10/08/2026
*بوڑھا کبوتر، وفادار گھوڑا اور غریب بڑھئی*
بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب بڑے بڑے شہروں کے درمیان کئی کئی دن کا سفر ہوا کرتا تھا۔ لوگ گھوڑوں، اونٹوں اور بیل گاڑیوں پر سفر کرتے، راستے میں گھنے جنگلات سے گزرتے اور رات کے وقت کسی سرائے یا چھوٹے سے گاؤں میں قیام کرتے تھے۔
انہی دنوں پہاڑوں کے دامن میں ایک چھوٹی سی بستی آباد تھی۔
اس بستی میں یعقوب نام کا ایک غریب بڑھئی رہتا تھا۔
یعقوب کے پاس دولت نہیں تھی، مگر اس کے ہاتھ میں ہنر اور دل میں سچائی تھی۔ وہ لکڑی سے دروازے، میزیں، کرسیاں اور بچوں کے کھلونے بناتا اور جو کچھ ملتا، اسی سے اپنے گھر کا خرچ چلاتا۔
اس کے پاس ایک پرانا مگر نہایت وفادار سفید گھوڑا تھا، جس کا نام اس نے بادَل رکھا تھا۔
بادل اب جوان نہیں رہا تھا۔ اس کی رفتار پہلے جیسی تیز نہیں تھی، مگر یعقوب کہا کرتا:
"جو برسوں تم نے میرا بوجھ اٹھایا ہے، اب میری باری ہے کہ میں تمہارا خیال رکھوں۔"
بستی کے کچھ لوگ یعقوب کا مذاق اڑاتے۔
"یہ کیسا آدمی ہے؟ بوڑھے گھوڑے کو پال رہا ہے، اسے بیچ کر نیا گھوڑا کیوں نہیں لے لیتا؟"
یعقوب صرف مسکرا دیتا۔
وہ جانتا تھا کہ وفاداری کی قیمت بازار میں نہیں لگائی جا سکتی۔
---
ایک صبح یعقوب جنگل کے کنارے لکڑیاں لینے گیا۔
وہ ابھی ایک خشک درخت کی شاخ کاٹ ہی رہا تھا کہ اسے اوپر سے ایک عجیب سی پھڑپھڑاہٹ سنائی دی۔
اس نے سر اٹھایا۔
ایک بوڑھا سفید کبوتر زخمی حالت میں درخت سے نیچے گرا۔
یعقوب فوراً اس کے پاس پہنچا۔
کبوتر کے پر میں کانٹا چبھ گیا تھا اور خون کے چند قطرے نکل رہے تھے۔
یعقوب نے اپنا کام چھوڑ دیا۔
اس نے کبوتر کو آہستہ سے اٹھایا، کانٹا نکالا، زخم صاف کیا اور اپنی جیب میں موجود کپڑے کے ٹکڑے سے اس کے پر کو باندھ دیا۔
پھر اس نے اپنی پانی کی مشک سے چند قطرے اسے پلائے۔
کبوتر کچھ دیر یعقوب کے ہاتھ پر خاموش بیٹھا رہا۔
پھر وہ اڑ گیا۔
یعقوب نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:
"اللہ تمہیں محفوظ رکھے۔"
وہ واپس اپنی لکڑیوں کی طرف متوجہ ہو گیا۔
مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ اس دن اس نے جس چھوٹے سے پرندے کی جان بچائی ہے، وہ ایک دن اس کے لیے بہت بڑا راز لے کر آئے گا۔
---
چند ہفتے گزر گئے۔
ایک شام بستی میں ایک امیر تاجر آیا۔
اس کے ساتھ کئی خچر، دو گھوڑے اور کچھ ملازم تھے۔
وہ بہت پریشان دکھائی دے رہا تھا۔