Heart touching ناولز کی دنیا

Heart touching ناولز کی دنیا جنات کے انسانوں سے رومینٹک خوفناک ناولز پڑھیں Heart touching

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Dilnasheen Mastoor, Sadeem Anjum, Muhammad Ahmed, Rana Ri...
01/06/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Dilnasheen Mastoor, Sadeem Anjum, Muhammad Ahmed, Rana Riya, Hoorain Fartim, Waqas Shoail, Sakwhat Malik, Momina Batool, Tayyaba Bibi, Irshad Ahmad, Asif Jan

01/03/2025
12/08/2024

یہ واقعہ آپ سب نے سنا یا پڑھا بھی ہو گا مگر جتنی بار بھی میرے سامنے آتا ہے شیئر کرنا مجبوری بن جاتا ہے
ایک تُرک مُسلمان مسجد نبوی شریف کے احاطے میں کھڑے هوکر اپنا آنکھوں دیکھا واقعه یوں بیان کرتا ہے:
میں وهاں(مسجدِ نبوی)میں کھڑا دیکھ رها تھا که چار پولیس والے کِسی کا انتظار کر رهے هیں،
پِھر ایک شخص نمودار هُوا تو پولیس والوں نے بھاگ کر اُسے قابو کر لیا،
اور اُسکے هَاتھ جکڑ لئے۔
نوجوان نے کہا:
مُجھے دعا اور توسل کی اجازت دے دو۔۔میری بات سن لو۔۔میں کوئی بِھکاری نہیں هُوں،نه چور هُوں،
پِھر وہ جوان چیخنے لگا،
میں نے اُسے دیکھا تو ایسے لگا جیسے میں اُسے جانتا هُوں،
میں بتاتا هُوں که میں نے اُسے کیسے پہچانا:
دَراصل میں نے اُسے کتنی هی دفعه بارگاہ رسالت میں روتے هوئے دیکھا تھا۔۔۔۔۔
یه ایک البانوی نوجوان تھا،
جِس کی عُمر 35 یا 36 سال کے درمیان تھی۔۔اس کے سنہری بال اور هلکی سی داڑھی تھی۔
میں نے پولیس والوں سے کہا:
جب اِسکا کوئی جُرم نہیں هے تو تم اِس کيسَاتھ ایسا کیوں کر رهے هو،
آخر کیا الزام هے اِس پر؟
اُنہوں نے مُجھے کہا:
ارے او تُرک،
تُو پِیچھے هٹ اِس معاملے میں بولنے کا تُجھے کوئی حق نہیں۔
لیکن میں نے پِھر سے کہا:
آخر اس کا تُمہارے ساتھ کیا مسئله هے؟کیا اِس نے کوئی چوری کی هے؟
اُنہوں نے کہا:
نہیں،یه بندہ 6 سال سے اِدھر مدینے شریف میں رہ رها هے،لیکن اس کا یه قیام غیر قانونی هے؛هم اِسے پکڑ کر واپس اِس کے ملک بھیجنا چاهتے هیں،لیکن یه هر دفعه هَمیں چکمه دے کر بھاگ جاتا هے،
اور جا کر روضه رسول میں پناہ لے لیتا هے،اور هم اِسے اندر جا کر گرفتار نہیں کرنا چاهتے تھے۔
میں نے پُوچھا:
تو اب اِس کیساتھ کیا کرو گے؟
کہنے لگے:هم اسے پکڑ کر جہاز پر بٹھائیں گے اور واپس البانیا بھیج دیں گے.
نوجوان مُسلسل روئے جا رها تھا،
اور کہه رها تھا:
کیا هو جائے گا اگر تم مُجھے چھوڑ دو گے تو؟
دیکھو،میں کوئی چور نہیں هوں۔۔۔۔۔
میں کِسی سے بِھیک نہیں مانگتا۔۔۔۔۔
میں تو اِدھر بس مُحبتِ رسول میں رہ رها هوں،
پولیس والوں نے کہا:
نہیں،ایسا جائز نہیں هے،
نوجوان نے کہا:
اچھا مُجھے ذرا آرام سے رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم سے ایک عرض کر لینے دو،
پِھر نوجوان نے اپنا منه گُنبد خضراء کی طرف کر لیا،
پولیس والوں نے کہا:
چل کہه، جو کہنا هے،
تو نوجوان نے گُنبد خضراء کیطرف دیکھا اور جو کُچھ عربی میں کہا،میں نے سمجھ لیا،
وہ نوجوان كہه رھا تھا:
یا رسول اللہ،
کیا ھَمارے دَرمیان اِتفاق نہیں ھُوا تھا ۔۔۔
کیا میں نے اپنے ماں باپ کو نہیں چھوڑا۔۔
کیا اپنی دُکان بند کر کے اپنا گھر بار نہیں چھوڑا،
اور یه عہد کر کے یہاں نہیں آیا تھا که آپ کے جوارِ رحمت میں رها کروں گا ؟
حضور!اب دیکھ لیجیئے،
یه مُجھے ایسا کرنے سے منع کر رهے هیں.
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
آپ مداخلت کیوں نہیں فرماتے،
یارسول اللہ،آپ مداخلت کیوں نہیں فرماتے،
اِتنے میں نوجوان بے حال هونے لگا،
تو پولیس والوں نے ذرا ڈِھیل دی اور نوجوان نیچے گِر گیا،
ایک پولیس والے نے اسے ٹُھڈا مارتے هُوئے کہا:
او دھوکے باز اُٹھ،
لیکن نوجوان نے کوئی رَدِ عَمل ظاهر نہ کیا۔
میں نے پولیس والوں سے کہا:
یه نہیں بھاگے گا،تم حمامات سے پانی لاؤ،
اور اس کے چہرے پر ڈالو،
لیکن نوجوان کوئی حرکت نہیں کر رها تھا،
ایک پولیس والے نے کہا:
اِسے دیکھو تو سہی،
کہیں یه سچ مچ مر هی نا گیا هو۔
دوسرا پولیس والا‌کہنے لگا:
اِسے هم نے کون سی ایسی ضرب لگائی هے،جِس سے یه مر جائے،
پِھر اُنہوں نے ایمبولینس والوں کو فون کیا،
وہ اُدھر سامنے والے سات نمبر گیٹ سے ایک ایمبولینس لے آئے.
اُنہوں نے نوجوان کی شَه رگ پر هاتھ رکھ کر حرکت نوٹ کی اور نَبض چیک کی تو کہنے لگے:
اِسے تو مَرے هُوئے 15 منٹ گزر چکے هیں،
اب پولیس والے جیسے مُجرم هوں،
نیچے بیٹھ گئے اور رونے لگے،
وہ منظر بھی دیکھنے والا تھا،
اُن میں سے ایک تو اپنے دونوں زانوؤں پر هَاتھ مارتے هُوئے کہتا تھا:
هائے هَمارے هاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے۔۔۔۔۔۔۔
کاش هَمیں معلوم هوتا که
اِسے رسول اللہ سے اتنی شدید مُحبت هے،
هائے هَمارے هَاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے۔
اِسکے بعد ایمبولینس والوں نے اُسے وهاں سے اُٹھا لیا،اور جنت البقیع کی طرف تجہیز و تکفین والے حِصے میں لے گئے،
غُسل کے وقت میں بھی وهیں موجود تھا،
میں اُنہیں کہتا تھا،مُجھے بھی هَاتھ لگانے دو، مُجھے بھی اِسکی چارپائی کو اُٹھانے دو،
جب جنازہ تیار هو کر نماز کے لئے جانے لگا تو پولیس والوں نے مُجھے کہا:
هم نے جِتنا گناہ اٹھایا هے،
بس اِتنا کافی هے،
اِسے هَمارے سِوا اور کوئی نہیں اُٹھائے گا،
شاید اِسی طرح هَمیں آخرت میں کُچھ رعایت مل جائے،
میرے سامنے هی وہ نوجوان بار بار کہه رها تھا که
یا رسول اللہ، آپ مداخلت کیوں نہیں فرما رهے؟
دیکھا،
رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم نے مداخلت فرما دی،
اور ملک الموت نے اپنا فریضه ادا کر کے اُسے آپ تک هَمیشه کيلئے پُہنچا دیا.
اللہ هَمیں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ویسی هی مُحبت عطا فرمائے، آمین ثم آمین ❤️
جیسی اُس البانی نوجوان کو عطا فرمائی تھی صلو علی الحبیب صلی اللہ تعالی علی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم

24/06/2024

محترم والدین۔ اپنی طلاق یافتہ بیٹی کو کھلی بانہوں سے گھر میں ویلکم کریں کیونکہ طلاق یافتہ بیٹی مری ہوئی بیٹی سے بہتر ہے۔

01/06/2024

تو پھر سنو. 😠
گرل فرینڈ جیسی گھٹیا کنجری بننے سے بہتر ہے بیوی بن جاؤ بیشک کسی غریب کی بنو
زنا نہیں نکاح کو عام کرو
کفر نہیں اسلام کو پرموٹ کرو

اچھا سا اختتام بھی تم سے نہ ہو سکا اس مرتبہ سلام بھی تم سے نہ ہو سکا سلجھیں نہ گتھیاں کبھی باہر کے خوف کی اندر کا احترام...
30/05/2024

اچھا سا اختتام بھی تم سے نہ ہو سکا
اس مرتبہ سلام بھی تم سے نہ ہو سکا

سلجھیں نہ گتھیاں کبھی باہر کے خوف کی
اندر کا احترام بھی تم سے نہ ہو سکا

Heart touching ناولز کی دنیا 👈 follow like this

جب میری وفات ہوئی تو!سرما کی ایک یخ زدہ ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات ہوئی۔اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح ڈاکٹر ک...
24/05/2024

جب میری وفات ہوئی تو!

سرما کی ایک یخ زدہ ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات ہوئی۔
اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔ ڈاکٹر نے دوائیں تبدیل کیں مگر خلافِ معمول خاموش رہا۔ مجھ سے کوئی بات کی نہ میری بیوی سے بس خالی خالی آنکھوں سے ہم دونوں کو دیکھتا رہا۔

دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔ جو بیٹا پاکستان میں تھا وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔ چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں دونوں یونیسف کے سروے کے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔ لاہور والی بیٹی کو بھی میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں بے حد مصروف ہے اور بچوں کی وجہ سے خود اس کا آنا بھی مشکل ہے۔ رہے دو لڑکے جو بیرون ملک ہیں انہیں پریشان کرنے کی کوئی تُک نہ تھی۔ یوں صرف میں اور بیوی ہی گھر پر تھے اور ایک ملازم جو شام ڈھلے اپنے گھر چلا جاتا تھا۔

عصر ڈھلنے لگی تو مجھے محسوس ہوا کہ نقاہت کے مارے بات کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ میں نے اپنی پرانی ڈائری نکالی' بیوی کو پاس بٹھا کر رقوم کی تفصیل بتانے لگا جو میں نے وصول کرنا تھیں اور دوسروں کو ادا کرنا تھیں۔ بیوی نے ہلکا سا احتجاج کیا۔ "یہ تو آپ کی پرانی عادت ہے۔ ذرا بھی کچھ ہو تو ڈائری نکال کر بیٹھ جاتے ہیں" مگر اس کے احتجاج میں پہلے والا یقین نہیں تھا۔ پھر سورج غروب ہو گیا تاریکی اور سردی دونوں بڑھنے لگیں۔ بیوی میرے لیے سُوپ بنانے کچن میں گئی اس کی غیر حاضری میں مَیں نے چند اکھڑی اکھڑی سانسیں لیں اور غروب ہو گیا۔

مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں آہستہ آہستہ اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں۔ پھر جیسے میں ہوا میں تیرنے لگا اور چھت کے قریب جا پہنچا۔ بیوی سُوپ لے کر آئی تو میں دیکھ رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس پر سکتہ طاری ہوا اور پھر دھاڑیں مار کر رونے لگی۔ میں نے بولنے کی کوشش کی یہ عجیب بات تھی کہ میں سب کچھ دیکھ رہا تھا مگر بول نہیں سکتا تھا۔

لاہور والی بیٹی رات کے پچھلے پہر پہنچ گئی۔ کراچی سے بھی چھوٹی بیٹی اور میاں صبح کی پہلی فلائیٹ سے پہنچ گئے۔ بیٹے تینوں بیرون ملک تھے وہ جلد سے جلد بھی آتے تو دو دن لگ جانے تھے۔ دوسرے دن عصر کے بعد میری تدفین کر دی گئی۔ شاعر ، ادیب، صحافی، سول سرونٹ سب کی نمائندگی اچھی خاصی تھی۔ گاؤں سے بھی تقریباً سبھی آ گئے تھے۔ ننھیال والے گاؤں سے ماموں زاد بھائی بھی تینوں موجود تھے۔

لحد میں میرے اوپر جو سلیں رکھی گئی تھیں مٹی ان سے گزر کر اندر آ گئی تھی۔ بائیں پاؤں کا انگوٹھا جو آرتھرائٹس کا شکار تھا مٹی کے بوجھ سے درد کر رہا تھا۔ پھر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی شاید فرشتے آن پہنچے تھے۔ اسی کیفیت میں سوال جواب کا سیشن ہوا۔ یہ کیفیت ختم ہوئی محسوس ہو رہا تھا کہ چند لمحے ہی گزرے ہیں مگر فرشتوں نے بتایا کہ پانچ برس ہو چکے ہیں۔ پھر فرشتوں نے ایک عجیب پیشکش کی۔ "ہم تمھیں کچھ عرصہ کے لیے واپس بھیج رہے ہیں۔ تم وہاں 'دنیا میں کسی کو نظر نہیں آؤ گے گھوم پھر کر اپنے پیاروں کو دیکھ لو پھر اگر تم نے کہا تو تمھیں دوبارہ نارمل زندگی دے دیں گے۔ ورنہ واپس آ جانا۔"

میں نے یہ پیشکش غنیمت سمجھی اور فوراً ہاں کر دی۔ یہ الگ بات کہ فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔ پھر ایک مدہوشی کی حالت چھا گئی۔ آنکھ کھلی تو میں اپنی گلی میں تھا۔

آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اپنے گھر کی جانب چلا۔ راستے میں کرنل صاحب کو دیکھا۔ گھر سے باہر کھڑے تھے۔ اتنے زیادہ بوڑھے لگ رہے تھے۔ خواجہ صاحب بیگم کے ساتھ واک کرنے نکل رہے تھے۔ اپنے مکان کے گیٹ پر پہنچ کر میں ٹھٹھک گیا۔ میرے نام کی تختی غائب تھی۔ پورچ میں گاڑی بھی نہیں کھڑی تھی۔ وفات سے چند ہفتے پہلے تازہ ترین ماڈل کی خریدی تھی۔ اس کا سن روف بھی تھا اور چمڑے کی اوریجنل سیٹیں تھیں دھچکا سا لگا۔ گاڑی کہاں ہو سکتی ہے؟ بچوں کے پاس تو اپنی اپنی گاڑیاں موجود تھیں۔ تو پھر میری بیوی جو اب بیوہ تھی کیا گاڑی کے بغیر تھی؟

دروازہ کھلا تھا۔ میں سب سے پہلے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اپنی لائبریری میں گیا۔ یہ کیا؟ کتابیں تھیں نہ الماریاں! رائٹنگ ٹیبل اس کے ساتھ والی مہنگی کرسی، صوفہ، اعلیٰ مرکزی ملازمت کے دوران جو شیلڈیں اور یادگاریں مجھے ملی تھیں اور الماریوں کے اوپر سجا کر رکھی ہوئی تھیں۔ بے شمار فوٹو البم، کچھ بھی تو وہاں نہ تھا۔ مجھے فارسی کی قیمتی ایران سے چھپی ہوئی کتابیں یاد آئیں، دادا جان کے چھوڑے ہوئے قیمتی قلمی نسخے، گلستان سعدی کا نادر نسخہ جو سونے کے پانی سے لکھا ہوا تھا اور دھوپ میں اور چھاؤں میں الگ الگ رنگ کی لکھائی دکھاتا تھا، دادا جان اور والد صاحب کی ذاتی ڈائریاں سب غائب تھیں۔ کمرہ یوں لگتا تھا گودام کے طور پر استعمال ہو رہا تھا سامنے والی پوری دیوار پر جو تصویر پندرہ ہزار روپے سے لگوائی تھی' جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی۔ فاؤنٹین پینوں کا بڑا ذخیرہ تھا میرے پاس پارکر، شیفر، کراس وہ بھی دراز میں نہیں تھا۔

میں پژمردہ ہو کر لائبریری سے باہر نکل آیا۔ بالائی منزل کا یہ وسیع و عریض لاؤنج بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ یہ کیا؟ اچانک مجھے یاد آیا میں نے چکوال سے رنگین پایوں والے سُوت سے بُنے ہوئے چار پلنگ منگوا کر اس لاؤنج میں رکھے تھے شاعر برادری کو یہ بہت پسند آئے تھے۔ وہ غائب تھے۔

نیچے گراؤنڈ فلور پر آیا، بیوی اکیلی کچن میں کچھ کر رہی تھی۔ میں نے اسے دیکھا۔ پانچ برسوں میں اتنی تبدیل ہو گئی تھی! میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کیسے پوچھوں کہ گھٹنوں کے درد کا کیا حال ہے؟ ایڑیوں میں بھی درد محسوس ہوتا تھا۔ دوائیں باقاعدگی سے میسر آ رہی تھیں یا نہیں؟ میں اس کے لیے باقاعدگی سے پھل لاتا تھا۔ نہ جانے بچے کیا سلوک کر رہے ہیں۔ مگر میں تو بول نہ سکتا تھا۔ نہ ہی وہ مجھے دیکھ سکتی تھی۔

اتنے میں فون کی گھنٹی بجی بیوی بہت دیر باتیں کرتی رہی۔ جو کچھ اس طویل گفتگو سے میں سمجھا یہ تھا کہ بچے اس مکان کو فروخت کرنا چاہتے تھے۔ ماں نے مخالفت کی کہ وہ کہاں رہے گی۔ بچے مصر تھے کہ ہمارے پاس رہیں گی! بیوی کو میری نصحیت یاد تھی کہ ڈیرہ اپنا ہی اچھا ہوتا ہے مگر وہ بچوں کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈال رہی تھی۔ گاڑی کا معلوم ہوا کہ بیچی جا چکی تھی۔ بیوی نے خود ہی بیچنے کے لیے کہا تھا کہ اسے ایک چھوٹی آلٹو ہی کافی ہو گی۔

اتنے میں ملازم لاؤنج میں داخل ہوا۔ یہ نوجوان اب ادھیڑ عمر لگ رہا تھا۔ میں اس کا لباس دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ اس نے میری قیمتی برانڈڈ قمیض جو ہانگ کانگ سے خریدی تھی پہنی ہوئی تھی۔ نیچے وہ پتلون تھی جس کا فیبرک میں نے اٹلی سے لیا تھا! اچھا' تو میرے بیش بہا ملبوسات ملازموں میں تقسیم ہو چکے تھے!

میں ایک سال لوگوں کی نگاہوں سے غائب رہ کر سب کو دیکھتا رہا۔ ایک ایک بیٹے بیٹی کے گھر جا کر ان کی باتیں سنیں۔ کبھی کبھار ہی ابا مرحوم کا یعنی میرا ذکر آتا۔ وہ بھی سرسری سا۔ ہاں! زینب میری نواسی اکثر نانا ابو کا تذکرہ کرتی۔ ایک دن ماں سے کہہ رہی تھی "اماں یہ بانس کی میز کرسی نانا ابو لائے تھے جب میں چھوٹی سی تھی۔ اسے پھینکنا نہیں "ماں نے جواب میں کہا" جلدی سے کپڑے بدل کر کھانا کھاؤ پھر مجھے میری سہیلی کے گھر ڈراپ کرو۔

میں شاعروں ادیبوں کے اجتماعات اور نشستوں میں گیا۔ کہیں اپنا ذکر نہ سنا۔ وہ جو بات بات پر مجھے جدید غزل کا ٹرینڈ سیٹر کہا کرتے تھے، جیسے بھول ہی تو چکے تھے۔ اب ان کے ملازموں نے میری کتابیں ڈسپلے سے ہٹا دی تھیں۔ ایک چکر میں نے قبرستان کا لگایا۔ میری قبر کا برا حال تھا گھاس اگی تھی۔ کتبہ پرندوں کی بیٹ سے اٹا تھا، ساتھ والی قبروں کی حالت بھی زیادہ بہتر نہ تھی۔

ایک سال کے جائزے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میری موت سے دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ رمق بھر بھی نہیں! بیوی یاد کر لیتی تھی تاہم بچے، پوتے نواسے پوتیاں سب بھول چکی تھیں۔ ادبی حلقوں کے لیے میں اب تاریخ کا حصہ بن چکا تھا۔ جن بڑے بڑے محکموں اور اداروں کا میں سربراہ رہا تھا وہاں ناموں والے پرانے بورڈ تک ہٹ چکے تھے اور نئے بورڈ بھی مسلسل بھرتے جارہے تھے۔ دنیا رواں دواں تھی۔ کہیں بھی میری ضرورت نہ تھی۔ گھر میں نہ باہر!

پھر تہذیبی، معاشرتی اور اقتصادی تبدیلیاں تیزی سے آ رہی تھیں اور آئے جا رہی تھیں۔ ہوائی جہازوں کی رفتار چار گنا بڑھ چکی تھی۔ دنیا کا سارا نظام سمٹ کر موبائل فون کے اندر آ چکا تھا۔ میں ان جدید ترین موبائلوں کا استعمال ہی نہ جانتا تھا۔

فرض کیجئے میں فرشتوں سے التماس کر کے دوبارہ دنیا میں نارمل زندگی گزارنے آ بھی جاتا تو کہیں خوش آمدید نہ کہا جاتا بچے پریشان ہو جاتے۔ ان کی زندگیوں کے اپنے منصوبے اور پروگرام تھے جن میں اب میری گنجائش کہیں نہ تھی! ہو سکتا ہے بیوی بھی کہہ دے کہ تم نے واپس آ کر میرے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ مکان بِک چکا میں ایک تو کسی بچے کے پاس رہ لیتی دو کو اب وہ کہاں سنبھالتے پھریں گے۔ دوست تھوڑے وہ اب باقی بچے تھے وہ بھی اب بیمار اور چل چلاؤ کے مراحل کا سامنا کر رہے تھے! میں واپس آتا تو دنیا میں مکمل طور پر اَن فِٹ ہوتا۔ نئے لباس میں پیوند کی طرح۔ جدید بستی میں پرانے مقبرے کی مانند!

میں نے فرشتے سے رابطہ کیا اور اپنی آخری چوائس بتا دی۔ میں واپس قبر میں جانا چاہتا ہوں! فرشتہ مسکرایا، اس کا کمنٹ بہت مختصر تھا۔

”ہر انسان یہی سمجھتا ہے کہ اس کے بعد جو خلا پیدا ہو گا کبھی بھرا نہیں جا سکے گا۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ خلا تو پیدا ہی نہیں ہوتا“ ۔۔۔۔۔

حاجی موسیٰ

" ایک آدمی جو اپنی بیوی کو روزانہ کھانا پکاتے اور کپڑے دھوتے دیکھتا ہے۔ اور وہ اس کی مدد کے لیے دوسری بیوی نہیں لاتا، وہ...
29/04/2024

" ایک آدمی جو اپنی بیوی کو روزانہ کھانا پکاتے اور کپڑے دھوتے دیکھتا ہے۔ اور وہ اس کی مدد کے لیے دوسری بیوی نہیں لاتا، وہ بے رحم ہے۔ "
@😁

24/04/2024

جو اپنی حفاطت نہیں کر سکتے وہ دوسروں کی کیسے مدد کریں گے اس پوسٹ کو اتنا شیر کریں کہ سمجھ میں آجائے بت پرستوں کو بی شک مدد گار صرف اللہ کی زات ہے .

Address

Larkana

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Heart touching ناولز کی دنیا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Heart touching ناولز کی دنیا:

Shortcuts

Share