Muneeb Law Book House

Muneeb Law Book House We are one of the leading LAW Book shops in Lahore / Pakistan dealing with legal and allied publications. are also available.

We are one of the leading book shops in Lahore, Pakistan dealing with legal and allied publications. Ours is a spacious showroom which displays almost all the authoritative legal books one can find. Books on various topics like Statutory Commentaries, Bare Acts, Digests, Taxation Books, Customs - Excise Books, Export - Import Books, Government Publications, etc. CD-ROM's and Online database are also provided according to the needs of the customer.

Coming Soon inshaAllah
29/01/2026

Coming Soon inshaAllah

23/01/2026
Maintenance Allowance (Nan-wa-nafqah)Rs. 2000 Delivery Free all Pakistan 💚🤎💜🧡❤💙 🏎🚕https://wa.me/923014398492
23/01/2026

Maintenance Allowance (Nan-wa-nafqah)
Rs. 2000 Delivery Free all Pakistan 💚🤎💜🧡❤💙 🏎🚕
https://wa.me/923014398492

21/12/2025

Walid Sb per likhaa gaya article time and again circulation main rehtaa hay, yeh aik night thee, ham bohat kuch likh saktay hain keh sari Zindagi honesty and Islamic principle's per he guzari from Muhammad Khurram son of Justice Dr Munir Ahmad Mughal Rahmaat Ullah Alayh

(Muneeb Law Book House) Lahore

ہائی کورٹ کا ایک ولی صفت جج
میرے پاس چند دن قبل ایک ریٹائرڈ پولیس افسر آئے۔ ان کا چھوٹا سا مسئلہ تھا، میں نے ان کی جتنی مدد کر سکتا تھا کر دی۔ اس کے بعد گفتگو شروع ہوئی تو میں نے ان سے زندگی کا کوئی حیران کن واقعہ سنانے کی درخواست کی۔
میری فرمائش پر انہوں نے ایک ایسا واقعہ سنایا جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا اور میں نے سوچا، مجھے یہ آپ کے ساتھ بھی شیئر کرنا چاہیے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا: میں 1996ء میں لاہور میں ایس ایچ او تھا۔ میرے والد علیل تھے، میں نے انھیں سروسز اسپتال میں داخل کرا دیا۔ سردیوں کی ایک رات میں ڈیوٹی پر تھا اور والد اسپتال میں اکیلے تھے۔ اچانک ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی اور وہ الٹیاں کرنے لگے۔
میرے خاندان کا کوئی شخص ان کے پاس نہیں تھا۔ وہ دو مریضوں کا کمرہ تھا، ان کے ساتھ دوسرے بیڈ پر ایک مریض داخل تھا۔ اس مریض کا اٹینڈنٹ موجود تھا۔ وہ اٹھا، اس نے ڈسٹ بین اور تولیہ لیا اور میرے والد کی مدد کرنے لگا۔ وہ ساری رات ابا جی کی الٹیاں صاف کرتا رہا۔ اس نے انھیں قہوہ بھی بنا کر پلایا اور ان کا سر اور بازو بھی دبائے۔ صبح ڈاکٹر آیا تو اس نے اسے میرے والد کی کیفیت بتائی اور اپنے مریض کی مدد میں لگ گیا۔ میں نو بجے صبح وردی پہن کر تیار ہو کر والد سے ملنے اسپتال آ گیا۔
اباجی کی طبیعت اس وقت تک بحال ہو چکی تھی۔ مجھے انھوں نے اٹینڈنٹ کی طرف اشارہ کر کے بتایا: "رات میری اس مولوی نے بڑی خدمت کی۔" میں نے اٹینڈنٹ کی طرف دیکھا۔ وہ ایک درمیانی عمر کا باریش دھان پان سا ملازم تھا۔ میں نے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا لیکن پھر سوچا، اس نے ساری رات میرے والد کی خدمت کی ہے، مجھے اسے ٹپ دینی چاہیے۔ میں نے جیب سے پانچ سو روپے نکالے اور اس کے پاس چلا گیا۔ وہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔
میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسے پانچ سو روپے پکڑانے لگا۔ وہ کرسی پر کسمسایا لیکن میں نے رعونت بھری آواز میں کہا: "لے مولوی، رکھ یہ رقم، تیرے کام آئے گی۔" وہ نرم آواز میں بولا: "نہیں بھائی نہیں، مجھے کسی معاوضے کی ضرورت نہیں۔ میں نے رات دیکھا، آپ کے والد اکیلے ہیں اور تکلیف میں ہیں۔ میں فارغ تھا، لہٰذا میں اللہ کی رضا کے لیے ان کی خدمت کرتا رہا۔ آپ لوگ بس میرے لیے دعا کردیں، وغیرہ وغیرہ۔" لیکن میں باز نہ آیا، میں نے فیصلہ کر لیا کہ ہر صورت اسے پیسے دے کر رہوں گا۔
پولیس افسر رکے، اپنی گیلی آنکھیں اور بھاری گلہ صاف کیا اور پھر بولے: "انسان جب طاقت میں ہوتا ہے تو یہ معمولی معمولی باتوں پر ضد باندھ لیتا ہے۔ یہ ہر صورت اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ میں نے بھی پیسے دینے کی ضد بنا لی تھی، مگر مولوی مجھ سے زیادہ ضدی تھا۔ وہ نہیں مان رہا تھا۔ میں اس کی جیب میں پیسے ڈالتا تھا اور وہ نکال کر کبھی میری جیب میں ڈال دیتا تھا اور کبھی ہاتھ میں پکڑا دیتا تھا۔"
میں نے اس دھینگا مشتی میں اس سے پوچھا: "مولوی یار تم کرتے کیا ہو؟" اس نے جواب دیا: "بس ایسے ہی لوگوں کی خدمت کرتا ہوں۔" وہ مجھے اپنا کام نہیں بتانا چاہتا تھا۔ میں نے اب اس کا ذریعہ روزگار جاننے کی ضد بھی بنا لی، اس سے بار بار اس کا کام پوچھنے لگا۔ اس نے تھوڑی دیر ٹالنے کے بعد بتایا: "میں کچہری میں کام کرتا ہوں۔" مجھے محسوس ہوا یہ کسی عدالت کا اردلی یا کسی وکیل کا چپڑاسی ہو گا۔ میں نے ایک بار پھر پانچ سو روپے اس کی مٹھی میں دے کر اوپر سے اس کی مٹھی دبوچ لی اور پھر رعونت سے پوچھا: "مولوی تم کچہری میں کیا کرتے ہو؟"
اس نے تھوڑی دیر میری طرف دیکھا اور پھر اپنے والد کی طرف دیکھا۔ لمبی سانس لی اور آہستہ آواز میں بولا: "مجھے اللہ نے انصاف کی ذمے داری دی ہے۔ میں لاہور ہائی کورٹ میں جج ہوں۔"
مجھے اس کی بات پر یقین نہ آیا، میں نے پوچھا: "کیا کہا؟ تم جج ہو!" اس نے آہستہ کہا: "جی ہاں، میرا نام جسٹس منیر احمد مغل ہے اور میں لاہور ہائی کورٹ کا جج ہوں۔"
یہ سن کر میرے ہاتھ سے پانچ سو روپے گر گئے اور میرا وہ ہاتھ جو میں نے پندرہ منٹ سے اس کے کندھے پر رکھا ہوا تھا، وہ اس کے کندھے پر ہی منجمد ہو گیا۔
جسٹس صاحب نے بڑے پیار سے میرا ہاتھ اپنے کندھے سے اتارا، کھڑے ہوئے، جھک کر فرش سے پانچ سو روپے اٹھائے، میری جیب میں ڈالے اور پھر بڑے پیار سے اپنے مریض کی طرف اشارہ کر کے بتایا: "یہ میرے والد ہیں۔ میں ساری رات ان کی خدمت کرتا رہا، ان کا پاخانہ تک صاف کیا۔ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں۔"
میں نے رات دیکھا، آپ کے والد اکیلے ہیں اور ان کی طبیعت زیادہ خراب ہے، لہٰذا میں انھیں اپنا والد سمجھ کر ان کی خدمت کرتا رہا۔ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں۔
جسٹس ڈاکٹر منیر احمد مغل ہائی کورٹ لاہور کے جج تھے، مگر ان کا جنازہ ایک چھوٹے سے گھر سے اٹھا۔ ان کی رہائش بھاٹی گیٹ کی تنگ اور تاریک گلی میں تھی۔ چار کنال کے سرکاری بنگلے کو چھوڑ کر وہ بیوی اور چھ بچوں کے ساتھ سالہا سال ایک سال خوردہ کمرے میں مقیم رہے۔ ان کے مکان میں تین منزلیں تھیں: پہلی منزل پر ان کے بھائی رہتے تھے، دوسری منزل پر ایک بڑا کمرہ اور اس کے سامنے بالکونی تھی۔ تیسرے منزل کا ایک کمرا ان کے والد کے کمرے کے ساتھ جوڑا گیا تھا، جو دن میں بیٹھک اور رات کو خوابگاہ کا کام دیتا۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر احمد منیر مغل کے مطابق، تقسیم ہند کے بعد والد فیروز پور سے ہجرت کر کے لاہور آئے اور یہی تنگ سا مکان انہیں ملا۔ جسٹس مغل نے ساری زندگی محنت، عاجزی اور انکسار کے ساتھ گزاری۔
ان کے ایک دوست ڈاکٹر حافظ احمد خان نے ایک دفعہ ان سے حسرت بھرا استفسار کیا: "جناب، کیا میں بھی کبھی حج کر پاؤں گا"؟ مغل صاحب محبت آمیز طیش میں آ کر جو بولے وہ نہ صرف پورا بلکہ حرف بہ حرف پورا ہوا۔ فرمایا: ے احمد خان جاؤ، تم ایک نہیں 11 حج کرو گے". پھر احمد خان نے واقعی پورے 11 حج کیے۔
جسٹس منیر مغل نے ایم۔اے اور ایل۔ایل۔بی کے بعد مولانا عبیداللہ سندھی کی تفسیر پر پی ایچ ڈی کیا۔ ان کا دوسرا پی ایچ ڈی جامعۃ الازہر مصر سے تھا، جس کے لیے انہوں نے عربی زبان بھی سیکھی۔ ان کے علاوہ ملکی و بین الاقوامی قوانین پر 24 کتابیں تصنیف کیں۔ وہ عدالت میں تیزی سے مقدمات نمٹانے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی عدالت میں انصاف کا انداز نہایت متاثر کن تھا۔ ایک مقدمے میں جب امیر لوگوں کے وکیل اور غریب استاد کا کیس آیا، جسٹس صاحب نے استاد کے احترام میں سارا دن عدالت کھڑے ہو کر مقدمات نمٹائے اور پانچ منٹ میں فیصلہ سنایا۔
جسٹس مغل والدین کی خدمت کے حوالے سے بھی مشہور تھے۔ ان کے سامنے یوں دست بستہ کھڑے ہوا کرتے تھے کہ گویا نماز کی نیت باندھ رکھی ہے۔ والد کے زیادہ بیمار ہونے پر انہوں نے بیڈ کے قریب گھنٹی رکھی تاکہ والد پاؤں سے دبائیں اور وہ فوراً پہنچ جاتے۔ اپنی بیوی اور بچوں کو بھی والد کے کام میں ہاتھ نہیں لگانے دیتے تھے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی علم، محنت اور والدین کی خدمت میں گزاری۔ عدالت میں بھی ان کا رویہ عاجزانہ اور ایماندارانہ تھا۔
15 اپریل 2024 کو یہ فرشتہ صفت دنیا سے رخصت ہوا۔ ن کی سادہ زندگی، عاجزی اور والدین کے لیے غیر معمولی خدمت آج بھی عدلیہ اور معاشرے کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ اللہ قرب کے اعلیٰ مراتب سے نوازے۔
جاوید چودھری

Whatsapp Order 03014398492Rs 1100 with delivery Mode of payment advance
23/10/2025

Whatsapp Order 03014398492
Rs 1100 with delivery
Mode of payment advance

Address

1-Turner Road
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+924237230671

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muneeb Law Book House posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muneeb Law Book House:

Share

Category