Itwar Bazar IslamPura Lahore Pakistan

Itwar Bazar IslamPura Lahore Pakistan As of writing this (2015), Sunday Bazaar (formly Friday Bazaar) IslamPura has been held for 36 years. Alas! it was banned in April 2013.

It is a voice to restore it back. اسلام پورہ لاہور سابقہ نام کرشن نگر سفید پوش مڈل کلاس لوگوں کا علاقہ ہے۔ یہ وزیراعظم جناب نواز شریف کا حلقہ NA-120 ہے جس کے باسیوں نے آج تک کبھی اپنے قائد کو مایوس نہیں کیا۔ اسلام پورہ اتوار بازار کی تاریخ محتاط اندازے کے مطابق 36 سالوں پر محیط ہے۔ اس پورے عرصے میں یہ سرکاری و غیر سرکاری سرپرستی میں لگتا رہا ہے۔ اگرچہ چند مرتبہ اس کی جگہ و مقام میں تبدیلی بھی ہوئی

تاہم یہ زیادہ تر نیلی بار موڑ اور بابا گراؤنڈ کے آس پاس ہمیشہ سڑکوں پر ہی لگتا رہا ہے۔ 2009 میں DCO جناب سجاد احمد بھٹہ نے بابا گراؤنڈ کے بالمقابل غیر آباد رقبے کو خوب صورت ٹائلوں کے فرش سے مزین کروا کر اتوار بازار کے لیے مخصوص کر دیا۔ جس کے بعد بہترین نظم و نسق کے نتیجے میں اتوار بازار کو ماڈل بازار بھی قرار دیا گیا۔ اپریل 2013 میں اس رقبے پر کالج کی تعمیر کے سنگ بنیاد کے ساتھ ہی 34 سال سے جاری اتوار بازار کو اچانک سے سرکاری طور پر ختم کر دیا گیا۔ محتاط اندازے کے مطابق اُس وقت اتوار بازار میں 200 کے لگ بھگ سٹال لگتے تھے جن پر سبزیاں پھل گوشت دالیں مصالحے برتن کپڑے جوتے صابن لیکویڈ، بچوں کے کھلونے، آڑٹیفیشل جیولری سمیت متعدد اشیائے ضروریہ بازار سے بارعایت دستیاب تھیں۔ سینکڑوں لوگوں کا اس سے روزگار وابستہ تھا جبکہ ہزاروں لوگ دور دور سے آ کر اس سے مستفید ہوتے تھے۔ راقم کے اپنے جاننے والے ریگل اور سگیاں سے آ کر اسلام پورہ اتوار بازار میں خریداری کرتے تھے۔ بازار کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر غریب سفید پوش طبقہ ہوا ہے جو صرف اسلام پورہ میں ہزاروں کی تعداد میں ہے۔ جس نے وزیراعظم جناب نواز شریف کو ہمیشہ کی طرح اپنا مسیحا سمجھ کر اس امید کے ساتھ ووٹ دیے تھے کہ ان کی زندگیوں میں آسانیاں لائی جائیں گی۔ لیکن ان کی امیدوں کے برعکس وزیراعظم کے حلقے کے عوام سے ایک بڑا ریلیف اتوار بازار کی بندش کی صورت میں چھین لیا گیا۔ صرف چار سال پہلے جس بازار کو ماڈل بازار قرار دیا گیا تھا اسے اچانک سے بند کر دیا گیا۔

اپریل 2013، اتوار بازار کی بندش کے بعد ہر اتوار غریب سبزی و پھل فروش اور دیگر چھابڑی فروش، پولیس اور کارپوریشن کمیٹی کی ماریں برداشت کرتے ہوئے گلیوں میں چھپ چھپا کر اپنا سودا فروخت کرتے رہے۔ اتوار بازار عملاً ڈنڈا بازار بن گیا۔ پولیس بزور طاقت اتوار بازار لگنے سے روکتی رہی۔ بیچنے والوں کے ساتھ ساتھ غریب خریداروں کو بھی تشدد اور توہین کا نشانہ بناتی رہی۔ روزنامہ نوائے وقت 30 ستمبر 2013 کی خبر کے مطابق "سیاسی ورکروں کی اتوار بازار میں چودھراہٹ پر چپقلش کی وجہ سے بازار کا لگنا التوا میں پڑا ہوا ہے۔" وجہ جو بھی تھی لیکن اتنی ذلت اٹھا کر، اتنی ماریں کھا کر، اپنا سودا ضبط کروا کر بھی اگر عوام غیر سرکاری اتوار بازار کا رخ کر رہے تھے تو ارباب اختیار کو سمجھ لینا چاہیے تھا کہ عوام کے لیے اتوار بازار کی کتنی ضرورت و اہمیت تھی۔ معاملے کی سنگینی کی وجہ سے متعدد وفود DCO جناب نسیم صادق اور جناب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی سے ملے۔ وزیر خوراک جناب بلال یاسین سے بازار کی بحالی کی درخواست کی۔

ایک سال سے زیادہ عرصے تک ڈنڈے، ماریں اور مال ضطبی کو سہہ سہہ کر 18 مئی 2014 کو اتوار بازار بحال تو ہوا لیکن اسے سہولت بازار کا درجہ دیا گیا جو نیلی بار موڑ سے چشتیہ سکول کی دیوار تک چھوٹے سے حصے پر محیط تھا اور اس میں صرف سبزیوں اور پھلوں کی فروخت ممکن ہوئی۔ تاہم غریب عوام نے اس پر بھی لاکھ شکر کیا کہ مارا ماری کے ماحول سے جان چھوٹی اور امن و اطمینان سے خرید و فروخت ممکن ہوئی۔ لیکن افسوس صرف سات ماہ بعد 28 دسمبر 2014 کو بغیر پیشگی مطلع کیے یہ سہولت بازار اچانک سے پھر زیر عتاب آ گیا اور غریب چھابڑی فروش جو ہزاروں روپے کی پھل سبزیاں خرید لائے تھے، ڈنڈوں کے زور پر پولیس انھیں سودا بیچنے سے روکتی رہی۔ صبح سے شام ہو گئی، سبزیاں پھل خراب ہو گئے۔ کئی غریبوں کا مال ضبط ہو گیا۔ راقم نے اپنی آنکھوں سے بزرگ چھابڑی فروشوں کو بچوں کی طرح بلک بلک کر روتے دیکھا۔ قریبی رہائشیوں تک نے منت سماجت کی کہ بس آج رعایت دے دیں، غریبوں کو پہلے اطلاع ہوتی تو وہ اتنا مال ہی نہ لاتے۔ لیکن انتظامیہ کو رحم نہ آیا۔

اتوار بازار ایک بار پھر ڈنڈا بازار بن گیا۔ 28 دسمبر تا وقت تحریر ہر اتوار ایسے ہی ظلم و ستم کا مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے۔ زبان زد عام یہی ہے کہ بازار کی دوبارہ بندش چودھراہٹ کے لیے اندرونی لڑائی کا شاخسانہ ہے جسے بظاہر سیکورٹی وجوہات پر محمول کیا جا رہا ہے۔ اگر حقیقتاً سیکورٹی وجوہات ہیں تو لاہور کے باقی اتوار بازار کیسے چل رہے ہیں؟ جو سہولت بازار نیلی بار موڑ سے چشتیہ سکول کی دیوار تک لگ رہا تھا، اسے اگر سیکورٹی کے نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو وہ قلعے کی طرح محفوظ تھا جبکہ گلشن راوی کا اتوار بازار اس سے کہیں زیادہ غیر محفوظ ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ پولیس جتنی توانائی بازار کو لگنے سے روکنے پر مارکٹائی میں صرف کرتی ہے اس سے کہیں کم کوشش سے بازار کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی جا سکتی ہے۔

لہٰذا ارباب اختیار سے دست بستہ التماس ہے کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے صدق دل سے اقدامات اٹھائیں اور غریب و لاچار عوام کی سچی کھری دعائیں لیں۔

منڈی اور عام مارکیٹ کی قیمتوں میں بڑے فرق کی وجوھات کیا ھیں، اینکر نے اس پر اچھی تحقیق کی ھے۔
09/07/2026

منڈی اور عام مارکیٹ کی قیمتوں میں بڑے فرق کی وجوھات کیا ھیں، اینکر نے اس پر اچھی تحقیق کی ھے۔

Sabzi Mandi Vs Open Market: Why Are Prices So Different? | Official...

30/06/2026

Address

Neeli Bar Mor, IslamPura (Krishan Nagar)
Lahore
54000

Opening Hours

08:00 - 23:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Itwar Bazar IslamPura Lahore Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share