07/06/2020
آج کل سوشل میڈیا پر یہ بات بہت زیادہ مشہور ہوئی ہے کہ جب انگریز آکسفورڈ اور کیمبریج یونیورسٹیز بنا رہے تھے اس وقت ہمارے حکمران تاج محل بنارہے تھے.
٭٭٭٭٭٭٭٭
"مسلم حکمران اور پروپیگنڈا "
چند سال سے اس ملک کے ٹیلیویژن چینلز پر تعلیم کے نام پر سفید جھوٹ پر مبنی پروگرام چلائے جا رہے ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ جب یورپ میں یونیورسٹیاں کھل رہی تھیں تو مسلم بادشاہ تاج محل اور شالامار باغ بنا رہے تھے.
میری یہ تحریر مختلف مصنفین کے متعلقہ کالمز اور پروفیسرز، مورخین یا محققین کی تحقیق کے اس حصہ پر مبنی ہے جو میں نے ذاتی تحقیق کے بعد درست پائے۔
اس تحریر میں میرے اپنے الفاظ کم اور مندرجہ بالا شخصیات کے الفاظ زیادہ ہیں۔
تاریخ کی گواہی بعد میں پیش کروں گا پہلے بنیادی عقل کا ایک درس پیش کرتا ہوں کہ
ان چینلز یا پروگرامز میں اگر کوئی سمجھ بوجھ والا آدمی بیٹھا ہوتا تو اس کو سمجھنے میں یہ مشکل نہیں آتی کہ مسلم دور کی شاندار عمارات جس عظیم تخلیقی صلاحیت سے تعمیر کی گئیں، وہ دو چیزوں کے بغیر ممکن نہ تھیں. پہلی فن تعمیر کی تفصیلی مہارت ، جس میں جیومیٹری، فزکس، کیمسٹری اور ڈھانچے کے خدوخال وضع کرنے تک کے علوم شامل ہوتے ہیں. دوسری کسی ملک کی مضبوط معاشی اور اقتصادی حالت اس قدر مضبوط کہ وہاں کے حکمران شاندار عمارات تعمیر کرنے کا خرچ برداشت کر سکیں.
معاشی حوالے سے ہندوستان بالعموم مسلم ادوار اور بالخصوص مغلیہ دور (اکبر - عالمگیر) میں دنیا کے کل GDP میں اوسطاً 25% فیصد حصہ رکھتا تھا.
در آمدات انتہائی کم اور برآمدات انتہائی زیادہ تھیں اور آج ماہر معاشیات جانتے ہیں کہ کامیاب ملک وہ ہے جس کی برآمدات زیادہ اور درآمدات کم ہوں.
سترویں صدی میں فرانسیسی سیاح فرانکیوس برنئیر ہندوستان آیا
اور کہتا ہے کہ
ہندوستان کے ہر کونے میں سونے اور چاندی کے ڈھیر ہیں. اسی لئے سلطنت مغلیہ ہند کو سونے کی چڑیا کہتے تھے.
اب تعمیرات والے اعتراض کی طرف آتے ہیں.
فن تعمیر کی جو تفصیلات تاج محل، شیش محل، شالامار باغ، مقبرہ ہمایوں، دیوان خاص وغیرہ وغیرہ میں نظر آتی ہے، اس سے لگتا ہے کہ انکے معمار جیومیٹری کے علم کی انتہاؤں کو پہنچے ہوئے تھے.
تاج محل کے چاروں مینار
صرف آدھا انچ باہر کی جانب جھکائے گئے تاکہ
زلزلے کی صورت میں گرے تو گنبد تباہ نہ ہوں.
مستری کے اینٹیں لگانے سے یہ سب ممکن نہیں، اس میں حساب کی باریکیاں