24/09/2025
آج کے دور میں تعلیم کو ترقی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیز میں جو نصاب اور مواد پڑھایا جا رہا ہے اس کا عملی زندگی اور مارکیٹ کی ضروریات سے کوئی خاص تعلق نظر نہیں آتا۔ ڈگری حاصل کرنے والا طالب علم جب یونیورسٹی سے نکل کر عملی میدان میں قدم رکھتا ہے تو اسے ایک بالکل الگ دنیا کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جہاں اس کے پاس موجود کتابی علم اکثر ناکافی ثابت ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں یونیورسٹیز بڑی تعداد میں ڈگری ہولڈرز پیدا کر رہی ہیں۔ ہر سال ہزاروں طلبہ BS، MSc اور MPhil جیسی ڈگریوں کے ساتھ فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ ان کے پاس تھیوری کی معلومات تو موجود ہوتی ہیں لیکن عملی ہنر کی شدید کمی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نوجوان ڈگری کے باوجود بے روزگاری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف آج کی مارکیٹ کو ہنر مند افراد کی ضرورت ہے۔ کمپنیوں اور اداروں کو ایسے لوگ چاہییں جو عملی میدان میں فوری طور پر کارکردگی دکھا سکیں۔ چاہے وہ آئی ٹی کا شعبہ ہو، بزنس مینجمنٹ، انجینئرنگ یا کسی اور فیلڈ کا معاملہ، ہر جگہ کتابی علم سے زیادہ پریکٹیکل اسکلز کی ڈیمانڈ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ڈپلومہ ہولڈر یا کوئی چھوٹا کورس کرنے والا نوجوان بعض اوقات یونیورسٹی گریجویٹ سے زیادہ کامیاب نظر آتا ہے۔
ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آج ہر گلی محلے میں یونیورسٹی لیول کے ادارے کھل گئے ہیں جو BS اور دیگر پروگرامز کروا رہے ہیں۔ ان اداروں میں زیادہ تر فوکس صرف ڈگری دینے پر ہوتا ہے، نہ نصاب جدید تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے اور نہ ہی طلبہ کو عملی تجربہ دیا جاتا ہے۔ اس طرح ڈگری یافتہ نوجوانوں کی ایک فوج تیار ہو رہی ہے جنہیں مارکیٹ اپنانے کو تیار نہیں۔
تعلیم اور مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے درمیان زمین آسمان کا فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طرف ڈگری ہولڈرز کی تعداد بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف ان کے لیے ملازمت کے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان بھی مایوسی اور بے روزگاری کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ یونیورسٹی نصاب کو عملی زندگی اور جدید مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق بنایا جائے، طلبہ کو صرف تھیوری نہیں بلکہ ہنر اور پریکٹیکل ورک دیا جائے، انٹرن شپ اور انڈسٹری سے تعلق کو لازمی قرار دیا جائے اور تعلیمی ادارے محض ڈگری دینے کی بجائے طلبہ کو روزگار کے قابل بنانے پر فوکس کریں۔ اگر یہ اقدامات کیے جائیں تو تعلیم اور عملی زندگی کے درمیان موجود خلیج کم ہو سکتی ہے اور تعلیم واقعی ترقی اور کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔