی یہی ہے۔
کتاب انتہائی دلچسپ مگر آسان فہم زبان میں لکھی گئی ہے۔ قاری اسے پڑھتے ہوئے اس میں اتنا جذب ہو جاتا ہے کہ وقت کا احساس تک مٹ جاتا ہے۔ اللہ جی کا ذکر ’’دبدبے‘‘ اور ’’خوف‘‘ کی علامت بننے کی بجائے شفقت، الفت اور محبت کا روپ دھار لیتا ہے۔
کتاب میں درج حضرت علی کا یہ قول اس بات کی تصدیق کے لیے کافی ہے کہ ’’اگر قیامت کے روز یہ فیصلہ کرنے کا اختیار مجھے مل جائے کہ میرے جنت یا جہنم میں جانے کا فیصلہ میرے والدین کریں یا میرا رب تو میں بخوشی یہ فیصلہ ’’رب‘‘ کے حوالے کر دوںگا، اس لیے کہ میں جانتا ہوں میرا رب میرے والدین سے کہیں زیادہ میرا شفیق ہے۔
اللہ جی سے محبت و الفت کا یہی وہ تعلق ہے جسے قرآن نے یوں بیان کیا ہے:
﴿وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِلہِ﴾
’’ایمان والوں کی تو خوبی ہی یہی ہے کہ وہ اللہ سے کوٹ کوٹ کر محبت کرتے ہیں۔‘‘ (البقرۃ:165)
ساجدہ خوش قسمت ہیں کہ انھوں نے شعوری زندگی کا ایک بڑا حصہ یورپ اور مشرق وسطیٰ میں اس طرح گزارا ہے کہ معاش کے ’’دانے‘‘ چگنے کی بجائے علم و اخلاق کے موتی سمیٹنے میں مصروف رہیں اور عربی زبان اور قرآنی تعلیمات ان کی سرگرمیوں کا محور و مرکز رہا۔
اسماء الحسنیٰ ان کی پہلی تصنیف ہے، لیکن کتاب کو پڑھتے ہوئے قاری اس ’’احساس‘‘ سے کبھی آشنا نہیں ہوتا۔ معلومات کی گہرائی و گیرائی الفاظ اور جملوں پر بھرپور گرفت ایک منجھی ہوئی مصنفہ کا بھرپور تاثر دیتی ہیں۔
کون سی بات کہاں، کیسے کہی جاتی ہے
یہ سلیقہ ہو تو ہر بات پڑھی جاتی ہے
اللہ تعالیٰ اس کوشش کو بارآور کرے اور یہ کتاب اللہ جی کی ’’قدر‘‘ پہچاننے اور دلوں میں اس کی محبت پیدا کرنے کا باعث و ذریعہ بنے۔
✍🏻 محمد عبدالشکور
صدر الخدمت فاؤنڈیشن، پاکستان

The Message of The QURAN- Translated and Explained by Allama Muhammad Asad- Discounted Price Including Delivery Charges:...
12/03/2024

The Message of The QURAN
- Translated and Explained by Allama Muhammad Asad
- Discounted Price Including Delivery Charges: Rs. 2700 only
- Order Online: https://www.dervishonline.com/collections/special-offers/products/the-message-of-the-quran-allama-muhammad-asad-new-ed
------------------------------------------------------
About the book:
The Message of the Qur'an is an English translation and interpretation of the Qur'an by Muhammad Asad, an Austrian Jew who converted to Islam. The book was first published in Gibraltar in 1980, and has since been translated into several other languages. It is considered one of the most influential Quranic Translations of the modern age.
Asad meant to devote two years to complete the translation and the commentary but ended up spending seventeen. In the opening, he dedicates his effort to "People Who Think." The author returns to the theme of Ijtihad - The use of one's own faculties to understand the Divine text, again and again. The spirit of the translation is resolutely modernist, and the author expressed his profound debt to the reformist commentator Muhammad Abduh.[3] In the foreword to the book, he writes "...although it is impossible to 'reproduce' the Quran as such in any other language, it is none the less possible to render its message comprehensible to people who, like most Westerners, do not know Arabic...well enough to find their way through it unaided."

The Message of The QuranTranslated and Explained by Allama Muhammad Asad About the book:The Message of the Qur'an is an English translation and interpretation of the Qur'an by Muhammad Asad, an Austrian Jew who converted to Islam. The book was first published in Gibraltar in 1980 and has since been....

ڈپلومیسی ہنری کیسنجراردو ترجمہ: سید سعید نقویتصاویر اور نقشوں کا خزانہ ہے، ضخامت 688 صفحات ، بڑی تقطیع ، انتہائی محنت سے...
23/02/2024

ڈپلومیسی ہنری کیسنجر
اردو ترجمہ: سید سعید نقوی
تصاویر اور نقشوں کا خزانہ ہے، ضخامت 688 صفحات ، بڑی تقطیع ، انتہائی محنت سے کیا گیا ترجمہ ، دیدہ زیب اشاعت

ہنری کیسنجر کی شہرۂ آفاق کتاب ’’ڈپلومیسی‘‘، ترجمہ اُردو کے ممتاز ادیب ’’سید سعید نقوی Saeed A Syed‘‘ کا، پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمے کے بعد اب اُردو قالب میں بھی، آفیشل رائٹس کے ساتھ پاکستان میں پہلی بار اشاعت، مغربی سفارت کا ایک نفاست سے لکھا گیا مطالعہ... ذی شعور، عموماً اشتعال انگیز اور مستقل محو رکھنے میں کامیاب!
تصاویر اور نقشوں کا خزانہ ہے، ضخامت 688 صفحات، بڑی تقطیع، انتہائی محنت سے کیا گیا ترجمہ، دیدہ زیب اشاعت، کور پرائس تین ہزار ہے، ابتدائی سو کاپیوں پر 30 فیصد رعایت!
مغربی سفارت کا ایک نفاست سے لکھا گیا مطالعہ... ذی شعور، عموماً اشتعال انگیز اور مستقل محو رکھنے میں کامیاب!
― مچیکوکاکوٹانی، دی نیویارک ٹائمز
یہ ایک عظیم کتاب ہے... اپنے تجزیات میں شاندار اور اپنی پہنچ میں نہایت ماہرانہ!
― جارج پی شلٹز، سابق امریکی وزیر خارجہ
اس کتاب کو اُبھرتے ہوئے سفارت کاروں اور سیاست دانوں کو ایسے ہی شوق سے پڑھنا چاہیے جیسے ان کے پیش روؤں نے میکیاویلی کو پڑھا تھا۔
― ڈگلس ہرڈ، ڈیلی ٹیلی گراف
کیسنجر کی جکڑ لینے والی یہ کتاب ہمارے دَور کے کچھ دُشوار ترین سوالات کا سامنا کرتی ہے... اس کے صفحات بصیرت سے فروزاں ہیں۔
― سائمن شاما، دی نیویارکر
یہ بہت بھرپور اور پُرکشش کام ہے، بین الاقوامی بحرانوں کا ایک شاندار مطالعہ جن سے ہماری جدید دُنیا وضع ہوئی... خارجی امور پر ایک فکر انگیز مراقبہ!
― آرتھر شیلسنگر، امریکی تاریخ داں اور مصنف
سفارت کاری پر گزشتہ تیس سالوں میں اہم ترین کام!
― والٹر لاکیویر، چیئرمین انٹرنیشنل ریسرچ کونسل
نکسن اور فورڈ کے ادوار میں امریکی خارجہ پالیسی کے لیے کیسنجر کے رویے کے بارے میں آپ جو بھی رائے رکھیں، یہ کتاب ایک شاہکار ہے۔ اس میں کیسنجر کی ایک غیر معمولی مفکر اور مؤرخ کے طور پر شناخت قائم ہوتی ہے۔
― مائیکل پالیسر، برطانوی سفیر
کیسنجر بیسویں صدی کی سفارت کاری کی ایک عظیم شخصیت ہے، یہ اس کے تجربے کے بارے میں ہے؛ یہاں آپ سفارت کاری کو اس ہنر کے ایک عظیم شارح کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔
― جیریمی گرین سٹاک، سابق برطانوی سفارت کار
ایک انتہائی اہم کتاب، فکری طور پر بے لاگ، راست باز اور جراَت مند... تین دہائیوں سے کیسنجر کا سخت ناقد اور اُس سے بدظن ہونے کے باوجود، میں خود کو سحرزدہ پاتا ہوں۔
― گاڈفری ہوجسن، دی انڈی پینڈنٹ
اس کتاب کا مطالعہ مغرب کے سفارتی مراکز میں بنیادی اور لازم و ملزوم ہونا چاہیے۔
― ایل کلارک، دی ٹائمز

Diplomacy | Henry Kissinger
Urdu Translation Syed Saeed Naqvi

* شکیل عادل زادہ کا نگارخانہ * 5سب رنگ کہانیاںسمندر پار سے شاہ کار افسانوں کے تراجممرتب: حسن رضا گوندلضخامت 367 صفحاتدُن...
23/02/2024

* شکیل عادل زادہ کا نگارخانہ *
5سب رنگ کہانیاں
سمندر پار سے شاہ کار افسانوں کے تراجم
مرتب: حسن رضا گوندل
ضخامت 367 صفحات

دُنیا کا بہترین اَدب ، دُنیا کے بہترین کاغذ پر

رنگ رنگ، سب رنگ
✍🏻 حسن رضا گوندل
نام وَر ناقد شمس الرحمٰن فاروقی نے اُردو کی مشہور ترین داستان، داستانِ امیر حمزہ کے متعلّق اپنی بے مثل تصنیف ’ساحری، شاہی، صاحب قِرانی‘ کے نام سے پیش کی۔ داستان کی پچاس جلدوں کے مطالعے کے بعد اس پر نقد و نظر کی یہ مبسوط کتاب قومی کونسل برائے فروغِ اُردو زبان، نئی دلّی نے تین جلدوں میں طبع کی تھی۔ یہ برّصغیر کے قدیم فن داستان گوئی کو ہمارے عہد کے ایک بڑے دانش ور کا خراجِ عقیدت تھا۔ داستانِ امیر حمزہ کو بلاشبہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کی مقبول ترین داستان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کے تہذیبی اثرات کس قدر گہرے تھے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس داستان کے کرداروں نے شہنشاہِ اقلیمِ سخن، مرزا غالب کے دربار میں بھی رسائی حاصل کر لی تھی۔ مرزا صاحب ایک قصیدے میں فرماتے ہیں...
دُرِّ معنی سے مرا صفحہ ، لقا کی داڑھی
غمِ گیتی سے مرا سینہ ، امر کی زنبیل
غالبؔ کے یہ اَمر وہی ہیں، جنھیں ہم اور آپ عمرو عیّار کے نام سے جانتے ہیں۔ لقا بھی اسی داستان کا ایک کردار ہے، جس کی داڑھی میں موتی پروئے گئے تھے۔ داستان امیر حمزہ کی ’ساحری، شاہی اور صاحب قِرانی‘ پر تو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے مگر مجھ سے پوچھیے تو بیسیویں صدی میں اگر ان القاب سے کسی کو یاد کیا جا سکتا ہے تو وہ فقط ’سب رنگ ‘ ہے۔ بظاہر ایک ڈائجسٹ مگر اپنے اندر وہی جہانِ حیرت چھپائے ہوئے کہ اس طلسم کدے میں قدم رکھنے والا خود کو فراموش کر دیتا۔ کیا ساحری تھی کہ قاری گردشِ ماہ و سال سے بے نیاز اور دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر پرچے کی کوچہ گردی میں محو رہتے تھے۔ کیا شاہی تھی کہ عشّاقانِ سب رنگ آج تک اسی کی یادوں کی سلطنت میں جی رہے ہیں۔ صاحب قِراں کے ایک معنی کام یاب بادشاہ کے علاوہ یہ بھی بتائے جاتے ہیں کہ ایسا بادشاہ جس کی حکم رانی چالیس برس سے زیادہ رہی ہو۔ اس لحاظ سے بھی سب رنگ صاحب قِراں ہے کہ اشاعت کے آغاز کو پچاس سال سے زیادہ بیت گئے۔ پرچا بند ہوئے بھی دہائی سے زیادہ گزر گئی مگر لاکھوں دلوں پر اس کا راج برقرار ہے۔ یہ رُتبۂ بلند اور کسی پرچے کو نہیں مل سکا کہ اس میں چھپنے والی تحریریں لوگوں کو حفظ ہوں۔ سب رنگ کے دیرینہ محبّان محفلوں میں جمع ہوں تو تذکرے ہوتے ہیں کہ فُلاں شمارے میں وہ کہانی پڑھی تھی؟ کیا شاندار کہانی تھی۔ وہ کہانی یاد ہے جس میں یوں ہوا تھا؟ ’بازی گر‘، ’جانگلوس‘، ’ناخدا‘، ’امبر بیل‘ اور دیگر سلسلہ وار کہانیوں کے کرداروں کی باتیں، ذاتی صفحے کی باتیں۔ پھر سب سے بڑھ کر کہانیوں پر استاذِ گرامی شکیل عادل زادہ کی تعارفی سطور۔ بقول غالبؔ...
تیرا اندازِ سخن شانۂ زلفِ الہام
تیری رفتارِ قلم جنبشِ بالِ جبریل
یہ ایک ایک دو دو سطری تعارف کیا تھے۔ سرا سر سحرِ حلال تھے۔ چاہنے والوں کو وہ جملے آج بھی ازبر ہیں جن سے وہ حظ کشید کرتے اور کہانی پڑھنے کی تحریک پاتے تھے۔ ایک دو سطروں میں جہانِ معنی سمودینا انھی کا خاصّہ رہا ہے۔ ایجازِ بیان کو انھوں نے اعجازِ بیان کے درجے تک پہنچا دیا تھا۔ بقول مرزا...
’تیرے‘ ابہام پہ ہوتی ہے تصدّق، توضیح
’تیرے‘ اجمال سے کرتی ہے تراوش، تفصیل
شکیل بھائی کی لکھی ان سطور پر مصنّف بھی بجا طور پر ناز کرتے تھے۔ اُردو کے یگانۂ روزگار، منفرد فسانہ نگار محمد الیاس سے ایک بار فون پر سب رنگ کے متعلّق گفت گو ہو رہی تھی۔ ان کی کہانیاں ’عورت، گھوڑا اور مرد‘ اور ’وارے کی عورت‘ سب رنگ میں شائع ہوئی تھیں۔ کہنے لگے ”اپنی ہی کہانی کے لیے اگر میں عُمر بھر بھی سوچتا رہتا تو شاید ایسا جملہ موزوں نہ کر سکتا۔“
استاذِ محترم کی عظمت کا اعتراف دیگر بڑے ادیبوں نے بھی کیا ہے۔ جنھیں سُن کر اور پڑھ کر سب رنگ اور اُن سے اپنی محبت پر ناز فزوں تر ہو جاتا ہے۔ سب رنگ کی تمام کہانیوں کو جلد از جلد کتابی صورت میں لانے کا شوق بھی مہمیز ہوتا ہے۔ اگلے برس کے اوائل میں دوبارہ پاکستان آنے کا ارادہ ہے تا کہ سب رنگ گزیدگان سے کیے گئے وعدے ایفا کرنے کی کوشش تیز ہو۔ اُردو کی شاہ کار کہانیوں کی اشاعت کے تقاضے بھی پیہم بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کے لیے بھی راہ تلاش کی جا رہی ہے۔ مقامی زبانوں کے افسانے، تصوّف کے مضامین، ذاتی صفحہ اور اداریوں کے دل دادگان بھی نگاہیں فرشِ راہ کیے ہوئے ہیں، ان کی محبتوں کا قرض بھی دامن کشاں ہے۔ بہرحال، مے باقی، مہتاب باقی...

Sab Rang Kahanian Part 6
Shakeel Adil zada
Hassan Raza Gondal

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dervish Designs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dervish Designs:

Share

Category