01/12/2020
چھوٹے ڈیری فارمرز کے دِن گِنے جا چُکے۔۔۔مسلسل خسارے کے سبب یہ کاروبار انتہائی تیزی کے ساتھ اختتام کی طرف گامزن ہے۔ بہت سی وجوہات کی طرح ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ذیادہ تر چھوٹے فارمرز کو کاروبار وراثتی طور پر مِلا اِس لیے تجربہ تو ہے مگر ٹیکنیکس کی کمی ہے۔ رہی سہی کسر روزبروز بڑھتی مہنگائی نکال رہی ہے جانوروں کی خوراک سے لیکر ادویات تک کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں معمولی بیمار جانور بھی صحت مند ہونے تک ہزاروں خرچ کروا دیتا ہے۔گورنمنٹ کی عدم توجہی اور ناقص پالیسیوں کے باعث چھوٹا کِسان دِن بدن نقصان اٹھا رہا ہے۔۔۔بعض حضرات جانور محض شوق یا گھریلو ضروریات پوری کرنے کیلیے رکھتے ہیں اِس لیے ایسے افراد کو نفع و نقصان سے فرق نہیں پڑتا مگر بطورِ کاروبار ڈیری فارمنگ کرنے والوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔
اب تو یوں لگنے لگا ہے کہ فوڈ سیفٹی کے نام پر گورنمنٹ کی ترجیح یہی ہے کہ آنے والے وقتوں میں کھلا دودھ فروخت نہ ہو اور ہر بندہ امریکہ برطانیہ کی طرز پر پاسچورائیذڈ مِلک ہی استعمال کرے! اِس لیے حالات ہی ایسے پیدا کردیے جائیں کہ ڈیری فارمنگ صرف اور صرف بڑے فارموں تک محدود رہ جائے تاکہ چیک اینڈ بیلنس آسان ہو۔
کیا اِس صنعت کو بچایا جا سکتا ہے!
محض اِس صورت میں کہ ہم کسان متحد ہوجائیں،گائوں دیہات سے تنظیمی نظام جُڑتے جڑتے وفاقی سطح تک ہماری نمائندگی ہو تاکہ ہم گورنمنٹ سے اپنے جائز مطالبات دبائو ڈال کر بھی پورے کروا سکیں۔
جانوروں کی ادویات مکمل فری ہوں۔
دودھ کی قیمتیں ہر تین بعد متعین کی جائیں جِس میں گورنمنٹ ملازمین کے ساتھ چھوٹے فارمرز بیٹھ کر قیمتوں کا تعین کرے ۔بہتر یہ ہے کہ پٹرول کی طرز پر قیمتوں کا ردوبدل ہوتا رہے کیونکہ مئی جون میں 400روپے مٙن مِلنے والی توڑی جنوری فروری میں 1000 کے لگ بھگ ملتی ہے اسی طرح مئی جون میں ونڈے کی قیمت گندم کے حساب سے 1400روپے فی من سے سردیوں میں 2000 روپے فی من سے تجاوز کر جاتی ہے۔
اگر آج بھی ہم نا جاگے تو کبھی ہر گائوں میں موجود چھوٹے مرغی خانوں کی طرح چھوٹے ڈیری فارمز بھی ناپید ہوجائیں گے اور فارمر دیوالیہ۔۔۔۔۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو!
خیر اندیش!
آصف جاوید چکنمبر 29 منڈی بہاوالدین