Abrar shah bukhari

Abrar shah bukhari Where the lips are silent the heart contains thousands of tongues

محسن نقویاشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتاابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتااپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تکزیر ...
23/12/2023

محسن نقوی

اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
ابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتا

اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تک
زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا

موج در موج الجھنے کی ہوس بے معنی
ڈوبتا ہو تو سہارا نہیں دیکھا جاتا

تیرے چہرے کی کشش تھی کہ پلٹ کر دیکھا
ورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا

آگ کی ضد پہ نہ جا پھر سے بھڑک سکتی ہے
راکھ کی تہہ میں شرارہ نہیں دیکھا جاتا

زخم آنکھوں کے بھی سہتے تھے کبھی دل والے
اب تو ابرو کا اشارا نہیں دیکھا جاتا

کیا قیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے محسنؔ
دل پہ اس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا










_.poetry
_.poetry



کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کرجلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کرآتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھےسرگرم نالہ ہائے شرربار د...
26/11/2023

کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر

آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
سرگرم نالہ ہائے شرربار دیکھ کر

کیا آبروئے عشق جہاں عام ہو جفا
رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر

آتا ہے میرے قتل کو پر جوش رشک سے
مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر

ثابت ہوا ہے گردن مینا پہ خون خلق
لرزے ہے موج مے تری رفتار دیکھ کر

واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
ہم کو حریص لذت آزار دیکھ کر

بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سخن کے ساتھ
لیکن عیار طبع خریدار دیکھ کر

زنار باندھ سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال
رہ رو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر

ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر

کیا بد گماں ہے مجھ سے کہ آئینے میں مرے
طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر

گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر
دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر

سر پھوڑنا وہ غالبؔ شوریدہ حال کا
یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر













🇵🇸


مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقتمیں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوںضعف میں طعنہ اغیار کا شکوہ کیا ہےبات کچھ سر...
26/11/2023

مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں

ضعف میں طعنہ اغیار کا شکوہ کیا ہے
بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں

زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ
کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں

اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں
ستم اتنا تو نہ کیجے کہ اٹھا بھی نہ سکوں

لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا
شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں

تم نہ آؤ گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں
موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں

ہنس کے بلوائیے مٹ جائے گا سب دل کا گلہ
کیا تصور ہے تمہارا کہ مٹا بھی نہ سکوں







🇵🇸



ہم کریں بات دلیلوں سے ،تو رد ہوتی ہےاس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہےسانس لیتے ہوئے انساں بھی ہے لاشوں کی طرحاب دھڑک...
01/10/2023

ہم کریں بات دلیلوں سے ،تو رد ہوتی ہے
اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے

سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہے لاشوں کی طرح
اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے

اپنی آواز کے پتھر بھی نہ اس تک پہنچے
اس کی آنکھوں کے اشارے میں بھی زد ہوتی ہے

جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا
سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے

شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس
بولتا جہل ہے بدنام خرد ہوتی ہے

کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعزاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

مظفر وارثی🌹










قیام جس کا جہاں ہے،  وہیں کا دکھ سمجھےزمین زاد ___ فقط اس زمیں کا دکھ سمجھےتو کیوں نہ مِل لیا جائے کسی سپیرے سےامید ہے و...
01/10/2023

قیام جس کا جہاں ہے، وہیں کا دکھ سمجھے
زمین زاد ___ فقط اس زمیں کا دکھ سمجھے

تو کیوں نہ مِل لیا جائے کسی سپیرے سے
امید ہے وہ مری "آستیں" کا دکھ، سمجھے! 🍁

مرے علاوہ کوئی اور تو جہان میں ہو
جو ہر سوال کے آگے۔۔"نہیں" ، کا دکھ سمجھے😢

ہمارے چارہ گروں کو ہوئی ہے یوں تاخیر
کہیں کا دکھ تھا مگر وہ کہیں کا دکھ سمجھے 🥀

جو یوں ہُوا تو اسے "سنگ" کس نے کہنا ہے
کہ سنگ، خود پہ پٹختی جبیں کا دکھ ۔۔ سمجھے !

اسی لیے تو سبھی دل میں ڈھونڈتے ہیں پناہ
یہی مکاں ہے، جو اپنے مکیں کا دکھ سمجھے❤️


#اردوغزلیں
#اردوپوئٹری #اردوشاعری #اردوشاعری
#شاعر
#شاعرانه
#شاعری
#شاعره

شب بسر کرنی ہے، محفوظ ٹھکانہ ہے کوئی ؟کوئی جنگل ہے یہاں پاس میں؟ صحرا ہے کوئی ؟ویسے سوچا تھا محبت نہیں کرنی میں نےاس لئے...
30/09/2023

شب بسر کرنی ہے، محفوظ ٹھکانہ ہے کوئی ؟
کوئی جنگل ہے یہاں پاس میں؟ صحرا ہے کوئی ؟

ویسے سوچا تھا محبت نہیں کرنی میں نے
اس لئے کی کہ کبھی پوچھ ہی لیتا ہے کوئی

آپ کی آنکھیں تو سیلاب زدہ خطے ہیں
آپ کے دل کی طرف دوسرا رستہ ہے کوئی؟

جانتا ہوں کہ تجھے ساتھ تو رکھتے ہیں کئی
پوچھنا تھا کہ ترا دھیان بھی رکھتا ہے کوئی؟

دکھ مجھے اس کا نہیں ہے کہ دکھی ہے وہ شخص
دکھ تو یہ ہے کہ سبب میرے علاوہ ہے کوئی

دو منٹ بیٹھ، میں بس آئینے تک ہو آؤں
اُس میں اِس وقت مجھے دیکھنے آتا ہے کوئی

خوف بولا: "کوئی ہے؟ جس کو بُلانا ہے، بُلا!"
دیر تک سوچ کے میں زور سے چیخا: " ہے کوئی؟؟"







#اردوشاعری #اردوشاعری

#اردوغزل
#اردوغزلیں
#اردوغزلیات

غزلہیں رقصاں جلوے نظر میں تیرے سمایا ہے تیرا پیاردل میں ترے  تصور  میں جاگتی ہوں بچا  نہ صبر  و  قرار  دل  میں ہماری   م...
26/09/2023

غزل

ہیں رقصاں جلوے نظر میں تیرے سمایا ہے تیرا پیاردل میں
ترے تصور میں جاگتی ہوں بچا نہ صبر و قرار دل میں

ہماری مجبوریاں رہی ہیں وگرنہ وعدہ نبھاتے ہم بھی
نظر سے ہم کو گرا رہے ہو لئے ہوئے ہو غبار دل میں

وفاکی راہوں میں چلتےچلتے ہیں پاؤں زخمی توغم نہیں ہے
مری وفا کو کِیا ہے زخمی چبھا ہے طعنوں کا جار دل میں

غرض کی دنیا میں پیار ڈھونڈا نہ پایا ہم نے نہ پایا تم نے
کبھی یہ ہم نے نشہ کیا تھا ہے باقی اب بھی خمار دل میں

محبتوں کے سفر میں لوگو ہمیشہ یہ احتیاط رکھنا
لبوں پہ ہوتے ہیں پھول جس کے وہی چبھوتا ہےخار دل میں

مراسم اپنوں سے شاید اس نے اسی لئے ترک کر لئے ہیں
کیا تھا جس پر بھروسہ اس نے اسی نے ماری کٹار دل میں

کہاں بھلا یُوں عداوتیں تھیں نظر نظر میں محبتیں تھیں
خزاں رسیدہ ہیں دھڑکنیں اب کبھی سحر تھی بہار دل میں
__{}{}__
عفراء بتول سحر











اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے، چُھپائیں کیسےتیری  مرضی  کے  مطابق  نظر  آئیں  کیسے.!! گھر  سجانے  کا  تصوّر  تو  بہت  بعد  کا ...
25/09/2023

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے، چُھپائیں کیسے
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے.!!

گھر سجانے کا تصوّر تو بہت بعد کا ہے
پہلے یہ طے ہو کہ اِس گھر کو بچائیں کیسے.!!

کوئی اپنی ہی نظر سے تو ہمیں دیکھے گا
ایک قطرے کو سمندر نظر آئیں کیسے.!!

جس نے دانستہ کیا ہو نظر انداز وسیمؔ
اُس کو کچھ یاد دلائیں تو دلائیں کیسے.!!

وسیمؔ بریلوی



کبھی جو چھیڑ گئی  یاد  رفتگاں محسن بکھر  گئی ہیں  نگاہیں کہاں کہاں محسنہوا  نے  راکھ  اڑائی  تو ، دل  کو  یاد  آیاکہ جل ...
25/09/2023

کبھی جو چھیڑ گئی یاد رفتگاں محسن
بکھر گئی ہیں نگاہیں کہاں کہاں محسن

ہوا نے راکھ اڑائی تو ، دل کو یاد آیا
کہ جل بجھیں مرے خوابوں کی بستیاں محسن

کھنڈر ہے عہد گزشتہ ، نہ چھو نہ چھیڑ اسے
کھلیں تو بند نہ ہوں اس کی کھڑکیاں محسن

بجھا ہے کون ستارہ کہ اپنی آنکھ کے ساتھ
ہوئے ہیں سارے مناظر دھواں دھواں محسن

نہیں کہ اس نے گنوائے ماہ و سال اپنے
تمام عمر کٹی یوں بھی رائیگاں محسن

ملا، تو اور بھی تقسیم کر گیا مجھ کو
سمیٹنا تھیں جسے میری کرچیاں محسن

کہیں سے اس نے توڑا خود سے ربط وفا
کہیں سے بھول گیا میں بھی داستاں محسن

محسن نقوی








نامہ بر اپنا ہواؤں کو بنانے والےاب نہ آئیں گے پلٹ کر کبھی جانے والےکیا ملے گا تجھے بکھرے ہوئے خوابوں کے سواریت پر چاند ک...
23/09/2023

نامہ بر اپنا ہواؤں کو بنانے والے
اب نہ آئیں گے پلٹ کر کبھی جانے والے

کیا ملے گا تجھے بکھرے ہوئے خوابوں کے سوا
ریت پر چاند کی تصویر بنانے والے

میکدے بند ہوئے ڈھونڈ رہا ہوں تجھ کو
تو کہاں ہے مجھے آنکھوں سے پلانے والے

کاش لے جاتے کبھی مانگ کے آنکھیں میری
یہ مصوّر تری تصویر بنانے والے

تو اس انداز میں کچھ اور حسیں لگتا ہے
مجھ سے منہ پھیر کے غزلیں میری گانے والے

سب نے پہنا تھا بڑے شوق سے کاغذ کا لباس
جس قدر لوگ تھے بارش میں نہانے والے

چھت بنا دیتے ہیں اب ریت کی دیواروں پر
کتنے غافل ہیں نئے شہر بسانے والے

عدل کی تم نہ ہمیں آس دلاؤ کہ یہاں
قتل ہو جاتے ہیں زنجیر ہلانے والے

کس کو ہو گی یہاں توفیق انا میرے بعد
کچھ تو سوچیں مجھے سولی پہ چڑھانے والے

مر گئے ہم تو یہ کتبے پہ لکھا جائے گا
سو گئے آپ زمانے کو جگانے والے

در و دیوار پہ حسرت سی برستی ہے قتیل
جانے کس دیس گئے پیار نبھانے والے ❤️









*جب ثبوت اور زمانہ تھا __ محبت کے خلاف**میں نے اس وقت بھی زلیخا کی حمایت کی تھی*
08/09/2023

*جب ثبوت اور زمانہ تھا __ محبت کے خلاف*

*میں نے اس وقت بھی زلیخا کی حمایت کی تھی*








Address

Gali Shokat Shah Wali Main Bazer Malakwal
Malakwal
50530

Telephone

+923476199427

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abrar shah bukhari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Abrar shah bukhari:

Share